Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14
جان کے جانے کے بعد وہ بھی ٹیکسی کروا کر خود ہی گھر آ گئی ۔۔۔
اس کا ارادہ ازیبلا کے ساتھ تھورا وقت گزرنے کا تھا لیکن وہ سو چکی تھی۔۔۔
اس وقت وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر ٹانگیں لٹکاکر لیٹی ہوئی تھی اور جان کے آج کے رویے پر غور کر رہی تھی ۔۔
جان کی شخصیت اسے شروع سے ہی الجھی اور پراسرار سی لگتی تھی ۔۔ لیکن آج جو کچھ ہوا ۔۔ مطلب جان کا اس کو شاپنگ پر لے کر جانا ۔۔ پھر اس کا ہاتھ پکڑنا ۔۔ اور جو بات اسے زیادہ تنگ کر رہی تھی وہ ان نیلی آنکھوں کی چمک تھی ۔۔۔
کچھ سوچ کر اس نے موبائیل پکڑا اور گوگل آن کر کے ابھی اس نے جان ہی لکھا تھا کہ رزلٹ شو ہونے لگا۔۔۔
اس کے انٹرویوز ۔ اس پر جو کالم لکھے ہوئے تھے وہ سب پڑھے ۔۔۔
جہان جعفر تھا ۔۔۔جنہوں نے بہت جلد ہی اپنی ذہانت کی بنا پر برنس کی دنیا میں اپنا ایک نام اور مقام بنا لیا ۔۔۔
وہ لڑکیوں میں لیڈیز کیلر کے نام سے مشہور ہیں۔۔۔۔ جس کی نیلی سمندر جیسی آنکھیں کسی کو بھی ڈھبونے کا فن اچھی طرح جانتی ہیں۔۔۔۔
جن کے کافی مشہور ماڈل کے ساتھ ریلیشن بھی چلے مگر کوئی بھی ایک مہینے سے زیادہ آگے نہیں چل سکا ۔۔۔
اس طرح کی کافی باتیں اس میں لکھی تھیں ۔۔ یہ پڑھ کر ایما کو اپنا دل خراب ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
” کہیں سر مجھ سے فلرٹ کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہے ؟؟” اس نے موبائل سینے پر رکھ کر خود سے پوچھا ۔۔
“” نہیں میں یہ نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔ میں سر کو خود سے کھیلنے نہیں دوں گی ” خودی سے باتیں کرتے ہوئے کب اس کی آنکھں لگی اسی پتا نہیں چلا۔۔
اور وہ یونہی آدھی بیڈ پر اور ٹانگیں بیڈ سے نیچے لٹکاۓ سوگئی ۔۔۔۔
کمرے کی لائٹ اور کھڑکی کھولی ہوئی تھی ۔۔ جس سے سرد ہوائیں اندر آ کر اس کے جسم سے ٹکرا رہی تھیں ۔۔۔
کوئی کھڑکی سے اس کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔ اس نے منہ پر رومال باندھا ہوا تھا۔۔
سب سے پہلے اس نے لائٹ آف کی ۔۔ لائٹ آف ہوتے ہی اب صرف کمرے میں چاند کی ہلکی سی روشنی تھی جس میں وہ شخص سایہ ہی لگ رہا تھا ۔۔۔
اس نے پھر ایما کو سیدھا کر کے بیڈ پر لٹایا ۔۔
وہ یہ کام اطمینان سے کر رہا تھا کیونکہ اسے پتا تھا کہ ایما کی نیند بہت پکی ہے ۔۔
اس کو سیدھی کر کے اس نے اس پر بلیکنٹ دیا ۔۔
” میرا وعدہ ہے ۔۔۔ میں ۔۔ میں جلد ہی واپس آؤ گا ۔۔ پھر سب پہلے جیسا ہوگا”وہ اس سے سرگوشی کے انداز سے بول رہا تھا ۔یوں لگ رہا تھا کہ بولنے میں بھی اس کو تکلیف ہو رہی تھی
وہ شخص حسرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
اس نے ایک آخری نظر ایما پر ڈالی اور اس کے ماتھے پر بوسا دیتا ہوا کھڑکی سے ہی واپس چلا گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دروازہ کھول کر اندر آیا ۔۔ جان کے پینٹ ہاؤس کا ایک کارڈ اس کے پاس بھی تھا ۔۔۔
اس کا سانس بڑی طرح پھولا ہوا تھا ۔۔۔
” سر اچھا ہوا آپ آگئے ۔۔۔” جیمز جو اسی کے انتظار میں ادھر سے آدھر چکر لگا رہا تھا اس کو آتا دیکھ کر اس نے شکر کا سانس لیا ۔۔۔
” کیا ہوا۔۔۔؟؟ دروازہ کھولا ۔۔ کہ نہیں ۔۔ کوئی آواز ۔۔۔ کوئی جواب اندر سے آیا ۔۔؟؟ ” ڈیرئیک نے پریشانی میں کئی سوال ایک ساتھ پوچھ لیے ۔۔۔
” سر جب یہاں تھے تو ایک ساتھ کافی وائین پی لی ۔۔ پھر پتا نہیں کیا ہوا انہیں کہ انہوں نے ہاتھ میں پکڑا گلاس زمین پر پھینکا پھر جو جو ان کے ہاتھ آتا گیا پھینکتے گے ۔۔۔یہ سب کرنے کے بعد انہوں نے اپنے روم کا روخ کیا اور دروازہ بند کر دیا ۔۔ آپ کو تو پتا ہے کہ ان کا روم ساؤنڈ پروف ہے ۔۔ میں نے دو تین بار نوک کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔ ” جیمز کی باتوں کے دوران ڈیرئیک آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔۔ جو واقعی کافی ابتر حالت میں تھا ۔۔ جگہ جگہ کانچ کے ٹکڑے گرے ہوئے تھے ۔۔ صوفے پر پڑے کشن زمین پر تھے ۔۔ LED کی سکرین بھی ٹوٹی ہوئی تھی ۔۔۔ شیشے کی میز بھی ۔۔ غرض یہ پینٹ ہاؤس کباڑ خانے کا منظر پیش کر رہا تھا ۔۔۔
ڈیرئیک جیمز کو صفائی کرنے کا کہہ کر اس کے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔۔
” بڈی ۔۔” اس نے دروازے پر نوک کیا ۔۔ کوئی جواب نہیں آیا اندر سے ۔۔
” بڈی ۔۔ اوپن دی ڈور ..” اس نے جیسے التجاء کی ۔۔ اب کی بار بھی کوئی جواب نہ پا کر ڈیرئیک کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکا ۔۔۔
” بڈی۔۔ تم دروازہ کھول رہے ہو ۔۔ کہ میں جاکر ان سب لوگوں کو مار دوں گا جو تمہاری تکلیف کا باعث ہیں ۔۔ پھر میں خود کو بھی ختم کر لوں گا ۔۔۔” اسے اپنی آواز بیگی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔ بس دل میں ایک ہی خیال تھا کہ جان ٹھیک ہو ۔۔۔
بار بار اس کی نظروں کے سامنے کچھ ایسا منظر ہی چل رہا تھا ۔۔
اب کی بار اس کی دھمکی کام کر گئی ۔اور اندر کچھ ہلچل ہوئی ۔۔
دروازے کھلنے پر ان نے شکر کا سانس لیا ۔۔ اور اس طرف دیکھا جہاں جان دروازے میں کھڑا تھا ۔۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔ آنکھیں پوری لال تھیں ۔۔۔ شرٹ کے اوپر والے بٹن ٹوٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔
ڈیرئیک دومنٹ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔ پھر کچھ بولے بغیر ایک زور کا گھونسہ اس کے جبڑے پر مارا ۔۔
جان اپنی جگہ لر ہی لڑکھڑیا مگر ہلا نہیں نہ ہی کچھ بولا بس سرخ آنکھوں سے اس کی جانب دیکھے گیا ۔۔۔ جو خود بھی غصے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے ایک اور بار اس کو گھونسہ مارنا چاہا مگر جان نے اس کا بازوں پکڑ کر اسے کے وار کو اپنے منہ سے پہچنے سے پہلے ہی روک لیا۔۔۔
ڈیرئیک نے دوسرے ہاتھ سے اس کے پیٹ پر حملہ کیا ۔۔ جان پیچھے کو گرتا اگر دیوار کا سہارا نا لیتا ۔۔۔۔
وہ دونوں کچھ بھی بولے بغیر ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھے ۔۔۔۔
جیمز اپنے کام میں مگن رہا اس نے ان کو روکنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ اسے پہلے ہی اندازہ تھا کہ کچھ ایسا ہی ہوگا ۔۔۔
کافی دیر لڑنے کے بعد اب وہ دنوں کارپٹ پر لیٹے لمبے لمبے سانس لے رہے تھے ۔۔۔
جان کا ہونٹ زخمی تھا ۔ آنکھ بھی ہلکی ہلکی پرپل ہو رہی تھی ۔۔
ڈیرئیک کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔
” جان ۔۔۔ آج جو یہ حرکت ہوئی ہے نا اگر دوبارہ ہوئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا …” ڈیرئیک اسی طرح کارپٹ پر لیٹ کر لمبے سانس لیتے ہوئے بولا ۔۔۔جان نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بس دانت پیستے چھت کو گھوری گیا ۔۔۔
ڈیرئیک دانت پیس کر رہ گیا ۔۔۔
” ٹھیک ہے بیٹا مجھے بھی تیری زبان کھلوانی آتی ہے ” ڈیرئیک دل ہی دل میں جان سے مخاطب تھا ۔۔
” مجھے مارنے کی سپاری دی گئی ہے ۔۔ ” ڈیرئیک کی بات سن کر جان جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھا اور اس کی طرف مڑا ۔۔۔
” کیا مطلب ۔۔۔ ؟؟ کیا ہوا تھا ؟؟” اس کے ماتھے پر شکنوں کا جال پھیل چکا تھا ۔۔۔
” پہلے تم میرے بات کا جواب دو .۔یہ سب کیا ہے ؟”
” کیا؟؟ ” جان نے انجان بنے کی اداکاری کی جیسے اسے نہیں پتا تھا کہ ڈیرئیک کس بارے میں بات کر رہا ۔۔
” یہ توڑ پھوڑ …؟ یہ کمرے میں بند ہونا ؟؟؟ ۔ اتنی وائن ۔۔؟؟ جتنا مجھے تمہارا پتا ہے تو یہ سب تب ہی ہوتا ہے جب تمہارے اندر کا جنونی بندا باہر آتا ہے ۔۔ اور تمہارا جنونی بندا تب باہر آتا ہے جب تمہارا کچھ ۔۔۔۔۔۔ .”
ڈیرئیک جسے اس کو سطح سطح پڑھ رہا تھا۔۔۔
” شٹ اپ ڈیرئیک ” جان گھبرا کر اس کے پاس سے اٹھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ اس کے انداز میں واضح بے چینی تھی ۔۔۔
” کون ہے وہ ۔۔۔۔ ؟؟ ” ڈیرئیک بنا اثر لیے دوبارہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔۔جس کی پشت اس کی طرف تھی اور رخ کھڑکی کی طرف ۔۔۔
” سٹاپ ” جان پھر بولا ۔۔۔۔ اب کی بار اس کی آواز نارمل تھی
” لٹ می گیس۔۔۔۔۔ ” دماغ پر انگلی رکھ کر اس نے سوچنے کی اداکاری کی ۔۔
جان کو اندازہ تھا کہ وہ کس کانام لینے والا ہے ۔۔
” ہاں ایما ۔۔ ” جان نے آنکھیں بند کر کے اپنے تاثرات کو نارمل کرنے کی کوشش کی اسے خود بھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔۔
” ایسا کچھ نے ۔۔۔ ” وہ بےتاثر انداز میں بولا۔۔
“میری بات تو ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ تم فوراً صفائی دینے لگ گئے ۔۔۔ میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ ایما کے ساتھ جب تم آئے تھے تب تو بلکل ٹھیک تھے …” جان نے آنکھیں چورائی۔۔
” تم کب تک خود سے بھاگوں گے ” ڈیرئیک اس کے سامنے آتے ہوئے بولا ۔۔
” جب ایسا کچھ نہیں تو پھر ۔۔ تم کیوں پیچھے پڑے ہو ۔۔۔ ” جان زچ آکر بولا۔۔ اس کے ہر انداز میں بےزاری تھی ۔۔ یا شاید وہ خود سے بھی بے زار تھا۔۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔۔ دیکھتے ہیں ۔۔ تم کب تک خود سے بھاگتے ہو ۔۔۔ ” جان نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔۔
” تم بتاؤں ۔۔۔ کس نے دی تھی سپاری ۔۔۔کیا بات تھی ؟؟ “
” بس اتنا پتا چلا کہ مجھے مارنے کی سپاری ملی تھی ان کو ۔۔۔ باقی بھی پتا کر لیتا لیکن تمہاری وجہ سے نہیں کر پایا ۔۔ نہیں ان کو سہی سے مل پایا “”ڈیرئیک لائٹ آئن کرتے ہوئے افسوس سے بولا
لائٹ آئن ہوتے ہی کمرہ کا منظر سامنے تھا ۔۔ یہاں باہر کی طرح کوئی توڑ پھوڑ نہیں تھی ۔۔
دیواروں پر نیلا رنگ ۔۔۔ فرنیچر سارا وڈ کا تھا ۔۔۔ یہ کمرا اس پینٹ ہاؤس میں موجود باقی کمروں کی نسبت سب سے سادہ لیکن سب سے خوبصورت تھا ۔۔ ہر چیز جہاں پڑی تھی یوں لگ رہا تھا کہ وہ بنی ہی وہاں کے لیے ۔ ۔۔
بیڈ کے ساتھ والی دیوار پر چار تصویریں لگی تھی ۔۔۔
ایک جعفر صاحب کی ۔۔۔
ایک ایوا (جان کی ماں )
روکی ۔۔
ایک چھوٹی سی نو ماہ کی بچی ( جان کی بہن )
” کیا مطلب ؟؟ میرے وجہ سے کیوں ” جان نے الجھ کر اس کی جانب دیکھا جو اب صوفے پر بیٹھا ہوا تھا اور اپنا گال آہستہ آہستہ سہلا رہا تھا ۔۔۔ جہاں اس نے مکا مارا تھا ۔۔۔
پھر ڈیرئیک نے ساری بات اس کے سامنے رکھ دی ۔۔۔
” ہمممم ۔۔۔ وہ پھر آئیں گے ” جان بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ کر اپنا ماتھا انگلیوں سے دباتا ہوا بولا ۔۔۔ اس کو یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے سر میں دھماکے ہوئے ہوں ۔۔۔
“مجھے بھی پتا ہے ۔۔۔ کیونکہ وہ تمہاری وجہ سے میرے ہاتھ سے نکل گئے ۔۔ اس لیے اب سے میری حفاظت کی ذمیداری تمہاری ہے ۔۔۔ “
” ہمممم ۔۔۔ ” جان کو اس کی آواز گڈ مڈ ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ آنکھوں کے۔ آگے اندھیرا سا چھا رہا تھا ۔۔۔
اور اس اندھرے میں ایک منظر سا چل رہا تھا ۔۔۔۔
ایک 5 سال کا بچہ ۔۔ جو بغیر پلکے جھپکے ۔۔۔۔ایک جگہ سٹل کھڑا تھا ۔۔۔ جس کا چہرہ بےتاثر تھا وہ بےبس خاموش نظروں سے سامنے دیکھ رہا ۔تھا ۔
اس کے سامنے خون میں ڈبی لاش۔۔۔۔ وہ آوازیں ۔۔۔
ایک آنسو چپکے اس کی آنکھوں سے نکل کر اس کی کنٹپی میں جذب ہو گیا تھا ۔۔۔
________________________
ہر طرف اندھیرا تھا ۔۔ وہ دوڑ رہی تھی اس اندھیرے سے دور ۔۔۔ آس پاس درخت ہی درخت تھے۔۔۔
اس لڑکی کا چہرہ واضح نہیں تھا ۔۔۔
اس کے برہنہ پاؤں زخمی تھے ۔۔
وہ جتنا اس اندھیرے سے دور بھاگ رہی تھی
اتنا ہی وہ اندھیرا اس کا پیچھے کر رہا تھا ۔۔۔
اس اندھیرے میں بہت سارے سائے اس کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔
جیسے اسے پکڑنا چاہتے ہوں ۔۔۔
ان سایوں کی پہچان بس ان کی لال لال آنکھیں تھی ۔۔۔
اندھیرا پہلے سے زیادہ گھپ ہو رہا تھا ۔۔
وہ لڑکھڑا کر گری۔۔
اور اسی وقت ان سایوں نے اسے ہر طرف سے گھیر لیا ۔۔
وہ اس کے اوپر جھک رہے تھے ۔۔
وہ چیخنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ لیکن اس کی آواز کسی انجانی قوت سے بند ہو گئی تھی ۔۔
وہ کیوں نہیں چیخ پا رہی تھی ۔۔
ان سایوں کی لال آنکھیں اسی پر جمی تھیں ۔۔۔
___________________________
ایک دم اس کی آنکھ کھولی ۔۔
اس نے خود کو پسینے میں ڈبو ہوا پایا۔۔۔
اس کا سانس بڑی طرح پھولا ہوا تھا ۔۔۔
ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔
اس نے آس پاس نظر دوڑائی وہ اپنے کمرے میں ہی تھی ۔۔۔
یعنی وہ خواب تھا ۔۔
اس نے شکر کا سانس لیا ۔
اس نے موبائل پکڑ کر وقت دیکھا ۔۔ 4 بج کر 34 منٹ یعنی رات کا آخری پہر ختم ہونے کو تھا ۔۔ سورج کسی بھی وقت نکلنے والا تھا۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھی ۔۔
اس نے آج سے پہلے کبھی اتنا عجیب خواب نہیں دیکھا ۔۔۔
اس کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار بہت معمول سے تیز تھی ۔۔
اسے یوں لگا جیسے وہ ابھی بھی اس خواب کے زیرِ اثر ہو ۔۔۔
اب اس کو نیند نہیں آنی تھی ۔۔۔
اس نے بیڈ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کی ۔۔۔
وہ دوبارہ اس خواب کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔۔
لیکن پتا نہیں کیوں مگر اس کے دل کو یوں لگ رہا تھا ۔۔ کہ جیسے یہ خواب اشارہ ہے ۔۔۔
کچھ برا ہونے کا ۔۔۔۔
کچھ بہت برا ۔۔۔۔
وہ لڑکی کون تھی اسے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔
یوں لگ رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو جانتی ہے۔۔۔
لیکن وہ کون تھی ۔۔۔اگر وہ اس کا چہرہ دیکھ لیتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی ۔۔و
مگر یہ تو خواب ہے نا ۔۔۔۔۔ اس کے دماغ نے اسے تسلی دی ۔۔
نہیں یہ خواب نہیں اشارہ ہے ۔۔۔ دل ماننے کو تیار نا تھا ۔۔
اس ادھیڑ سے اس کو ہاتھ میں پکڑے موبائل کی میسج ٹون نے نکلا اسے ۔۔۔
اس نے ہاتھ میں پکڑا موبائیل آنکھوں سامنے کیا اور جوں جوں وہ میسج پڑھتی جا رہی تھی ۔۔ ویسے ویسے اس کے ماتھے کے بل گہرے ہو رہے تھے ۔۔۔۔
____________________________
جاری ہے
