Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05
” کہا تھا نا ۔۔۔۔ سی یو “
کوئی ٹریش کین کے پاس کھڑا شرارتی لہجے اور شیطانی مسکراہٹ لیے بولا
ایما نے جب اس شخص کی جانب دیکھا تو اس کا دل کیا کہ اس کا منہ نوچ دے جو اس کو دھکا دینے کے بعد ایسے کھڑا تھا جیسے اس کا کوئی من پسند شو لگا ہو ۔۔
“”یو۔۔۔۔۔”” غصے سے اس سے بولا نہیں جا رہا تھا ۔۔۔
” اووو میں سمجھ گیا تم میرا نام پوچھ رہی ہو نا ڈئیر ۔ڈیریک .. مائی نیم از ڈیریک اینڈ یور “
ایما نے غصے سے ادھر اُدھر دیکھا وہ اب بھی ٹرریش کین میں ہی گری تھی جس میں زیادہ تر کوڑا بڑے بڑے کالے رنگ کے لفافے میں بند تھا صرف کچھ ریپرس اور کیلے کے چھلکے ہی شاپر سے باہر گرے ہوئے تھے۔۔
” سائیکو ۔۔۔۔” ایما وہ ہی ریپرس اور کیلے کے چھلکے اس کی طرف پھینکتے ہوئے چیخی۔۔
“واہ کوئیٹ یونیک نیم آئی لائک آٹ ” ڈیریک اس کی پھینکی گئی چیزوں سے بچتے ہوئے بولا۔
اب ایما کی برداشت جواب دے گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جب اسے کچھ نہیں ملا پیکھنے کو تو اس نے اپنا جوگر اتارا اور اس کی طرف پھینکا ۔۔
ڈیریک فوراً دوسری طرف ہوگیا جس کی وجہ سے بچ گیا۔۔
“مس سائیکو آپ کے ساتھ مل کر بہت اچھا لگا ۔۔لیکن کیا ہے نہ مجھے آفس جانا ہے اس لیے سی یو “
اس کو مزید تپاتا وہ وہاں سے چل پڑا مگر جاتے جاتے وہ ایما کا جوگر بھی ساتھ لے گیا ۔۔
ایما نے غصے اور بے بسی سے اس ڈھیٹ کو جاتے دیکھا جو اس کا جوگر بھی لے گیا تھا۔۔
اور ٹریش کین سے باہر نکلی ۔۔ اپنی فائیل اور بیگ جو کہ زمین پر گری تھے ۔۔۔۔ وہ اٹھی اور ڈیریک کو کوستے ہوئے ابھی تھورا آگے گئی تھی کہ ۔۔۔۔
دھرررمممممممم۔
اور یہ پھر گری ایما ۔۔۔۔
اب کی بار کسی نے اسے دھکا نہیں دیا بلکہ وہ کیلے کے چھلکے سے سلپ ہوئی تھی جو اس نے ڈیرئیک پر پھینکا تھا۔۔
یہ تو شکر تھا کہ آس پاس کوئی نہیں تھا ورنہ اس کے اس طرح گرنے پر اچھا خاصا مزاق بننا تھا۔۔
“This is my worst day ever “
ایما نے کھڑے ہوتے ہوئے خود کلامی کی ۔۔
کھڑے ہوتے ہوئے اسے دائیں پاؤں میں اتنا درد ہوا کہ وہ دوبارہ بیٹھ گئی ۔۔۔
اب کہ دیوار کا سہارا لے کر وہ ایک پاؤں پر کھڑی ہوئی اور آہستہ آہستہ دیوار کو پکڑ کر آفس کی جانب بڑھی ۔۔
اب آفس تو جانا ہی تھا نا۔۔۔
_____________________________
ایما کے جانے کے بعد حور سو گئی۔۔
رخسار بیگم جب اس کے کمرے میں گئی اور سوتی ہوئی حور کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔۔
ان کو اپنی بیٹی کے مستقل کی فکر اب سکون سے سونے نہیں دیتی تھی
حور کو دیکھتے ہوئے وہ سوچوں میں گم ہو گئج۔۔
___________________________
رخسار بیگم کی شادی ان کے والد(رافیق بٹ) نے اپنے دوست کے بیٹے سلمان سے کروائی تھی جو باہر کے ملک سٹیل تھے ۔
رافیق بٹ اور رائیسہ کی دو ہی اولادیں تھیں بلال اور رخسار ۔
بلال کی شادی انہوں نے اپنے بھائی کی بیٹی بلقیس سے کروائی تھی ۔۔
بلال صاحب کا ایک ہی بیٹا آہل تھا ۔۔۔جو کہ کافی منت مرادوں کے بعد آیا تھا ۔۔
آہل رخسار بیگم سے بہت اٹیچ تھا ۔
خیر شادی کے بعد وہ تو باہر چلی گئی۔۔۔ لیکن سال میں ایک دو بار چکر ضرور لگاتی تھی ۔۔
حور کی پیدائش کے بعد جب رخسار بیگم پہلی بار پاکستان آئی تھی تو رافیق صاحب نے حور اور آہل کی بات پکی کر دی تھیں اس بات سے سب خوش تھے سوائے بلقیس بیگم کے ۔ آہل تب پانچ سال کا تھا ۔۔اور حور آٹھ ماہ کی تھی۔
آہل کے بعد ان کے بلال صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ گھر میں اکلوتا ہونے کی وجہ سے اس کی ہر بات مانی جاتی دادی ۔۔دادا ۔۔ماں ۔۔باپ سب کا تو وہ لاڈلہ ٹھا۔۔
اس کے منہ سے بات نکلنے کی دیر ہوتی تھی اور وہ فوراً پوری کر دی جاتی تھی اسی چیز نے اسے خودسر ۔۔ ضدی اور بگاڑ دیا تھا ۔ وہ کسی کی نہیں سنتا تھا …
ابھی تین سال پہلے تو حور اور آہل کا نکاح ہوا تھا اور شادی حور کی پڑھائی ختم ہونے کے بعد تہہ پائی تھی ۔۔
لیکن جب وہ واپس آئی تو مہینے بعد یہ خبر ان کے لیے بمم سے کم نہیں تھی کہ آہل نے اپنی کسی یونی فیلو سے شادی کر لی ہے جس کی پاداش میں اسے گھر سے نکال دیا گیا تھا ۔یہ خبر ان کے جانے والے رشتےداروں نے دی تھی اس کے بعد وہ کبھی پاکستان نہیں گئی ان کو اندازہ تھا کہ حور کو بھی آہل کی دوسری شادی کا معلوم ہو گیا تھا۔۔
حورین کے کروٹ بدلنے پر وہ ہوش میں آئی۔۔
انہوں نے حورین کا کمبل درست کیا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گئیں
۔۔
انہیں معلوم تھا کہ وہ جو فیصلہ کر رہی ہیں بے شک مشکل ہے لیکن بعد کے لیے آسانی ہے ۔
_____________________________
ایما جیسے تیسے کر کے بڑی مشکل سے آفس پہنچی ۔
ابھی وہ اپنی چیئر پر بیٹھی ہی تھی کہ سکون کے دو سانس لے لے ۔۔۔مگر میری کی بات سن کر اس کا سانس ہی خشک ہو گیا۔
” ایما باس کتنی بار تمہارا پوچھ چوکے ہیں جلدی سے جاؤ “
میری تو اپنے باس کا پیغام دے کر دوبارہ کام میں مگن ہوگئی ۔
ایما کوفت سے کھڑی ہوئی اور لنگڑاتے ہوئے جان کے آفس کی جانب بڑھئی ۔۔
اس نے ڈور نوک کیا ۔۔
“یس “
اجازت ملتے ہی وہ اندا داخل ہوئی۔۔تو سب سے پہلے اس کی نظر اس کی طرف گئی۔۔۔۔ جو ایک ہاتھ پینٹ کی پوکٹ میں ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لاگئے کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا اس کی پشت ایما کی جانب تھی ۔۔
ایما جا کر چیئر پر بیٹھ گئی اور اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ کال سے فارغ ہوا اور اپنی چیئر پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا۔۔
” میں نے بیٹھنے کا کہا “
اس نے ایک بار بھی ایما کی جانب نہ دیکھا اور اسی طرح لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوۓ بولا ۔۔
” سوری ” وہ سوری بول کر دوبارہ کھڑی ہوگئی
ایما کتنی دیر انتظار کرتی رہی کہ اب وہ کچھ بولے اب ۔۔مگر دوسری طرف تو یہ عالم تھا جیسے ایما وہاں موجود ہی نہیں ۔۔
آخر تنگ آکر وہ خود بول پڑی ۔۔
” سر آپ نے بلایا تھا “
اس کے بولنے پر جان نے ایک سخت نظر اس پر ڈالی اور پھر جب بولا تو اس کا لہجہ حد سے زیادہ توہین آمیز تھا ۔۔
” جب تک میں مخاطب نہ کرو تو چپ رہا کرو ۔مجھے فضول میں بولنے والے لوگ زہر لگتے ہیں “”.
اتنی انسلٹ اگر مجبوری نا ہوتی تو وہ کب کی اس جاب پر اور جان پر لانت بھیج چکی ہوتی لیکن افسوس یہ مجبوری انسان کو کتنا ذلیل کرواتی ہے ۔۔
جان کے منع کرنے کے بعد وہ ایک لفظ نہیں بولی اسی طرح کھڑی اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی ۔۔
تقریباً گھنٹے بعد اس نے ایما کی جانب دیکھا اور ہاتھ آگے کر کے اسے ایک لفظ بولا
“فائیل”
ایما نے فائیل اس کی جانب بڑھائی۔۔
“مس ایما آفس کی ٹایمنگ کیا ہیں؟؟ ” جان اسی طرح سنجیدگی سے فائیل کے صفحے آگے کرتے ہوۓ بولا ۔
“8:00 ” ایما نے مری آواز میں کہا ۔۔
” اب کیا ٹائم ہے ؟؟” اب کی بار جان نے فائیل سے نظر ہٹا کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
” 10:00 ” ایما ایک بےبس نظر اس کی جانب ڈالی جو گھٹنے بھر سے کھڑے رکھے ہوئے تھا
۔ ” مگر سر میں صرف پندرہ منٹ لیٹ ہوئی وہ بھی میرے پاؤں میں موچ””
اس کے بات مکمل کرنے سے پہلے ہی جان نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا۔
” میں نے پہلے بھی کہا تھا جب تک میں نہ کہا کروں تب تک نہ بولا کرو اور دوسری بات مجھے یہ لیم ایکیوز نہیں چاہے”
ایما نے اتنی زور سے مٹھی بھینچ لی کہ اس کے اپنے ناخن اس کے ہاتھ میں خب گئے ۔۔۔
” سو یہ لاسٹ وارنگ ہے اس کے بعد لیٹ ہونے کی صورت میں خود ہی اپنا انتظام کہیں اور کرلینا””
نیلی آنکھیں ناگواری لیے اور ماتھے پر بل ڈالے وہ اسی کی جانب دیکھتے ہوئے سنگین لہجے میں بولا۔۔
اب کی بار ایما نے بولنے کی غلطی نہیں کی بس سر اثبات میں ہلا دیا۔۔
” یو آر نیو ۔۔اس لیے میں آپ سے نرمی سے پیش آ رہا ہوں ورنہ اب تک میں فارغ کر چکا ہوتا ۔۔””۔
“یہ نرمی تھی تو سختی کیسی ہوگی ۔۔” ایما نے تلخی سے سوچا
” کچھ کہنا ہے تو کہہ سکتی ہیں ” جان نے جیسے اب اسے بولنے کی اجازت دی ۔۔
” ناتھگ ” ۔۔۔
ایما کو تو کچھ بولنے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا ۔۔ جتنی انسلٹ اس کی آج ہوئی تھی اس کے بعد تو دل کر رہا تھا کہ خود کو یا سامنے بیٹھے شخص کا کچھ کر دے۔۔
” اوکے تو اب نیکسٹ ویک سے پروپرلی جوائن کر سکتی ہیں ۔۔ اب جائیں “”
ایما اٹھ کر آہستہ سے لگڑاتے ہوئے دووازے کی جانب بھڑی ۔۔۔
” ایسے کیوں چل رہی ہیں ؟؟ ” جان کو اس کے ایسے چلنے سے الجھن ہو رہی تھی۔۔
ایما رک گئی مگر بولی کچھ نہیں ۔۔
” میں نے کچھ پوچھا ہے؟؟ ” اس کو جواب نادیتے دیکھ کر جان سخت لہجے میں بولا
” بولنے کی اجازت نہیں دی گئی” ایما کی بات سن کر جان نے الجھ کے اس کی جانب دیکھا جیسے اس کی بات نہ سمجھا ہو ۔۔۔۔لیکن پھر یاد آیا کہ اس نے خود کہا تھا کہ جب تک میں نہ کہا کرو نہیں بولنا ۔۔
“اب ایسی بھی بات نہیں آپ بول سکتی ہیں۔۔۔۔ ” اب کی بار جان نے نرم لہجے میں پوچھا ۔۔
“” پاؤں بریک ڈانس کے موڈ میں یے”
“” پاؤں بریک ڈانس کے موڈ میں یے ؟؟؟”
جان نے اس کی بات دوبارا دھرائی جیسے اس سے کنفرم کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے یہی کہا تھا ۔۔۔
“جی “
جان نے ایک ٹھنڈی سانس لی ایما کی بات سمجھنا اس کے بس کی بات نہیں تھی اس لیے اس نے ایما کو جانے کا اشارہ کیا۔۔۔
ایما نے ایک شکوہ کرتی نگاہ سے اس کی جانب دیکھا اسی وقت جان نے بھی اس کی جانب دیکھا۔۔
نیلی آنکھیں بھوری آنکھوں سے ٹکرائی ۔۔۔ وقت جیسے ایک پل کے لیے روک گیا۔
بھوری آنکھیں جا چکی تھی لیکن نیلی آنکھیں اب بھی ان گیلی شکوہ کرتی بھوری آنکھوں کے صحر میں تھیں ۔۔۔۔۔
________________________
ایما ٹیکسی کروا کر گھر پہنچی ۔۔۔
اس کا ارادہ اپنے کمرے میں جا کر خوب رونے کا تھا ۔۔۔ آج اسے اپنے باپ کی یاد شدتِ سے آئی تھی جو ہمیشہ اور ہر حال میں اسے اور پیٹر کو ایک دوست کی طرح سپورٹ کرتے تھے ۔۔
لیکن کمرے میں جانے سے پہلے ہی اسابیلا کو دیکھ کر اسے روکنا پڑا۔۔
اس کی ماں جو ایک بہت ہی دلکش عورت تھی اس وقت صوفے پر بیٹھی ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی لگ رہی تھی۔۔
ایما نے خود کو کمپوز کیا اور جا کر اسابیلا کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
” ہاےے مام ” اسابیلا جو کسی سوچ میں کھوئی ہوئی تھی ایما کی بات سن کر اس کی جناب دیکھا ۔۔۔اس وقت ایما کو اپنی ماں کی آنکھوں سے خوف آیا جہاں اس کے لیے کوئی شناسائی نہ تھی ۔
لیکن کچھ دیر بعد اسابیلاکو یاد آیا کہ یہ اس کی بیٹی ہے
” اوہ ایما تم آج جلدی آ گئی ” اسابیلا اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی نرمی سے بولی۔۔
” آج زیادہ کام نہیں تھا اس لیے” ایما ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹتے ہوئے بولی۔۔
” اچھا ۔۔۔ بھوک لگی ہے ” اسابیلا پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئی بولی۔۔
” نہیں میں نے سونا ہے اب ۔۔ کچھ دنوں سے نیند نہیں پوری ہوئی کام کی وجہ سے ” ایما آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
آنکھیں بند کی تو نیلی آنکھیں سامنے آ گئی ۔۔۔ایما نے گھبرا کر جلدی سے آنکھیں کھول لیں ۔۔
” کیا بات ہے ” اسابیلا اس کے اس طرح آنکھیں کھولنے پر بغور اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
اس نے نا میں سر ہلایا جیسے کہہ رہی ہو کچھ نہیں اور پھر آنکھیں بند کر لی اس بار بھی اسے وہ نیلی آنکھیں نظر آئی مگر اب اس نے آنکھیں نہیں کھولی اور پھر وہ وہی اسابیلا کی گود میں سر رکھے وہ وہی صوفے پر سو گئی۔۔۔
اسابیلا نے ایما کو سہی سے صوفے پر لیٹایا۔۔۔
اسابیلا کو برین ٹیومر تھا ۔۔ برین ٹیومر بھی ایسا کہ وہ اکثر کوئی نہ کوئی چیز بھول جاتی تھیں جس کی وجہ سے اسے کوئی کام بھی نہیں ملتا تھا ایسے میں ایما ہی ان کا سہارا تھا ۔۔۔
پیٹر تو شراب یا نشے میں ہی گم رہتا تھا ۔۔
پیٹر کا خیال آتے ہی اسابیلا مزید اداس ہوگئی ۔۔ اپنے بیٹے کو دیکھے اسے کتنے دن ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
