Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15

پارک میں داخل ہوئی تو ۔۔ روز کی نسبت ایما اس سے پہلے ہی وہاں تھی اور بینچ کی بیک سے ٹیک لگائے بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
اس کی نظریں زمین کی طرف تھی ۔۔۔اور چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا ۔۔۔
جس سے اسے بخور اندازہ ہوگیا کہ اس کا میسج اس کو مل چکا تھا ۔۔
۔
حور خود کو اس کے سوالوں کے لیے تیار کرتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔۔
لیکن اس کا بیٹھنے کا نوٹس لیے بغیر اسی طرح زمین کی طرف دیکھتی رہی ۔۔۔
” ناراض ہو ” حور نے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
ایما بولی کچھ نہیں ۔۔ بس اا نے آہستہ سے کندھے کو جھٹکا دے کر اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹایا ۔۔۔
مطلب بہت ناراض تھی وہ اس سے ۔۔۔
حور نے بےبسی سے اسے دیکھا ۔۔۔ جو اس کی طرف دیکھنے کی روادار نہیں تھی ۔۔۔
” ایما میری بات تو سن لو۔۔۔۔ یوں ناراض تونہ ہو ” ایما کا ناراض ہونا اسے تکلیف دے رہا تھا ۔۔۔
” میری ناراضگی اگر اہمیت رکھتی ہوتی تو تم یہ فیصلہ نہیں کرتی ….” ایما نے اب بھی اس کی طرف نہیں دیکھا ۔۔۔
” تمہارے خیال میں مجھے کیا کرنا چاہیے تھا ؟؟؟” حور نے ایک بار پھر اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا اس بار اس نے ہاتھ نہیں جھٹکا۔
حور کو حوصلہ ہوا۔۔۔
” تمہیں علیحدگی لے لینی چاہیے تھی ۔۔۔ ” حور کے دل کو دھکا سا پڑا اس کی بات سن کر ۔۔۔ اس کو یوں لگا جیسے ایما نے اس کی روح کو جسم سے الگ ہونے کا کہہ دیا ہو ۔۔۔
” علیحدگی ۔۔ ” وہ زیر لب یہ لفظ بولی ۔۔۔
” وہ بندہ جس نے دوسری شادی کرلی ۔۔۔ پھر تین سال تک پلٹ کر نہیں دیکھا ۔۔ اب وہ آیا ہے ۔۔ کیوں ؟؟؟ ” ایما نے اس کا چہرہ سفید پرتا دیکھا تو اپنے کندھے پر رکھا اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوۓ سمجھانے کے انداز میں بولی ۔۔۔
اور حور یہ سوچنے لگی کہ ابھی تو اس نے بس ایما کو یہ ہی میسج پر بتایا تھا کہ اس کی شادی آہل کے ساتھ اگلے ماہ ڈن ہوگئی ہے ۔۔تو وہ یہ کہہ رہی ہے ۔۔ اگر وہ اسے آہل کی پہلی بیوی سے اولاد کے بارے میں بتا دیتی تو ۔۔۔ اسے آگے حور کی سوچنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔۔
” حور کیا کوئی ایسی بات ۔۔۔ جو تم نے مجھے نہیں بتائی ۔۔۔ ؟؟ ” ایما اس کے چہرے کا اتار چڑھاؤ غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
” ہمممم ۔۔۔ ایما میں انہیں چھوڑ نہیں سکتی ۔۔۔ یہ جو تین سال میں نے انتظار کیا ہے ۔۔ یہ تو کچھ نہیں اگر مجھے ساری زندگی انتظار کرنا پڑتا تو وہ بھی میں کر لیتی ” حور کھوے ہوئے انداز میں بولی ۔۔ جبکہ اس کی باتیں سنتی ایما دنگ رہ گی ۔۔۔۔
” کیا ہے ایسا ۔۔ اس میں کہ تم اپنی زندگی اس کے پیچھے برباد کرنے پر تلی ہو “
” مجھے نہیں پتہ ۔۔ لیکن یہ سوچ کر ہی کہ اگر وہ میرے نہ رہے تو مجھے میری سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔۔ ایما تمہیں نہیں پتا کہ اگر وہ اب بھی نہ آتے تو بھی میں ان کے نام پر ساری زندگی گزار دیتی ۔۔۔ اور تم کہہ رہی ہو کہ….” حور اب کی بار کھل کر بولی ۔۔۔ اسے پتا نہیں چلا کہ بولتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔
” کب جانا ہے ۔۔ پاکستان ؟؟ ” اس کے آنسو اور باتیں سن کر ایما نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ نہیں روکے گی ۔۔۔
” پندرہ دن تک ..”
“” ہممم ۔۔۔ چلو واک کر لیں اب ۔۔ اس کے بعد آفس بھی جانا ہے ۔۔۔ میرا کھڑوس باس زرہ بھی دیر ہونے پر بولنے لگتا ہے۔۔۔۔ ” وہ پچھلی باتوں کا اثر زائل کرتے ہوئے بینچ سے اٹھتے ہوئے خوشگوار انداز میں بولی ۔۔۔
” ارے چلو بھی ۔۔۔۔ مجھے بعد میں دیکھ سکتی ہو ۔۔ لیکن اگر میں آفس سے لیٹ ہوئی تو بعد کی بھی گارینٹی نہیں ہے ” ایما نے جب حور کو اس کی جگہ سے ہلتا نہ دیکھا تو ہاتھ کر پکڑ کر کھڑا کیا ۔۔
” ایما ۔۔۔ یار تم بہت اچھی ہو ۔۔ لو یو یار ” حور کھڑے ہوتے اس کے گلے لگتے پرنم لہجے میں بولی ۔۔۔
” یار لگتا ہے تم مجھے دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتی “ایما نے ٹھنڈی سانس لے کر بےچارگی سے بولی ۔۔ یہ اور بات تھی کہ آنکھیں اس کی بھی نم ہو گئی تھیں ۔۔۔
” بدتمیز ۔۔۔۔ ” حور اس سے علیحدہ ہو کر نم آنکھوں سے ہستے ہوئے اس کے کندھے پر ہلکے سے موکا مار کر بولی ۔۔
” شکریہ۔۔ ” ایما نے سر جھکا کر اپنا لقب وصول کیا ۔۔
_____________________________
” واہ آج تو بڑے بڑے لوگ آئیں ہوئے ہیں ” آہل جو اپنے کمرے سے نکلا تھا ۔۔ فہد کی آواز سن کر مٹھایاں بھینچ کر اس کی جانب مڑا ۔۔۔
فہد عافیہ بی بی کے بڑے بیٹے اکرم کا اکلوتا بیٹا تھا ۔۔ جو انتہاء کا بگڑا ہوا تھا ۔۔ اس کی اور آہل کی کبھی نہیں بنی تھی ۔۔ جبکہ عافیہ بیگم کے چھوٹے بیٹے مجیب کی دو بیٹیاں تھیں مہک،،مسکان ۔۔۔
” ہاں ۔۔ اور گھٹیا گھٹیا لوگ پہلے ہی سے یہاں ہیں ” آہل سرد آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ کر بولا ۔۔
” ارے حورین کو نہیں لائے ۔۔۔ ایک بار دیکھ کر دل پاگل سا ہو گیا تھا۔۔ بڑی مست چیز تھی ۔۔ ” وہ بڑی بے ہودگی سے بول رہا تھا ۔۔ آہل کی برداشت یہاں جواب دے گئی ۔۔ ویسے بھی اس میں برادشت کی بڑی کمی تھی ۔۔
اایک زوردار گھونسہ سے اس کو نوازتے ہوئے وہ اپنی آگ برساتی آنکھیں اس پر مرکوز کرتے ہوئے بولا۔۔
” دوبارہ اگر میری بیوی کا نام تیرے زبان پر آیا تو کاٹ کر کتوں کو کھلا دوں گا ۔۔ ” اس کا گریبان اب بھی اس کے ہاتھوں میں تھا ۔۔۔
” حورین ۔پوری نشے کی بوتل ہے۔۔ بلکہ وہ تو پہلے والی سے بھی زیادہ ۔۔۔” اس سے آگے فہد بول نہیں پایا کیوں کہ آہل اس پر مکوں اور لاتوں کی بارش کر چکا تھا ۔۔
” ہاےےےےےےے یہ کیا ۔۔۔ کر رہا ہے ۔۔۔ پیچھے ہو ۔۔۔ ” عافیہ بی بی پتا نہیں کہاں سے نازل ہوئی ان کے ساتھ رفیق بٹ بھی تھے ۔۔۔۔آہل کو فہد سے پیچھے کرتے ہوئی بولی ۔۔۔۔
” میرے بچے کی کیا حالت کر دی ظالم نے ۔۔۔ ” عافیہ بی بی فہد کا منہ اپنے دنوں ہاتھوں کے پیالے میں تھامتے ہوئے بین کرنے کے انداز سے بولیں۔۔۔۔
فہد کے ناک اور ہونٹ سے خون نکل رہا تھا ۔۔ لیکن ابھی بھی اس کے ہونٹوں سے وہ مکروہ مسکراہٹ نہیں گئی تھی ۔۔
” آہل یہ سب کیا ۔۔۔۔ ؟؟؟” داجی دونوں ہاتھوں کو پیچھے باندھے گرجدار انداز میں بولے ۔۔۔
بلال صاحب اس وقت اپنے آفس تھے ۔۔ دادی سو رہی تھیں دوا کھا کر ۔۔
ان کے علاؤہ باقی سب بھی داجی کی گرجدار آواز سن کر وہاں جمع ہوگئے تھے ۔۔۔
یہاں تک کہ ملازم بھی ۔۔۔
” داجی کچھ نہیں ہوا ۔۔ میری ہی غلطی ہے ۔۔۔ آہل کا کوئی قصور نہیں ۔۔” فہد مظلوم سی شکل بنا کر بولا ۔۔
” پوری بات بتاؤں …” داجی دیکھ آہل کو رہے تھے جس کا چہرہ بےتاثر تھا لیکن مخاطب فہد سے تھے ۔۔
” کچھ نہیں ۔۔۔ داجی ” فہد نے بھی بات کو ٹالنے کی اداکاری کی ۔۔
” مجھے جواب چاہیے ۔۔۔” داجی سرد آنکھیں لیے غصے سے بولے ۔۔
” وہ داجی ۔۔۔ میں اسے یہ کہہ رہا تھا کہ تمہیں داجی کی بات مان لینی چاہیے تھی ۔۔۔”
فہد شرمندہ سا ہوکر آنکھیں نیچے کر کے بولا ۔۔۔
” عافیہ لے کر جاؤ اس کو ڈاکٹر کو بلاؤ ۔۔۔ اور باقی سب بھی جائیں اور شادی کی تیاریاں کریں ۔۔۔ ” داجی نے سب کے وہاں سے رخصت ہوتے ہی ۔۔ داجی بھی جانے کو مڑے لیکن پھر روک گئے اور آہل کو دیکھیے بغیر بولے ۔۔۔
” مجھے مجبور نہ کرو کہ میں پھر سے تمہیں نکالنے پر مجبور ہو جاؤں۔۔۔ مجھے پہلے ہی تم بہت شرمندہ کروا چکے ہو ۔۔۔ اگر ابھی بھی یہ ارادہ ہے تو پہلے بتا دو ” ان کے انداز میں اتنی اجنبیت تھی کہ اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔۔ لیکن اس نے اپنے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔۔۔۔
داجی کے جاتے ہی اس نے مٹھیاں بھینچ لی۔۔۔
اس کے اندر نفرت اور غصے کا طوفان اٹھ رہا تھا ۔۔
وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتا حویلی سے باہر نکلا ۔۔ اور گاڑی میں بیٹھ کر ۔۔ گاڑی گیٹ سے نکال کر روڈ پر لاتے ہوئے اس نے کسی کو فون کیا ۔۔۔
” میرا کام ہوا…؟؟؟.”
” اوکے ۔۔ میں آکر دیکھ لیتا ہوں ۔۔۔ “
آج کہ واقعہ نے اس کا ارادے پختہ کر دیۓ تھے ۔۔
اب دیکھنا یہ تھا کہ جو غصے اور نفرت کا طوفان وہ اپنے اندر دباۓ بیٹھا تھا وہ کتنی تباہی لانے والا تھا۔۔۔۔
__________________________
“تمہیں کیا ضرورت تھی آنے کی ۔۔۔ میں روز کی طرح آج بھی خود آ سکتی تھی ” ایما ایک ناراض نظر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے حنان پر ڈالی ۔ ۔۔۔ اس کو بلکہ اچھا نہیں لگ رہا تھا حنان کا احسان لینا ۔۔۔ وہ اپنے کام خود کرنا پسند کرتی تھی ۔۔
حنان جو بڑی سنجیدگی سے ڈرئیونگ کر رہا تھا ۔۔ ایما کی بات سہی سے سن نہیں سکا ۔۔ اس کا دماغ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔
” میں نے کچھ کہا ہے حان ” اس کو اپنی طرف متوجہ نہ پا کر ایما نے اب اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر متوجہ کیا ۔۔۔
” تم کیا کام کرتی ہو۔۔ آفس میں مین ۔۔ کس پوسٹ پر ۔۔ ” حنان کی بات سے اسے الجھن ہوئی وہ اسے کیا کہہ رہی ہے اور حنان کیا بات کر رہا ہے ۔۔
” میں فلحال سیکٹری کی پوسٹ پر ہوں ۔۔۔ جب تک کوئی اور سیکٹری اپوانٹ نہیں ہو جاتی ۔۔۔ تب تک کے لیے ۔۔ ” اس کی بات سن کر حنان کی گرفت سٹرنگ ویل پر سخت ہوئی ۔۔۔
” ایما تم ۔۔ تم یہ جاب چھوڑ دو ۔۔ میں کہیں اور تمہیں دلوا دوں گا ۔۔۔ ” ایما کو کرنٹ لگا۔۔۔
” تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ میں کسی کا احسان لینا پسند نہیں کرتی ۔۔ میں جو بھی کرنا چاہتی ہوں اپنے بل بوتے پر کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ مجھے تو یہ بات بھی نہیں پسند نہ تم مجھے پک اینڈ ڈراپ کی سروس دو ۔۔۔۔ ” حنان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے ایما کو اپنی بات سمجھاۓ۔۔
” ایما میں تمہاری سیفٹی کے لیے کہہ رہا ہوں ۔۔ کیونکہ تمہیں کچھ ہو یہ میں برداشت نہیں کر سکتا ۔۔ ” آخر میں تنگ آکر اس نے گاڑی ایک طرف روکی اور اپنی سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔ کیونکہ اس کا سارا فوکس اس وقت ایما کو جاب چھوڑنے پر راضی کرنے پر تھا ۔۔ ایسے میں اس کے لیے ڈرائو کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔
” تم کیا کہہ رہے ہو مجھے سمجھ نہیں آ رہی ۔۔۔ بھلا مجھے کیا ہونا ہے ؟؟” اس کے گاڑی روکنے سے ایما چونکی تھی ۔۔۔ لیکن اس سے زیادہ وہ اس کی سیفٹی والی بات پر الجھی تھی ۔۔۔
” تمہیں کتنا پتا ہے جہان کے بارے میں ۔۔ ؟؟؟” اگر ایما رات کو جان کے بارے میں سرچ نہ کرتی تو اسے نہیں پتا لگنا تھا کہ حنان کس جہان کی بات کر رہا ہے ۔۔۔
” حان جو بات ہے سیدھی طرح کہو ۔۔ کیوں پہلیوں میں الجھا رہے ہو ۔۔۔۔ ” ایما کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کچھ تو تھا جو غلط تھا ۔۔ کیونکہ اس نے حنان کو کبھی اس طرح نہیں دیکھا۔۔۔
” ایما ۔۔” حنان اس کی طرف مڑ کر اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا۔۔۔۔ اور اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
ایما نے اچھنبے سے اس کی حرکت دیکھی ۔۔
” جہان بہت خطرناک ہے ۔۔۔ تم پلیز اس سے دور رہو ۔۔۔ ” وہ اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولا۔۔
” خطرناک سے مراد “” حنان دو منٹ چہرہ نیچے کیے جیسے خود کو بولنے کے لیے تیار کر رہا تھا ۔۔
” ایما اس نے اپنی مدر کا مڈر کیا ۔۔۔۔ ” حنان نے اپنے ہاتھوں میں موجود ایما کے ہاتھ کی لرزش اچھی طرح محسوس کی تھی ۔۔۔
” وٹ ” ایما بڑی مشکل سے اپنی چیخ کا گلا گھونٹ کر بس اتنا ہی بول پائی تھی ۔۔۔
” یہی نہیں ۔۔۔ اس نے اپنی بہن ۔۔ اور ایک ڈوک جو اس کی مدر نے اسے گفٹ کیا تھا اسے بھی مار دیا ۔۔۔ اس کی بہن کی تو لاش آج تک نہیں مل پائی ۔۔۔ ایک بار تو اس نے ڈیڈ پر بھی اٹیک کی کوشش کی تھی ۔۔۔اس لیے ڈیڈ نے اسے بورڈنگ بھیج دیا تھا ۔۔ ” ایما سفید ہوتے چہرے کے ساتھ اس کی ساری باتیں سن رہی تھی ۔۔ اس کو اپنے ہاتھ ٹھنڈے اور خوف کی وجہ سے گلا سوکھا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔
” ایما ۔۔ آر یو اوکے ۔۔۔ ” حنان تو اس کی یہ حالت دیکھ کر پریشانی سے اس کے گال تھپتھپاۓ ۔ جو بلکل ٹھنڈے پر چکے تھے ۔۔۔
” میں کیا کروں پھر ۔۔اب ” حنان کو ایما کی آواز سن کر سکون ملا۔۔۔
” تم یوں کروں آج ہی ریزائن کر دو۔۔۔ ” حنان گاڑی سے پانی کی بوتل نکال کر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔
ایما نے اس سے پانی کی بوتل لی ۔۔ اس وقت اس کا گلا سوکھا ہوا تھا ۔۔
” ہاں ۔۔میں ریزائن کر دوں گی ۔۔۔ ” وہ پانی پینے کے بعد سرگوشی کہ انداز سے خود سے بولی۔۔۔ جبکہ اس کی سرگوشی حنان کے کانوں تک بھی پہنچی تھی۔۔۔ جیسے سن کر اسے اپنے دل میں اطمینان سا اترتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
اگاڑی دوبارہ اپنی منزل پر رواں ہوگئی تھی ۔۔
ایما کو رات کا خواب پھر سے یاد آیا ۔۔۔ ( تو کیا یہ خواب اسی وجہ سے آیا تھا کہ میں خطرے میں تھی ۔۔ مطلب وہ لڑکی میں ہی تھی ۔۔۔ اور وہ سایہ جہان تھا )
اس کا دل خراب ہو رہا تھا ۔۔۔ صبح کو اس نے صرف جوس ہی پیا تھا ۔۔۔ ناشتہ اس نے جلدی کے چکر میں نہیں کیا ۔۔کہ حنان اس وقت باہر گاڑی میں تھا ۔۔ اس نے بس چینج کیا اور بالوں کا جوڑا بنا کر بیگ پکڑ کے گاڑی میں بیٹھنے گئی ۔۔۔
اسے بیگ میں موجود چاکلیٹ کا خیال آیا ۔۔۔
جلدی سے بیگ کھول کر اس نے چاکلیٹ نکالی اور ریپر اتار کر چاکلیٹ کی ایک بڑی سے بائیٹ لی ۔۔
حنان نے ایک نظر ونڈ سکرین سے ہٹا کر اس کی طرف دیکھا جو اب بچوں کی طرح چاکلیٹ کھارہی تھی ۔۔ ایسے چاکلیٹ کھاتی حنان کو وہ بہت کیوٹ اور معصوم لگی ۔۔
کچھ چاکلیٹ اس کے ہونٹ اور چیک پر لگ گئی تھی ۔۔۔
آفس آگیا تھا ۔۔۔
گاڑی پارکنگ میں روک کر حنان اس کا ہاتھ پکڑا جو بچی چاکلیٹ بیگ میں ڈال کر گاڑی کا ڈور کھول کر نکلنے لگی تھی ۔۔۔۔
حنان نے ایک نظر ایما کے پیچے کھولے دروازے پر ڈالی اور پھر ٹشو نکال کر اس کے ہونٹ اور چیک سے چاکلیٹ صاف کی ۔۔
نرمی سے ۔۔
پیار سے ۔۔
اس وقت اس کے دل اور دماغ میں ایک ہی بات چل رہی تھی کہ آیا چاکلیٹ زیادہ میٹھی ہوگی یا پھر اس کے ہونٹ۔۔۔
“اب تو میرا ہاتھ چھوڑ دو ۔۔۔ ” ایما اس کی نظروں سے بے خبر اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالنے کے لیے بولی ۔۔۔
” ایک شرط پر ” ۔۔ حنان نے اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی ۔۔ اور شرارت سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔۔۔
شرط کی بات سن کر ایما نے اپنی بڑی آنکھیں مزید بڑی کر کے حیرت سے اس کی طرف دیکھا ۔۔
” کیسی شرط ؟؟؟”
” وہ چاکلیٹ مجھے دو۔۔ پھر جانے دوں گا ۔۔۔۔ ” چاکلیٹ کے بارے میں حنان اس کے پاگل پن سے اچھی طرح واقف تھا ۔۔
” حان پلیز۔۔۔۔ ” ایما نے معصوم سی شکل بنائی۔۔۔ کہ کسی طرح وہ اپنی چاکلیٹ بچا لے ۔۔۔
” نوپ ۔۔۔ ” حنان نے اپنے دوسرا فارغ ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا ۔۔
ایما نے یہ بات محسوس نہیں کی لیکن حنان اس کا دماغ بٹا رہا تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے جو خوف تھا وہ اب نہیں تھا ۔۔۔
ایما نے منہ بسورے ہوئے اپنی بچی ہوئی چاکلیٹ بیگ سے نکال کر اس کو دی ۔۔۔
چاکلٹ لیتے ہی حنان نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔
” حان تمہیں پتا ہے تم بہت برے ہو ۔۔۔۔ ” ایما گاڑی سے نکلنے کے بعد بولی۔۔۔
” اوہ ۔۔ تمہارا دوست ہوں ۔۔۔۔ برا تو ہونا ہی تھا ۔۔۔ ” حنان بھی اس کے پیچھے گاڑی سے اترا گاڑی لوک کرتے ہوئے بولا۔۔۔
ایما پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
” تم نہ سہی ۔۔۔۔
تمھاری یہ چاکلیٹ ہی سہی ۔۔۔۔ “
حنان نے مسکراتے ہوئے چاکلیٹ کی ایک چھوٹی سی بائٹ لی۔۔۔۔۔
اسے چاکلیٹ پسند نہیں تھی ۔۔۔ لیکن جب سے وہ اس طرح ایما سے چاکلیٹ لیتا تھا ۔۔ اسے وہ چاکلیٹ ہر چیز سے زیادہ لذیز لگتی تھی ۔۔۔
” کیا بنے گا تیرا حنان ۔۔۔۔” اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر وہ خود ہی اپنے آپ سے بولا ۔۔۔
اور VIP لفٹ کی طرف بڑھاگیا۔۔۔
___________________________
جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *