Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی کا فکشن فارم ہاؤس میں تھا ۔۔۔
گھر والے تو سب ہی وہاں پہنچ چکے تھے ۔۔بس آہل تھا جو ان کے ساتھ نہیں آیا کہاں گیا کسی کو نہیں پتا تھا ۔۔
بلال صاحب مینیجر سے ڈیکوریشن ڈسکس کر ہے تھے ۔۔بڑے سے لان مین ورکر ادھر اُدھر پھر رہے تھے ۔۔
حورین جو بی جان کی بات سن کر اپنے کمرے میں جا رہی تھی کہ راستے میں ایک ورکر نے اسے روکا ۔۔۔
” میم ۔۔۔ ” حورین جو اپنے دیھان میں جا رہی تھی اس کی پکار ان کر پلٹی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
” وہ آپ کو وہاں میڈم بولا رہی ہیں ۔۔۔ ” ورکر کہ بات سن کر حورین نے اچھنبے سے اسے دیکھا ۔۔
” کون سی میڈم ۔۔۔۔ ” ورکر اس کا سوال سن کر گھبرایا تھا مگر حورین نوٹ نہیں کر پائی ۔۔۔۔
” میم آپ خود دیکھ لیں ۔۔۔ مجھے نام نہیں پتا ۔۔۔ ” اس کی بات سن کر حورین نے سر ہلایا اور اس کے پیچھے چل دی ۔۔
وہ ورکر کے پیچھے چل رہی تھی کہ یکدم رک گی ۔۔ کیونکہ وہ جس طرف جا رہی اس جگہ کوئی نہیں تھا یہ جگہ فارم ہاؤس کے بیک پر تھی اور اکثر بند رہتی تھی یہ بات مسکان نے ہی اسے بتائی تھی اسے گھبراہٹ ہوئی ۔۔۔ اس ورکر کا دھیان اس کی طرف نہیں تھا وہ سیدھا چلا جا رہا تھا ۔۔
حورین دیھرے سے پلٹ کر واپس جانے لگی کہ اس وقت اس کا کسی سے ٹکر ہوئی ۔۔۔
اس کے سنبھلنے اور سمجھنے سے پہلے ہی اس کے پیچھے کھڑے شخص نے اس کے منہ پر رومال رکھ دیا ۔۔
اس نے خود کو آزاد کرنے کی جہدوجہد کی لیکن آنکھوں کے آگے چھائے اندھیرے نے اسے بےبس کر دیا ۔۔
” تم جاؤ تمہارا کام یہی تک تھا ۔۔ اور یہ لو تمہاری باقی کی رقم ۔۔۔ ” بے ہوش ہوئی حورین کو بازوں میں نرمی سے سنبھالتے اس شخص نے سامنے کھڑے ورکر کو اپنے جیب سے نکال کر چیک دیا ۔۔۔جسے اس نے فوراً سے اس سے جھپٹنے کے انداز میں لیا ۔۔۔اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
” بس ۔۔ اب وہ وقت دور نہیں جب آہل تمہیں چھوڑ دے گا ۔۔ پھر میں مکمل طور پر تمہیں پا سکوں گا ۔۔ ” اس کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے وہ سرشار سے انداز میں بولا ۔۔ اس کے لہجے میں خوشی تھی جیسے اس کو یقین ہو کہ وہ اپنے مقصد میں ناکام نہیں ہوگا ۔۔۔
وہ اسے نرمی سے اپنے بازؤں میں لیے سامنے بنے کمروں میں سے ایک میں داخل ہوا ۔۔۔ جہاں پہلے سے مہک موجود تھی ۔۔۔اسے اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ جلدی سے اس کی جانب بڑھی ۔۔
” فہد ۔۔ تمہیں یقین ہے یہ پلین کام کرے گا ۔۔ اگر کوئی یہاں آگیا تو ۔۔۔ ” مہک اس وقت بھر پور گھبراہٹ کا شکار تھی ۔۔
اس کی بات پر فہد مسکرایا پھر پہلے اس نے نرمی سے حور کو بیڈ پر لٹایا اور تھوری سی جگہ بنا کر اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔
” سو فیصد کام کرے گا ۔۔ ویسے بھی یہ جگہ سنسان پڑی رہتی ہے اس لیے سب اسے آسیب زدہ سمجھتے ہیں ۔۔ یہاں آنے کی کوئی غلطی نہیں کرے گا ۔۔ ” فہد بات اس سے کر رہا تھا لیکن اس کی نظریں حوریں کے مصعوم اور بے داغ چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔
” ہممم اس کو ہوش کب تک آے گا ۔۔۔ ” ایک زہریلی نظروں سے سامنے پڑے بےہوشی وجود کو دیکھا ۔۔ مہک کا دل کر رہا تھا کہ وہ اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دے ۔۔۔ بےہوشی میں اتنی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔ اس کی لہجے میں بھی زہر بھرا ہوا تھا ۔۔۔ جس پر فہد نے مڑکر اسے دیکھا ۔۔
” دو ۔۔ تین گھنٹے تک اور تمہارے لیے یہ بہتر ہوگا کہ اپنی یہ زہر آلودہ نظریں اس سے دور رکھو ” فہد کو مہک کا یوں حورین کی جانب دیکھنا زرہ بھی پسند نہیں آیا تھا ۔۔
” اوکے ۔۔ اوکے اب آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔ ” اس وقت اس سے بگاڑنا اس کے لیے بہتر نہیں تھا ۔۔ کیونکہ اس کا اور فہد کا مقصد ایک ہی تو تھا ۔۔ اس لیے وہ اس کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر بولی ۔۔
” وہ میں دیکھ لو گا ۔۔ ابھی تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔ ” فہد کی بات پر وہ غصے سے وہاں سے نکل گی ۔۔۔
” جلد ہی ملے گۓ سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ ” فہد ہولے سے اس کے گال سہلاتا وہاں سے اٹھا اور دروازہ بند کر کے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
اب سے انتظار تھا تو بس آہل کا ۔۔
______________________
وہ شرجیل کی طرف دیان کو لینے آیا تھا۔۔
مگر ان کی آپس میں بحث شروع ہوگی تھی ۔۔
” آہل تمہارا دماغ تو پھر گیا ۔۔۔ آج تیری مہندی ہے ۔۔۔ اگر داجی نے اسے دیکھ لیا تو مہندی روک کر تجھے گھر سے باہر نکال دینا ” شرجیل نے پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔ جو وہ اتنے دنوں سے کر رہا تھا ۔۔لیکن وہ اپنی بات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔
” انہوں نے پہلے کون سا کیا ۔۔ سب دیا ۔۔بس اعتبار نہیں دیا ۔۔ ایک بار اس دن میری بات سن لیتے تو آج یہ تین سال کا وقفہ نہ آتا ۔۔ راضی تو ہوگیا تھا میں ان کی بات پر کر تو لیا تھا نکاح ۔۔۔ پھر یہ بے اعتنائی کیوں کی انہوں نے ۔۔ کتنی زندگیاں برباد ہوئی ۔۔۔ تین ۔۔ ایک وہ مصعوم ۔۔ ایک اس کی ماں ۔۔ اور ایک میں ۔۔۔ تین سال ہوگے تجھے بھی مجھے بھی اس لڑکی کو ڈھونڈتے ہوے ۔۔ جس نے داجی سے بکواس کی تھی ۔۔۔ لیکن ہوا کیا ۔۔ نہ وہ ملی ۔۔ نہ داجی کو میں ثابت کر پایا کہ میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ میں تھک گیا ہوں ۔۔۔ ان کی نظروں میں آ پنے لیے بےگانی دیکھ کر ” وہ تو آج پھٹ پڑا ۔۔ اندر ابلتا سارا ابال باہر نکل رہا تھا جو وہ دباۓ بیٹھا تھا ۔۔ اس کی حالت دیکھ کر شرجیل بھی پریشان ہوگیا ۔۔۔
” دیکھ یہ میرا تجھ سے وعدہ ہے ۔۔ وہ لڑکی خود آئے گی ۔۔ وہ سب سچ بتائی گی ۔۔” شرجیل اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خلوص دل سے وعدہ کیا ۔۔۔
اسے معلوم نہیں تھا ۔۔اور بہت جلد قدرت اس کو اس کا وعدہ پورا کرنے کا موقع دینے والی تھی ۔۔جب حقیقت میں اسے لڑکی کا پتا لگانا تھا تو وعدہ پورا کرنا اس کے لیے کتنا مشکل ہونے والی تھا ۔۔اسے وہ خود بھی واقف نہ تھا۔
آہل نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو نورمل کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
جو ابھی اس کے لیے بہت مشکل تھا ۔۔
” تم کل ہر حال دیان کو لے کر آ رہے ہو ۔۔۔۔ نہیں تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں ۔۔” آہل نے دوٹوک انداز میں کہا ۔۔
” مگر اس ۔۔۔ ” شرجیل نے پر کچھ بولان چاہا جسے آہل نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا ۔۔
” میں آج کے لیے تمہاری بات مان رہا ہو ۔۔ مگر کل ہر صورت میں تمہیں دیان کو یہاں لانا ہوگا ۔۔۔ ” اس کا لہجہ اور انداز دونوں دو ٹوک تھے ۔۔ شرجیل کو پتا اب مزید بحث کا کوئی فایدہ نہیں اس لیے وہ چپ ہوگیا ۔۔
” بابا ۔۔۔ ” دیان جس کی موجودگی کو وہ دنوں فراموش کر گئے تھی اس کی سہمی آواز سن کر آہل کو خود پر تاؤ آیا ۔۔ وہ ضرور اس کا غصہ دیکھ کر ڈر چکا تھا ۔۔ آہل نے خود کو کمپوز کیا ۔۔ اور صوفے پر بیٹھے دیان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھاتے ہوے اسے اپنے پاس بلایا ۔۔ دیان اس سے ڈر گیا تھا اس لیے وہ اس کی طرف نہیں بڑھا ۔۔ جس پر آہل نے خود ہی جھک کر اسے گود میں اٹھا کر سینے سے لگایا کر کھڑا ہوا ۔۔
” جی بابا کی جان ۔۔ بابا سے ناراض ہے۔ ” اس کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوے اس نے پیار سے پوچھا ۔۔۔
” ڈر ۔ لگد رہا ہے ۔۔ ” دیان اپنا منہ اس کے سینے میں چھپاتے ۔۔سہماۓ ہوے انداز میں بولا ۔۔ اس کا چھوٹا سا جسم آہل کے مضبوط بازؤں میں چھپ گیا تھا ۔۔
آہل کو پتا تھا کہ وہ اس سے ڈر گیا ہے لیکن اس نے پھر بھی پوچھا ۔۔
” کس سے ڈر لگ رہا ہے میرے جان کو ۔۔۔ ” وہ اسے یونہی سینے لگاۓ ۔۔
” بابا سے ۔۔۔ “
” بابا کیا کریں کے بابا کی جان کو بابا سے ڈر نہ لگے ۔۔ ” آہل اب اسے انداز میں بولا ۔۔۔
اب کی بار دیان کچھ نہیں بولا جس پر آہل نے اس کے چہرے کی جانب دیکھا ۔۔ اور پھر ایک شفقت سے بھرپور مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔ دیان اس کے سینے سے لگے ہی سو چکا تھا ۔۔
ایک سکون تھا جو اسے اپنے روگ پے میں اترتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
اس نے ایک بار پھر اس کے ماتھے پر سر کو بوسا دیا ۔۔۔
” آہل اب تمہں نکلنا چاہے ۔۔ آج تمہاری مہندی ہے ۔۔۔ ” شرجیل کی بات پر اس نے سر ہلایا پھر دیان کو اس کے کمرے میں لٹا کر شرجیل سے مل کر وہاں سے نکل گیا ۔۔
________________________
اس کی گاڑی اندر داخل ہوتا دیکھ کر فہد جو اسی کے انتظار میں ٹیرس پر کھڑا تھا مکروہِ سا مسکرایا ۔۔۔
اب اس کے اگلے اور نہایت اہم قدم اٹھانے کا وقت آگیا تھا ۔۔۔ ویسے بھی حور کو بھی ہوش آنے والا تھا ۔۔۔تو جتنی جلدی ہو سکے اسے اپنا کام کرنا تھا ۔۔اس لیے وہ ماریہ جو میسج کرتے گھر کی پیچھے کی طرف چلا گیا ۔۔
” آہل مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔ ” مہک کو جیسے ہی فہد کا میسج ملا وہ سیدھا آہل کے پاس آئی جو ابھی اندر آیا ہی تھا مہک کہ اس طرح بولنے پر اس کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
” کیا بات کرنی ہے ۔۔۔۔ ؟” سفید شلوار قمیض اس پر بلیک وسٹکورٹ پہنے وہ اتنا خوبرو لگ رہا تھا کہ مہک کا اس پر سے نظر ہٹانا مشکل ہو رہا تھا ۔
” وہ ۔۔۔ یہاں نہیں ۔۔ تم آؤ میرے ساتھ ۔۔ ” مہک اس لیے پیچھے بنے کمروں کی طرف بڑھی اور ساتھ ہی موبائیل پر فہد کو ڈن کا میسج کیا ۔۔
جہاں فہد پہلے سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔ میسج ملتی ہی وہ مسرور سا مسکرایا اور حورین کی جانب دیکھا ۔۔ جو شاید اب ہوش میں آ رہی تھی ۔۔۔
” چلیں سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ گیم آن کریں ۔۔ ” جب باہر قدموں کی آواز آئی تو حور کے پاس گیا ۔۔ دروازے اس نے جان کر آدھ کھلا چھوڑا تھا ۔۔ تاکہ آواز آسانی سے باہر جا سکے۔ ۔۔۔
” حور ۔۔تم پریشان نہ ہو ۔۔ میں ہو نہ تمہارے ساتھ ۔۔۔” اس کے دونوں کھندوں سے پکڑ کر وہ اس اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا ۔۔ وہ جو ابھی پوری طرح ہوش میں نہیں آئی تھی اسے سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے اسے اپنے سر میں دھماکے ہوتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔فہد نے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھا ۔۔
” کیا بات کرنی ہے جلدی بولنے ۔۔۔ ” اسے اس طرح مہک کا چپ ہونا کوفت میں مبتلا کر رہا تھا ۔۔۔
” پتا نہیں تم میری بات کا یقین کرو کے نا ۔۔۔ لیکن میں پھر بھی تمہیں بتانا چاہتی ہو ۔۔ ” انگلیوں کو مڑورتے ۔۔ مہک نے پریشان سی شکل بنائی ۔۔۔
” اب بتا بھی چکؤ ۔۔ یا میں جاؤ ۔۔۔ ” اب کہ وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔ اس کا اس طرح پہلیوں میں بات کرنا اسے کوفت زدہ کر رہا تھا ۔۔۔
” وہ بات یہ ہے کہ جب اس دن ہم شاپنگ پر گۓ تھے تو میں نے حور کو اپنے پیچھے آتے لڑکوں سے اشاروں سے بات کرتے دیکھا تھا ۔۔۔ پھر میں نے پرسوں بھی اسے فہد سے بات کرتے دیکھا اور آج ۔۔ ” اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگی ۔۔۔ اور اس کا چہرہ دیکھنے لگی کہ آیا اس کی باتوں کا اس پر کتنا اثر ہوا ہے ۔۔۔ لیکن دوسری طرف آہل کا چہرہ سپاٹ تھا جس کی وجہ سے وہ کوئی اندازہ نہیں کر پائی ۔۔۔
” آج کیا ۔۔۔ ” فہد کے اندر اس کی باتوں سے ابال اٹھ رہا تھا لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔
” اور آج میں نے حور کو فہد سے بات کرتے دیکھا تھا ۔۔ وہ دنوں یہاں ملنے والے تھے ۔۔۔ آہل کی میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔ اس لیے تمہیں اس طرح بے خبر رکھنا نہیں چاہتی ۔۔۔ یہ حوریں بہت خراب لڑکی ہے ۔۔ وہ تمہیں ڈیزرو نہیں کرتی ۔۔۔ ” مصعوم سی شکل بنا کر وہ اس انداز میں بول رہی تھی کہ کہنی سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔
آہل کے چہرے پر مہک کی محبت والی بات سن کر ناگواری آئی جسے اس نے چھپانے کی کوشش نہیں کی ۔۔ لیکن جب اس فہد کی آواز آئی تو وہ چونکا اور آواز کے تعاقب میں چلتے اس کمرے کی طرف آیا جس کا دروازہ آدھ کھلا تھا ۔۔۔
جب وہ کمرے میں آیا تو اندر کا منظر دیکھ اسے ہاتھوں اور چہرے کی رگیں تن گی ۔۔۔ اس کے جسم میں آگ لگ گی تھی ۔۔
جب اس نے حور کو فہد کے کندھے پر سر رکھے دیکھا ۔۔ اس دنوں کی پشت دروازے کی طرف تھی ۔۔اس لیے آہل ان دنوں کو چہرے دیکھ نہیں پایا۔۔
” جان ۔۔ مجھے پتا ہے ۔۔ کہ تم مجھ سے بہت پیار کرتی ہو ۔۔ اور بہت جلد اس آہل نامی بلا سے پیچھا چھڑا کر میرے پاس آجاؤ گی ۔۔۔ ” اپنے پیچھے آہل کی موجودگی محسوس کر کے وہ پھر بولا ۔۔۔ حور اب ہوش میں آگی تھی اور باتیں بھی اس کی سمجھ میں آ رہی تھی خود کو فہد کی گرفت میں دیکھ کر وہ گھبرای اور اس باتیں سن کر تو اس کی چودی طبق روشن ہو گے ۔۔۔۔اور اس نے خود کو اس کی گرفت سے نکلا کہ اسی وقت آہل کی آواز سن کر اسے اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔۔ اننننففففففف۔۔۔۔۔۔ ” ایک دم آہل دھاڑا ۔۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا جہاں آہل غصناک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا حور کو اس کی نظروں سے آگ اگلتی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اس کے قدم لڑکھڑائے ۔۔۔ سر میں درد کی شدت پر یہ سب ۔۔ وہ گر جاتی اگر فہد بروقت اسے نہ پکڑتا ۔۔
آہل لمبے قدم اٹھتا اس تک آیا اور حور کا بازوں میں مضبوط گرفت میں لیتے اس کو جھٹکے سے اس سے دور کیا ۔۔۔۔
” تمہیں تو میں بعد میں دیکھتا ہوں ۔۔۔ ” انگلی اٹھا کر اسے ورن کرتے وہ حور لیے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہ سے نکل گیا ۔۔۔ اس کی گرفت اس کے بازوں پر اتنی مضبوط تھی کہ حور کولگا کہ اب اس کا بازوں ٹوٹا تو تب ۔۔۔
” اب کیا ہوگا ۔۔۔۔ ” ان کے جانے کے بعد مہک اس کے قریب آئی ۔۔
” اب جو ہوگا ۔۔۔ وہ آہل خود کرے گا ۔۔ ہمارا کام تھا تلی جلانا ۔۔۔ آگ کو بھڑکاۓ گا وہ خود ۔۔۔ ” شیطانی مسکراہٹ سے بولتے وہ بیڈ پر آکڑو بیٹھ گیا ۔۔۔
” بھائی آپی آپ کے ساتھ ہے ۔۔۔ میں کب سے آنکھیں ڈھونڈ رہی ہوں ان کو چلیں آئے آپی پالر سے لڑکیاں آگی ہیں ۔۔۔ ” مسکان جو کب سے حور کو تلاش کر رہی تھی اسے آہل کے ساتھ دیکھ کر پرسکون ہوئی ۔۔۔
” مسکان گڑیا مجھے آپ کی آپی سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔ آپ بعد میں آجانا ۔۔۔ ” حور کے بازوں پر اس نے اپنی گرفت اور مضبوط کی ۔۔ اسنے اپنے لہجے اور چہرے کے تاثرات پر جس طرح قابو کیا تھا یہ اسے پتا تھا ۔۔۔
حور کا لگا اب تو پکا اس کے بازوں کے ٹوٹ جانا ہے ۔۔۔ تکلف کی جیسے انتہا ہوگی تھی اس کا پورا چہرہ لال ہوگیا تھا ۔۔ آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے ۔۔
” آہ ہ ۔۔۔ ” بیساختہ اس کے منہ سے کراہ نکلی
” آپی آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔ ” مسکان فورن اس کی جانب بڑھی ۔۔
” مسکان آپ ایسا کرو کہ پانی لے کر آؤ ۔۔۔ میں آپ کی بھابھی کو اپنے کمرے میں لے کر جا رہا ہو ۔۔۔ ” مسکان کو کام لگا کر وہ حور کو لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔ کمرے میں داخل ہو کر اس نے حور کے بازوں کو چھوڑ ا اور اس کا منہ دابوچ کر اپنے قریب کیا ۔۔۔۔ ہ جو بازوں کی تکلف سے نہیں سنبھالی تھی اس کے اس طرح کرنے سے سے خوفزاد ہو کر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ آنسو اب پلکوں کی بار تور کر نکل کر اسے کے گال پر آ رہے تھے ۔۔۔
” پتا اس وقت میرا دل کر رہا ہے کہ تمہیں زندہ گاڑ دو ۔۔ ” اس کے جبڑے کو اور زور سے پکڑے وہ اس جنونی انداز میں بولا تھا کہ حور کو اپنی سانسیں روکتی محسوس ہوئی تھی ۔۔
” لیکن نہیں پھر سوچتا ہوں یہ تو بہت کم ہے ۔۔۔۔ جو مزہ دھیرے دھیرے جلانے کا ہے ۔۔۔وہ ایک ہی بار مارنے میں کہاں ۔۔۔ ” تمسخر آمیز انداز میں بولتے آخر میں وہ ہنسا تھا ۔۔۔
” دیکھیں آپ ۔۔ غلط سمجھ رہےہیں ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ۔۔۔ ” حور نے اپنے صفائی دینے کی کوشش کی ۔۔۔۔ جس مشکل سے وہ بولی تھی اسے پتا تھا ۔
” بلکل سہی کہا میں غلط سمجھا تھا تمہیں ۔۔ لیکن اب سمجھ گیا ہوں ۔۔۔ ” وہ زومعنی انداز میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے بولا تھا ۔۔اس کی نظروں میں موجود حقارت اور نکلتی چنگاریاں ۔۔۔۔حور کو بھسم کر رہی تھی ۔۔۔
” چلی جاؤ ۔۔ دفاع ہو جاؤں ۔۔ اس سے پہلے کہ میں واقعی ہی تمہارا قتل کر دوں نکل جاؤ۔۔ ” اسے دروازے کی جانب دھکا دے کر وہ دھارا ہی تو تھا ۔۔۔ اگر کمرہ ساؤنڈ پروف نہ ہوتا تو اس کی آواز سن کر اب تک سب جمع ہو چکے ہوتے ۔۔
حور نے بامشکل خود کو گرنے سے بچایا ۔۔ اور بہتے آنسو کے ساتھ کمرے کا دروازہ کھول کر بھاگنے کے انداز سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔
اتنی زلت ۔۔۔ سے بہتر تھا کہ وہ اسے خود ہی مار دیتا ۔۔
مگر وہ بے خبر تھی ۔۔ ابھی تو یہ شروعات تھی ۔۔۔
_____________________________
جاری ہے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *