Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17

پارک سے آنے کے بعد حور کتنی دیر اپنے اور ایما کے درمیان ہوئی باتیں سوچتی رہی ۔۔ایما کے لیے یہ کہنا آسان تھا کہ حور آہل کو چھوڑ دے ۔۔
لیکن حور کے لیے یہ بات سوچنا بھی جان لیوا تھی ۔۔ آہل اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا جس کو اس نے حد سے زیادہ چاہا اور محبت کی تھی ۔ یہ سب نکاح کے بولوں کا ہی جادو تھا ۔۔ آہل کی شادی کی خبر سن کر وہ ٹوٹ ضرور گئی تھی ۔۔ لیکن پھر وقت اور اپنے رب کی مدد سے اس نے خود کو سنبھال لیا۔۔۔ اس نے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر آہل کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ آگے چل کر یہ رشتہ کس موڑ پر آ جائے گا ۔۔وہ یہ بات جانتی تھی کہ اس کی جگہ کوئی اور عورت آہل کی زندگی میں لے چکی ہے اور اس سے اس کا بیٹا بھی ہے ۔۔کیا وہ کبھی اس بچے کو ماں کا پیار دے پائے گی ۔۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس کی ماں نے اس کی جگہ لی یا وہ بھی عام عورتوں کی طرح اس سے بدلہ لے گی ۔۔ انہی سوچوں میں گم جب اس کی نظر بیڈ کے سامنے ڈرسنگ ٹیبل پر پڑی تو اس نے حیرت سے اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔
اسے معلوم نہیں ہوا کہ کب اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہوۓ ۔۔
باتھ روم میں جاکر اس نے چہرے پر پانی پھیرا ۔۔ واپس آئی تو اس کی نظر گھڑی پر پڑی ۔۔
اس نے ابھی سینٹر بھی جانا تھا ۔۔ اور وقت پہلے ہی اوپر ہو گیا تھا ۔۔ اس نے جلدی سے حجاب لیا ۔۔۔ اور سنٹر کے لیے نکل گئی کچھ کھانے کا وقت تھا نہیں ۔۔ رخسار بیگم جب سے شادی کی بات پکی ہوئی تھی شاپنگ میں مصروف تھی ۔۔ جس کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے علی کھیلنے چلا گیا تھا ۔۔
اس نے میسج کر کے علی کو اپنے جانے کا بتایا اور چل پڑی ۔۔ وہ اپنی سوچوں میں تیز رفتاری سے کب سڑک پر چلنے لگی اس معلوم نہیں ہوا ۔۔ جب معلوم ہوا تو دیر ہو چکی تھی ایک بلیک گاڑی اس کی جانب آ رہی تھی فاصلہ بہت کم رہ گیا تھا ۔۔۔ حور کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے ۔۔
حنان جو جعفر صاحب کے ساتھ میٹنگ میں گیا تھا اور اب واپس آ رہا تھا ۔ گاڑی کی رفتار اس نے تیز رکھی تھی ۔۔ اس نے جب ٹرن لیا تو سامنے ہی ایک لڑکی منہ نیچے کیے اس کے گاڑی کے بلکل سامنے آ رہی تھی ۔۔ اس نے دو تین بار ہارن دیا ۔۔ لیکن وہ لڑکی شاید کچھ زیادہ ہی سوچوں میں گم تھی ۔۔ جب چوتھی بار اس نے ہارن دیا تو اس لڑکی نے سر اٹھایا۔۔
اس کا چہرہ دیکھ کر وہ چونک گیا ۔۔
” حور۔۔ “
حنان نے گاڑی روکنے کی پوری کوشش کی لیکن گاڑی رکتے رکتے بھی حور کو لگ چکی تھی ۔۔
” اوہ شٹ ۔۔” حنان سیٹ بیلٹ سے خود کو آزاد کر کے گاڑی کا دروازہ کھول کر جلدی سے حور تک پہنچا ۔۔
” حور ..” حنان نے اس کے گال تھپتھپاۓ۔۔ مگر اسے ہوش نہیں آیا وہ یونہی سڑک پر بےسدھ پڑی ہوئی تھی ۔۔
آس پاس راہ گزر کا گھیرہ ہوگیا تھا۔۔
حنان کو اس صورتحال سے کافی الجھن کو رہی تھی ۔۔ اسے معلوم تھا کہ حور ایما کی زندگی میں کتنی اہمیت رکھتی ہے ۔۔ اگر حور کو کچھ ہوا تو ایما اسے کبھی معاف نہیں کرے گی ۔۔
حنان نے اس کی نبضیں پکڑ کر چیک کی ۔۔ وہ آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔۔ باقی بظاہر اسے کوئی چوٹ نہیں لگی تھی ۔۔ حنان نے شکر کا سانس لیا ۔۔ اور حور کو بازوں میں اٹھا کر گاڑی کی بیک سیٹ میں لٹیا۔۔اور گاڑی ہاسپیٹل کی طرف موڑ دی ۔۔۔
” ٹیشن کی کوئی بات نہیں انہوں نے کچھ کھایا نہیں تھا ۔۔ اور کچھ خوف کی وجہ سے یہ سب ہوا یہ باقی سب ٹھیک ہے ” چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے اسے تسلی دی ۔۔۔
” اور ان کو ہوش کب تک آئے گا ۔۔ ” ڈاکٹر کی بات سن کر اس کو اطمینان ہوا ۔۔
” کچھ ہی دیر میں ان کو ہوش آ جائے گا ۔۔ ” ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں اس بتا کر کے جا چکا تھا ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کے جانے کے بعد اس نے حور کے فون سے اس کے گھر انفارم کیا ۔۔۔ اور وہیں رک گیا ۔۔۔
” حنان بھائی ۔۔؟؟ ” علی بے حواسی سے وہاں پہنچا ۔۔ وہ ایک دو بار پہلے بھی حنان سے مل چکا تھا اس لیے اسے حنان کو پہچاننے میں مشکل نہیں ہوئی ۔۔
” آپی کیسی ہیں ۔؟؟ ” علی اس کے پاس پہنچ کر اس کا کا بازوں ہلاتے ہوئے بولا۔۔
اس وقت وہ کہیں سے بھی وہ شرارتی لڑکا نہیں لگ رہا تھا ۔
” وہ ٹھیک ہے کچھ دیر میں اسے ہوش آجاۓ گا تو لے جا سکتے ہو ۔۔ میں نے پے مینٹ کر دی ہے ۔۔ اب میں چلتا ہوا۔۔۔ ” حنان اس کو تسلی دے کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
جبکہ علی حنان کے بتاۓ ہوئے کمرے میں چلا گیا جہاں حورین تھی ۔۔
________________________
ایما نے ایک بار پھر جان کا آج کا شیڈول دیکھا ۔۔۔جو اس نے اپنے پاس رکھی چھوٹی سی ڈائری میں لکھا ہوا تھا ۔۔
اب وہ بور ہو رہی تھی اس کا یہاں کچھ خاص کام نہیں تھا ۔۔ جب کہ جان کمیرہ مین کو آنگل سمجھا رہا تھا۔۔
اس نے موبائیل نکالا اور حور کا نمبر ڈائل کیا ۔۔ اس کا ارادہ آج جو ہوا وہ حور کو بتانے کا تھا ۔۔
بیل جا رہی تھی ۔۔۔
” ہیلو حور ۔۔ پتا ہے آج کیا کیا سر نے ۔۔۔” کال اٹینڈ ہوتے ہی ایما نے دوسری طرف بولنے کا موقعہ دیے بغیر آج جو ہوا وہ حور کو بتانے لگی ۔۔
” اس کی ہمت کیسے ہوئی یہ کرنے کی ..؟؟” حنان جو حور کا فون واپس کرنا بھول گیا تھا ۔۔ ایما کی کال آنے پر اس نے اٹینڈ کر لیا کہ اسے بتا دے کہ حور کا فون اس کے پاس رہ گیا ہے ۔۔ لیکن اس کے بتانے سے پہلے جو ایما نے بتایا اس نے اس کا دماغ گمھا دیا تھا۔۔
” حنان ۔۔۔!! ” ایما جو حور کی طرف سے جواب کی منتظر تھی حنان کی آواز سن کر حیرت زدہ رہ گی ۔۔
” میں نے ۔۔ ” ابھی حنان اتنا ہی بولا تھا۔۔ کسی نے ایما کے ہاتھ سے موبائل لے کر کان سے لگایا۔۔
ایما نے الجھ کر دیکھا منہ موڑ کر جہاں جان چہرے پر بھر پور سنجیدگی سجائے اس کا موبائل کان سے لگائے کھڑا تھا ۔۔ اس کی گرفت موبائل پر بہت مضبوط تھی ۔۔
” ایما میں نے کہا تھا کہ تم یہ جاب چھوڑ دو۔۔ وہ شخص خطرناک ہے ۔۔ میں نے بتایا تھا نا اس کے قتل کا ۔۔” حنان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح وہ ایما کو جان سے دور کر لے ۔۔
جبکہ جان سپاٹ چہرے کے ساتھ اس کی اپنے بارے میں کی جانے والی ساری بکواس سن رہا تھا ۔۔۔
” ہوگیا تمہارا..” اس کے چپ ہوتے ہی وہ ٹھنڈے انداز میں بولا ۔۔
” ایما کہاں ہے ۔۔۔۔ اس کا فون تمہارے پاس کیا کر رہا ہے .؟؟؟ ” حنان کو اور تپ چڑھی ۔۔۔
جان کچھ نہیں بولا ۔۔۔ وہ بس حنان کے لہجے میں محسوس کی جانے والی بےچینی سے محفوظ ہو رہا تھا ۔۔
” ڈیم اٹ۔۔ ایما کہاں ہے۔۔ کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ ۔۔۔ اگر اسے ایک بھی آنچ آئی ۔میرا وعدہ ہے ۔۔ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔” حنان بلکل ہی آوٹ اوف کنٹرول ہو گیا تھا ۔۔ اس کے منہ میں جو آرہا تھا وہ بولی جا رہا تھا ۔۔
” موت سے مجھے ڈر نہیں لگتا ۔۔ اس لیے تم نے جو کرنا ہے کر لو ۔اور میں نے جو کرنا ہے میں تو وہ کر کے رہوں گا۔۔ اوہ ڈونٹ وری میرا تیسرا قتل تم واقعی میں بہت پسند کرو گے ۔۔ ” جان کا سرد طنزیہ لہجہ اس کو سن کر چکا تھا ۔۔۔
جبکہ ایما کو بس قتل کے علاؤہ کوئی بات سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔
” تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ۔۔ ” حنان وارنگ دینے والے انداز سے بولا لیکن اس کے لہجے میں موجود لرکھراہٹ جان نے اچھی طرح محسوس کی تھی ۔۔۔
” جب میں کروں گا تب دیکھ لینا۔۔۔ ” یہ کہہ کر جان نے کال بند کر دی۔ اسے آپنے اندر سکون اتراتا محسوس ہوا تھا ۔۔
اس نے ایما کی طرف دیکھا جس کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا اور وہ پوری آنکھیں کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔اس کے ہونٹ بھی نیلے پڑ رہے تھے۔۔ اور جسم ہلکے سے کانپ رہا تھا۔۔۔
اب پتا نہیں یہ سردی کا اثر تھا ۔۔کہ خوف کا غلبہ۔۔
جان گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اپنی جیکٹ کی زپ کھولی ۔۔۔
اس کی توجہ اپنی جانب محسوس کر کے ایما نے آنکھیں اس پاس گھمانا شروع کر دی ۔۔
وہ جو شروع سے بہت بولڈ تھی ۔۔ لڑکوں کے ساتھ رہتی تھی ۔۔ سب کو منہ توڑ جواب دیتی تھی ۔۔ جان کے سامنے پتہ نہیں اسے کیا ہو جاتا تھا۔۔۔
جان نے بڑی دلچسپی سے اس کی آنکھیں چرانے والی ادا کو دیکھا۔۔۔اور اپنی بلیک لیدر کی جیکٹ اس کے کندھے پر ڈال دی۔۔۔ ایما اس کے پاس آجانے سے ڈر کر اچھلی ۔۔ لیکن پھر اپنے آس پاس Caron Poivre کی خوشبو سونگھ کر وہ سیدھی ہوئی تو خود کو جان کی جیکٹ میں پاکر حیرت سے اس کی جانب دیکھا ۔۔۔
( کیا تھا وہ شخص۔۔ اسے بلکل سمجھ نہیں آیا )
” ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔ بہت ہنڈسم لگ رہا ہوں کیا ۔۔ ” جان ایما کے بال اس کے چہرے سے پیچھے کرتے ہوئے نرمی سے بولا جو بار بار تیز ہوا کی وجہ سے اس کے چہرے پر آ رہے تھے ۔۔۔۔
ایما کو بےساختہ اپنی اور جان کی پہلی ملاقات یاد آگی۔۔ تب بھی جان نے کچھ ایسے لفظ ہی بولے تھے ۔۔
ایما نے جلدی سے نظروں کا زاویہ تبدیل کیا۔۔۔پتا نہیں کیوں لیکن جان کی نظروں کی تپش سے اسے اپنے گال لال ہوتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔
” آج نہیں کچھ کہو گی ۔۔۔” جان وہیں سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔ جبکہ باقی سارے اب چیزیں سمیٹ رہے تھے ۔۔
ایما نے محسوس نہیں کیا لیکن جان اس کا موبائل اپنے پینٹ کی جیب میں ڈال چکا تھا ۔۔
” ارے ارے ۔۔۔ میں ڈسٹرب تو نہیں کیا ۔۔ ؟؟” ڈیرئیک ڈریس چینچ کر کے ان کی جانب آتے ہوئے ڈرامائی انداز میں بولا۔۔
” وہ تو تم جبکہ آئے ہو تب کہ ہیں ہم ۔۔ ” جان نے بھی آخر اپنی نظریں اس سے ہٹا کر ڈیرئیک کی جناب موڑ لی ۔۔ایما نے شکر کا سانس لیا اور وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی۔۔
” خیر تو ہے جناب ۔۔۔ بڑی میٹھی میٹھی نظروں سے لڑکی کو دیکھ رہے تھے ۔۔ ” ڈیرئیک اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔۔
” تو تم کیا چاہتے ہو کہ تمہیں دیکھوں ۔۔۔ ؟؟” جان نے سوالیہ نظروں سے اس ڈھیڈ ہڈی کو دیکھا ۔۔۔
” مجھے تو کوئی عتراض نہیں ۔۔ تم مجھے دیکھنا اور میں تمہارے طرف سے ایما کو دیکھ لوں گا “
” ڈیرئیک ۔۔۔۔ ” جان نے تنبیہ کری نظروں سے اسے دیکھا۔۔
” کیا ڈیرئیک ۔۔ میاں جو بات ہے وہ مان کیوں نہیں لیتے۔۔۔ ” ڈیرئیک بھی چڑ کر بولا۔
جان اس کو جواب میں کچھ کہتا اس سے پہلے اس کی پینٹ میں موجود ایما کا فون بجنے لگا۔۔۔ اس نے نکال کر دیکھا تو حنان کی پھر سے کال آ رہی تھی ۔۔ جان نے کال کینسل کردی۔۔
” ایما کا فون ہے نا ۔۔؟؟” ڈیرئیک فوراً پہچان گیا ۔۔
” تم یہ چھوڑ اور مجھے یہ بتاؤ کہ یہ شوٹنگ کے دوران کیا تم لوگ بچوں والی حرکتیں کر رہے تھے ۔۔ ” جان نے بڑی ہوشیاری سے موبائل واپس پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے بات کا روخ تبدیل کیا ۔۔
” اب اپنے فوچر وائف کو تنگ نہیں کروں گا تو کسے کروں گا۔۔۔ ” ڈیرئیک کندھے آچکا کر بولا۔۔
” مطلب تم سریس ہو۔۔۔ ؟؟؟”.
” ہاں ۔۔ مجھے وہ پسند ہے ۔۔ یہ ماننے میں مجھے کوئی عار نہیں ۔۔ ” وہ درپردہ جان کو۔سنا رہا تھا۔۔
ایک بار پھر فون بجا ۔۔ جان نے غصے سے موبائل نکالا اس کا خیال تھا کہ پھر سے حنان ہوگا۔۔ لیکن موم کالنگ دیکھ کر اس کے ماتھے پر وٹ آے ۔۔۔
اس نے کال اٹینڈ کر کے کان کے ساتھ لگائی ۔۔۔
دوسری طرف سے پتا نہیں کیا کہا گیا کہ جان پھر چونک گیا ۔۔ اس کا یہ چوکنا ڈیرئیک نے بھی محسوس کیا تھا۔۔
” کیا ہوا۔۔۔ ؟؟ “
” میں آ کر بتاتا ہوں ۔۔ فلحال تم ایما کو بھیجوں میں گاڑی میں اس کا انتظار کر رہا ہوں۔۔” وہ تیزی سے بول کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔
تھوری دیر بعد ایما جان کے ساتھ گاڑی میں تھی ۔۔۔ جان اتنی سپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔۔۔ کہ ایما کو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں بج ہی نہ جائے ۔۔
” سر ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔۔ ؟؟” جان نے جب گاڑی ہاسپیٹل کے سامنے روکی تو ایما نے الجھ کر اس سے پوچھا ۔۔ جواب میں جان نے کچھ نہیں کہا ۔۔ بس اس کو گاڑی سے اترنے کا اشارہ کر کے خود بھی اترا اور اس کا ہاتھ تھام کر اندر داخل ہوا۔۔
ایما کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکا ۔۔
ہسپتال سے تو اسے ویسے ہی ڈیڈ کی ڈیتھ کے بعد وحشت ہوتی تھی ۔۔
“اوہ ایما ۔۔ شکر ہے تم آگی۔۔۔” اس کے اندر داخل ہوتے ہی مسسز وائز جو ان کی ہمسائی تھی وہ بولی ۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔سب ٹھیک تو ہے ۔۔؟؟” ایما کے دماغ میں جو خیال آ رہے تھے وہ ان کو جٹک کر ڈرتے ہوئے بولی ۔۔
” تمہاری مام کی کنڈیشن سہی نہیں ۔۔ میں نے کھڑکی سے ان کو اپنے گھر کے سامنے گرتے دیکھا تھا ۔۔ وہ شاید کہیں جانے لگی تھیں ۔۔ تو میں ان کو یہاں لے آئی ۔” ایما کا اگر جان نے ہاتھ نہ پکڑا ہوتا تو اس نے گر جانے تھا ۔۔۔
” کہاں ہیں وہ اس وقت ۔۔؟؟” جان نے ایما کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سنبھالا جو گم سم سی ہوگی تھی پھر عورت کی طرف متوجہ ہوا ۔۔ جو ستائشی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جان کے لیے یہ ستائشی نظریں عام بات تھی ۔۔
” آئیں میرے ساتھ ۔۔۔ ” وہ عورت انہیں لے کر روم میں چلی گئی ۔۔ جہاں ازابیلا تھی ۔۔
” مام۔۔” ایما جب کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی نظر اپنے ماں کی طرف گئی جو مشنوں کے ذریعے سانس لے رہی تھی ۔۔
ایما کی آواز سن کر انہوں نے آنکھیں کھولی اور ہاتھ کے اشارے سے اسے پاس بلایا۔۔۔
جان اسے چھوڑ کر پتا نہیں کہاں جا چکا تھا ۔۔ ایما نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ۔۔۔ اس کا سارا دھیان اس وقت ازابیلا کی طرف تھا ۔۔
اس نے ازابیلا کے پاس جا کر اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں کر کے اس پر بوسہ دیا۔۔۔
” مام سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔” وہ ان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔۔ ہلانکہ دل اس کا کسی انہونی ہونے کا پتا دے رہا تھا۔۔
” ایما ۔۔ ” ازابیلا اپنے منہ پر سے ماسک اتارتے ہوئے بولی ۔۔ ایما نے روکنا چاہا مگر انہوں نے اشارے سے منع کردیا۔۔
اس دوران روم کا دروازہ کھول کر کوئی اندر آیا۔۔ مگر ایما کو پتہ نہیں چلا۔
” ایما۔۔۔ پیٹر کو ڈھونڈ کر ۔۔ اس کا خیال ۔۔ رکھنا ۔۔۔ تم دونوں ہی ۔۔ایک دوسرے کا سہارا بننا۔۔” ازابیلا کو بولنے میں تکلیف ہو رہی تھی پھر بھی وہ بول رہیں تھیں ۔۔
ایما کی آنکھوں میں ان کی باتیں سن کر آنسو آگے جنہیں وہ پیچھے دھکیل کر ان سے بولی۔
” مام ہم مل کر پیٹر کو ڈھونڈیں گے ۔۔ آپ بلکل ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔ ” ایما نے ان کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر بولی ۔۔ آیا جیسے وہ ابھی کہیں چلی جائے گیں ۔۔
” وعدہ کرو۔۔ تم اپنا خیال رکھو گی ۔۔ اور پیٹر کا بھی ۔۔ “
” مام وعدہ ۔۔ کرتی ہوں میں ۔۔ ” ایما کی بات سن کر ان کے چہرے پر سکون ایا۔۔۔اس وقت ڈاکٹر اور نرسیں اندر آئے اور ازابیلا کو لے کے ICU کی طرف چلے گئے۔۔۔
ایما نے نوٹ نہیں کیا لیکن دروازہ کھول کر اندر آنے والا جان تھا ۔۔ جان نے ایما کو باہر رکھی چیئر میں بیٹھایا اور اس کے سامنے سینڈ وچ کیا۔۔
” نہیں ۔۔۔ ” ایما نے روتے ہوئے سر نہ میں ہلایا۔۔۔۔
” کھا لو۔۔ ورنہ میں زبردستی کھلاؤ گا۔۔ جان کو سختی کرنے پڑی کیونکہ اس کو پتا تھا اس کے بغیر گزرا نہیں تھا ۔۔۔
ایما نے اس سے سینڈوچ لیا اور چھوٹے چھوٹے بائٹ لے کر کھانے لگی ۔۔
جان اس کو کھاتے دیکھ کر ریلکس ہوا اور اس کے پاس ہی بینچ پر بیٹھ گیا ۔۔۔
ایما کی اور ازیبلا کی باتیں سن کر اس کو اپنی مام کی یاد آگئی تھی ۔۔ وہ آنکھیں بند کر کے سر دیوار سے ٹکا کر بیٹھ گیا ۔۔۔
بند آنکھوں کے سامنے منظر سا چلنے لگا تھا۔۔
” جہان ۔۔۔ آپ گڈ بواۓ کی طرح یہاں روکو اور ڈول کا دھیان رکھنا ۔۔ میں ابھی آپ کے لیے آئسکریم لے کر آتی ہو۔۔ ” ایوا جان کے سر کے بال پیار سے بگاڑٹے ہوئے بولی ۔۔
” بٹ مام میں بھی جانا ہے ۔۔ ” چھوٹے سے جان نے منہ بسورا۔
” پھر ڈول کہاں جائے گی۔۔ ” ایوا نے ایک بار پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔
” ڈول بھی ہمارے ساتھ جائے گی نا۔۔ ” جان نے جھجھک کر حل پیش کیا۔۔
” آپ یہی روکو ۔۔ میں آتی ہوں ۔۔” اب کی بار ایوا سختی سے بولی۔
” مجھے آپ نہیں پسند ” اعلان کیا گیا۔۔
” افف یہی روکو ۔۔ اور ڈول کا خیال رکھو میں آئی ۔۔ ” ایوا کہہ کر آگے چلنے لگی ۔۔
سامنے روڈ کراس کر کے وہ دکان تھی جہاں کی اسکرایم اس نے لینی تھی ۔۔ وہاں کافی رش بھی تھا اس لیے ایوا اسے ساتھ لے کر جانے سے کترا رہی تھی ۔۔
ایوا کے جاتے ہی جان نے بے بی کاٹ میں لیٹی اپنی بہن کو دیکھا جو پینک چھوٹی سی فراق میں ہاتھ ہلا ہلا کر کھیل رہی تھی ۔۔اس نے بے بی کاٹ ایوا کے پیچھے لگا کر خود بھی چلنے لگا ۔۔
ابھی اشارہ بند ہی تھا اور ٹرافک زروں سے گزر رہی تھی ۔۔ کہ ایوا کو پیچھے سے کسی نے دھکا دیا اور وہ سامنے سے گزرتی تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا کر گری ۔۔ گرتے ہی اس کے سر سے اور ناک سے خونے نکلنے لگا ۔۔ جو سڑک پر پھیلنے لگا تھا ۔۔
جان نے بے یقین نظروں سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا جس سے اس نے اپنی ماں کو دھکا دیا تھا ۔۔
” جان ..”
” جان “
کوئی اس کا کندھا ہلارہا تھا ۔
” ہاں ۔۔” جان نے آنکھیں کھولی تو سامنے ڈیرئیک اس پر جھکا اس کا کندھا ہلا رہا تھا ۔۔
” تم کب آئے ۔ ۔۔” جان نے منہ پر ہاتھ پھیرا۔۔
” تمہارے فون کے فوراَٰ بعد میں نکل پڑا تھا ۔۔ ساتھ اولیویا کو بھی لے آیا ” ڈیرئیک اس کے پاس ہی بینچ پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔۔۔
جان نے گردن موڑ کر دیکھا جہاں الیویا ایما کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔ ایما اب پہلے سے بہتر لگ رہی تھی ۔۔
” ڈاکٹر کیا کہہ رہیں ہیں۔۔۔ ؟ “
” 10٪ چانس ہے بچنے کے ۔۔ وہ بھی اس صورت میں کہ میموری لوس ہونے کا خطرہ ہے ۔۔۔” جان نے بےتاثر انداز میں اسے بتایا ۔۔۔
” اوہ ۔۔۔ “
” میں آتی ہوں ۔۔” ایما کسی خیال کے آتے ہی ایکدم سے اٹھی ۔۔۔
” کہاں ” الیویا اس کے ایکدم اس طرح اٹھنے سے پریشان ہوئی تھی۔۔
” واش روم ” ایما کہہ کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔ در اصل وہ باتھ روم نہیں فیس پتا کرنے گئی تھی ۔۔
ریسیپشن سے جس اس نے فیس کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ جمع ہوچکی ہے۔۔
“کس نے کی۔۔” ایما نے الجھ کر پوچھا
” آپ کے ساتھ جو ہنڈسم تھا اس نے۔۔۔” ایما کو زرہ اندازہ نہیں تھا کہ جان نے جمع کر وائی ہے ۔۔
اس نے انفورمیشن کے لیے رقم پوچھی کتنی کے تو اس کے ہوش اڑ گے ۔۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ رقم جمع کر کے جان کو واپس کر دے گی ۔۔ لیکن جتنی رقم رسپشن نے بتائی اتنی تو وہ سالوں لگا دیتی تو بھی جمع نہ کر پاتی۔۔
یہ ایک پراویٹ ہسپتال تھا۔
وہ گم سم سی واپس آئی تو دیکھا ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر تھا ۔۔ لال بیتی بند تھی ۔ جس کا مطلب تھا کہ آپریشن ختم ہو چکا ہے ۔۔
وہ تینوں افسوس سے ڈاکٹر کی بات سن رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ ایما کو کیسے بتائیں گے ۔۔
لیکن ان کو ضرورت ہی نہیں پڑی اور کچھ گرنے کی آواز پر انہوں نے مڑ کر دیکھا جہاں ایما فرش پر بے سد گری ہوئی تھی ۔۔ شاید گرتے وقت اس کے سر پر چیئر لگی تھی جس کی وجہ سے اس سر سے خون نکل رہا تھا ۔۔
جان پتھرائی نظروں سے یہ دیکھ رہا تھا اس کو یوں لگا جیسے ایوا کی طرح ایما بھی ۔۔
نہیں اس کے آگے وہ سوچ نہیں سکا ۔۔
ڈاکٹر ایما کو اندر لے کر جا چکے تھے ۔۔۔
جبکہ جان کی نظریں اب بھی اس جگہ پر تھی جہاں سے کچھ دیر پہلے ایما تھی ۔۔ پر اب وہاں صرف خون تھا ۔۔
_______________________________
جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *