Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode (Watching)
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
اپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلتے ہی سب بے چینی سے ڈاکٹر کے پاس آئے۔
“کیا ہوا ڈاکٹر صاحب ؟ اب میرے بیٹے کی حالت کیسی ہے؟۔ہمدان صاحب نے بے قراری سے پوچھا۔
“یہ آپکے بیٹے ہیں؟۔ڈاکٹر نے پوچھا۔”جی ڈاکٹر صاحب ، پر اب اسکی حالت کیسی ہے؟۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔ڈاکٹر خاموشی سے سب کو دیکھنے لگا۔اور سب کے دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگے۔اور کسی انہونی کا خدشہ ظاہر ہونے لگا۔
“ہم نے انکے سینے میں سے گولی نکال لی ہے، اور اپریشن بھی کامیاب رہا، بس کچھ دیر تک انھیں ہوش بھی آجائے گا، اب وہ خطرے سے باہر ہیں ، گھبرانے کی کوئی بات نہیں”۔ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے سب کو خوشخبری سنائی۔اور سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔اور سب اللّه کا شکر ادا کرنے لگے۔
“یار کیسے خطرناک طریقے سے بتایا ہے اس ڈاکٹر نے، دل بند ہوتے ہوتے بچا ہے”۔نادر نے تابش کے کان میں سرگوشی کی۔اور فاریہ جلدی سے شکرانے کے نفل ادا کرنے چلی گئی۔اور عدنان صاحب گھر پر سب کو یہ خوشخبری سنانے کیلئے فون کرنے لگے۔
“چلو بچوں ، اب تم لوگ بھی گھر جاؤ ، اور اپنا اپنا حلیہ درست کرکے آؤ”۔قیصر صاحب نے فیضان ، نادر اور تابش سے کہا۔تینوں گھر چلے گئے۔
“انکل !۔احمر نے قیصر صاحب کو پکارا۔
“جی بیٹا ؟۔قیصر صاحب نے پوچھا۔
“آپ لوگ بھی ہمیں معاف کردیں”۔احمر نے کہا۔
“بس بیٹا اب جو ہوا اسے جانے دو، تم سے غلطی ہوئی ، غلطی کا احساس ہوا ، غلطی کی معافی مانگی ، اسکا ازالہ بھی کرلیا بس کافی ہے ، ہماری طرف سے اپنا دل صاف رکھنا”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“بہت شکریہ ، آپ سب لوگ سچ میں بہت علٰی ظرف لوگ ہیں”۔احمر نے تشکر سے کہا۔
“چلو اب تم بھی جاؤ اور اپنا حلیہ وغیرہ درست کرکے آؤ، شاباش”۔قیصر صاحب نے احمر کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔اور احمر سر ہلاتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔پھر سجاد صاحب کے پاس بھی کسی کا فون آگیا اور وہ کام سے چلے گئے۔پھر تھوڑی دیر میں حیدر کو پرائیوٹ روم میں شفٹ کردیا۔اور اسے ہوش بھی آگیا۔قیصر صاحب ، ارسلان صاحب، ہمدان صاحب اور ارسلان صاحب فوراً حیدر سے ملنے کمرے میں گئے۔فاریہ نہیں گئی۔اسکی ہمت نہیں ہورہی تھی حیدر سے نظریں ملانے کی۔پھر تھوڑی دیر بعد عدنان صاحب باہر آئے۔
“فاریہ بیٹی!۔عدنان صاحب نے کہا۔
“جی انکل ؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“بیٹی اندر آجاؤ ، حیدر کو ہوش آگیا ہے ، پوچھ رہا ہے وہ تمہارا”۔عدنان صاحب نے کہا۔اور اسی لمحے سے فاریہ گھبرا رہی تھی۔
“جی چلیں انکل”۔فاریہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے روم میں داخل ہوئی۔فاریہ کی نظریں زمین پر تھیں۔اس نے حیدر کی جانب نہیں دیکھا تھا۔حیدر بیڈ پر لیٹا ہوا تھا ، اور اسکے ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔قیصر صاحب نے سب کو نظروں سے اشارہ کیا کہ باہر چلیں اور ان لوگوں کو کچھ دیر اکیلا چھوڑ دیں۔پھر سب کمرے سے باہر نکل گئے۔فاریہ آہستہ آہستہ چل کر جاکے حیدر کے بیڈ کے قریب رکھے سٹول پر بیٹھ گئی۔فاریہ کی نظریں ہنوز جھکی ہوئی ہی تھیں۔
“اب کیا میں اتنا برا لگ رہا ہوں کہ دیکھنا تک بھی گوارا نہیں ہے”۔حیدر نے کہا۔
“نہیں گوارا تو ہے پر ہمت نہیں ہے”۔فاریہ نے ہنوز اسی انداز میں کہا۔
“کیوں ہمت نہیں ہورہی ؟ پلکیں اٹھانے میں اتنی طاقت لگتی ہے کیا ؟۔حیدر نے کہا۔
“نہیں پر جو کچھ بھی میں تمہارے ساتھ کرتی آئی ہوں ، اسکے بعد تم سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں”۔فاریہ نے کہا۔
“اچھا ! پر میں نے سوچ لیا ہے کہ اب تمہیں یہ زحمت اور نہیں اٹھانی پڑے گی ، میں آج ہی گھر والوں کو رشتے سے انکار کر دوں گا ، اور بےفکر رہنا تمہارا نام نہیں لوں گا، پھر تمہیں مجھے دیکھنا نہیں پڑے گا”۔حیدر نے کہا۔
“نہیں حیدر ایسا مت کرنا”۔فاریہ نے جلدی سے حیدر کی جانب دیکھ کر کہا۔
“تو پھر کیسا کروں؟۔حیدر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“بس ہوسکے تو مجھے معاف کردو”۔فاریہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔حیدر نے اپنے ڈرپ لگے ہاتھ سے فاریہ کا جوڑا ہوا ہاتھ نیچے کردیا۔اور فاریہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔اور وہ حیدر کے سینے پر سر رکھ کر رونے لگی۔
“حیدر میں کتنی غلط تھی، میں تم پر الزام لگاتی رہی ، اور تم نے پھر بھی میرے اس رویے کا جواب محبت سے دیا، اور…..!
“بس کرو ، جو ہوگیا اسے جانے دو، تمہیں میری محبت اور بے گناہی کا یقین آگیا ہے میرے لئے یہی کافی ہے بس”۔حیدر نے فاریہ کا سر سہلاتے ہوئے کہا۔
“اور ہاں ایک بات اور بولوں؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ہاں بولو”۔فاریہ نے کہا۔
“دل تو نہیں چاہ رہا کہنے کا ، پر درد بھی برداشت نہیں ہورہا ہے، تم نے میرے ٹانکوں پر سر رکھا ہوا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“اوہ ! سوری ، مجھے خیال نہیں رہا”۔فاریہ نے یکدم سر اٹھاتے ہوئے کہا۔
“کوئی بات نہیں ، بس یہ زخم ٹھیک ہوجانے دو پھر رکھ لینا سر کوئی پرابلم نہیں ہوگی”۔حیدر نے اپنے ڈرپ لگے ہاتھ سے فاریہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔اور فاریہ جھینپ کر مسکرا دی۔
“پتھر دل گلاب نہیں ہوتے”
“کورے کاغذ کتاب نہیں ہوتے”
“جو ہوجائے یار سے کوئی غلطی”
“تو پیار میں یار سے حساب نہیں ہوتے”
****************
پھر کچھ دن بعد حیدر ہوسپٹل سے ڈسچارج ہوکر گھر آگیا۔اور خالد کو بھی کورٹ میں سارے ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔خالد اس وقت کٹہرے میں موجود تھا۔”علی ولا” سے تمام مرد حضرت موجود تھے۔احمر بھی ان کے ساتھ تھا۔اور خالد کی جانب سے اسکے دونوں بیٹے اور بیوی موجود تھے۔خالد کے خلاف رضا مالک صاحب کیس لڑ رہے تھے۔اور خالد کی جانب سے کوئی احسن فاروق نامی وکیل کیس لڑ رہا تھا۔کروائی شروع ہوئی۔اور خالد کے خلاف پہلے تو احمر نے گواہی دی۔اور شروع سے لے کر آخر تک سب بتادیا۔اور اپنی غلطی بھی قبول کرلی۔پھر کورٹ میں وہ ریکارڈنگ پیش کی گئی۔جو اس دن تابش چھپ کر کررہا تھا جب خالد نے اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔خالد کو امید نہیں تھی کہ وہ اتنا برا پھنسا ہے۔اس ریکارڈنگ کے بعد اب اور کسی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔اس لئے عدالت نے خالد کی ساری جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے کر اسے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔اور احمر کو بھی اتنا سب کچھ چھپانے کے جرم میں بھاری جرمانے کے ساتھ تین سال کی سزا سنائی تھی۔جو کے احمر نے خاموشی سے قبول کرلی تھی۔ہاں پر اس نے ناہید کا نام نہیں لیا تھا۔اور حیدر پر سے سارے الزامات ہٹا کر اسے بری کردیا گیا تھا۔خالد کے بیٹوں اور بیوی نے تو اس کی جانب دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔احمر کی والدہ کو بھی پولیس کی مدد سے خالد کی قید سے رہا کرلیا گیا تھا۔ہوسپٹل میں بھی اب لوگوں پر سے خوف کے بادل چھٹ چکے تھے۔اور سب کچھ سہی ہوگیا تھا۔
***************
“چار سال بعد”
“اوہ ہو ! بس کردیں میڈیم ، آپکی منگنی نہیں ہے”۔حیدر نے کمرے میں داخل ہوکر کہا۔
“میرے دیور کی تو ہے ناں!۔فاریہ نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جھمکے پہنتے ہوئے کہا۔فاریہ نے اپنے نکاح والی ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔اور حیدر نے بھی وہی نکاح والا کُرتا پاجامہ پہنا ہوا تھا۔
“ہاں ، پر اس سے پہلے وہ میرے بھائی ہیں، اور اس حساب سے میرا زیادہ حق بنتا ہے تیار ہونے کا”۔حیدر نے قریب آتے ہوئے کہا۔
“تو ہو جاؤ ، کس نے روکا ہے؟۔فاریہ نے بالوں پر برش کرتے ہوئے کہا۔
“میرا کیا ہے ! میں تو ہوجاؤں گا ، پر اگر پھر سے کسی کا دل آگیا تو ؟ اور وہی کہانی دوبارہ شروع ہوگئی تو ؟ پھر سے اگر کوئی فاریہ بدلہ لینے آگئی تو ؟ پھر تم کیا کروگی ؟۔حیدر نے فاریہ کے پیچھے کھڑے ہوکر شیشے میں نظر آتے اسکے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“تم مجھے جتانے کی کوشش کررہے ہو ؟ جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا؟۔فاریہ نے بھی شیشے میں دیکھ کر پوچھا۔
“ارے نہیں نہیں ، میں تو بس ایسے ہی مذاق کررہا تھا”۔حیدر نے فاریہ کو اپنی جانب موڑتے ہوئے کہا۔
“تو پھر تم نے دوبارہ یہ بات کیوں چھیڑی؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“ایسے ہی ، تمہیں تو پتہ ہے کہ میں پتہ نہیں کیا کیا الٹا سیدھا بولتا رہتا ہوں ، تم میری اس طرح کی باتوں پر سیریس نہیں ہوا کرو”۔حیدر نے فاریہ کو بازؤں سے پکڑ کر کہا۔
“مطلب کے تم آگے بھی اس طرح کی باتیں کرو گے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“ارے نہیں ، غلطی ہوگئی مجھ سے جو میں نے ایسا مذاق کرلیا ، ورنہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، آئندہ ایسی گستاخی نہیں کروں گا”۔حیدر نے کہا۔فاریہ چند سیکنڈ حیدر کو دیکھتی رہی۔پھر اسکے سینے سے لگ گئی۔
“حیدر تمہیں پتہ تو ہے ناں کہ پہلے ہی مجھے اپنے گزشتہ رویے کو یاد کرکے کتنی شرمندگی ہوتی ہے ، اور اس پر تم اس طرح کے مذاق شروع کردیتے ہو”۔فاریہ نے کہا۔
“کیوں ہوتی ہے ! تم نے جو کچھ بھی کیا انجانے میں اپنی بہن کی محبت میں آکر کیا ، اور وہ کہتے ہیں ناں کہ جو ہوتا ہے اچھے کیلئے ہوتا ہے ، تو یہ بھی اچھا ہی ہوا ، ورنہ اگر یہ سب نا ہوتا تو تم مجھے کیسے ملتی”۔حیدر نے اپنی تھوڑی فاریہ کے بالوں پر ٹکا کر فاریہ کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۔
“ہممم! اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر کہانی سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے، تو ہماری کہانی میں کیا سبق تھا؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“ہمممم! پہلا سبق تو ڈاکٹر خالد کی صورت میں تھا کہ وہ دولت کی حواس میں برباد ہوگیا، یعنی انسان کو دولت کے پیچھا اتنا پاگل نہیں ہونا چاہئے، دوسرا سبق احمر کی صورت میں تھا کہ اگر غلطی ہو بھی جائے تو اسے قبول کرکے اسکی معافی مانگ کر اسکا ازالہ کرلینا چاہئے، تیسرا سبق بہت معذرت کے ساتھ آپکی بہن کی صورت میں یہ تھا کہ اگر اپکا دل کسی پر آجائے پر اگلا اگر آپکو اس طرح پسند نہیں کرتا ہو ، تو اپنی خواہشوں کو لگام دے دینی چاہیے، کیونکہ حد سے زیادہ خواہشیں بھی زندگی کو مشکل کردیتی ہیں، چوتھا فیضان اور انعم کہ اگر آپکی نیت صاف ہو اور پیار سچا ہو تو قدرت خود ہمارے لئے راستہ بنادیتی ہے، اور پانچواں…..چھوڑو بس یہی کافی ہے”۔حیدر نے کہا۔
“پانچواں میں بتاتی ہوں، پانچواں سبق یہ کہ ہر بات کے دو پہلو ہوتے ہیں ، ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ، ہمیں ہمیشہ دونوں پہلؤں پر غور کرنا چاہئے ، صرف ایک رخ دیکھ کر سارے فیصلے نہیں کرنے چاہیے ، جیسے میں نے کیا تھا ، بنا یہ سوچے سمجھے کہ پتہ نہیں تم سچ میں قصوروار ہو بھی یا نہیں ، ہے ناں ؟ یہی تھا ناں پانچواں سبق؟۔فاریہ نے کہتے ہوئے آخر میں تائید چاہی۔
“ہاں، کافی سمجھ گئی ہو مجھے”۔حیدر نے کہا۔
“ظاہر ہے ، اب تین سال میں کم از کم اتنا تو اندازہ ہوگیا ہے مجھے”۔فاریہ نے کہا۔
“ٹک ٹک ٹک”۔کہ تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔دونوں الگ ہوگئے۔حیدر دروازے کی جانب چلا گیا اور فاریہ اپنے بال ٹھیک کرنے لگی۔
“بھئی بہت معذرت ، پر آپکی بیٹی نے بہت بری طرح میرے بیٹے پر تشدت کیا ہے ، اور اس سے قبل کہ یہ ہاتھا پائی زیادہ آگے بڑھتی میں اسے یہاں لے آیا ، اب لیجئے سمبھالیں اپنی دختر کو”۔فیضان نے ایک سالہ بچی کو حیدر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“کیوں لڑائی ہوگئی اب دونوں کی؟۔حیدر نے بچی کو گود میں لیتے ہوئے پوچھا۔
“پتہ نہیں پر جب میں جائے واردات پر پہنچا تو آپکی خرد نے میرے عیسیٰ کے بالوں کو اپنی ننھی سی مٹھی میں جکڑا ہوا تھا”۔فیضان نے بتایا۔
“چل اب بس کر ، مجھے پتہ ہے کیا ہوا ہوگا ، تمہارے بیٹے نے میری بیٹی پر لائن ماری ہوگی، اور بدلے میں میری بیٹی نے تمہارے بیٹے کی دھلائی کردی ہوگی”۔حیدر نے کہا۔
“جی نہیں ، میرا بیٹا بالکل مجھ پر گیا ہے ، بہت شریف ہے وہ ، بالکل میری طرح”۔فیضان نے کہا۔
“اوہ ہو شریف ، رہنے دو بیٹا ، تمہاری شرافت کے سارے قصے پتہ ہیں مجھے ، شریف لوگ چھپ چھپ کر ونیلا آئسکریم نہیں کھایا کرتے”۔حیدر نے کہا۔
“جس کے ساتھ تب کھاتا تھا الحمدللہ آج بھی اسی کے ساتھ کھاتا ہوں ان شاءاللّه آئندہ بھی اسی کے ساتھ ہی کھاؤں گا ، اس شرافت ہی کہتے ہیں”۔فیضان نے کہا۔اتنے میں فاریہ بھی باہر آگئی۔
“چلیں نیچے”۔فاریہ نے پوچھا۔
“ہاں چلو”۔حیدر نے کہا۔اور تینوں نیچے آگئے۔
**********
فاریہ ، حیدر ، انعم اور فیضان کی رخصتی کو تین سال ہوچکے تھے۔حیدر کو گولی لگنے والے واقعے کے ایک سال بعد ہی شہلا کی طبیعت ٹھیک ہوتے ہی ان چاروں کی رخصتی کردی گئی تھی۔فیضان اور انعم کا ایک دو سالہ بیٹا تھا۔جس کا نام عیسیٰ تھا۔اور فاریہ اور حیدر کی ایک سال کی ایک بیٹی تھی۔جس کا نام حیدر نے خرد رکھا تھا۔احمر بھی اپنی سزا پوری کرچکا تھا۔پر احمر کی والدہ کا دو سال پہلے انتقال ہوگیا تھا۔اور اب انکے گھر بھی کوئی خوشخبری آنے والی تھی۔
آج تابش کی عائشہ سے۔ اور نادر کی رمشا سے منگنی تھی۔تابش اور عائشہ تو پہلے ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔اور یہ بات گھر والوں کو حیدر نے بتائی تھی۔اور نادر اور رمشا کا رشتہ گھر والوں نے طے کیا تھا۔جسے دونوں نے خوشی خوشی قبول کرلیا تھا۔ابھی فلحال چاروں کی منگنی ہورہی تھی۔شادی کی تاریخ ایک سال بعد کی رکھی گئی تھی۔تا کہ تب تک دونوں اچھی طرح خودمختار ہوجائیں۔نادر تو باقی سب کے ساتھ اپنا آفس ہی سمبھلتا تھا۔پر تابش نے “بش سٹوڈیو” کے نام سے ایک فوٹو گرافی سٹوڈیو کھول لیا تھا۔اور اپنا بچپن کا فوٹوگرافر بننے کا خواب پورا کرلیا تھا۔
********
“السلام و علیکم”۔ناہید اور احمر نے یک زبان سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔عدنان صاحب جاوید اور دانش نے بھی یک زبان جواب دیا۔تینوں گیٹ پر مہمانوں کو ویلکم کرنے کیلئے کھڑے ہوئے تھے۔
“بہت مبارک ہو انکل آپکو آپکے بیٹے کی منگنی”۔احمر نے کہا۔
“شکریہ ، آؤ اندر آؤ تم لوگ”۔عدنان صاحب نے کہا۔دونوں اندر آکر باقی سب سے ملنے لگے۔پھر باقی مہمانوں کے آنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
“آگئے سارے مہمان عدنان؟۔قیصر صاحب نے آکر پوچھا۔
“جی ابا ،تقریباً سب آہی گئے ہیں”۔عدنان نے بتایا۔
“ٹھیک ہے تو پھر منگنی کی رسم شروع کرتے ہیں”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“جی ، میں ابھی کسی کو بولتا ہوں ، جاکر چاروں کو لے کر آئے”۔عدنان صاحب نے کہا۔اور اور آگے بڑھ گئے۔حیدر اور فیضان کو نادر اور تابش کو لانے کیلئے بھیجا۔اور فاریہ ، انعم اور فائزہ کو رمشا اور عائشہ کو لانے کیلئے بھیجا۔سب لوگ بھی رسم کیلئے ایک جگہ جمع ہوگئے۔تھوڑی دیر میں رمشا اور عائشہ کو نیچے لایا گیا۔رمشا نے آسمانی رنگ کی جارجٹ کی فراک پہنی ہوئی تھی۔جو کے تقریباً زمین کو چھو رہی تھی۔اور اسی رنگ کا چوڑی دار پاجامہ اور دوپٹہ پہنا ہوا تھا۔فراک کی گلے ، دامن ، آستین اور دوپٹے کے کناروں پر گولڈن رنگ کی چمکیلی سی لیس لگی ہوئی تھی۔سارے بالوں کی سٹائلیش سی چوٹیا باندھ کر بال آگے کرکے سیدھے کاندھے پر ڈالے ہوئے تھے۔اور سر پر نفاست سے دوپٹہ لیا ہوا تھا۔اور سوٹ کی میچنگ کی ہی جیولری پہنی ہوئی تھی۔عائشہ کی بھی ساری چیزیں ایسی ہی تھیں۔بس فراک کا رنگ گلابی تھا۔
“ماشاءاللّه ، کتنی پیاری لگ رہی ہیں ہماری بیٹیاں”۔قیصر صاحب نے دونوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“ارے وہ دونوں کہاں رہ گئے؟۔رفعت نے پوچھا۔
“السلام و علیکم خواتین و حضرت، ذرا دل تھام کر بیٹھیں، کیونکہ اب آپ کے سامنے تشریف لارہے ہیں، دو کارٹون”۔حیدر نے کہا۔فیضان اور حیدر ایک جانب ایک دوسرے سے چپک کر کھڑے ہوئے تھے۔نادر اور تابش دونوں کے پیچھے تھے۔
“یہ کیا ہورہا ہے! اور وہ دونوں کہاں ہیں”۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“یہ رہے، ٹن ٹیرین”۔حیدر اور فیضان نے یک زبان کہا اور دونوں ایک جانب ہوگئے۔اور پیچھے سے نادر اور تابش مسکراتے ہوئے آگے آئے۔تابش نے آف وائٹ کلر کا کُرتا پاجامہ پہنا ہوا تھا۔جس کے گلے اور آستینوں پر گولڈن موتی لگے ہوئے تھے۔اور نادر نے گولڈن کلر کا کُرتا اور پاجامہ پہنا ہوا تھا۔جس کے گلے اور آستینوں میں سفید رنگ کے موتی لگے ہوئے تھے۔اور دونوں ہی بہت اچھے لگ رہے تھے۔
“ماشاءاللّه ، کتنے پیارے لگ رہے ہیں میرے بچے”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“چشمہ کہاں ہے دادی کا؟۔حیدر نے شرارت سے کہا۔
“چلو اب جلدی سے رسم ادا کردو”۔ارسلان صاحب نے کہا۔اور پھر چاروں نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائی۔اور اس کے بعد تصویروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اس بار تصویریں تابش نہیں کھینچ رہا تھا بلکہ اسکے “بش سٹوڈیو” کے فوٹوگرافرز کھینچ رہے تھے۔سب لوگ ان سب چیزوں میں ہی لگے ہوئے تھے کہ تب ہی اچانک ناہید کے پیٹ میں درد اٹھ گیا۔پھر جلدی سے احمر اسے ہوسپٹل لے کر بھاگا۔فاریہ ، مومنہ ، حیدر اور فرقان بھی دونوں کے ساتھ ہوسپٹل آئے۔
********
ناہید اندر روم میں تھی۔اور احمر بے چینی سے باہر ٹہل رہا تھا۔فاریہ اور مومنہ بھی اندر ناہید کے پاس تھیں۔تھوڑی دیر میں روم کا دروازہ کھلا اور فاریہ باہر آئی۔
“کیا ہوا ؟ اور ناہید کیسی ہے؟۔احمر نے بے چینی سے پوچھا۔فاریہ خاموشی سے احمر کو دیکھتی رہی۔
“کیا ہوا فاریہ ؟ کچھ تو بولو”۔حیدر نے کہا۔
“ناہید تو ٹھیک ہیں، اور…..!۔فاریہ نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔
“اور کیا ؟۔احمر نے تشویش سے پوچھا۔
“بیٹا ہوا ہے بہت ہی پیارا اور ماشاءاللّه بالکل صحت مند”۔فاریہ نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
“سچی ؟۔احمر نے بے یقینی سے پوچھا۔
“مچی، اور ابھی تھوڑی دیر میں آپ ان دونوں سے مل لیجئے گا “۔فاریہ نے کہا۔اور واپس اندر چلی گئی۔اور احمر خوشی کے مارے حیدر اور فرقان کے گلے لگ گیا۔پھر تھوڑی دیر میں ناہید کو پرائیویٹ روم میں شفٹ کردیا گیا۔تو احمر اس سے ملنے روم میں داخل ہوا۔ناہید بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔اسکے دائیں ہاتھ میں ڈرپ لگی ہوئی تھی۔اور بائیں بازو میں آسمانی کمبل میں لپٹا ایک ننھا سا وجود سو رہا تھا۔احمر سٹول کھینچ کر ناہید کی دائیں جانب بیٹھ گیا۔
“کتنا انتظار کیا تھا ہم نے اس دن کیلئے”۔ناہید نے خوشی سے کہا۔
“ہممم! اور یہ انتظار میری وجہ سے کرنا پڑا تھا ہمیں”۔احمر نے کہا۔
“پلیز احمر ، اب پھر سے تم گزری باتیں مت دہراؤ، جو ہوگیا اب بھول جاؤ اسے”۔ناہید نے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے ، اچھا میں گود میں لوں اسے؟۔احمر نے پوچھا۔
“کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ بھلا اپنی ہی اولاد کو گود میں لینے کیلئے کوئی باپ اجازت مانگتا ہے؟۔ناہید نے کہا۔احمر نے بچے کو گود میں لے لیا۔اور اسکے روئی جیسے گال چومنے لگا۔احمر کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
“ٹک ٹک ٹک”۔دروازے پر دستک ہوئی۔
“آجائیں”۔ناہید نے کہا۔
“اگر آپ لوگ برا نا مانے تو کچھ اور لوگ بھی آپکے جگر کے ٹکڑے کو دیکھنا چاہتے ہیں، اجازت ہے؟۔فاریہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں ہاں کیوں نہیں”۔ناہید نے کہا۔پھر حیدر ، فرقان اور مومنہ بھی اندر آگئے۔
“اوہ ہو! یہاں تو باپ بیٹے کا رومانس چل رہا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“ویسے آپ لوگوں نے کیا سوچا ہے ؟ کیا نام رکھیں گے اسکا؟۔حیدر نے پوچھا۔
“یہ بہت انتظار اور منتوں مرادوں کے بعد ہوا ہے ، اس لئے ہم نے اسکا نام “مراد” سوچا ہے”۔ناہید نے بتایا۔
“ہمممم ! اچھا نام ہے”۔سب نے تعریف کی۔
“تو آخر کار آپکی دلی مراد بر آئی”۔حیدر نے کہا۔اور سب مسکرادیے۔
ختم شد
**************THE END******************
