Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24
جان کا دل گھبرا رہا تھا ۔۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کا کوئی بہت اپنا ازیت میں ہے ۔
گھبراہٹ ایسی تھی کہ کسی طور سکون نہیں تھا ۔۔
بالوں میں ہاتھ پھیرتے ادھر سے ادھر آفس میں چکر لگاتے اس نے اپنی اندر کی اس بے چینی پر قابو پانے کی کوشش کی ۔۔ لیکن وہ کم ہونے کی بجائے مزید ہو رہی تھی ۔۔
” کیا مسلہ ہے ۔۔۔ ؟؟” آخر تنگ آکر اس نے خود ہی سے پوچھا ۔۔یوں جیسے اس سے اس کو اپنی بےچینی کا سبب مل جائے گا ۔۔
تھک کر اس نے چیئر کی بیک سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔
آنکھوں کے پردے میں ڈیرئیک کی تصویر آئی ۔۔
صرف ایک پل کے لیے ۔۔
کیونکہ اگلے ہی پل اس نے آنکھیں کھولیں۔۔۔
” ڈیرئیک کو اندر بھیجے ۔۔۔۔ ” اس نے انٹرکام کان سے لگیا ۔۔ ایک ٹانگ مسلسل بےچینی سے ہل رہی تھی ۔۔
” سر وہ تو ۔۔ کب کے آفس سے جا چکے ہیں ۔۔۔ ” اس نے لب بھینچ کر اس کی بات سنی ۔۔جبکہ دوسری طرف بچاری کی جان اٹکی ہوئی تھی کہ آج باس کا موڈ سہی نہیں اس کی شامت نہ آجاۓ ۔۔
” ہممم ۔۔ ایک بلیک کافی میرے آفس میں پہنچائیے۔۔۔ ” اپنی کنپٹی کو ہاتھ سے سہلتے ہوئے اس نے آڈر دے کر انٹرکام جگہ پر رکھ دیا ۔۔۔
کچھ سوچ کر اس نے ڈیرئیک کا نمبر ڈال کیا ۔۔۔۔لیکن کافی دیر بیل بجنے کے بعد فون خود ہی بند ہوگیا ۔۔۔
تین چار بعد اس نے کوشش کی ۔۔ لیکن تینوں بار ہی یہی ہوا۔۔
فون سائیڈ پر پٹخنے کے انداز میں رکھ کر اس نے اپنا سر دنوں ہاتھوں میں گرا دیا ۔۔۔
اس کی چھٹی حِس بار بار خطرے کا اشارہ کر رہی تھی ۔۔
تھوریی دیر بعد ڈور نوک ہوا ۔۔۔
” یس ۔۔ ” اجازت ملتے ہی ایما سپاٹ چہرہ لیۓ اندر آئی اس کے ایک ہاتھ میں گرم کافی تھی جس سے اب بھی دھواں نکل رہا تھا ۔۔
اس نے وہ کپ جان کے سامنے ٹیبل پر رکھا ۔۔۔
اس دوران جان کی نظر اس کی طرف گئی ۔۔ جس کی بھوری آنکھوں میں لال ڈورے پڑے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ وہ کافی دیر روتی رہی ۔۔۔
ایک پل کے لیے جان کا دل برا ہوا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مگر اگلے ہی پل اس نے خود پر دوبارہ بےحسی کا خول چڑھا لیا ۔۔۔ اور اپنے سامنے پڑے کافی کا کپ پکڑ کر اس سے سپ لیا ۔۔
اس دوران اس نے دوبارہ ایما کی طرف نہیں دیکھا جو ٹرے ہاتھ میں پکڑے اس کے اگلے حکم کی منتظر تھی ۔۔۔جان کا خیال تھا کہ اگر اس نے ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا تو اس کے لیے خود پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا ۔۔۔
” سر میں جاؤں ۔۔۔ ؟؟” آخر جب جان کچھ نہیں تو ایما نے تنگ آکر خود ہی پوچھ لیا ۔۔اس کا لہجہ البتہ سپاٹ تھا ۔۔
“ہمم ۔۔۔ ہاں جائیں ۔۔۔ ” جان اس کی آواز سن کر سوچوں سے باہر نکلا ۔۔ وہ اس وقت واقعی میں تنہائی چاہتا تھا ۔۔
” مس ایما ۔۔ ” وہ جو ابھی پلٹی ہی تھی کہ جان کی آواز سن کر اسے دوبارہ رکنا پڑا ۔۔۔
” میری آج کی ساری میٹنگ ۔ اپائنٹمنٹ سب کینسل کریں ۔۔ اور مجھے اب کوئی ڈسٹرب نہ کرے ۔۔۔ ” ایما نے اس کی ساری بات کے جواب میں سر ہلایا اور جانے کے لیے مڑی ۔۔
اس کے لیے جان کو سمجھانا ناممکن سا ہو رہا تھا ۔۔
اس کا مزاج منٹ میں گرم ہوتا تھا اور اگلے ہی سکینڈ وہ ریلکس ہوتا تھا جیسے وہ کوئی اور ہی شخص تھا جو غصہ کر رہا تھا ۔۔
یہی سوچتے ہوے وہ آفس سے نکل گئی ۔۔۔
ابھی اس نے کافی کا دوسرا سیپ ہی لیا تھا کہ موبائل پر میسج بیپ ہوئی ۔۔اس نے ڈیرئیک کا سوچتے ہوے موبائیل اٹھایا ۔۔۔
جہاں اسی اننونمبر سے تصاویر اور ویڈیو آئی ہوئی تھی ۔۔۔ ساتھ ہی ایک میسج تھا جس میں سرپرائز لکھا ہوا تھا۔۔جیسے اس کو سمجھے میں دیر نہیں لگی کہ میسج کس کا ہے ۔۔
لیکن پیکچز اور ویڈیو دیکھ کر اس کی نیلی آنکھیوں میں طوفان سا اٹھا تھا ۔۔
ویوڈیو ڈیرئیک کے اکسیڈنٹ کی تھی ۔۔۔
لیکن تصاویر وہ بلر تھی۔۔۔ یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس میں لڑکا ہے کہ لڑکی بس اتنا پتا لگ رہا تھا کہ وہ تصویر کسی انسان کی تھی ۔۔مگر جان نے اس پر غور نہیں کیا۔۔
کرتا بھی کیسے ۔۔۔ اس کا دوست۔۔۔ اس کا جگر ۔۔۔ اس کی جان ۔۔ اس کی مسکن ۔۔۔خون میں لت پت تھی تو وہ غور کرتا بھی تو کیسے ۔۔
غصے سے اس نے ہاتھ میں پکڑا کپ درازے کی طرف پھینکا۔۔ ایما جو حواس باختہ سی اسے اولیویا کے میسج دینے آئی تھی ۔۔۔۔ کہ وہ اسے ہسپتال لے کر جا رہی ہے اور ساتھ اس نے ہستپال کا نام بتایا تھا ۔۔
لیکن برا ہوا اس کے اندر آتے ہی جان نے جو کپ پھینکا تھا جس میں موجود کافی ابھی بھی اچھی خاصی گرم تھی اس کے ہاتھ اور پاؤں پر گری ۔۔۔ کیونکہ بازو وغیرہ کور تھے اس لیے ان کی بچت ہوگی ۔۔۔
” آہ ہ ۔۔۔ ” ہاتھ پکڑے وہیں بیٹھتی گئی ۔۔۔ جلن اتنی تیز تھی کہ لگ رہا تھا کہ کوئی بہت سی سوئیوں اس کے ہاتھ اور پاؤں میں گھسا رہا تھا ۔۔۔
اس کی آہ سن کر جان جو گاڑی کی چابیاں پکڑنے کے لیے جھکا تھا فوراً سیدھا ہوا اور اسے اس طرح ہاتھ پکڑے بیٹھا دیکھ کر پریشانی سے اس کی جانب آیا ۔۔۔
” کانوں میں مسئلہ ہے کیا کوئی ۔۔۔ جب میں نے کہا کہ جب تک میں نہ بلاؤں تو نہ آنا تو پھر اندر آنے کا کیا مقصد تھا ۔۔۔ عزت کیوں نہیں راس آتی تمہیں۔۔۔۔ ” اس کے سر پر کھڑے ہو کر وہ سخت غصے میں جھنجھلا کر بولا ۔۔۔ ایک تو پہلے ہی ڈیرئیک کی وجہ سے اس کو اتنی ٹیشن ہو رہی تھی ۔۔۔
” میں یہاں اولیویا کا میسج دینے آئی تھی کہ ۔۔ ڈیرئیک کا اکسیڈنٹ ہوگیا اور وہ اسے ہسپتال لے کر جا رہی ۔۔۔ ” اب تو جیسے اس کی برداشت ختم ہوگئی تھی ۔۔ اسے بھی ڈیرئیک کی ٹیشن ہو رہی تھی اوپر سے یہ جلے کا درد اور سونے پر سہاگا جان کا جلا کٹا انداز ۔۔۔ “اور دوسری بات پہلے جا کر سیکھ کر آئی عزت ہوتی کیا ہے ؟ کرتے کیسے ہیں ؟؟ اور سب سے ضروری لڑکیوں سے کیسے بات۔۔۔ ” وہ وہیں ویسے ہی نیچے بیٹھے پھاڑ کھانے والے انداز میں جو بولنا شروع ہوئی تو چپ تب ہوئی جب جان نے اس کو بازوں میں اٹھایا تھا ۔۔
اس کا منہ اور آنکھیں پوری کھل گی تھیں ۔۔۔ اس کی پرفیوم کی خوشبو ایما کو اپنے حواسوں پر بھاری ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ اس کے برعکس جان کا انداز سپاٹ تھا۔۔ وہ اسے لے کر لمبے لمبے قدم اٹھتا پرائیویٹ لفٹ میں داخل ہوا ۔۔
” چھوڑیں مجھے ۔۔۔ کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ” اس نے خود کو جان کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی جس پر جان نے اپنی گرفت اس پر اور مضبوط کر دی تھی ۔۔
” میرے پاس فالتو وقت نہیں ۔۔ اس لیے یہ ڈرامے بند کرو ۔۔ اور مجھے ہاسپٹل کا نام بتاؤ جو اولیویا نے بتایا تھا۔۔۔ “لفٹ سے نکل کر اس نے گاڑی کی جانب قدم بڑھا دیئے جبکہ آج تو جان نے لگتا تھا اس غصہ چڑھا چڑھا کر اس کی دماغ کی نس پھاڑنے کا ارادہ کیا تھا ۔۔
” نہیں بتانا ۔۔۔ کر لیں جو کرنا ہے ۔۔۔۔ ” ایما کو اندازہ نہیں تھا کہ اس نے یہ بات کہہ کر کون سے طوفان کو دعوت دے دی تھی ۔۔
جان نے اپنی گاڑی کے پاس پہنچ کر اسے ایک دم سے چھوڑا جس کی وجہ سے وہ زور سے زمین پر گری تھی ۔۔۔
” یہ کیا حرکت تھی ۔۔۔ ؟” ایما نے غصے سے جان کی طرف دیکھا لیکن جان کے خطرناک تیور دیکھ کر وہ خود ایک پل کو ڈر گی ۔۔
” حرکت تو میں اب کروں گا ۔۔۔ ” کہتے ساتھ ہی اس نے ایما کا وہی جلا ہوا ہاتھ زور سے پکڑا اور اسے کھڑا کر گاڑی کے ساتھ لگایا ۔۔۔
” آآآ۔ہ..” باقی کی چیخ اس کی منہ میں ہی رہ گئی تھی کیونکہ جان نے دوسرا ہاتھ بھی اس کے منہ پر رکھ دیا ۔۔
ان دنوں کے درمیان ایک انچ کا بھی فاصلہ نہیں تھا ۔۔
” اب بتاؤ ۔۔ نام بتا رہی ہو کہ نہیں ۔۔ ؟؟” اس کی بھیگی بھوری آنکھوں میں اپنی نیلی سرد آنکھیں گاڑے بولا تھا ۔۔
اس کی تیز گرم سانسیں ایما کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔۔۔
ایما کو ڈر تو بہت لگ رہا تھا لیکن اسے بھی ضد ہوگئی تھی ۔۔ اس لیے اس نے ہٹ دھرمی میں سے نہ میں سر ہلایا ۔۔
اسے سر ہلاتے دیکھ کر جان نے زور سے اس کا ہاتھ دبایا ۔۔۔ ایما نے چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس کی فلادی گرفت سے نکلنا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔ ستم تو یہ تھا کہ وہ چیخ بھی نہیں پا رہی تھی ۔۔
” بتانا ہے کہ نہیں ۔۔۔ ” اب کہ نظریں اس کے جلے ہوئے پاؤں پر گاڑے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا گیا ۔۔۔ اس کے انداز میں سفاکیت سی تھی ۔۔ جیسے اپنے راستے میں آنے والی ہر شہ کو وہ ختم کر دینے کو تھا وہ ۔۔
اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر ایما کے ہوش ہی اڑ گے ۔۔ پہلے کی درد ہی برداشت سے باہر تھی اب اگر پاؤں بھی ہوتا تو۔۔۔۔اگے کا سوچ کر ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے اس لیے اس نے جلدی سے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔ کہ بتاتی ہوں۔۔
اس نے مانتے ہی جان نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا اس کے ہاتھ ہٹاتے ہی ایما نے اپنی سانس بھال کی ۔۔ اور اسے ہسپتال کا نام بتایا ۔۔
نام سن کر جان نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے پٹکنے کے انداز میں بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔
ایما کا دل کیا کہ اس سے کہے کہ اب تو اس نے نام بتا دیا ہے تو کیوں ساتھ لے کر جا رہا ہے لیکن اس کے تیور اسے خوف کی مبتلا کر رہے تھے ۔۔
باقی ہسپتال کا راستہ بڑی خاموشی سے کٹا ۔۔
_________________________
حویلی پوری طرح سجی ہوئی تھی ۔۔ مہمان بھی سارے تقریباً پہنچ چکے تھے ۔۔ آج مایوں تھا پھر مہندی ۔۔ برات اور ولیمہ تھا ۔۔
حور کا اس دن کے بعد آہل سے آمنہ سامنہ نہیں ہوا تھا ۔۔
آہل کا انداز کئیرنگ تھا لیکن وہ کیا چیز تھی جو حور کو بے چین کیے ہوئے تھی اسے نہیں پتا تھا ۔۔۔
پیلے اور سبز رنگ کے سادے فراق پہنے ۔۔۔جس سے اس کا نازک سراپا مزید دلکش لگ رہا تھا ۔۔ کیونکہ اس وقت وہ کمرے میں اکیلی تھی اس لیے اس نے حجاب نہیں لیا ہوا تھا بس دوپٹہ لیا تھا ۔۔۔ لمبے بال کچر میں جکڑے ہوے تھے جس میں سے کچھ شریر لٹیں نکل کر اس کے رؤی جیسے سفید گالوں کو چھو رہی تھیں ۔۔ اس وقت وہ مکمل سادگی میں تھی مگر اس سادگی میں بھی غذب ڈھا رہی تھی ۔۔
وہ اس وقت بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔ کل بھی تقریباً ساری رات لڑکیوں نے اسے گھیرے رکھا تھا جس کی وجہ سے اس کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
” آپی ۔۔۔!!” مسکان نے ہلکا سا دروازہ کھول کے اندر جھانک کر اس کا نام پکارا ۔۔۔
” آؤ ۔۔۔مسکان اندر آ جاؤ ۔۔ ” مسکان کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آگیی تھی ۔۔ تھی تو وہ مہک کی بہن لیکن اس کے بلکل برعکس تھی بس تھوڑی شرارتی تھی ۔۔
” آپی آپ بہت پیاری ہیں ۔۔۔ ” مسکان اس کے پاس بیٹھ کر اس کی جانب اشتیاق سے دیکھتے ہوئی بولی ۔۔۔
اس کی بات سن کر اس نے ہلکے سے ہنستے ہوئے اس کے گال پیار سے کھینچے ۔۔
” تم سے زیادہ نہیں ۔۔۔ ” اپنی تعریف سن کر مسکان کھل اٹھی ۔۔۔
” اوہ ۔۔۔ میں دیکھنے آئی تھی کہ آپ سو تو نہیں رہی نیچے وہ ڈھولکی رکھی ہے ۔۔۔ اس لیے اور پھر آپ کو مہندی لگانی ہے ۔۔۔ ” سر پر ہاتھ مارتے اس نے اپنی عقل پر جیسے ماتم کیا ۔۔
اس کی باتوں کے دوران ہی حور نے سر پر اپنے دوپٹے سے حجاب سٹ کر لیا تھا ۔۔
” آپی یہ رہنے دیں ۔۔۔۔ آپ کو تنگی ہوگی ” مسکان نے اس کو جھجکتے ہوے کہا ۔۔
” مجھے اس میں آسانی رہتی ہے ۔۔۔۔ ” حور نے نرمی سے اس کی جانب دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔
” لیکن آپی وہاں تو کوئی مرد نہیں ۔۔
” میں پھر بھی کرنا ہے ۔۔۔ مجھے اس کے بغیر کمفرٹیبل نہیں رہتا ۔۔۔ ” اس کی اس بات کے بعد مسکان نے بھی مزید اصرار نہیں کیا ۔۔۔
” اچھا تم یہی روکو میں ایک بار باتھروم سے ہو آؤں تو مل کر چلتے ۔۔۔ ” حور باتھ کی جانب جاتے ہوئے بولی ۔۔۔
اس کے باتھ روم جاتے مسکان نے وقت گزاری کے لیے ادھر اُدھر چیزیں دیکھنے لگی کہ اس کی نظر ڈونٹ کی طرز کے کور پر پڑی جو بیڈ کے سائڈ پر پڑا تھا ۔۔۔
” واو۔۔۔ ” اس نے وہ کور ہاتھ میں پکڑ دیکھا ۔۔۔
” چوررررررررر۔۔۔۔ ” علی جو حور کو دیکھنے آیا تھا اس کے کمرے میں ایک لڑکی کو دیکھ کر رک گیا ۔۔۔ وہ واپس مڑنے لگا کہ اس نے دیکھا کہ وہ لڑکی کچھ پکڑ رہی تھی ۔۔۔ اسے لگا کہ وہ کچھ چرا رہی ہے اس لیے وہ دبے پاؤں دورزاہ کھول کر اس کے پاس گیا ۔۔
اس لڑکی کی پشت اس کی طرف تھی اس لیے اسے اس کے آنے کا پتا نہیں چلا تھا ۔۔۔
” کون۔۔۔۔” مسکان جو دلچسپی سے وہ کور دیکھ رہی تھی اپنی کان کے پاس سے چور سن کر ہڑبڑا گئی ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف علی کو تو اسے دیکھ کر دل ہی چوری ہوگیا ۔۔۔جو سبز رنگ کے گھیرے دار فاروق پہنے ۔۔۔ سیاہ رنگ کے کھلے لمبے بال ۔۔ گھنی پلکیں اور بڑی آنکھیں جو وہ اس وقت پوری کھولے اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” ارےےے بھائی کون ہے چور ۔۔۔ ” علی جو گم ہو کر اسے دیکھ رہا تھا بھائی کا لفظ سن کر بدمزہ ہوگیا ۔۔۔ اسی وقت حور بھی آواز سن باتھ روم سے نکل گی ۔۔۔۔۔ لیکن علی کو مسکان کے پاس دیکھ کر سمجھ گئی کہ یہ اسی کی شرارت تھی ۔۔
” علی ۔۔۔ میری جان نکال دی ۔۔۔ باز آجاؤ تم ۔۔ ہر کسی کو تنگ کرنے لگ جاتے ہو ۔۔۔ ” حور اسے دانٹتے ہوئے بولی ۔۔۔
” آپی میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ میں تو بس آپ کے پاس تھورا وقت گزارنے آیا تھا لیکن پھر دیکھا کہ ایک لڑکی آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی چیزوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہی ہے ۔۔۔ ” علی نے فوراً اپنی صفائی دی ۔۔۔
” اےےےے میں تمہیں چور لگتی ہو ۔۔۔ ” مسکان کو صدمہ ہی ہوگیا ۔۔۔
” لگتی کیا ہو ۔۔۔تم ہو ۔۔۔ ” علی دانت نکلتے ہوے بولا۔۔۔
” تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔ ” مسکان دانت پیستے ہوے بولی ۔۔۔
” بہت نیک خیال ہے ۔۔۔ پھر کہا کہتی ہو کچھ نیک کام کر نہ لیا جاے ۔۔۔” مسکان جتنے غصے میں تھی علی اتنے ہی مزے سے بول رہا تھا ۔۔۔
” بدتمیز ۔۔۔۔ ” مسکان کا غصے سے منہ لال ہو چکا تھا ۔۔
” آپ نہایت لگانا بھول گئی ۔۔۔ ” آگے سے علی پھر دانت نکالتے ہوے بولا ۔۔۔
” بسس کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ بچوں کی طرح لڑ رہے ہو ۔۔۔ ” مسکان کے کچھ بولنے سے پہلے حور کو ہی انہیں چپ کروانا پڑا جو کب سے حیران پریشان ان کی لڑی دیکھ رہی تھی ۔۔
” میں بھی یہی کہا رہا تھا آپی ۔۔۔ یہ بچوں کو بڑوں کو تمیز سے بات کرنی چاہیے۔۔۔ ” علی نے مسکان کی اپنے مقابل چھوٹی ہائیٹ پر چوٹ کی ۔۔
” بلکل سہی میں بھی ۔۔۔ کیا کھمبوں سے لڑنے لگی ۔۔۔ ” مسکان طنزیہ مسکراہٹ اس کی جانب اچھالتے ہوئے بولی ۔۔۔
حور ان کو پھر سے لڑتا دیکھ کر سر پکڑ چکی تھی ۔۔
” تم ۔۔۔ ” علی آگے بھی بولتا اگر حور اس کا کان پکڑ کر نا کھینچتی ۔۔۔
” ہاں جی ۔۔۔ تم نکلو کمرے سے ۔۔۔ ” اسے کمرے سے باہر نکال کر حور مسکان کی جانب مڑی جو پھولے منہ کے ساتھ ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑی تھی ۔۔۔
” آؤ ۔۔ مسکان وہ چلا گیا ہے ۔۔۔ “
” آپی گول گپے کھانے ہیں کیا ۔۔۔۔۔ ” علی پھر سے منہ کمرے کے اندر کرتے شرارت سے مسکان کی طرف دیکھتے ہوے بولا ۔۔۔
” روکو ذرا ۔۔۔ ” مسکان اس کے بال کھنچنے کی نیت سے اس کی جانب بڑھی تھی کہ علی اسی وقت وہ ہستے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا تھا ۔۔۔
حور نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپائی کیونکہ مسکان کا منہ واقعی گول گپے جیسے بنا ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
