Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25
“آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا ۔۔”
جان ڈاکٹر کے آفس میں ڈاکٹر کے سامنے والی چیئر پر سر جکاۓ بیٹھا ایک ہاتھ سے ٹیبل پر پڑا پیپر ویٹ گھما رہا تھا ۔۔ اس کا چہرہ ہمشہ کے برعکس سرد تاثرات کے سے پاک تھا تھا ۔۔۔نیلی آنکھیں گھومتے ہوے پیپر ویٹ پر تھا ۔۔۔
وہ جب ہاسپٹل پہنچا تھا تو نرس سے ڈیرئیک کی کنڈیشن پوچھنے پر جب اس نے بتایا کہ ڈیرئیک کی کنڈیشن سیریس تھی تو اسے ایما کی ڈریسنگ کا کہہ کر وہ سیدھا ڈاکٹر کے پاس آیا بات کرنے لیکن ڈاکٹر کی سیٹ پر موجود شخصیت کو دیکھ کر اسے یوں محسوس ہوا تھا جیسے میلے میں گم ہو جانے والے بچے کو اچانک کوئی اپنا مل جائے ۔۔
تب سے وہ آفس میں ہی تھا ۔۔۔
” میں یہاں ہی کام کرتا ہوں۔۔ ہاں بس ہوا یہ کہ میں نے ڈیرییک کا کیس خود لیا تھا۔۔ جب میں نے اسے دیکھا تو مجھ سے رہا نہیں گیا ۔۔۔ اس کی کنڈیشن ہے بھی اتنی سیریس ۔۔ ہاتھ پاؤں پر بھی فکیچر ہے ۔۔ لیکن جس چیز کا زیادہ ڈر ہے وہ اس کی سر کی چوٹ کا ہے ۔۔ ابھی بھی بس میں کچھ رپورٹ کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔ اندر ڈاکٹر اس کی باقی ڈریسنگ کر رہے ہیں “
ڈاکٹر عبد العلیم اس کے چہرے کے تاثرات کا بغور معائنہ کرتے ہوے آہستہ آہستہ اسے ساری ڈیٹیل بتا رہے تھے ۔۔ اور جیسے جیسے وہ بتا رہے تھے ویسے ویسے جان کو لگ رہا تھا جیسے اس کا دل کچل رہا ہے ۔۔ اس کی آنکھوں میں ازیت ہی اذیت ارقم تھی جیسے چھوٹیں اسے آئی ہوں ۔۔ تکلیف اسے ہو رہی ہو ۔۔۔
” ڈیڈ ۔۔۔!!!” اس نے کے لہجے میں انجانا سا خوف تھا ۔۔ کچھ اپنا ۔۔ کچھ قیمتی ۔۔۔ کھو جانے کا خوف ۔۔۔ پھر سے تنہا رہ جانے کا خوف ۔۔ صرف اس کے لہجے میں ہی نہیں اس کی نیلی آنکھیں جیسے اس کے خوف کا پتا دے رہی ہو۔۔۔
دو ہی تو لوگ تھی جن کے سامنے وہ اپنا کھولا تھا ۔۔ ایک ڈیرییک اور ایک یہ ۔۔
اس کا ڈیڈ کہنا پر انہیں ہمشہ کی طرح اپنے اندر سکون اترتا محسوس ہوا تھا ۔۔ وہ اس کے لہجے میں چھپے خوف سے بھی واقف تھے ۔۔۔
” اسے کچھ ہوگا تو نہیں نا ۔۔۔ ” جب وہ کچھ نہیں بولی تو اس نے جان نے ان سے خود پوچھا ۔۔۔ وہ بلکل وہی بچہ بن گیا تھا ۔۔ جب اس کی ماں کو آکسیڈنٹ کے بعد یہاں اسی ہسپتال لےکر آیا گیا تھا ۔۔ بس تب اور اب میں فرق یہ تھا تب وہ اس کے لیے صرف ڈاکٹر تھے لیکن آج ۔۔ اب ان کا رشتہ تھا ۔۔ بے شک وہ اس کے سوتیلے باپ تھے ۔۔
لیکن رشتے میں کچھ سگہ سوتیلا نہیں ہوتا ۔۔ یہ ہم خود ہوتے ہیں ۔۔ جو رشتوں کو ۔۔ محبتوں کو پیمانے پر ناپتے ہیں ۔۔ حقیقت میں محبتیں بےغرض ہوتی ہیں ۔۔
” دعا کرو ۔۔۔ ” اپنی سیٹ سے اٹھ کر وہ اس کے پاس آۓ اور اس کے کندھے پر ہاتھ سے تھپکی دے کر اسے حوصلہ دیتے ہوے بولے ۔۔
” میری دعا قبول نہیں ہوتی ۔۔۔ “منہ نیچے کیے وہ جیسے اپنے پیچھلی دعائی قبول نہ ہونے کی وجہ سے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔ تلخی ۔مایوسی ۔۔ناراضگی کیا کیا نہ تھا اس کے لہجے میں ۔۔
” دعائیں قبول ہو جاتی ہیں ۔۔ بس ہم انسان ہی ہیں جو انتظار نہیں کرتے ۔۔ ” ہمشہ کی طرح اپنے شفیق لہجے میں بولتے انہوں کی بات سیدھا اس کے دل کو لگی تھی ۔۔ وہ خاموش ہی ہوگیا تھا ۔۔۔
” موم کیسی ہیں ۔۔ ” تھوری دیر کی خاموشی کے بعد ۔۔ اس نے سر اٹھا کر ان کی جانب دیکھا۔۔۔ اس کی آنکھیں لال تھی پوری ۔۔
” وہ ماں ٹھیک ہو سکتی ہے ۔۔ جس کی اولاد اسے ناراض ہو ۔۔۔۔ ؟؟ ” انہوں نے الٹا اس سے سوال کیا ۔۔ انداز کسی بھی طنز سے پاک تھا ۔
” کم سے کم وہ ٹھیک تو ہیں ۔۔ میرے سے قریب لوگ ہمشہ نقصان اٹھاتے ہیں ۔۔ ” اس نے طنزیہ انداز میں کیا ۔۔
اس کی اس بات پر وہ مسکراے تھے ۔۔ یوں جیسے کوئی بڑا بچے کی مصعوم سے سوال سے یا بات پر مسکراتا ہے ۔۔
” لا حاصل کو روتے ہیں ۔۔
اور حاصل کو رولاتے ہیں ۔۔ “
انہوں نے دیھرے سے اُردو میں یہ شعر پڑھا ۔۔جان کو اُردو آتی تھی لیکن اتنی نہیں ۔۔اس لیے اس نے نا سمجھی سے ان کی جانب دیکھا جو اس کے پاس پڑی چیئر پر اب بیٹھ رہے تھے ۔۔
” آپ کی ماں روز آپ کی راہ تکتی ہے کہ آپ ان کے پاس آؤ گی ۔۔ میں اکثر رتوں کو اٹھ اٹھ کر اسے آپ کے لیے روتے دیکھا ہے ۔۔ آپ کامیاب ہو پیسہ ہے آپ کے پاس ۔۔ مخلص دوست ۔۔ پھر بھی یہ کہہ رہے ہو ۔۔۔ یہ جو آزمائش ہوتی ہیں نا ۔۔۔ یہ امتحان ہے ۔۔۔ انسان
کا ایمان دیکھنے کے لیے ۔۔ اسے مضبوط کرنے کے لیے ۔۔ جو لوگ ان آزمائشوں کو صبر و شکر سے برداشت کرتے ہیں ۔۔ ان کا ایمان اور مضبوط ہوتا ہے ۔۔ ان کو پتا ہوتا ہے کہ اللّٰہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے ۔۔۔جیسے ہم سمجھ نہیں سکتے ۔۔
“قرآن میں ہے ۔۔۔ ( ممکن ہے جسے تم بُڑا سمجھتے ہو وہ تمہارے حق میں بہتر ہو ۔!!( سورہَ بقرہ آیت 216 ) اس سے بھی بڑا ہوسکتا تھا ۔۔ ” آگے وہ کچھ کہتے کہ ڈور نوک ہوا۔۔
وہ واپس اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئے ۔۔
” آجائیں ۔۔ ” ان کی اجازت ملتے ہی نرس اندر آئی اس نے ایک نظر جان پر ڈالی اور ہاتھ میں پکڑی فائیل ان کی جانب کرتے ہوئے پروفیشنل انداز میں بولی ۔۔” سر یہ روم نمبر 21 کے پیشنٹ کی رپورٹس آگی ۔۔
” اوکے ۔۔ تھانکس ۔۔ ” انہوں نے روپوٹ اس کے ہاتھ سے لی ۔۔ روپوٹ دے کر نرس واپس چلی گی ۔۔۔ وہ روپورٹ دیکھنے لگے ۔۔ جبکہ جان ان کی باتوں کے سحر میں تھا ۔۔
رپورٹ دیکھ کر وہ سیٹ سے اٹھے اس کا کندھا ایک بار پھر تھپاتھے ہوے دروازہ کھول کر باہر نکل گئے ۔
_________________________
ایما کو جان کی سمجھ نہیں آسکتی تھی کہ یہ بات اس نے یہ بات مان لی تھی ۔۔
ہسپتال میں آنے کے بعد وہ اسے چھوڑ کر نرس کو کچھ کہہ کر اندر ڈاکٹر کے پاس چلا گیا تھا جیسے کے وہ اکیلا آیا ہو ۔۔
ایما کو پتا نہیں چلا تھا کہ اس نے نرس کو کیا کہا تھا لیکن جب اس کے پاس آئی اور اس کے ہاتھ کی ڈریسنگ کی تو اسے سمجھ آگی تھی کہ اس نے نرس کو اس کی زخم دیکھنے کا کہا تھا ۔۔
مطلب وہ اس کے تکلف سے بے خبر نہیں تھا ۔۔۔
نرس اس کے ہاتھ پر کریم لگا کر فارغ ہو گی تھی اب اس کے پاؤں پر لگا رہی تھی جو اس نے سٹول پر رکھا ہوا تھا ۔۔
وہ جان کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔ وہ اسی کی ذات کو جتنا سلجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔ وہ خود ہی اتنا الجھ جاتی تھی ۔۔
کبھی وہ بہت زیادہ کرینگ ہو جاتا تھا ۔۔
کبھی بہت روڈ ۔۔۔
کبھی سوٹ ۔۔۔
کبھی جنونی ۔۔۔
اور کبھی بلکل انجانی ۔۔
” اور کہنی ہے ۔۔۔ ؟؟” نرس نے جب اس کے پاؤں پر بھی کریم لگا کر ڈریسنگ کر دی ۔۔ اب اس سے پوچھ رہی تھی کہ کہنی اور ہو تو وہاں بھی لگا دی ۔۔
اس نے جواب میں بس نہ میں سر ہلا دیا ۔۔
” اسکیوز می ۔۔ ڈیرییک کیسا ہے ۔۔۔” ایما تمام خیالات کو دماغ سے جھکتے ہوئے چیزیں سمیٹتی نرس سے پوچھا جس کے ہاتھ اس کے سوال سن کر روک گے اور اب وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ جیسی کہہ رہی ہو کون ڈیرییک بہن ۔۔
” اوہ میرا مطلب وہ جو ابھی آکسیڈنٹ کا کیس آیا تھا ۔۔۔ ” اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ نرس کو کہاں پتا ہوگا کہ ڈیرئیک کون ہے ۔۔ اس لیے اس نے زیادہ آسان طریقہ سے پوچھا ۔۔
” کیس سریس ہے ۔۔۔ مین پروبلم ہیڈ انجری کا ہے ۔۔ باقی کی تفصیل آپ ڈاکٹر سے پوچھ لینا ۔۔۔ ” اب وہ ہاتھ سے گلو اتر کر اسے کی طرف پین کلر بڑھاتے ہوئے ۔۔۔
ایما نے پین کلر لی اور ٹیبل پر سے پانی کا گلاس اٹھایا اور دوائی نگل لی ۔۔ جو کہ وہ پھنک دیتی اگر نرس سر پر کھڑی نہ ہوتی ۔۔
اس نے دوا نگل کر ناک چھڑای۔۔۔ جب اسے کوئی ناپسندیدہ چیز مجبوری میں کھانی پڑے تو وہ ایسے ہی بچوں کی طرح ناک بھنویں چھڑاتی تھی ۔۔
” تھوری دیر تک پین بھی کم ہوجاۓ گی ۔۔۔ ” نرس اسے کہہ کر باہر چلی کی ۔۔۔ ایما نے ایک بار پھر کمرے میں نظر دوڑائی ۔۔۔ عام کمرہ ہی تھا جیسا ہسپتالوں کا ہوتا ہے ۔۔ چھوٹا سا کمرہ ایک سنگل بیڈ ۔۔ اس کے ساتھ چھوٹی سی ٹیبل ۔۔ اور دائیں طرف کھڑکی ۔۔۔
اس کے دیکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کو یوں لگ رہا تھا جیسے اسے کوئی دیکھ رہا ہے ۔۔
تب کھڑکی والی سایڈ پر کھڑکا ہوا ۔۔۔
سردی کی وجہ سے ونڈو بند تھی ۔۔ کھڑکی گلاس کی تھی جو دھند کی وجہ سے بلر تھی ۔۔۔اس لیے سہی سے سے نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔مگر اسے یوں لگ رہا تھا جیسے کھڑکی کے اُس پار کوئی ہے ۔۔کیونکہ اسے سایہ سا محسوس ہوا تھا ۔۔
وہ بیڈ سے اٹھی ۔۔ اور پاؤں آرام سے زمین پر رکھا ۔۔ نرس نے اسے چلنے سے منع کیا تھا ۔۔
لیکن ہاےےےے یہ تجسس کے مارے لوگ ۔ کہاں باز آسکتے ۔۔
اس نے کھڑکی کے پاس جا کر آرام سے اپنے بائیں ہاتھ سے کھڑکی کھولی کیونکہ بائیں ہاتھ پر ڈریسنگ تھی ۔۔ ویسے بھی اس کی حالت جان کی جاہلانہ گرفت کی وجہ سے زیادہ خراب دی ۔۔
خیر تھوری دیر کی جہدوجہد سے وہ ایک ہاتھ سے کھڑکی کھولنے میں کامیاب ہوگی تھی ۔۔۔
لیکن اتنی میں ہی اس کو سانس چڑ گی تھی ۔۔ چہرہ لال ہوگیا تھا ۔۔ لیکن بھوری آنکھوں اپنی اتنی سی کامیابی پر چمک اٹھی تھی ۔۔
اس نے کھڑکی کھول کر باہر دیکھا ۔۔ مگر باہر کوئی نہیں تھا ۔۔ پھر وہ کھٹکا کیسا تھا ۔۔۔
اس نے الجھ کر ایک بار پھر دیکھا اس بار اس نے باہر پورا باہر نکال کر دیکھا ایک تو یہ دھند بھی دیکھنے میں روکاوٹ بن رہی تھی ۔۔۔
“کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔ ؟؟؟” مزیڈ کچھ دیکھتی کہ پیچھے سے ایک دم جان کی آواز سن کر وہ ڈر کر اچھلی اس سے پہلے اس کا سر اوپر کھڑکی پر پرتا جان نے بروقت اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر اس کا سر کو محفوظ کر لیا ۔۔۔
جان کے اس طرح ایک دم بلانے کی وجہ سے وہ گھبرا گی تھی ۔۔ یہی گھبراہٹ کے آثار اس کے چہرے سے نظر آ رہے تھے ۔۔
” آرام سے ۔۔۔ ” جان نے ایک نظر اس کے گھبراے چہرے پر ڈالی اور ایک اس پیچھے کھولی کھڑکی پر ۔۔۔ اور اس کے کندھے سے پکڑ کر اسے سہارا دیا بیڈ کی جانب لے کر آیا یوں کہ اس کے پاؤں پر زیادہ وزن نہ پڑے ۔۔۔ایما نے ایک نظر اپنے کندھے پر رکھے اس کے ہاتھوں پر ڈالی ۔۔ اور سانس بھر کر رہ گی ۔۔ کیونکہ اتنا تو اسے پتا لگ ہی گیا تھا کہ اسے جتنا منع کرے گی وہ اتنا ہی ضد میں آۓ گا ۔۔۔
اسے اس وقت وہ اس جنونی شخص کے بلکل الٹ تھا ۔۔ جو سب کچھ تباہ کرنے کے در پر تھا جبکہ اس وقت وہ پرسکون سمندر کی طرح جو ہزاروں راز اپنے اندر لیے ہوے تھا ۔۔ جس کے بارے میں بس سمدر کو ہی پتا ہوتا ہے ۔۔
جان نے اسے آرام سے بیڈ پر بیٹھایا ۔۔ یوں جیسے وہ کانچ کی ہو ۔۔۔
بیڈ پر بیٹھ کر ایما کی نظر بیڈ کے ساتھ پڑی ٹیبل پر نظر گی ۔۔ جہاں کافی کا کپ اور سانڈوچ پڑا تھا ۔۔
اسے بیٹھا کر جان کھڑکی بند کرنے چلاگیا ۔۔ جہاں سے آتی سرد ہواؤں نے کمرہ کافی ٹھنڈا کر دیا تھا ۔۔ابھی وہ کھڑکی بند کر ہی رہا تھا کہ اس کی نظر ایک شخص کی جانب پڑی جو جلدی سے مڑا تھا ۔۔ جان کی نظر صرف اس کی بلیک ہوڈی پر پڑی تھی ۔۔
یہ کھڑکی اس سایڈ پر تھی جہاں صرف درخت تھے ۔۔ نہ بیٹھنے کی کوئی جگہ تھی ۔۔ یہ سایڈ سنسان سی تھی ۔۔
وہ پرسوچ نظروں سے اس جانب دیکھا ۔۔ پھر کھڑکی بند کر کے وہ دوبارہ ایما کے سامنے روم میں پڑی واحد چیئر رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔
اس کا چہرہ بلکل سنجیدہ تھا ۔۔ اس لیے وہ کیا سوچ رہا ہے کسی کو نہیں پتا تھا ۔۔
اس نے سانڈیوچ کا ریپڑا کھولا اور اس کے ہونٹ کے پاس کیا ۔۔۔
ایما اس کے اس طرح کرنے پر شرمندہ سی ہوگی ۔۔
” میں کھا لو گی ۔۔ ” اس نے دھیرے سے کہا ۔۔۔
جان نے ہاتھ پھر بھی پیچھے نہیں کیے مجبورََ ایما نے چھوٹی سے بائیٹ لی ۔۔۔
اس کے بائیٹ لیتے جان نے اب کافی کا کپ پکڑ کر اس کی پلایا ۔۔اسی طرح کر کے وہ اس کو سنڈیچ کھلاتا گیا ۔۔ اور ایما بھی چپ کر کھاتی گی ۔۔۔ یہ اور بات ہے کہ اس کا چہرہ جان کے یوں کرنے کی وجہ سے لال ہوگیا تھا ۔۔ جبکہ جان کا چہرہ اس کے برعکس سپاٹ تھا یوں جیسے وہ کوئی formality نبھا رہا ہو ۔۔۔ایما کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ سب کیوں کر رہا تھا ۔۔
” بتایا نہیں۔۔۔؟؟ کھڑکی کے پاس کیا کر رہی تھی ۔۔ ؟؟ ” جب سانڈوچ کی مشکل سے دو تین بائیٹ رہ گی تھی ۔۔ تو جان نے دوبارہ پوچھا ۔۔ اس کی نیلی آنکھیں گہری سے اس کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔
ایما جو اب ڈیرییک کے بارے میں پریشان تھی ۔۔ کہ وہ کیسا ہوا گیا ۔۔ جان نے اس طرح پوچھنے پر اس نے چونک کر اس کی جانب دیکھا ۔۔۔
اس کا چوکنا جان نے اچھے سے محسوس کیا تھا ۔۔
” کچھ نہیں۔ ۔۔ بس ایسے ہی ۔۔ ” ایما نے بات کو ٹالا ۔۔ اسے لگا کے اس کا وہم تھا اور ایسے کوئی ضروری بات نہیں تھی کہ وہ سب کو بتاتی پھرتی اس لیے اس نے بات کو ٹالا تھا ۔۔
” ہممم ..” جان کو اس اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔ مگر اس نے کہہ نہیں ۔۔ اس نے ایما کی اس بات سے اپنا ہی مطلب نکلا تھا ۔۔۔
جو اس کی سب سے بڑی غلطی بنے والی تھی ۔۔
ایک تباہی جو وہ خود اپنے لیے تیار کر چکا تھا ۔۔
پہلے جو کچھ ہوا تھا ۔۔ اس میں اس کا قصور نہیں تھا ۔۔
لیکن اب جو ہونے والا تھا ۔۔ اس کا زمیداری وہ خود تھا ۔۔
جان اس کو سانڈوچ اور کافی ختم کر وائی اور جیب سے موبائل نکالا اور اس میں مصروف ہوگیا۔۔
اس وقت اسے سگریٹ کی شدید طلب ہو رہی تھی ۔۔ لیکن وہ اس وقت ہسپتال میں تھا ۔۔ اس لیے اس نے خود پر قابو پایا ہوے تھا ۔۔ ورنہ اندر ڈیرئیک کی حالت کی وجہ سے جو تباہی مچ رہی تھی ۔۔ اسے لگ رہا تھا وہ اس کو ختم کر دے گی ۔۔ اور اس ویڈیو میں جو حالت تھی اس کے یار کی ۔۔ وہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہی تھی ۔۔ وہ واحد بندہ تھا پیچھے اتنے سالوں میں جسے وہ چاہ کر بھی خود سے دور نہیں کر پایا تھا ۔۔ ڈاکٹر عبد العلیم کی باتوں نے اسے سنھبالنے میں مدد کی تھی ۔۔ ورنہ اس کا دل۔کررہا تھا کہ ہر چیز تباہ کر کے رکھ دے ۔۔۔
” ڈیرئیک کیسا ہے ۔۔۔ ؟؟ وہ ٹھیک تو ہے نا ۔۔ ؟” ایما کے لہجے میں ڈیرییک کے لیے اپنائیت کے ساتھ فکرمندی تھی ۔۔
” ڈاکٹرز نے ابھی سہی سے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ ” وہ موبائیل کہ سکرین کو گھورتا ہوا بولا ۔۔ جہاں ڈیرئیک کے ڈیڈ نمبر شو ہو رہا تھا ۔۔ لیکن اس نے کال نہیں کی تھی ۔۔
اسے پتا تھا ۔۔ اس کی کال ان کے لیے بمب سے کم نہیں ہوگی ۔۔ لیکن پھر بھی ان کو بتانا بھی تو تھا نا ۔۔
ٹھنڈی سانس لے کر اس نے خود کو کمپوز کیا ۔۔
ایما جو اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ اسے ایک پل ہوں لگا جیسے جان کی آنکھیں نمم تھی ۔۔ لیکن اگلے پل جب جان نے لمبی سانس لے کر خود کو کمپوز کیا تب وہاں کچھ نہیں تھا ۔۔ اس کی آنکھیں خشک تھی ۔۔
” ہیلو ۔۔ ” فون کان سے لگا کر وہ نورمل لہجے میں بولا ۔۔
٫ اوہ ۔۔ جان ۔۔ کیسے ہو ۔۔ ” دوسری طرف مسٹر تھامس کی خوشگوار انداز میں بولے ۔۔
” میں ٹھیک آپ کیسے ہیں ۔۔۔” اس نے بھی جو ابََ ان کی خیریت دریافت کی ۔۔
” اس نالائق کے ہوتے میں ٹھیک ہو سکتا ہوں ۔۔ کب سے اسے فون کر رہا ہوں ۔۔ لیکن وہ اٹھا نہیں رہا ۔۔ ” انہوں نے ہمشہ کی طرح ڈیرییک کی شکائیت اس سے کی ۔۔وہ جان کو بھی بیٹوں کی طرح ہی ٹرٹیٹ کرتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے جان ان کے بڑا بیٹے جیسا ہے ۔۔جس سے وہ اکثر اس کے چھوٹے بھائی کی شکائیں کرتے تھے لیکن انہیں نہیں پتا تھا کہ ان کی اس بات نے اس کے دل پر چھڑایا ہی تو چلا دی تھی ۔۔
اس کو خود پر سے ضبط ختم ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
” سر میں ۔۔۔ آپ کو اڈریس سینڈ کر رہا ہوں ۔۔۔ آپ مسسز تھامس کو لے کر آ جائیں ۔۔ ” اس نے ان کو ڈیریکٹ آکسیڈنٹ کا نہیں بتایا ۔۔۔ اسے پتا تھا کہ وہ ہارٹ پیشنٹ ہے ۔۔
دوسری طرف انہیں بھی اس کا سنجیدہ انداز کھٹکا تھا ۔۔
” کیا سب ٹھیک ہے ؟۔۔۔ ڈیرئیک کہاں ہے ۔۔؟” ان کا لہجے انجانے احساس کے تحت کانپا تھا ۔۔
” آپ آئیں پھر میں آپ کو بتاتا ہوں ۔۔ ” اتنا کہہ کر اس نے فون بند کیا اور اٹھ کر باہر نکل گیا ۔۔
ایما کو اس کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ڈیرییک کے پرنٹس سے بات کر رہا تھا ۔۔۔
ایما کا اپنا دل بھی ڈیرییک کے لیے پریشان ہو رہا تھا ۔۔
جان باہر نکالا تو اس کی نظر باہر بیٹھی اولیویا پر پڑی جس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ سر جکاۓ یک ٹک اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کے کپڑے خون سے بھرے ہوئے تھے ۔۔۔
اور یہ خون کس کا تھا ۔۔ یہ جان کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔ہاں یہ خون کتنا قیمتی ہے یہ کوئی اس سے پوچھتا ۔۔۔
اس میں مزید دیکھنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔ اس لیے وہ لمبے لمبے ڈنگ بڑھتا باہر نکالا ۔۔ اور قدرے سنسان گوشے میں آکر اس نے اپنی اندر کی بےچینی پر قابو پانے کے لیے پینٹ کی جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی اور ایک سگرئیٹ نکال کر ہونٹوں میں رکھا ۔۔ پھر لائٹر نکال کر سیگریٹ کے قریب لایا ۔۔کہ کانوں میں ڈیرییک کی آواز گونجی ۔۔
” اوہ بھائی بس کر ۔۔ آگے کم جلے ہوئے ہو جو مزید خود کو جلا رہے ہو ۔۔ ” اسے سگرٹ پسند نہیں تھی ۔۔ اسے لیے وہ اکثر و بیشتر جان کو بھی الٹی سیدھی باتیں کر کے ٹوکتا تھا ۔۔
لائٹر پکڑا ہاتھ کانپ اٹھا ۔۔ لاٹٹر کا شعلہ کا نکل جل رہا تھا مگر اس سے وہ شعلہ سگریٹ کو نہیں لگایا ۔۔ کیونکہ ڈیرییک کہا جملہ اس کے کان میں گونجا ۔۔ ” میں تم سے وعدہ کرتا ہو اگر تم نے ایک یہ سگریٹ پینا بند نہیں کیا تو قسمے میں دھواں بن کر کر تیرے اندر چلا جانا ہے اور وہ تباہی مچانی ہے کہ لگ پتے جاے گے تمہیں ۔۔ “
اس نے سگریٹ ہونٹوں سے نکال کر باہر پھنکی ۔۔ اور لائٹر بھی ایک طرف پھنک دیا ۔۔
اندر گھٹن بڑھ رہی تھی ۔۔
” آہ ہ ہ ہ ۔ح ۔۔ ” ضبط کے خول چھٹک رہے تھے ۔۔
اس نے زور سے اپنا ہاتھ دیوار پر مارا ۔۔
ایک بار ۔۔
دو بار ۔۔۔
تین بار ۔۔۔
یہاں تک کے ہاتھ خون پورا لال ہوگیا تھا ۔۔۔ دیوار بھی خون آلودہ ہوگی تھی ۔۔لیکن اسے تکلیف ہو ہی کب رہی تھی ۔۔
اس نے تھک کر اپنا سر اسی دیوار سے ٹکا دیا ۔۔
” تم ایسا نہیں کروں گے ۔۔ ” اس کی آواز نم تھی ۔۔۔نیلی آنکھوں کے سمندر سے پانے نکل کر اس کے گال بھگو رہا تھا ۔۔
مگر آنکھوں کے سامنے ڈیرییک کا اپنا ساتھ بتیا جانے والا وقت تھا چل رہا تھا ۔۔۔
ڈیرییک کا ہوتا چہرہ گھوم رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
