Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28
وہ جب ڈیرییک سے ملنے گی تھی اس وقت وہ نیند میں تھا۔ ۔
اس لیے اس نے آفس کے بعد جانے کا سوچا ۔۔
ویسے بھی جس سے اس نے دوسری جانب بھی شروع کی تھی ۔۔ اس کی زندگی بہت مصروف ہوگی تھی ۔۔
صبح اٹھ کر آفس آنا ۔۔ پھر رات کو کلب میں ویٹریس کی جاب ۔۔
اس نے ابھی تک اپنی اس جاب کا کسی کو نہیں بتایا تھا ۔۔ نہ اس کا بتانے کا ارادہ تھا ۔۔
ویسے سے بھی اسے پوچھنے والا تھا کون ۔۔ دو دوست بناۓ تھے اس نے اور دونوں ہی اس سے دور ۔۔
اپنے کیبن میں بیٹھے وہ آج کا شیڈیول تیار کر رہی تھی ۔۔
اس کا خیال تھا کہ جان آج نہیں آئے گا ڈیرییک کہ وجہ سے مگر وہ اس بات سے بے خبر تھی ۔۔ کہ وہ آج آیا تھا اور اب میٹنگ کے لیے کہنی گیا ہوا ۔۔
براوں رنگ کے بال جوڑے میں قید تھے ۔۔بھوری آنکھوں پر گلاسس لگائے تھے ۔۔ چھوٹی سے ناک اور اس کے نیچے پتلے لب جو اب جیسے آہستہ آہستہ بولنا بھول رہے تھے ۔۔
گہرے سبز رنگ کی ٹی شرٹ کے ساتھ پینٹ پہنے وہ آس پاس کے ماحول سے بے خبر پوری طرح کام میں غرق تھی ۔۔ اس کا چہرہ سنجیدہ تھا ۔۔
گزرے وقت اور حادثات نے اسے بہت تلخ اور سنجیدہ بنا دیا تھا ۔۔
ڈائری پر شیڈول لکھ کر اس نے لیپ ٹاپ چیک کیا ۔۔ کہ کوئی ضروری آئ میل تو نہیں آئی ۔۔
اسی وقت اس کی ایک کولیگ پھول اور گفٹ ریپر میں پیک ایک ڈبہ لے کر وہاں آیا ۔۔۔
” ہےےے ایما ۔۔ ” اس نے لیٹ نہ ٹاپ پر مصروف ایما کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔
” ہےے جورج ۔۔ ” ایک سراسری نظر اس پر ڈال کر وہ دوبارہ کام مشغول ہوگی تھی ۔۔
” اٹیٹیوڈ ۔۔ ” جورج ہلکے سے منہ میں بڑبڑایا ۔۔ اسے ایما کا انداز پسند نہیں آیا تھا ۔۔
” اوکے لسن ۔۔ یہ تمہارا پارسل آیا ۔۔ مجھے کام ہے میں چلتا ہوں ۔۔۔۔باۓ ” وہ پھول اور باکس ٹیبل پر رکھ چلا گیا ۔۔
ایما نے الجھن سے اس باکس کو دیکھا ۔۔
” مجھے کون بھیج سکتا ہے ۔۔ ” اس نے سوچتے ہوئے وہ پھول اپنی طرف کیے ۔۔ سفید رنگ کے یہ پھول اسے بہت پسند تھے ۔۔ اس نے پھول ناک کر قریب کر کے اس کی خوشبو اندر اتری ۔۔ یکدم اس کے اداس لب ہلکے سے مسکرے ۔۔ اس پھولوں کے بکے میں ایک چٹ بھی تھی ۔۔
” امید ہے ۔۔ یہ پھول ۔۔ یہ دیکھ کر تمہاری لب مسکراۓ گیے ۔۔ ” ایما کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔ یہ الگ قسم کا کیئرنگ انداز صرف ایک کا ہی تھا وہ جب جب ناراض ہونے کی کوشش کرتے وہ اسے منانے کا انتظام پہلے ہی کر لیتا تھا ۔۔۔۔(حان ۔۔ ) اس نے زیرلب اس کا نام لیا ۔۔
اسی وقت اس کے موبائیل کی سکرین روشن ہوئی ۔۔ نمبر انجان تھا ۔۔
” ہیلو ۔۔ پریٹی ایم کیسی ہو ۔۔ ؟؟ ” اس کے کال اٹھاتے ہی وہ بول اٹھا ۔۔
ایما اس کے ایم کہنے پر مسکرائی ۔۔ اسے پتا تھا اکثر جب وہ موڈ میں ہوتا تھا تو وہ اسے ایم کہتا تھا ۔۔
” تم سے ناراض ہوں ۔۔۔ ” ایما نے مصنوعی ناراضگی سے کہا ۔۔ یہ اور بات اس کے لب مسکرا رہے تھے ۔۔وہ کافی ٹائم بعد اس سے بات کر رہی تھی اس لیے اس کے لیے یہ بہت تھا کہ وہ اس سے بات کر رہا ہے ۔۔
اس نے موبائیل ایک ہاتھ سے دوسری ہاتھ میں منتقل کرتے ہوے اپنی چیئر سے ٹیک لگائی ۔۔ کی
” بنو مت ۔۔ مجھے پتا تم اب بھی مسکرا رہی ہو ۔۔ ” اسے کہ اتنے سہی اندازے پر وہ حیران نہیں ہوئی ۔۔ کیونکہ وہ ہمشہ اس کا ہر انداز جان لیتا تھا ۔۔
” میں واقعی میں ناراض ہوں ۔۔۔ ” وہ پھر ماننے سے انکاری ہوئی ۔۔
دوسری طرف حنان تو جیسے جی اٹھا تھا۔۔ کتنا مس کیا تھا ۔۔ اس نے اس کی آواز کو ۔۔ اس کے اس انداز کو ۔۔ لیکن کام نہیں اس کو ایسا جکڑا تھا کہ اسے سر کھجانے کی فہرست نہیں تھی ۔۔ اوپر سے اس کا فون بھی لاپتہ ہوگیا تھا ۔
” یعنی تم نے ابھی بوکس نہیں کھولا ۔۔ گڈ ۔۔ چلو پھر واپس بھجوا دو ۔۔ ” اس نے ہونٹوں کو دبا کر اپنی مسکراہٹ روکی ۔ اور بڑی سنجیدگی سے بولا ۔۔
” کیا ہے اس میں ۔۔” ایما نے فوراً سے پہلے وہ ڈبا اپنے طرف کھسکایا ۔۔جیسے حیان ابھی کہی سے آکر ڈبا لے جاے گا ۔۔۔
” خبردار کھولنا نہیں ۔۔۔ ” وہ اسے منع کرتے ہوے وہ کھولنے پر اکسا رہا تھا ۔۔
” اب تو میں کھول کر رہوں گی ۔۔ ” ایما نے کہتے ساتھ ساتھ ہی اس باکس سے گفٹ ریپر سے ہٹایا ۔۔
اندر ایک کالے رنگ کا چوکور ڈبہ تھا ۔۔ جس کے چاروں طرف دوستی اور محبت کی مختلف وش تھی ۔۔
” یہ کیا حان ۔۔ ” وہ ڈبے پر لکھی وش پڑھتی اس سے پوچھ رہی تھی تھوری دیر والی ناراضگی اب کہنی نہیں تھی ۔۔
” تمہیں میں کہا تھا نہ کھولنا ۔۔ ” اب وہ بھی اسی کہ انداز میں میں بولا تھا ۔۔
” حان میں سیئریس ہوں ۔۔ ” ایما نے اب تنگ آکر کہا ۔۔
” ہاں پتا ہے ۔۔ تم سیریس قسم کا کیس ہو ۔۔ ” وہ پھر شرارت سے بولا ۔۔ اس کا کوئی موڈ نہیں تھا ایما کو بتانے کا کہ اس میں کیا وہ چاہتا تھا وہ خود دیکھے ۔۔
“فاین میں خود دیکھ لیتی ہوں ۔۔باۓ” کہتے ساتھ ہی اس نے فون بند کیا اور ڈبے کو اپنے بلکل سامنے کر کے اس نے اس کا ڈھکن کھولا تھا تو اس کی چاروں سائڈ کھل کر نیچے گریں ۔۔ اور اس پر جو تھا ۔۔ اسے دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا ۔۔
اس کی چاروں سائڈ پر چاکلیٹ لگی ہوئی تھی ۔۔۔ جو اسے بہت پسند تھی ۔۔۔
اس ڈبے میں ایک اور ڈبہ تھا بس کا ڈھکن نہیں تھا وہ ربن سے بند تھا ۔۔ اس کی بیک کے چاروں طرف حنان اور اس کی تصویر لگیں ہوئی تھی ۔۔
اس نے ریبن کھولا تو ایک دفعہ پر سے وہ چاروں سائڈ کھل کر نیچے گری ۔۔ یہ بھی چاکلیٹ سے بھری ہوئی تھی ۔
اس کا دل اتنی چاکلیٹ دیکھ کر جھوم اٹھا تھا ۔۔
لیکن ابھی ایک اور ڈبہ تھا جو سائیز اس سے پہلے والوں سے چھوٹا تھا ۔۔اس پر بھی ایما اور جان کی تصویریں لگی ہوئی تھی ۔۔ اور ربن بندھا ہوا تھا
اس نے آکسائیڈ انداز میں وہ بھی کھولا تو اس میں ایک لال رنگ کی ڈبی تھی ۔۔
ایما کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکا ۔۔
کہنی اس میں رنگ نہ ۔۔
اور کیا حنان اس کو دوست سے بھر کر ۔۔
اس نے تھوک نگل کر ہمت کر وہ ڈبی کھولی ۔۔
لیکن اس میں رنگ نہیں تھا ۔۔
بلکل کے چابی تھی ۔۔
” یہ کس چیز کی چابیاں ہیں ۔۔ ” اس نے وہ چابی ہاتھ میں پکڑ کر دیکھی ۔۔
” چابی کس کی ہے ۔۔ اس کے لیے تمہیں آفس سے نکل کر باہر دیکھنا ہوگا ۔۔ ” جہاں چابی پری تھی اسی کی نیچے یہ نوٹ تھا ۔۔
وہ آفس کی بلڈنگ سے نکل کر باہر آئی لیکن آتے ہوے چکلیٹ پکڑانا نہیں بھولی ۔۔ باہر آئی وہاں کچھ نہیں تھا پھر یہ چابی ۔۔۔ اس نے حنان کو کال ملائی ۔۔جسے حان نے کاٹ دیا ۔۔
ایما نے موبائیل کی سکرین کو گھورا ۔۔
کہ اسی وقت کیا نہیں اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ۔۔
ایما نے اپنی آنکھوں پر رکھیے ہاتھوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔ جیسے جاننے کی کوشش کر ہو ۔۔
” حان ۔۔۔” اس نے بے یقینی سے اس کا نام لیا ۔۔
اس کے نام لیتے ہی حنان اس کی آنکھوں سے ہاتھ اٹھتا اس کے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔
ریڈ پینٹ ۔۔ وائیٹ شرٹ پہنے ۔۔ آنکھوں پر چمشہ لگاے ۔۔ چہرے پر وہی نرم مسکراہٹ جو اس کی طبیعت کا خاصا تھا ۔۔ بلیک سلکی بال لاپرواہی سے اس کے ماتھے پر گرے رہے تھے ۔۔وہ خاصا فرش لگ رہا تھا ۔۔
” آؤ ام جی ۔۔ یہ واقعی تم ہو ۔۔۔ ” ایما نے اس کے چہرے پر ہاتھ کر اس کے ہونے کا یقین کیا ۔۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی اس کے سامنے ہے ۔۔۔
اس کے یہ انداز سامنے کھڑے حنان کو سرشار کر گیا تھا ۔۔
حنان نے اپنے چہرے پر سے اس کے ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔ اور ہونٹ سے قریب کر کے چکی کاٹی ۔۔
” آؤچ ۔۔ یہ کیا بتمیزی ہے ۔۔ ” اس نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑایا ۔۔ ساتھ میں گھوری سے نوازتے ناراضگی سے کہا ۔۔
” میں تو یقین کرنے میں مدد کر رہا تھا ۔۔ ویسے آیا یقین ۔۔ ؟؟” آنکھوں سے گلاسس ہٹاتے ۔۔ کالی آنکھیں میں شرارتی چمک لیے وہ اپنی مسکراہٹ روکے اسے تنگ کرتے ہوے بولا ۔۔۔
” ہاں آگیا یقین ۔۔۔ اب جہاں سے آے ہوے وہاں جاؤ ۔۔ ایک تو میرا خیال نہیں آیا ۔۔ اور جب آیا تو تم مجھے تنگ کر رہے ہو ۔۔ مجھے نہیں ملنا تم سے ۔۔ مجھے کام ہے میں اندر جارہی ہوں ۔۔ ” ایما نون ساپ بولتے ۔۔مڑ کر اندر جانے لگی تو حنان اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا ۔۔
” ہولڈ اینڈ کولڈ آن ۔۔ مجھے بولنے تو دو ۔۔ “
” بولو ۔۔ ” اسنے نے منی بسور کر احسان کر کے اسے بولنے کا موقعہ دیا ۔۔
اسکی اس ادا سے پورے دل سے مسکرایا ۔۔
” دیکھو یار میرے آگے کے دن اور مصروف ہو جانے ہیں ۔۔ میں بس ایک دن کے لیے ہی بری مشکل سے وقت نکال کر آ پایا ہو ۔۔ سو پلیز یہ ناراض بعد میں۔ ہو جانا ۔۔ ” اس نے مسکین سی صورت بنائی ۔۔
اس کی شکل دیکھ وہ ہلکے سے مسکرائی ۔۔۔
” اچھا ٹھیک ہے ۔۔لیکن بس آج کا دن اس کے بعد میں پھر ناراض ہو جانا ہے ۔۔ ” اس نے مانتے ہوے کہا۔۔
” اچھا تم ایسا کرو شارٹ لیئو دے آؤ ۔۔۔ آج کا دن ہی ہے ۔۔ اس کے بعد پتا نہیں موقع ملے نہ ملے ۔۔ ” باقی کی بات اس نے دل میں سوچی تھی ۔۔
ایما جو اندر جانے لگی کہ اسے اپنی ہاتھ میں پکڑی چابی کا خیال آیا تو وہ سر پر ہاتھ مارتی اس کی جانب مڑی ۔۔ اور وہی کھڑی اس نے چابی لہرائی ۔۔۔
” یہ چابی ۔۔ کس کی ہے ۔۔ ؟؟؟ “
” تم واپس آؤ تو پھر بتاؤ گا ۔۔ سرپرائز ہے ۔۔ بس ۔۔ ” اس کی بات پر وہ کندھے اچکاتے اندر چلی گی ۔۔۔
حنان اس کی پشت پر لہراتے بال دیکھ رہا تھا ۔۔ آج وہ فیصلہ کر کے آیا تھا کہ وہ ایما کو اپنے دل کی بات کر دے گا ۔۔ اور اسے مزید آفس میں جان کے ساتھ کام نہیں کرنے دے گا ۔۔۔
جان تو آفس میں تھا نہیں پھر بھی اس نے لیو دے دی ۔۔اور اپنے آفس سے چیزیں سمیٹ کر اس نے ایک طرف کیے ۔۔ حنان کا دیا باکس بھی اس نے ایک طرف کر کے رکھ دیا۔۔
اور نیچھے آئی۔۔
جہاں حنان اپنی ہیوی بائیک پر بیٹھا تھا اسی کا منتظر تھا ۔۔ اس کے ساتھ ایک اور ہیوی بائیک کھڑی تھی ۔۔
اب اسے سمجھ آئی کہ وہ چابی کس چیز کی تھی ۔۔
” کیا خیال ہے ۔۔ ریس نہ ہو جائے ۔۔ حنان نے ہیلمیٹ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔.
” کیوں نہیں ۔۔ تم تیار ہو نا ہارنے کے لیے ۔۔ ” ایما نے ہلمٹ سر پر بندھ کر اس کو چیلنج نظروں سے دیکھا ۔۔
” دیکھتے ہیں ۔۔”حنان نے بھی اسی انداز سے کہا ۔۔
” تین کی گنتی پر “ایما نے کہنے پر حنان سیٹ ہوکر بیٹھ گیا ۔۔
“ون “۔۔۔وہ خود بھی سیٹ ہوگی ۔۔
دونوں نے بائیک سٹارٹ کر دی ۔۔اور اسے ریس دی ۔۔
” ٹو ۔۔” انجن سے دھواں نکل رہا تھا ۔۔
“تھری ۔۔۔” ایما نے تھری کہتے ہی ہستے ہوے بائیک کو ریس دی اور ریس کے سہی طرح سٹارٹ ہونے سے پہلے ہی نکل گی ۔۔ ۔۔
جبکہ حنان اس کی چلاکی پر دانت پیستا اس کے پیچھے ہوا ۔۔
____________________________
اس کی آج ایک ضروری میٹنگ تھی اس لیے وہ آفس جانے کی بجائے سیدھا وہاں گیا جہاں میٹنگ تھی ۔۔
ڈیرییک کے لیے اس نے پہلے ہی سیکیورٹی کے مضبوط انتظام کر دیا تھا ۔۔ اب کی بار ڈیرییک کی نہیں چلنی تھی ۔۔
ویسے بھی اس کی سہی خبر لینے کا موقع اسے مل نہیں رہا تھا کیونکہ وہ نیند اور پین کلیر انجکشن کے اثر میں ہوتا تھا ۔۔۔
میٹنگ ہوٹل میں جو کافی لمبی رہی ۔۔
لیکن ہمشہ کی طرح کامیاب بھی رہی ۔۔
اب وہ سب ہاتھ ملاتے وہاں سے چلے گے ۔۔۔
جان نے موبائیل نکال کر دیکھا ۔۔ اس دن کے بعد ڈی کی کوئی کال نہیں آئی تھی ۔۔
لیکن وہ بھی اس کھیل کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔۔
اتنے سال جو نے صبر کیا ۔۔ اب وقت آگیا تھا ۔۔ قدم اٹھا کر ۔۔ ڈی کو اس کے منہ کے بل گرنے کا ۔۔
جان بھی جانے لگا کہ اس کی ایک غیر ارادی نظر ایک ٹیبل پر گئ ۔۔
اور وہاں ہستے ۔۔۔
انہیں دیکھ کر اس کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ آئی ۔۔
نیلی آنکھوں میں بھی عجیب سی چمک تھی
” کھیل تو اب شروع ہوگا ۔۔۔۔۔ ” وہ انہیں دیکھتا ہولے سے بولا تھا ۔۔
_____________________________
جیت ایما کا مقدر ہوئی ۔۔ کونکہ حنان ویسے بھی اسے ہارا ہوا اور اداس نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔
لیکن بظاہر اس نے منہ بنایا ہوا تھا کہ ایما چیٹنگ کر کے جیتی تھی ۔۔
اس وقت بھی وہ دنوں ہوٹل میں بیٹھے تھے ۔۔۔
اور کھانے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔
” اممم حان ایک بات پوچھوں ۔۔۔ ” ایما اپنے سامنے پڑے پانی کے گلاس کے کناروں پر پرسوچ نظروں سے انگلی پھرتی سنجیدگی سے بولی ۔۔
” پوچھ لو ۔۔ تم نے کون سا میرے منع کرنے سے باز آجاؤ گی ۔۔ ” حنان نے ایما کے سامنے پڑا پانی کا گلاس پکڑا جس کے کناروں پر وہ انگلی پھرتی تھی ۔۔۔
” مجھے جاننا ۔۔۔ ہے کہ ۔۔ کیسے ۔۔ جان سر وہ ۔۔ مڈر کیے تھے ۔۔ ” ایما کے دماغ کی سکرین پر بار بار جان کا وہ چہرہ آ رہا تھا جو ڈیرییک کے لیے اتنا پریشان تھا ۔۔
وہ یہ سوچ کر الجھ رہی تھی کہ وہ شخص جو اپنے دوست کے لیے اتنا پریشان تھا وہ کیسے اپنی بہن ۔۔ ماں اور کتے کا قتل کر سکتا ہے ۔۔
حنان جو مسکراتی نظروں سے اس دیکھ رہا تھا ۔۔ اس کے سوال پر یکلخت اس کی آنکھوں میں سختی اتر آئی ۔۔
” ایما میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔ ” اس نے سخت لہجے میں اسے ٹوکا ۔۔ اور نظریں اس سے ہٹا دی ۔۔۔
” حنان بتانا ہے کہ ۔۔ ورنہ میں جا رہی ہوں ۔۔ ” ایما کہنے کے ساتھ ہی کھڑی ہوگی ۔۔
” بیٹھ جاؤ ۔۔ ” حنان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔۔ البتہ اس کی نظریں ٹیبل پر تھی ۔۔
اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔
صاف پتا چلا رہا تھا کہ وہ ضبط کے کڑھے منازل سے گزر رہا تھا ۔۔
ایما بھی چپ کر کے واپس بیٹھ گی ۔۔
ایک دم ماحول عجیب سا ہوگیا تھا ۔۔۔ ایک بےچین سے خاموشی کے وقفے کے بعد حنان نے ٹیبل سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔
ایما کو اس کی نظر دیکھ کر خوف آیا تھا ۔۔وہ پوری لال تھی ۔۔۔۔
اگلے ہی پل حنان نے اس سے نظریں ہٹائی اور ہوٹل کی ونڈو پر ٹکا دی اور بولنا شروع ہوا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہان اپنی ماں کی ڈیتھ کے بعد اپنے باپ کے ساتھ شفٹ ہو گیا تھا ۔۔
وہ گم سم سا رہتا تھا ۔۔۔
سارے اسے سنبھالنے کی کوشش کر کے تھک چکے تھے ۔۔
اسے جس جگہ بیٹھاؤ ۔۔۔ کئ گھنٹوں تک وہاں بیٹھا اپنا ہاتھ دیکھتا رہتا ۔۔
اگر اسے کھانا دو تو کھانے کو گھورتا رہتا ۔۔۔
بولنا تو جیسے وہ بھول گیا تھا ۔۔
حنان کا دل کرتا تھا کہ وہ بھی باقی لوگوں کی طرح اپنے بھائی بہنوں سے کھیلں لیکن جہان گم سم سا رہتا تھا ۔۔ مریم بہت چھوٹی سی نازک گڑیا کی طرح تھی ۔۔
اسے تو ہاتھ لگاتے ہوے بھی عجیب لگتا تھا ۔۔۔ اس کی آنکھیں کبھی نیلی لگتی تھی تو کبھی سبز ۔۔ اس کے لیے جعفر صاحب نے ایک کیئر ٹیکر رکھ دی تھی ۔۔
ہاں لیکن جہان کا ڈوگ روکی وہ بہت اچھا تھا ۔۔ حنان اس سے کھیل لیتا تھا ۔۔
حنان اور وہ ایک دوسرے سے کافی اٹیچ ہوگئے تھے اس دوران
لیکن ایک دن جہان نے جب اسے حنان کے ساتھ لان میں کھلتے دیکھا تو وہ شعلہ بنا وہاں آیا ۔۔
اسے دیکھ کر روکی بھی اس کی طرف بھاگا ۔۔
” یہ میرا ہے ۔۔ ” ٹھنڈے انداز میں کہتے ہوے اس نے جھک کر روکی کی پیٹھ کو سہلایی ۔۔
یہ اس کا بولا اس حادثے کے بعد پہلہ جملہ تھا ۔۔
” مگر جان ہم دنوں بھائی ہیں۔ ۔ اور بھائیوں میں تیرا میرا نہیں ہوتا ۔۔ ” حنان نے اسے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔
اس کوشش تھی کہ دونوں کے تعلقات آپس میں اچھے ہوں۔ ۔۔
وہ اس سے کچھ کہنے ہی چھوٹا تھا ۔۔ اس کا قد حنان کے ہی برابر تھا ۔
” سوتیلے ہیں ۔۔ ہم ۔۔ اور ہمارے میں تیرے میرے کے سواہ کچھ ہے ہی نہیں ۔۔ ” جہان نے سرد لہجے میں کہا اور روکی کو لے کر اندر چلا گیا ۔۔
مگر اگلے دن جب حنان اٹھ کر باہر نکلا تو جہان روکی کا گلا دبا رہا تھا ۔۔ اور وہ بچارہ ترپ رہا تھا ۔۔۔ حنان دل کیا میں جا کے اسے روکے لیکن اسے جہان سے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔
حنان وہنی ڈرا کھڑا اسے دیکھتا رہا ۔۔
اب اس اُس نے گلا دبانا بند کر دیا تھا ۔۔۔ اور روکی کی پیٹھت کو تھپتھپا اٹھا ۔۔ اور اندر چلا گیا ۔۔
اس کا چہرہ ایسے تھا جیسے اس نے کچھ کیا نہیں ۔۔
اس کے جانے کے بعد حنان روکی کے پاس گیا ۔۔ اور اسے گود میں لے کر رونے لگا ۔۔
اس واقعے کے بعد سے حنان اس سے ڈرنے لگ گیا ۔۔
اور اس کی چیزوں سے دور رہتا تھا ۔۔
پھر سکول دوبارہ شروع ہوگے ۔۔ وہ سکول سے آکر زیادہ وقت مریم کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔
انہی دنوں سکول میں جہان کی اور ڈیرییک کی ٹھنی رہتی ۔۔ وہ دنوں ایک دوسرے سے چار کھاتے تھے ۔۔۔اور ایک دوسرے کو نقصان پہچانے سے باز نہیں آتے تھے۔ ۔۔
گھر آکر بھی جہان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور اس پاس سے اس کی بہت سی شاکتیں انے لگی ۔۔ جس سے تنگ آکر جعفر صاحب نے اسے بورڈنگ اسکول بھیج دیا ۔۔ وہ گھر بہت کم آتا تھا ۔۔۔
ایک دن اسی طرح کریسمس کی چھوٹیاں ہوئی تو وہ آیا ۔۔ حنان اس وقت مریم کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔۔ جو 6 سال کی ہو چکی تھی ۔۔ گھر میں کوئی نہیں تھا ۔۔ جعفر صاحب اور شازیہ بیگم ساتھ پارٹی میں گۓ تھے ۔۔
اسے اپنی بہن مریم کے ساتھ کھیلا دیکھ کر جہان نے اسے پکڑ کر سٹور میں بند کیا ۔۔۔
اس کے بعد گھر معصوم مریم کی چیخوں سے گونج اٹھا ۔۔
” سوری جہان ۔۔۔ پلیز اسے کچھ نہ کہنا ۔۔۔۔ ” حنان سٹور کا دروازہ پیٹتے ہوئے چیخی جا رہا تھا ۔۔
اس کے بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح دروازہ تور کر باہر نکلے اور کسی طرح مریم کو اس کے شکنجے سے آزاد کر وادے ۔۔۔
ایک دم مریم کا رونہ بند ہوگیا ۔۔۔ وہ ب چینی سے دروازے اور زور سے بجانے لگا۔۔۔ اس کا دل ناخوشگوار انداز میں ڈھرک رہا تھا ۔لیکن گھر میں بس اس کے زور زور سے دروازے بجانے کے لیے کوئی آواز نہیں تھی ۔۔ آخر جب وہ تھکنے لگا تو سٹور کا دروازہ کھولا۔۔۔
دروازہ کھولنے شازیہ بیگم تھی جو طعبت خرابی کی باعث جلدی گھر آگی تھی ۔۔
حنان ان کو پیچھے کرتا مریم کے کمرے کی طرف بھاگا ۔۔
شازیہ بیگم بھی اس کی حالت دیکھ کر اس کے پیچھے آئی ۔۔
حنان جب مریم کے کمرے میں پہنچا تو دیکھا ۔۔ مریم کے بیڈ پر خون تھا ۔۔ لیکن نہ مریم تھی ۔۔ نہ جہان ۔۔ وہ روتے ہوئے پورے گھر میں مریم کا نام لے کر اسے تلاش کر رہا تھا ۔۔۔
آخر اسے وہ گھر کے پیچھے والے حصے میں ملا ۔۔
” مریم کہاں ہے ۔۔ ؟؟” حنان نے اسے اسے کندھوں سے پکڑا کر جنجھوڑا اور روتی ہوے بولا ۔۔
” کون مریم ۔۔۔ ” وہ پرسکون انداز میں بولا تھا ۔۔ اس کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا ۔۔ چہرہ سپاٹ ۔۔ آنکھیں پرسکون تھا ۔۔
حنان کا دل بڑی طرح ڈھرکا ۔۔ اور وہ وہنی بے ہوش ہوگیا تھا ۔۔ اس کے بعد وہ اکثر مریم کا نام لیتے اٹھ جاتا ۔۔ راتوں کو ڈر جاتا ۔۔
جہان کو واپس بورڈنگ بھیج دیا گیا ۔۔ اور اسے کے بعد وہ نہ گھر آیا ۔۔ نہ ہی کسی نہیں بلایا ۔۔
اور نہ ہی مریم کا کوئی سراغ ملا ۔۔۔
__________________________
حنان نے اپنی آنکھیں صاف کی ۔۔
ایما کو اندازہ نہیں ہوا کہ آنسو اس کی آنکھوں سے بھی نکل رہےہیں ۔۔
یہ سب سن کر اب اسے بھی جہان سے خوف ہو رہا تھا ۔۔ وحشت ہو رہی تھی ۔۔
اس لیے اس نے اپنے آنسو صاف کیے ۔۔ اور حنان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا جو اس نے ٹیبل پر رکھا ہوا ۔۔
اس کے اس طرح کرنے سے حنان نے کھڑکی سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا اس کے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ تھی ۔۔
” سوری ۔۔۔ ” اس نے ہلکی آواز میں کہا ۔۔
” نہیں ۔۔ اس میں تمہاری کیا غلطی ۔۔۔ بلکل جس نے یہ کیا ۔۔ مجھے اس سے بھی کوئی شکوہ نہیں ۔۔ نفرت نہیں لیکن میں مزید اپنے کسی کو کھونے کی ہمت نہیں رکھتا اس لیے ۔۔ میں اس سے دور رہتا ہو ۔۔ اور کوشش کرتا ہوں کہ مجھے جو عزیز ہیں وہ بھی اس سے دور رہے ” حنان نے اپنے ہاتھ پر رکھے اس کے ہاتھ کو دیکھتا اپنے دل کی بات اس سے شیئر کی ۔۔
” اچھا ۔۔۔ تم یہاں بیٹھو میں آیا ۔۔۔ ” حنان کی بات پر ایما نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا ۔۔اس کا مقصد ماحول کو ہلکہ پھلکہ کرنا تھا ۔۔
حنان باتھروم کی طرف چلا گیا ۔۔
جبکہ ایما اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اسے کی آنکھوں کے سامنے جہان آیا ۔۔ جب اس کا۔ہاتھ جلا تھا وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھلا رہا تھا کہ اسے تکلف نہ ہو اس وقت اس کے دل میں جہان کے لیے ایک نرم گوشہ بنا تھا ۔۔۔مگر اب حنان کی باتوں نے وہ گوشی پھر سخت کر دیا تھا ۔۔۔
وہ سوچوں میں اتنا گم تھی کہ اسے پتا نہیں چلا کہ کوئی اس کے بلکل پاس آکر کھڑا ہوا تھا ۔۔
” اہممممم .۔۔۔۔۔۔۔” جان حنان کے جانے بعد چیئر سے اٹھا ۔۔ اور ایما کے پاس جا کر کھڑا ہوا ۔۔ لیکن جب اس نے ایما کو اسی طرح سوچوں میں گم دیکھا تو اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔
ایما نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔۔
کوئی مان سکتا ہے کہ اتنی خوبصورت چہرے پیچھے اتنا بڑا درندہ چھپا ہوا ہے ۔۔
ایما نے اسے دیکھتے ہوئی سوچا ۔۔۔
” ہیلو ۔۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ۔۔ آفس ٹائیمگ ہے ۔۔۔ تو یہاں موجودگی کو میں کہا کہوں ۔۔۔ ” جہان کا انداز بلکل سنجیدہ تھا ۔۔ نیلی آنکھیں بغور اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگوں کو دیکھ رہی تھیں ۔۔
“وہ میرے ساتھ آئی ہے ۔۔ اور لیئو دے کر آئی ہے۔۔۔۔ ” لیکن ایما کے کچھ بولنے سے پہلے ہی حنان وہاں آیا ۔۔۔ اور ایما اور اس کے دروان آکر کھڑا ہوگیا ۔۔
” اوکے ۔۔ ول سی ۔۔ کل ملتے ہیں ۔۔ مس ایما ۔۔ ” جہان اپنے سامنے کھڑے حنان کا کندھا تھپتھپاتا مسکرا کر پہلے حنان کو بولا پھر اسے کے پیچھے چھپی ایما کو ۔۔سمائیل پاس کر کے نکل گیا ۔۔
اس کی مسکراہٹ بہت پراسرار سی تھی ۔۔۔
لیکن پھر ایما نے اس سے دماغ جھکٹا اور حنان سے باتوں میں لگ گی تھوری دیر بعد کھانا آ گیا ۔۔۔ حنان پھر پتا نہیں کہاں چلا گیا تھا ۔۔۔
یکدم ریسٹورنٹ میں چلاتا میوزک بند ہوا ۔۔
“ایما ۔۔۔ ” اور مائک پر ایما کو اپنا نام سنائی دیا ۔۔۔
ایما نے چونک کر سٹیج کی طرف دیکھا ۔۔۔ جہان حنان کھڑا جگر کرتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
ہوٹل میں بیٹھے سب لوگ بھی سٹیج کی طرف متوجہ ہوگئے تھے ۔۔
” مجھے نہیں پتا ۔۔ کب اور کیسے ۔۔ لیکن ۔۔ میرا دل ۔۔ تمہارے نام پر دھڑکتا ہے ۔۔ ” اب وہ سٹیج سے اتر کر اس کی جانب بڑھ رہا تھا ۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سپاٹ لائٹ بھی چل رہی تھی ۔۔
ایما بےیقنی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” یہ آنکھیں اب ہر سیکنڈ ۔۔ ہر منٹ ۔۔۔ ہر پل ۔۔بس تمہں دیکھنا چاہتی ہیں ۔۔ ” اب وہ اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا ۔۔
سپاٹ لائٹ ان دنوں پر پڑ رہی تھی ۔۔
” سو ایما ۔۔۔” وہ گھنٹے کے بل اس کے سامنے بیٹھا اور جیب سے ڈبی نکال کر کھول کر اس کے سامنے کی ۔۔
” ویل یو میری می۔۔۔۔ ” وہ بڑی امید سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
پورے روسٹورنٹ میں خاموشی تھی ۔۔ سارے ۔۔ ایما کے ہاں کے منتظر تھے ۔۔۔
اور ایما ۔۔
وہ بلکل سٹل تھی ۔۔
اس کی نظریں ۔۔ سبز ہیرے کی انگوٹھی پر پڑی ۔۔ جس اندر ایک طرف اس کا نام اور دوسری طرف حنان کا نام تھا ۔۔
حنان بھی ڈھرکتے دل کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ایما نے ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
اس کی آنکھوں میں شاک تھا ۔۔
دکھ
بے یقینی ۔۔
اور نہ میں سر ہلا
وہی حنان کے ہاتھ ڈھیلے ہوے ۔۔۔
اب ایما الٹے پاؤں دروازے کی جناب چلنے لگی ۔۔
اس کا سر مسلسل نفی میں ہل رہا تھا ۔۔ آنکھوں میں آنسو ۔۔۔
اپنے دوست کے کھونے کہ ۔۔
اس نے کہاں سوچا تھا کہ ایسا ہوگا ۔۔
اسے پتا تھا کہ اب ان کی دوستی پہلے جیسی نہیں ہوسکتی ۔۔
پھر یکدم وہ مڑی اور بھاگتے ہوے وہاں سے چلی گی ۔۔
حنان ۔۔ ویران آنکھوں سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔
اس کی دھڑکن اسے یوں لگ رہا تھا ۔۔
بند ہو رہی ہے ۔۔۔
جس بات کا اسے ڈر تھا ۔۔ وہی ہوا ۔۔
ایما نے انکار کر دیا۔۔۔
اسے پتا تھا ایما کا۔۔ وہ اب اس سے دور رہے گی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
