Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09

وہ باہر نکلی تو اس کی نظر سامنے گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑے آہل پر پڑی ۔۔۔
لمبا قد جو براؤن لیدر کی جیکٹ اور لائٹ براؤن پینٹ میں مزیدنمایا ہو رہا تھا ۔وہ پہلے کی نسبت اور وجیہ ہو گیا تھا ۔ہلکی سی بریڈ اور آنکھیوں پر بلیک گوگلز لگائے . دونوں ہاتھوں کو پینٹ کی جیب میں ڈالے وہ اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
اس کو دیکھتے ہی حور کا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔۔
آہل نے جب اسے آتا دیکھا تو جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔
” مسں حور _ “
حور جو گاڑی کا دروازہ کھولنے ہی لگی تھی اپنے نام کی پکار سن کر مڑی ۔۔۔۔
اور سوالیہ نظروں سے پیچھے موجود شخص کو دیکھا ۔۔ وہ حنان تھا
” کیا ایما اندر ہی ہے ؟ میں اس کے گھر گیا تو وہ وہاں بھی نہیں ۔۔ نہ وہ فون ۔۔۔ “
“وہ اندر ہی ہے ” حور نے اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی بیچ میں ٹوک کر اس کو جواب دیا۔۔۔
گاڑی میں بیٹھے آہل نے بھی یہ منظر دیکھا لیکن دروازہ اور گاڑی کی کھڑکی بند ہونے کی وجہ سے وہ ان کی باتیں نہیں سن سکا ۔
” اوکے شکریہ”
حور نے اس کے شکریہ کا کوئی رسپانس نہیں دیا اور گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔۔
اس کے بیٹھتے ہی آہل نے اتنی سپیڈ سے گاڑی چلائی کہ حنان پیچھے نہ ہوتا تو ضرور اس کا پاؤں گاڑی کے نیچے آ جانا تھا ۔۔۔۔
“اوپس ۔۔۔ اینگری مین “
وہ خود سے بولا اور اندر چلا گیا ۔۔۔ اسے ایما کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا۔۔ _______________________
راستہ خاموشی سے کٹا تھا ۔۔ آہل نے ایک بار بھی اس پر نظر نہیں ڈالی بس سنجیدگی سے گاڑی چلاتا رہا جیسے وہ گاڑی میں اکیلا ہو۔۔
حور کو اس کا یہ انداز بہت کھلا تھا ۔۔۔اس کو رخسار بیگم کی بات بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ انہوں نے کیوں اس کو آہل کے ساتھ آنے کا کہا تھا؟؟ ۔۔۔ ایسے کون سی بات تھی جو وہ گھر نہیں کر سکتا تھا؟؟ ۔۔۔
ان باتوں کے جواب اس کے پاس نہیں تھے اور جس کے پاس تھے وہ تو تب سے خاموش تھا۔۔
آہل اس کو لے کر پارک کے قریبی ایک رسٹورانٹ میں لے آیا ۔۔۔
ان کے چیئر پر بیٹھتے ہی ایک ویٹر پھرتی سے ان کی جانب بڑھی تھی ۔۔۔
” جی سر ” وہ آہل کی جانب ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ صرف وہی نہیں رسٹورانٹ میں موجود اکثر وٹریس اور لڑکیاں مڑ مڑ کر آہل کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔
حور کو پتا نہیں کیوں لیکن ان سب کے اس طرح آہل کو دیکھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔
” بلیک کافی “
آہل نے اپنا آڈر کروا کر اس کی جانب دیکھا ۔
” سیم “
وہ بس اس ویٹر کو وہاں سے بھیجنا چاہتی تھی اس لیے اس نے بھی جلدی میں بلیک کافی منگاوا لی جو کہ اس کو زہر لگتی تھی۔
” اینی تھنگ الیس ” وہ آہل کی جانب دیکھتے ہوۓ میٹھے لہجے میں بولی ۔۔
” ناتھنگ ۔۔ یو مے گو ناؤ ” آہل کے بولنے سے پہلے حور نے اس کو چلتا کیا ۔۔۔
ویٹر نے غصے حور کو دیکھا اور پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئ ۔۔۔
ویٹر کے جانے کا بعد حور کا دھیان آہل کی طرف گیا جو گہری نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
آہل کو حور کا اس طرح خود کے لیے پوزاسیو ہونا اچھا لگا تھا ۔۔
حور نے صرف ایک پل اس کی جانب دیکھ سکی اگلے ہی پل وہ اپنی نظروں کو جھکانے پر مجبور ہو گی ۔۔۔اس کو اپنی پلکوں بھاری ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
آہل کافی دلچسپی سے اس کی جانب دیکھتا رہا ۔۔۔ جس کے گال گلابی سے ہو رہے تھی ۔۔
لیکن پھر کسی خیال کے آتے ہی اس کے چہرے پر سختی سی آگی۔۔۔۔
اس نے گلہ کھنکارتے ہوے بات کا آغاز کیا ۔۔
” دیکھوں حور میں صاف اور سیدھی زندگی گزارتا ہوں ۔۔اور جھوٹ مجھے زہر لگتا ۔۔۔ اب جبکہ تم میری زندگی میں شامل ہو ہی گی ہو ۔ تو میں چاہتا ہوں کہ تم کچھ بھی مجھ سے نہ چھپانا ۔”
حور نے الجھ کو اس کی جانب دیکھا جو کھڑکی سے باہر پتا نہیں کیا دیکھ رہا تھا۔
” میں سمجھی نہیں ۔۔۔۔؟ “
آہل اپنے جبڑوں کو بھینچ لیا ۔۔۔
” اگر تمہارا کسی سے کوئی بھی افیئر ۔۔۔۔رہا ہے تو مجھے ابھی بتا دو “”
اپنی بات مکمل کر کے اس نے حور کی طرف دیکھا جو بے یقینی سے پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” آپ کو میرے کردار پر شک ہے ؟؟”
حور کو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔ اس نے بہت مشکل سے خود کو رونے سے روکا ہوا تھا۔۔۔
” اس میں اتنی آور ریکیٹ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔ تم لنڈن میں رہتی ہو ۔۔ اور یہاں افیئرز بہت معمولی سی بات ہے “
آنکھوں میں ناگواری لیے وہ تمسخر آمیز انداز میں بولا تھا۔۔۔
حور کا دل کیا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ وہ لڑکی جس نے شروع سے بہت محتات زندگی گزاری ۔کبھی اپنی کردار پر بات نہیں آنی دی آج اس کا شوہر اس سے کیسے سوال کر رہا تھا ۔۔۔۔
حور نے اب کی بار کوئی جواب نہیں دیا ۔۔ اور چہرہ نیچے کر لیا ۔۔
اسی وقت وہی ویٹر کافی لے کر آئی تھی ۔۔ اور معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ حور کے ضبط سے لال ہوتے جھکے چہرے کو دیکھتے ہوئے مڑ گئ ۔
” لگتا ہے بریک ہوگیا ہے۔۔ یعنی چانس بن سکتا ہے ۔۔۔۔” وہ ویٹر خود سے اندازے لگاتے ہوے واپس چلی گی ۔۔
آہل نے ویٹر کے جانے کا انتظار کیا ۔۔۔ پھر ایک نظر سامنے بیٹھی حور کو دیکھا ۔۔۔
اس کا اس طرح چہرہ جھکنا آہل کو اچھا نہیں لگا ۔۔۔ اس نے ایک گہری سانس لی ۔۔۔
” حورین ۔۔۔۔۔ حور ” آہل نے نرمی سے اس کا نام پکارا ۔۔۔
لیکن حور نے اپنا چہرہ نیچے ہی رکھا ۔۔۔
” حور ” اب کی بار ذرہ سخت لہجے میں بولا۔۔
حور نے اس کی سخت آواز سن کر اپنا جھکا چہرہ اٹھایا ۔۔۔اور شکوہ کناں نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔۔
آہل کو اس پل اس کی آنسوں سے بھری آنکھوں میں ایک پل کے لیے اپنا دل ڈولتا ہوا محسوس ہوا ۔۔ دل میں عجیب سی خواہش جاگی کہ ان آنکھوں میں موجود نمی کو اپنے ہاتھوں سے چنے ۔
اپنے جذبات سے گھبرا کر اس نے جلدی سے اپنی نظریں اس سے زاویہ تبدیل کیا۔۔
” ہمممممممم۔۔۔۔۔ یہ لو “
آہل نے اپنی پینٹ کی پوکٹ سے رومال نکال کر اس کی جانب کیا۔۔
” تھنکس ۔۔ ” حور نے رومال لے کر اپنی آنکھیں صاف کرنے لگی ۔۔
“تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو ؟؟ “
اس نے۔دوبادہ اس موزوں پر بات نہیں کی ۔۔
یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ۔۔۔ اس کا شوہر ہے اسی کے ساتھ ہی تو رہنا ہے اور تو اور وہ حور کے لیے صرف شوہر ہی نہیں شوہر سے بڑھ کر تھا لیکن اس کی دوسری بیوی ۔۔۔۔۔ یہ سب باتیں اس نے دل میں سوچی تھیں ۔۔
” مگر آپ کی وائف ؟” آخر میں اندر مچلتے سوال کو اس نے زبان دی ۔
” وہ اب نہیں رہی دو ماہ پہلے اس کی آکسیڈنٹ میں ڈایتھ ہو گی تھی ” نظریں کافی کے کپ پر جماۓ وہ بےتاثر لہجے میں بولا۔۔
اس کا انداز دیکھ کر حور کو سمجھ نہیں آئی کہ اس پر کس طرح ریکٹ کرے ۔۔
” افسوس ہوا ” حور چہرہ نیچے کر کے مدھم آواز میں بولی
آہل نے کپ سے نظر ہٹا کر آبرو کو اوپر کر اس کی جانب دیکھا جیسے پوچھا رہا ہو کہ واقعی ایسا ہے ۔۔۔۔
” میرے سوال کا جواب نہیں دیا ۔۔۔ “
اس کا سؤال حور کو کنفیوژ کر رہا تھا ۔۔
“” میرا فضلہ امی ابو کے فیصلے میں ہے “
اب کچھ تو کہنا ہی تھا اور ویسے یہ واقعی ہی سچ تھا کہ اس بات کا فیصلہ اس نے رخسار بیگم اور سلمان صاحب کی مرضی سے ہی کرنا تھا ۔۔
حور کو یوں لگا کہ جیسے اس کی بات سن کر وہ ریلکس ہوا ہو ۔۔۔
” مطلب ہاں ہے ..”
حور نے الجھ کر اس کی جانب دیکھا ۔۔۔
” میرے ان سے بات ہو گی ہے ۔۔ وہ کہہ رہے تھے تم سے پوچھ لو ایک بار ورنہ وہ راضی ہیں ” کافی کا سیپ لے کر وہ اسے جانب گہری نظروں سے دیکھتے ہوے گمبھیر لہجے میں بولا۔۔۔
اور حور کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا ۔۔ اس کو یہ بات نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ آخر ایک رات میں ایسا کیا ہو گیا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوگیا جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔
مگر ان سوچوں سے زیادہ تو اسے آہل کی نظریں پریشان کر رہی تھی جو مستقل اس پے ہی جمعی ہوئی تھیں۔۔
اس کی نظروں سے بچنے کے لیے اس نے بوکالاہٹ میں سامنے پر کافی کا ایک بڑا سپ لیا ۔۔۔
بڑی مشکل حور نے کافی کا کڑوا گھونٹ نگلا۔۔
” یخخ ۔۔۔ ” اس نے منہ کر زاویہ ٹیرا کیا ۔۔ پورا منہ کڑوا ہو گیا تھا ۔۔ لگ رہا تھا جیسے تیزاب پی لیا ہو۔۔
“ویٹر ” اس کی آواز سن کر اسے اپنے سامنے بیٹھے آہل کا خیال آیا ۔۔
” جی سر ” اس کی آواز سن کر ویٹر اپنی دانتوں کی نمائش کرتی آئی ۔۔
حور کا من کیا کہ اس کے دانت تور دے مگر اس وقت منہ کا ٹیس اور دل اتنا خراب ہو رہا تھا کہ اس خیال کو اس نے جانے دیا۔۔
” ایک پاین اپیل جوس “
” اوکے سر ” ۔۔
” یہ زہریلی کافی پی کر اوپر سے پین اپیل جوس پینے لگے ہیں ۔۔
دو منٹ بعد جوس حاضر تھا ۔۔
” یہ لو ۔۔ جوس پیؤ ۔”
اور حور نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا جو اسے جوس دینے کے بعد موبائیل پر ٹائیپ کرنے میں بیزی ہو گیا تھا۔۔
حور کو معلوم نہیں ہوا لیکن وہ حیرت سے پوری آنکھیں کھولے مسلسل اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
” جوس پیؤ ۔۔ مجھے نہیں “
آہل کی مسکراتی آواز سن اسے خفت کا احساس ہوا۔ وہ سمجھی تھی کہ آہل اس کی طرف متوجہ نہیں ۔
اسے اس بات کی خبر نہیں تھی کہ آہل کا پوری دیھان اس پر ہے۔۔۔
اپنی خفت دور کرنے کے لیے وہ منہ نیچے کر کے جوس کی طرف متوجہ ہوگئ ۔۔ویسے بھی پائین ایپل تو اس کا من پسند فلیور تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمشہ کی ویک اینڈ کے گزرنے کا پتا نہیں لگا ۔۔۔
اور منڈے پھر سے آگیا ۔۔۔
آج وہ وقت سے پہلے آفس میں موجود تھی ۔۔۔۔ صرف کچھ لوگ ہی آئے تھے ابھی ۔۔ جن میں سر فہرست جان تھا ۔۔ اور جان کا چمچہ ۔ ڈیرئیک جو اس کے ساتھ ساتھ ہی رہتا تھا ۔۔۔
لیکن ایما کے لیے وہ زہر بھرا چمچہ تھا۔۔
اس کو کافی کہ شدید طلب ہو رہی تھی ۔۔۔ پاؤں پوری طرح سہی ہوا تھا چلنے میں ابھی بھی مسلہ ہوتا تھا ۔۔۔
وہ ہمت کر کے آفس میں موجود کافی مشین کے پاس گی ۔۔
ابھی اس نے کپ کاؤنٹر پر رکھا ہی تھا ۔۔
” میں ابھی دیکھا تھا کہ اس میں سے چپکلی نکلی تھی “
کوئی اس کہ کان کے بلکل پاس بولا ۔۔
“” آہھھھ” ایک دم آواز سن کر وہ ڈر کے پیچھے ہوئی ۔۔دل نوے ڈگری کے رفتار سے دوڑ رہا تھا ۔۔۔۔ شکر تھا کہ کپ کانٹر پر پڑا تھا ورنہ وہ اس وقت زمین کو سلامی دے رہا ہونا تھا ۔۔۔
اس نے غصے سے اپنے پیچھے کھڑی اس بلا نما ڈیرئیک کو گھورا ۔۔ جو اسے ڈرنے کے بعد اب دانت نکالے کھڑا تھا۔۔۔
” تمہارا مسلہ کیا ہے ؟ ” اس نے ڈئرئیک کی جانب دیکھ کر کہا جو نیچے پتا نہیں کیا اتنے غور سے دیکھ رہا تھا ۔
” میں سائیکو ۔۔ پاؤں کو۔ کیا ہوا “ایما اب سمجھ آئی کہ وہ نیچے کیوں دیکھ رہا ہے ۔۔۔
” تمہاری ہی مہربانی ہے ؟؟ “
“مطلب ” وہ اس وقت بلکل سنجیدہ تھا۔۔
” یہ اس دن ہی لگی تھی جس دن تم نے مجھے دھکا دیا تھا اور میرے جاگرز بھی لے گے تھے ۔”
پہلی بار ایما نے اس کے چہرے پر شرمندگی دیکھی ۔
” سوری ۔۔ “
ایما نے حیرت سے پورا منہ کھول کر اس کی جانب دیکھا اسے اس کا یہ انداز دیکھ کر اچھا نہیں لگ رہا تھا بلکہ اسے تو یہ ڈیرئیک ہی نہیں لگ رہا تھا ۔۔
” منہ بند کر لو ۔۔۔ ہو سکتا ہے چپکلی تمہارا کھلا منہ دیکھ کر اندر چلی جاے “
” یخخخخ” ایما کو سوچ کر ہی کراہت ہوئی تھی ۔۔ وہ تو اسے اٹس اوکے کہنے والی تھی لیکن پروگرام کسنکل کر دیا ۔
” تم بہت گندے ہو ” ایما کا اشارہ اس کی چھپکلی والی بات کی طرف تھا ۔۔
” اب دوستوں میں عادتیں تو مل ہی جاتی ہیں …” ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑ کے اس پر تالی بجاتے ہ ہوے دوبارہ اپنی ٹون میں واپس آتا ہوا بولا ۔۔۔۔
” ویٹ ویٹ ہماری دوستی کب ہوئی ” ۔
” ابھی جب تمہیں پتا لگا کہ میرے ساتھ دوستی میں بڑے فائدے ہیں ۔۔۔ “
بات کو الجھانے کا فن تو کوئی ڈیرئیک سے سیکھے ۔۔
” اففففف فایدے یہ ہی تو نقصان کیا ہو گئے ” ایما نے دل میں سوچا ۔۔
” اوکے مس سائیکو ۔۔۔ آج میں کافی پیلاتا ہوں ۔۔۔ “
ڈئرئیک اس کو سایڈ پر کرتے ہوے خود مشین کے آگے کھڑے ہوتے ہوے بولا۔
” یہاں کیا ہو رہا ہے ؟؟؟ “
جان کی آواز سن کر ایما فورن سیدھی ہوئی اور اس جانب دیکھا جہاں جان پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا ۔۔ جبکہ ڈئرئیک ایسے ہی کھڑا رہا جیسے اس کو کوئی فرق ہی نا پڑتا ہو کہ کون آیا ۔۔۔
” اظہارِ افسوس ہو رہا ہے “
ایما اور جان نے ایک ساتھ حیران کو کر اس افسوس کرنے والے کو دیکھا ۔
” اظہارِ افسوس؟؟؟ کس کا “
جان نے ایک نظر ایما پر ڈال کر اس کی جانب دیکھا ۔۔
” ایما کا بریک اپ ہوگیا “
” کیاااااا “
ایما چیخ کر بولی ۔۔جبکہ جان کے ماتھے پر بھی بل پڑ گئے تھے
“یہ آفس ہے ۔۔ اپنے بریک آپ کا غم وغیرہ یہاں سے باہر کیا کریں ۔۔۔ ڈئرئیک میرے کمرے میں آؤ “
جان ایما کی کر جا چکا تھا ۔۔ اس کے جاتے ایما نے غصے سے اس بتمیز کو گھورا ۔۔
” کس سے ہوا میرا بریک آپ “
” تمہارے پاؤں سے اور کس سے تم نے پتا نہیں کیا سمجھ لیا””
ڈئرئیک اس کو کافی کا کپ پکڑا کر ڈبتے ہوے بولا اور وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا۔۔
جبکہ ایما دانت پیستی رہ گئ۔۔۔
_________________________
آفس میں وہ ادھر اُدھر چکر کاٹ کر ڈیرئیک کا انتظار کر رہا تھا ۔۔
وہ تو اسی نمونے کی تلاش میں باہر نکلا تھا ۔۔ لیکن اسے ایما سے بات کرتا دیکھ کر روک گیا اور پھر اپنی فطرت کے خلاف جاکر اس نے یہ بھی پوچھ لیا کہ وہ کیا باتیں کر ہے تھے ۔۔
” کیا ہوا آج جاگنگ رہ گی جو یہاں ہی شروع ہوگئے ہو “
ڈئرئیک اندر اکر اس کے اس طرح ادھر اُدھر چکر کاٹنے پر چوٹ کرتے ہوے بولا۔۔۔
” مجھے پرسنل سیکرٹری کی ضرورت ہے ۔۔”
جان اس کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ۔۔
” جان میں لڑکا ہوں ۔۔۔ تم کیوں مجھے لڑکی بنانے پر تررے ہو “
ڈیرئیک نے بات کو اپنی رنگ میں لیا۔۔
” سٹوپڈ ۔۔۔ میں کہہ رہا ہو مجھ ڈھونڈ کر دو ۔۔ مگزین میں نیوز دو ۔۔ “
جان نے چڑ کھاتے ہوے کہا
” تم نے مجھے ماڈل کے لیے کہا تھا نا۔؟؟ لیکن یہاں تم مجھ سے ماڈلنگ کم آفس کے کام زیادہ کرواتے ہو ۔۔۔۔ ” ڈئیرئیک تپے انداز میں اس کو گھورتے ہوئے بولا جو آفس کی کھڑی سے باہر دیکھ رہا تھا ۔۔
” کر رہے ہو کہ نہیں ” اس نے جنجہلا کر کہا ۔۔
” کر دوں ۔۔ کیا یاد کرو گے تم بھی ” کیا شہانہ انداز تھا اس کا ۔۔
” اور کچھ پوچھنا ہے ؟؟ “
ڈیرئیک کو اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ جان نے اس بات کے لیے اسے ہرگز نہیں بولایا
اور ویسے بھی وہ اس کی بے چینی بھانپ چکا تھا۔۔۔
” اور یہ تم مس ایما سے تم کیا باتیں کر ہے تھے ؟؟ ” اس نے حتی الامکان کوشش کی اپنے لہجے کو بے تاثر کرنے کی ۔۔ جس میں کافی حد تک کامیاب ہو بھی گیا تھا لیکن سامنے موجود شخصیت بھی ڈیرئیک تھی ۔۔..
” کون ایما ” اس نے انجان بنے کی انتھ ایکٹنگ کی تھی ۔۔کہ اگر آکسر والے تو تو اسی ہی آواڈ دیتے ۔۔۔
” وہی جس کے ساتھ وہاں تم باتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔ “
” اوہ۔ مس سائیکو ۔۔۔ اچھا تو اس کا نام ایما ہے ۔۔۔ “
اس نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جان کو دیکھا جو اس کی جانب پشت کیے کھڑا تھا ۔۔یہ اس کی ڈیرئیک سے اپنے تاثرات چھاپنے کی کوشش تھی ۔۔۔۔کیونکہ وہ سب سے اپنی کیفیت چھپا سکتا تھا لیکن اس سے نہیں ۔۔
” بتایا تو تھا ..”
اس نے زور سے مھٹیاں بھینچ لیں اس کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔
” کس سے ..”
” اس کے پاؤں ساتھ ۔۔۔ دیکھا نہیں تھا پٹی بندھی تھی ” آخر میں اسے جان کر ترس آہی گیا ۔۔ اس لیے بات سیدھے طریقے سے کی۔۔۔ یہ ڈیرئیک کا سیدھا طریقہ تھا ۔۔۔
“تم کوئی بات نورمل نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔ “
وہ یہ ریلکس ہو گیا جبکہ ڈئرئیک اس کی ایک ایک حرکت کا بہت گہری نظروں سے جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔۔۔
” میں نورمل نہیں ڈیرئیک ہوں ۔۔۔۔”
اور ڈیرئیک سے نورمل کی توقع رکھنا ۔۔ یہ خاصی ابنورمل بات تھی ۔۔
” مجھے نہیں پتا تھا ۔۔” ۔ وہ طنزیہ انداز بولا ۔۔
ڈئرئیک نے مزید کچھ نہیں کہا ۔۔۔ بس شانے اچکا دۓ۔
” اچھا یہ دیکھو ۔۔ یہ جس تصویر ۔۔۔۔”
اب وہ اس کا داغ کام کی طرف لگا رہا تھا ۔۔۔ ورنہ اس نے اس کا دماغ کھا جانا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *