Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02
رات کے آٹھ بجھ رہے تھے کالے رنگ کی گاڑی پوری رفتار سے اپنی منزل تہہ کر رہی تھی یوں لگ رہا تھا کہ گاڑی چلانے والے کو سمجھنے میں غلطی ہو گئی ہے کے وہ گاڑی چلا رہا ہے یا جہاز اڑا رہا ہے ۔
فون پر کال آ رہی تھی ۔۔ پروفائل پر ڈیڈ کالنگ تھا ۔ جس کو وہ مسلسل نظرانداز کر رہا تھا ۔ کتنی بار فون آ کر بند ہو چکا لیکن اس نے ایک بار بھی نہیں اٹھایا ہاں لیکن جب جب فون آیا تب تب اس نے گاڑی کی رفتار تیز کی تھی ۔۔
ایک بار پھر فون بج بج کر بند ہو گیا ۔۔۔۔ لیکن لگتا تھا کے دوسری طرف موجود شخص نے بھی جیسے کوئی قسم کھائی ہوئی تھی ۔
آخرکار تنگ آ کر اس نے گاڑی کی سپیڈ کم کرتے ہوئے فون اٹھا ہی لیا مگر بولا کچھ نہیں ۔
“جان میں کب سے تمہیں کال کر رہا ہوں اٹھا کیوں نہیں رہے تھے” اس کے فون اٹھاتے ہی جعفر صاحب (جہان کے ڈیڈ ) کی رعب دار آواز گونجی ۔
“میں ڈرائیو کرتے ہوئے کسی کی بھی کال نہیں اٹھنا پسند کرتا ” جہان کا سرد لہجہ ان کو برا لگا لیکن نظرنداز کرتے ہوئے اب کی بار جب وہ بولے تو انداز نرم تھا ۔۔
” یہ تو غلط بات ہے ۔کسی کو ضروری کام بھی ہو سکتا ہے” اپنی طرف سے انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔
“”کال کیوں کر رہے تھے آپ ” جان نے ان کی نصیحت کو یوں نظرنداز کیا جیسے سنا ہی نا ہو ۔
اب کی بار بھی جعفر صاحب کا واقعی میں دل کیا کہ وہ جان کی طبیعت صاف کر دیں۔۔۔ لیکن ان کے ساتھ بیٹھی ان کی بیوی ان کے تاثرات دیکھ کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا جیسے ان کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
” اگلے ہفتے ہم پارٹی رکھ رہے ہیں جو ڈیل تم نے حاصل کی ہے اس خوشی میں تو تم آ جانا ” بولے تو ان کا لہجہ نارمل تھا لیکن جان پھر بھی جان گیا کہ وہ مشکل سے اپنے غصے کو قابو کیے ہوئے ہیں ۔
ایک ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کو چھوا ۔
” میرا آنا ضروری ہے کیا ؟؟” اس کو بات کی ساری سمجھ آگی تھی پھر بھی ان کو تنگ کرنے کے لیے اس نے یہ سوال کیا ۔۔۔
دوسری طرف جب شازیہ بیگم نے دیکھا کے اب جعفر صاحب سے مزید برداشت نہیں ہوگا تو انہوں نے موبائل ان کے ہاتھ سے لے کر کان سے لگایا اور پیار سے بولی ۔۔
” ہنی ہم آپ کا انتظار کریں گے “جان جو جفعر صاحب کے غصے سے پھٹ پڑنے کے انتظار میں تھا ان کی جگہ شازیہ بیگم کی آواز سن کر بدمزہ ہو گیا ۔
” اچھا ” ایک لفظی جواب دے کر اس نے کال کاٹ دی اور گاڑی کی رفتار تیز کر کے گاڑی کا رخ اپنے پینٹ ہاؤس کی بجائے اپنے فلیٹ کی طرف کر لیا ۔
________________________
شازیہ بیگم نے فون بند کر کے جعفر کی جانب دیکھا جو انہی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔
وہ بھی ان کا سوال سمجھ گئی ۔
” کہہ رہا تھا کہ آ جاۓ گا ” ان کی بات سن کر جعفر صاحب کا غصہ تھورا ٹھنڈا ہوا۔
“آپ تھوری پیار سے بات کیا کریں نا پھر وہ آپ کی بات بھی نہیں ٹالے گا” شازیہ بیگم ان کی جانب دیکھتے ہوئے بولی جو اب گلاس میں وائن ڈال رہے تھے ۔
“آرام سے ہی تو بات کی تھی مگر پتا نہیں جناب کن آسمانوں کی سیر کر رہے ہیں ” ایک گلاس ان کی جانب بڑھاتے ہوئے وہ غصے سے بولے ۔
“جعفر آپ بھی خوب کرتے ہیں۔۔۔” ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جعفر صاحب نے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر جثسے ان کو مطلع کیا کہ وہ مزید اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے ۔
شازیہ بیگم بھی ان کا موڈ سمجھ گئی اس لیے خاموش ہو گئی ۔۔
“حنان کہاں ہے ؟؟ ملانہیں وہ مجھ سے ” اب کے ان کے لہجے میں شفقت تھی
“ہنی !! وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شکار پر گیا ہے “
” اچھا !! کب ؟؟” واین کا ایک سیپ لیتے ہوئے انہوں نے پوچھا ۔۔
“”کل صبح ہی نکلا تھا ۔آپ کا پوچھ رہا تھا کہہ رہا تھا کہ ہم بھی اس کے ساتھ چلیں ” شازیہ بیگم نے بھی جعفر کا دھیان بٹتے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا ۔
“”ہاں کہہ تو مجھ سے بھی رہا تھا لیکن ٹائیم ہی نہیں تھا میرے پاس اچھا کیا کہ خود چلا گیا ” جعفر صاحب اپنی ساتھ بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھتے ہوئے بولے جو اس عمر میں بھی نازک سی دوشیزہ لگتی تھی ۔
” ویسے کیا خیال ہے شازی آج ڈنر باہر نا کیا جاۓ ” جعفر صاحب ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولے ۔۔
“” یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے میں بس دومنٹ میں تیار ہو کر آتی ہوں ۔اتنی دیر میں آپ بھی چینج کر لیں ” وہ جلدی سے اٹھتے ہوئے بولی اور اپنا سوٹ سلیکٹ کرنے لگی جبکہ جعفر صاحب چینج کرنے کے لیے جا چکے تھے ۔۔۔۔
______________________
جان نے ڈپلیکیٹ چابی سے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا ۔۔
یہ اس کا فلیٹ تھا لیکن زیادہ استعمال میں ڈیریک کے تھا ۔ جب بھی وہ کوئی گڑبڑ کرتا تھا یہاں آ جاتا ۔
اب بھی جان کو یقین تھا کہ وہ یہاں ہی ہوگا کیونکہ ڈیریک کوئی گڑبڑ نہ کرے یہی سب سے بڑی گڑبڑ تھی۔
اس نے فلیٹ میں نظر دوڑائی مین بیڈ روم سے آوازیں آ رہی تھی جبکہ باقی سارا فلیٹ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔
کندھے پر لٹکایا کوٹ لاپرواہی سے صوفے پر پھینکتے ہوئے وہ کمرے کی جانب بڑھا ۔
اس نے کمرے کا دروازہ کھولا کمرے میں LCD کی لائیٹ میں سب سے پہلے اس کی نظر جا بجا چپس اور چاکلیٹ کے ریپرس پیزے کا خالی ڈبہ بوتلیں جنہیں لاپرواہی سے ادھر اُدھر پھلانے کے بعد سمیٹنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی ان پر پڑی پھر اس نے LCD کی طرف دیکھا جہاں کوئی horror مووی لگی ہوئی تھی آواز بھی فل تیز تھی اور اتنی تیز آواز میں بھی ڈیریک مزے سے شوز سمیت خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا ۔
جان نفی میں سر ہلاتے ہوئے کچن میں گیا اور گلاس میں ٹھنڈا پانی ڈال کر کمرے میں واپس آیا۔اور پورا گلاس اس کے منہ پر خالی کر دیا ۔
“” شیٹ جان !! بندہ آرام سے بھی اٹھا سکتا ہے “” ٹھنڈا پانی پرتے ہی وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے خفا سی آواز میں بولا ۔۔
“”تم آرام سے قابو آنے والی بلا ہو ۔اور مجھے پتا تھا کہ تم جاگ رہے تھے” جان گلاس سائیڈ پر رکھتے ہوئے بولا ۔۔
“” تمہیں کس نے کہا کہ میں نہیں سو رہا تھا ۔اتنی مزے کی نیند خراب کر دی ؟؟”” جمائی روکتے ہوئے وہ جان سے بولا جیسے واقعی اس کو نیند خراب ہونے کا بہت دُکھ ہو ۔۔
“” مجھے گھمانے کی ضرورت نہیں سیدھے طریقے سے بتاؤں گے کہ اب کیا کیا ہے تم نے جو تین دن سے یہاں ہو “”جان کی بات سن کر وہ جو نیند کے ڈرامے کر رہا تھا بد مزہ ہو گیا۔
” تمہیں ڈیڈ نے بتایا ہو گا “
“نہیں میرے پاس اپنے بھی ذریعے ہیں “جان اس کی بات کی نفی کرتے ہوئے بولا ۔
“تمہیں جب ساری بات پتا ہے تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو ؟؟ ” ڈیریک خفا سے انداز میں بولا ۔
“یار اس بار میں واقعی کچھ نہیں کیا ۔ میں تو بس ماڈلنگ کا اوڈیشن دینے گیا تھا اور سلیکٹ بھی ہو جاتا اگر ڈیڈ بیچ میں ٹانگ نہ اڑاتے ” جان نے اپنےدوست کی جانب دیکھا جس کی سفید رنگت ، سبز آنکھیں جن میں ہما وقت شرارتی چمکتی رہتی تھی ، لمبے بال جو اس وقت پونی میں بند تھے اس کے ساتھ بڑی ہوئی شیو جو اس کے مضبوط جسم پر بہت جچ رہی تھی۔۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ بہت خوبصورت تھا لیکن ڈیریک کے ڈیڈ بس اس کو اپنے بزنس میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ماڈلنگ کرنا چاہتا تھا ۔
“”اور اسی لیے تم نے ان کا لیپ ٹاپ اُرا دیا ” اب کی بار آگے سے وہ کچھ نہیں بولا لیکن شرمندگی اسے ذرا بر بھی نہیں تھی ۔
کچھ دیر خاموشی ان دونوں کے درمیان رہی ۔پھر کچھ سوچنے کے بعد جان اس سے بولا
” مجھے ایک ماڈل کی ضرورت تو ہے اگر چاہوں تو میرے ساتھ کام کر لو ” جان کی آفر سن کر اس کا چہرہ چمک اُٹھا لیکن اگلے ہی لمحے وہ چمک غائب ہوگئی ۔
” ڈیڈ ؟؟”
” میں ان سے بات کر لوں گا ۔ پھر میں تمہں بتا دوں گا کہ کس دن آنا ہے لیکن ”
جان کی بات سنتے ہی ڈیریک جو اس کو گلے لگانے کا سوچ رہا تھا اس کا لیکن سن کر پریشان ہو گیا ۔
“تمہیں یہ سارا گندھ جو بکھرا ہوا ہے یہ سمیٹنا ہو گا ” جان کی شرط سن کر ایک پل کے لے ڈیریک کا دل کیا کہ وہ منع کر دے لیکن پھر کچھ سوچ کر مان گیا ۔۔
“” میں فریش ہونے جا رہا ہوں . میرے آنے تک یہ سب صاف ہو ” اسے کو کہتے ہوئے جان نے کبرڈ کھولی شکر تھا وہاں اس کے کپڑے
اپنی سہی حالات میں پڑے ہوئے تھے۔
اس نے کپڑے لیے اور باتھ روم جانے لگا کہ روک کر ڈیریک کو ورنگ دینے کے انداز سے بولا ۔
“” اور ہاں مجھے بیڈ کے نیچے یا ادھر اُدھر سب دوبارہ نہ ملے “” جان کو پیچھلی بار کی بات یاد تھی
ڈیریک جو جان کے جانے کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ جائے اور اس سارے گند کو وہ ٹھکانے لگائے جان کی بات سن کر ہنس پڑا۔
“” ٹینشن ناٹ ڈیوڈ۔۔ اس بار کوئی شکایت نہیں ہوگی “”جان کے باتھ روم جاتے ہی ڈیریک نے اس کے کپڑوں والی کبرڈ کھولی اور سارے ریپرس کو بڑے سلیقے سے تہہ کر کے اس کے پینٹ اور شرٹ کی پوکٹ میں رکھنے لگا ۔ اس کام سے فارغ ہونے کے بعد اس نے کچھ ریپرس ڈس بین میں ڈالے تاکہ جان کو شک نہ ہو ۔
جان جب باتھ روم سے نکلا تو اس کی نظر ڈیریک کی طرف پڑی جو یوں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا جیسے کوئی بہت مشقت بڑا کام کیا ہو۔
اس نے مکمل جائزہ لیا کے پچھلی بار والا کام تو نہیں کیا اس نے ۔ پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد اسے کچھ یاد آیا تو ڈیریک کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔
“”اپنے ڈیڈ کا تو تم نے لیپ ٹاپ آڑا دیا ۔ لیکن اس آدمی کے ساتھ کیا کیا جس نے تمہیں رکھنے سے منع کر دیا” اور اس وقت ڈیریک کو یہ بات مانی پڑی کے دوستوں کو اتنا نہیں پتا ہونا چاہیے ۔۔
“”کچھ خاص نہیں ” اس نے لاپرواہی سے جواب دیا۔
جان نے اپنا موبائل پکڑا اور پھر کچھ ڈھونڈنے کے بعد ۔ شاید کوئی ویڈیؤ پلے کرتے ہوئے سکرین کا رخ اس کی جانب کر دیا۔
“کچھ خاص یہ تو نہیں ” ڈیریک نے سکرین کی جانب دیکھا جہاں کسی سٹوڈیو میں ایک آدمی کبھی بڑی طرح اپنے بال کھنچ رہا تھا تو کبھی پاگلوں کی طرح دونوں ہاتھوں سے سر پر خارش کر رہا تھا ۔ ایک دو بار تو اس نے سر اپنا دیوار کے ساتھ مارنے کی کوشش کی تھی جسے اس کے پاس کھڑے ورکرز نے روک لیا ۔
” یہ وہی سٹوڈیو ہے نا یہ بندہ اس کا ملک ” جان نے ڈیریک کا سنجیدہ چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
ڈیریک نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ویڈیو کو ۔۔اور اگلے لمحے پورا کمرا اس کے قہقہوں سے گونج اٹھا۔
” ہاہاہاہاہاہا شکریہ یار اس وقت تو میں یہ سین دیکھ نہ سکا پر تم نے دیکھا دیا “جان کے ہاتھ سے موبائل پکڑتے ہوئے وہ بولا اس کا چہرہ زیادہ ہنسے کی وجہ سے لال ہوگیا تھا ۔
جان نے افسوس میں سر ہلایا جیسے اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔
“اب تم بتانا پسند کرو گے کہ تم نے کیا کیا۔” جان نے اس کے ہنسے سے تنگ آ کر کہا۔
“ہو جو پروفیسر ریچرڈ کے ساتھ کیا تھا “
مطلب تم نے اس کے بالوں میں وہ پاڈر ڈالا ہے ؟؟ ” جان کی بات سن کر وہ پھر سے ہنسا ۔
“یہی تو بات ہے مزے کی سر کے تو بالوں میں ڈالا تھا جو دھونے سے نکل جاتا ہے ۔اس کے تو میں نے ویگ کے نیچے لگیا ہے اور اب یہ ویگ بھی نہیں اترے گی آخر اچھی والی گلو جو استمال کی ہے “
اب جان یہ سوچ رہا تھا کہ اس کے آفس کے لوگوں کا کیا ہو گا۔ اپنی بات سے وہ پھرنے سے بھی رہا ۔۔
۔۔۔جاری ہے
