Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18
آہل صبح کا گیا رات کو واپس آیا تھا ۔۔
اس کا پورا دن اتنا مصروف گزرا تھا کہ اس کو سر کھجانے کی فرست نہیں ملی تھی ۔۔
حویلی میں اس وقت سب سو گئے تھے ۔۔
فہد کے منہ سے حور کے بارے سن کر آہل کو پتا نہیں کیوں غصہ چھڑا تھا ۔۔ اس کو حور سے کوئی شدید قسم کی محبت نہیں تھی ۔۔پر حور اس کے نکاح میں تھی ۔۔اس کی بیوی تھی ۔۔ وہ تو اپنی چھوٹی سی چھوٹی چیزوں کے بارے میں اتنا ٹچی رہتا تھا ۔کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا ۔ یہ تو پھر اس کی بیوی تھی ۔۔دا جی کے رویے کے بارے میں اب اس نے محسوس نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔ آیا کچھ غلطی اس کی بھی تھی ۔۔ لیکن اس کی اتنی بڑی سزا اسے نہیں بنتی تھی ۔۔
انہی سوچوں میں گم وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا ۔۔۔ کھانا اس نے باہر ہی کھا لیا تھا۔ ۔
اس نے فریش ہونے کے بعد موبائل پکڑا۔۔۔ تو وہاں سڈنی نام کے نمبر سے کچھ تصویریں آئی ہوئی تھی۔۔
اس نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے وہ تصویریں دیکھیں تو اس کے ماتھے پر موجود بلوں پر مزید اضافہ ہو گیا ۔۔
اس نے کسی کو فون کیا ۔۔ اور کمر پر ہاتھ رکھ کر بے صبری سے فون اٹھانے کا انتظار کرنے لگا ۔۔
دوسرے طرف فون اٹھا لیا گیا ۔۔اس نے کچھ کہے بغیر بس خاموشی سے دوسری طرف کی بات سنی اور بنا کچھ کہے اس نے اپنا فون زور سے دیوار پر مارا۔۔
اس کو شدید غصہ آرہا تھا ۔۔
اور آنکھیں لال ہو رہی تھی ۔
” یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔”
وہ غرانے کے انداز میں کسی کو تصور میں مخاطب کرتے ہوے بولا۔۔
___________________________
یہ ایک سادہ سا کمرہ تھا ۔۔ چاروں دیواروں پر سفید رنگ ہوا تھا ۔۔ کمرے میں آرائش کی کوئی چیز نہیں تھی سوائے اس کیلوگرافی کے اور ایک خانہ کعبہ کی تصویر کے ۔۔
وہاں موجود شخص کالی ہوڈی پہن کر اب ماسک سے اپنے چہرے کا جلہسہ ہوا حصہ چھپا رہا تھا ۔ ۔۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی اور لال تھی ۔۔
اب بیڈ پر بیٹھ گیا تھا ۔۔
” جا رہے ہو ۔۔” وہ بوٹ کے لیسیس بند کر رہا تھا جب ایک اور آدمی کمرے میں آیا ۔۔
وہ دیکھنے میں کافی گریس فل تھا۔۔۔اور جوان ہی لگ رہا تھا ۔۔
” جی ڈیڈ ۔ ” اس نے منہ نیچے کیا ہی جواب دیا ۔ اب وہ اپنے دوسرے شوز کے لیسس بند کر رہا تھا ۔۔
” میرے خیال میں تمہیں اسے بتا دینا چاہیے۔۔۔” اس کی بات سن کر وہ سیدھا ہوا اور چل کر ان کے برابر کھڑا ہوا ۔۔
اس کا کندھا ان کے کندھے سے اوپر تھا۔۔
” وہ برداشت نہیں کر پائے گی ۔۔ “
” اب بھی کر رہی ہے ۔۔ یہ بھی کر لے گی ۔۔ ” انہوں نے سمجھانے کی پھر سے کوشش کی ۔۔
” نہیں مجھے پتا ہے ۔۔ ” وہ اب بھی انکاری تھا۔۔۔
” اس کو تمہاری ضرورت ہے۔۔ “
“مجھے بھی تو ضرورت ہے ” اس کی آواز میں دکھ تھا ۔۔ خالی پن تھا ۔۔
“تمہارے پاس میں بھی تو ہوں ۔۔۔” ان کی اس بات کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔
” کب تک چھپاؤ گیۓ۔۔ ؟” انہوں نے جیسے اس کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا ۔۔
” جب میں پہلے جیسا ہو جاؤں گا ۔۔ ” اتنا کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف وہ اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر خوش ہوگئے تھے ۔۔کیونکہ پہلے وہ تیار نہ تھا ۔۔ اب وہ راضی ہو گیا تھا ۔۔۔
وہ بلیک ہوڈی پہن کر چپکے سے اپنے گھر آیا ۔
اس نے دیکھا ۔۔ ازابیلا کے کمرے سے روشنی آ رہی تھی۔۔اس نے کھڑکی سے جھانکا۔۔
تو ایما وہی بیڈ پر لیٹی تھی ۔۔
اس کے سر پر پیٹی بندھی تھی ۔۔
وہ اندر نہیں جا سکا کیونکہ اندر ایما اکیلی نہیں اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا ۔۔۔
وہ شاید کوئی لڑکی تھی ۔۔ جس کی پشت اس کی طرف تھی ۔۔ کیونکہ وہ کھڑکی والی طرف موجود کرسی پر بیٹھی تھی ۔۔
اس بار وہ دور سے دیکھ کر ہی آگیا تھا ۔۔
____________________________
اندھیرا پھر سے اندھیرا ۔۔
جنگل ۔۔
سائے پھر اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے ۔۔
انہوں نے پھر سے اسے پکڑ لیا تھا ۔۔
اب کی بار وہ ساۓ ایک ایک کر کے اس لڑکی کے وجود میں جا رہے تھے ۔۔
اس لڑکی کے ہاتھ بھی ان سائیوں کی طرح کالے ہو رہے تھے ۔۔
اوپر چاند چمک رہا تھا ۔۔
لیکن اس کی روشنی اس تک نہیں پہنچ رہی تھے ۔۔
ان سائیوں کی لال آنکھیں۔۔۔ اس کو ڈرا رہیں تھیں ۔۔
وہ ان کی گرفت سے نکلنے کی جدو جہد کر رہی تھی۔۔
_______________________________
رات سے دن ہو گیا تھا۔۔۔
حنان کی بے چینی حد سے سوا تھی ۔۔ کیونکہ اس نے کل سے ایما سے بات نہیں کی تھی ۔۔
کل بھی وہ کال بند کر کے ۔۔سیدھا اس سائیڈ پر گیا جہاں شوٹنگ ہو رہی تھی ۔۔ مگر ایما نہیں تھی وہاں ۔۔
پھر اس نے آفس پتا کرایا ایما وہاں بھی نہیں تھی ۔۔۔
اس کے گھر پر تالا لگا ہوا تھا۔۔
تھک آ کر وہ واپس گھر آ گیا تھا ۔۔
گھر آکر اس نے ڈین کو میسج کیا۔۔ ایما کا لاپتہ ہونا کافی پریشانی کی بات تھی ۔۔
سر اس کا درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔
اس نے پین کلر لی ۔۔۔اور تھوری دیر آنکھیں بند کر لی ۔۔ کب آنکھ لگی اسے پتا نہیں لگا ۔۔
فون کی بیل سے اس کی آنکھیں کھولی ۔۔
اس نے نیند میں ہی کال اٹھائی تھی ۔۔
اور ہیلو ہیلو کیا ۔۔
جب کوئی جواب نہیں آیا تو خود سے بڑبڑا تے ہوے” لوگوں کو تنگ کرنے کا مزہ آتا ہے ” پھر سے سو گیا ۔۔
پھر اس کی آنکھ صبح 11 بجے کھولی۔۔
آنکھ کھولتے ہی جو پہلا خیال اس کے ذہن میں آیا تھا وہ ایما کا ہی تھا ۔۔
جلدی سے چینج کر کے وہ پھر ایما کے گھر کی طرف گیا ۔۔
اس بار تالا نہیں لگا تھا ۔۔ لیکن گھر کے باہر لوگ کھڑے تھے۔
لوگ کالے لباس پہنے ہوئے تھے ۔۔
(جان نے واقعی میں ۔۔۔تو ایما کو)اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا ۔۔ وہ دوڑتے ہوئے اندر گیا تو ایما کو صوفے پر بیٹھا دیکھ کر پرسکون ہوگیا ۔۔
ایما گم سم سی صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔
حنان نے اس کا ہاتھ ہلا کر اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔
تو اس نے اپنی ویران آنکھیں اس کی طرف موڑ لی ۔۔
حنان کو اس کی حالت دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی ۔۔
لوگ آتے جا رہے تھے ۔۔۔
حور کو بھی کسی نے خبر دی تھی وہ بھی وہاں آ گئی تھی ۔۔
اور اب اس کے پاس بیٹھی اسے سنبھال رہی تھی ۔۔
اس کی کوشش تھی کہ وہ روۓ ۔۔ مگر وہ تو پتھر کے مجسمے کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔
کل اس کی پٹی کے بعد ڈاکٹر نے تھوری دیر اس رکھ کر ڈسچارج کر دیا تھا ۔۔ زخم گہرا نہیں تھا ۔۔
بس انہوں نےاس کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے دوائی میں نیند کی گولی آیڈ کر دی تھی۔۔
صبح جب اس کی آنکھ کھولی۔۔ تو الیویا اور ڈیرئیک پہلے سے وہاں تھے ۔۔
ایما پہلے تو بےتاثر نظروں سے انہیں دیکھتی رہی ۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا کہ کیا ہوا ہے ۔۔
لیکن تھوری دیر بعد کل کا سارا دن فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگا تھا ۔۔
وہ ازابیلا کے کمرے میں گئی ۔
اس امید میں کہ شاید وہ جو اس نے دیکھا وہ خواب ہو ۔۔لیکن ازابیلا اس کے کمرے میں نہیں تھی ۔۔
اس کے اس طرح دوڑنے سے ڈیرئیک اور الیویا بھی اس کے پیچھے آئے تھے ۔۔ ان دونوں نے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔۔
” میرے موم کہاں ہیں ۔۔ ؟؟” وہ آنکھوں میں ڈر لیۓ ان دنوں کی جانب دیکھتے ہوۓ بولی ۔۔۔
ڈیرئک اور الیویا نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔ان کچھ سمجھ نہیں آئی کہ کیا کہیں ۔۔
لیکن ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی جان جو ابھی ابھی آیا تھا اس نے بےتاثر انداز میں کہا
” شی از ڈیڈ ..”
“ہوتے کون ہو یہ کہنے والے ۔۔” وہ بھپراہی ہوئی شیرنی کی طرح اس کا گریبان پکڑتے ہوئے بولی ۔۔
” واچ یور ہینڈ لیڈی ۔۔۔ ” جان اس کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتے سخت لہجے میں بولا ۔
” مجھے نہیں پرواہ ۔۔ میں بس اپنے اپنی مام چاہیے۔۔ ” وہ چیختے ہوے بولی تھی ۔۔
” موم کو دیکھنا ہے۔۔۔ آؤ پھر ۔۔ ” جان اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اپنے ساتھ لے کر چلنے لگا ۔۔
” جان ویٹ ۔۔ وہ اس وقت سٹریس ہے ۔۔ ” ڈیرئیک جان کے سامنے آکر اس کا راستہ روک کر سمجھانا چاہا۔۔
جان نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔۔ بس اسے سایڈ پر کر کے ایما کو ازابیلا کے تابوت جس میں اسے لٹایا ہوا تھا ۔۔۔ اس کے پاس لا کر اس کا ہاتھ چھوڑ تے ہوے بوا۔۔
” یہ لو یہ ہیں تمہاری امی ۔۔ ” اس کے بعد اس ایما کی یہی حالت تھی ۔۔وہ گم سم سی ہو گی تھی ۔۔
کس نے اس کے کپڑے چینج کرنے کو دیے ۔۔
کب ازیبلا کا کوفن اٹھا کر لے کر گے ۔۔کب اسے دفنایا۔۔ ایما کو کچھ معلوم نہیں تھا ۔۔
بس سب کے جانے کے بعد اس نے اپنے باپ کے ساتھ موجود اپنی ماں کی قبر کو دیکھا ۔۔
کتنی دیر وہاں کھڑی دیکھتی رہی ۔
پھر کسی نے اسے کندھے سے تھاما تو اس نے گردن موڑ کر دیکھا ۔۔ جہاں حور اس کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔
_________________________
( 10 دن بعد ۔۔)
ازیبلا کی ڈیتھ سے لے کر وہ اب تک ایک بار بھی نہیں روئی تھی ۔۔ نہ بولی تھی ۔۔ اس کے سارے احساسات جیسے جم سے گیے تھے
اس آفس سے دو تین بار فون آچکا تھا کہ وہ آفس اب جوائن کر لیے ۔۔ نہیں تو اسے نکال دیا جائے گا ۔۔ مگر وہ تو یوں تھی جیسے پرواہ ہی نہیں ۔۔اس یہ بھی یاد نہیں تھا کہ حور نے پرسوں چلے جانا ہے ۔۔
وہ بس کھڑکھی میں کھڑی باہر دیکھ رہی تھی کہ جب دروازے پرنوک ہوا۔۔
اس نے دروازہ کھولا۔۔
” میم سر نے کہا ہے کہ آپ کو لے کر آؤ ۔۔۔ ” وہ وائٹ شرٹ جس پر کمپنی کا لیبل بھی بنا ہوا تھا اور بلیک پینٹ پہنے ہوے مہذب انداز میں بولا۔۔
” کون سے سر ۔۔ ” اس کے سوال پر ڈرائیور نے عجیب نظروں سے دیکھا ۔۔
” جان سر ۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ کو یہ دوں۔” ڈرائیور نے ایک سفید رنگ کا انویلپ اس کی جانب کرتے ہوے کہا ۔۔۔
اس نے انویلپ اس سے لیا ۔۔ اور کھول کر دیکھا ۔۔۔
وہ ہاسپٹل کا بل تھا ۔۔ ساتھ میں ایک چھوٹے سے کاغذ کے ٹکرے پر نوٹ لکھا ہوا تھا ۔۔
( یہ پیسے مجھے ابھی واپس کرنے ہے ۔۔ میں کسی پر ادھار نہیں رکھتا ۔۔۔ نہ ہی میں نے چیرٹی دینے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔۔ہاں لیکن ایک آپشن اور بھی ہے ایک رات میرے نام کر دو۔ ۔۔) ۔۔لفظ تھے یا زہر اسے سمجھ نہیں آیا ۔۔ اتنی توہین ۔۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مجھے پاؤں انگاروں پر کھڑی ہے ۔۔۔
“چلو۔۔۔” ایما نے اپنا بیگ پکڑا اور اس کے بال جو جوڑے میں بند تھے جنہیں اس نے صبح ہی بنایا تھا اور بغیر وہی ڈریس جو کل حور نے زبردستی اس کو چینچ کروایا تھا ویسے ہی چل پڑی ۔۔
ڈرائور حیران ہوا۔۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی ایما تیار ہونے میں بھی ٹائم لگاۓ گی ۔۔لیکن اس کے طرح چلنے پر وہ حیران کے ساتھ پریشان رہ گیا ۔۔ مگر کہا کچھ نہیں ۔۔
آفس پہنچ کر ایما نے جارحانہ انداز میں گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔
اور لفٹ میں جا کر مطلوبہ فلور کا بٹن دیا۔۔۔
لفٹ کا دروازہ کھولتے ہی وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتی جان کے آفس آئی ۔۔
آس پاس گزرتے ورکرز نے روک کر اسے دیکھا۔۔
اور دروازہ کھول کر اندر آئی ۔۔ جہاں جان وائن پیتے ہوے ساتھ میں کام کر رہا تھا ۔۔
وہ سیدھا اس کی طرف گئی ۔۔
” چٹاخ ۔۔۔ ” اس نے تھپڑ اتنی قوت سے مارا تھا کہ اس کا اپنا ہاتھ درد ہونے لگا گیا تھا ۔۔۔
اس کی تپھڑ سے جان بھی چیئر کے پیچھے دھکیل کر اس کے سامنے کھڑا ہوا
ایما نے ایک بار پھر اس کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ۔۔۔لیکن اس بار جان اس کا ہاتھ اپنے چہرے پر پہنچے پہلے ہی اس کا تھام چکا تھا ۔۔
” میں وہ ہاتھ توڑ دیتا ہوں جو مجھ تک آتے ہیں ۔۔ لگتا ہے تمہیں اپنے ہاتھ پیارے نہیں۔”
اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ تکلیف کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔
” تو تم نے کیا سب کو اپنی لیگل پراپرٹی سمجھ رکھا ہے ۔۔۔ ہاں ۔۔ میں یہاں کام کرنے آتی ہوں ۔۔ کوئی ہوکر نہیں ہو ۔۔ سمجھ کیا رکھا ہے خود کو ۔۔ ارے میں لانت بھیجتی ہوں تم پر ۔۔ اور تمہاری اس گھٹیا جاب پر ۔۔میری طرف سے تم دونوں جہنم میں جاؤ ۔” اتنے دنوں سے اندر موجود غبار اب باہر نکل رہا تھا ۔۔
” میں نے آپشن رکھا تھا ۔۔لیکن اب تو آپشن بھی نہیں رکھوں گا ۔۔۔ تمہارے پاس پانچ دن ہے ۔۔۔میرے پیسے واپس کرنے کے لیے ۔۔ اگر تم نے اس دوران پیسے واپس کیے ۔۔ دین اٹس گڈ ۔۔ ادر وائس ۔۔ یو نو ویل ۔۔” جان نے جلد ہی اپنا غصہ کنٹرول کیا ۔۔ اور سچویشن کو پھر سے اپنے کنٹرول میں لیا۔۔
” اوکے ڈن۔۔ ناؤ لیو مائی ہینڈ ” ایما نے تھوڑے دیر سوچا پھر جواب دیا ۔۔
جان نے اس کا ہاتھ چھوڑا اور فائیل سے ایک پیپر نکال کر اس کی جانب بڑھیا ۔۔ جو اس کے اپنے ہاتھ سے اپنی کلائی سہلا رہی تھی ۔۔ جہاں جان کی مضبوط پکڑ کی وجہ سے نشان پڑا ہوا تھا ۔۔
” ارے اتنی جلدی کیا ہے ۔۔ پہلے اس اگیرمینٹ پے سائن کرو ۔۔۔ ” پیپر اس کی جانب بڑھاتے ہوے بولا۔۔۔یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ پہلے سے ہی تیار تھا ان سب کے لیے ۔۔
“کیا ہے اس میں ۔۔ ؟؟؟” ایما اس کے ہاتھ سے پیپر لے کر مشوک نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوے بولی ۔۔۔
“یہی کہ جب تک تم میرے پیسے واپس نہیں کر دیتی تم شہر سے باہر نہیں جا سکتی ۔۔۔ اگر تم میرے پیسے وقت پر واپس نہیں کرتی تو تمہیں میری ہر بات ماننی ہوگی ۔۔۔ جب تک میں کہوں ۔۔۔ہاں اور یہ بھی لکھا ہے کہ اگر تم نے واپس کر دیے تو میں تمہارا راستہ دوبارہ کبھی نہیں روکوں گا ۔۔ اگر یقین نہیں تو خود پڑھ لو۔۔۔”ایما نے پڑھا وہاں واقعی یہی لکھا تھا۔۔
ایک پل کے لیے اس کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ اسے یہ سائن نہیں کرنا چاہیے پھر کچھ سوچ کر اس نے کہا ۔۔
ٹھیک ہے اگر میں پیسے وقت پر واپس نہ کر پاؤ تو میری بھی ایک شرط ہے ۔۔”
” کیسی شرط ۔۔؟؟” اگیرمینٹ ابھی بھی جان کے ہاتھ میں تھا ۔۔
” وہ میں بتا دو گی ۔۔ اور ہوسکتا ہے اس کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔۔ ” ایما نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں پکڑے ایگریمنٹ پر ڈالی ۔۔
” کونفیڈنس ۔۔۔ اوکے پھر دیکھتے ہیں ۔۔ “
جان کے مان جانے پر اس نے سائن کر دیا ۔۔۔
اس سب کے دوران جان کی نظر اسی پر تھی ۔۔
” کہاں جا رہی ہو۔۔ ” ایما سائن کر کے جانے لگی کے جان ٹیبل پر ہی بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھا۔
” ابھی میرے پاس پانچ دن ہے ۔۔ سو میں جواب دینے کی پابند نہیں ۔۔ ” ایما نے بنا روکے جواب دیا۔۔۔
“اور جاب بھی ہے تمہاری ۔۔ ؟؟ “
” میرا استیفہ مل جائے گا ۔۔۔ “
جواب دے کر وہ جا چکی تھی ۔۔
جبکہ جان پرسوچ نظروں سے دروازے کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔جہاں سے ابھی وہ گئ تھی ۔۔
___________________________
وہ مال آیا تھا ۔۔ اسے کچھ شاپنگ کرنے کے لیے ۔۔۔
آس پاس لوگ گزر رہے تھے ۔۔ اتنے لوگوں کو دیکھ کر اسے خارش سی ہو رہی تھی ۔۔
مطلب کیسے لوگ اتنے آرام اور سکون سے شاپنگ کر رہے تھے وہ بھی ڈیرئیک کے ہوتے ہوئے ۔۔کتنی غلط بات تھی نا۔۔
وہ سامنے موجود شو شاپ کی طرف گیا ۔۔۔
اس نے ایک جوگر کا پیر لیا اور دونوں پاؤں میں پہن کر اس کے تسمے اچھی طرح بند کر کے چیک کیا ۔۔ ورکر اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا ۔۔۔
ایک دم وہی شوز جو اس نے چیک کرنے کے لیے پہنے تھے ۔۔ اُسے میںث شاپ سے باہر ہی طرف دوڑ لگائی۔۔۔ وہ ورکر بھی بدحواس سا اس کے پیچھے بھاگا ۔۔۔
شاپ سے تھوڑا آگے جا کر وہ روکا اور مڑ کر دوبارہ شاپ کے اندر آیا اور اچھالا ۔یوں جیسے جوتے بیک کر رہا ہو ۔۔ شاپ میں موجود باقی ورکر اور کسٹمر نے اچھنبے سے اس کی یہ حرکت دیکھی ۔۔
جبکہ وہ ورکر جو اس کے پیچھے بھاگا تھا وہ اب کھسیانا سا ہو کر واپس اس کی طرف آیا تھا ۔۔
” یہ پیک کر دے ۔۔۔” جوتے اتار کر اس کی جانب کرتے ہوئے وہ یوں بولا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔
مطلب کسی کی سانس خشک کرنا۔ ۔۔ کچھ نہ کرنے کے مترادف تھا اس کے لیے ۔۔
شوز پیک کروا کر وہ باہر نکلا تو اس کی نظر الیویا پر گئ۔۔۔
وہ لیڈیس ڈریس دیکھ رہی تھی ۔۔
ڈیرئیک اس کے پاس جا رہا تھا کہ ایک بےبی ٹوائز شاپ کے سامنے سے گزرا ۔۔لیکن پھر واپس ہوا ۔۔۔
اس کے ہونٹوں پر ایول سمائل آئی ۔۔
الیویا ڈریس دیکھ رہی تھی کہ اس کو اپنے کندھے پر وزن سا لگا ۔۔
اس نے منہ موڑ کر دیکھا تو دیکھا ایک لمبا سا کالے رنگ کا سانپ تھا ۔۔
” آہ ہ ہ ہ ” ہاتھ سے وہ سانپ کو سایڈ پر کر کے چیخ مار کر پیچھے ہوئی ۔۔۔
اس کی چیخ سن کر آس پاس موجود باقی لیڈیز بھی متوجہ ہوئی ۔۔ کچھ پہلے ہی ہنستے ہوئے اس دیکھ رہی تھی ۔۔
جیسے ہی باقیوں کی نظر اس سانپ کی طرف گئ ۔۔ تو وہ سب بھی چیخنے لگی ۔۔
شاپ پر یوں لگ رہا تھا جیسے وہاں چیخنے کا کمپیٹیشن ہو رہا ہو ۔۔۔
تھوری دیر بعد الیویا نے غور کیا کے وہ سانپ ہل نہیں رہا تھا ۔۔
وہ دھیرے سے کانپتے قدم اٹھاتے وہ سانپ تک پہنچی اور جھک کر اسے ہلایا ۔۔۔
اسے اپنی بے وقوفی کا احساس اس وقت شدت سے ہوا ۔۔
کیونکہ وہ سانپ نکلی تھا ۔۔
لیکن اس کی بناوٹ اس طرح کی تھی کہ وہ بلکل اصلی لگ رہا تھا ۔۔
“” ہاہاہاہاہاہاہااہاہاہہاہا”” مردانہ ہنسی سن کر اس نے سامنے کی طرف دیکھا۔۔ جہاں شیطان ۔۔(ڈیرئیک ) اس کی شکل دیکھ کر ہنس رہا تھا ۔۔
اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی یہ کس کا کام تھا ۔۔
وہ غصے سے باہر نکلی ۔ ڈیرئیک بھی نیچے سے سانپ اٹھا کر اس کے پیچھے گیا ۔۔ جو اب مال سے باہر نکل رہی تھی ۔۔
جاتے جاتے بھی ۔۔۔ اس نے پاس سے گزرتی دو لڑکیوں میں سے ایک کے بیگ پر وہ سانپ پھر سے رکھ دیا ۔۔۔
مشکل سے دومنٹ ہی گزرے ہونگے کے ۔۔ مال کے اندر سے پھر چیخوں کی آواز آئی ۔۔۔
یہ تھی ڈیریک کی شاپنگ۔۔
جو کرتا تھا دوسروں کو شاکنگ۔۔
وہ الیویا تک پہنچا ۔۔ اور اس کے ساتھ قدم ملا کر چلنے لگا ۔۔
” تم میری جان چھوڑنے کا کیا لو گے ۔۔۔ ؟؟” الیویا رک کر اس کی جانب مڑی ۔۔
” تمہیں ۔۔۔ ” ڈیرئیک بھی اس کی جانب اسی طرح مڑ کر کھڑے ہوتے ہوئے مزے سے بولا ۔۔۔
” ہائےےےے بیوٹیفل ۔۔ ” ایک اٹھیس سال کا خوش شکل نوجوان الیویا کو دیکھتے ہوئے بولا ۔
” ہاے” الیویا نے بھی مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔جس سے اس لڑکے کو حوصلہ ہوا ۔۔
ڈیرئیک کو اپنا نظرنداز کرنا بالکل اچھا نہیں لگا ۔۔
ڈیرئیک نے اس لڑکے کی طرف دیکھا جو بہانے سے ہستے ہؤے الیویا کو بار بار ٹچ کر رہا تھا ۔۔۔
کسی خیال کے آتے ہی اس کی سبز آنکھیں جگمگا اٹھی ۔۔۔
اب وہ اس لڑکے کی طرف بڑی میٹھی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔
” ہاےے ہنڈسم ۔۔۔ وٹس یور نیم ۔۔ ؟؟” وہ لڑکی جیسی پتلی آواز نکالتے ہوئے بولا۔۔
لڑکے نے اس کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ۔۔
اسے یہ نہیں پتا تھا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر چکا تھا ۔۔
جبکہ الیویا تو بس منہ کھولے اس کی حرکتیں دیکھ رہی تھی ۔۔
اگلے ہی پل ڈیرئیک اولیویا کو اس کے پاس سے ہٹا کر خود اس کے بلکل ساتھ جڑ کر کھڑا ہوا ۔۔۔
ایک ہاتھ اس نے اس لڑکے کے سینے پر رکھا ۔۔جبکہ دوسرے ایک کی انگلی سے اس کے ماتھے سے لے جا کر ہونٹوں تک لکیر کھنچتے ہوئے بڑے سیکسی انداز میں ہونٹوں کو اندر کرتے ہوئے بولا۔۔۔
” تمہارا گھر کہاں ہے۔۔ ؟؟ تاکہ ہم وہاں جاکر ۔۔ بھرپور طریقے سے وقت گزار سکھے ۔۔”
وہ لڑکا گھبرا گیا ۔۔ اور اس کو دھکا دے کر دوڑا ۔۔
ڈیرئیک بھی تھوڑی دور تک اس کے پیچھے گیا ۔۔ پھر واپس آیا تو الیویا جا چکی تھی ۔۔
“شٹ ۔۔”
وہ بس یہی کر سکا تھا۔۔
اسے پھر اس لڑکے پر غصہ آیا جس کی وجہ سے الیویا کے ساتھ وہ وقت نہیں گزار سکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
