Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04
رخسار بیگم ابھی واپس آگی تھی لیکن انہوں نے حور کو نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں گئی تھیں ۔۔
“امی پانی ” حور پانی کا گلاس ان کی جانب بڑھاتے ہوئے بولی۔۔
“علی (حور کا چھوٹا بھائی) کہاں ہے ؟؟” اس سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے انھوں نے پوچھا ۔
” وہ ابھی سویا ہے “
حور نے ان سے گلاس واپس لیا اور کچن میں رکھ کر ان کے پاس واپس آ گئی ۔۔۔۔۔۔
“امی آپ کہاں گئی تھیں؟؟ “”حور کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بات کیسے شروع کرے ۔۔۔۔
حور کا سوال سن کر وہ چونک گئی تھی لیکن ظاہر نہیں کیا۔
حور ان کی جانب نہیں دیکھ رہی تھی ورنہ وہ ان کا چوکنا ضرور محسوس کرتی۔
” کام تھا ۔۔ تم کیوں پوچھ رہی ہو “
” وہ آپ اپنا فون گھر بھول گئی تھیں تو پیچھے آپ کا فون آیا تھا “
حور کی بات سن کر وہ پرسکون ہوئی تھیں ۔
” اچھا کس کا تھا ؟؟” صوفے سے ٹیک لگا کے ریلکس ہو کر بیٹھتے ہوئے اُنہوں نے پوچھا۔
حور دومنٹ ان کے چہرےکی طرف دیکھتی رہی پھر دھٹیرے سے بولی ۔۔
“اہل کا ” وہ جتنا آہستہ بولی تھی ان کا ریکشکن اتن ہی شدید تھا۔۔
“کیا کہہ رہا تھا ؟؟ ” جھٹکے سے صوفے پر سے اٹھتے ہوٹے انہوں نے اس سے پوچھا۔۔ان کے چہرے کا رنگ بھی اُڑا ہوا تھا ۔
حور ان کی یہ حالت دیکھ کر پرشان ہوگئی ۔۔۔
” امی وہ بس آپ کا پوچھ رہے تھے ۔۔۔اور آپ سے بات کرنا چاہتے تھے ” رخسانہ بیگم اس کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے ان کو یقین نا آ رہا ہو کہ وہ سچ کہہ رہی ہے ۔۔
” بس یہی کہا تھا ؟؟” وہ اس کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
“جی ” حور کو ان کے اس طرح دیکھنے سے الجھن ہو رہی تھی ۔۔۔
“”ہمممم ۔۔اب کہاں ہے میرا موبائل “” ادھر اُدھر دیکھتی وہ اپنا موبائل ڈھنڈ رہی تھی ۔۔
” آپ کے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا ہے “” حور ان کی مشکل آسان کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں اور جا کر دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
پتا نہیں کیوں لکین حور کو آج ان کا انداز بہت عجیب لگا تھا یوں جیسے وہ کچھ چھپا رہی ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج آفس میں کام کرتے ہوئے اسے کچھ زیادہ دیر ہوگئی تھی ۔۔ سارا آفس تقریباً خالی ہو چکا تھا ۔۔لیکن جس کام کو کرنے کے لیے وہ روکی تھی وہ تو یوں لگ رہا تھا جیسے اب بھی اتنے کا اتنا ہی ہے ۔۔
۔۔۔ اس نے گھڑی کی جانب دیکھا جہاں رات کے دس بج رہے تھے۔
ایما نے جلدی سے اپنی ساری چیزیں سمیٹی اور آفس سے باہر نکل گئی
۔۔۔۔
“اب واپس کیسے جاؤ ؟؟؟ ۔۔ او گاڈ ۔۔۔۔ٹیکسی ہی مل جائے “” وہ پیدل چلتے وہ خود سے بولی ۔۔
ابھی وہ ٹیکسی کی تلاش میں پیدل چلتے ہوئے آفس سے تھورا آگے ہی گئی تھی کہ ایک کالی گاڑی اس کے بلکل قریب آکر روکی۔۔۔۔۔
گھبرا کر جلدی سے وہ دو قدم دور ہوئی ۔۔۔
اسی وہ وقت اس گاڑی کے بلیک شیشے نیچے ہوئے اور نیلی آنکھیں نظر آئی۔۔۔
“کم ان ” جان نے سنجیدہ لہجے میں آڈر دیا ۔۔۔
“نو تھنکس ۔۔میں خود چلی جاؤ گی۔۔” ایما اسے منع کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگی کہ پھر سے آواز آئی۔۔۔
“I said sit in the car”
اب کی بار جان ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا۔۔
“And I said..No”
اور جان کو اس کا بار بار منع کرنا ضد دلا گیا۔۔
“”Okay as you wish “”
اب کی بار وہ بولا تو اس کا لہجہ اور انداز پرسکون تھا ۔۔۔
ایما بھی پر سکون ہوئی کہ وہ جانے لگا ہے لیکن اگلا لمحہ اس کے لیے شاکڈ تھا ۔۔
جب دو مضبوط ہاتھوں نے اسے اپنے بازؤں میں لے کر اٹھیا اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔۔۔
یہ سب اتنا اچانک تھا کہ ایما کو سمجھ نہیں آیا ۔وہ اس سچویشن میں کیسے ریکٹ کرے ۔۔ہوش تو تب آیا جب گاڑی سٹارٹ ہوئی۔۔۔
اس نے گاڑی کا ہینڈل کھینچا مگر بے سود ۔۔
جان کو پہلے ہی اس سے اس کی حر کت کی امید تھی اسلیے وہ اس کا انتظام بھی کر چکا تھا سہی سمجھے چائلڈ لوک۔۔
جان نے ایک جھٹکے سے گاڑی سپیڈ سے چلاتے ہوئے ٹرن لیا
ایما جو دروازہ کھولنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی اس جھٹکے کے لیے تیار نہیں تھی ۔۔۔ اس لیے وہ سیدھے جان پر گری ۔۔۔
جان نے اس کی جانب تمسخر آمیز انداز سے دیکھا ۔۔۔
ایما نے اس کے اس طرح دیکھنے سے پلکیں نیچے کی اور جلدی سے پیچھے ہوئی ۔۔۔
اس کے گال اس وقت لال انگارا ہو رہے تھے ۔۔۔۔
جان نے ڈرائیو کرتے ہوئے گہری نظر اس پر ڈالی ۔۔۔
“گاڑی روکیں ” جب ایما تھوری دیر بعد سنبھلی تو بولی چاہنے کے باوجود اس کا لہجہ سخت نہ ہو سکا ۔۔
جان نے نہ گاڑی روکی نہ اس کو کوئی جواب دیا ۔۔
اسی طرح خاموشی سے ڈرائیور کرتا رہا جیسے گاڑی میں وہ اکیلا ہے۔
اس کا یہ انداز دیکھ کر ایما دانت پیس کر رہ گئی۔۔
“باس ہونے کا زیادہ ہی فایدہ اٹھا رہا ہے ۔ڈیش” ایما دل میں سوچتی ہوئی غصے سے جان کی جانب مڑی ۔۔
” گاڑی روکیں ۔۔۔۔۔” اب کہ ایما تقریباً چیختے ہوئے بولی۔۔جان کو اس کا چیخنا ناگوار گزرا تھا یہ بات اس کے ماتھے پر پڑی شکن سے صاف پتا لگ رہا تھا ۔۔۔
“مسں ایما ۔۔مجھے اب آپ کی آواز نہ آۓ ” اس کا سرد لہجے میں بولا گیا جملہ سن کر ایک پل کو وہ بھی ڈر گئی لیکن جلد ہی سنبھل کر بولی۔
” آپ گاڑی روکے اور مجھے جانے دیں اس کے بعد آپ کو میری آواز نہیں آئے گی “
ایما تلخ لہجے میں بولی۔
جان نے گاڑی اشارے پر روکے اور اس کی جانب غصے سے دیکھا جو گاڑی کے روکتے ہی ایک بار پھر سے دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔
جان اس کی جانب جھکا اور اس کے بازوں کو اپنی مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لے کر اس کا رخ اپنی جانب کیا ۔۔
وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ ایما اس کی سانسیں اپنی چہرے پر محسوس کر سکتی تھی ۔۔
” میری بات سنو میں تمہیں اغوا نہیں کر رہا جو تم اتنا شور کر رہی ہو ۔۔۔ میں تمہیں تمہارے گھر ہی ڈراپ کرنے جارہا ہوں لیکن اگر تم نے اب شور کیا تو میں نے واقعی تمہیں اغوا کر لینا ہے ” جان اس کی جھکی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا ۔۔
اس کے لہجہ میں اتنی سختی تھی کہ ایما نے اب چپ رہنے میں ہی عافیت جانی ۔۔
جان اس کے مزید قریب ہوا۔۔۔۔۔ بازوں وہ اس کا چھوڑ چکا تھا ۔۔
ایما اس سے دور ہوتے ہی دروازے کے ساتھ چپک گئی۔۔۔
ان کے درمیان بس ایک انچ کا فاصلہ تھا ۔۔ایما نے اس کے اتنے قریب ہونے کی وجہ سے ڈر کر آنکھیں بند کر لی۔۔۔
جان نے ایک نظر اس کے کانپتے ہونٹوں اور پلکوں پر ڈالی اور اپنا کام کرتا واپس اپنی ڈرائورنگ سیٹ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔
ٹککک۔۔۔۔۔ کی آواز سے اس نے آنکھیں کھولی ۔۔۔اب اسے سمجھ آیا کہ جان اس کی سیٹ بیلٹ باندھ رہا تھا ۔۔۔
اب کے باقی کا سفر خاموشی سے گزرا ۔۔
اس کے گھر کے آگے گاڑی روکتے ہوئے جان آہستگی سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔۔
” کل ٹائم پر اور کمپلیٹ کام لے کر آنا ورنہ دوسری صورت کا پتا ہی ہوگا۔ ۔۔۔۔””
” پتا ہے “
ایما بیگ سے چابی نکالتی گاڑی سے باہر نکلی اور جلدی سے گھر کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی
جان نے گاڑی تب تک وہاں روکے رکھی جب تک وہ اندر نہیں چلی گئی۔۔ اس کے اندر جاتے ہی اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور وہاں سے چلا گیا۔۔
ایما نے کھڑکی سے اس کو جاتے دیکھا ۔۔۔۔۔
ایما کو جان آج عجیب شخص لگا جس کو وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔ ۔۔۔
اس نے سر جھٹک کر اپنا دھیان اس پر سے ہٹایا ۔۔
اب وہ بس یہ سوچ رہی تھی کہ کس طرح کام مکمل کرے ۔۔۔۔
کسی خیال کے آتے ہی اس کی آنکھوں میں چمک آئی اس نے جلدی سے موبائل پکڑا اور کسی کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔
____________________________۔
حور جو سونے کی تیاری کر رہی تھی ۔۔کہ اس کا فون بجا ۔۔اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو ایما کی کال آ رہی تھی ۔۔
ویسے عموماً ایما کی کال اس وقت نہیں آتی جب سے اس کی جاب شروع ہوئی تھی ۔۔۔
حور نے کال اٹینڈ کر کے فون کان سے لگایا ۔
اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ایما بول پڑی ۔
“ہاےےے سوئی تو نہیں تھی ؟؟ اگر نہیں سوئی تو اچھی بات ہے ۔۔۔اگر سو رہی تھی تو کوئی بات نہیں اب جاگ گئی ہو””
اتنے ٹینس دن میں حور اس وقت مسکرائی تھی ورنہ سارا دن الجھن میں ہی گزرا تھا۔۔۔
” اسلام وعلیکم… نہیں میں جاگ رہی تھی ۔۔ تم بتاؤ خریت سے فون کیا ؟؟؟ “”
” ہاں مجھے تمہاری مدد چاہیے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ایما نے بھی دیر نا کی اور سارا معاملہ اس کے سامنے رکھ دیا ۔۔۔
“ٹھیک ہے میں کر دوں گی مدد”
حور کی بات سن کر ایما کا دل کیا کہ وہ خوشی سے ناچے ۔۔۔ ساتھ ہی اس کو خود پر افسوس بھی ہو رہا تھا اگر یہ خیال اس کو پہلے آ گیا ہوتا تو وہ اب تک کام مکمل بھی کر چکی ہوتی۔۔
” تم ایسا کرو میری طرف آ جاؤ”
” سوری ایما تم آ جاؤ میں نہیں آسکتی وہاں تمہیں پتا ہے نا “
ایما کو کیسے نہیں پتا تھی وجہ اس لیے وہ خاموش ہو گئی ۔۔۔
” اچھا میں ہی آتی ہوں “
دھیرے سے بولتے ایما نے فون بند کیا ۔۔
حور کی بات سن کر ایما کو آج اپنا ماضی یاد آیا تھا۔۔
______________________________________________
اسابیلا اور البرٹ کے دو بچے تھے پیٹر اور ایما ۔۔۔
ان لوگوں کی زندگی بہت اچھی اور ہنسی خوشی گزر رہی تھی ۔۔۔
لیکن البرٹ کی اکسڈنٹ میں ڈیتھ نے ان سب کو تور کر رکھ دیا۔۔۔
اسابیلا اپنی شوہر کی جدائی کو بہت محسوس کرتی تھی اور ہر وقت اس کو سوچتی رہتی انہی دنوں وہ بیمار پڑ گئی اور گھر کے حالات بہت خراب ہوگئے تھے ۔۔۔ پیٹر اور اسے مجبوراً جاب کرنی پڑی ۔۔
اس وقت حور ہی تھی جس نے مشکل وقت میں اس کی مدد کی تھی حور اور اس کی دوستی سکول کے دور سے تھی ۔ حور نے ہی اس کی کیفے میں جاب دلوانے میں مدد کی ایما کا یہ وقت بہت مشکل تھا کہ پڑھائی کے ساتھ جاب بھی کرنا لیکن اسے کرنی پڑی تھی پیٹر اور اس کے جاب کرنے سے حالت کچھ بہتر ہوئے تھے۔۔
لیکن یہ صرف کچھ عرصے کے لیے ہی تھے ۔۔۔ پیٹر کی گل فرنڈ اس کو جب چھوڑ کر گغئ تو وہ جو اپنے باپ کی موت پر پہلے ہی ٹوٹا ہوا تھا مزید ٹوٹ گیا ایسے میں اس کے دوستوں نے اسے نشے کی طرف لگا دیا ۔۔۔۔ یہ بھی انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک دن حور ایما کے بلانے پر اس کے گھر گئی تھی ایما اس کو بیٹھا کر خود اوپر اپنا بیگ لینے گئی تھی اس کا ارادہ حور کے ساتھ شاپنگ پر جانے کا تھا ۔۔۔۔
پیٹر جو نشے میں ہی تھا اپنے کمرے سے نکلا اور اس کو حور میں اسی لڑکی کا چہرہ نظر آیا ۔۔۔ وہ حور کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کرنے لگا حور کی چیخ سن کر ایما جلدی سے نیچے آئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے حواس گم ہوگئے لیکن جلد ہی اس نے اپنے حواس پر قابو پایا اور پیٹر کو تھپڑ مارتے ہوئے حور سے دور کیا ۔۔۔اس وقت سے حور اس کے گھر آنے سے کتراتی تھی
۔
ایما بھی زیادہ اسرار نہیں کرتی تھی ۔۔۔اس کے بعد پیٹر تب ہی گھر آیا جب اس کو نشے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی ۔۔اور پھر اس کو جب تک پیسے نہیں ملتے تھے وہ گھر میں توڑ پھوڑ کرتا تھا ۔۔۔ آخری بار جب وہ آیا تھا تو مجبوراً اس کو پولیس کو کال کرنی پڑی تھی ۔۔۔۔ ایسے حالات میں یہ جاب اس کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ ۔۔
___________________________
آج ایما بہت خوش تھی ۔۔۔اس نے کل حور کے ساتھ مل کے ساری رات لگا کر کام کیا جو اب مکمل تھا ۔مطلب اب یہ جاب اس کی کنفرم تھی ۔۔۔
جلدی آفس جانے کے لیے اس نے شارٹ کٹ لیا ۔۔ یہ راستہ تھورا سنسان تھا لیکن جلدی آفس پہنچا دیتا تھا
” آج میرا لکی ڈے ہے ” راستے سے گزرتے ہوئے وہ چہک کر ہواؤں سے بولی ۔۔
ہوائیں اس مستانی کی خوشی دیکھ کر ہنس دی ۔۔
جبکہ وقت طنزیہ انداز میں ہواؤں کو بولا ۔۔تم کیوں بھول جاتی ہو ..
جہاں ڈیول ہو وہاں صرف بیڈ لک ہوتی ہے ۔۔
ہوائیں بھی اس کی بات سمجھ گئی اور اب کی بار وقت کا کہا ٹھیک ہوا۔
اور یہ ایما گئی ٹریش کین کے ڈبے میں ۔۔۔
” کہا تھا نا ۔۔۔۔ سی یو “
کوئی ٹریش کین کے پاس کھڑا شرارتی لہجے اور شیطانی مسکراہٹ لیے بولا۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
