Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31
Mendhii special
فنکشن شروع ہوگیا تھا ۔۔ سب آغا جان کو مبارکباد دے رہے تھے کیونکہ نکاح پہلے ہی ہوچکا تھا اس لیے مہندی کا فنکشن بھی کنبائین تھا ۔۔
آہل بھی اپنے جاننے والوں کے ساتھ کھڑا ان سے باتیں کر رہا تھا۔۔ حور ابھی نہیں آئی تھی ۔۔
اس کے مغرور چہرے پر حد سے زیادہ سنجیدگی تھی ۔۔ طعبت میں رعب مہندی رنگ کے کرتے کے ساتھ وائٹ شلوار پہنے وہ سلطنت کے بادشاہ کی طرح کھڑا تھا ۔۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا دوپہر کو ہوے واقع کا ۔۔ اور یہی چیز فہد اور مہک کو بے چین کر رہی تھی ۔۔
تھوری دیر بعد دلہن آنے کا شور اٹھا تو آہل پر جا کر سٹیج پر بیٹھ آ گیا ۔۔۔ اور سامنے دیکھنے لگا جہاں حور کو لایا جا رہا تھا ۔۔
نیلے رنگ کی شرٹ ساتھ پیلے رنگ کا لہنگا ۔۔ جو اسکے نازک بدن پر بہت جبچ رہا تھا ۔۔ چہرے پر گھونگھٹ تھا جس کی وجہ سے چہرا نظر نہیں آیا تھا۔۔
جب وہ سٹیج کے پاس پہنچ گی تو آہل نے اپنا ہاتھ اس کے آگے کیا ۔۔ اس نے جہجکتے ہوے اپنا نازک ہاتھ اس کی چھوڑی ہتھیلی پر رکھا ۔۔
اس کے ہاتھ ضرورت سے زیادہ ٹھنڈے تھا ۔۔ اس کے ہاتھ کی کپکاہٹ آہل نے اچھی طرح محسوس کی تھی ۔۔۔
وہ اس سے ڈر رہی تھی ۔۔ اسی بات سے ایک تلخ مسکان اس کے عنابی لبوں پر آے ۔۔
اس نے اسے پکڑ کر اوپر کی ۔۔ یہ اور بات ہے کہ اس نے گرفت اتنی سخت رکھی تھی اس کے نازک ہاتھ پر کہ حور کو دل جو پہلے ہی ڈرا ہوا تھا مزید خوفزدہ ہوگیا ۔۔
وہ تو یہ سوچ کر ہی پریشان تھی کہ اگر آہل نے سب کو بتا دیا تو وہ کیا کرے گی ۔۔ کس کس کا کو صفائیاں دے گی ۔۔۔ یہی سوچ سوچ کر اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی ۔۔جب بھی دروازہ کھولتا تو وہ ڈر کر دروازے کے جانب دیکھتی تھی ۔۔ اس نے خود کو کیسے سنبھالا تھا یہ صرف اسے پتا تھا ۔۔
آہل نے اسے اپنے ساتھ پہلو میں بیٹھایا ۔۔ اور زور سے اس کا ہاتھ دبا کر چھوڑ دیا۔۔ جسے حور نے اسی وقت گھونٹ کے اندر کر لیا ۔۔ اس کا ہاتھ پورالال ہوچکا تھا اتنی سی دیر میں اپنے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے وہ جو کب سے اپنی آنسو روکے ہوئے تھی اب مزید ضبط نہ کر سکی اور آنسو ٹپ ٹپ کر کے اس کے اسی ہاتھ پر گرنے لگے ۔۔
آہل نے بھی اس کا رونا محسوس کیا ۔۔
” اپنا یہ ڈرامہ بند کرو ۔۔ اگر تم تھوڑی دیر میں چپ نہ ہوئی تو نتائج کی ذمیدار تم خود ہوگی ۔۔۔” اس کے کان کے پاس ہونٹ کر کے وہ آہستہ سے مسکراتے ہوے مگر اتنے سخت انداز میں بولا تھا کہ حور کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑتی محسوس ہوئی تھی ۔۔اس نے فوراً اپنے آنسو صاف کیے ۔۔
بظاہر تو دیکھنے والے کو یہ لگ رہا تھا کہ آہل نے کوئی پیار بھری سرگوشی کی ہے ۔۔
آہل کی نظریں فہد پر گئ ۔۔ جس کا چہرہ اس کے اس طرح حور سے بات کرنے پر تاریک پر چکا تھا ۔۔ ایک سرد سے مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی ۔۔ اسے پتا تھا اس اب کیا کرنا ہے ۔۔
مہمان بارہ باری کر مہندی اور سلامی دے کر جا چکے تھے ۔۔
” ہاں جی ۔۔ تو اب دیدار کریں گے اپنے دلہن کا ۔۔۔ ” اب سب کزن سٹیج کے پاس کھڑے اس کو تنگ کر رہے تھے ۔۔
” آپ لوگ نہ بھی کہتے تو بھی میں نے کر ہی لینا تھا۔ ۔۔” آہل بھی شوخ ہوا ۔۔۔
اس کے جواب کر تمام ینگ پارٹی نے ہوٹنگ کی ۔۔۔
” یہ ہوئی نہ بات ۔۔۔ ” تمام لڑکوں نے جوش سے اس کا ساتھ دیا ۔۔
” اچھاااااااااا ۔۔ تو پھر اب آپ دیکھ کر دیکھیں زرہ ہمیں ۔۔ ” اب وہ سب حور کے آگے کھڑی ہوگی تھی ۔۔ یوں کے حور ان کے پیچھے چھپ گی تھی ۔۔
” اوہ تو یہ بات ہے ۔۔۔ ” آہل نے آبرو اٹھا کر انہیں دیکھا ۔۔
” جی جی ۔۔ یہی بات ہے ۔۔ اور اگر آپ دلہن کی شکل دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک شرط ہے ۔۔۔۔ “
لڑکیاں ساری ایک طرف تھی ۔۔
اور لڑکے آہل کے گرد جمع تھے ۔۔
” کسی شرط ۔۔۔ ” آہل کی بجائے اس کی طرف سے لڑکا بولا ۔۔
” کمپٹیشن ۔۔ اگر ہم جیتے تو دلہن کی شکل کل ہی دیکھنے کو ملے گی ۔۔ اور اگر لڑے جیتے تو آج ہی ۔۔۔ ” اب کی بار مسکان آگے ہو کے چہک کر بولی ۔۔۔
” منظور ہے ۔۔۔ ” لڑکوں کی طرف سے علی بولا ۔۔
” دلہے سے پوچھا ہے ۔۔۔ تو دلہے کا ہی جواب چاہیے ۔۔۔ ” مسکان ٹیس کرنے والی مسکراہٹ سے بولی تھی ۔۔
” تو کوئی بات نہیں۔ نا ۔۔۔ ہم بھی مستقبل کے ۔۔ دلہے اور کسی کے خوابوں کے شہزادے ہیں ۔۔۔ ” علی کون سا کم تھا فوراً سے جواب حاضر ۔۔۔ جس پر سارے لڑکوں نے قہقہہ لگایا ۔۔
” اوووہ میں بھی کہوں کے آج کل مہنڈکیاں آپ جیسے لڑکوں کے پیچھے کیوں پھدکتی ہیں ۔۔ ظاہری سی بات ہے آپ ہی تو ان کے خوابوں کے شہزادے ہیں ۔۔۔ ” اس کے جواب پر ساری لڑکیاں اش اش کر اٹھی ۔۔۔
” اچھا سریس فائینل ۔۔ مجھے شرط منظور ہے ۔۔۔ ” اس سے پہلے ان کی لڑائی مزید آگے بڑھتی آہل نے معاملہ ٹھنڈا کیا ۔۔۔
اب حال میں ساری لائٹ آف تھی اور صرف سٹیج پر لائٹ آن تھا ۔۔۔سارے مہمان سٹیج کی طرف متوجہ ہوگئے تھے ۔۔۔ایک طرف لڑکیاں بیٹھی تھی ۔۔ اور دوسری طرف لڑکے ۔۔ آہل لڑکوں کے ساتھ تھا اور حور لڑکیوں کے ساتھ ۔۔
” تین راؤنڈ ہونگے ۔۔۔ پہلا اشارے سے سمجھانا ہے ۔۔۔
دوسرا انتشاری ۔۔ اور تیسرا ڈانس ۔۔۔ اور نو چیٹنگ ۔۔۔ ” مسکان نے ہی آگے ہو کر گیم سمجھائی ۔۔۔
پہلے لڑکوں والوں کی طرف سے آیا۔۔۔ جس بچارے کو انہوں نے دلبر دے دیا۔۔۔
اب وہ ٹھمکے لگا لگا کر اپنے ساتھیوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔لیکن بے سود ۔۔وہ لوگ سمجھنے کی بجائے اس کے ٹھمکوں پر ہنسی جا رہے تھے ۔۔۔
بہرحال پہلا راؤنڈ لڑکی والے جیتے تھے ۔۔۔
اب باری تھی انتشاری کی ۔۔۔۔
جس میں لڑکے ہی آگے آگے تھے ۔۔ وہ تو گانے کے ساتھ ساتھ جھوم بھی رہے تھے ۔۔ تو یہ روانڈا ان کے حق میں گیا ۔۔ اب باری تھی آخری راؤنڈ کی ۔۔
لڑکیاں اپنے لینگے سنبھال کر سٹیج پر آئی ۔۔
مسکان نے رویل بیلو رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا بالوں کو کھلا چھوڑے ۔۔ چہرے پر نیچرل سے میک کیے وہ انتہائی دلکش لگ رہی تھی ۔۔
گانا سٹارٹ ہوا ۔۔۔
Ballay ballay ni dor punjaban di
Ho ballay ballay ni dor punjaban di
Ho jutti khal di marona naio chal di dor punjaban di
Ho jutti khal di marona naio chhal di dor punjaban di
Ho balle balle!
وہ ساری ایک ساتھ سیم سیم سٹیپ کر رہی تھی۔۔۔ بھی آخر اتنےدنوں کی محنت تھی ان کی ۔۔
Raat ki rangini dekho
Kya rang laai hai
Haathon ki mehendi bhi jaise
Khil-khil aai hai
ماحول میں رونق سی لگ گی تھی وہ کبھی آگے ہو رہی تھی تو کبھی پیچھے ۔۔
Mastiyon ne aankh yun kholi
O.. jhoomti dhadkan yahi boli
Balle balle..
Ho balle balle nache hai ye bawra jiya
Balle balle le jayega sanwra piya
Jale jale naino mein jaise pyar ka diya
Ballay ballay nache hai ye bawre jiya
Ballay ballay le jayega sanwra piya
Jee bhar ke aaj naach le
Aa saari raat naach le
Sharmana chhod naach le
Naach le.. oye, oye!
اب لڑکے کہاں پیچھے رہتے ہو سب بھی سٹیج پر چھڑ گئے تھے یہ اور بات ہے کہ انہیں پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ وہ سب اس پر ڈانس ضرور کریں گی ۔۔۔ اس لیے وہ بھی تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ ۔
اور علی صاحب وہ تو سنبھالے نہ سنبھل رہے تھے ۔۔
Chahne lage dil jise ussi pe addh jaaye
Door na rahe yaar se aankh jab lad jaaye
Ho jahan bhi ho raasta wahin ko mud jaaye
Koi pyaar ka raag sa badan mein chhid jaaye
Khwaab aankhon mein sajayega piya ke sang re
Gin gin gin gin ke ab din aaye wo piya ke sang
O balle balle..
O balle balle nache hai ye bawra jiya
Balle balle le jayega sanwra piya
Jale jale naino mein jaise pyar ka diya
Ballay ballay naache hai ye bawre jiya
Ballay ballay le jayega sanwra piya
ان کا ڈانس ختم ہوتی ہی سب نے تالیاں بجا کر داد دی ۔۔ جسے سر جھکا کر انہوں نے وصول کیا ۔۔
اب تھی لڑکوں کی باری ۔۔۔
ان کا گانا لگا تیرے سنگ پانیوں سا ۔۔
جس کے لیے لڑکے پتا نہیں کہاں سے دوپٹہ اسکارف اٹھا کر لے آئے تھے اب وہ سب سٹیج پر کھڑے اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے گانے کے لگنے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔
ایک لڑکے ایسے کھڑا تھا جبکہ اس کے ساتھ والے نے چہرے پر گھونگھٹ لیا ہوا تھا ۔۔
Sang Tere Laagi
Preet Mohe Ruh Baar Baar Tera Naam le
اپنے ساتھ کھڑے لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھمایا ۔۔۔جبکہ وہ لڑکے دوپٹہ منہ میں ڈالے اور آنکھیں جھپک جھپک کر شرمانی کی اداکارہ کر رہا تھا ۔۔
ان کی یہ حرکت دیکھ کر سب ہنس دیے ۔۔
Ki Rab Se Hai Maangi
Yehi Dua Tu Hathon Ki Lakeerein Tham le
اب وہ ایک دوسرے کی کمر پر ہاتھ ڈالے کپیل ڈانس کر رہے تھے ۔۔
Chup Hain Batein Dil Kaise Bayaan Mai Karun
Tu Hi Kahde Jo Baat Mai Kah Na Sakun
اب ایک دوسرے کو کو دھکا دے کر وہ الگ الگ ہوے ۔ان سب نے ہونٹوں پر انگلی رکھی ۔۔۔
گانہ بھی بند ہوگیا ۔۔
اب بس لڑکوں کی
شیش …
شیش ۔۔۔ کی آوازیں آ رہی تھی حال میں بھی سارے خاموشی سے ان کو دیکھ رہے تھے ۔۔
سٹیج کی لائیٹ بھی آوف تھی ۔۔ لان میں مکمل آندھرا تھا ۔۔
” ہی ہی ہی ہی ہاہاہا ہی ہی ہاہا ۔۔ ” اب جب سب کی توجہ ان کی طرف تھی تو ایکدم سے کافی خوفناک چڑیل کی ہسنسے کی آواز آئی ۔۔۔ پیچھے کسی ہارل موئی کا میوزک بھی ایڈ کر دیا گیا تھا ۔۔۔
پھر ہوا یہ ۔۔ کہ اس چیخ کو حال میں موجود عورتوں ۔۔ لڑکیوں اور بچیوں کی چیخوں نے پیچھے چھوڑ دیا ۔۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر ہی چیخے ماری جا رہی تھی ۔۔
پھر سٹیج کی لائٹ دوبارہ آن ہوئی ۔۔
اور گانا بھی کنٹوییو ہوا ۔۔۔
Ki Sang Tere Paniyon Sa Paniyo Sa Paniyon
Sa Bahta Rahun Tu Sunti Rahe Mai Kahaaniyaan Si Kahta Rahun
اب لڑکے دوپٹے کو لہرا لہرا کر ادھر اُدھر جا رہے تھے ۔۔
کہانی کی باری پر وہ ایک دوسرے کے کھندے پر سر رکھ کر تھپک رہے تھے ۔۔
وہ ایسے ایکٹ کر رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔
Ki Sang Tere Badlon Sa Badlon Sa Badlon Sa Udta Rahun Tere AkIshara Pe Teri Or Mudta Rahun
اس پر انہوں نے اپنے ساتھی کو پکڑا اور جہاز بنا کر بھاگنے لگے ۔۔
Adhi Zami Adha Asama Tha
Adhi Manzilein Adha Rasta Tha
Ik Tere Aane Se Mukkamal Hua Ye
Sab Bin Tere Jahan Bhi Bewajha
اب کی بار سٹیج پر کافی صحت مند بندہ پتا نہیں کہاں سے پکڑ کر لاۓ تھے ۔۔ اور اس کے ارگرد چکر کاٹنے لگے تھے ۔۔
حاضرین جو پہلے ہارر موزیک کی وجہ سے ڈرے ہوے تھے اب دوبارہ ان کی حرکتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔
Tha Tera Dil Banke Mai SathTere Dhadkun Khudko Tujhse Ab Door Na Jaane Dun Ki Tere Sang Paniyon Sa
گانا ختم ہوتے ہی ان کا ڈانس بھی ختم ہوا ۔۔ سب نے ان کو سلوٹ کیا ۔۔۔
” کافی وقت سے میں نے ان کی آواز نہیں سنی تھی جن کے میں خوابوں کا راجہ ہوں ۔۔ اس لیے وہ سنے کے لیے لائیٹس آو کر کے وہ ہارر میوزک لگیا ۔۔ اور یقین کیجیے آپ سے مل کر واقعی بہت خوشی ہوئی ۔۔۔ ” مائک کو پکڑ کر علی نے مسکان کو نظروں کی گرفت میں لے کر شرارت سے کہا ۔۔ اور فورا سے سیٹی سے اتر کر دوڑا کیونکہ وہ سب بہت ہی خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہے تھی ۔۔
ایسا ہو سکتا ہے کہ علی اپنا جواب رہنے دے ۔۔
لڑکے والے جیت گئے تھے ۔۔۔
اس لیے اب حور کا گھونگھٹ اٹھانے کی باری تھی ۔۔۔
دوبارہ سے ساری لائیٹس آوف اور پھر آن ہوئی تو سٹیج کے بیچ حور اور آہل کھڑے تھے ۔۔۔
حور کے چہرے سے گھونگھٹ اب نہیں تھا ۔۔
اس کے بال آج بھی حجاب میں بند تھے ۔۔ رونے کی وجہ سے سرخ ہوتی آنکھیں اور گال ۔۔
نازک لب جو اس کو اپنی طرف متوجہ پاکر لز رہے تھے ۔۔ وہ اس روپ میں بھی اتنی دلکش لگ رہی تھی کہ نظر ہٹنا مشکل تھا ۔۔۔
آہل ابھی گہری نظروں سے اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا کہ پیچھے گانا بجنے لگا۔۔۔
Surkh wala, sauz wala, Faiz wala love
Hota hai jo love se jyada waise wala love
Ishq wala love
آہل نے اس کی نازک قمر پر ہاتھ رکھ کے خود سے قریب کیا ۔۔۔ اور اس کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا جبکہ دوسرا اپنے ہاتھ میں لیے وہ لائٹ کپل ڈانس کے سٹیپ کر رہا تھا ۔۔
اس کی گرفت سخت تھی ۔۔۔
Hua jo dard bhi toh humko aaj kuch zyada hua
Ishq wala love
اب وہ اسے گھما رہا تھا ۔۔ گماتے ہوے وہ روکا اور پھر دوبارہ سابقہ پوزیشن میں جا کر اس نے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔ دیکھنے والے کو یہ لگ رہا تھا کہ وہ بہت خوش ہے لیکن یہ بات حور کو ہی پتا تھی کہ وہ کسی اس ظالم کہ سخت گرفت کو برداشت کر رہے تھی ۔۔۔
Ye kya hua hai kya khabar yehi pata hai zyada hua
Ishq wala love
Agar ye usko bhi hua hai phir bhi mujhko zyada hua
Ishq wala love
ان کو دیکھ کر مہک اور فہد سہی معنی میں پریشان ہوے ۔۔ ان کا خیال تھا کہ آہل شادی سے انکار کر دے گا لیکن یہاں آہل کو خوش اور مطمئن دیکھ کر ان کا جلن سے بڑا حال تھا ۔۔
Meri neend jaise pehli baar tooti hai
Aankhein mal ke dekhi hai maine subah
Hui dhoop zyada leke teri roshni din chadha
Ishq wala love
حور جو آنکھیں نیچھے کیے ہوے تھی کہ آہل کے پکڑ اور سخت ہونے کی وجہ سے اس نے آنکھیں اوپر کر کے اسے دیکھا ۔۔۔ اس کی آنکھیں نم تھی ۔۔ جبکہ آہل کی سرد اور بغیر کسی تاثر کے تھی ۔۔
Jhanke badalon ki jaali ke peechhe se
Kare chandani ye mujhko ittala
Leke noor sara chand mera yahin pe hai chhupa chhupa hua
Ishq wala love
آہل نے اسے زور سے گھما کر اپنے بازو پر کر کے جھکایا ۔۔
ایک پل کے لیے تو حور کو اتنی چکر آگے ۔۔۔ مگر آہل نے اسے سنبھال لیا ۔۔۔
Hua jo dard bhi toh humko aaj kuch zyada hua
Ishq wala love
Ye kya hua hai kya khabar yehi pata hai zyada hua
Ishq wala love
Agar ye usko bhi hua hai phir bhi mujhko zyada hua
Ishq wala love
اب وہ اسی طرح جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ ۔۔۔
گانے کے ختم ہونے سے تھوری دیر پہلے سب نے مل کر دلہا دلہن کے گرد دایرہ بنا اور ٹرین کی طرح ان کے ارگرد چکر لگانے لگے ۔۔۔
رات کافی ہوگی تھی ۔۔۔ اوپر سے بادل بھی گہرے ہو رہے تھے ۔۔۔
مہمان جانے شروع ہوچکے تھے ۔۔۔ ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی یہ تو شکر تھا کہ فنکشن ختم ہونے کے بعد بارش شروع ہوئی تھی ۔۔
” حور میرے ساتھ جاۓ گی ۔۔۔” جب سب جانے لگے تو آہل نے بلال صاحب کو بتایا اور ان کا جواب سنے بغیر حور کو لیے گاڑی میں بیٹھا کر وہاں سے نکل گیا ۔۔ مطلب صاف تھا آگے کا معاملہ وہ خود سنبھالنے ۔۔۔
پیچھے بلال صاحب اپنے لاڈلے سپوت کو کوسنے کے علاؤہ کر بھی کیا سکتے تھے پھر انہوں نے کس طرح داجی کو ہینڈل کیا یہ صرف ان کو پتا تھا ۔۔۔۔
لیکن ان کے لیے یہ بات اطمینان بخش تھی کہ وہ خوش ہے ۔۔ یہ ان کا خیال تھا ۔۔۔
گاڑی میں خاموشی تھی ۔۔ رات بھی زیادہ ہو رہی تھی ۔۔ وہ فل سپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔ جبکہ حور سہمی ہوئی گاڑی کے دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی ۔۔۔
اسے پتا تھا آہل ابھی بھی صبح والے واقعہ کی وجہ سے غلط فہمی لیکن اس کے سخت تاثرات دیکھ کر اس کی ہمت نہیں ہوئی کچھ کہنے کی ۔۔
آہل کی گرفت سٹرنگ ویل پر بہت سخت تھی وہ اتنی تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا جیسے وہ گاڑی نہ جہاز ہو ۔ اس کے چہرے کے تاثرات سخت تھے ۔۔ اندر ابال سا اٹھ رہا تھا وہ جو شادی میں سب ٹھیک اور خوش ہونے کا تاثر دے رہا تھا اب بلکل برعکس تھا ۔۔۔
باہر بارش بھر پور رفتار سے برس رہی تھی ۔۔
ایکدم گاڑی ایک سنسان سڑک پر روکی ۔۔۔
جبکہ حویلی تک کا ابھی آدھہ راستہ ہی ہوا ہوگا ۔۔۔
” بغیر وقت ضائع کیے اپنا یہ ناقابلِ برداشت وجود لے کر میری گاڑی سے اترو ۔۔” اس کی جانب دیکھے بغیر وہ حقارت آمیز انداز میں بولا
اس کی بات سن کر حور کا دماغ بھک سے اڑ گیا ۔۔ اس نے بےیقین نظروں سے پہلے اسے دیکھا پھر باہر بارش کو جو زورو شور سے برس رہی تھی ۔۔۔
آہل کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے غصے میں کیا کر رہا ہے ۔۔۔
” سمجھ نہیں آئی ابھی ۔۔ میں نے کیا کہا ۔۔ ؟؟؟” وہ اتنی زور سے دھاڑا تھا کے حور کا سانس بند ہوگیا ۔۔ خوف سے دل بھی زور سے ڈھرکا وہ بلکل دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گی ۔۔آنسو تیزی سے اس کی آنکھوں سے نکل رہے تھے ۔۔۔
” لگتا ہے تمہیں ایسے سمجھ نہیں آئی گی ۔۔ ” اس کی طرف اپنے خونِ آشام نظروں سے دیکھتے ہوۓ وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔ پھر گاڑی کا دروازہ کھول کر نکالا اور اس کی سائڈ پر آ کر اس نے دروازے کھول کر بیدردی سے اسے بازوں سے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکلا
” آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ ” اس کو چھوڑ کر جب وہ گاڑی میں بیٹھا تو اس کی بےیقین سے آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔۔
” ابھی تھوڑی میں میں خود ہی پتا چل جائے گا۔۔۔ ” تمسخر آمیز انداز میں بولتے وہ گاڑی لے کر وہ سے نکل گیا ۔۔
سڑک ساری سنسان تھی ۔۔ نہ ہی آس پاس کوئی آبادی تھی ۔۔
حور نے ایک بےبس نظر اس طرف ڈالی جہاں وہ ستم گر اس برستی بارش میں اکیلا چھوڑ کر گاڑی لےکر گیا تھا ۔۔ بارش سے اس کے سارے کپڑے بھیگ کر اس کے جسم کو نمایا کر رہے تھے ۔۔ خود کو بازوں سے چھپاتے ہوے وہ سڑک کے کنارے پر موجود درخت کے پاس زمین پر اکھٹی ہوکر بیٹھ گی ۔۔ اور اپنا سر گھٹنوں میں چھپا لیا ۔۔۔
اس ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ آہل اسے طرح سڑک پر ۔۔ بارش میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا ہے ۔۔
اس کا سر چکرا رہا تھا ۔۔ اس نے صبح سے کچھ کھایا نہیں تھا پھر اتنا کچھ جو آج ہوا وہ اس کے اعصاب پر کسی بوجھ کی طرح بھاری ہو رہا تھا ۔۔ پھر یہ بوجھ اس کی پلکوں پر آیا اور وہ آنکھیں بند کیے ونہی درخت کے ساتھ ہی بیٹھی رہ گی ۔۔
آہل اسے غصے میں وہنی چھوڑ آیا وہ دور ہی گیا تھا کہ سامنے سے ایک گاڑی آ رہی تھی وہ رونگ وے پر تھی جس میں اونچی آواز میں میوزک لگا ہوا تھا ۔۔۔۔
اس نے ناگوار نظروں اس طرف دیکھا جہاں گاڑی میں چار لڑکے بیٹھے تھے ان کے ہاتھ میں وائن تھی اور وہ سب میوزک پر اچھل رہے تھے ۔۔وہ گاڑی اس کی گاڑی کو کروس کرتے ہوئے آگے چلی گئی ۔۔آہل اپنا سر جھٹکتے ہوے ابھی تھوڑی آگے ہی گیا تھا کہ یکدم اسے اس نے پاؤں بریک پر رکھا ۔۔۔اور مڑ کر اس نے اس جانب دیکھا جہاں وہ گاڑی گیا تھی ۔۔
یعنی وہ اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتا تھا ۔۔۔ اس نے جلدی سے گاڑی موڑی ۔۔۔
اس کے دماغ میں طرح طرح کے خیال آ رہے تھے ۔۔
اس کا دل ناخوشگوار اندازہ میں دھڑکا جب اس نے وہاں پہنچ کر دیکھا جہاں وہ حور کو اتار کر گیا تھا وہاں اب کوئی نہیں تھا ۔۔
اور حور ۔۔ وہ کہاں تھی ۔۔۔۔وہ جلدی سے گاڑی میں سے نکلا اس کی بے چین نظریں آس پاس کا جائرہ لے رہی تھی ۔۔
اگر اسے وہ نہ ملی تو وہ کبھی خود سے نظریں نہیں ملا پاۓ گا ۔۔۔
اس نے اپنے بھیگے بال پیشانی سے ہٹائی ۔۔
اتنی جلدی وہ کہنی نہیں جاسکتی ۔۔
لیکن اگر اس کے ساتھ کچھ بڑا ہوا ہو ۔۔۔
اگر وہ گاڑی میں موجود لڑکے اسے اپنے ساتھ لے گئے ہو ۔۔۔
طرح طرح کے خیال اس کا دماغ ماؤف کر رہے تھے ۔۔۔
نہیں اسے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔
” حور۔۔۔۔۔ ” خود کو تسلی دیتے ہوے اس نے زور سے اس کا نام پکارا ۔۔۔کوئی جواب نہیں آیا ۔۔۔
” حورین ۔۔۔۔ ” اس نے پھر سے اس کا نام پکارا ۔۔۔
اس وقت سارا غصہ ۔۔
وہ سارے منظر ۔۔
ساری بدگمانی جیسے کہنی دور جا چھپی تھی ۔۔۔
بس ایک خیال تھا تو وہ یہ کہ وہ ٹھیک ہو ۔۔
اسے یوں لگ رہا تھا کہ اگر وہ سامنے نہ آئی تو اس کا سانس روک جاے گا ۔۔
ڈھرکن بند ہوجاے گی ۔۔۔
” حور پلیزززز سامنے آؤ ۔۔۔ ” تھک کر وہ یونہی گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔
برساتی بارش سے بے نیاز ۔۔ سڑک پر اس طرح بیٹھے وہ کوئی دیوانا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔
جس اپنا کوئی ہوش نہیں تھا ۔۔
صرف اپنے محبوب کی فکر تھی ۔۔
بارش سے اسے ٹھنڈ لگ سکتی تھی لیکن اسے اس کی پرواہ نہیں تھی ۔۔
اسے شدت سے اپنی اس سنگین غلطی کا احساس ہو رہا تھا ۔۔۔
کتنی دیر بارش میں بیٹھا کے بعد وہ اٹھا اور ہارے ہوئے قدم اٹھاتا گاڑی کی جانب بڑا ۔۔کے اس کی غیر ارادی نظر سڑک کے کنارے پر واقع درختوں پر گئ ۔۔ اسے وہاں کسی کے وجود کا گماں ہوا ۔۔ اس نے تھورا قریب ہو کر دیکھا تو وہ حور تھی ۔۔۔جو ٹانگیں اکھٹی کیے گھٹنوں پر سر رکھے پر بیٹھی تھی ۔۔۔
اسے دیکھ کر جہاں آہل کو ڈیروں سکون اپنے اندر سرعت کرتا محسوس ہوا وہنی پرشانی بھی کہ اتنی دیر سے وہ اسے آوازیں دے رہا تھا وہ جواب کیوں نہیں دی رہی تھی اگر اس کی نظر اس طرف نہ جاتی تو مگر اس نے جواب کیوں نہیں دیا ۔۔۔
وہ پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا ۔۔
” حور ۔۔۔ ” اس نے نرمی سے اس کا نام لیا ۔۔ لیکن سامنے موجود وجود بلکل ساکت تھا ۔۔
” حور ۔۔۔” اس نے بار اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلایا ۔۔ اس کے ہلاتے ہی وہ ایک طرف کو گر گی ۔۔اس کا چہرہ بلکل سفید پر چکا تھا ۔۔ ہونٹ نیلے ۔
آہل تو اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا ۔۔۔
اس نے جلدی سے اسے اٹھا کر اپنے ساتھ لگایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی نفض چیک کی ۔۔ جو دھیمی چل رہی تھی ۔۔
اس کے لیے یہی بہت تھا کہ وہ چل رہی ہیں ۔۔۔
اس کے بےجان وجود کو نرمی سے اپنے بازؤں میں کے کر وہ جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھا ۔۔ اسے گاڑی میں بیٹھا کر اس نے جلدی سے ہیٹر آن کیا ۔۔ اور خود بھی اس بیٹھ گیا ۔۔ کیونکہ وہ خود بھی بھیگ گیا تھا ۔۔۔
گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے اس نے مسکان کا نمبر ملایا ۔۔ اسے یقین تھا کہ اب تک تو سب لوگ واپس حویلی پہنچ چکے ہونگے ۔۔۔ یا پھر ونہی روک گے ہونگے ۔۔
ایک بار تو بل جاتے جاتے فون بند ہوگیا ۔۔۔اس نے جھنجھلا کر دوبارہ کال کی ۔۔ وہ ساتھ ساتھ ایک پریشان سی نظر حور پر بھی ڈالی ۔
اب کی بار دو تین بل کے بعد فون اٹھا لیا گیا تھا ۔
” ہیلو ۔۔۔ ” اس کی نیند میں ڈوبی آواز آئی ۔۔۔
” مسکان بیٹا ۔۔۔ مجھے آپ کی مدد چاہیے ۔۔ ” دوسری طرف مسکان آہل کی پریشان آواز سن کر فوراً سیدھی ہوئی ۔۔۔ نیند بھی بھک سے اڑ گی۔ ۔
___________________________
آہل حور کا ٹھنڈا ہاتھ تھامے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا کچھ دیر پہلے اس کا جسم کپکپا رہا تھا لیکن پھر کمرے میں ہیٹر کی گرمائش کی وجہ سے ماحول پرسکون ہوا تو اس کی کپکاہٹ بھی کم ہوئی ۔۔۔۔۔ اس کا ہاتھ پکڑنے کا مقصد اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو گرمائش پہنچنا تھا ۔۔
مسکان سے کہہ کر اس نے حور کے کپڑے چینج کر والیے تھے اور خود بھی اس دوران کپڑے چینج کر لیے تھے ۔۔
مسکان کافی بنانے گی ہوئی تھی ساتھ میں کچھ ہلکا پھلکا کھانے کے لیے بھی ۔۔
آہل کی نظر اس کی طرف تھی لیکن دماغ کہنی اور الجھا ہوا تھا ۔۔۔ اس نے ایک بندے کو کہہ کر حور پر نظر رکھنے کا کہا تھا ۔۔ تاکہ پتا چل سکے جس نے تین سال تک طلاق کا مطالبہ نہیں کیا اب کیا ایسا ہوا کے یکدم اس طرح کر رہی ہے ۔۔ وہ وہاں گیا ہی اس مقصد کے لیے تھا ۔۔۔
پھر ایک دن اسے اسی بندے کی طرف سے کچھ تصویریں موصول ہوئی ۔۔
جس میں حور کسی اور شخص کے بازوں میں تھی ۔۔۔ (یہ تصویر حور کی آکسیڈنٹ والی تھی لیکن لینے والے نے اس طرح لی تھی کے اسے دیکھ کر کچھ اور لگتا تھا ۔۔)
اس کے کال کرنے پر کسی انجان مرد کا فون اٹھنا ۔۔ ( اور یہ تب کی بات ہے جب حور کا فون حنان کے پاس رہ گیا تھا ۔۔۔)
اور پھر اس طرح فہد کے کندھے پر سر رکھنا۔۔۔
کہتے ہیں نہ انسان بات کو اپنے رنگ میں دیکھنا زیادہ پسند کرتا ہے ۔۔ اب وہ فوٹوگرافر نے اسے تصویر جان کر اس طرح بھیجی تھی تاکہ اس کی کمائی جاری رہے ۔۔
پھر آہل نے بھی انہی تصویروں کو مدنظر رکھ کر حور کے ہر عمل کو دیکھا ۔۔اس کی آنکھوں پر غلط فہمی کی پیٹی بند چکی تھی ۔۔ وہ صرف تصویر کا ایک دیکھ کر اسے مکمل مان چکا تھا ۔۔
اور اب اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔۔ لیکن ایک چیز جو اس کو سمجھ آئی وہ یہ کہ وہ اسے تکلف نہیں دے سکتا ۔۔ اور نہ ہی اس سے دور رہ سکتا ہے ۔۔۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اس کا دل حور ک طلبگار تھا ۔۔۔
” آہل بھائی ۔۔۔ یہ لیں ۔۔۔ ” مسکان ٹرے پکڑ کر کمرے میں داخل ہوئی اور ایک نظر حورین پر ڈال کر ٹرے اس کے پاس ٹیبل پر رکھ دی جس میں کافی کا کپ ۔۔ دوتین سلائسز اور گر دودھ تھا ۔۔
” تھانکس گڑیا ۔۔ بس ایک اور کام کر دیں ۔۔ آپ کو پتا ہے نا کہ میرے کمرے میں میڈسن کہاں پڑی ہوئی ہیں ۔۔۔ بس مجھے وہ لا دیں ۔۔ ” اس کی بات پر وہ سر ہلاتے ہوئے دوبارہ کرنے سے نکل گی ۔۔
” حورین ۔۔ ” اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کا ٹمپریچر چیک کیا ۔۔ جو اب نورمل ہو رہا تھا پہلے جہاں اس کا جسم ٹھنڈا تھا اب وہ دھیرے دھیرے گرم ہو رہا تھا ۔۔
اس کے پکڑنے پر حورین نہیں دیھرے سے آنکھیں کھول کر پھر بند کر لی ۔۔ اس کو ہوش آ رہا تھا کہ جسم میں جان بلکل نہیں تھی ۔۔۔
” یہ کھا لیں ۔۔۔ ” آہل سلائسز اس کے ہونٹوں کے پاس کر کے بولا ۔۔ مگر حور میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ کچھ کہہ پاتی ۔۔
آہل نے خود ہی اس کا سر سرھانے کی مدد سے اونچا کیا ۔۔ اور پھر آرام سے اسے سلائسز اور دودھ پلایا ۔۔ اس دوران اس نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا ۔۔
وہ اس کو نازک گڑیا کی طرح اس کو ٹریٹ کر رہا تھا ۔۔
” یہ لیں بھائی ۔۔ ” ابھی وہ اسے دودھ ہی پلا رہا تھا کہ مسکان دوائی لے کر آگی ۔۔
آہل کا اس طرح حور کا خیال رکھتے دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوئی تھی ۔۔
” تھانکس گڑیا ۔۔۔ اچھا اب میں ان کو دوائی کھلا رہا ہوں۔۔۔ اگر ان کی طبعیت پھر خراب ہوگی تو ۔۔ آپ مجھے مسڈکال کر دینا ۔۔۔ ” آہل نے کپسل پیس کر حور کو کھلائی اور کمرے سے نکل گیا ۔۔
یکدم اسے یاد آیا کہ اس کی کافی کمرے میں ہی رہ گی ہے اس لیے وہ واپس آیا ۔۔ مسکان شاید باتھروم تھی۔۔ آہل جھک کر اپنا کپ پکڑنے لگا ۔۔ کہ اس نظر پھر حور پر گی ۔۔اس کے ہونٹ ان نیلے نہیں تھی چہرے کی رنگت بھی اب واپس آرہی تھی کالے لمبے بال سھڑانے پر بکھرے ہوے تھے ۔۔ وہ اس وقت اتنی مصعوم اور دلکش لگ رہا تھا کہ آہل خود کو نہ روکا پایا اور اس نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔ اور مسکان کے آنے سے پہلے ہی وہ کمرے سے نکل گیا ۔۔۔
وہ واقعی ہی عجیب تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
