Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27

اس نے خود کو ایک لال سی غار نما میں دیکھا ۔۔۔
جہاں ایک طرف لاوا دیوار کے اوپر سے نکل کر نیچے کی طرف گر بہہ رہا تھا ۔۔ جس کی گرم لال اور پیلی روشنی نے غار کو روشن کیا ہوا تھا ۔۔۔
عجیب وحشت زادہ کر دینے والا ماحول تھا ۔۔۔
سناٹا ایسا تھا ۔۔
کہ اگر سوئی بھی گرتی تو آواز آ جاتی ۔۔
گرمی تھی تو انتہا کی تھی ۔۔
وہ پیشانی پر آیا پسنہ ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے وہ آس پاس کا جائزہ لے رہا ۔۔
اصولََ اسی صورتحال سے لوگ گھبرا جاتے ہیں لیکن وہ لوگ تھوڑا تھا ۔۔
اس کے انداز میں دلچسپی تھی ۔۔
سبز چمکتی آنکھوں اشتیاق ۔۔
آخر کو کوئی عام تھوری تھا ۔۔
وہ تو ڈیرییک تھا ۔۔
ڈیول کا سردار ۔۔۔
ایک دم کالا دھواں وہاں نمودار ہوا ۔۔۔
جو دیکھتے ہی دیکھتے اونچے چھت کو چھوتے ڈیول کی شکل اختیار کر گیا ۔۔
اس کا پورا جسم لال تھا۔۔ آنکھیں پیلے رنگ کی آگ جیسی شولا اگلی ۔۔ سر پر دو کالے رنگ کے سینگ ۔۔بڑے بڑے دانت باہر کو نکلے ہوے تھے ۔۔اس کے بڑے بڑے ہاتھ اور پاؤں کے ناخن کلے نوک دار اور لمبے تھے ۔۔اس نے ایک ہاتھ میں سٹیک پکڑی ہوئی تھی ۔۔ جو نیچے سے ڈنڈے کی طری سیدھا تھا ۔۔ بس اوپر کی طرف سے کانٹے کی طرح تھا ۔۔
ڈیول نے ڈیرییک کو دیکھا ۔۔ اور جھک کر اسے تنظیم دی ۔۔
” سرکار آپ آگے ۔۔” اس ڈیول کی بھاری اور خوفناک آواز غار میں گونجی ۔۔ آواز کچھ زیادہ اونچی تھی اس لیے ڈیرییک کو کان پر ہاتھ رکھنا پڑا ۔۔۔
“آرام سے بولو ۔۔۔” اس نے ڈیول کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔
“معافی سرکاری۔۔۔ ” اب کی بار وہ بچارا ممنایا ۔۔۔
” یہ ٹھیک ہے ۔۔ اب میرے بیٹھنے کا انتظام کرو۔۔۔ ” اس کے کہنے کی دیر تھی ایک اور ڈیول وہاں آیا اور کرسی کی شکل ڈھال گیا ۔۔۔
” گرمی بڑھی ہے ۔۔۔ ” کرسی پر بیٹھ کر اس نے ایک اور مسلہ بتایا ۔۔۔
اب وہی ڈیول جو سب سے پہلے آیا تھا اسے ہوا دینے لگا ۔۔
” سرکار وہ ۔۔۔ ” اس سے پہلے وہ بچارا ڈیول کچھ بولتا ڈیرییک پھر بول پڑا ۔۔جس پر ڈیول خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا ۔۔
” کھانا ۔۔۔” ایک ابڑو آچکا کر اس نے اس ہوا دیتے ڈیول کو گھورا ۔۔
وہ ہوا دیتا ڈیول کے پل کے لیے غائب ہوا ۔۔ پھر جب آیا تو بہت سارے کھانے کا سامان بھی اس کے پیچھے ہوا پر آرتا ہوا ڈیرییک کے سامنے آیا ۔۔۔
کھانا دیکھ کر وہ تو اس پر ٹوٹ پڑا ۔۔ جبکہ وہ دنوں ڈیول ضبط کیے اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگے ۔۔
آخر سرکار تھا وہ ان کا اگر کوئی بات بڑی لگتی اسے تو شامت ان کی آنی تھی ۔۔
” اب بولوں ۔۔ کیا بات ہے ۔۔ ” کھانے سے فارغ ہو کر کرسی سے ٹھیک لگاتے ہوے آخر اس نے ان بچاروں کا خیال آ ہی گیا ۔۔۔
” سرکار اب واپس آجائیں ۔۔ ہم سے اور نہیں سنبھالا جاتا ۔۔آپ کے جیسا ناک میں دم کوئی کر سکتا ” وہ اس کے بائیں طرف دنوں ہاتھ باندھے سر جکا کر بڑی احترام کے ساتھ بولا ۔۔
” سرکار دنیا والوں کو ہم سنبھال لیں گے ۔۔ اب ان ہیل والوں کو قابو کر لیں ۔۔ ویسے بھی آپ کے بغیر یہاں کوئی رونق نہیں ۔۔۔۔۔ ” آخر اس بچارے نے اپنا مسلہ بتا ہی دیا۔۔
” کتنے فخر سے بتا رہے ہو کہ نہیں سنبھالے جاتے ناک کٹوا دی ہے ۔۔ اتنا کچھ سیکھا کر گیا تھا وہ سب بھول گئے ۔۔ ” وہ ڈیول کو گھورتے ہوئے غصے سے بولا ۔۔
” جناب وہ سب اب پرانے ہو چکے ہیں ۔۔۔ کام نہیں کرتے ۔۔۔ ” اس بات پر ڈیرییک کو اور غصہ آیا اور وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
” ابھی میں اسی پرانے طریقے سے کر کے دیکھتا ہوں چلو۔۔۔ “ڈیرییک بول کر اس کے ساتھ جانے لگا کہ اسے اپنے نام کی پکار آئی ۔۔
” ڈیرییک ۔۔۔” وہ وہنی روک گیا ۔۔ اس آواز وہ کیسے نہ پہچانتا ۔۔یہ جان کی آواز تھی ۔۔
اس پکار کو وہ نظرانداز بھی نہیں کرسکتا تھا۔ ۔
اس لیے واپس مڑا گیا ۔۔
“سرکار۔ ۔۔ کہاں جا رہے ۔۔” اسے جاتا دیکھ کر وہ ڈیول بول اٹھا ۔۔۔
” واپس جہاں سب میرا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ ” ڈیرییک روک کر بولا ۔۔
” سرکار وہاں۔ جہاں آپ کی کوئی قدر نہیں ۔۔ ” وہ ڈیول پھر بولا ۔۔ اس کا مقصد اسے روکنا۔۔۔
اسی وقت پھر جان کی آواز آئی ۔۔
” یار دیکھ اس طرح تنگ نہ کر ۔۔ اور جیسے تنگ کرنا کر لیے مگر اٹھ جا ۔۔ ” اس کی اس بات پر ڈیرییک مسکرایا اور ڈیول کی طرف دیکھا ۔۔
” دیکھ لو ۔۔ میری کتنی قدر ۔۔ تمہیں کیا پتا میرے لیے کتنے پیارے پیارے ریڈرز مصعوم سی رائٹر سے ناراض اور احتجاج کرنے کی دھمکی دی رہے ۔۔۔ اب یہ جگہ تم لوگوں کی ہی ذمیداری ہے ۔۔ مجھے اور کوئی شکایت نہیں چاہیے ۔۔۔ ” وہ انگلی اٹھا کر انہیں تنبیہ کرتے ہوئے واپس چلا آیا ۔۔جبکہ ڈیول منہ بنا کر رہ گیا ۔۔
اسے ہوش آگیا تھا ۔۔۔
مگر سر اور پورے جسم سے میں ٹیسیں آٹھ رہی تھی ۔۔
لیکن وہ جاں کی آواز سن اور سمجھ بھی رہا تھا ۔۔
اور ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اس نے کرنا کیا ہے ۔۔
جان کے اٹھتے ہی اس کا شطانی دماغ پھر چلا ۔۔ جسے سوچ کر اس کی چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔ اس حالت میں بھی اسے دماغ کو سکون ہی تھا ۔۔۔
لیکن پھر درد کی وجہ سے اسکی مسکراہٹ سمٹی ۔۔
جب ڈاکٹرز وغیرہ آے ۔۔ وہ اسے پرسکون کرنے کے لیے نیند کا انجکشن لگانے لگے ۔۔ کہ اس بات سن کر روک گیے ۔۔
پھر جو اس نے کہا ۔۔ وہ بس حیرت سے اسے دیکھتے رہ گئے ۔۔ پھر اسبات میں سر ہلا کر باہر نکل گے ۔۔ جبکہ وہ اندر پرسکون ہوکر آنکھیں بند کر گیا۔۔۔
____________________________
” سوری ۔۔۔ مگر میں اتنی جلدی جان نہیں چھوڑنے والا ۔۔ ” ڈاکٹر اب کی بار مسکراتے ہوئے پھر سے بولا ۔۔
پہلے تو کسی کو سمجھ نہیں اس لیے وہ سب نا سمجھی سے ڈاکٹر کی جانب دیکھنے لگے ۔
لیکن اگلے ہی پل ڈاکٹر کی مسکراہٹ اور بات کو سمجھ کر جہاں وہ خوش ہونے کہ ساتھ غصہ ہوکر رہ گئے ۔۔
مطلب اسے اس حال میں بھی سکون نہیں تھا ۔۔
اتنی کریٹیکل سچویشن میں بھی ۔۔۔۔۔
بندہ تھوڑا لحاظ ہی کرلیتا لیکن وہی بات ڈیرییک بندہ تھوری تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبحِ سورج کی نارنجی کرنیں چاروں طرف پھیلی ۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ۔۔۔ ٹھڈی ہوا ۔۔۔ خاموشی جو اپنے اندر سکون لیے ہوے تھی ۔۔۔
یہی سہی وقت ہوتا رزاق کہ تلاش میں نکلنے کا وہ جو اس وقت رزاق کی تلاش میں نکلتے ہیں خالی ہاتھ نہیں رہتے ۔۔ صرف رزق نہیں ۔۔۔علم ۔۔ صحت کچھ بھی ۔۔
آپ جس مقصد کے لیے بھی اٹھے ہو کامیاب ہو گئے ۔۔ کیونکہ اس وقت اٹھ کر آپ جو کرتے ہیں آپ کی اسی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔۔پھر وہ اچھی وہ یہ بڑی یہ آپ پر منحصر ہے ۔۔۔
حور بھی فجر پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کر کے کر اب لان میں چہل قدمی کے لیے آئی تھی ۔ یہ اس کی عادت تھی ۔۔ شروع شروع میں اسے یہاں کے وقت میں ڈھلنے میں مسلہ ہوا تھا ۔۔ مگر اب وہ آہستہ آہستہ وہ اس ماحول کی عادی ہو رہی تھی ۔۔
لان میں چلتی ہلکی ہوا جب جسم سے ٹکراتی تھی تو سرور سا ہوتا تھا ۔۔
کچھ سوچ کر اس نے پاؤں سے جوتی اتری ۔۔ اور پاؤں گھاس پڑ رکھے ۔۔۔
پاؤں کے ٹھنڈی نرم گھاس پر رکھتے ہی ایک سکون سا اس اپنے اندر سرعت کرتا محسوس ہوا تھا ۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے یہ سکون پوری طرح محسوس کیا ۔۔
ایسا سکون جو اس کے دماغ کو پرسکون کر رہا تھا ۔۔
آہل جو نماز پڑھنے کے بعد ٹریک سوٹ پہن کر کر اب جانگنگ کر کے واپس آیا تھا ۔۔ حور کو دیکھ کر اس کے قدم روک سے گئے ۔۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی ۔۔۔ آنکھیں بند کیے وہ اسے کسی اور جہاں کی لگ رہی تھی ۔۔۔ سفید دوپٹے کے ہالے میں اس کا چہرہ چاند کی چودھویں کی طرح چمک رہا تھا پنکھڑی جیسے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجاۓ ۔۔۔ آہل کو اپنی طرف بڑھنے پر مجبور کر گی تھی ۔۔
وہ جو آنکھیں بند کیے اس کی آمد سے بے خبر تھی ۔ لیکن کسی کہ نظروں کی تپش محسوس کر کے اس کے مسکراہٹ لب سکھڑے اور کل والا واقعہ اس کی دماغ میں لہرایا ۔۔
اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولی ۔۔ اور بنا یہ دیکھے کہ کون اسے دیکھ رہا ہے وہ جلدی اندر کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔
آہل جو اسے غور سے دیکھ رہا تھا اس نے اس کی مسکراہٹ کا سمٹنا بڑی طرح محسوس کیا ۔۔
اس کے مسکراہٹ کے سمٹنے پر وہ جو اس کے سحر میں قید ہوا تھا اسے ہوش آیا ۔۔۔
جب اس نے دیکھا کہ حور نے نے اس کی موجودگی کو جان لیا تو اس کو حور کا اس طرح گھبرا کے جانا ناگوار گزرا اس لیے اس نے جلدی سے جاتی حور کی کلائی پکڑی لیے ۔۔
جس سے وہ اور ڈر گی ۔۔اس کی نظروں کے سامنے بس کل کا منظر ہی تھا ۔۔ اس آدمی کی نظروں میں جو تھا اس نے اس کو ڈرا دیا تھا ۔۔۔
اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہوا ۔۔ لیکن جب اس نے مڑ کر اپنی کلائی آزاد کرنی چاہی تو اس کی نظریں آہل پر پڑی ۔۔ ایک اطمینان سا تھا جو اسے رگوں میں اترا تھا ۔۔۔
” کیسی ہیں آپ ۔۔ ؟؟ ” آہل اس کی کلائی اس طرح پکڑے اسے اپنے سامنے کیا اس کی گرفت نرم تھی لیکن پھر بھی اتنی ضرور تھی کہ حور اپنا ہاتھ چوڑا سکتی ۔۔۔وہ اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگوں کو بغور دیکھتا سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔
اسے حور کے انداز گربر محسوس ہوئی تھی ۔۔
” ٹھیک ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔۔ ؟؟” حور نے ایک نظر اسے دیکھ کر اپنا منہ جھکا لیا ۔۔ساتھ میں اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کی ۔۔ آہل کا اس طرح اس کی کلائی پکڑنا ۔۔ اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہے تھے۔۔
حور کی گھبراہٹ آہل کو مزہ دے رہی تھی ۔۔
” آپ خود کر بتاؤ کیسا ہو۔۔ ” آہل نے اس کی کلائی چھوڑی جس پر اس نے سکون کا سانس لیا لیکن اس کی سانس روک سی گی جب آہل نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور اس کے ہاتھ پر لگی مہندی غور سے دیکھی ۔۔
اسے اپنا دل ہاتھ میں دھڑکتا لگ رہا تھا ۔۔ وہ تو پوچھ کر پچھتائی ۔۔چہرہ الگ گرم ہو رہا تھا ۔۔ایسے میں اس میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اس کی طرف دیکھتی ۔۔
” بتایا نہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟ ” اس کی خاموشی پر ۔۔ آہل نے اس کے ہاتھ سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا ۔۔۔ اور دوبارہ پوچھا ۔۔
حور اب چپ رہی ۔۔ البتہ اس کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح آہل کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ نکال کر اندر جاے ۔۔ اسے یہ بھی خوف بھی کھاۓ جا رہا تھا کہ اگر کسی نے انہیں ساتھ دیکھ لیا تھا کیا سوچے گا ۔۔
اس کی سوچوں کو بریک تب لگا جب آہل اس کے ہاتھ پکڑے چلا تھا ۔۔ مجبوراً حور کو بھی اس کے پیچھے جانا پڑا ۔۔۔
آہل نے اسے لان پر پڑی چیئر پر بیٹھا ۔۔۔ اور چیئر کے دنوں بازوں پر ہاتھ رکھ کر اس پر جھکا ۔۔ اور بغور اس کی لزتی پلکوں پر نظریں جما دی ۔۔۔
” کیسا لگتا ہوں ۔۔ ” اپنا منہ اس کے کان کے پاس کر کے وہ سرگوشی میں بولا ۔۔۔ اس کے اس طرح کرنے وہ کانپ ہی تو اٹھی ۔۔ دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔ ہاتھوں میں ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے ۔۔آہل کے انداز اس کے ہوش اڑا رہے تھے ۔۔
” اچھے ہیں ۔۔۔ ” اس نے جلدی سے کہا ۔۔۔
” ایسے نہیں ۔۔ میری طرف دیکھ کر کہوں ۔۔ ” آہل اس کے اور قریب ہوا ۔۔
” کیا کرے کوئی آجاے گا ” چیئر کے بلکل ساتھ جڑ کے اس اپنے اس کے درمیان توڑا فاصلہ بنایا ۔۔نظریں بار بار دروازے کی طرف تھی ۔۔۔
آہل نے اس ایک ہاتھ چیئر سے اٹھا کر اس کا منہ کا رخ تھوڑی سے پکڑ کر اپنی جانب کیا ۔۔۔
اور اپنی کالی سحرانگیز آنکھیں اس کی آنکھوں میں ڈال کر ۔۔ جیسے اس نے اس پر کوئی اسم پھوکا ۔۔
وہ تو جیسے اس کی آنکھیوں میں دیکھ کر جھپکنا بھول گی تھی ۔۔۔بس یک ٹک اس کی آنکھوں میں دیکھتی گی ۔۔ جہاں کالی آنکھوں کتنے ہی راز اپنے اندر چھپے تھی ۔۔
اور کوئی نیا سا جذبہ تھا ان میں ۔۔
کچھ نیا احساس جس سے شاید وہ خود بھی بےخبر تھا ۔۔
” اب بتاؤ ۔۔۔”
” بہت اچھے ۔۔ ” وہ کسی معمول کی طرح بولی ۔۔
” کتنا ..؟ “
” جیسے۔۔ شدید دھوپ میں ۔۔ ٹھنڈی بارش ۔۔۔ جیسے اچانک اندھیرے میں روشنی کی کرن ۔۔۔ جیسے خزاں کے بعد بہار ۔۔ جیسے دل کے ساتھ ڈھرکن ۔۔ ” وہ کھوئی ہوئی انداز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولتی گی ۔۔
اس باتیں سن کر آہل کی آنکھوں میں چمک آئی ۔۔۔
ہونٹوں پر خیف سی مسکراہٹ ۔۔
” یعنی پیار کرتی ہو ۔۔۔ ؟؟” آہل نے بھی سرگوشی میں پوچھا ۔۔
یوں جیسے اونچی آواز میں بولنے سے ان کے درمیان موجود سحر ختم ہوجاے گا ۔۔۔
اس کی اس بات پر حور نے آہستہ سے نہ میں سر لیا ۔۔
آہل کی نظریں اس کے گال پر پڑے پلک کے بال پر پڑی ۔۔ اس نے اسی طرح اس کی آنکھوں میں دیکھتے نرمی سے وہ بول اس کے گال سے اپنی سے اٹھا ۔۔
” کیوں ۔۔۔ “
کوئی جواب نہیں آیا ۔۔۔
لیکن حور کے آنکھوں میں پانی آیا تھا ۔۔
وہ جو اس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی ۔۔ یکدم اسے لگا اس کے عکس کی جگہ کوئی اور یہ ۔۔ وہ اس سے پہلے کسی اور کا ہو چکا ہے ۔ یہی بات ہی تو اسے ہر وقت بے چین کیے ہوئی تھی ۔۔۔
” حورین۔۔۔ ” آہل نے جب اس کی آنکھوں میں پانی دیکھا تو پریشان ہوا ۔۔۔ اس لیے اس کا پورا نام لیا ۔۔
” آپ نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔ ” آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر اس کے گال پر آیا ۔۔
اس کا ایک آنسو اسے بےچین کر گیا ۔۔۔
آہل دل کیا کے اسے کہا کہ اچھا تو اس نے نہیں کیا ۔۔ لیکن وہ جب بولا تو محبت میں گوندا لہجہ تھا ۔ جس کا اسے خود بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔
” کیا کیا میں نے ۔۔۔؟؟ ” اس نے انگلی سے اس کی آنکھ سے نکلنے اس قمتی موتی کو بے مول ہونا سے روکا ۔۔
” آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے ۔۔۔ ” یہ بولتے اب کی بار اس کی آنکھوں سے آنسو تیزی گرنے لگے ۔۔
جنہیں آہل نے اس سے مزید کچھ پوچھنے سے روکا ۔۔۔
” شیی ۔۔ بس چپ ۔۔ ” پنجوں کے بل بیٹھتے اس نے سامنے گھاس پر بیٹھتے اس نے اپنے ٹراؤزر کی پولٹ سے رومال نکلا ۔۔۔ اور اس کے آنسو صاف کیے ۔۔۔
” حور ۔۔ کس بات کی سزا دی رہی ہو ۔۔۔ اور یہ آنسو ۔۔۔۔مجھے کتنی تکلف دے رہے ہیں کاش میں آپ کو بتا پاتا ۔۔ ” وہ کچھ اس بےبسی سے بولا کہ حور رونا بھول کر اسے دیکھنے لگے ۔۔ جیسے اس کی بات نے اسے حیرت میں ڈالا ہو ۔۔
” آپ کو کہاں درد ہو رہی؟؟ ۔۔۔ اور اب اس طرح کیوں بیٹھے ہیں ۔۔ ؟؟ ” وہ رونا بھول کر یکدم اس کے لیے پریشان ہوگی ۔۔ اس بس اتنا پتا تھا کہ آہل تکلف میں ہے ۔۔۔
” یہاں ۔۔۔ یہاں ہے تکلف ۔۔ ” اس نے اپنے دل پر اس کا ہاتھ رکھا ۔۔۔
حور نے اپنے ہاتھ کے نیچے اس کے دل کی دل کی تیزی سے دھڑکتے دل کی دھڑکن محسوس کی ۔۔
کچھ کہتی ۔۔
کچھ بولتی ۔۔
کوئی بھید کھولتی ۔۔
حور اس کی بات کا مطلب سمجھ کر بلش کر گی ۔۔ گھنی پلکوں کی بار گالوں پر سجدہ ریز ہوگی۔۔
آہل نے دلچسپی سے اس کا یہ روپ دیکھا ۔۔
حور کا اس کو اس طرح دیکھا ۔۔ مزید بلش کرنے پر مجبور کر گیا تھا ۔۔ اس نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا چاہا ۔۔
جس سے آہل دیھان اس سے ہٹ کر اس کے ہاتھ پر گیا ۔۔
جس کی دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر اس کا نام لکھا تھا ۔۔
آہل نے انگلی سے اس کے ہتھیلی پر لکھے اپنے پر انگلی پھیری ۔۔۔ جس سے حور نے گھبرا کر اسے دیکھا ۔۔
اور اسی وقت آہل اپنے دل کی خواہش کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوے اس کی ہتھیلی پر لکھے اپنے نام پر لب رکھے ۔۔۔
اب کی بار نہ دل کی دھڑکن تیز ہوئی ۔۔
نہ اونچی ۔۔
بلکل بند ہوئی ۔۔
اسے لگا وہ بے ہوش ہوجاے گی ۔۔ آہل نے اب بھی ہونٹ نہیں ہٹاۓ ۔۔۔
وہ تو لگتا تھا آج حور کے ہوش اڑانے کے پکے ارادے کیے ہوے تھا ۔۔
” اوہ ہ ہ ۔۔۔ صبح صبح یہاں یہ ہوتا ۔۔۔ ” ان کو ہوش دنیا میں فہد کی آواز لائی ۔۔
جو خباثت بری مسکراہٹ لیے حور کے لال ہوتے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ یہاں خاص کر آیا ہی حور کی وجہ سے تھا ۔۔ ورنہ وہ کہاں اس وقت اٹھنے والا تھا ۔۔ اس دیکھا تھا کہ حور فجر کے بعد یہاں آتے ہیں ۔۔ اس لیے وہ آ لام لگا کر سوگیا تھا ۔۔
لیکن یہاں آہل کو حور کے سامنے پنجوں کے بل بٹھا دیکھ کر وہ بدمزہ ہوا تھا ۔۔
اس کی آواز سن کر حور گھبرا کر اپنا ہاتھ آہل کے ہاتھ سے چھڑاتے اندر کی طرف بھاگ گی ۔۔
فہد کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا ۔۔
” لگتا ۔۔ تم پچھلے بار کی ماڑ بھول گئے ۔۔۔” آہل نے جب اسے حور کو گھورتا دیکھا تو اس کے تن بندن میں آگ سی لگ گی ۔۔ اور مزید فہد کی آنکھوں میں موجود غظالت نے اس کا دماغ خراب کیا تھا ۔۔۔اس لیے وہ غراتے ہوے بولا تھا ۔۔۔
” کیا وہ ایسی چیز ہے ۔۔ کہ اس سے نظر ہٹا سکے ۔۔ میں تمہاری بےگناہی کا سب کو بتا دوں کا ۔۔ بس یہ بلبل ۔۔ ” وہ مزید بھی کوئی بکواس کرتا اگر آہل کے بھاری ہاتھ کا مکا اس کا منہ نہ توڑتا ۔۔۔
ابھی وہ ایک مکے سے نہیں سنبھالا تھا کہ آہل نے دوسرا بھی ماڑا ۔۔ مکہ اتنا زور کا تھا کہ وہ زمین پر گرا تھا ۔۔ اس کا ہونٹ پھٹ گیا تھا ۔۔ ناک سے بھی خون نکلنے لگ گیا ۔۔
آہل کا دل کر رہا تھا کہ اس کی زبان کاٹ دے جس سے وہ اس کی بیوی کے بارے میں بکواس کر رہا تھا ۔۔۔
مگر اس نے مھٹوں کو ضرور سے بھنچ کر برداشت کیا ۔۔۔ مہمانوں سے بھرا پرا گھر تھا ۔۔ وہ کوئی تماشہ نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ اس لیے بغیر اس کے منہ لگے اس نے اندر جانا چاہا لیکن پیچھے سے فہد پھر بول اٹھا ۔۔
” تم ساری عمر بھی لگا دو گے ۔۔ تو بھی کچھ نہیں ہو گا ۔۔ داجی اور سب کی نظروں میں تم کیا ۔۔ مجھ سے بہتر تم جانتے ہو۔۔ اور وہی لوگ نہیں ۔۔ حور بھی ” وہ ہاتھ کی پشت سے خون صاف کرتا اٹھا ۔۔ اور پھر اسی ڈھائی سے بولا ۔۔۔
اس کو حور کا نام لیتا دیکھ کر اس کا دماغ پھر آؤٹ ہوا ۔۔ وہ مڑا اور ایک زور کی لات اس کے پیٹ پر ماڑی ۔۔
وہ جو ابھی اسی کھڑا نہیں ہوا تھا پھر سے گر گیا ۔۔
آہل نے اس کو گریبان سے پکڑ کر سیدھا کیا ۔۔۔
” دوبارہ میری بیوی کا نام تیرے منہ سے نکلا تو تمہاری لاش بھی کسی کو نہیں ملنی ۔۔ اور دوسری بات ۔۔ میرے لیے پریشان ہونے کی ضرورت تجھے نہیں ہے ۔۔ ” اس کا گربیان پکڑے وہ جس جنونی انداز میں بولا تھا ۔۔ اس سے فہد بھی ڈر گیا ۔۔
کہاں ٹھنڈے مزاج والا آہل اور کہاں یہ جنونی ۔۔
وہ گھر کا لاڈلا بےشک تھا ۔۔
لیکن سب کی عزت کرتا تھا ۔۔
وہ ضدی تھا ۔۔ اپنی کر کے ہٹتا تھا ۔۔
لیکن کسی کو تکلف بھی نہیں دیتا تھا ۔۔
مگر یہ آہل بلکل الگ تھا ۔۔
جیسے سب کچھ تباہ کرنے کے در پر ہو ۔۔
لیکن شاید وہ بھول رہا تھا ۔۔ اس نے ہی تو اسے ایسا بنے پر مجبور کیا تھا ۔۔
آہل اس کو چھوڑ کر اندر جا چکا تھا ۔۔ جبکہ وہ زمین پر کہراتا رہ گیا ۔۔
لیکن یہ سب کسی نے بہت حسد سے دیکھا تھا ۔۔
اور حسد کب کسی کو خوش رہنے دیتا ہے ۔۔
حسد کرنے والے کا کوئی علاج نہیں ۔۔ ان کو کتنا ہی اچھا کیوں نہ مل جاے ۔۔ وہ روے گے اسی کے لیے ۔۔ جو ان کو نہیں ملا ۔۔
اور آجکل سب اسی ہی کا تو شکار ہے ۔۔
کوئی کہاں کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتا ہے ۔۔
لیکن بات یہ بھی نہیں کہ کوئی خوش ہوتا ہے کہ نہیں ۔۔ کبھی کا ہم خود دوسروں کو حسد پر مجبور کرتے ہیں ۔۔
کبھی انہیں باتیں سنا کر ۔
تو کبھی انہیں دوسروں کی کامیابی کا بتا کر ۔۔ یہ نہیں دیکھے گے کہ اس نے بھی کچھ کیا ہی ہے ۔۔ اور جو اس نے نہیں کیا ہے ۔۔ اس کامیاب ہونے والے نے نہیں کیا ۔۔
درحقیقت ہم خود اپنی آنے والی جنریشن کو اس طرف دھکیل رہے ہیں ۔۔ ہم لوگ خود کو خود ہی تباہ کر رہے ہیں ۔۔۔
______________________
حور نے کمرے میں آ کر جلدی سے دروازہ بند کیا ۔۔ اور اسے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گی ۔۔
مسکان ان سب سے بے خبر سوئی ہوئی تھی ۔۔
حور کا دل ابھی بھی بڑی طرح دھڑک رہا تھا ۔۔
چہرے لال تھا ۔۔
اسے لگ رہا تھا جیسے آہل کی نظریں اب بھی اس کے چہرے پر تھی ۔
اس نے اپنا وہ ہاتھ دل سے لگا جس پر آہل نے بوسہ دیا تھا ۔۔
اس کا لمس اسے اب بھی اپنی ہتھیلی پر محسوس ہو رہا تھا ۔۔ اس کی شو کی ہلکی ہلکی چوبن کا احساس اب بھی تھا ۔۔۔
حور دروازے سے اٹھ کر شیشے کے سامنے آئی ۔۔۔ لیکن پھر اس کی مسکراہٹ سمٹی ۔۔
” نہیں وہ اس کا تو نہیں تھا ۔۔ اس کے پاس تو بس اس کا نام تھا ۔۔ ” دماغ نے فوراً کہا ۔
” اور جو آج ہوا وہ کیا تھا ۔۔ ؟؟” دل نے بھی جیسے فوراََ دلیل دی ۔۔۔
” مجھے تو ہمدردی لگی ۔۔ ” دماغ نے بڑی سنگ دلی سے کہا ۔۔
” اس کے انداز میں محبت تھی ۔۔ ” دل نے جیسے دماغ کی عقل پر ماتم کیا ۔۔
” محبت ایک ہوتی ہے ۔۔۔۔۔” دل اس بات پر طنزیہ ہنسا۔۔
” نہیں عشق ایک سے ہوتا ہے ۔۔ جو مجھے ہوا ۔۔ اور اسے بھی ہوگا ۔۔مجھے یقین ہے اپنے عشق پر ۔۔۔ ” اور یہ ہوئی جیت دل کی ۔۔
لیکن اب آگے یہ دیکھنا تھا ۔۔
کہ یہ عشق ہے عشق ہی ہوگا ۔۔
یا بنے گا روگ ۔۔
کیونکہ یہ
راہ پلہ عشق ہے ۔۔
عشق کے زینے ہے ۔۔ جس پر چھڑنا آسان نہیں ۔۔
ہر زینا پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے ۔۔
لیکن پہلے سے زیادہ مضبوط بناتا ہے ۔۔
_______________________
آہل نے کمرے سے آکر اپنی گاڑی کی چابی لی ۔۔
اور جیپ لے کر باہر نکل گیا ۔۔۔
اسے اس وقت بس تنہائی چاہیے تھی کہ وہ خود کو سمجھ سکے ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اسے خود کی بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔
وہ آج خود سے الجھ رہا تھا ۔۔
کتنی دیر گاڑی چلانے کے بعد آخر اس نے ایک جگہ سڑک کے کنارے گاڑی روکی اور سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا ۔۔
اس کی آنکھوں سامنے بار بار حور کا چہرہ آرہا تھا ۔۔۔
“محبت ہوگی ۔۔ ” دل نے جیسے پوچھنے کے انداز میں بتایا ۔۔۔
” تمہیں غلط فہمی ہو گی ۔۔۔” دماغ کو دل کی بات پر غصہ آیا تھا ۔۔۔
” نہیں یہ علامت محبت کی ہے ۔۔ ” دل بھی جیسا ڈیٹ کر کھڑا ہوا ۔۔
” یہ علامت ہے بیماری کی ۔۔ اور شکر الحمد میں صحت یاب ہوں۔۔۔ ” دماغ بھی اپنے تیر لے کر میدان میں اترا ۔۔
” یہ بیمار کو اس کی بیماری کا تب پتا لگتا ہے جب اسے تکلف ہو ۔۔ پہلے جب وہ بیماری ہلکی رہتی ہے تو کوئی تکلف نہیں ہوتی ۔۔ لیکن جب بیماری تکلف دے تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں پھر دوائوں کے ہوتے رہ جاتے ہیں ۔۔ ” دل کی دلیل جاندار تھی ۔۔
” اکثر بیمار دوسروں کے منہ سے اس کی بیماری کا سن کر خود میں بھی محسوس ہوتی ہیں کہ مجھ میں بھی ہے ۔۔لیکن کب علاج کرتے ہیں تو کچھ نہیں ہوتا ۔۔ وہ محظ ایک خود پر لی پریشانی ہوتی ہے ۔۔۔” دماغ نے بھی ثابت کر دیا کہ اس کے پاس دماغ ہے ۔۔
” یہ حور سے پیار کرتا ہے ۔۔ ” دل سیدھی بات پر آیا ۔۔
” نہیں ہے ۔۔ “دماغ نے بھی ترید کی ۔۔
” لیکن اُسے تو ہے نا ۔۔۔ ” دل نے پھر کائل کرنا چاہا ۔۔
” ایک طرف کی ہے ۔ ۔۔” دماغ نے جیسے مکھی اڑنے والا انداز سے کہا ۔۔
” محبت کی قدر نہ کرنے والے پھر اسی محبت کے لیے پچھتاتے ہیں ۔۔۔ ” دل نے ڈرانا چاہا۔۔۔
” تب یہ محبت کہاں تھی جب اسے ضرورت تھی ۔ تب کہاں تھی ۔۔ جب علیحدگی چاہیے تھی۔ ۔ تب کہاں تھی جب کسی غیر کے ساتھ تھی ۔۔” دماغ نےدل کو وہ آئینہ دیکھا جو اس کے خیال میں حقیقت تھا ۔۔
اور بس جیت ہوئی ۔۔۔۔دماغ کی ۔۔
ایک طرف دل تھا ۔۔
تو ایک طرف دماغ ۔۔
ایک طرف عشق تھا ۔۔
تو ایک طرف بدگمانی ۔۔
اب دیکھنا یہ تھا کہ جیت کس تھی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *