Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23
سردی کی شدت عروج پر تھی ۔۔۔ دھند نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔۔۔
وہ بھی نیلی سرد آنکھیں اس دھند سے لپٹی شیشے پر ٹکائے کھڑا تھا ۔۔ آج اس نے کتنے ہی امپائر کی طبعیت صاف کی تھی ۔۔ اس کا غصہ دیکھ کر سب دیہان برق رفتاری سے کام کر رہے تھے کہ اگلی باری ان کی نہ آجاے ۔۔ اس لیے آفس میں خلافِ معمول بہت خاموشی تھی ۔۔۔
وہ ابھی بھی نظریں شیشے پر ٹکائے کھڑا تھا کہ اس کا فون بجا ۔۔
اس نے ٹیبل پر پڑے اپنے موبائل کی سکرین پر دیکھا نمبر انون تھا لیکن پھر بھی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ کون ہوسکتا ہے ۔۔ اس کی نیلی آنکھیں مزید سرد ہوگئی ۔۔ ماتھے پر نمودار بل اس کی ناگواری کا پتا دے رہے تھے ۔۔۔
فون ایک بار بج کے بند ہوگیا لیکن جان کی نظریں اب بھی سکرین پر تھی اس کو پتا تھا کال پھر آۓ گی اور وہی ہوا اگلے پل سکرین پر پھر سے وہ نمبر آیا ۔۔۔
اب کی بار اس نے کال اٹینڈ کر لی ۔۔۔ لیکن بولا کچھ نہیں ۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔ ڈر گئے ۔۔ابھی سے ۔۔۔ ” دوسری طرف سے اس کی پہلی بار کال نہ اٹینڈ کرنے پر جیسے چوٹ کی گئی ۔۔۔
” میں ڈرا ہو کہ نہیں ۔۔۔ اس کا تو بہت جلد پتا لگے گا تمہیں ۔۔۔ لیکن تم مجھ سے ڈرتے ہو ۔۔۔ یہ مجھے پتا ہے ۔۔۔ ” اس کی آواز اس کی آنکھوں کے برعکس پرسکون تھی ۔۔۔ اس کا یہی پرسکون انداز تو اس کے مخالف کو آگ بگولہ کر دیتا تھا ۔۔۔
” ڈی کسی سے نہیں ڈرتا ۔۔۔۔ اب تم تیار رہنا ۔۔۔ ” دوسری طرف موجود شخص اس کی بات سے مسکرایا اس کی مسکراہٹ بھی اس کی شخصیت کی طرح پراسرار تھی ۔۔
” کر لو ۔۔۔ جو کر سکتے ہو ۔۔ جان بھی کسی سے نہیں ڈرتا ۔۔ خاص کر ان سے جو چھپ کر وار کرتے ہیں اور سامنے آنے سے ڈرتے ہیں ۔۔۔ ” اس کا تمسخر اڑانے والا انداز ڈی کو بتا گیا کہ مقابل کسی سے کم نہیں۔۔
” لگتا ہے تم مجھے بھول گیے ۔۔۔ لیکن کوئی نہیں اب اگلی ملاقات میں سب یاد آجائے گا ۔۔ ابھی تو میں ذرا تمہارے سرپرائز کا انتظام کر لوں ۔۔۔ ” معنی خیز انداز میں کہتے اس نے فون کاٹ دیا ۔۔۔ یہ چوتھی کال تھی جو اسے آئی تھی ۔۔۔ اور ان چاروں بار نمبر نیا ہوتا تھا ۔۔
کال بند ہوچکی لیکن اس نے کوئی ریکشن نہیں دیا اسی طرح کھڑکی کے سامنے پرسکون انداز میں کھڑا رہا تھا ۔۔۔ اس کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں جان سکتا تھا کہ اس کے کتنے طوفان ہیں جو زرہ سی چھڑنے کی دیر تھی تباہی مچانے کے لیے تیار تھے ۔۔۔
آفس کا دروازہ نوک ہوا ۔۔۔
” یس۔۔۔۔ ” اس نے اسی طرح کھڑے ہوئے اجازت دی ۔۔۔
اجازت ملتے ہی ایما خود کو پرسکون کرتی اندر داخل ہوئی تو پہلی نظر اس پر گی جو گرے پینٹ کوٹ پہنے اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا ۔۔ اس نے ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے تھے ۔۔
ابھی ایما اس کی طرف دیکھ ہی رہی تھی کہ اسی وقت جان اس کی طرف پلٹا ۔۔ اور اپنی نیلی سرد نظریں اس کی طرف جماۓ جیسے اس کے آنے کا مقصد پوچھا ۔۔۔
” یس سر ۔۔۔ ” اس کی ایسی نظریں ایما کا حلق خشک کر رہی تھی اس نے گلا تر کیا ۔۔۔
جان نے جواب میں کچھ نہیں کہا بس آہستہ سے اس کی طرف بھڑا ۔۔ اس کی نیلی آنکھیں جن میں اس وقت سرد مہری ہی سی تھی وہ مستقل اس پر جمی تھی ۔۔۔
اس کو اس طرح اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر ایما کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی نامحسوس انداز میں اس نے قدم پیچھے کی طرف اٹھنا شروع کر دیئے ۔۔ یہاں تک کے مزید پیچھے نہیں جا سکی اور اس کی پشت دروازے سے لگ گئی۔۔۔ اسی وقت جان اس کے بلکل قریب آگیا اور اپنے دونوں ہاتھ اس کے آئیں بائیں دروازے پر ٹکائے اس کو اپنے گھیرے میں قید کیا ۔۔۔
ایما کو جان کے انداز بلکل سمجھ نہیں آرہے تھے ۔۔ اس کے ہونٹ خشک اور ہاتھ پاوں ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔۔ اس نے ہمت کر کے دوبارہ بولنا چاہا تو جان نے اسی وقت اس کے ہونٹ پر انگلی رکھ دی ۔۔
اس کے ایسا کرنے سے ایما کا دل زور سے دھڑکا ۔۔ اسے جو پرسکون تھی کہ جان اس کے ساتھ کوئی ایسی ویسے نہیں کرے گا لیکن آج اس کو یہ اطمینان بھی جاتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔۔جان کی نظریں مسلسل اس کے ہونٹوں پر تھی جبکہ ایما کی اس پر ۔۔۔
اب جان اس کے ہونٹ کو اپنی انگلی سے ٹریس کرنے لگا ۔۔۔ ایما کی برداشت اب کے جواب دے گی ۔۔ اس لیے جان کے ہاتھ جھٹک کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا ۔۔ وہ اس کا ہاتھ جھٹکنے میں ہی بس کامیاب ہوئی تھی لیکن پیچھے کرنے میں نہیں ۔۔
جان نے اس کا بھپڑا ہوا چہرا دیکھا تو تمسخر آمیز انداز میں مسکرایا اور اگلے ہی پل اس نے ایما کے دنوں ہاتھ اس کی پشت پر باندھ کر خود سے بلکل قریب کر لیا ۔۔اتنا قریب کے ایما کو اس کے گرم سانسوں کے تھپیڑ اپنے چہرے پر محسوس ہو رہے تھے ۔۔اس کی گرفت اس کے ہاتھوں پر اتنی سخت تھی کہ ایما کو اپنے ہاتھ ٹوٹتے ہوے محسوس ہو رہے تھے ۔۔
ایما کو جان کی قربت سے خوف آرہا تھا ۔۔ کیونکہ جان کا انداز بلکل سپاٹ تھا ۔۔ ہر احساس سے عاری ۔۔ جیسے کے اس نے ایما کو نہیں کسی بےجان گڑیا کو پکڑا ہو ۔۔
لیکن ایما اس کی دھڑکن اتنی تیز ہوگئی تھی کہ اسے لگا کہ ابھی اس کا دل نکل کر بھاگنا شروع کردے گا۔۔۔ایما نے خود کو اس کی گرفت سے نکلانے کی کوشش کی ۔۔
” سر یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ ” آخر ایما جب خود کو اس کی گرفت سے نہ نکال پائی تو غصے سے بولی ۔۔ اس کا چہرہ اس وقت پورا لال تھا ۔۔
” آئندہ ۔۔۔ جب تک میں نہ بلاؤ ۔۔۔تم نہیں آؤ گی ۔۔۔ لیکن اگر میرے بلاۓ بغیر آئی تو اس کا مطلب میں یہی سمجھوں گا کہ تم میری قربت کی خواہاں ہو ۔۔۔ ” جان اپنے ہونٹ اس کے کان کے پاس کرتے ہوے سرگوشی میں بولا ۔۔۔ اس کا انداز حاکمانہ ہونے کے ساتھ مزاق اڑاتا بھی تھا ۔
” سر آئی ۔۔۔ مجھے آپ نے ہی بلایا تھا ۔۔ ” ایما بھی اب کی بار چپ نہ رہی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بنا ڈرے بولی ۔۔
جان نے چونک کر اس کا یہ انداز دیکھا ۔۔۔ لیکن یہ چوکنا اس نے اس سرعت سے چھپایا کہ ایما کو اس کے چوکنے کا بھی نہیں پتا چلا ۔۔
” انٹریسٹنگ ۔۔۔ اگر تم میرے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتی ہو تو ایسے ہی کہہ دو ۔۔۔ اتنا ڈرامہ کریٹ کرنے کیا ضرورت تھی ۔۔۔ ” جان اسے گہری نظروں سے اس کے تاثرات دیکھتے ہوے بولا ۔۔
اس کی یہ بات سن کر ایما بلکل آؤٹ ہوگئی ۔۔۔ اس نے ایک زوردار جھٹکا دے کر جان کو خود سے دور کیا اور اس بار جان کی گرفت سے نکلنے میں بھی کامیاب رہی کیونکہ جان نے خود اسے چھوڑا تھا ورنہ جان کی گرفت سے نکلنا ایما کی بس کی بات نہیں تھی ۔۔,
اس کی گرفت سے نکل کر ایما نے غصے سے انگلی اس کی طرف اٹھی اور بولی نہیں پھنکاری تھی ۔
” تمہاری ذہنیت کا اس بات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں سواۓ گند کے کچھ نہیں ۔۔۔ ” شدید جذبات سے اس کا سانس پھول گیا تھا ۔۔آنکھیں بھی اس کی نم ہو رہی تھیں لیکن پھر بھی اس نے اپنے آنسو نکلنے نہیں دیے ۔۔ اس کی بھوری آنکھیں اس وقت ضبط کی شدت کی وجہ سے لال ہو رہی تھیں ۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جان کے ساتھ کیا کر دے ۔۔۔ اگرچہ اسے کوئی روک ٹوک نہیں تھی لیکن آج تک کسی کے ساتھ بھی اس کے تعلقات اس نوعیت کے نہیں ہوئے۔۔
جو کہ جان بنانا چاہتا تھا وجہ شاید حور کے ساتھ رہنے کا اثر تھا جو خود کو سیپ کے موتی کی طرح سنبھال کر رکھتی تھی ۔۔۔اس کے دل میں بھی یہ خواہش تھی کہ وہ خود اس ایک کے لیے سنبھال کر رکھے جو اس کا حقیقی حقدار ہے ۔۔
وہ بولنے کہ بعد روکی نہیں تھی اور جان کے آفس سے نکلتی گئی ۔۔۔ جان نے بھی اسے روکا نہیں ۔۔
بس پرسوچ نظریں اس طرف ہی تھی جہاں سے ابھی وہ گئی تھی ۔۔
__________________________
ڈیرئیک ایما کے آنے سے پہلے ہی آفس سے نکل گیا ۔۔۔ کیونکہ اسے پتا تھا کہ جان جب اسے بتانے گا کہ اس نے بلایا ہی نہیں تو ایما ضرور اس کی شامت لاۓ گی ۔۔ہو سکتا ہے اسے قتل ہی کر دے ۔۔
ابھی وہ ایما کی حالت کو سوچتے ہوئے سرشار سا ڈرایو کر رہا تھا کہ اس کا فون بجا ۔۔ اس نے موبائل نکال کر دیکھا تو ڈیڈ کالنگ آرہا تھا ۔۔
اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کال کیوں کر رہے ہیں ۔۔
” ہائے ڈیڈ ۔۔ ” اس نے کال اٹینڈ کرتے ہی پرجوش میں کہا ۔ لیکن دوسری طرف وہ جو اس کی حرکتوں کی وجہ سے عاجز تھے انہیں اس کا یہ پرجوش انداز پسند نہیں آیا ۔۔۔
” ڈیرئیک میں تمہارا کیا کروں ۔۔۔۔ جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ گارڈز کے ساتھ جانا جہاں جانا تو تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی ۔۔۔ ” انہوں نے جیسے تنگ آکر کہا ۔۔۔
انہیں پچھلے دنوں سے دھمکی آرہی تھی کہ اگر انہوں نے ڈیل سائن نہ کی تو ہر طرح کے نقصان کے لیے تیار رہیں ۔۔۔ انہیں اور کسی چیز کی فکر نہیں تھی سوائے اپنے بیٹے اور بیوی کی لیکن مجال ہو جو ان کا بیٹا ان کی بات مان لے ۔۔ انہوں نے اس کے ساتھ اس کی حفاظت دے کر گارڈز بھیجے تھے جنہیں چکما دے کر وہ نکل آیا تھا اور ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہو چکا تھا ۔۔۔
” ڈیڈ ۔۔ میری بات سنیں ۔۔۔ مجھے نہیں پسند اپنے ساتھ یہ گارڈز کا دم چھلہ لگانا ۔۔۔ اور ویسے بھی میں اپنی حفاظت خود کر سکتا ہو ۔۔۔ ” اس نے بھی خلافِ معمول سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
” مگر ۔۔۔ ” انہوں نے پھر کچھ کہنا چاہا ۔۔۔
” ڈیڈ کہا نا ۔۔۔ آپ پریشان نہ ہو ۔۔ میں ٹھیک ہو ۔۔ ” اس نے انہیں تسلی دی ۔۔
اب گاڑی جس سڑرک سے گزر رہی تھی یہ سنسان تھی ۔۔۔ آس پاس درختوں کی قطاریں تھی ۔۔۔
” چلو ٹھیک ۔۔۔ اپنا خیال رکھنا ۔۔۔ ” انہوں نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا انہیں پتا تھا کہ اب وہ چاہے جو مرضی کر لیں وہ اپنی بات سے نہیں ہٹے گا ۔۔۔
” اوکے ڈیوڈ ۔۔۔۔ ” سبز آنکھیں سرک پر ٹکائے اس نے جواب دے کر فون بند کیا ۔۔۔ ابھی تھوڑا راستہ مزید تہہ کیا تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی اپنی گاڑی کا بونٹ کھولے اس پر جھکی ہوئی تھی ۔۔
سنسان سڑک ۔۔۔ آس پاس گھنے درخت تھوڑی دور ہی جنگل تھا ایسے میں اگر وہ بھی چلا گیا تو کون اس کی مدد کرے گا ۔۔ یہی سوچتے ہوۓ ڈیرئیک نے گاڑی روکی اور کھڑکی کھول کر اونچی آواز میں اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
” ہائےےے ۔۔ مدد چاہیے ” آواز سن کر جب لڑکی نے چہرہ اس کی جانب کیا تو وہ اور کوئی نہیں تھی اولیویا تھی ۔۔جسے دیکھ کر ڈیرئیک کا چہرہ اور سبز آنکھیں جگمگا اٹھی تھیں ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف اولیویا اسے وہاں دیکھ کر بدمزہ ہوگئی تھی ۔۔
وہ تو کام سے جا رہی تھی کہ راستے میں گاڑی خراب ہوگئی تھی ۔۔۔ اس لیے وہ گاڑی چیک کرنے کے لیے ادھر کھڑی تھی ۔۔۔ کتنی دیر سر کھپانے کے بعد بھی جب اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو مدد کے خیال سے اس نے فون کرنے کا سوچا لیکن اسے پہلے ہی اسے پیچھے سے جانی پہچانی آواز آئی اور جب مڑ کر ڈیرئیک کو دیکھا تو دیکھ کر تسلی ہوئی لیکن اس کے سامنے اس نے منہ بیگاڑا تھا ۔۔
” واہ ۔۔۔ کیا بات ہے ۔۔ ابھی میں تمہارے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔۔ ” ڈیرئیک اپنی گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے اس کے پاس آتے ہوے بڑے رومانٹک انداز میں بولا ۔۔ یہ اور بات تھی کہ اس وقت اس کی آنکھوں میں شرارت چمک تھی ۔۔
اس کی بات سن کر اولیویا نے آنکھیں گھمائی ۔۔۔
” ارے پوچھو گی نہیں کہ کیوں یاد کر رہا تھا ۔۔۔ ” ڈیرئیک اب اس کے بلکل قریب آچکا تھا۔۔
” نہیں ۔۔۔ مجھے پتا تم فضول ہی سوچوں گے ۔۔ اور مجھے فصول چیزوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ۔۔ ” اولیویا نے تپ کر کہا ۔۔
” تمہارے منع کرنے سے میں کون سا ہو جانا ہے ۔۔۔ ” ڈیرئیک اب اس کو سائڈ پر کر کے خود گاڑی چیک کرنے لگ گیا ۔۔۔ اتنا تو اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے وہ یہاں کھڑی تھی ۔۔
اس کی یہ بات سن کر اولیویا کا میٹر ہی آؤٹ ہوگیا ۔۔۔
” تو پھر پوچھنے کا تکلف ہی کیوں کیا تھا ۔۔۔ ” اس کا یہی تپنا ہی تو ڈیرئیک کو مزہ دلاتا تھا ۔۔۔
” بس میں کبھی کبھی ایسے تکلف کر ہی لیتا ہوں ۔۔۔یو نو نہ کتنا اچھا ہو میں۔۔۔ ” وہ تاریں چیک کرتے ہوئے خود ہی اپنی تعریف کے مزے لے رہا تھا ۔
” ہاں ۔۔ اتنے اچھے ہو ۔۔۔ کہ دل کرتا ہے جان سے مار دوں ۔۔۔ ” اولیویا نے جل کر کہا ۔۔ وہ ایک طرف کھڑی ساتھ اس سے بحث کر رہی تھی اور ساتھ موبائل میں بزی تھی ۔۔۔
” میں تمہاری انہی باتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا یہ جو تم اشاروں کناروں میں مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ہو نا ۔۔۔ قسم سے دل لوٹ لیتی ہو ۔۔۔ ” ڈیرئیک کو پتا اس بات پر اولیویا کی آنکھوں سے انگارے نکل رہے ہوں گے یہی دیکھنے کے لیے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ واقعی اس کو ایسے ہی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
” ہاہاہاہا ۔۔ بعد میں دیکھتی رہنا ۔۔ یہ بندہ آپ کا ہی ہے ۔۔۔”اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک شرارت سے کہا ۔۔
” فلحال میری گاڑی سے ٹول باکس لانا ۔۔۔ ” اس نے چابیاں اس کے حوالے کی ۔۔۔اولیویا انکار کر دیتی لیکن کیوں کہ اس کا اپنا کام تھا اس لیے چپ چاپ چابیاں لے کر وہاں سے چلی گی ۔۔۔
وہ جب ٹول باکس نکال رہی تھی تو اسے لگا کہ اس کے علاؤہ بھی کوئی ہے ۔۔۔ اس نے ادھر اُدھر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔ اپنا وہم سمجھ کر اس نے کندھے اچکاۓ اور باکس لے کر ڈیرئیک کے پاس واپس آئی ۔۔۔
باکس اس سے لے کر ڈئرئیک نے ٹیپ نکالی اور پھر جھک گیا ۔۔۔
اسی وقت ایک نیلے رنگ کی گاڑی ان کے پاس سے ہو کر گزری جس پر اولیویا نے سراسری نگاہ ڈال کر دوبارہ ڈئرئیک کو دیکھنے لگی جو اس کی گاڑی پر جھکا خلاف معمول خاموشی سے کام کر رہا تھا ۔۔
پتا نہیں کیوں لیکن اولیویا کو اس کی خاموشی اچھی نہیں لگی تھی ۔۔۔
گاڑی کو یونہی کھلا چھوڑ کر اس نے گاڑی میں بیٹھ کر اس نے چابی گھما کر گاڑی سٹارٹ کی تو وہ چل گئی ۔۔۔
” بندہ تھینکس ہی کہہ دیتا ہے ۔۔۔ ” رومال سے ہاتھ صاف کرتے ہوے اس نے اولیویا کو کہا جو اب بونٹ بند کر رہی تھی ۔۔۔
” میں نے کہا مدد کروں ۔۔۔ تم خود ہی آئے تو پھر تھینکس کس چیز کا ۔۔۔ ” اندر بےشک وہ اس کی ممنون تھی لیکن اس کے منہ پر وہ کبھی نہیں کہنے والی تھی ۔۔
” یہ بھی سہی ہے ۔۔۔ تھینکس تو ویسے بھی غیروں کو کہتے ہیں ۔۔۔ ہےنا ۔۔۔ ” اس کے گال زور سے کھینچتے ہوئے ڈئرئیک نے اسے پھر سے چھیڑا ۔۔۔
” خوش فہمیاں ہیں ۔۔۔ ” اولیویا نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوے آنکھیں گھما کر کہا ۔۔۔
” اتنا آنکھیں نہ گھمایا کروں ۔۔ میں تمہارے سامنے ہی ہوں ۔۔۔ اور رہی بات خوش فہمیوں کا تو دیکھتے ہیں ۔۔ ابھی تھوڑی دیر بعد تم ضرور میرا نام لو گی ۔۔۔۔” کہہ کر ڈیرئیک اپنی گاڑی میں بیٹھا اور اس کی جانب فلائینگ کس اچھالتا ہوا گاڑی سٹارٹ کرتا ہوا وہاں سے نکل گیا ۔۔
اولیویا کو اس کی اس بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا اس لیے وہ سر جھٹکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی اور سیٹ پر بیٹھ کر اپنی سیٹ بیلٹ بند کر جب اس نے ہاتھ سٹریینگ ویل پر رکھا تو اس کی سانس حلق میں پھنس گئی ۔۔
کیونکہ سامنے ہی سٹرئیگ وہیل پر ڈیرئیک کا شاگرد لیٹا سر کے نیچھے ہاتھ رکھے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” ڈئرئیک ۔۔۔۔ ” اولیویا نے چیختے ہوئے اس کا نام لیا ۔۔ اسے اس کی بات کا مطلب اب سمجھ آیا تھا ۔۔۔
ڈرئرئیک جس نے گاڑی کی سپیڈ سلو ہی رکھی تھی اپنا نام کی صدا سن کر اس کے فیس پر ایول سمائیل آگئی۔ ۔۔اس نے اولیویا کو جب ٹول باکس لینے بھیجا تھا تب ہی یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا ۔۔
اس نے گاڑی کی سپیڈ اب کہ تیز کر دی ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اس کا موبائل وائبریٹ ہوا تو اس نے دیکھا مس سائیکو کالنگ آرہا تھا ۔۔۔
اس نے کال اٹھانے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔
دوسری طرف ایما نے جب دیکھا کہ وہ کال نہیں اٹھا رہا تو اس نے غصے میں میسج ٹائیپ کر کہ بھیج دیا ۔۔۔ ” آج حقیقتِِ…میرا دل کر رہا ہے کہ تم میرے سامنے ہو اور میں تمہیں قتل کر دوں۔۔۔ اور تمہیں مار کر زنہ کروں اور پھر ماروں “
ڈئرئیک نے اس کا میسج پڑھنے کے لیے جب گاڑی کی سپیڈ کم کرنی چاہیے تو وہ کم نہ ہوئی ۔۔ اس نے دو تین بار بریک پر پاؤں رکھا لیکن بریک فیل ہوچکا تھا ۔۔۔
اس نے اپنے حواس کو قائم رکھا ۔۔۔۔ اور سامنے دیکھا جہاں ایک اچھا خاصا موٹا درخت تھا ۔۔اس نے عقل استعمال کرتے ہوئے سیٹ بیلٹ کھولی اور گاڑی کا دروازہ کھول کر چھلانگ مار دی ۔۔۔۔
اسے کے چھلانگ مارتے ہی گاڑی سامنے درخت سے دھماکے سے ٹکرائی ۔۔۔ اسے بھی تھوڑی رگڑیں آئی تھی ۔۔۔ لیکن وہ معمولی تھیں ۔۔
اولیویا جو اس کے پیچھے ہی کاکروچ سے بڑی مشکل سے جان چھڑا کر آ رہی تھی یہ سب دیکھ کر حواس باختہ ہو کر گاڑی روک کر اس کی طرف بڑھی اور سہارے سے اسے کھڑا کیا۔۔۔ اسے پتا نہیں چلا لیکن اس کی آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا۔۔۔۔
” ہے ہنی ۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ ” ڈیرئیک اس کو اس طرح پریشان دیکھا تو نرمی سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے تسلی دیتا ہوا بولا ۔۔
” مگر ۔۔۔ ” اولیویا کا دل بڑی طرح دھڑک رہا تھا ۔۔۔
” ہے ہے میں ٹھیک ہو ۔۔۔ اتنی جلدی میں مرنے …” ڈیرئیک نے اس کی بات کاٹ کر ابھی اپنی بات کر رہا ہی تھا کہ اگلے ہی پل اولیویا کہ گلے لگ کر رونے کی وجہ سے اسے چپ ہونا پڑا ۔۔۔
اولیویا کو نہیں پتا اسے کیا ہوا لیکن اس کہ مرنے کی بات اسے برداشت نہیں ہوئی ابھی تھوڑی دیر پہلے جو ہوا تھا اس نے اس کو ہلا کر رکھ دیا تھا
۔۔ اس لیے اس کے گلے لگ کر اس کہ آنسو میں شدت آگئی ۔۔ مگر اسے جھٹکا تب لگا جب ڈیرئیک نے اسے زور سے دھکا دیا ۔۔۔ اس کے اس طرح دھکا دینے اس کا دل بڑی طرح دھڑکا ۔۔۔
دھکا اتنا شدید تھا کہ اس کا سر کی پشت درخت سے ٹکرایا ۔۔۔ تھوری دیر کے لیے اس کی آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے ۔۔ لیکن جب حواس تھوڑے کام کرنے لگے تو اس کی نظر اس طرف گی جہاں ڈیرئیک نے اس کو دھکا دیا تھا۔۔
مگر سامنے موجود منظر سے اس کی آنکھیں پھٹ گئی تھی ۔۔ سانس روک گیا تھی ۔۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔۔۔
وہ سانس روکے یک ٹک سامنے دیکھ رہی تھی ۔۔
جہاں وہ گاڑی ڈیرئیک کو ٹکر مارتے ہوئے دوسری طرف جا رہی تھی ۔۔
اور ڈیرئیک ۔۔۔
وہ نیچے گرا ہوا تھا
بلکل بے جان ۔۔۔
اس کے ارگرد خون ہی خون تھا ۔۔
زندگی اور شرات سے بھرپور آنکھیں ۔۔
اب بند تھی ۔۔۔
یعنی ڈیرئیک نے اسے بچانے کے لیے دھکا دیا تھا ۔۔۔
وہ اس کے لیے اتنی ضروری تھی ۔۔
کیا وہ کسی کی زندگی میں اتنی ضروری تھی کہ وہ اس کے لیے جان بھی قربان کر دے ۔۔۔
اس نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے درخت کا سہارا لیا۔۔
مگر نہیں۔۔۔۔یہ وقت یہ سوچنے کا نہیں تھا ۔۔۔کرنے کا تھا ۔۔
حواس کو بڑی مشکل سے قائم کرتے اپنے دھکتے سر کو تھامتے وہ کھڑی ہوئی جب اسے اپنے ہاتھ پر گیلاہٹ محسوس ہوئی اس نے ہاتھ آگے کر کے دیکھا تو اس کے سر سے خون نکل رہا تھا ۔۔
لیکن یہ اس خون کے آگے کچھ نہیں تھا ۔۔۔ جو ڈیرئیک کے جسم سے نکل کر پھیل رہا تھا ۔۔۔
بڑی تیزی سے ۔۔۔
شاید اس کی بدعا لگ گئی اسے ۔۔۔
نہیں وہ اپنے ڈیرئیک کو بچا لے گی ۔۔
کیا وہ واقعی ہی بچا لے گی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
