Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26
مہمانوں کی آمد اور رہنے کے انتظام کے لیے جگہ کم پڑ گی تو ً بلقیس بیگم نے مہک اور مسکان کو حور کے ساتھ روم شئر کرنے کہا ۔۔۔ مہک نے تو صاف منہ پر انکار کر دیا تھا کہ وہ اپنا کمرہ نہ کسی کو دے گی اور نہ ہی کسی کے ساتھ شئیر کرے گی ۔۔جبکہ مسکان آرام سے مان گی ۔۔۔
اور اب وہ اپنا بوریا بسترا ہاتھ میں لیے کانوں میں ہنڈفیری لگاۓ جھومتے ہوئے مگن انداز کر اوپر حور کے کمرے میں جا رہی تھی اس ایک کے ہاتھ میں اس کا سہرانا تھا جس کے کے بغیر اسے نیند نہیں آتی تھی ۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ میں اس نے اپنا سلیپنگ سوٹ پکڑا ہوا تھا وہ اپنے دیھان میں مست ماحول تھی ۔۔ کہ ایک دم اس کا ٹکرا اوپر سے نیچے تیزی اترتے علی سے ہوا ۔۔
” امی ۔۔۔ ” گرنے کے خوف سے اس نے امی کا نام لیتے ہوئے آنکھیں زور سے بند کر لی سامان سارا اس کا ہاتھ سے گرا کانوں سے ہینڈ فری بھی اتر گی ۔۔ وہ بھی سھریوں گرتی اگر علی بروقت اس کا ہاتھ نہ تھام لیتا ۔۔۔
علی جو اوپر سونے کی کوئی جگہ نہ دیکھی تو نیچے آ رہا تھا وہاں جگہ مل جائے گی کہ اسی وقت کوئی اس ٹکرایا اس نے خود کو سنبھالا ساتھ میں ٹکرنے والے کا ہاتھ پکڑکر دیکھا تو وہ مسکان تھی ۔۔۔
مصعوم چہرہ ۔۔ بڑی بڑی کالی آنکھیں جو اس وقت بند تھی ۔۔چہرے کا رنگ بھی اڑا ہوا تھا ۔۔ چھوٹی سی تیکھی ناک ۔۔اور پتلے نازک لب ۔۔ کالے بال جوڑے میں بند تھے ۔۔جس میں کچھ لٹیں نکل کر اس کے چہرے پر آئی ہوئی تھی ۔۔ وہ چھوٹی سی گڑیا ہی لگ رہی تھی ۔۔وہ اس سے سال دو سال چھوٹی ہی ہوگی ۔۔ خود وہ اٹھارہ کا تھا ۔۔ مگر اس وقت وہ مسکان کے سحر میں گرفتار ہو چکا تھا ۔
” امی نہیں علی ۔۔ ویسے تم نے پی تو میں ہوئی ۔۔ ” بامشکل اس سے نظر ہٹا کر علی نے طنز کیا ۔۔۔
اس کی آواز سن کر مسکان نے پٹ سے آنکھیں کھولی ۔۔ اور اسے دیکھ کر اس کی آنکھیں میں ناگوری آئی تھی ۔۔
” پہلی بات کہ مجھے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم علی یا گندے نالے کی گلی ۔۔۔دوسرا مجھے اپنا پتا ہے کہ میں نہیں پیتی لیکن تمہارا کنفرم ہے کہ تم نے ہر وقت پی ہوتی ہے اور آخری مگر سب سے ضروری میرا ہاتھ چھوڑا اور میرے راستے سے ہٹو۔۔ ” مسکان نے دانت پیستے ہوے ناگوری سے کہا ۔۔
جس کا علی پر کوئی نہیں ہوا تھا البتہ اس کی غصے سے پھولتے ناک دیکھ کر اسے مزہ آ رہا تھا ۔۔
” پکا میں چھوڑ دوں ۔۔۔” علی نے چھوڑنے سے پہلے کنفرم کیا ۔۔ انداز سنجیدہ تھا ۔۔ مگر آنکھیں ۔۔ فل شرارت سے چمک رہی تھی ۔۔۔
” کہا تمہں چھوڑنے کا مطلب نہیں پتا ۔۔ I said just ..leave my hand ..” اس نے علی کی آنکھوں شرارت دیکھ لی تھی جس سے اس کا ناک مزید پھول گیا تھا ۔۔
اس لیے غصے سے ساتھ اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی ۔۔
علی نے اس کی کوشش دیکھی ۔۔۔
” اوکے ۔۔جیسے تمہاری مزی ۔۔ ” یہ کہتے ہوئے علی نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔ وہ جو تب سے علی کے سہارے تھی اس کے ہاتھ چھوڑنے پر گرنے لگی ۔۔ خود کو گرنے سے بچانے کے لیے اس نے بےحواسی میں اپنے سامنے کھڑے علی کی شرٹ کو اس کے سینے سے مٹھی میں پکڑا ۔۔۔
” ارے ۔۔۔ ارے لڑکی کیا کر رہی ہو ۔۔ مجھے چھڑ رہی ہو ۔۔ چلو چھوڑو میری شرٹ ” علی مصنوعی حیرت سے اس کی حالت کا مزہ لیتے ہوے کہا ۔
” زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔ میں بس کو گرنے سے بچانے کے لیے کیا ۔۔ ” مسکان نے اس کی شرٹ چھوڑی اور اپنی خفت مٹانے کے لیے اسی پر چڑ دوڑی ۔۔اب وہ اپنا سوٹ اور سہرانا اور سوٹ اٹھانے جھکی تھی ۔۔
جبکہ وہ تو حیرت سے اس کا شاہانہ انداز دیکھتا رہ گیا ۔۔ یعنی چِت میں اس کی پت بھی اس کی ۔۔
” واہ کیا بات ہے محترمہ میں بھی اسی لیے آپ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ۔۔” علی نے خود کو سنبھال کر اسے کہا ۔۔
مسکان چیزین پکڑ کر سیدھی ہوئی اور اس کی بات جو نظر انداز کرتے ہوے دوبارہ کان میں ہنڈفیری لگی ۔۔ اور اوپر چلی گی ۔۔
لیکن اب کی بار وہ دیھان سے چل رہی تھی ۔۔
اور بچارہ علی تو اس کے انداز ہی محلاظہ کرتا رہ گیا تھا ۔۔
______________________________
حور ٹیریس میں کھڑی تھی جو اس کے کمرے کے ساتھ منسلک تھی ۔۔۔
ٹریس میں گملے پڑے ہوئے تھے ۔۔ جس میں مختلف قسم کے پھول بھی تھے ۔۔ ایک طرف جھولا پڑا ہوا تھا ۔۔۔اور اس کی گرل پر شادی کی وجہ سے لائٹنگ ہوئی تھی ۔۔ کچھ جگہ دیے پڑے ہوئے تھے ۔۔ جو کہ ماحول کو خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔
وہ بھی جھولے پر بیٹھی تھی اس کے سفید نازک ہاتھوں مہندی لگے ہاتھوں میں موبائیل تھا جس سے وہ ایما کو ویڈیو کال کر رہی تھی ۔۔
رات کا دوسرا پہر تھا ۔۔ اس لیے سب تھکے اپنے کمروں میں سو رہے تھے ۔۔
موبائیل کی سکرین پر ایما کی پرفائل آ رہی تھی ۔۔ جس میں وہ اس نے اپنی پوری فیملی کی پکچر لگی ہوئی تھی ۔۔
کال اٹینڈ ہوگی تھی ۔۔ اب کنکٹینگ ٹو ڈیوائس آ رہا تھا ۔۔۔
لیکن دوسری طرف کنیکٹ ہونے کے باوجود ایما کی طرف سے ویڈیوں شو نہیں ہو رہی تھی ۔۔
” ایما ….!!!” حور نے پریشانی سے موبائیل کی سکرین پر اس کی پروفائل گھورتے اس کا نام پکڑا ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ ” ایما نے دونوں کانوں میں ہنڈ فری لگائی۔۔۔
” السلام و علیکم ۔۔ تمہیں شو کیوں نہیں ہو رہی ۔۔ ” حور کو اس کا اس طرح کیمرہ بند کرنا الجھن میں ڈال رہا تھا ۔۔
” کچھ بس موبائیل گرگیا تھا ۔۔۔ اس لیے۔۔ اچھا تم یہ سب چھوڑوں اور دیکھاؤ ۔۔۔تم نے کیا پہنا تھا آج ؟؟۔۔۔۔ کیسی لگ رہی تھی ۔۔؟؟ کیسا رہا فنکشن ۔۔؟؟” اس کی بات پر حور نے موبائیل اس طرح کر کے پکڑا جس سے وہ پوری نظر آ رہی تھی ۔۔
مہندی لگے ہاتھ جو ۔۔ حجاب کی بجاے سر پر دوپٹہ جس میں ہوا کے زور کی وجہ سے اس کے بال نکل رہے تھے ۔۔ گھنی لمبی پلکیں ۔ گلابی ہونٹ ۔۔ اس نے ابھی بھی مایوں کا جوڑا پہنا ہوا تھا ۔۔ ٹریس اور چاند کی روشنیوں میں نہایا اس کا وجود دیکھ کر دومنٹ کے لیے ایما بھی مسمراز ہو گی تھی ۔۔ اتنی خوبصورتی لیکن اس کی خوبصورتی میں موجود پاکیزگی اسے زیادہ خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔
” تم خود دیکھ لو کسی لگ رہی ہوں کیا پہنا ہے ۔۔۔ فنکشن بہت اچھا رہا ۔۔ ہلا گلہ ۔۔۔ لیکن میں نے تمہں بہت مس کیا تھا ۔۔ ” اس نے اس کے سارے سوال کے جواب مسکرا کر دیتے ہوے کہا۔۔
” بلیو می حور ۔۔۔ تو اس وقت اس دنیا کی لگ ہی نہیں رہی ۔۔ بلکل انیجل لگ رہی ہو ۔۔ قسم سے اگر میں لڑکا ہوتی نہ تو تمہیں آج تمہاری شادی سے اغوا کر لینا تھا ۔۔۔۔ مگر اب بھی کوئی مسلہ نہیں کیا کہتے ہو ۔۔ ” حور ایما کی باتوں پر بلش کرنے لگی ۔۔اس کے گال گلابی ہوگے تھے ۔۔۔
” ایما !!!!” حور نے اسے پٹری اترتے دیکھا تو تنبیہ کی ۔۔
” ہاےےےےے آفت ہے آپ کا شرمانہ ۔۔۔ اگر تم اسی طرح اب شرماتی رہی تو یقیناً مجھے اپنی باتوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا ۔۔” ایما پھر بھی باز نہ آئی شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولتے وہ آج پورے دن اب تھورا ایزی فیل کر رہی تھی ۔۔۔
” سیرسلی ۔۔۔ اگر تم نے اب بھی باز نہ آئی تو میں فون بند کر دینا ہے ۔۔ پھر کسی بھی فنکشن کی کوئی بھی پیک نہیں دوں گی ۔۔ ” حور کی دھمکی کارآمد رہی ۔۔۔ اب حور جھولے سے اٹھ کر چلتے ہوے گرل کے ساتھ اپنی بیک لگائی اور اسے فنکشن کے بارے میں بتاتی گی ۔۔
” اب تم بتا ۔۔ تم کیا رہی ہے آج کل ۔۔ ہاں تمہارا وہ کیسا جس کا اکیسڈیٹ ہوا تھا۔۔ اور تم نے دیا کرنے کا کہا ؟؟؟” حور کے سوال پر ایما کی مسکراہٹ سمٹی اور سارا دن اس کی آنکھیں کے سامنے فلم کی طرح دوڑا ۔۔۔۔
” فلحال تو ویسا ہی ہے ۔۔ کوئی امپرومینٹ نہیں ۔۔۔ ” ایما نے اداسی سے کہا ۔۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہ اس کی بدعا کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔اسی وجہ سے وہ پشیمان بھی تھی ۔۔
” تم اداس نہ ہو ۔۔ آللہ بہتر کے گا ۔۔ وہ ٹھیک ہو جائے گا ” حور نے اس انداز میں اداسی محسوس کی تو اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولی ۔۔۔
“میرے اداس ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔” وہ تھکے انداز میں بولی تو حور کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ اکیسڈیٹ کے علاؤہ بھی کوئی بات ہے ۔۔ جس کی وجہ سے ڈسٹرب ہے ۔۔
” ایما سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔تم۔مجھے پریشان لگ رہی ہو؟؟ ۔۔ کوئی بات ہوئی کیا ۔۔۔ ؟؟ ” حور سے کہاں دیکھی جاتی تھی اس کی پریشانی ۔۔
” کیا پریشانی ہو سکتی ہے ۔۔ سب تو اچھا میری لایف میں ۔۔ باپ پہلے مڑ گیا تھا ۔۔ ماں بھی کچھ عرصے پہلے گزر گیا ۔۔۔ بھائی ہے تو وہ پہلے شرابی تھا اب لاپتہ ہی ہو گیا ۔۔ پولیس میں بھی روپوٹ کروائی لیکن اب تک کچھ اتاپتہ نہیں ۔۔آیا زندہ بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔ ” ایما ایک دم تلخ ہوئی تو حور مزید پریشان ہوگی ۔۔۔اس کے باتوں سے اسے لگا تھا کہ وہ شاید سنبھل گئی لیکن اب اسے اندازہ ہوگیا تھا اس کو ایما چھوڑ کر اس طرح نہیں آنا چاہیئے تھا ۔۔ وہ یہاں خوشیاں منا رہی ہے اور وہاں اس کی بہن جیسے دوست کتنی اکیلی ہے ۔۔
” سوری ایما ۔۔میں ابھی دوست نہیں ہو نا ۔ ” ایما جو مزید بول کر ۔۔ باقی کی باتیں بولتے حور کی آواز پر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔ اسے خود پر غصہ آیا ۔۔ اسے پوچھنے کی ضرورت نہیں جی حور سے کہ اس نے سوری کیوں کیا ۔۔اسے پتا تھا کہ وہ گلٹی فیل کر رہی ہوگی ۔۔
” اپنا سوری اپنے پاس مجھے یہ نہیں چاہیے ۔۔۔ ” خود کو کوستے اس نے ہشاش بشاش انداز میں بات کو بدلنے کی خاطر کہا ۔۔
مقصد حور کا دیھان اپنی باتوں کی طرف سے ہٹانا تھا کہ وہ گلٹی نہ ہو اور اپنی شادی سہی سے اٹنٹڈ کرے ۔۔
” پھر کیا چاہیے ۔۔۔ ؟؟” حور نے بھی محسوس کرلیا کہ وہ مزید اس بات نہیں چاہتی۔۔۔
” اجازت چاہے ۔۔۔۔۔ ” ایما کا انداز کافی سریس اور سنجیدہ تھا ۔
” کس چیز کی ۔۔ ؟؟” اس کی بات پر حور الجھن کا شکار ہوئی ۔۔کہ وہ کس چیز کی اجازت مانگ رہی ہے ۔۔۔
” تمہیں اغوا کرنے کی ۔۔۔” ایما کی بات پر حور پھر سے سرخ ہوگی ۔۔
” تم نا مجھ سے اب تب بات کرنا جب تمہاری یہ ٹام بوائے والی حرکتیں جاے گی ۔۔۔ ” اس نے کافی تپ کر کہا ۔۔ اور غصے سے کال بند کر دی ۔۔
” جانوں ایک بار میرے پاس آوے تو ۔۔ پھر جیسے کہوں گی ۔۔ ویسے ہی پاؤں گی ۔۔ ” اس کے کال بند کرنے پر ایما نے میسج کیا ۔۔ ساتھ میں کس
والا اموجی تھا ۔۔
وہ اکثر حور کو اس طرح تنگ کرتی تھی ۔۔۔
” جواب میں حور نے بھی گھوری
والا ایموجی سینڈ کیا اور لکھا کی اب وہ بھول جاۓ کہ وہ اپنی شادی کی کوئی پیک سینڈ کرے گی ۔۔۔ ” اس کے ہاتھ تیزی سے موبائیل کے کی بورڈ پر چل رہے تھے ۔۔ چہرے پر دیھی سے مسکراہٹ تھی ۔۔۔ صرف اس کے ہی نہیں ایما کے بھی ۔۔
یہی تو دوستی ہوتی ہے کہ وہ آپ کو اتنا زچ کرتے ہیں کہ آپ اپنی پریشانی بھول جاتے ۔۔
” مجھے پک کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی ۔۔ کیونکہ تمہیں تو میں اغوا کر لوں گی ” آگے ایما نے شرارتی مسکراہٹ کے لکھا اور آنکھ مارنے
والا ایموجی سینڈ کیا ۔۔اس نے آج سہی معنی میں آج حور کو تنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔
” ایما کیا مسلہ ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟” حور نے تنگ آکر لکھا ۔۔
” تمہیں اغوا کرنے کا ۔۔۔ ” ایما کا فوراََ سے پہلے رپلاے آیا ۔۔۔
” اوکے باۓ ۔۔۔ ” حور کو اندازہ ہوگیا تھا اس نے باز نہیں آنا تو اس بھی بات کہہ دیا ۔۔۔
دومنٹ کے وقفے کے بعد ایما کا میسج پھر سے آیا ۔۔۔۔
” تم آرام رہنے دو ۔۔تمہں اغوا کروں گی ۔۔تم نے بے ہوش ہو ۔۔ پھر لمبا سارا آرام کر لینا ۔۔۔ ابھی کچھ ۔۔ اہم اہم ویسے باتیں جائیں ۔۔۔ ” اس نے ساتھ معنی خیز والا 
ایموجی سینڈ کیا ۔۔
حور کا دل کیا اپنا سر دیوار سے ماڑ لے ۔۔
” تم نا اپنے آہم آہم اپنے پاس رکھو ۔۔۔ میں ایسی باتیں نہیں کرتی ۔۔” حور نے غصے ٹائپ کر کے بھیجا۔۔اب کی بار وہ واقعی میں زچ ہوچکی تھی۔۔ لیکن ایما کو ابھی تسلی کہاں ہوئی تھی ۔۔
” ارے تم کس طرف جا رہی ہو ۔۔ میں تو یہ کہہ رہی تھی شاپنگ وغیرہ ۔۔ ” اگلے لمحے ایما نے انجان بنے کی انتہا کر دی ۔۔
” ایما بس کر دو ۔۔ یہ دیکھو ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔۔ ” حور نے ہاتھ جوڑنے والا ایموجی
سینڈ کیا ۔۔۔
” ارے ڈالنگ یہ کیا کر رہی ہو ۔۔ یہ ہاتھ اس کام کے لیے تھوری ہیں ۔۔ یہ تو دل سے لگانے کے لیے ہیں ۔۔ ” ایما نے ٹھرکی بنے کی انتہا کر دی ۔۔
اگر حور کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس نے یہی سمجھنا تھا کہ دوسری طرف کوئی لڑکا لیکن حور کو پتا تھا ۔۔ ایما کی ساری حرکتوں کا ۔۔۔۔
” اللہ حافظ ۔۔۔ ” لکھ کر اس نے سینڈ کیا ۔۔ اور ساتھ ہی نوٹیفیکیشن سے نیت ہی بند کر دیا ۔۔
اسے پتا اندازہ ہوگیا تھا کہ ایما میں ٹھرکی کی روح آئی ہوئی ہے اس نے اب باز نہیں آنا ۔۔
اور وہی ہوا جو ایما چاہتی تھی ۔۔ کہ حور خود فون بند کرے ۔۔ اور حور کا دماغ بھی بٹ گیا ۔۔
فون تھوڑی سے ٹکاۓ وہ آسمان پر موجود چاند
پر نظر جمائے ۔۔ دھمی مسکراہٹ لیے وہ ایما کی حرکتیں سوچ رہی تھی ۔۔۔
دو آنکھیں گہری سے اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
حور کو خود پر کسی کی نظر تپش محسوس ہوئی تو اس نے نظر گھما کر ادھر اُدھر دیکھا ۔۔تو نیچے فہد کھڑا تھا ۔۔۔جو اسی کو دیکھ کر رہا تھا ۔۔
حور کو اس کی نظریں اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
اسی پل ہوا کے تیز جھونکے سے اس سر سے دوپٹہ اترا۔۔۔ حور جو جانے کی کر رہی تھی ۔
اس سب سے مزید بھوکلا گی ۔۔ اس نے جلدی سے سر پر دوپٹہ سہی کیا اور جلدی سے بھاگنے کے انداز میں اپنے کمرے میں گی ۔۔ اسے خود پر غصہ آ رہا تھا کہ اگر اس نے ٹریس پر جانا ہی تھا تو سر پر حجاب ہی کر لیتے ۔۔
وہ مہک کی نیند خراب ہونے کے خیال سے وہاں پر گی ۔۔مگر اب اسے اپنے فیصلے پر افسوس ہو رہا تھا ۔۔ اسے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا ۔۔۔ آج تک کسی نامحرم مرد نے اسے نگے سر نہیں دیکھا تھا ۔۔
__________________________
ڈیرییک کا آپریشن ہو چکا تھا ۔۔۔ ڈاکٹرز نے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا تھا کہ اگر اس دوران اسے ہوش آگیا تو کوئی فکر کی بات نہیں لیکن اگر وہ نا آیا تو اس کی زندگی کا بچنا بہت مشکل ہے ۔۔ چوبیس میں سے 15 گھنٹے گزر چکے تھے ۔۔ لیکن ابھی بھی اس کے ہوش کے کوئی آثار نہیں تھے ۔۔ اور یہی بات وہاں موجود افراد کا سانس روکنے کا سبب بن رہی تھی ۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ۔۔ ان سب بھی دھڑکنے آہستہ ہو رہی تھی ۔۔۔ جان حلق کو آ رہی تھی
ایما رات کو ہی چلی گی تھی ۔۔ کیونکہ اسے ہسپتالوں سے وحشت ہوتی تھی ۔۔ کیونکہ جب جب وہ یہاں آئی اس نے کسی کو کھویا ہی تھا ۔۔۔مزید کچھ کھونے کی اس میں ہمت نہیں تھے اس لئے اس نے جانا ہی بہتر سمجھا ۔۔
البتہ اولیویا وہی روکی تھی ۔۔
اس کی آکسیڈنٹ کی خبر بھی پھیل گئی تھی ۔۔۔ جیسے جیسے لوگوں کو پتا چلا تھا وہ وہاں آرہے تھے۔۔ یا فون کر رہے تھے ۔۔ ڈیرییک کے والدین بھی وہاں تھے ۔۔ اسکی ماں کا تو رو رو کے بڑا حال تھا جیسے جان نے سنھبال تھا جبکہ مسٹر تھامس کی بھی حالت سہی نہیں تھی لیکن وہ خود کو مضبوط کیے کھڑے تھے ۔۔ ان کا فون کتنی بار بجا لیکن انہوں نے ایک بار بھی نہیں دیکھا کہ کس کا ہے ۔۔
جان جو مسسز تھامس کے ساتھ بیٹھا ان کو حوصلہ دے رہا تھا ۔۔ اس کی نظروں سے یہ اوجھل نہیں تھا ۔۔
وہ خود بھی ٹوٹ رہا تھا ۔۔ لیکن کا خود پر کمال کنٹرول تھا ۔۔وہ اولیویا کو مسسز تھامس کے پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اٹھا ان کے پاس جا کر کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
وہ جو دیوار سے ٹیک لگائے ۔۔یک ٹک زمین کو گھور رہے تھے ۔۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنے سے انہوں نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
ان کی نظریں اس وقت ویران تھی ۔۔
ایسی ویرانی جیسے دیکھ کر خوف آتا ہے ۔۔۔
ان کے چہرے کی ساری شادبانی کچھ ہی گھنٹوں میں کہنی کھو سی گی تھی ۔۔
وہ جو اس عمر میں کافی چکاچوند تھے اس ٹائم ان کے کندھے جھکے ہوئے تھے ۔۔ان کا سہارہ ۔۔ ان کے گھر کا اکلوتا چراغ جس کی روشنی کی لو بجھنے کو تھی ۔۔ وہ سب جو کماتے تھے اسی کے لیے تو تھا ۔۔ ان کے جینے کا مقصد ہی وہی تھا ۔۔ اس کی شرارتوں سے ان کے گھر میں رونقیں تھی ۔۔ وہ ایک ہی 20 کے لوگوں کے برابر تھا جہاں ہوتا تھا ۔۔ وہاں خاموشی ہو ہی نہیں سکتی ۔۔ وہ کسی کو سکون سے بیٹھنے دیتا ہی نہیں تھا ۔۔ سب کی ناک میں دم کرنا تو اس کا کام تھا۔۔۔
اس وقت وہ چپ ۔۔ مگر سکون پھر بھی کسی کو نہیں تھا ۔۔
وہ آج خاموش کیا ہوا ۔۔۔ سب کی آوازیں کو بھی خاموش کروا گیا۔۔۔
آج اس نے کسی کو تنگ نہیں کیا تھا ۔۔ لیکن پھر بھی سب کی سانسیں تنگ تھی ۔
” اسے کچھ نہیں ہوگا ہے نا ۔۔۔ ” تب سے خاموش وہ اب اسے دیکھ کر بولے تھے ۔۔ ان کے لہجے میں امید تھی ۔۔ لیکن آنکھیں خوف سے بھری ہوئی تھی ۔۔
کچھ قمتی کھو جانے کے خوف سے ۔۔
جان کچھ نہیں بولا ۔۔ بس ضبط سے ہونٹ بھنچ کر رہ گیا ۔۔۔ اس کی نیلی آنکھیں اس وقت لال انگار ہو رہی تھی ۔۔
” تم اسے کہو۔۔۔ تمہاری بات مانتا ہے وہ ۔۔۔ ” اب وہ اس کا زخمی ہاتھ جس پر اس نے کوئی پٹی نہیں کروائی تھی بس پانی دھویا تھا ۔۔ ویسے بھی خون رک چکا تھا ۔۔لے کر بڑی بڑی امید سے بولے تھے ۔۔
جان کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان کو منع کرتا اس لیے اس نے ان کے ہاتھوں میں قید اپنا ہاتھ نکلا ۔۔ جس سے ان کے چہرے کا رنگ کا ایک پل کے اُر گیا ۔۔
لیکن جب جان نے ان کے اسی ہاتھ کو اپنے دنوں ہاتھ میں لے کر انہیں حوصلہ دیا تھا ۔۔ تو مسکرا اٹھی ۔۔ لیکن ان کی مسکراہٹ میں بھی اداسی تھی ۔۔۔
وہ ان کو یہ نہیں کہہ سکا کہ اس میں نہیں ہمت کہ وہ ڈیرییک کو اس حالت میں دیکھ سکے وہ تو ویڈیو کو ایک بار دیکھ کر دوبارہ نہیں دیکھنے کی ہمت نہیں جٹا پیایا تھا اور تو اب وہ یہ نہیں کر پائے گا۔۔۔۔۔۔
انسان جتنے مرضی مضبوط کیوں نہ ہو ۔۔وہ اپنے پیاروں کو تکلیف میں دیکھ سکتا۔۔۔ وہ اس ٹائم سب سے زیادہ کمزور ہو جاتا ہے ۔۔
وہ ان کا ہاتھ آرام سے چھوڑتے ہوئے وہ ڈاکٹر کی طرف بڑھا ۔۔۔ اور بڑی مشکل سے پندرہ منٹ کی اجازت لے کر وہ اندر داخل ہوا۔
کمرے میں مشنوں کی آواز تھیں جو اس کی دل کی دھڑکن کا بتا رہی ۔۔
سامنے ہی تو وہ تھا ۔۔۔پٹیون اور مشنوں میں جکڑا ۔۔ سبز آنکھیں جس میں ہو وقت چمک رہتی تھی اب بند کیا ہوئی تھی کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔
زرد چہرہ جس پر جگہ جگہ خراشیں آئی ہوئی تھی ۔۔۔ مسکراتے لب اس وقت سختی سے بند تھے ۔۔ جیسے اب نہ بولنے کی قسم کھاۓ ہوے تھے ۔۔
اس کو اس طرح دیکھ کر جان کو وحشت نے گھیرا تھا ۔۔ وہ مڑ کر واپس جانے لگا تو مسٹر تھامس کا چہرہ اس کی آنکھوں میں آیا ۔۔
کتنی امید سے کہا تھا انہوں نے اسے ۔۔۔
وہ واپس مڑا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھتا اس کے پاس آیا ۔۔۔
” ڈیرییک ۔۔۔!!! ” جان نے اس کا نام لیا ۔۔۔ مگر کوئی رسپانس نہیں آیا ۔۔۔
” یار دیکھ اس طرح تنگ نہ کر ۔۔ اور جیسے تنگ کرنا کر لیے مگر اٹھ جا ۔۔ ” اس نے ایک بار پھر کوشش کی ۔۔۔
اس کی اس بات پر پر ڈیرییک کی بائیں ہاتھ ہی انگلیاں حرکت میں آئی ۔۔۔چونکہ جان اس کے دائیں طرف کھڑا تھا اس لیے وہ دیکھ نہیں سکا ۔۔
جبکہ جان اس کو کوئی رسپانس دیتے دیکھ کر ضبط کرتا رہ گیا ۔۔۔
” دیکھ اب اگر تو نہ اٹھا ۔۔۔ تو بھول جائیں میں تجھ سے کبھی بات کروں گا ۔۔ اور تجھے پتا ہے میرا ۔۔ ” غصے سے بولتے آخر میں اس کی آواز آہستہ ہوگی تھی ۔۔
ایک منٹ ۔۔
دو منٹ ۔۔۔
تین منٹ ۔۔
” تم نے کہا تھا کہ تم جلدی جان نہیں چھوڑنے والے ۔۔۔ تو اتنی سی جلدی تھی ۔۔۔ اٹھ جا ۔۔ ورنہ میں تمہارے ڈیڈ کو تمہارے ایک ایک کارنامہ بتانا ہے ۔۔”
کوئی جواب نہیں آیا ۔۔۔ ایک آخری کوشش کی ۔۔۔
مگر جواب وہی ۔۔۔
اس نے ضبط سے میٹھی اور ہونٹ بھنچے اور سے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکل گیا ۔۔
اسے کے جاتے ہی ۔۔۔
بستر پر لیٹا وجود کے ہونٹوں پر خف سی مسکراہٹ کے ساتھ مسکرایا ۔۔۔لیکن اگلے ہی پل اس کی مسکراہٹ سمٹی ۔۔ ماتھے پر وٹ پڑے
یہ ہارٹ مشین پر ۔۔ ڈرکھنوں کی رفتار میں بدلاؤ ہوا ۔۔
مشینوں نے شور مچانا شروع کر دیا ۔۔۔
ڈاکٹرز اور نرس بھاگتے ہوے اندر گیۓ ۔۔
جان جو ابھی دروازے سے نکلا ہی تھا اس افتاد پر بوکھلا گیا ۔۔
ایک پھر سارے ڈاکٹرز اندر تھے ۔۔
ایک بار پھر لال بتی ۔۔۔
ان کا خون خشک کر رہی تھی ۔۔
سب سانس روکے تھیٹر کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
لیکن اس بار انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا ۔۔۔
20 منٹ بعد ڈاکٹرز باہر نکلنے ۔۔ ان کے چہرے بلکل سنجیدے تھے ۔۔۔
کسی انہونی کے احساس تہت اولیویا اور مسسز تھامس نے منہ پر ہاتھ ۔۔
کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔۔ وہ ٹھیک ہوگا ۔۔ آنسو تواتر ان کی آنکھیوں سے نکل رہے تھے ۔۔ ان کے چہرے اس وقت پورے آنسوں سے بھیگے ہوئے تھے ۔۔
جبکہ جان اور مسٹر تھامس ڈاکٹرز کے جانب تیزی سے بڑھے تھے ۔۔
ڈاکٹر نے جان کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ ان کا چہرہ سپاٹ تھا ۔۔
” سوری ۔۔۔۔۔ ” ڈاکٹر یہ بول کر چپ ہوگے تھے ۔۔
جان بلکل سٹل ہوگیا ۔۔
مسٹر تھامس لڑکھڑے۔
مسسز تھامس ۔۔ روتے ہی نہ میں سر ہلا رہی تھی ۔۔ انہوں نے اپنی چیخیں روکنے کےلئے منہ پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔
اور الاویا گم سم ۔۔۔ ہوگی تھی ۔
وہاں اب موت سا سناٹا تھا ۔۔۔
کسی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ یہ سناٹا تور پاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
