Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22
انہیں پاکستان آۓ ہوئے تین دن ہوگئے تھے۔۔ حویلی میں شادی کی تیاریاں زوروں سے ہو رہی تھیں ۔
ابھی کل رات ہی تو داجی نے اسے اپنے پاس بلایا اور صبح آہل کے ساتھ جاکر برات اور ولیمے کا ڈریس لانے کا کہا ۔۔
صبح ناشتے کے بعد آہل نے اسے تیار ہونے کا کہہ کر باہر اس کا انتظار کرنے لگا ۔ حور فریش تو پہلے ہی ہوگئی، تھی ۔۔اس لیے اس نے گرین سوٹ کے ساتھ سر پر بلیک حجاب لیا اور چادر سے خود کو اچھی طرح ڈھانپتے ہوئے پورچ میں آئی ۔۔
آہل جو فون پر بات کر رہا تھا جیسے اس کی نظر حورین پر پڑی تو وہ دومنٹ تک بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔اسے حور کے چہرے پر صرف نور ہی نظر آ رہا تھا جو بلیک رنگ کے حجاب میں چاند کی طرح چمک رہا تھا ۔۔حور جو اس کی جانب ہی بڑھ رہی تھی کہ اس کو یوں خود کو بےخود ہو کر دیکھنا اسے کنفیوز کر گیا اسی وجہ سے اس کہ چلنے کی رفتار بھی کم ہوگئی ۔۔آہل نے اس کا کنفیوز ہونا اور رفتار کم ہونا محسوس کیا تو ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے عنابی ہونٹوں پر چھائی ۔۔۔
وہ خود بھی کالے رنگ کی شلوار قمیض پر براؤن لیدر کی جیکٹ پہنے ہوئے حور کی دھڑکنیں روک رہا تھا ۔
حور گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر آہل کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔ گاڑی کا دروازہ بند ہونے کی آواز سے آہل بھی ہوش میں آیا تو دیکھا کے کال کب کہ بند ہو چکی ہے ۔۔ اس نے خود کو سرزنش کی اور جاکر ڈراونگ سیٹ سنبھال لی ۔۔ ابھی اس نے گاڑی سٹارٹ بھی نہیں کی تھی کہ مہک ریڈ رنگ کی تنگ سی شلوار قمیض اور کھولے بال اور میک اپ سے لدھڑے چہرے کے ساتھ وہاں آئی ۔۔
اس نے حور کہ سائڈ والا شیشہ نوک کیا ۔۔
” کیا بات ہے ۔۔ ؟؟” آہل نے اپنی کھڑکی نیچے کرتے ہوئے ناگوار سے پوچھا اسے مہک کا آنا بلکل پسند نہیں آیا تھا ۔
” مجھے بھی شاپنگ کرنی ہے ۔۔ ” مہک ادا سے بال جھٹکتے ہوئے بولی ۔۔ اس نے بہت تیز پرفیوم لگایا تھا ۔۔
” تو ڈرایور کے ساتھ جاؤ ۔۔۔ ؟” آہل گاڑی سٹارٹ کرتے ہوے بولا ۔۔
” ڈرایور کو بڑی امی ( آہل کی ماں ۔۔ ) نے اپنے کام سے بھیجا ہے ۔۔” مہک ساری تیاری کر کے آئی تھی ۔۔
” بیٹھو ۔۔ ” اس کے بیٹھتے ہی آہل نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔۔
آہل ماتھے پر بل ڈالے تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔
” حور تم کیا دادی اماں بن کر آئی ہوں ۔۔۔ ” حور جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی مہک کی بات سن کر چونک گئی ۔۔۔ اس نے ایک نظر آہل کی طرف دیکھا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔اس نے فوراً نظر آہل سے ہٹائی۔۔
” کیونکہ میں ایسے ایزی فیل کرتی ہوں ۔۔ ” حور نے سادگی سے جواب دیا لیکن اسے مہک کی بات پسند نہیں آئی تھی ۔۔ حور کی بات پر مہک طنزیہ انداز میں مسکرائی ۔۔
” ویسے ایکٹنگ اچھی کر لیتی ہو ۔۔۔ ” حور کو مہک کی اس بات کا مقصد سمجھ نہیں آیا ۔۔۔
” کیا مطلب ۔۔۔ ؟؟”
” مجھے اب کسی کی فضول آواز نہ آئے ۔۔۔۔ ” اس کی بات پر مہک اس سے پہلے پھر کچھ بولتی آہل کی سرد آواز نے اسے خاموش کر وا دیا ۔۔
مہک منہ بسور کر گاڑی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی آہل نے سیدھی طرح اس کی آواز کو فضول کہا تھا۔۔۔
ابھی وہ مال سے تھورا دور ہی تھا کہ ایک سٹاپ پر حور والی سائڈ کہ کھڑکی سے کچھ آ کر اس کی گود میں گرا ۔۔
حور نے چونک کر دیکھا تو اس کی نظر اس چھوٹے سے کاغذ پر پڑی جو چڑ مڑ کیا گیا تھا اس نے باہر کی طرف دیکھا جہاں ان کہ ساتھ کھڑی گاڑی میں عجیب سے ہوالیے میں بیٹھے چار لڑکے اسی کو دیکھ رہے تھے ۔۔ ان کی نظروں سے حور کو اپنے اوپر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
وہ فوراً پیچھے ہو کر بیٹھ گئی کہ اس وقت اس کی سائڈ کا شیشہ بند ہوا ۔۔ اب بلیک مرر کی وجہ سے باہر والے کو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔
حور نے آہل کی طرف دیکھا جو سنجیدہ نظر سے سامنے دیکھ رہا تھا ۔۔ حور نے آہل سے نظر ہٹا کر اپنا ہاتھ دیکھ جس میں وہ کاغذ تھا ۔۔ حور کا دل کر رہا تھا اس کاغذ کے ساتھ وہ ان لڑکوں کو بھی آگ میں جھونک دے جن کی نظریں اسے اب بھی اپنے اوپر محسوس ہو رہی تھی ۔۔
اس نے اپنے مٹھی کو اور زور سے بھینچا ہوا تھا کے اس کے ہاتھ لال ہونے لگے تھے چونکی وہ تب تھی جب آہل نے اس کو وہی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔ اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا ۔۔اس کا چھوٹا سا ہاتھ آہل کے ہاتھ میں چھپ ہی تو گیا تھا اب آہل ایک ہاتھ سے ڈرایو کر رہا تھا حور کے دیکھنے پر آہل نے اس پر نظر ڈالی اور ہلکی سا مسکرایا ۔۔
حور نے گڑبڑا کر نظریں آہل سے ہٹائی اسے نہیں پتا تھا لیکن اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا ۔۔
مال کے آنے تک آہل نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔۔ جبکہ حور نے کوشش کی تھی مگر جب جب اس نے ہاتھ چھوڑنے کی کوشش کی تب تب آہل کی اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط ہوتی گئی تھی اس لیے اس نے بھی کوشش ترک کردی تھی ۔۔
” تم جاؤ اپنی شاپنگ کرو ۔۔ جب فروغ ہو جاؤ تو مجھے بیل کر دینا ۔۔ ” مہک کے گاڑی سے اترتے ہی آہل نے سنجیدہ مگر سرد انداز میں کہا حور کا ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا جس پر مہک کی بھی نظر پڑ گئی تھی جس سے وہ جل ہی تو گئی تھی ۔۔ ورنہ باقی راستے تو وہ اپنے موبائیل کے ساتھ ہی مصروف رہی تھی ۔۔
“تم کہاں جا رہے ہو ۔۔۔ “مہک کھا جانے والی نظروں سے حور کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
“تم اپنے کام سے کام رکھو ۔۔۔ ” آہل نے منٹ نہیں لگایا اس کی طبعیت صاف کرنے میں ۔۔۔
” مگر ۔۔۔ ” مہک نے پھر کچھ بولنا چاہ لیکن آہل کی سرد نظروں کی وجہ سے بول نہیں پائی اور پیر پٹختے ہوئے وہاں سے چلتی بنی۔۔۔
اس کے جاتے ہی آہل حور کی جانب متوجہ ہوا ۔۔ حور جو پہلے ہی آہل کے سرد رویے اور اس طرح ہاتھ پکڑنے کی وجہ سے گھبراہٹ کا شکار تھی اس کے اس طرح اپنے طرف پوری طرح متوجہ ہوتے دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے ۔۔۔
” مجھے دیں ۔۔۔ ” آہل نے نرمی سے وہ کاغذ حور کے ہاتھ سے لیا ۔۔ اس کے انداز میں پہلے والی سرد مہری مقصود تھی اور جو یہ سمجھ رہی تھی کہ آہل نے نہیں دیکھا اپنے ہاتھ سے اسے کاغذ کا وہ چھوٹا سا گولا پکڑتے دیکھ کر شرمندہ ہوگئی حلانکہ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں تھی ۔۔۔
آہل نے وہ کاغذ کھولا تو اندر لکھی تحریر دیکھ کر اس کی رگیں کھینچ گئی۔۔۔۔
جہاں موبائیل نمبر کے نیچے call me baby لکھا تھا ۔۔۔
آہل دومنٹ اس چٹ کو گھورتا رہا ۔۔ پھر کچھ سوچ کر موبائل نکال کر گاڑی سے نکل گیا حور بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے باہر نکل آئی یہ اور بات ہے کہ آہل کے تیور اس کی سانس خشک کر رہے تھے ۔۔
حور کے آہل کے پاس پہنچتے ہی آہل نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگاتے ہوئے اندر کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔
حور بھی اس کے ساتھ کھینچی جا رہی تھی ۔۔
” میسج دیکھ لیا ۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ جب کام ہو جائے مجھے بتا دینا ۔۔۔ تھینکس یار ۔۔ ” آہل فون پر بات کرتے ہی بوتیک کے اندر آیا ۔۔
” یس میم ۔۔۔ ” ورکر اس کی جانب آئی حور نے ایک نظر آہل کو دیکھا جو کال پر مصروف تھا ۔۔
” ویڈنگ ڈریس ۔۔۔ ” حور کو خود ہی بتانا پڑا۔۔
” میم برات یا رسیپشن ۔۔۔ ؟؟” ورکر نے شائستگی سے پوچھا ۔۔۔
” دونوں ۔۔ “
حور کا جواب سن کر وہ ورکر اندر چلی گئی تو حور دوسرے کپڑے دیکھنے لگی ۔۔
” یہ دیکھیں میم ۔۔۔ ” اس کے ساتھ ایک اور ورکر ڈریس لیے وہاں آئی ۔۔۔
کپڑے دیکھ کر حور پریشان ہوگئی کیونکہ وہ سارے بہت ہیوی تھے ۔۔۔ اس نے کبھی اتنے ہیوی کپڑے نہیں پہنے تھے ۔۔
” کچھ پسند آیا ۔۔۔ ؟” آہل بھی کال بند کر کے اب اس کے پاس آ کھڑا ہوا ۔۔
” یہ ساری تو بہت ہیوی ہیں ۔۔ میں کیری کیسے کروں گی ۔۔۔ ” حور نے پریشانی سے آہل کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
” میں ہوں نا ۔۔۔ میں کر دوں گا مدد ” آہل کی بات سن کر حور فوراً سیدھی ہوئی جبکہ پاس کھڑی ورکر بھی ہسنے لگی ۔۔۔
” یہ والا دیکھیں۔۔۔ ” آہل نے لائٹ پنک اور میرون لہنگے اور چولی کی جانب اشارہ کیا جس کا کام باقیوں کہ نسبتاً کافی کم تھا ۔۔
آہل نے لہنگے کا ڈوپٹہ لیا اور حور کو شیشے کے سامنے کھڑا کر کے اس کے سر پر ڈالا ۔۔
” ماشاءاللہ۔۔۔ ” بے ساختہ آہل کے منہ سے یہ الفاظ نکلے حور تو آہل کی حرکتیں دیکھ کر پریشان ہوئی جا رہی تھی ۔۔ وہ تو آہل کو سنجیدہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والا سمجھی تھی ۔۔لیکن آہل کی بے باکیوں نے اس کے چودہ کیا سولہ طبق روشن کر دیئے تھے ۔۔۔
” یہ پیک کر دیں ۔۔ ” آہل کی بات سن کر ورکر پھرتی سے سوٹ پیک کرنے لگی ۔۔
” ریسیپشن کا ڈریس میں اپنی پسند سے لوں گا ۔۔ ” آہل اپنا روخ اس کی جانب کرتے ہوئے نرمی سے بولا ۔۔
” تو اب کون سا میری پسند سے لیا ہے ۔۔ ” حور نے یہ بات دل میں سوچی تھی لیکن زبان نے اس کی سوچوں کو آواز دے دی ۔۔ حور نے اپنی اس بے ساختہ حرکت پر زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔ جبکہ دوسری طرف آہل اس کی بات سن کر محفوظ ہوا تھا۔ ۔
” پہننا میرے لیے ہے تو ظاہر سی بات ہے پسند بھی میری ہی ہوگی ۔۔۔ ” آہل اس کی ہوائیاں اڑے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے مزے سے بولا ۔۔
” میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔۔ ” حور منمنائی
” اچھا ۔۔ ” آہل نے اچھا جو لمبا کر کے کھینچا اسے حور کی بوکھلائی ہوئی حلات مزہ دے رہی تھی ۔۔۔
بل پے کر کے وہ باہر نکلے تو آہل اسے شو شاپ میں لے گیا اور ڈریس سے میچنگ جوتی دلاوائی ابھی وہ جوتی لے کر نکلے ہی تھے کہ مہک کا فون آگیا وہ فارغ ہے اور طبعیت بھی سہی محسوس کر رہی اس لیے اب گھر چلتے ہیں ۔۔
اسے پتا تھا مہک ضرور کوئی ایسا کام ڈالے گی اس لیے وہ ڈرایور کو پہلے ہی بلا چکا تھا ۔۔
مہک تو جل کے کوئلہ ہی ہوگئی جب آہل نے اس کو ڈرایور کے ساتھ جانے کا کہا وہ تو ان دونوں کے ساتھ ان کی شاپنگ خراب کرنے آئی تھی لیکن آہل نے موقعہ ہی نہیں دیا ۔۔
آہل کو شاپنگ کرتا دیکھ کر کوئی کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس شادی سے کبھی ناخوش بھی تھا اس کا انداز تو یوں تھا جیسے قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو
۔
شاپنگ سے فارغ ہو کر آہل اسے ریسٹورنٹ لے آیا ہلکی پھلکی باتوں کے دوران انہوں نے کھانا ختم کیا ۔۔
” تم یہی روکوں میں ابھی آیا ۔۔ ” آہل اسے روکنے کا کہہ کر خود پارکنگ سے گاڑی لینے چلا گیا ۔۔
شام کے سائے اب گہرے ہو رہے تھے ویسے بھی سردیوں میں رات ہونے کا پتہ بھی نہیں چلتا ٹھنڈی ہوا موسم کو مزید سرد بنا رہی تھی ۔۔
حور ایک طرف ہو کر کھڑی ہوگئی ۔۔ اس طرف زیادہ رش بھی نہیں تھا ابھی وہ آہل کا انتظار کر رہی تھی کہ وہی لڑکے تھے جنہوں نے اسے پرچی پھینکی تھی ۔۔۔
” یہ بلبل یہاں اکیلی کھڑی ہے ۔۔۔ ہیروں کہاں گیا ۔۔۔ ” وہ حور کو گھیرے میں لیے اپنی ہوس زدہ نظریں اس پر ٹکائے بار بار اس کو چھونے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔
” دور رہو۔۔۔۔۔ ” حور ان کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے سخت انداز میں بولی آہل بھی پتا نہیں کہاں رہ گیا تھا ۔۔
” آہاں اس بلبل میں تو اکڑ بھی ہے ۔۔۔ یعنی مزہ ہی دوبالا ” ان میں سے ایک حور کا گال سہلاتے ہوئے کمینگی سے بولا ۔۔۔
حور کی برداشت جواب دے گی ” چٹاخ” کی آواز سے ایک تھپڑ اس لڑکے کے گال پر پڑا ۔۔۔
” تیری اتنی ہمت سالی ۔۔ ” وہ بھپڑا ہوا اس کے بازوؤں کو دبوچ کر اپنا منہ اس کے منہ کے قریب کرتے ہوے بولا۔۔ اس کے منہ سے شراب کی سمیل بھی آ رہی تھی ۔۔اس سے پہلے حور کچھ کرتی وہی لڑکا جو اس پر جکا ہوا تھا چیختے ہوئے پیچھے کو گرا ۔۔۔
آہل نے اس کے منہ پر مکا مارا تھا ۔۔ اس کے باقی ساتھی بھی آہل پر پل پڑے جن سے آہل بھی اچھی طرح نبٹ رہا تھا ۔۔۔ لوگوں کا رش لگ رہا تھا لیکن آگے کوئی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
” روک جا ۔۔۔ ورنہ یہ بلبل جائے گی جان سے ۔۔۔ وہی لڑکا جسے حور نے تھپڑ مارا تھااور آہل نے مکا مارا تھا حور کی گردن پر چاقو رکھتے ہوئے دھمکی آمیز انداز میں بولا ۔۔۔ مجبوراً آہل کو رکنا پڑا ۔۔۔
” آہ ہ ..” ابھی اسے روکے منٹ بھی نہیں ہوا تھا کہ وہی لڑکا درد سے چیختے ہوئے نیچے کو بیٹھا کیونکہ حور نے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان پوری قوت سے ٹانگ ماری تھی ۔۔
اتنی دیر میں پولس اور سٹاف بھی وہاں آگیا اور معاملے کو رفہ دفعہ کرنے لگ گیا ۔۔۔
آہل نے غصے سے حور کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی میں پٹخنے کے انداز میں اسے بیٹھاتے ہوئے خود ڈرایونگ سیٹ سنبھال کر گاڑی زن سے لے کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔
______________________
آفس دوبارہ جوائن کیے تین دن ہوگئے تھے اس وقت وہ آفس کے سامنے بنے کیفے میں بیٹھی کافی پیتی سوچوں میں گم تھی ۔۔اس کے سوچوں کا محور جان تھا جس کی شخصیت ایما کی سمجھ سے باہر تھی ۔۔
وہ جان کے ساتھ ہوے ایگریمنٹ کے مطابق کام کر رہی تھی اس نے جان کے سامنے شرط میں اپنی کچھ 2 باتیں رکھی جنہیں جان نے بغیر ہچکچاہٹ کے مان لیا ۔۔
1_ بات اس نے یہ رکھی کہ جان اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرے گا ۔۔
2_دوسری کہ جیسے ہی وہ ساری رقم ادا کرے گی ویسے ہی یہ ایگریمنٹ ختم کر دیا جائے گا ۔۔
جان کا اتنی جلدی مان جانا ہی اس کو الجھا رہا تھا اس کا خیال تھا کہ وہ نہیں مانے گا ۔سب سے عجیب بات وہ مان بھی گیا تھا اور اس کا رویہ ایما کے ساتھ نورمل تھا جیسے باقی کلائنٹ کے ساتھ ہوتا تھا ۔
گھر تو ویسے بھی اب اس کے پاس نہیں رہا ۔۔ کچھ ضروری چیزیں پیک کر کے اس نے رینٹ پر رہنا شروع کر دیا تھا ہاں لیکن اس نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ چاہے جو مرضی ہو اس کو اپنا گھر واپس لینا ہے ۔
وہ کافی پیتی اپنی سوچوں میں اتنا مگن تھی کہ ڈیرئیک کے آنے کا اسے پتا نہیں لگا لیکن خیر طوفان سے کب تک بے خبر رہ سکتا ہے کوئی ۔۔
ڈیرئیک نے اسے دیکھا جو ارگرد سے بیگانی کافی کے کپ کو ٹیبل پر رکھے کھڑکی سے باہر پتا نہیں کیا اتنی یکسوئی سے دیکھ رہی تھی ۔۔
یکلخت اس کے دماغ میں کچھ آیا اس نے پاس سے گزرتے ویٹر کو اپنے پاس بلایا اور کیچپ ٫ کچا انڈہ اور نمک اس سے منگوایا ویٹر کو اس کی دماغی حلات پر شک ہوا لیکن ڈیرئیک نے جب اسے گھوڑا تو وہ فوراً چیزیں لینے چلا گیا ۔۔
ڈیرئیک نے وہ سب کافی کے کپ میں ڈالا ایما اپنی سوچوں میں اتنا گم تھی کہ اسے پتا بھی نہیں چلا کہ اس کی کافی کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔۔۔
(لیکن خیر کوئی نہیں جب وہ کافی پیۓ گی تو اسے لگ پتا جاۓ گا ۔۔ )
اس کام سے فارغ ہونے کے بعد ڈیرئیک نے اپنے موبائیل کا کیمرہ آن کیا اور ایما پے سیٹ کر دیا اس طرح کے ایما کو اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ اس کی ویڈیو بن رہی ہے ۔۔
” مس سائیکو ۔۔۔ ” اس کے سامنے والی خالی چئیر پر بیٹھ کر ڈئرئیک نے چوٹکی بجاتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ ” اس کے چٹکی بجانے پر وہ اپنی سوچوں سے نکلی تو اپنے سامنے بیٹھے ڈیرئیک کو دیکھ کر بدمزہ ہوگئی ۔۔۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔ ” اس کے سوال پر ڈیرئیک نے بھنویں اوپر کو اٹھائی
” پہلے تو لگا تھا کہ تم صرف نام کی سائیکو ہو لیکن آج تم نے ثابت کر دیا کہ تم پوری سائیکو ہو ۔۔ ” کہنے کے ساتھ ہی ڈئرئیک نے اس کے سامنے پڑی کافی کو اپنی طرف کیا مقصد صرف ایما کو کافی کی طرف متوجہ کرنا تھا جس میں وہ کامیاب بھی رہا ۔۔
ایما نے جب اسے اپنی کافی پکڑتا دیکھا تو فوراً اس سے پہلے جھپٹنے کے انداز سے اس سے اپنا کپ لیا اور کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔۔
” میرا نام بھی سائیکو تم نے رکھا تھا ۔۔۔ اور اب تمہاری کمپنی کا ہی اثر ہے کہ میں آہستہ آہستہ پوری سائیکو ہو رہی ہو ۔۔۔۔ ” ڈیرئیک کو جواب دے کر اس نے کافی کا ایک بڑا سیپ لیا ۔۔۔ اور اگلے لمحے ایما کو یوں لگا جیسے اسے الٹی آجائے گی اس نے جو سیپ لیا تو فوراً منہ سے فوارے کی شکل میں باہر نکلا جو سیدھا سامنے بیٹھے ڈیرئیک پر گرا ۔۔
وہ جو ایما کی حلات کا مزہ لے رہا تھا ایما کی اس حرکت کی وجہ سے بد مزہ ہو گیا ۔۔
” افففف ۔۔۔ اففف۔۔”ایما نے ڈیرئیک کو ابھی نہیں دیکھا اس کا تو زبان کا ٹیسٹ ہی اتنا خراب ہو رہا تھا ۔۔۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے پاس سے گزرتے ویٹر نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے جلدی سے پانی کا گلاس اسے دیا ۔۔۔۔ پانی پی کر ایما کو تھوڑا سکون ملا تو اس نے غصے سے ڈیرئیک کی جانب دیکھا ظاہری سی بات ہے اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ یہ کس کا کام ہے لیکن جب اس کی نظریں ڈیرئیک کی طرف گئی تو اس کی حالت دیکھ اسے مزہ آ گیا دل میں یوں لگا کسی نے ٹھنڈی پھوار کر دی ہوں اسے اپنے اندر سکون سا اتراتا محسوس ہو رہا تھا مسکراہٹ تو اس کی منہ سے چپک ہی گئی تھی ۔۔
جبکہ دوسری طرف ڈیرئیک کینہ پرور نظروں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔ ایما کی حالت کا مزہ وہ خاک لیتا ۔۔
” اٹھو تمہیں جان بلا رہا ہے ۔۔۔۔ اور تمہارا فون کہاں ہے ۔۔۔ ” اپنا منہ ٹشو سے صاف کرتے ہوئے ٹیبل سے اپنا موبائیل پکڑ کر چیئر سے اٹھا اور اسے بھی اٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔
ڈیرئیک کی بات سن کر ایما کے مسکراتے لب سمٹ گئے اور وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے اس کے پیچھے چل دی ویسے بھی آجکل جان کا ہر بلاوا اس کی سانس خشک کر دیتا تھا
ڈیرئیک کی پشت ایما کی طرف تھی اس لیے وہ ڈیرئیک کی شطانی مسکراہٹ دیکھ نہیں سکھی ۔۔۔
ایسا ہو سکتا ہے کہ ڈیرئیک کسی کا ادھار رکھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
