Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16

ایما آج ریلکس تھی ۔۔۔اسے پتا تھا کہ وہ لیٹ ہے ۔۔ لیکن ریزائن کے فیصلے نے اسے ہلکہ پھلکہ کر دیا تھا ۔۔۔
وہ جان کے آفس میں آئی تو خلافِ معمول آج وہ آفس میں نہیں تھا ۔۔۔
ایما نے پہلے جلدی سے کافی بنائی اور جان کی بتائی انسٹکرشن کے مطابق کام کیا ۔۔۔
ان کاموں سے فارغ ہونے کے بعد اس نے گھڑی پر وقت دیکھا جان اب بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔
وہ جان کے آفس سے نکل کر اپنے کیبن میں گئی ۔۔ جو سیکٹری بنے کے بعد اسے ملا تھا ۔۔
یہ کیبن جان کے آفس کے بلکل ساتھ تھا ۔۔ بس درمیان میں ایک گلاس وال تھی۔۔
جس کے ذریعے ایما کو اس کے آنے اور جانے کا پتا لگ جاتا تھا ۔۔۔
” ریزنشن لیٹر لکھ لیتی ہوں ۔۔۔” وہ لیٹر ٹایپ کر رہی تھی ۔۔کہ پاس میں پڑا انٹرکام بجا۔۔۔
” اندر آؤ۔۔ ابھی ۔۔۔۔” اس نے گلاس وال کی طرف دیکھا۔۔۔ جہاں جان اپنی سیٹ پر بیٹھا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اسے دیکھ کر ایما کو حنان کی بات یاد آئی ۔۔ اور خوف نے پھر سے اسے گھیر لیا ۔۔۔اس نے ایک نظر اپنے سامنے لیٹر پر ڈالی۔۔۔ جو آدھے سے زیادہ لکھا جاچکا تھا ۔۔۔ پھر ہمت کر کے آفس میں داخل ہوئی۔۔۔
” تیار ہو جائیں۔۔آج ڈیرئیک اور الیویا کے شوٹ ہیں ۔۔۔۔ بیچ پر ۔۔۔ تم بھی میرے ساتھ چل رہی ہو ۔۔۔ ” جان بغور اس کے خوفزدہ چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔
ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ جان نے اسے تم کہہ کر مخاطب کیا تھا۔۔۔
جان کے ساتھ جانے کے خیال سے ہی ایما کو اپنی روح فنح ہوتی لگ رہی تھی ۔۔ اس لیے وہ اس کے تم کہنے پر زیادہ غور نہیں کر سکی ۔۔۔
(زندگی پیاری ہے ۔۔ ایما تو منع کر دے ۔۔۔ ) ایما نے دماغ کے کہنے پر عمل کرتے ہوئے اسے مخاطب کیا ۔۔۔ جو اسے اپنی بات کہنے کے بعد دراز سے پتا نہیں کیا تلاش رہا تھا ۔۔۔
” س۔۔۔۔سر ” ایما اٹکتے ہوئے بولی ۔۔۔
” تم اب تک یہاں ہو ۔۔۔ میں نے ابھی کیا کہا ہے ۔۔۔ ” جان اس کو وہاں موجود دیکھ کر جھڑکنے کے انداز سے بولا۔۔۔ اس کا انداز بہت انسلٹنگ تھا ۔۔۔
” سر ۔۔۔ میں نہیں جا سکتی آپ کے ساتھ ۔۔۔ ” انکار سن کر جان کا دماغ بلکل آؤٹ ہو گیا ایک جھٹکے سے وہ سیٹ سے اٹھا اور ٹیبل پر موجود پیپر ویٹ دیوار پر مارا ۔۔
آفس میں شیشے کے ٹوٹنے کی اواز گونج گئی ۔۔۔
ایما نے ڈر کی وجہ سے آنکھیں بند کر لی تھی ۔۔۔ اسے لگا تھا کہ جان نے پیپر ویٹ اس پر پھینکا تھا ۔۔
اپنی پشت پر کسی کی گرفت محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھولی تو خود کو جان کے حسار میں پایا۔۔ابھی وہ اس شاکڈ سے ہی نہیں سنبھلی تھی کہ جان کی اگلی حرکت نے اس کے چودہ تبک روشن کر دیے ۔۔۔
اس کا سانس روک گیا تھا ۔۔ اس نے خود کو اس کے حسار سے نکلنے کی کوشش کی لیکن جان نے اس کے دونوں ہاتھ اپنی دوسرے ہاتھ کی گرفت میں لے کر اس کی کوشش ناکام کردی ۔۔
اسے اپنے ہونٹ پر جلن سی ہوئی ۔۔۔
کیا تھا اس کی لمس میں ۔۔۔ غصہ ۔۔ جنون ۔۔ اور شاید نفرت بھی ۔۔۔
بےبسی کے احساس سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ۔۔۔
اس کو اب پکا یقین ہوگیا تھا۔۔ کہ حنان بلکل ٹھیک کہہ رہا تھا ۔۔۔
کچھ دیر بعد جان پیچھے ہوا۔۔ اور گہری نظر سے اسے دیکھا۔۔جس کا چہرا لال ہوا تھا ۔۔ آنکھیں نم اور لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔۔۔
ایما کی کمر اور ہاتھ اب بھی اس کی گرفت میں تھے۔۔۔
ان دنوں کے درمیان بہت کم فاصلہ تھا۔۔۔
” آئندہ کے بعد مجھے انکار کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ۔۔۔ ” جان اس کے چہرے پر آئی لٹ کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا۔۔۔
اس کی نیلی آنکھیں اس وقت بےتاثر تھیں ۔۔۔
” تمہارے پاس 15 منٹ ہیں ۔۔۔۔ اپنا حلیہ درست کرو ۔۔ اور نیچے پارکنگ میں آؤ “.اس کو آڈر دے کر وہ خود اپنی پینٹ کی پاکٹ سے سگیرٹ نکالتے ہوئے آفس سے نکل گیا ۔۔۔
وہ اپنا غصہ کنٹرول کرنے کے لیے زیادہ تر سگریٹ کا ہی سہارہ لیتا تھا ۔۔۔
اپنے آفس سے نکلنے کے بعد اس نے اپنے کبڈ کولیکشن کی انچارج کو اس کا ڈریس چینچ کروانے کا کہہ کر گاڑی کے پاس ہی ٹیک لگا کر کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
ٹھیک پندرہ منٹ بعد اس کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ سانس لینا بھول گیا ۔۔۔
بلیو سلیو لیس ٹاپ اور وائیٹ کلر لانگ سکرٹ جو اس کے پیروں تک آتے تھی اس کے سامنے تھی ۔۔۔ بال بھی اب اس کے جوڑے کے بجائے کھولے ہوئے تھے ۔۔۔ روئی روئی آنکھیں ۔۔۔ لال گال ۔۔۔اور زخمی ہونٹ پر لپ سٹک لگا کر چھپانے کی کوشش کی گئی تھی ۔۔۔
اس وقت وہ انتہاء کی خوبصورت لگ رہی تھی اسے۔
کہ اس کا دل کر رہا تھا کہ سب سے چھپا لے
۔۔ کوئی بھی اس کے سواہ
نہ اسے دیکھ سکے
نہ چھو سکے ۔۔۔
یہاں تک کہ یہ ہوا بھی جو اس کے بالوں کو اڑا رہی تھی یہ بھی اسے بری لگ رہی تھی ۔۔۔
اس نے بڑی مشکل سے اس سے نظر ہٹا کر اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔۔خود بھی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی ۔۔ وہ پوری کوشش کر رہا تھا کہ اس کا دھیان اس کی طرف نہ جائء ۔ لیکن دل تھا کہ بار بار اسے دیکھنے کی خواہش کر رہا تھا
جان کو اپنی فیلنگ سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔ جو ایما کو دیکھنے کے بعد سے آتی تھی ۔۔
کیوں اسے غصہ چھڑتا تھا جب کوئی اور اسے چھوتا تھا ۔۔۔
جب وہ ہستی تھی ۔۔ اسے ہر چیز ہستی محسوس ہوتی تھی ۔۔۔
جب وہ اداس ہوتی تو پوری دنیا اسے ویران ویران کیوں لگتی تھی ۔۔۔
اور آج جب اسے اور حنان کو قریب دیکھا تو کیوں وہ غصے سے پاگل ہو گیا تھا۔۔۔ ؟؟
ان سوالوں کے جواب جو اس کا دل دے رہا تھا۔۔۔ دماغ وہ ماننے پر راضی نہیں تھا ۔۔۔
جان نے دوبار اس کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔۔۔
گاڑی بڑی تیز رفتاری سے اپنی منزل کی طرف رواں تھی ۔۔۔
__________________________
شوٹ کے لیے سب تیار تھا ۔۔۔
ایک طرف کمپنی کی وین کھڑی تھی ۔۔ اور پاس ہی کمرہ مین اپنا کمیرہ سیٹ کر رہے تھے ۔۔
آس پاس بھی اتنا رش نہیں تھا ۔۔۔
اس لیے ایڈ کے لیے یہ جگہ پرفکٹ تھی ۔۔۔
الیویا نے وائٹ وسکوٹ ٹاپ کے ساتھ شارٹ پینٹ پہنی ہوئی تھی ۔۔۔
اور ڈیرئیک نے ابھی چینج نہیں کیا تھا ۔۔
وہ اپنے سامنے پڑے پھلوں سے انصاف کر رہا تھا ۔۔۔
الیویا نے موقع دیکھ کر پاس سے گزرتے ایک ورکر کو ایک چھوٹا لکڑی کا ڈبہ دیا ۔۔ اور ساتھ ہی پیسے بھی دے کر اس کو اس کا کام سمجھایا ۔۔۔
وہ لڑکا حیران ہوا۔۔۔
لیکن پیسے اس کی ساری حیرانگی ختم کر گئے۔
اسے تو پیسے مل رہے تھے اس کے لیے یہی بہت تھا ۔۔
اور وہ کام کے لیے راضی ہو گیا ۔۔۔
” اب تمہیں پتا لگے کا ڈیرئیک تم نے اولیویا کو بہت ہلکہ لے لیا ہے ۔۔۔ ” الیویا ہاتھ جھاڑ کر ڈیرئیک کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
اس کی آنکھوں میں اس وقت ایک بڑی خوبصورت چمک تھی ۔۔۔
ڈیرئیک کا ردِعمل سوچ کر دل میں گدگدی سے ہو رہی تھی ۔۔۔
اس نے ٹیبل سے چپس کا پیکٹ پکڑ کر کھولا۔۔۔ابھی دو چپس ہی کھائی ہوئیں گی ۔۔
کہ ڈیرئیک کسی نا آہنگی آفت کی طرف وہاں ٹپکا۔۔۔
” تھوری مجھے بھی دو ۔۔۔ ” اس نے درخواست کی ۔۔۔
” نہیں …” درخواست رد ہوئی۔۔
” اچھا۔۔۔۔ اممم چلو۔۔۔ پانچ ہی دے دو۔۔۔ ” ڈیرئیک کی نظر اس کی پیکٹ پر تھی ۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح لے کر بھاگ جاۓ۔۔۔
” مجھے سوچنے دو ۔۔۔ نہیں ” اس نے سوچنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا ۔۔۔جسے سن کر وہ خوش ہوا ۔۔ لیکن یہ خوشی بھی الیویا کو پسند نہیں آئی۔۔۔
” اچھا ۔۔۔ 3 ہی دے دو۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔ ” ابھی اتنا کچھ کھایا ۔۔ ابھی بھی بھوکا۔۔۔
الیویا نے اسے گھوری ڈالی ۔۔۔۔مطلب انکار۔۔۔
” اچھا ۔۔ ایک ہی دے دو۔۔۔۔ ” اس نے اتنی مسکین شکل بنا کر کہا کہ اسے اس پر ترس آیا اور ایک چپس کا ٹکڑا نکال کر اس نے ڈیرئیک کو دیا۔۔۔
ڈیرئیک نے خوشی سے اس سے وہ پیس لیا ۔۔۔۔ اور اچھی زبان سے چاٹا ۔۔۔
الیویا کو اس کے ایسے کرنے سے الجھن کو رہی تھی ۔۔ اس لیے اس نے اپنی نظر اس کی طرف سے ہٹا دی ۔۔۔
ابھی اس نے ایک پیس اور لیا ہی تھا کہ ڈیرئیک نے اس کے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ چھینا ۔۔۔اور اپنی وہ چاٹی ہوئی چپس اس کے سامنے پیکٹ میں ڈال کر اچھی طرح پیکٹ ہلا کر اس میں مکس کر دی۔۔۔۔
” یہ لو۔۔۔۔ ” ان سب سے فارغ ہونے کے بعد اس نے بڑی شرافت سے پیکٹ واپس اسے کیا ۔۔۔۔
” یخخخخخ۔۔۔۔” الیویا دوبک کر پیچھے ہوئی ۔۔۔۔
” ارے کھا لو۔۔۔ اس طرح پیار بڑھتا ہے ۔۔۔۔ ” ڈیرئیک نے پھر سے اصرار کیا ۔۔۔
” تم ہی کھاؤ۔۔ تمہارا جھوٹا کھا کر میں مرنا نہیں ۔۔۔ ” الیویا کو کراہت ہو رہی تھی ۔۔۔
اس کی کہنے کی دیر تھی ۔۔۔ ڈیرئیک نے اس کے سامنے پانچ منٹ نہیں لگائے اور سارا پیکٹ مزے سے خالی کر دیا۔۔۔
” اممممم مزے کا تھا ۔۔۔۔ اور کچھ ہے تمہارے پاس ۔۔۔ ؟؟؟” اب وہ اس کی سامان کی تلاشی لے رہا تھا ۔۔۔
” پیچھے ہو ۔۔ ” الیویا نے چڑ کر اسے پیچھے کیا ۔۔۔
” میں کب تمہارے اوپر چھڑا ہو۔۔۔ ” وہ برا مانتے ہوئے پیچھے ہوا
” افففففف۔۔۔ تم کہاں سے آگے اس دنیا میں ۔۔۔ ؟؟؟” الیویا نے زچ کر پوچھا۔۔۔۔
” تمہارے پیچھے پیچھے ہی آیا تھا۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ تم کہا سے مجھے یہاں لائی ہو ۔۔۔ ” ڈیرئیک کے پاس جواب نہ ہو ایسا ہو سکتا ہے۔۔۔
الیویا نے اب چپ رہنا ہی بہتر سمجھا ۔۔۔ کیوں سامنے والا سوال سے پہلے جواب تیار کر بیٹھا ہوا تھا۔۔
” اچھا میں ذرہ چینج کر لو ۔۔۔ جان بھی پانچ منٹ تک آنے والا ہے ۔۔۔ ” موبائل کی ٹون سن کر اس نے میسج دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
الیویا نے کچھ نہیں کہا اس کی بات پر بھی ۔۔۔ لیکن اپنی آکسائیڈ منٹ وہ چھپا نہیں سکی ۔۔۔
” تم کیوں خوش ہو رہی ہو۔ ۔۔” ڈیرئیک نے آنکھیں چھوٹی کر کے کہا ۔۔۔
” میری مرضی ۔۔۔” جواب میں اس نے کندھے آچکا دیے ۔۔۔
ڈیرئیک اس کو شکی نظروں سے دیکھتے وہاں سے چلا گیا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں جان بھی ایما کو لے کر وہاں آگیا ۔۔۔
ڈیرئیک نے وائٹ ٹراؤزر اور ساتھ وائٹ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔۔۔
ابھی وہ پہن کر باہر ہی آیا تھا ۔۔۔ کہ اس کو یوں لگا جیسے اس کی کمر پر کچھ چل رہا ہے ۔۔۔۔اس نے کمر پر ہاتھ رکھا اس کو کچھ ابھرا ابھرا لگا۔۔۔۔
پھر کمر کے ساتھ ٹانگوں پر پھر یوں لگا ۔۔۔ اس نے کمر کے پیچھے ہاتھ لے جا کر اس چیز کو نکلا چاہا۔۔۔
وہ چیز تو نکلنے کی بجائے اب اس کے سینے والی سیڈ پر آ گئی تھی ۔۔۔
اس کے ہلکے ہلکے ناخون اسے محسوس ہو رہے تھے ۔۔
وہ اچھل اچھل کر اس چیز کو نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
سیٹ اور آس پاس موجود لوگ بھی اس کی عجیب حرکتیں دیکھ کر ہنس رہے تھے ۔۔۔ وہ جس طرح اچھل رہا تھا سرکس کا بندر ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
الیویا کا تو ہنس ہنس کر آنکھوں پانی آنے لگ گیا تھا ۔۔۔
” اب یہ کیا نیا تماشہ ہے ۔۔؟؟؟” جان نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اچھلنے سے روکتے ہوے باز پرس کیا ۔۔۔
” میرے کپڑے میں کچھ ہے۔۔۔ ” ڈیرئیک نے اپنی الجھن بتائی۔۔۔
” جاؤ۔۔۔ جا کر دوسرا سوٹ پہن لو۔۔۔ ” جان اس کو وین میں چھوڑتے ہوئے بولا اور وین کا دروازہ بند کر دیا۔
اس کے بعد اس نے سارے سٹاف پر ایک سرد نظر ڈالی ۔۔۔ جس کا مطلب صاف تھا۔۔۔ اپنے کام پر توجہ دو۔۔۔
اور سب اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئے ۔۔۔
جان بھی مڑ کر جانے لگا تھا کہ ایک منظر نے اسے آگ ہی تو لگا دی ۔۔۔
ایما کسی آدمی سے مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی تھی ۔۔اس کے سر پر پھولوں کے بنے تاج کا اضافہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
” آپ کی بیٹی بہت کیوٹ ہیں ۔۔۔ ” ایما نے اس آدمی سے کہا۔۔۔ تھوری دیر پہلے اسی کی بیٹی اسے یہ پھولوں کا تاج دے کر گئی تھی ۔۔۔
” ہاں ۔۔ اپنی ماں پر گئی ہے۔۔ ” اس کے باپ نے ایک پیار بھری نظر اپنی مٹی سے کھیلتی بچی پر ڈالی۔۔۔
” وہ نہیں آئی ساتھ ۔۔ ؟؟” ایما کی بات پر اس آدمی کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ آئی۔۔۔
” اس کی نور کی پیدائش پر ہی ڈیتھ ہوگئی تھی ۔۔۔ “
” اور آئی ایم سوری ۔۔۔ ” ایما کو حقیقت دکھ ہوا۔
” ایک بات پوچھوں۔۔۔۔ ؟؟؟” ایما نے جھجھکتے ہوئے بولی ۔۔
” جی ضرور۔۔ ” اس آدمی نے خوشدلی سے اجازت دی۔۔۔
” آپ مسلم ہیں ؟؟؟ ” اس کے سوال پر اس آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔
” جی الحمدللہ۔۔ میرا ایک اسلامک سینٹر بھی ہے جو میں نے گھر ہی کھولا ہے۔۔۔ اگر آپ آنا چاہے ۔۔ تو یہ کارڈ پر ایڈریس لکھا ہے۔۔ ” اس آدمی کے چہرے پر وہی روشنی تھی جو ایما کو اکثر حور کے چہرے پر نظر آتی تھی ۔۔۔
” شکریہ ۔۔ ” ایما نے اس سے کارڈ پکڑا۔۔
کارڈ پر ابراہیم لکھا ہوا تھا ۔۔۔
” ویسے بہت پیارا نام ہے آپ کا ۔۔۔ ” ابھی ایما اتنا ہی بولی تھی کہ کسی نے اس کا بازوں بڑی بےدردی سے پکڑا اور اس کو کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گیا ۔۔۔
ایما نے جب مڑ کر دیکھا تو وہ جان تھا ۔۔
جس کے چہرے سے صاف پتا لگ رہا تھا کہ اسے غصہ چھڑا ہوا ہے ۔۔۔
(اب کیا غلطی ہو گئی مجھ سے) ایما نے پریشانی سے اس کی جانب دیکھا۔
” یہاں سے اب ہلنا نہیں ۔۔۔ اور نہ ہی میرے علاوہ کسی سے بات کرنی ہے ۔۔ ” جان اس کو کھڑا کر کے سخت لہجے میں بولا۔۔۔
ایما نے فوراً سر ہلا دیا۔۔
جان وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ اور کمیرہ فوٹوگرافر کو پکڑا دیا۔۔ آج کا فوٹوگرافی کرنے کا دل نہیں کر رہا تھا ۔۔ ورنہ یہ کام وہ خود کرتا تھا ۔۔
” یہ تم نے کیا تھا ۔۔۔ ” ڈیرئیک جو اب کے براؤن ٹرازر اور وائٹ شرٹ میں پوز بنا کر کھڑا تھا ۔۔ الیویا سے بولا۔۔
جواب میں الیویا کی ہنسی سے بتا دیا کہ یہ کام اسی کا ہے ۔۔۔
” میں نے نہیں تمہارا ہی سپاہی چوہا ۔۔ اپنے کامانڈر کی تلاش میں یہاں تک آیا ہوگا ۔۔ ” الیویا ہسنی دوباتے ہوئے بولی
اگلے پوز میں ڈیرئیک نے الیویا کو ہوا میں گھمانا تھا ۔۔۔
ڈیرئیک نے ایسا ہی کیا ۔۔۔ بس آخر میں اس نے الیویا کی کمر پر جان کر گرفت ہلکی کر دی ۔۔ جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گئی ۔۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ” وہ سب کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔
” اس کا مطلب تھا ۔۔۔ زیادہ اونچا نہ اُڑرو۔۔ ورنہ نیچے گر جاؤ گی ۔۔۔ ” ڈیرئیک ایک ٹیس کرنے والی سمائل اسے پاس کرتے نکسٹ پوز کرتے ہوئے بولا۔۔
اگلے پوز میں الیویا نے ڈیرئیک کی گردن میں بازوں ڈال کر کھڑے ہونا تھا اور ڈیرئیک نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالنا تھا۔۔
الیویا اس کی گردن میں بازوں ڈالتے ہوئے اپنے لمبے ناخون کا استمال کرتے ہوئے اس کی گردن زخمی کر چکی تھی ۔۔
“اوفف “ڈیرئیک نے بڑی مشکل سے درد ضبط کیا تھا۔۔۔
” اس کا مطلب ہے کہ مجھے اتنا ایزی نہ لو”. اولیویا اس کے کان کے پاس ہونٹ لے جا کر سرگوشی میں بولی ۔۔۔
اگلے پوز سیٹ کرنے سے پہلے ہی ڈیرئیک اپنے جوگر سے اس کا نازک پاؤں کچل چکا تھا۔۔۔
” اس کا مطلب یہ ہے ۔۔۔ کہ چونٹی کو ہاتھی سے پنگا نہیں لینا چاہیئے کہ اس کے کچلے جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔۔۔ ” ڈیرئیک نے بھی اسی کے انداز سے جواب دیا۔۔۔
ان دونوں کے بیچ کیا جنگ چل رہی تھی وہاں موجود سوائے ایک شخص کے کسی کو نہیں پتا تھا۔۔۔
جان نے سر نفی میں ہلایا جیسے کہہ رہا ہو ان کا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *