Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اس کے آفس آنے کا خاص مقصد تھا ۔۔ جس کو پورا کرنے کے لیے اسے ایما کا انتظار تھا ۔۔ وہ وقت سے پہلے ہی آفس پہنچ چکا تھا ۔۔
اس وقت وہ بلیک پینٹ کوٹ پہنے اپنی چیئر پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔ خلاف معمول آج اس نے کوئی فائیل بھی نہیں پکڑی ۔۔۔
مگر اس کی بےچین نہریں بار بار سامنے کی طرف اٹھ رہی تھی جہاں سے اس نے آنا تھا
اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی ۔۔۔ ابھی آٹھ بجے میں چند منٹ باقی تھے کہ وہ اسے سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی ۔۔
باقی دنوں کے برعکس آج اس نے اس کو غور سے دیکھا تھا ۔۔
وائیٹ رنگ کی کھلی سی جرسی ساتھ پینٹ ۔۔ بھوری آنکھوں میں میں لال ڈورے پڑے ہوے تھے ۔۔ چھوٹی سی ناک اور اس کے نرم وملائم گال اس وقت ضرورت سے زیادہ سرخ تھے ۔۔بال اس نے جوڑے میں قید کیے ہوے تھے جس میں سے کچھ لٹیں نکل کر اس کے گالوں کو چوم رہی تھی ۔۔جان کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ۔۔۔ اس لیے اس نے جلدی سے نظریں اس سے ہٹا لیں ۔۔
” میرے آفس آئیں ۔۔۔ ” وہ ابھی اپنے کیبن کے اندر ہی آئی تھی کہ انٹرکام بجا تھا ۔۔ اور حسبِ حال دوسری طرف آڈر سنا کر ٹھک سے بند بھی ہو چکا تھا ۔۔
” ان سے (اچھو )کس نے کہہ دیا کہ صبح صبح کسی نا آگہی (اچھو) بلا کی طرح ٹپک جائیں ۔۔ دومنٹ سکون کا سانس بھی (اچھو) ۔۔” نہیں لے سکتے ۔۔۔ آتے ساتھ ہی (اچھو) ۔۔۔ میرے آفس آئیں ۔۔۔ ” اس نے بھی فون پھٹک کر ہلکی آواز میں جان کو کوستے ہوے آخر میں اس کی نقل اتاری بیچ بیچ میں چھنک کا وقفہ نہیں روکا ۔۔۔اور بےزرای سے اس کے روم کی طرف چل دی ۔۔ اب جو بھی تھا ۔ آڈر تو ماننا ہی تھا ۔۔
” اچھو ۔۔ جی سر ۔۔ ” اب وہ جان کے سامنے کھڑی تھی ۔۔
” آپ میرے ساتھ آ رہی ہیں ۔۔ ” ایک نظر اس پر ڈالنے کے بعد سنجیدگی سے بولا ۔۔
” مگر ۔۔ اچھو ۔۔۔کہاں سر ۔۔ ” ٹشو منہ سے ہٹاتے ہوے اس نے اچھنبے سے پوچھا ۔۔۔ اب تو اس کے گلے کی آواز بھی بیٹھ سی گی تھی ۔۔
جان نے جواب نہیں دیا بس ایک نظر اس پر ڈال کر باہر نکل گیا ۔۔ جیسے اس کو پتا تو وہ اس کے پیچھے آۓ گی اور ہوا بھی وہی ۔۔ اب وہ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی ۔۔۔
اور الجھن سے اسے دیکھ رہی تھی جس کا اسے بخوبی اندازہ تھا ۔۔
اس نے فون نکال کر وکیل کا نمبر ملایا اور کان سے لگایا ۔۔
” پہنچ گئے ۔۔ ” شاید دوسری طرف سے کال اٹھا لی گی تھی ۔۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔ وہنی انتظار کریں ہم آرہے ہیں ۔۔ ” مختصر سی بات کر کے اس نے کال بند کر کے موبائیل ڈش بورڈ پر رکھ کر گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔
اس وقت اس کا چہرہ ہر تاثر سے پاک تھا ۔۔ چہرے پر نرمی تھی لیکن نیلی آنکھیں سرد ۔۔
” ابھی ہم ہسپتال جا رہے ہیں ۔۔ ڈیرییک کے پاس وہاں وکیل بھی ہے اور وہاں ہماری شادیہوگی ۔۔ ” وہ اس کو دیکھتے ہوئے عام سے انداز میں بولا ۔۔
پہلے تو ایما کو یقین نہیں آیا اس کی بات پر لیکن جب آیا تو اس کا دماغ گھوم گیا ۔۔۔
” کیا مطلب ۔۔ اچھو ۔۔ آپ کو کس نے کہا ۔۔ اچھو ۔۔۔ میں آپ سے شادی کروں گی ۔۔ ” وہ غصے سے اس کی جانب دیکھتے ہوے بولا ۔۔ بھوری آنکھوں سے جنگاریاں سی نکل رہی تھی جو سامنے والی کو بھسم کر دینا چاہتی ہو ۔۔۔
” میں نے جو کرنا ہوتا ہے ۔۔ میں وہ کر لیتا ہو ۔۔ کسی کے کہنے نہ کہنے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔میرا کام تھا تمہیں بتانا ۔۔ وہ میں کر لیا ہے ۔۔ ” وہ اب دوبارہ ڈراونگ سیٹ پر سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوے بےنازی سے بولا ۔
جبکہ ایما منہ کھول کر اسے دیکھتے رہ گی ۔۔
” آپ نے بتایا میں نے سن لیا۔۔۔اچھو ۔۔۔۔ لیکن عمل کرنا نہ کرنا میرے پر ہے ۔۔اچھو۔۔ جو کے میں نہیں کرنا ۔۔ ” تب کر بولتے ہوے اب وہ سینے پر بازوں باھند کر سیدھی ہو کر بیٹھ گی ۔۔
(ایسی تو ایسی کی سہی ۔۔۔ سمجھتا کیا ہے خود کو ۔۔ )
” اوکے ۔۔ مگر پہلے یہ دیکھ کر بتانا تم اسے جانتی ہو ۔۔۔ ” موبائیل اس کے سامنے کرتے ہوے اس نے نورمل انداز میں پوچھا ۔۔ ایما کا تو خیال تھا کہ وہ اس کی باتیں سن کر غصہ ہو گیا جبکہ وہ تو ریلکس تھا ۔۔
اس نے اس کے چہرے سے نظر ہٹا کر موبائیل کی سکرین پر دیکھا تو اس کی آنکھیں پوری کھل گی ۔۔۔دل کی دھڑکن جیسے رک گی تھی ۔۔
اس نے جان کی طرف دیکھا ۔۔ جو اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے اور نیلی آنکھوں میں چمک جیسے اسے پتا تھا کہ وہ ہار گی ہے ۔۔
ایما نے پھر دوبارہ موبائیل کی سکرین کی طرف دیکھا ۔۔ جہاں پیٹر چیئر پر باندھا ہوا تھا ۔۔ اور ایک آدمی اس کے پیچھے بندوق تانے کھڑا تھا ۔۔۔
اس دو منٹ کی ویڈیو نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔
” آپ ایسا کچھ ۔۔۔۔ نہیں کرے گے ۔۔۔ ” اس کی آواز میں موجود بےبسی محسوس کر کے جان کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔
” آپ نے کہہ میں نے سن لیا ۔۔ اب عمل کرنا نہ کرنا میرے پر ہے ۔۔” اس نے ایما کا جواب اسے واپس کیا ۔۔۔
شدید بےبسی کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے وہ جان کا ویڈیو دیکھنے کا مقصد اچھی طرح سمجھ چکی تھی ۔۔ لیکن وہ اس کے سامنے آنسو بہا کر خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے آنسو کو پیتے ہوے اس نے جان کی طرف دیکھا۔۔
بلیک رنگ کی پینٹ کوٹ میں بھی جس کا مضبوط جسم کا پتا لگ رہا تھا ۔۔عنابی لب جو ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔۔۔ چہرے پر بریڈ اور نیلی آنکھوں میں جیت کی خوشی ۔۔۔ وہ واقعی وجیہہ اور شاندار پرسنالٹی کا مالک تھا ۔۔ کتنی ہی لڑکیاں اس کے ساتھ کی خواب دیکھتی ہوں گی ۔۔ لیکن ایما کے لیے وہ شخص صرف ایک ٹارچر تھا ۔۔
جان سامنے دیکھ رہا تھا اس کے باجود اسے پتا تھا کہ وہ اسے دیکھ رہی ہے۔۔۔
” کچھ کہہ رہی تھی آپ ۔۔۔ ” نظریں اس کی جانب کرتے ہوے اس نے برے جتانے والے انداز سے پوچھا تھا جبکہ ایک ہاتھ سے ڈراؤ اور دوسرے سے موبائیل واپس جیب میں رکھا ۔۔۔
” میں کہہ رہی تھی جیسے آپ اچھو کی مرضی۔۔۔ ” اس نے میٹھی لہجے میں دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔
یہ اور بات ہے کہ اسے اس شخص پر شدید غصہ تھا جو بلا وجہ ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پر چکا تھا ۔۔
” یہ ہوئی نہ ابھی بچوں والی بات ۔۔۔ ” وہ اس کی سرخ ناک جو بار بار اس کا دھیان اپنی طرف کر رہی تھی اس کو ہلکے سے دباتے ہوے بچوں کی طرح پچکارتے ہوئے بولا تھا۔۔
ایما نے ناگواری سے اس کا ہاتھ پیچھے کر کے منہ دوسری طرف کر لیا دل ہی دل میں اسے کوسنے لگی ۔۔
فلحال تو وہ یہ کر سکتی تھی
_________________________
وکیل بچارہ گھبرا کر کبھی اپنی ٹائی ڈھیلی کر رہا تھا ۔۔ تو کبھی اپنی پیشانی پر آیا پسنہ جو اتنی سردی میں بھی اسے آ رہا تھا ۔۔
وجہ سامنے لیٹا وجود تھا ۔۔ جس کی سبز آنکھیں ایکسرے کی طرح اس کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔
پہلے کی نسبت اب اس کے چہرے کا رنگ بھی بہتر تھا۔۔
” ہاں جی تو کیسے آنا ہوا ۔۔۔ ؟؟” ڈیرییک آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا ۔۔ انداز تیکھا تھا ۔۔
” وہ ۔۔ آپ کہ طبیعت معلوم کرنے آیا تھا۔۔ ‘ بچارہ وکیل تو یہاں آکر پھنس ہی گیا تھا ۔۔ جان نے اسے یہاں آنے کا کہا تھا اور کسی کو بھی کچھ بتانے سے منع کیا تھا ۔۔۔
” ایسے آتے ہیں کسی کی طبیعت معلوم کرنے ۔۔۔ ؟؟” وہ اب پھر اسے نیچے سے اوپر دیکھتے ہوے مشوک انداز میں اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔
دیکھنے کا انداز ایسا تھا جیسے شکاری اپنے شکار کا جائزہ کر رہا ہو ۔۔ اور ڈیرییک کی حرکتوں کا کسے نہیں پتا تھا ۔۔ ویسے بھی یہ وکیل بچارہ پہلے بھی اس کے ہاتھوں شکار ہوچکا تھا ۔۔ اس لیے اس کا گھبرانا جائز تھا ۔۔
” کیا مطلب ۔۔۔ ” وہ بچارہ ایک نظر اسے بھی دروازے کو دیکھتے ہوے بولا ۔۔ اور دل ہی دل میں جان کے جلدی آنے کی دعا کرنے لگا ۔۔۔
” اوہ ہ آپ کو نہیں پتا چلو کوئی بات نہیں ۔۔۔ اب میں بتا دیتا ہوں ۔۔۔ ” ڈیرییک کو وکیل کی یہ بھوکلائی حالت مزہ ے رہی تھی ۔۔
” نہیں ۔۔۔نہیں مجھے پتا ہے ۔۔۔ ” وہ جلدی سے بولا
” اچھا ۔۔ پھر دیں مجھے ۔۔ ” اس کی بات پر ڈیرییک کی آنکھوں میں شرارتی چمک آئی تھی ۔۔
” کیا ۔۔۔ ؟؟؟” وہ بچارہ بڑا پھنسا تھا ۔۔
” ابھی تو کہا کہ آپ کو پتا ہے ۔۔ پھر کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔ ” ڈیرئیک نے دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے مصنوعی ناراضگی سے پوچھا ۔۔
” ہاں ۔۔ مجھے پتا ہے ۔۔۔ ؟؟” وہ کسی طرح اس سامنے لیٹی بلا سے جان چھڑانا چاہتا تھا ۔۔
” تو پھر آگے بھریں نا ۔۔۔ اگر پتا ہے ۔۔ نہیں تو میں بتا دیتا ہو ۔۔۔جوئی مسلہ نہیں ” ڈیرییک اس کی حالت کا مزہ لے رہا تھا ۔۔
” سر مجھے کچھ نہیں پتا ۔۔ مجھے تو جان سر نے یہاں بلایا ہے ۔۔۔ ” آخر اس نے اس کے مطلب کی بات کر ہی دی ۔۔
” اچھا ریلکس یار میں نے کب کچھ کہا ۔۔ یہ جوس پیؤ ۔۔ ” اس کی بات پر وکیل نے گھبرا کر اس جوس کی جانب دیکھا جس کا ڈیرییک نے کہا تھا ۔۔
” ارے یار پیو ۔۔ کچھ نہیں ہے ۔۔ ” وہ اس کی بات پر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا کیونکہ وہ جوس اس کے پاس ہی ٹیبل پر پڑا ہوا تھا ۔۔
” اچھا اب یہ بتاو ۔۔ کہ جان نے کیوں بلایا یہاں ۔۔۔۔ ” اس کی جانب تھورا سا جھک کر آہستہ آواز میں پوچھا ۔۔
اس سے پہلے وہ بوکھلاہٹ میں مزید کچھ بولتا جان دروازہ کھول کر اندر آیا اس کے پیچھے ایما ۔۔۔
جسے دیکھ کر وکیل نے شکر کا سانس لیا ۔۔۔
ابھی وہ دنوں بیٹھے ہی تھے کہ بلیو شارٹ فراق جو گھٹنوں تک آتا ہے ۔۔اس کے ساتھ لونگ بوٹ اور کھلے بالوں کے ساتھ وہ خوشبو بکھیرتی اندر آئی ۔۔ اسے دیکھ کر ڈیرییک کھل اٹھا تھا ۔۔ اولیویا نے بھی اسے دیکھ کر سمائل پاس کی ۔۔ جس سے اس کے دائیں طرف ہلکا سا ڈمپل پڑا ۔۔ جس پر پہلے اس کا دیھان نہیں گیا تھا ۔۔
” ہاےےےےے آئیوری ون ۔۔ ” وہ ڈیرییک کے پاس کھڑی ہوے تو اس کی نظر کمرے میں موجود باقی افراد پر پڑی ۔۔
” ہاے ۔۔ ” اس کے ہائے کا جواب ایما نے دیا تھا جبکہ جان پیپر ریڈ کررہا تھا ۔۔ لیکن وہ وکیل دانت پوری نکالتے ہوے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ ایما کو وہ جان کی وجہ سے نہیں دیکھتے رہا تھا ۔۔
” ہائے گورجاوس ۔۔۔ ” ہاتھ اس کی جانب کرتے ہوے ہو چہک کر بولا اولیویا نے بھی اس سے ہاتھ ملایا ۔
( اس گورجاوس کے کچھ لگتے ہو لگتا ہے عزت راس نہیں آ رہی ۔۔ کوئی نہیں اس کو اچھی طرح عزت دوں گا ٹھیک ہونے کا بعد ہی دوں گا تاکہ کبھی بھول ناسکے ) ڈیرییک نے اس وکیل کو دیکھتے ہوئے سوچا۔۔
” یہاں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ ؟؟ ” اس نے سوال جان سے پوچھا تھا لیکن جواب ڈیرییک کی طرف سے آیا تھا ۔۔
” میری تیمارداری کے لیے جو لوگ خالی ہاتھ آرہے ہیں ان کی آخری وصیت لکھی جا رہی ہے ۔۔۔ ” وہ جلے کٹے انداز سے بولا تھا ۔۔ ظاہری سی بات ہے جب آپ کا کرش آپ کو چھوڑ سب سے ملے غصہ تو آے گا اور سونے پر سہاگا آپ سے جو بھی ملنے آئے خالی ہاتھ آۓ۔ ۔۔
اولیویا نے اسے گھوڑا ۔۔ جبکہ اس کی بات پر جان نے اپنی مسکراہٹ روکی ۔۔۔ کیونکہ اسے پتہ تو جو بات وہ کرنے والا ہے اس سے ڈیرئیک کا منہ پورا کھلنے والا ہے ۔۔۔اور پھر تھوڑے دیر بعد پھولنے والا ہے ۔۔
” میری اور ایما کی شادی ہونے والی ہے ۔۔ ” جان مسکراتی نظروں سے ڈیرییک کی جانب دیکھتے ہوے بولا ۔۔ جس کا منہ واقعی ہی کھل گیا تھا ۔۔ الیوویا آکسائیڈ ہوئی مگر ایما کا منہ فل بےزرای لیے ہوے تھا ۔۔ وہ بس پیپر ریڈ کر رہی تھی جو جان نے اسے پکڑا تھا ۔۔۔اس نے ان کی گفتگو میں حصہ نہیں لیا تھا ۔۔
” واہ ۔۔ تم دنوں کو مبارک ہو ۔۔لیکن اتنا پراؤٹ کیوں ۔۔ ” الیوویا نے خلوصِ دل سے مبارکباد دی
” فنکشن کروں کا بہت بڑا ۔۔لیکن پہلے اس زومبی کو ٹھیک ہونے دو ۔۔ ” جان نے پٹوں میں جکڑے ڈیرییک کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا ۔۔ آج کل اسے ڈیرئیک کو چھڑنے کا بہت مزہ آتا تھا ۔۔
ڈیرییک نے ناراض ہو کر منہ دوسری طرف لیا ۔۔
________________________
جان نے ایما کو الیوویا کے ساتھ بھیجا تھا چیک آپ کے لیے اور اب ڈیرییک کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔اسکے ہونٹوں پر ٹیس کرنے والی مسکراہٹ تھی۔۔۔ اب کہاں روز روز یہ موقعہ آتا ۔۔
” مبارکباد نہیں دو گے ۔۔۔ ” وہ چپس کے پکٹ کو پکڑتے ہوے بولا ۔۔ جسے ڈیرییک نے فوراً سے پہلے اس سے واپس لی اور ساتھ میں خونخوار گھوری سے اسے نوازا ۔۔
” ابھی میرے بازوں ٹھیک نہیں ۔۔۔ ورنہ بڑے زوروں کی مبارک باد دینے کو دل کر رہا ہے ۔۔”
وہی پیکٹ جو اس نے جان سے پکڑا تھا وہی کھول کر کھانا شروع کر دیا ۔۔
” میرے تو ٹھیک ہے نا۔ ۔۔۔ ” جان نے جواب میں اپنے بازؤں اس کے سامنے کرتے ہوے پوچھا ۔۔
” مقابلہ برابری کا ہوتا ہے ۔۔۔ “
” اووں ۔۔ ” ڈیرییک کے بات جان نے ہونٹ گول کیے ساتھ ایسا منہ بنایا جیسے ڈیرییک نے برے پتے کی بات بتائی ہو ۔۔۔
” جان میں بتا رہا ہو ۔۔ میرے بھی شادی تیرے فنکشن کے ساتھ ہے …” ڈیرییک نے جھنجھلا کر کہا ۔۔
” پہلے لڑکی کو تو راضی کر لو ۔۔۔۔ “
لیکن ڈیرییک کے جواب سے پہلے ہی الیوویا ایما کو لے کر اندر داخل ہوئی ۔۔
” یہ لیں ۔۔ مسٹر جان آپ کی وائف ۔۔۔ ” الیوویا مسکراتے ہوے ایما کو اس کے ساتھ کھڑا کر کر کے بولی ۔۔ جبکہ ایما نے جان کو دیکھنا ضروری نے سمجھا ۔۔اور اسے نظرانداز کرتے ڈیرییک کے پاس چلی گی ۔۔
اس کے اس طرح کے اٹیٹیوڈ سے جان کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔
وہ اب ڈیرییک سے اس کی طبیعت کا پوچھ رہی تھی اور خلاف معمول اور سنجیدگی سے بڑے سیدھے سیدھے جواب دے رہا تھا ۔۔
” اچھا اب میں چلتی ہو ۔۔۔ ” الیوویا دروازے کی جانب بڑھی ہی تھی کہ پیچھے سے ڈیرییک کی آواز سن کر اسے روکنا پڑا ۔۔
” جس مقصد کے لیے آئی تھی وہ تو پورا کر لو ۔۔” وہ اگ چہ باتیں ایما سے کر رہا تھا لیکن الیوویا کی طرف بھی اس کا پورا دیھان تھا ۔۔۔
” دیکھ تو لیا ہے ۔۔ تم ٹھیک ہو بس پھر میں بھی چلتی ہوں ۔۔ ” اس نے نظریں چراتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔۔
” نہیں تم اس لیے نہیں آئی تھی ۔۔۔ ” ڈیرییک اس کے چہرے کی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔
اس کی بات سن کا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔
دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجی
” اسی لیے ہی آئی تھی ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ اب میں چلتے ہوں ۔۔” اپنی گھبراہٹ پر قابو پاکر اس نے اور جانے کی کی ۔۔لیکن ڈیرییک کی اگلی بات سن کر اس کے قدم روک گیے اور اس نے آنکھیں زور سے بند کر لی ۔۔۔
جس بات کا سے ڈر تھا ہوہی ہوا ۔۔۔
” اگر تمہارا خیال ہے کے میں تمہارا وہ محبت گلے لگنا میرے لیے رونا ۔ اور وہ میرا سر اپنے گود میں رکھ کر میرے کان میں سرگوشی کرنا تم مجھے کچھ نہیں ہونے دو گی اور نہ ہی مجھے کھو سکتی ہو وہ بھول گیا ہو۔ ۔۔ تو سچی تمہارے لیے میں بھول بھی جاؤ گا ۔۔۔” وہ بڑی مصعوم شکل بنا کر بولا ۔۔
اس کے انداز پر ایما جو اس کے پاس کی کھڑی تھی اس نے بامشکل اپنی ہسی روکی وہ چونکی تب جب جان اس کا تھام کر کمرے سے باہر لے آیا تاکہ ان دونوں کو پرواسی مل جاے ۔۔
_________________________
” ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔ ” اس نے گاڑی ڈرائیو کرتے جان سے پوچھا ۔۔ جس کا چہرہ بلکل سنجیدہ تھا ۔۔
” گھر ۔۔۔ ” یک لفظی جواب ۔۔
ایما کو شدید نیند آ رہی تھی ۔۔۔ لیکن وہ آنکھیں پوری کھولے جاگنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
” اچھا آپ سے سوال پوچھوں ۔۔۔ ” وہ اپنے نیند بھاگنے کی خاطر اس خطرے سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔
” ہممم ۔۔۔۔ “
” آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی ۔۔۔۔ ؟؟؟” اس کے سوال پر جان نے وینڈ سکرین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا جو نیند سے بوجھل آنکھیں لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
” تاکہ تمہارے دل میں اپنی محبت ڈال سکھوں ۔۔۔ ” اس سے نظر ہٹا کر اب وہ دوبارہ سامنے دیکھ رہا تھا ایما کی یہ بوجھل مدہوش بھوری آنکھیں اس اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔۔
” کیوں ۔۔۔ ؟؟”
” کیونکہ میں چاہتا ہوں ۔۔۔”
” کیوں چاہتے ہیں ۔۔۔ ؟؟”
وقت آنے پر بتاؤں گا ۔۔۔ “
” ابھی کیا ہے ۔۔۔ ؟؟”
” ابھی وقت نہیں ہے ۔۔ “
“کیوں نہیں ہے ۔۔۔؟؟ “
اس پر انجکشن میں موجود نیند کی دوائی اثر کر رہی تھی اس لیے وہ اس سے اتنی سوال پوچھ رہی تھی ورنہ ہوش میں کہاں پوچھتی ۔۔۔
” اچھا میں کیسا لگتا ہوں ۔۔۔ “
” آپ ۔۔۔ بڑے ۔۔ بہت بڑے ۔۔ ” اس کے بچوں کی طرح منہ بنا کر بولنے پر وہ کھل کے ہنسا تھا ۔۔
” کوئی نہیں وہ وقت دور نہیں ۔۔ جب تم خود کہوں گی ۔۔ جان آپ بہت اچھے ہیں ۔۔ ” ہستے ہستے وہ ایکدم خاموش ہوا اور پراسرار انداز میں بولتے ایما کو دیکھا جو اب خوابوں کی وادی میں جا چکی تھی ۔۔
منزل پر پہنچتے ہی اس نے گاڑی روکی اگر۔۔۔۔
” اٹھو ۔۔ گھر آگیا ۔۔ ” اس کا کندھا ہلا کر اس نے اسے جگانے کی کوشش کی ۔۔
وہ تھورا سا ہلی مگر اٹھی نہیں ۔۔۔
جان گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اب وہ نہیں اٹھے گی ۔۔
اس لیے اسے بازوں میں اٹھا کر وہ اندر داخل ہوا ۔۔ اور لاونج میں پڑے صوفے پر اسے لٹایا ۔۔اور ونہی پنجوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔
اس کی نظر ایما کے چہرے سے پر تھی ۔۔ جو سوتے ہوئے مصعوم اور بےزر لگ رہی تھی ۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ لال ڈورں والی بھوری آنکھیں آئی ۔۔ دل میں خواہش جاگی ۔۔
جس پر اس نے عمل کرتے ہوے اس کی دنوں بند آنکھوں پر دھیرے سے اپنے لب رکھے ۔۔
پھر آنکھوں سے ہوتی اس کی نظر اس کے نازک ہونٹوں پر گی ۔۔
یہ لڑکی جب جب اس کے سامنے آتی تھی ۔۔ اس کا دل بغاوت پر آجاتا تھا ۔۔ ایسا اس کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ۔۔
اب وہ اس سے پہلے وہ مزید کوئی گستاخی کرتا اس کا فون بجا ۔۔ جس سے وہ ہوش کی دنیا میں آیا اور جلدی سے اس کے پاس سے اٹھا بلکل گھر سے باہر نکل آیا ۔۔
” مجھے اس لڑکی سے بچ کر رہنا ہوگا ۔۔ ” اس نے جیسے خود کو نصیحت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
