Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20

یہ بات اس کے لیے ناقابل یقین تھی ۔۔کہ اس کی ماں جو بچپن میں ہی مر گئی وہ زندہ تھی اور اسے بلا رہی تھی ۔۔۔
پہلے اسے لگا کہ جیسے کوئی اس کے ساتھ مزاق کر رہا ہے۔۔۔ بھلا مرا ہوا ایکدم سے کیسے زندہ ہو سکتا ہے ۔۔۔لیکن پھر اس نے اپنے حواس پر قابو کیا ۔۔
” کیا ثبوت ہے کہ میری ماں تم ہی ہو ۔۔۔ ؟” اس نے دھڑکتے دل کہ ساتھ سرد لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
” تم ایک بار خود آکر دیکھ لو ۔۔۔۔ ” دوسری طرف اس کی ماں کی آواز میں وہی عورت فریاد کرنے کے انداز میں بولی۔۔اسے اس عورت کی آواز نم لگی ۔۔یا یہ اس کا وہم تھا ۔۔
اس عورت کی آواز ۔۔بولنے کا انداز ۔۔سب ہی تو اس کی ماں سے ملتا تھا ۔۔۔ اس کا دلکہہ رہا تھا کی یہ اس کی ماں ہی ہے ۔۔ لیکن دماغ نہیں مان رہا تھا ۔۔۔
“تو پھر ٹھیک ہے اگر تم واقعی وہی ہو جو کہہ رہی ہو تو اس پارک آجانا جہاں ہمیں لے کر جاتی تھی ۔۔” اپنی بات کہہ کر اس نے دوسری طرف کی سنے بغیر فون بند کردیا ۔۔۔اب وہ بے چینی سے لاؤنچ میں ادھر اُدھر چکر کاٹتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔
اس نے ایک نظر دیوار پر لگی گھڑی پر ڈالی ۔۔اور پھر فیصلہ کرتے ہوئے اس نے فلیٹ اور بائیک کی چابی ٹیبل سے پکڑ ی اور باہر دروازہ لاک کر کے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
یہ فلیٹ یونی میں اس نے اور ڈیرئیک نے مل کر لیا تھا ۔۔۔
جان اپنا خرچا خود اٹھنا چاہتا تھا وہ مزید اپنے باپ کا احسان نہیں لینا چاہتا تھا ویسے بھی وہ ان کی نظر میں ایک خودسر اور بےکار بلکل اپنی ماں کی طرح تھا جو کہ ان کے مطابق ان کے ساتھ ہونے کے باوجود کسی اور آدمی کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھی ۔۔ اس گھر بھی صرف ایک ہی شخصیت تھی جس کو اس کا خیال تھا اور وہ شازیہ بیگم تھیں جو اسے سپورٹ کرتی تھیں اور کبھی کبھی تو اس کے لیے جعفر صاحب کے سامنے ڈٹ جاتی تثھی ۔۔
بائیک کو سٹارٹ کرتے ہوئے اس نے بائیک اس راستے پر ڈال دی جہاں اکثر اس کی ماں اسے اور اس کی بہن کو لے کر جاتی تھی ۔۔۔
25 منٹ بعد وہ اس پارک میں موجود تھا ۔۔ اس نے اپنے چہرے کے تاثرات نارمل رکھے ہوئے تھے ۔۔ دیکھنے والے کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ پارک میں سیر کے لیے آیا ہے۔۔۔لیکن اس کے اندر طوفان چل رہا تھا ۔۔
ٹریک پر چلتے ہوئے اس کی نظریں آس پاس کا جائزہ لے رہی تھیں ۔۔
وہاں اکثر مائیں اپنے بچوں کے ساتھ آئی ہوئیں تھیں جنہیں دیکھ کر اسے پرانے یادیں تازہ ہو رہی تھی اس لیے تو اس نے یہاں آنا چھوڑ دیا تھا ۔اپنی بہن کے ساتھ بھی تو آخری بار وہ اسی جگہ آیا تھا ۔۔۔ دل میں چبھن سے ہو رہی تھی ۔۔ ابھی وہ آگے جا رہا تھا کہ سامنے نظر پڑی تو اسے کے چلتے قدم روک گیۓ ۔۔صرف قدم ہی نہیں اس کا دل بھی ایک پل کو رک گیا ۔۔
سامنے ہی تو اس کی ماں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ اس نے سر کو ڈھانپا ہوا تھا اس کا سر جھکا ہوا تھا شاید وہ رو رہی تھی ۔اس کے ہلنے سے جان کو اس بات کا اندازہ ہوا۔۔ وہ دھیمے قدموں سے ان کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اسی وقت ایک آدمی اس کی ماں کے ساتھ آ کر بیٹھا اور اس کی ماں اس کے کندھے سے پکڑ کر ساتھ تسلی دینے کے انداز اپنے ساتھ لگایا۔۔۔اس کی ماں بھی اس شخص کے گلے لگ گی۔۔
یہ سب دیکھ کر جان کو اپنا آپ انگاروں پر جلتا محسوس ہوا۔۔ اس کے کانوں میں اپنے باپ کے زہریلے جملے گونج رہے تھے جو اکثر وہ اس کی ماں کے لیے استعمال کرتا تھا ۔۔
(وہ گھٹایا عورت کا نام بھی نہ سنوں میں اس گھر میں ۔۔ )
(پتا نہیں کس کس کے ساتھ وہ میرے پیٹھ پیچھے رنگ رنگیلا کرتی پھرتی تھی۔)
( یہ باہر کی عورتیں ہوتی ہی ایسی ہے۔۔ ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا ۔۔ ہر طرف منہ ماری کرتی پھرتی ہیں ..بس جہاں کوئی امیر یا خوبصورت مرد دیکھا وہاں اس کے پیچھے پڑ گئ ۔۔)
اور آج جان کو ان کی کہی ساری باتیں سچ لگ رہی تھی ۔۔اس نے اپنے ہاتھوں کی مھٹیاں بھینچ لی اور سرخ ہوتے نظروں سے اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں وہ شخص بڑی توجہ اور محبت سے اس کی ماں کے آنسو صاف کر رہا تھا ۔۔
وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتے ہوئے ان کے سامنے جا کر سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔اس کی لہو ہوتی نظریں اپنی ماں کے ہاتھ پہ تھی جو اس شخص کی گرفت میں تھا ۔۔
اس کو دیکھ کر اس کی ماں کے ساتھ وہ شخص بھی کھڑا ہوگیا ۔۔ اس کی ماں نے اس شخص کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکلا بازوں پھلا کر اسے گلے لگانا چاہا تو وہ دو قدم پیچھے ہوتے سرد انداز میں بولا ۔۔
“” میرے قریب مت آنا لیڈی ۔۔ ” اس کے انداز میں اجنبیت محسوس کر کے پھر سے ان کی آنکھوں میں پانی آگیا۔۔
” جہان بیٹا اپنی ماں سے ناراض ہو ۔۔ ؟؟ ” اپنے بازو نیچے کرتے ہوئے وہ ہارے ہوئے انداز میں بولی ۔۔ بلکل ویسے جیسے اکثر اس کے چھوٹے ہوتے اس کے ناراض ہونے پر بولا کرتی تھیں
” نہیں ۔۔ آپ کے زندہ ہونے پر افسوس ہے ۔۔؟؟” اس نے نفرت سے بھرپور نظریں ان پر ٹکا دی ۔۔
اس کی بات سن کر اس کی ماں کے چہرے کا رنگ اڑتا اس نے باخوبی دیکھا تھا ۔۔
ان کو یہ بات بری لگی تھی ۔۔ یہی بات اسے سکون دے رہی تھی ۔۔
وہ بے چین تھا تو اسے بے چینی میں مبتلہ کرنے والوں کو بھی وہ چین سے نہیں رہنے دیتا تھا ۔۔
” اتنی نفرت ۔۔۔؟؟ کیوں ؟ “انہوں نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا ۔۔ جیسے یہ بات سن کر انہیں دل میں تکلیف ہوئی ہو ۔۔
” یہ ڈرامے بند کرو ۔۔ اور اپنے یہاں آنے کا مقصد بتاۓ ۔۔ ؟” جان اب پنٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر بے زاری سے ادھر اُدھر دیکھا۔۔
اس کے اس طرح کہنے سے ان کی آنکھوں سے آنسو اور تیزی سے گرنے لگے
” یہ ڈرامہ نہیں ہے ۔۔۔ میں اپنے بچوں سے ملنے آئی ہوں ۔۔۔ ” وہ جیسے اس کی اتنی نفرت برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔
” اوہ لٹ می گیس اب دل بھر گیا ہوگا مردوں کے دلوں کے ساتھ کھیل کر ۔۔ اس لیے اپنی یہ موت کا ڈرامہ ختم کرنا پڑا ہوگا ۔۔پھر یاد آیا ہوگا کہ ۔۔۔آہ میری تو اولاد بھی ہے ۔۔” وہ طنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے ان کے ساتھ کھڑے آدمی کی جانب مڑا ۔۔۔
” لگتا ہے ۔۔ آپ بھی اس عورت کے دل بھلانے۔۔۔” اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ آدمی جو خاموشی اور ضبط سے ان ماں بیٹے کی باتیں سن رہا تھا مزید جان کی بکواس برداشت نہیں کر سکا دھاڑا
” جسٹ شٹ اپ ۔۔۔ بیوی ہے یہ میری” اس شخص کا چہرہ توہین کی شدت سے لال ہوگیا تھا ۔۔
جبکہ دوسری طرف اس کی ماں اپنے لیے یہ الفاظ سن کر ساکت ہوگئی تھی ۔۔۔
” اوہ امیر ہونگے ۔۔ اس لیے کر لی شادی ” اس نے پھر سے زہر اگلا
” دفا ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔ ” اس شخص نے جیسے بڑی مشکل سے اپنے غصہ پر قابو پایا ۔۔
” مجھے بھی کوئی شوق نہیں ۔۔ گھٹیا لوگوں کے ساتھ باتیں کرنے کا ۔۔ ” اب کی بار وہ شخص اس کی جانب بڑھا ہی تھا کہ ساتھ کھڑی اس کی ماں نے اس کا بازوں تھام لیا اور سر نفی میں ہلا کر انہیں روکا۔۔۔
” اسے کچھ نہیں پتا ۔۔۔ ” وہ بڑی مشکل سے آنسو روکتے ہوئے بولی تھی ۔۔ان کے اس طرح کرنے سے انہیں رکنا پڑا ۔۔
” اور نہ ہی میں کچھ جاننا چاہتا ہوں ۔۔ ” وہ مڑا اور جانے لگا کہ پیچھے سے پھر وہ بولی ۔۔
” ٹھیک لیکن مجھے اتنا بتا دو ۔۔ مریم (جان کی بہن ) کیسی ہے ” ان کی آواز میں التجا تھی ۔۔
اس کے قدم ان الفاظوں پر زنجیر ہوئے آنکھوں کے سامنے اپنی بہن کا چہرہ گھما لیکن اس نے جلد ہی خود پر قابو پایا اور جب بولا تو آواز پہلے کی طرح ہی زہر خند تھی
” بہت دور جہاں چلے جانے کے بعد کوئی واپس نہیں آتا ۔۔ انفکٹ اس معاملے میں وہ لکی ہے کہ یہ چہرہ اور آواز دیکھنے سے تو محفوظ رہی ۔۔ ” بول کر وہ روکا نہیں اور چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
” میری غلطی اتنی بڑی تو نہ تھی ” یہ آخری الفاظ جانے سے پہلے جان نے سنے تھے ۔۔
اس کے بعد وہ واپس آگیا تھا ۔۔
__________________________
وہ جو ڈبوتے سورج کے ساتھ ماضی میں کھویا ہوا تھا ۔۔
کسی کے ” ہاےے ” کہنے سے واپس آیا ۔اور گردن دائی جانب موڑ کر اس نے ناگوار نظروں سے ان دو لڑکیوں کی جانب دیکھا جنہوں نے اس کے خیالوں میں خلل ڈالا تھا۔
اس کی ناگواری محسوس کر لینے کے باوجود وہو ڈھیٹ بنی اب اسے اپنے ساتھ سیلفی لینے کا کہہ رہی تھیں ۔۔
لیکن جان انہیں دیکھ اور سن کب رہا تھا اس کی نظر تو ان کے پیچھے کھڑی ایما پر تھی ۔۔سورج کی ڈھلتی کرنیں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔۔ ۔جس نے کھلے بالوں پر ٹوپی پہنی ہوئی تھی ۔۔ اس کی کھلے بالوں کی لٹیں بار بار اس کے چہرے پر آکر بوسہ دے رہی تھیں جنہیں وہ پیچھے کر دیتی لیکن وہ پھر آگے آ رہی تھیں ۔۔
جان کو اس کی ان لٹوں سے عجیب سی جلن ہو رہی تھی اس کا ان لٹوں سے دل کہہ رہا تھا کہ ان لٹوں کو اس کے چہرے سے ہٹا کر خود اس کے چہرے پر بوسہ دے ۔۔
اپنی اس خواہش سے گھبرا کر اس نے جلدی سے اپنی نظریں بڑی مشکل سے اس کے چہرے سے ہٹائی تو دیکھا کہ وہ لڑکیاں ابھی بھی پوری باچھیں پھیلائیں اسے دیکھ رہی تھیں ۔۔وہ سمجھی کہ جان ان کی جانب دیکھ رہا ہے ۔۔۔
” ایک طرف ہو جائیں ۔۔۔ “‘ وہ فوراً سے پہلے ایک طرف ہوگئی اور موبائل کا فرنٹ کیمرہ کھول کر پوز سیٹ کر کے کھڑی ہوگئیں تھی اور اب جان کا انتظار کر رہی تھیں ۔۔مگر ان کا منہ بن گیا جب جان نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے گاڑی ڈراونگ والی سائیڈ کی جانب آیا اور دروازہ کھول کر بیٹھ گیا ۔۔۔
بیٹھنے سے پہلے ایک بار پھر اس کی نظر غیر ارادی طور پر اس طرف پڑ گئی جہاں ایما کھڑی تھی ۔۔
مگر وہاں اب کوئی نہیں تھا ۔۔
وہ جگہ خالی تھی ۔۔
جان کو اپنا آپ بھی اس جگہ کی طرح خالی لگا ۔
______________________________
ایما نے جب محسوس کیا کہ جان مسلسل اس کی طرف دیکھ رہا ہے تو اسے الجھن ہونے لگی ۔۔اس لیے وہ حور اور الیویا کو لے کر وہاں سے چلی گئی۔۔
پھر انہوں نے کافی جگہ اور گھومی اور آخر میں ڈنر کر کہ ان کی واپسی ہوئی تھی ۔۔ واپسی پر بھی الیویا نے ان دونوں کو ڈراپ کیا تھا ۔۔
” کل کتنے بجے کی فلائٹ ہے ۔۔ ؟” جب حور اترنے لگی تو ایما کو خیال آیا کہ اس نے ٹائم تو پوچھا ہی نہیں ۔۔
” تین بجے ہے دوپہر کے ۔۔۔ ” حور نے ٹائم بتا کر ایک بار پھر ان دنوں کو بائے کیا اور اندر چلی گئی ۔۔
الیویا ان کو چھوڑ کر چلی گئی ۔۔ ایما نے اسے اصرار بھی کیا وہ اندر آۓ۔۔ لیکن الیویا نے منع کردیا ۔۔ کہ اس کا کو ضروری کام ہے وہاں جانا ہے ۔۔۔
ایما دروازہ کھول کر اندر آئی اور لائٹ آن کی ۔۔ سارا گھر خالی خالی تھا ۔۔ اس کا دل گھبریا تو اسنے لائٹ پھر آف کر دی اور جا کر اس صوفے پر بیٹھ گئی جہاں ازیبلا اکثر اس کے انتظار میں بیٹھا کرتی تھی ۔۔
اس کی آنکھیں ۔ پھر سے بھیگنے لگی ۔۔
اسے ابھی بھی یقین نہیں آتا تھا کہ ازیبلا اب نہیں رہی ۔۔
روتے روتے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتا نہیں لگا اور وہ وہی صوفے پر سو گئی ۔۔۔
کسی نے آرام سے چابی کے ساتھ دروازہ آہستہ سے کھولا کہ کم سے کم آواز نکلے ۔۔۔
اور آہستہ سے اندر آ کر اس کے پاس صوفے کے ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھا اور غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا ۔۔
جہاں آنسو کے نشان ابھی بھی تازہ تھے ۔۔
کچھ دیر اس کے پاس بیٹھنے کے اور اٹھا اور اندر جاکر کمرے سے کمبل نکال کر اس پر ڈال دیا ۔۔
اس کے کمبل ڈالنے سے ایما ہلی تو اس نے اپنی سانس روک لی اور جہاں کھڑا تھا وہیں سٹل کھڑا رہا ۔۔
ایما کے ماتھے پر بل پڑے پھر وہ پرسکون ہوکر سو گئی ۔۔
اس نے اپنی پینٹ کی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور ٹیبل پر اس کے بیگ کے پاس رکھ دیا ۔۔
اس کا دل تو کر رہا تھا کہ جانے سے پہلے وہ اس کے گلے ملے لیکن نہیں یہ مناسب نہیں تھا ۔۔ اس لیے دل کی خواہش پر قابو کرتے ہوئے وہ جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس چلا گیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *