Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03

فائیل پر کام کرنے کی وجہ سے وہ صحیح سے سوئی نہیں تھی ۔جس کی وجہ سے اسے سر میں درد ہو رہا تھا اور آنکھیں بار بار بند ہو رہیں تھیں ۔ رات سے لے کر اب تک وہ آفس میں بھی نیند بھگانے کے لیے اتنی کافی پی چکی تھی کہ آخر تھک کر تھوری دیر آرام کرنے کی نیت سے اس نے اپنے سامنے پڑا ٹیبل پر سر رکھ لیا اور کب آنکھ لگی اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔
جان جو ابھی میٹنگ سے فارغ ہو کر واپس آیا تھا ۔اور اب اپنے آفس میں جا رہا تھا کہ ایما کے کیبن کے پاس سے گزرتے ہوئے بے ارادہ اس کی نظر وہاں پڑی جہاں ایما اپنی ٹیبل پر آنکھیں بند کر کے سر رکھے ہوئے تھی۔ اس کے سانس لینے کے انداز سے جان کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ سو رہی ہے۔۔
جان اس کے کیبن میں داخل ہوا ٹیبل پر انگوٹھے سے ہلکے سا نوک کیا ۔۔مقصد اس کا ایما کو جگانا تھا ۔
مگر ایما تو لگتا تھا کہ کچھ زیادہ ہی گہری نیند میں تھی ۔۔
ایما کی طرف سے جب کوئی ردعمل نہیں ہوا تو اب کی بار اس نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا ۔۔
ایما ہڑبڑا کر اٹھی اور نظر سیدھی جان کی طرف گئی جو اسے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اس کی نیلی آنکھوں میں اس وقت ایما کو اپنے لیے عجیب سے چمک نظر آئی جس سے گھبرا کر اس نے اپنے آنکھوں کا زاویہ بدل لیا۔۔
جان جو ایما کو اس طرح سونے پر باز پرس کرنے ہی لگا تھا کہ اس کی نظر ایما کی بھوری آنکھوں کی طرف گئی اور ایک پل کے لیے وہ بھول گیا کہ وہ کیا کہنے والا تھا ۔ وہ بس ان تھکی ہوئی آنکھوں میں دیکھی جا رہا تھا جو اسے ہی دیکھ رہیں تھیں ۔ایما کے آنکھوں میں اس وقت اس کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہورہا تھا ۔۔
ایما نے جب آنکھوں کا زاویہ بدلا تو وہ ہوش میں آیا۔۔۔
کسی اور نے بھی یہ منظر بہت غور سے دیکھا۔۔
“مس ایما آپ پانچ منٹ تک میرے آفس میں آئے “”
جان کے جانے کے بعد ایما کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کوکیوں آفس میں بولیا گیا ہے ۔۔۔۔
” کوئی نہیں ایما آج کل تیرا برا وقت چل رہا ہے ” ایما خود کو حوصلہ دیتی ہوئی ریسٹ روم کی طرف بڑھی تاکہ تھوڑا سا فرش ہو جائے۔۔
___________________________
ایما کو آفس میں آنے کا کہہ کر وہ اب خود آفس میں ادھر اُدھر چکر لگاتے ہوئے خود کو سرزنش کر رہا تھا کہ وہ کیوں ایسے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا تھا ۔۔
اس کی آنکھوں کے بارے میں خیال آتے ہی ایک بار پھر وہ منظر اس کی دماغ میں تازہ ہو گیا ۔
ماتھے کے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے اس نے خود کو ریلکس کیا اسی دوران دروازے پر نوک ہوا ۔۔
“یس” وہ اپنی چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔
اجازت ملتے ہی ایما اندر داخل ہوئی ۔۔
جان ایک ہاتھ سے فائیل کا صفحہ پکڑے جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس کو اشارے سے سامنے پڑی چئیر پر بیٹھنے کا کہا ۔۔
ایما چپ کر کے بیٹھ گئی
۔
” تو مس ایما مجھے یہ بتائیں آپ کیا کھانا پینا پسند کریں گی ” جان نے سنجیدگی سے پوچھا ۔ایما جو ڈانٹ کی منتظر تھی اس کے اس طرح کھانے کا پوچھنے پر الجھ کر اس کی جانب دیکھنے لگی ۔۔
“نو ۔۔۔ تھیگ یو سر ” اس کو بھوک تو بہت لگ رہی تھی مگر پھر بھی اس نے منع کرنا بہتر سمجھا۔
“ارےے کیوں کچھ نہیں یہ تو ہوٹل ہے نا لوگ یہاں انجوائے کرنے آتے ہیں یا آ کر سونے درست کہا نہ میں نے ؟؟ ” اور ایما کو اب سمجھ آگئی کے جان طنز کر رہا تھا ۔۔۔۔
“جی ۔۔۔۔ مطلب نو سر “” پہلے وہ جلدی جی بولی لیکن بعد میں جب جان نے اس کو گھورا تو اس نے نو کیا۔
“مس ایما اب جب تک یہاں ہے ڈسیپلین کا خیال رکھیں کیونکہ اس معاملے میں۔۔۔۔ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرونگا ۔۔”” جان نے سخت لہجے میں اس کو وارن کیا ۔
اب کہ ایما نے منہ سے کہنے کی بجائے سر کو ہلا کر جواب دیا ۔۔اس طرح کرتی وہ جان کو کیوٹ لگی ۔۔ مگر اس بار جان نے خود کو سنبھال لیا۔۔۔
“اور جو میں نے آپ کو کام دیا تھا اب سزا کی طور پر آپ کو کل ہی مجھے دینا ہے”جان کی بات سن کر ایما کی سہی معنوں میں ہوائیاں اُڑ گئی
“جی کل ۔۔۔اور وہ بھی مکمل ” جان اس کے ہوائیاں اُڑتے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
“مگر سر۔۔”اس سے پہلے ایما اپنی بات مکمل کرتی جان اس کو بیچ میں ہی ٹوکتے ہوئے بولا۔
“اگر نہیں کر سکتی تو بتا دیں ۔۔ ہمارے پاس اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو اس پوسٹ پر کام کرنے کے خواہاں ہیں” ایما کا چہرہ جان کی بات سن کر تن گیا ۔۔۔
“سر میں کل دے دوں گی۔۔””
“ٹھیک ہے پھر اب آپ جا سکتی ہیں ” ایما کو جانے کا کہہ کر وہ دوبارہ فائیل پکڑ کر مصروف ہو گیا ۔
اس کے جاتے ہی جان نے فائیل سے سر اٹھایا اور دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے ایما گئی تھی ۔۔۔پتا نہیں کیوں مگر آج اسے پہلے دن والی ایما یاد آئی تھی ۔۔۔
اس نے سر جھٹک کر ان خیالوں سے پیچھا چھڑایا اور دوبارہ فائیل کی طرف متوجہ ہوگیا۔
_______________________
جان کے آفس سے آنے کے بعد وہ غصے سے لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ کر رہی تھی ۔۔
کہ کوئی شخص اس کی چیر کے پاس آکر کھڑا ہو گیا ۔۔
ایما نے کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے جب دیکھا تو سبز آنکھیں اس کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
“ہائے میں ڈیریک ہوں … تمہارا کیا نام ہے ؟؟ ” اس کو اپنی جانب متوجہ ہوتا دیکھ کر اس شخص نے اپنا تعارف کروایا۔
ایما نے کوئی جواب دینا ضروری نہ سمجھتے ہوئے دوبارہ اپنا کام کرنے لگی ۔۔
” اینگری برڈ !!! کیا ہوا ؟؟”” ڈیریک نے ڈیھٹ بن کر اب دوسرا سوال پوچھا۔
اب کی بار بھی ایما نے کوئی جواب نہیں دیا اور ٹائپ کرتی رہے ۔۔۔روکی تب جب لیپ ٹاپ کی سکرین بلیک ہو گئی۔۔
غصے سے اس نے اس ڈھیٹ شخص کی جانب دیکھا جس نے بلا وجہ اس کی اتنی دیر کی ساری محنت ضائع کر دی تھی۔
” آپ مجھے کچھ بتانے لگی تھی ” اس نے اتنے مطمئن انداز میں کہا جیسے وہ واقعی اسے کچھ بتانے لگی تھی اور لیپ ٹاپ بھی اسی نے خود بند کیا ہو ۔۔
ایما جو کہ نیند پوری نا ہونے۔۔جان کی ڈانٹ ۔۔ اور اپنی محنت سے کیے کام کے ضائع ہونے کی وجہ سے بلکل آؤٹ ہوگئی تھی ۔۔۔
اس لیے اس نے پاس پڑی کافی جو کہ اب ٹھنڈی ہوچکی تھی ڈیریک پر گرا دی۔۔۔
“اب بھی کچھ جاننا ہے ؟؟'” کافی اس پر گرانے کے بعد ایما نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔۔
ڈیریک یوں مسکرایا جیسے اسے بہت مزہ آیا ہو ۔۔۔۔
اس کو مسکراتا دیکھ کر ایما نے الجھ کر اس عجیب شخص کی جانب دیکھا اصولاً تو اسے غصہ کرنا چاہیے تھا مگر وہ مسکرا رہا تھا ۔
“سی یو ” ڈیریک دلکش انداز میں اس کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولا اوع وہاں سے چل دیا ۔۔
“ایڈیٹ ” غصے سے بولتے ہوئے اس نے دوبارہ لیپ ٹاپ آن کیا ۔۔۔یہ تو شکر تھا کہ اس نے بیک اپ فائیل پہلے سے بنا کر رکھی تھی ورنہ سارا کا سارا کام اس کو دوبارہ سے کرنا پڑ جاتا ۔۔
جس کا مطلب تھا کہ یہ جاب اس کے ہاتھ سے گئی جو وہ بکل افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔
_________________________
حور اپنے کپڑے کبڈ میں سیٹ کر کے رکھ رہی تھی کہ فون بجا ۔اس نے اپنا فون اٹھایا مگر وہاں کسی کی بھی کال نہیں آ رہی تھی ۔۔جبکہ بیل ابھی بھی ہو رہی تھی ۔۔وہ آواز کی سمت چلتی ہوئی لااونج میں آئی جہاں ٹیبل پر رخسار بیگم ( حور کی امی ) کا فون پڑا مسلسل بج رہا تھا ۔۔۔
” اوہ امی اپنا فون گھر چھوڑ گئی ” فون کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے وہ بولی ۔۔ موبائل اب کہ خاموش ہوچکا تھا لیکن اگلے ہی لمحے پھر سے کال آنے لگی ۔۔۔
یہ کوئی اننون نمبر تھا ۔۔۔
اس نے کال اٹینڈ کر کے موبائیل کان سے لگایا مگر بولی کچھ نہیں ۔۔
“ہیلو” دوسری جانب سے بھاری دلکش مردانہ آواز گونجی ۔۔۔
اس کا دل زور سے دھڑکا یہ آواز تو وہ ہزاروں میں بھی پہچان سکتی تھی ۔۔
” اسلام وعلیکم ” حور جلدی سے خود پر قابو پاتے ہوئے بولی ۔۔۔
” رخسانہ پھوپھو ؟؟”
“امی گھر پر نہیں ہیں ان کا موبائیل گھر رہ گیا ہے ” اس کی بات سن کر دوسری جانب موجود شخص نے ٹھنڈی سانس لی ۔۔
“اوکے جب وہ آئیں تو ان کو بتا دینا کہ آہل ان سے بات کرنا چاہتا ہے ” یہ کہہ کر فون بند کردیا گیا جبکہ وہ اب بھی موبائیل کان سے لگائے وہی دلکش بھاری لہجہ اپنے ارگرد محسوس کر رہی تھی۔
__________________________
“”کوئی مجھے صبح سے بہت یاد کر رہا ہے “”
جان جو اپنے آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ ڈیریک کی شرارتی لہجے میں بولے گئے جملے پر نا چاہتے ہوئے بھی ہلکے سے ہنس دیا۔۔۔
“تمہارے کام ہی ایسے ہیں کے مجبوراً اگلے بندے کو تمہیں یاد کرنا پرتا ہے””جان اسی طرح سر نیچے کئے فائنل پر کام کرتے ہوئے بولا۔ ڈیریک جان کا اشارہ سمجھ گیا مگر مجال ہے کہ وہ زرہ بھی شرمندہ ہوا ہو۔
” وہ کیا ہے نا جان میں چاہتا ہوں کہ تم ہر وقت میرے بارے میں سوچو “
ڈیریک کی بات سن کر جان نے افسوس میں سر ہلایا جیسے کہہ رہا ہو اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔
” تمہاری وجہ سے میں آج لیٹ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ “جان نے اس کو شرمندہ کر نے کی کوشش کی۔۔
“” انسان کو روز کچھ الگ کرنا چاہیے ورنہ ایک ہی کام کر کر کے وہ بور ہو جاتا “
ڈیریک کو جواب دینے کے لیے اب کہ اس نے فائیل سے سر اٹھایا لیکن اس کی حالت دیکھ کر اچنبھے سے پوچھا۔
“یہ کیا ؟؟ آج کچھ الگ کرنے کے لیے تم کافی میں ہی نہا کر آ گئے…””
جان کی بات سن کر ڈیریک بدمزہ ہوا۔۔
” تم نے اپنے آفس میں کتنے خطرناک لوگ رکھے ہوئے ہیں ۔”
ڈیریک نے جیسے اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔۔۔
“” پہلے نہیں تھے لیکن اب ہوگئے ہیں “
جان اس کے کافی سے بھیگے سر کی جانب الجھن سے دیکھتے ہوۓ بولا ۔۔
“وہی تو میرے نام پوچھنے پر غصہ ہو کر کافی ہی سر پر الٹ دی ۔۔۔ لیکن تم۔۔۔۔۔پرشان نہ ہو میں آگیا ہوں نا تو سب کو سیدھا کر دوں گا “”
” کس کی بات کر رہے ہو ؟؟ ” جان کو بھی اب اس عظیم ہستی کا نام سنے کا تجسس ہوا۔ جس نے ڈیریک جیسے بندے سے پنگا لے لیا تھا ۔۔
” ارے وہی جو سو رہی تھی ٹیبل پر اور تم نے اسے اٹھایا “
ڈیریک کی بات سن کر جان فوراً سیدھا ہوا۔۔
“” تم کب کے آیے ہوئے ہو ؟؟ “
” جب گاڈ نے کہا کہ جاؤ ڈیریک دنیا کو تمہاری ضرورت ہے “
ڈیریک سیدھا جواب دے ایسا ہو سکتا ہے بھلا۔۔
” ڈیریک!!!!!” اب کی بار جان کے انداز میں غصے کے ساتھ وارننگ تھی ۔جسے اگلا بندہ فر فر بولنے لگتا ہے یا اس کی زبان بند ہو جاتی ہے۔۔
مگر ڈیرئیک بندہ تھوری تھا وہ تو ڈیول 😈 تھا ۔۔
” بڑا مزہ آتا ہے جب چاروں طرف میرا نام گونجتا ہے “
ڈیرئیک اس کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے اس کو تنگ کرنے کے لیے بولا۔
جان کو اندازہ ہوگیا کہ اب وہ سیدھا جواب نہیں دے گا اس کو اب کی بار خونخوار نظروں سے گھورنے لگا ۔
” اتنے پیار سے نا دیکھو میری آنکھیں سبز ہیں بھوری نہیں “”
وہی ہوا جس کا جان کو ڈر تھا ڈیریک سب دیکھ چکا تھا ۔۔
“آؤٹ ” وہ اب کی بار اس نے غصہ ضبط کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اور تقریباً دھاڑتے ہوئے اسے آفس سے نکلنے کا کہا۔۔
“ہاہاہاہاہاہا”
وہ ہستا ہوا نکل گیا ۔۔
” میں پھر کب سے آفس آؤ “
جان جو اس کے جانے کہ بعد اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا اس کے پھر آجانے سے اب کی بار اس کی جانب بڑھا۔۔
اس کو اپنی جانب آتا دیکھ کر ڈیریک نے دوڑ لگائی ۔۔
بھئی جان کے تیور تھے ہی اتنے خونخوار کہ اگر وہ نا بھاگتا تو اس کی جیت نہیں تھی۔۔
جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *