Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 (Watching)Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14
فیضان کو لگ رہا تھا کہ اس کی دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی۔پھر اچانک سے فیضان کو ایک بات یاد آئی۔
“کل کرے سو آج ، آج کرے سو ابھی”۔جو کہ حیدر نے اس سے کہا تھا۔فیضان ایک جھٹکے سے اٹھا اور سیدھا نیچے آیا۔
“ٹک ٹک ٹک”۔فیضان نے انعم کے دروازے پر دستک دی۔انعم نے دروازہ کھولا تو فیضان کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی فیضان اس کو دھکیلتے ہوئے کمرے کے اندر لے آیا۔
“یہ…یہ تم کیا کررہے ہو فیضان ؟۔انعم نے فیضان کے اس طرح کمرے میں داخل ہونے پر کہا۔
“آج فیصلہ ہو کر ہی رہے گا”۔فیضان نے کہا۔
“کس بات کا؟۔انعم نے پوچھا۔
“کہ تم چاہتی کیا ہو ؟۔فیضان نے کہا۔
“میں کچھ نہیں چاہتی”۔انعم نے کہا۔
“مجھے بھی نہیں !۔فیضان نے انعم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔انعم نے نظریں چرالیں۔
“جواب دو انعم کیا تم مجھے نہیں چاہتی!۔فیضان نے انعم کو بازؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔
“اگر یہی سوال میں تم سے کروں تو ! تم بتاؤ کیا تم چاہتے ہو ! اگر سچ میں چاہتے تو آج میں اس گھر میں تمہاری بیوی کی حیثیت سے رہ رہی ہوتی ، ایک نرس کی حیثیت سے نہیں”۔انعم نے فیضان کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
“تمہیں مجھ سے یہی شکایات ہے ناں کہ میں بزدل ہوں ! سب کے سامنے ہمارے رشتے کا اقرار کرتے ہوئے ڈرتا ہوں!۔فیضان نے دوبارہ انعم کو بازؤں سے پکڑ کر پوچھا۔
“ہاں “۔انعم نے کہا۔
“تو ٹھیک ہے آج تمہاری یہ شکایات بھی دور کردیتا ہوں، چلو “۔فیضان نے انعم کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔اور اسے تقریباً کھینچتے ہوئے شہلا کے کمرے کی جانب لے جانے لگا۔
“چھوڑو مجھے فیضان”۔انعم نے مزاہمت کی۔پر فیضان نے اسکی بات سنی ان سنی کردی۔فیضان کو انعم کو اس طرح سے لے جاتے ہوئے کمرے میں جاتی عصمت اور رفعت نے دیکھ لیا۔اور رفعت کو کچھ گڑبڑ لگی۔رفعت نے فوراً عصمت کو بھیجا کہ جلدی سب کو بلا کر لائے۔اور خود فیضان کے پیچھے آئیں۔فیضان شہلا کے کمرے میں داخل ہوا۔شہلا بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔اور ارسلان صاحب انکے برابر میں بیٹھے ہوئے تھے۔کہ یوں اچانک فیضان کے کمرے میں داخل ہونے پر حیران ہوگئے۔
“کیا ہوا فیضان ! سب خیریت تو ہے! ۔ارسلان صاحب نے تشویش سے پوچھا۔
“اور یہ تم نے اس کا ہاتھ کیوں پکڑا ہوا ہے؟۔شہلا نے پوچھا
“مجھے آپ لوگوں کو کچھ بتانا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“کیا بتانا ہے بولو”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“امی آپ چاہتی تھیں ناں کہ انعم یہاں رک جائے!۔فیضان نے پوچھا۔
“ہاں چاہتی تھی تو؟۔شہلا نے کہا۔
“تو اگر آپکو یہ پتہ چل جائے کہ انعم کون ہے تب بھی آپ یہی چاہیں گی؟۔فیضان نے پوچھا۔اتنے میں باقی گھر والے بھی حیران حیران سے یہاں جمع ہوگئے۔اور ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
“فیضان یہ کیا حرکت ہے ٹھیک طرح بتاؤ آخر بات کیا ہے؟۔ارسلان صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“آپ لوگوں کو یاد تو ہوگا ناں ایک آج سے قریب ایک سال پہلے میں نے آپ لوگوں سے اپنی ایک خواہش کا اظہار کیا تھا!۔فیضان نے پوچھا۔
“کون سی خواہش ! یہ سب کیا ہے فیضان ! یہ کون سا وقت ہے ایسی الٹی سیدھی حرکتیں کرنے کا؟۔ارسلان صاحب نے برہمی سے کہا۔
“بات یہ ہے کہ یہ انعم اور کوئی نہیں بلکہ وہی انعم کیانی ہے جسے آپ نے اپنی بہو بنانے سے انکار کر دیا تھا”۔فیضان نے دھماکہ کیا۔اور سب کے سب حیران ہوگئے۔اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“اور آپ چاہتی تھیں ناں کہ یہاں رک جائے! تو یہ یہاں ہمیشہ کیلئے رہ سکتی ہے ، میری بیوی بن کر ، بولیں منظور ہے آپکو!۔فیضان نے کہا۔سب کے سب فیضان کی اس حرکت پر حیران تھے کہ یہ آج اچانک اسے کیا ہوگیا ہے!۔
“یار یہ سب کیا ہورہا ہے!۔نادر نے تابش کے کان میں کہا۔
“مجھے کیا پتہ ! میں تو خود ابھی سب کے ساتھ آیا ہیں”۔تابش نے کہا۔
“امی میں آپ سے بات کررہا ہوں ، جواب دیں منظور ہے کیا آپکو یہ لڑکی اپنی بہو کے روپ میں!۔ فیضان نے شہلا کی جانب سے کوئی جواب نہ پاکر کہا۔
“ہاں منظور ہے”۔شہلا نے کہا۔اور فیضان اور انعم کے ساتھ ساتھ باقی گھر والے بھی بے ہوش ہونے کے قریب تھے کہ آخر یہ آج ہو کیا رہا ہے!۔
“کیا ہوا ! آپ سب لوگ اس لئے ہی حیران ہورہے ہیں ناں کہ میں جو کل تک اس رشتے کے خلاف تھی آج راضی کیسی ہوگئی!۔شہلا نے سب کو یوں حیران دیکھ کر کہا۔
“ہاں بھابھی ، اچانک سے یہ اتنا بدلاؤ ؟۔رفعت نے پوچھا۔
“جب سے میں نے فیضان کو انعم کیلئے انکار کیا تھا، تب سے پتہ نہیں کیوں مجھے اپنے اندر ایک بے سکونی سی محسوس ہوتی تھی ،کہیں نا کہیں مجھے یہ احساس ستا رہا تھا کہ میں نے غلط کیا ہے، پر میں اپنی آنا کے آگے اس بات کو اہمیت نہیں دیتی تھی ،میں نے فیضان کیلئے اتنی لڑکیاں دیکھیں پر ان میں سے کسی پر بھی پتہ نہیں کیوں میرا دل مطمئن نہیں ہوا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے فیضان کو دیکھ دیکھ کر اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا ،لیکن وہی بات کہ ہر بار میری ندامت پر میری آنا غالب آجاتی تھی ،اور میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتی تھی، پر پھر قدرت نے مجھے میرے غرور و تکبر کی سزا دے دی کہ جس لڑکی کی میں شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتی تھی، قدرت مجھے اسی کے سہارے پر لے آئی ،جب میں انعم سے ملی تھی تو مجھے یہ میری اسی آئیڈیل کی طرح لگی تھی جو میں نے اپنی بہو کیلئے سوچا ہوا تھا، سیدھی سادی ، اپنے کام سے کام رکھنے والی، میری خدمات کرنے والی، پر پھر میں نے ہی خود کو ڈپٹ دیا کے بھول گئی تم خود ہی تو اس طرح کی لڑکی کو ٹھکرا چکی ہو حالانکہ وہ تو تمہارے بیٹے کی پسند بھی تھی ،پھر جب آہستہ آہستہ انعم میرے ساتھ رہنے لگی تو مجھے یہ بہت اچھی لگنے لگی ،پر میری اس متعلق کسی سے بھی بات کرنے کی ہمت نا ہوئی ،اور پھر اب خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میرے دل کی بات میرے بیٹے کی خواہش ہی نکلی، اور آج مجھے یقین آگیا ہے کہ اللّه پاک کی مرضی کے آگے کسی کا زور نہیں چلتا ،ان دونوں کے ارادے سچے تھے ، نیت صاف تھی اس لئے اللّه پاک نے ان کا ساتھ دیا ، اور میں جو کل تک ان کی سب سے بڑی مخالف تھی،آج ان کی حمایتی بن گئی”۔شہلا نے بتایا۔سب خاموشی سے شہلا کو سن رہے تھے۔
“بیٹا سچ میں ، میں اپنی غلطی پر بہت شرمندہ ہوں، اتنی کہ میری تو ہمت تک نہیں ہورہی تھی کہ تم سے معافی مانگ لوں، پر قدرت نے آج خود ہی یہ موقع دے دیا، پلیز ہو سکے تو مجھے معاف کردینا میں نے تم دونوں کو بہت ستایا ہے”۔شہلا نے روتے ہوئے آخر میں ہاتھ جوڑ کر کہا۔
“نہیں امی ایسا مت کریں”۔فیضان نے جلدی سے جاکر شہلا کے جوڑے ہوئے ہاتھ کھول کر کہا۔
“آپ ماں ہیں میری ، ماں باپ کے ہاتھ اولاد کے آگے جوڑے ہوئے نہیں بلکہ ان کے سر پر اچھے لگتے ہیں”۔فیضان نے شہلا کے ہاتھ پکڑے ہوئے کہا۔
“اور تم ! کیا تم نے مجھے معاف نہیں کیا؟۔شہلا نے انعم کی جانب دیکھ کر پوچھا۔
“ہم انسان کون ہوتے ہیں کسی کو معاف کرنے والے ! معاف کرنے والی ذات تو صرف اللّه پاک کی ہے ، اور مجھے تو آپ سے کوئی شکایات تھی ہی نہیں، تو پھر معافی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا”۔انعم نے بھی شہلا کے قریب آتے ہوئے فیضان کے پاس کھڑے ہوکر کہا۔
“پر یہ شادی نہیں ہوسکتی”۔بلقیس بیگم نے آگے آتے ہوئے کہا۔
“لو پھر ایک نیا ڈرامہ شروع”۔ نادر نے تابش کے کان میں کہا۔سب حیران ہوگئے۔
“پر کیوں اماں ؟۔شہلا نے پوچھا۔
“کیونکہ کتنا عجیب لگے گا کہ بیٹے کی شادی ہے اور ماں بستر پر بیمار پڑی ہوئی ہے، پہلے جلدی سے ٹھیک ہو پھر کریں گے ہم دھوم دھام سے اپنے بچے کی شادی”۔بلقیس بیگم نے کہا۔اور فیضان اور انعم کا رکا ہوا سانس بحال ہوا۔اور باقی سب کے چہروں پر بھی مسکراہٹ گئی۔
“افو دادی آپ نے بھی ڈرا دیا تھا، ابھی اگر صدمے سے فیضان کا دل بند ہوجاتا تو!۔حیدر نے بھی آگے آتے ہوئے شرارت سے کہا۔
“پر میری ایک شرط ہے،اگر وہ پوری نا ہوئی تو میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گا”۔ہمدان صاحب نے بھی آگے آتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔سب حیران ہوکر ہمدان صاحب کو دیکھنے لگے۔
“کیسی شرط؟۔بلقیس بیگم نے پوچھا۔
“انعم تمہارے گھر میں کوئی بڑا ہے جو تمہاری طرف سے شادی میں شامل ہوکر بڑوں کی زمیداری انجام دے سکے؟۔ہمدان صاحب نے کافی سنجیدگی سے انعم کے پاس آکر پوچھا۔
“جی نہیں ، میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے”۔انعم نے سر جھکا کر کہا۔
“آج تو تم نے یہ بات بول دی پر آئندہ ایسی کوئی بات تمہارے منہ سے نہیں نکالنی چاہیے کہ تمہارا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے”۔ہمدان صاحب نے انعم کو ڈپٹا۔
“آج سے تم میری بیٹی ہو، میری بڑی خواہش تھی کہ میری بھی ایک پیاری سی شہزادی ہو پر قدرت نے مجھے یہ ایک عدد زکوٹا جن دے دیا، پر اب ایسا لگ رہا ہے کہ میری یہ خواہش پوری ہوگئی ہے”۔ہمدان صاحب نے انعم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔اور سب ہمدان صاحب کی اس بات پر مسکرا دیے۔
“تو یہ بات تم سیدھا طرح بھی تو کہہ سکتے تھے نا!۔بلقیس بیگم نے ہمدان صاحب سے کہا۔
“کیوں مذاق صرف آپ لوگ ہی کرسکتے ہیں”۔ہمدان صاحب نے مسکرا کر کہا۔
“آپ لوگوں کے اس مذاق مذاق میں ہی فیضان کو ہارٹ اٹیک آجانا ہے”۔حیدر نے شرارت سے کہا۔
“اور یہ ہماری بیٹی ہے اس لئے آپ لوگوں کو پہلے ہم سے رشتے کی بات کرنی ہوگی ، پھر ہم سوچ سمجھ کر اپنی بیٹی کو رخصت کریں گے”۔فیروزہ نے بھی انعم کے پاس آتے ہوئے کہا۔اور انعم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
“ارے پاگل رو کیوں رہی ہو!۔فیروزہ نے کہا۔
“مجھے ہمیشہ ہی قدرت سے یہ شکایات تھی کہ اس نے مجھے کوئی رشتہ نہیں دیا ، پر آج میری ہر شکایات دور ہوگئی ہے”۔انعم نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔اور فیروزہ نے اسے گلے لگا لیا۔اور خدا کی مصلحت پر سب مسکرا دیے۔
**********
“یار تم تو بڑے چھپے رستم نکلے، کہاں تو کچھ بول ہی نہیں رہے تھے اور کہاں آج یہ سب”۔حیدر نے فیضان کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔سب لوگ اب واپس اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔اور حیدر یہاں فیضان کے پاس آگیا تھا۔فیضان بیڈ پر بیٹھا ہوا فون چلا رہا تھا۔
“تم ہی نے تو کہا تھا نا کہ کل کرے سو آج، آج کرے سو ابھی، تو بس میں نے تمہاری بات پر عمل کرلیا”۔فیضان نے فون ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا۔
“دیکھا کتنا فائدہ ہوا ناں میری بات پر عمل کرنے سے”۔حیدر نے بھی بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ہمم! اور سچی بتاؤں تو مجھے تو ابھی تک یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہوا ہے سب سچ ہے، مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں ،جو کہ ابھی کوئی مجھے آکر اٹھائے گا اور یہ خواب ٹوٹ جائے گا”۔فیضان نے کہا۔
“اوہ! یار کیا کر رہا ہے؟۔فیضان نے ایکدم بلبلا کر کہا۔کیونکہ حیدر نے اسے بہت زور سے چٹکی کاٹی تھی۔
“بتا رہا ہوں تمہیں کہ تم خواب نہیں دیکھ رہے ہو ، یہ سب حقیقت ہے”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا پتہ ہے آج میں نے بھی فاریہ کو بول دیا ہے”۔حیدر نے بتایا۔
“کیا بول دیا ہے؟۔فیضان نے اپنا ہاتھ سہلاتے ہوئے پوچھا۔
“یہی کہ میں اس سے پیار کرتا ہوں”۔حیدر نے بتایا۔
“تو پھر اس نے کیا کہا؟۔فیضان نے اشتیاق سے پوچھا۔
“ابھی تو کچھ نہیں کہا ، وقت مانگا ہے سوچنے کیلئے اس نے”۔حیدر نے بتایا۔
“تو پھر تمہیں کیا لگتا ہے کیا ہوگا اس کا جواب!۔فیضان نے پوچھا۔
“پتہ نہیں یار”۔حیدر نے کہا۔
“چل فکر نا کر ، اگر تمہاری نیت صاف ہے نا تو اللّه پاک ضرور تمہاری مراد پوری کرے گا”۔فیضان نے کہا۔
“ہاں جیسے تمہاری ہوئی ہے”۔حیدر نے کہا۔فیضان مسکرادیا۔
“تمہیں یاد ہے فیضان! ہم نے انعم کو ایک بار گھر والوں سے ملوانے کیلئے دادا دادی کی ویڈنگ انیورسیری کی پارٹی پلان کی تھی”۔حیدر نے پوچھا۔
“ہاں یاد ہے ، تو !۔ فیضان نے کہا۔
“تو اگر اس دن پارٹی میں انعم آجاتی اور گھر والوں سے مل لیتی تو ہوسکتا تھا کہ شاید شہلا تائی پھر انعم کو اپنی کیئر ٹیکر کے طور پر یہاں نہیں رکھتی،اور نا انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا اور نا ہی تم دونوں دوبارہ مل پاتے”۔حیدر نے بتایا۔
“ہممم! ٹھیک کہہ رہے ہو تم ، اللّه پاک جو کرتا ہے ہمارے اچھے کیلئے ہی کرتا ہے”۔فیضان نے تائید کی۔پھر تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد حیدر اپنے کمرے میں آگیا۔اور بہت ہی بے چینی کے ساتھ صبح کا انتظار کرنے لگا۔کہ پتہ نہیں کل کا سورج اس کی زندگی میں ہمیشہ کیلئے روشنی کردے گا یا پھر جلا کر راکھ دے گا؟۔
*******
صبح ہوسپٹل آنے کے بعد حیدر نے سب سے پہلے فاریہ کے بارے میں معلوم کیا۔پر یہ جان کر اسے بہت مایوسی ہوئی کہ فاریہ تو آج ہوسپٹل آئی ہی نہیں ہے۔وجہ کسی کو پتہ نہیں تھی۔ پورا دن حیدر نے کافی بے دلی سے گزارا۔پھر قریب چار بجے اس کے پاس فاریہ کی کال آئی۔فاریہ نے اسے پانچ بجے ایک کافی شاپ پر ملنے بلایا تھا۔
*********
حیدر اس وقت کافی شاپ میں موجود تھا۔اور بہت بے صبری سے فاریہ کا انتظار کررہا تھا۔پر وہ ابھی تک آئی نہیں تھی۔حیدر بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا۔اور اس دوران پھر حیدر کو ایسا محسوس جیسے کہ وہ کسی کی نظروں کے حصار میں ہے۔حیدر نے پھر آس پاس کا جائزہ لیا۔پر ایسی کوئی بات نہیں دیکھی۔پھر تھوڑی دیر میں فاریہ بھی آگئی۔اور اسے دیکھ کر اچانک ہی حیدر کے دل کی دھڑکنے بے ترتیب ہوگئیں۔کہ پتہ نہیں فاریہ کا جواب کیا ہوگا؟۔
“ایم سوری! شاید میں لیٹ ہوگئی”۔فاریہ نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“نہیں تم تو ٹائم پر ہی آئی ہو، میں ہی جلدی آگیا شاید”۔حیدر نے کہا۔پھر ویٹر انکا آرڈر لینے آگیا۔
“تم ہوسپٹل نہیں آئی آج خیریت؟۔حیدر نے آرڈر دینے کے بعد پوچھا۔
“ہاں وہ بس مجھے لگا کہ آج شاید میں اپنی زمیداری اتنے اچھے سے نا پوری کر پاؤں ،کیونکہ میرا ذہن بہت الجھا ہوا تھا اس لئے”۔فاریہ نے بتایا۔
“خیریت کس بات پر الجھا ہوا ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“وہی کل والی بات پر، کل رات کافی دیر تک اس بارے میں سوچتی رہی”۔فاریہ نے بتایا۔
“تو پھر کسی نتیجے پر پہنچی تم؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ہمم! ہاں”۔فاریہ نے اثبات میں سے ہلا کر کہا۔
“کیا سوچا؟۔حیدر نے پوچھا۔اتنے میں ویٹر ان کا آرڈر لے کر آگیا۔ویٹر آرڈر دے کر واپس گیا تو پھر حیدر نے پوچھا۔
“ہاں تو پھر کیا سوچا تم نے؟۔حیدر نے پوچھا۔حیدر کا دل اس وقت اتنے زور زور سے دھڑک رہا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا ابھی پسلیاں توڑ باہر آجائے گا۔
“آپ اپنے گھر والوں کو میرے گھر بھیج دیں”۔فاریہ نے نظریں کافی کے مگ پر مرکوز کرتے ہوئے کہا۔
“مطلب کہ تمہیں مجھ سے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تمہیں منظور ہے یہ رشتہ!۔حیدر نے دل کی تسلی کیلئے دوبارہ پوچھا۔
“جی”۔فاریہ نے اسی انداز میں کہا۔پر پتہ نہیں کیوں حیدر کو فاریہ کے انداز میں ایسی کوئی بات محسوس نہیں ہوئی جیسی کے ہونی چاہئے تھی۔
“فاریہ ! دیکھو سچی بتاؤ کہ تم یہ سب دل سے کہہ رہی ہو نا !۔حیدر نے خدشہ ظاہر کیا۔
“جی ! پر آپ ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں!۔فاریہ نے کہا۔اور کافی کا سپ لینے لگی۔
“ایسے ہی مجھے لگا کہ شاید تم خوشی سے ہاں نہیں کہہ رہی ہو”۔حیدر نے کہا۔اور کافی کا سپ لینے لگا۔
“اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو میں آپکو صاف صاف انکار کردیتی ،مجھے بھلا زبردستی ہاں کرنے کی کیا ضرورت تھی”۔فاریہ نے کافی کا سپ لے کر مسکراتے ہوئے کہا۔
“ہممم! ٹھیک کہہ رہی ہو، میں آج ہی ممی سے بات کرکے کل انھیں تمہارے گھر بھیجتا ہوں”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا ایک بات پوچھوں؟۔حیدر نے کافی کا سپ لے کر پوچھا۔
“جی پوچھیں”۔فاریہ نے کہا اور کافی کا سپ لینے لگی۔
“کیا….کیا..تم بھی مجھے لائک کرتی ہو؟ فیس بک والا لائک نہیں لو والا لائک”۔حیدر نے جھجھکتے ہوئے پوچھا اور آخر میں جلدی سے اپنی بات کی وضاحت بھی کی۔فاریہ کو حیدر کے پوچھنے کے انداز پر ہنسی آگئی۔
“اگر سچی کہوں تو ابھی تک تو نہیں کرتی ، بلکہ میری زندگی میں آج سے پہلے ایسا کوئی آیا بھی نہیں، جب آپ نے مجھے یہ پیشکش کی تو میں نے یہ سوچ کر قبول کرلی کہ مجھے ایک نا ایک دن تو کسی سے شادی کرنی ہے نا ! اور ویسے بھی میری امی کہتی ہیں کہ اللّه پاک نکاح کے بعد خود ہی میاں بیوی کے دل میں ایک دوسرے کیلئے محبت ڈال دیتا ہے”۔فاریہ نے بتایا۔
“اور جس کے دل میں پہلے سے ہو تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“تو اس کے دل میں اور زیادہ بڑھ جاتی ہے”۔فاریہ نے مسکرا کر کہا۔پھر تھوڑی دیر میں کافی ختم کرکے فاریہ اپنے گھر چلی گئی اور حیدر واپس ہوسپٹل آگیا۔
***********
نوں بجے یہ چاروں ہوسپٹل سے واپس آگئے۔اور حیدر سیدھا فیروزہ کے پاس کمرے میں آیا۔
“ممی مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے”۔حیدر نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔فیروزہ الماری میں کچھ رکھ رہی تھی یا کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔
“ہاں ہاں پتہ ہے کہ تمہیں بھوک لگ رہی ہے، بس تھوڑی دیر رکو چاول دم پر ہیں، وہ تیار ہوجائیں تو پھر بس سب کیلئے ہی کھانا لگاتی ہوں”۔فیروزہ نے الماری بند کرتے ہوئے کہا۔
“ارے ممی وہ بات نہیں ادھر آئیں، پہلے یہاں بیٹھیں”۔حیدر نے فیروزہ کا ہاتھ پکڑ کر انھیں صوفے پر بٹھایا۔اور خود نیچے انکے پیروں کے پاس بیٹھ گیا۔
“کیا بات ہے؟فیروزہ نے پوچھا۔
“ممی وہ بات یہ ہے کہ میں نے آپ کیلئے بہو ڈھونڈ لی ہے”۔حیدر نے فیروزہ کے دوپٹے سے کھیلتے ہوئے کہا۔
“ہیں کیا ! کیا بولا پھر سے بولو”۔فیروزہ نے بے یقینی سے پوچھا۔
“ممی میں نے اپنے لئے بیوی، آپکے لئے بہو اور اپنے ہونے والے بچوں کیلئے امی ڈھونڈ لی ہے”۔حیدر نے دوبارہ تفصیل سے بتایا۔
“یااللّه مجھے تو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آرہا”۔فیروزہ نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
“میں ابھی جاکر سب کو بتاتی ہوں”۔فیروزہ نے جوش سے کہا۔
“ارے نہیں امی ابھی نہیں، کھانے کے بعد جب آپ لوگ اکھٹے بیٹھتے ہیں نا تب بتادیجئے گا”۔حیدر نے کہا۔
“چلو ٹھیک ، اچھا یہ تو بتاؤ کہ وہ لڑکی ہے کون ! کیا میں جانتی ہوں اسے!۔فیروزہ نے پوچھا۔
“جی جانتی ہیں آپ”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا ! کون ؟۔فیروزہ نے پوچھا۔
“وہی ہمارے ہوسپٹل کی ڈاکٹر جو اس دن ہمارے گھر بھی آئی تھی،ڈاکٹر فاریہ خان”۔حیدر نے بتایا۔
“اوہ! اچھا وہ ! ہاں بچی تو ماشاءاللّه اچھی ہے”۔فیروزہ نے کہا۔حیدر کو فیروزہ کی رائے جان کر اطمینان ہوا۔
“سب سے بات کر لیں پھر کل اس کے گھر چلی جائیں گا آپ”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا !کہاں تو شادی کی بات بھی نہیں کررہے تھے، اور اب اتنی جلدی ہے کہ کل ہی بھیج رہے ہو”۔فیروزہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔حیدر جھینپ گیا۔
“اللّه میرے بچے کو ایسے ہی خوش رکھے”۔فیروزہ نے حیدر کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا۔پھر فیروزہ خوشی خوشی کھانا لگانے کیلئے اٹھ گئی۔اور حیدر بھی اپنے روم میں فریش ہونے آگیا۔
جاری ہے
