Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02

رات کے قریب گیارہ بج رہے تھے۔دوسرے دن کیونکہ اتوار تھا اس لیئے سب آرام سے بیٹھے ہوئے تھے۔سارے بڑوں نے ایک طرف شطرنج کی محفل جمائی ہوئی تھی۔عورتیں ساری ایک جگہ اپنی باتوں میں لگیں ہوئیں تھیں۔اور ساری ینگ جنریشن ایک طرف دو ٹیمیں بنائے ہوئے محفل جمائے ہوئے انتاکشری کھیل رہی تھی۔ حیدر ، عائشہ ، عصمت اور جاوید بھائی کے تینوں بچے ایک ٹیم میں تھے۔اور نادر ، فیضان ، رمشا ، تابش اور فرقان کے دونوں بچے ایک ٹیم میں تھے۔
“اچھا تو مقابلہ اب کافی سخت ہے ، دونوں ٹیموں کے پوائنٹ میں صرف ایک پوائنٹ کا فرق ہے ہماری ٹیم کے 49 پوائنٹ ہیں اور تم لوگوں کے 48، اور اب یہ آخری باری ہے دونوں ٹیموں کے پاس ، تو جس ٹیم کے پوائنٹ 50 ہو گئے وہ ، وننر ، اور ہارنے والی ٹیم کو جیتنے والی ٹیم کی بات ماننی ہوگی ،تو اب پہلے ہماری ٹیم لفظ دے گی تم لوگوں کو”۔عائشہ نے کہا۔
“ہاں تو بتاؤ کس سے گاؤں؟۔تابش نے پوچھا۔
“منہ سے گاؤ ، اور کس سے گاتے ہیں !۔حیدر نے شرارت سے کہا۔
“تم لوگوں کا لفظ ہے “ک” تم لوگ “ک” سے کوئی گانا گاؤ”۔عائشہ نے کہا۔اور ساتھ ہی ان لوگوں نے کاؤنٹ ڈاؤں شروع کر دیا۔کیوں کہ دونوں ٹیموں کے پاس صرف دس سیکنڈ کا ٹائم تھا۔”4،5،6،7،8،9،10…..!
“کہہ دوں تمہیں، یا چپ رہوں، دل میں میرے آج کیا ہے ،جو بولو تو جانوں ، گرو تم کو مانوں چلو یہ بھی وعدہ ہے”
تابش نے عائشہ کو دیکھتے ہوئے گانا گایا۔
“واو ویری گڈ تابش”۔اسکی ٹیم نے اسے شاباشی دی۔
“چلو اب تم لوگوں کی باری ہے،تم لوگ گاؤ “ج” سے”۔رمشا نے کہا۔اور ساتھ ہی کاؤنٹ ڈاؤن شروع کردیا۔2،3،4،5،6،7،8،9،10″۔
“جب پیار کیا تو ڈرنا کیا ، جب پیار کیا تو ڈرنا کیا ! پیار کیا کوئی چوری نہیں کی ، چھپ چھپ آہیں بھرنا کیا ، جب پیار کیا تو ڈرنا کیا !
حیدر نے لاسٹ سیکنڈ میں گانا گایا۔اور وہ بھی فیضان کو معنی خیز نظروں سے گھورتے ہوئے۔ان لوگوں کی ٹیم کے پوانٹ 50 ہو چکے تھے۔اگر حیدر گانا نا گاتا تو دوسری ٹیم کو دوسرا موقع مل جاتا اور وہ لوگ جیت جاتے۔جیتنے کی خوشی میں ان لوگوں نے زور زور سے تالیاں بجانا شروع کردی۔
“ارے بچوں آرام سے”۔ممتاز نے ٹوکا۔
“رہنے دیں امی بیچارے پہلی بار جیتے ہیں نا تو اس لیئے خوشی سے پاگل ہوگئے ہیں”۔نادر نے طنزیہ کہا۔
“ہاں ہاں اب تو لوگ جلیں گے ہماری جیت سے”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں تو بھئی اب بتاؤ کیا مانگے ہم ان لوگوں سے اپنی جیت کی خوشی میں!۔عائشہ نے اپنی ٹیم سے مشورہ کیا۔
“ایک کام کرو فیضان تم اپنی ٹیم کی طرف سے ہم سب کو “ونیلا آئسکریم” کھیلا دو”۔حیدر نے معنی خیز نظروں سے فیضان کو دیکھتے ہوئے کہا۔اب کی بار فیضان کچھ ٹھٹکا۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے، فیضان بھائی آپ سب کیلئے آئسکریم لے آئیں”۔عائشہ نے تائید کی۔
“ارے بچوں پاگل ہوگئے ہو اس وقت آئسکریم کہاں ملے گی؟۔فیروزہ نے کہا۔
“ارے ممی کوئی اتنی رات نہیں ہورہی ہے سوا گیارہ ہی تو بجے ہیں ابھی”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں اور ٹریٹ کا مزہ تو جیتنے کے فوراً بعد ہی آتا ہے”۔عصمت نے کہا۔
“چلو فیضان ہم چل کر سب کیلئے آئسکریم لے کر آتے ہیں”۔حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔فیضان بھی کھڑا ہوگیا۔
“اور پیسے تم دو گے ہاں”۔حیدر نے یاددھیانی کروائی۔
“ہاں ہاں پتہ ہے”۔فیضان نے کہا۔اور دونوں باہر کی جانب بڑھ گئے۔
**********************
دونوں اس وقت آئسکریم لے کر واپس آرہے تھے۔کار فیضان ڈرائیو کر رہا تھا۔اور حیدر اس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔
“یار پتہ نہیں لوگوں کو یہ ونیلا آئسکریم پسند کیوں ہوتی ہے! مجھے تو اتنی زیادہ اچھی نہیں لگتی، ہاں مینگو آئسکریم پھر بھی کھالی جاتی ہے مجھ سے، اس لیئے تو میں نے اپنے لیئے یہ لی ہے”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا تمھیں پسند ہے ونیلا آئسکریم؟۔ حیدر نے پوچھا۔
“نہیں”۔فیضان نے کہا۔
“اچھا ! پر میں نے تو سنا تھا کہ تم آج شام میں ونیلا آئسکریم کھانے گئے تھے ،وہ بھی “کسی” کے ساتھ”۔حیدر نے معنی خیزی سے کہا۔اور فیضان نے چونک کر زور سے بریک مارا۔
“کیا مطلب ہے؟۔فیضان نے پوچھا۔
“ارے گاڑی تو چلا ، آئسکریم پگھل جائے گی اتنی دیر میں”۔حیدر نے کہا۔
“یار دیکھ حیدر بتا دے کہ تو کیا کہنا چاہ رہا ہے؟۔فیضان نے گاڑی دوبارہ چلاتے ہوئے پوچھا۔
“چھوڑ یار رہنے دے کیا کرے گا جان کر “۔حیدر نے تنگ کرنے کیلئے کہا۔
“یار حیدر ایک تو میں پہلے ہی انعم کی وجہ سے ٹینشن میں ہوں اور تو……….! ۔ فیضان کو بعد میں اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔جب تک وہ انعم کا نام لے چکا تھا۔ اور وہ لوگ گھر بھی پہنچ گئے تھے۔
“کون انعم ! وہ ہمارے ہوسپٹل کی نرس نا !۔حیدر نے کہا۔
“یار وہ …..!
“رک چشمش ابھی جا کر میں شہلا تائی کو بتاتا ہوں”۔اس سے پہلے کے فیضان کچھ کہتا حیدر نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔اور اندر کی جانب بھاگ گیا۔فیضان کو نظر کا چشمہ لگا ہوا تھا۔اس لئے حیدر اسے چشمش بول کر تنگ کرتا تھا۔باقی ویسے فیضان کے فیس پر چشمہ کافی ججتا تھا۔فیضان اس کو آوازیں دیتے رہ گیا۔اور پھر خود بھی جلدی سے اس کے پیچھے بھاگا۔
*********************
سب لوگوں نے کافی خوشگوار ماحول میں آئسکریم کھائی۔اور فیضان دل ہی دل میں شکر کر رہا تھا کہ حیدر نے کسی کو کچھ بتایا نہیں۔پر پھر بھی جب تک یہ لوگ سب بیٹھے رہے حیدر وقفے وقفے سے فیضان کو معنی خیزی سے گھورتا اور شہلا کی جانب اشارہ کرتا کہ ” بتاؤں بتاؤں!۔ اور فیضان نظروں ہی نظروں میں منتیں کرتا کہ ” نہیں نہیں”۔پھر قریب ساڑھے بارہ بجے تک سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔اور فیضان حیدر کے کمرے میں آگیا۔حیدر اپنے بیڈ پر لیٹا لپ ٹاپ چلا رہا تھا۔
“کیا کر رہے ہو؟۔فیضان نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
“مچھلیاں پکڑ رہا ہوں”۔حیدر نے کہا۔
“میرا مطلب کے میں آجاؤں”۔فیضان نے بیڈ کے قریب آتے ہوئے پوچھا۔
“اب اس سے آگے تو کمرہ ہی ختم ہوجاتا ہے میرا ،اور کتنا آؤگے!۔حیدر نے فیضان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“یار مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے”۔فیضان نے بیڈ کے پاس رکھے ہوئے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“دو کرلو”۔حیدر نے کہا۔
“وہ اس وقت تم گاڑی میں کیا کہہ رہے تھے؟۔فیضان نے پوچھا۔
“کس وقت؟ ۔حیدر نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
“وہ جب ہم آئسکریم لینے گئے تھے تب”۔فیضان نے کہا۔
“اوہ اچھا تب، وہ تو میں کہہ رہا تھا کہ مجھے ونیلا نہیں بلکہ مینگو آئسکریم پسند ہے”۔حیدر نے جان بوجھ کر فیضان کو تنگ کرنے کیلئے کہا۔
“ارے یار وہ نہیں ، حیدر دیکھ تو میرا بھائی ہے نا ، اور تو امی کا مزاج بھی اچھا طرح جانتا ہے نا ، تو دیکھ اگر تجھے میرے بارے میں کچھ بھی پتہ ہے تو پلیز یار امی کو مت بتانا”۔فیضان نے التجا کی۔حیدر کو اس پر ترس آگیا۔اور اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ملتوی کردیا۔اور لپ ٹاپ بند کر کے اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔
“بھائی بولتا ہے نا مجھے، تو پھر شروع سے سب سچ سچ بتا کہ یہ ماجرہ کیا ہے؟۔حیدر نے کہا۔
“یار وعدہ کر کے امی کو نہیں بتائے گا”۔فیضان نے کہا۔
“پکا وعدہ نہیں بتاؤں گا”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا پہلے تم بتاؤ کہ تمہیں یہ سب کیسے پتہ چلا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“دراصل آج شام کو ہوسپٹل میں جب میں راؤنڈ پر سے واپس آیا تو سوچا کہ تھوڑی دیر تمہارے ساتھ بیٹھ کر کافی ہی پی لوں، بس اسی ارادے سے میں تمہارے روم کی طرف آیا تھا،پر اس سے پہلے کہ میں اندر داخل ہوتا،مجھے اندر سے انعم کی آواز آئی، اور پھر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر میں نے تم دونوں کی ساری باتیں سن لیں”۔حیدر نے بتایا۔
“کتنی بری بات ہے اس طرح چھپ کر کسی کی باتیں سننا”۔فیضان نے کہا۔
“اچھا اور اس طرح چھپ کر ایسی باتیں کرنا تو بہت اچھی بات ہے نا!۔حیدر نے کہا۔
“اچھا نا غصہ کیوں ہورہا ہے ایسے ہی بول رہا تھا میں ، تو دل پر مت لے”۔فیضان نے کہا۔
“اچھا چلو اب تم بتاؤ کہ یہ سب شروع کب اور کہاں سے ہوا!۔حیدر نے کہا۔
“یہ سب تب سے ہی شروع ہوا جب سے انعم نے ہوسپٹل جوائن کیا، میرے ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ، بس جیسا ایک ڈاکٹر اور نرس کا ریلیشن ہوتا ہے ویسے ہی تھا، انعم بھی بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی ، ایک دن وہ کافی پریشان اور گھبرائی ہوئی میرے پاس آئی، پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اسکی امی کی بہت طبیعت خراب ہے اور ہوسپٹل لانے والا کوئی ہے نہیں ، اور انھیں اکیلے ہوسپٹل لانا انعم کے بس کی بات نہیں تھی ، اس لیئے میں اس کے ساتھ اس کے گھر گیا، اس کا گھر ایک غریب سے علاقے میں تھا، اور گھر کی حالت بھی کچھ اچھی نہیں تھی ، خیر پھر میں نے اسکی امی کا چیک اپ کیا، ان کا بی پی بہت لو تھا، میں انجیکشن اور دوائیاں ساتھ لے کر گیا تھا، پھر میں نے ان کو انجیکشن لگا کر کچھ دوا دی ، پھر تھوڑی ہی دیر میں ان کی حالت بہتر ہوگئی ، میں انعم کو ان کے پاس ہی رہنے کا کہہ کر واپس ہوسپٹل آگیا، پھر دوسرے دن جب انعم ہوسپٹل آئی تو اس نے کل کیلئے میرا شکریہ ادا کیا، پھر میں نے اس سے اسکی فمیلی کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ اسکے ابو کا تین سال پہلے انتقال ہو چکا تھا، اور انکا کوئی اور ایسا رشتے دار بھی نہیں تھا کہ جس کے سہارے وہ لوگ رہ پاتے ، تو پھر اس لیئے انعم کو اپنی پڑھائی چھوڑ کر نوکری کرنی پڑی ، وہ میڈیکل کی پڑھائی کر رہی تھی ، اس لیئے اسے آسانی سے نرس کی جاب مل گئی،اور اب وہ لوگ ایک کرائے کہ گھر میں رہتنے ہیں ، مجھے اس کے بارے میں جان کر بہت افسوس ہوا ، اور اس سے کافی ہمدردی ہوئی ، پھر جب جب اسے میری مدد کی ضرورت ہوتی میں اسکی مدد کرنے کی کوشش کرتا اور مدد کرتا بھی ، پھر آہستہ آہستہ میری ہمدردی اور اسکی ضرورت کب محبت میں بدل گئی پتہ ہی نہیں چلا، پھر جب بات شادی پر پہنچی تو مجھے خیال آیا کہ امی کبھی نہیں مانیں گی کیونکہ وہ فرقان بھائی کی طرح میری شادی بھی کسی ڈاکٹر سے ہی کروانا چاہتی ہیں ، اور انعم کا تعلق جس کلاس سے ہے امی اسے کبھی قبول نہیں کریں گی ، اب میں بیچ میں پھنس گیا ہوں ، اگر امی کی بات مانتا ہوں تو مجھے انعم کو چھوڑنا ہوگا ، اور اگر انعم کو اپناتا ہوں تو امی کی مخلفت مول لینی پڑے گی، میری تو سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کروں”۔فیضان نے سب بتایا۔
“ہممم! کیس تو کافی سیریس ہے”۔حیدر نے کہا۔
“تم ایک کام کرو تم تایا تائی سے بات کرو اور انھیں اپنے اور انعم کے بارے میں سب بتا دو ، کہ تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو ، پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا”۔حیدر نے کہا۔
“پاگل ہوگئے ہو ، تمہیں یاد ہے نا کہ جب فرقان بھائی نے اپنی پسند سے ایک لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو امی نے کیا کہرام مچایا تھا، اور تین مہینے کے اندر اندر بھائی کی شادی خود اپنی مرضی سے مومنہ بھابھی سے کردی تھی”۔فیضان نے کہا۔
“ہاں یہ بھی ہے ، پتہ نہیں یہ تائی کو پسند کی شادی سے کیا اعتراض ہے !۔ حیدر نے کہا۔
“یار میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کروں! تو ہی کچھ بتا ہے کوئی راستہ! ۔فیضان نے کہا۔
“نہیں یار ابھی تو مجھے بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا ، پر اس مسلے کا حل ضرور نکالیں گے، ابھی تو جا اپنے کمرے میں آرام کر”۔حیدر نے کہا۔
“ٹھیک ہے پر یار خیال رکھنا کے یہ بات صرف میرے اور تیرے بیچ ہی رہنا چاہئے”۔فیضان نے تاکید کی۔
“ٹھیک ہے پر ایک شرط پے”۔حیدر نے کہا۔
“کون سی شرط!۔فیضان نے پوچھا۔
“اب جب تم دوبارہ ونیلا آئسکریم کھانے جاؤ ،تو میرے لیئے بھی مینگو آئسکریم لیتے آنا”۔حیدر نے شرارت سے کہا۔اور دونوں مسکرادیے
************
“ایکسکیوزمی ! ڈاکٹر حیدر!”۔حیدر اس وقت کینٹین کی جانب لنچ کرنے جارہا تھا کہ تب ہی خرّد نے آواز دی۔خرد کو اب ہوسپٹل جوائن کیئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔حیدر رک گیا۔
۔”?Hay! How are you۔خرّد نے قریب آتے ہوئے پوچھا۔
۔”!I’m fine، and you۔حیدر نے جواب دیا۔
۔”Good” وہ ایکچلی میں کینٹین میں لنچ کرنے جارہی تھی ، تو سوچا آپ سے بھی پوچھ لوں ، آپ چلیں گے میرے ساتھ ؟۔خرّد نے پوچھا۔
“جی میں بھی لنچ کرنے ہی جارہا تھا کینٹین میں ، چلیں”۔حیدر نے کہا۔اور دونوں کینٹین کی جانب بڑھ گئے۔
**********
“آپ کو یہاں کوئی مسلہ تو نہیں ہے!۔حیدر نے پوچھا۔وہ دونوں اس وقت کینٹین میں ایک ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے۔
“نہیں بالکل نہیں ، اور اگر کچھ سمجھ نہیں بھی آتا تو ڈاکٹر مومنہ سے پوچھ لیتی ہوں ، وہ میری مدد کر دیتی ہیں”۔خرّد نے سینڈوچ کھاتے ہوئے کہا۔
“ہممم ! ویسے اگر کبھی آپ کو میری مدد کی ضرورت پڑے یا اور کوئی مسلہ ہو تو آپ بلاجھجھک مجھ سے بھی کہہ سکتیں ہیں”۔حیدر نے کہا۔
“تھینک یو سو مچ، ویسے مجھ اس دن کیلئے بھی آپ سے سوری کہنا تھا”۔خرد نے کہا۔
“کس دن کیلئے ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“وہ جو میں اس دن آپ سے ٹکرا گئی تھی”۔خرّد نے یاد دلایا۔
“اوہ اچھا وہ ، پہلی ملاقات ، ارے وہ صرف آپکی غلطی نہیں تھی، اور اس میں سوری کہنے والی کوئی بات تھوڑی ہے”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں پھر بھی”۔خرد نے کہا۔
“ارے آپ بلاوجہ شرمندہ ہو رہی ہیں ، اب جانے دیں اس بات کو”۔حیدر نے کافی ختم کر کے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اچھا اب میں چلتا ہوں، باقی آپ کو اگر کوئی ضرورت پیش آجائے تو میں حاضر ہوں”۔حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو”۔خرد نے کہا۔
“آپ نہیں جارہی اپنے روم میں؟۔حیدر نے خرد کو ابھی تک بیٹھا دیکھ کر پوچھا۔
“نہیں میں ابھی تھوڑی دیر میں جاؤں گی”۔خرد نے کہا۔
“اچھا میں چلتا ہوں ، سی یو اگین”۔حیدر مسکرا کر کہتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا۔اور خرد پہلے تو حیدر کو جاتا ہوا دیکھتی رہی ۔پھر جس کپ میں حیدر ابھی ابھی کافی پی کر گیا تھا۔اس کپ کو اٹھا کر غور سے دیکھنے لگی۔اور اسکی سطح پر انگلیاں پھیرنے لگی۔اور کچھ سوچتے ہوئے مسکرا دی
************
رات کے قریب گیارہ بج رہے تھے۔حیدر اپنے کمرے میں بیٹھا کچھ فائلیں دیکھ رہا تھا۔
“کیا میں اندر آسکتا ہوں؟۔ فیضان نے دروازہ کھول کر ،سر اندر کر کے پوچھا۔
“نہیں بالکل بھی نہیں”۔حیدر نے بنا سر اٹھائے کہا۔
“تھینک یو”۔فیضان نے اندر آتے ہوئے کہا۔اور حیدر کے برابر ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔اور حیدر کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔
“کیا ہوا ! دانت کیوں نکال رہا ہے ! حیدر نے پوچھا۔
“کچھ نہیں ، اچھا یہ بتاؤ کہ کافی کیسی تھی ؟۔فیضان نے معنی خیزی سے پوچھا۔
“کون سی کافی؟۔حیدر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“وہی جو دوپہر میں تم اور “وہ” کینٹین میں پی رہے تھے”۔فیضان نے کہا۔
“جیسی ہوتی ہے ویسی ہی تھی”۔حیدر نے کہا۔
“دراصل ہمیشہ تم کافی یا تو میرے ساتھ پیتے تھے یا اکیلے ، تو میں نے سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ شاید آج کافی کا ٹیسٹ کچھ الگ لگا ہو”۔فیضان نے کہا۔
“تو کہنا کیا چاہ رہا ہے ؟۔حیدر نے فائل بند کر کے فیضان سے پوچھا۔
“یہی کہ ہم نے جب ونیلا آئسکریم کھالی تھی ، تو تم امی کو بتانے جارہے تھے ، اور اب جو آپ خود کینٹین میں کافی کے مزے لے رہے تھے ، وہ کیا تھا ، اب میں بتاؤں فیروزہ چاچی کو کہ تم نے ان کیلئے بہو ڈھونڈ لی ہے !۔فیضان نے کہا۔
“دیکھ فیضان تو غلط سمجھ رہا ہے ، وہ تو ڈاکٹر خرد کینٹین کی طرف جارہی تھی لنچ کیلئے ، تو اس نے مجھے بھی آفر کی میں بھی اتفاق سے وہیں جارہا تھا تو میں بھی ساتھ چلا گیا، بس اور ایسا کچھ نہیں ہے جو تو سوچ رہا ہے”۔حیدر نے وضاحت کی۔
“اچھا! سچ میں!۔فیضان نے پوچھا۔
“ہاں تو اور نہیں تو کیا، سچ میں ایسا کچھ نہیں ہے، اور اگر ہوتا بھی تو میں کب کا سب گھر والوں کو بتا چکا ہوتا، تمہاری طرح نہیں کرتا”۔حیدر نے طنز مارا۔
“مار لو طنز ، جس پر گزرتی ہے نا وہی جانتا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“اچھا نا چل مذاق کررہا تھا پاگل تو دل پر مت لے”۔حیدر نے فیضان کے کاندھوں کے گرد ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“اچھا میں نے انعم کو گھر والوں سے ملوانے کا ایک پلان سوچا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“کیا ؟۔فیضان نے اشتیاق سے پوچھا۔
“ابھی ایک ہفتے بعد دادا دادی کی ویڈنگ اینیورسیری ہے، تو میں سوچ رہا تھا کہ ہم لوگ گھر میں اس خوشی میں ایک چھوٹی سی پارٹی رکھتے ہیں، اور ہوسپٹل سے ایک دو ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ انعم کو بھی انوائٹ کرتے ہیں، اس بہانے کم از کم گھر والوں سے اسکی ایک ملاقات بھی ہوجائے گی ، اور تمہیں آگے فیصلہ لینے میں بھی آسانی ہوگی”۔حیدر نے کہا۔
“ٹھیک ہے جیسا تمہیں ٹھیک لگے”۔فیضان نے کہا۔
*************
پھر اگلے دن جب سب ناشتہ کررہے تھے تو حیدر نے یہ پارٹی والا شوشا چھوڑا۔
“بہت دن ہوگئے ہیں نا ، ہمارے گھر میں کوئی تقریب یا کوئی پارٹی نہیں ہوئی”۔حیدر نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا۔
“ہمممم ! تائی اب آپ بھائی کیلئے کوئی اچھا سا رشتہ دیکھنا شروع کردیں ، تا کہ گھر میں کوئی تقریب ہو ، اور ساتھ ہی ہمارا بھی نمبر آئے”۔نادر نے شرارت سے کہا۔
“ہممم ! دیکھ رہی ہوں بس جیسے ہی کوئی اچھی لڑکی ملتی ہے فوراً شادی کردوں گی میں اس کی”۔فیروزہ نے کہا۔
“ارے ابھی یہ آپ لوگ کہاں میری شادی کے چکر میں پڑ گئے ہیں، ابھی مجھ سے پہلے تو فیضان کی باری ہے”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں فیضان کیلئے بھی میں لڑکی دیکھ رہی ہوں ، بس کچھ دنوں میں ہی کوئی فائنل کر کے سب کو بتانے والی ہوں”۔شہلا نے کہا۔اور یہ سن کر فیضان کے گلے میں نوالہ اٹک گیا۔اور زور سے پھندا لگا۔
“ارے ارے ! پانی پیو جلدی سے”۔شہلا نے پانی کا گلاس فیضان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔اور حیدر مسکراتے ہوئے فیضان کی پیٹھ تھپتھاپانے لگا۔
“دھیان سے کھاؤ بیٹا”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“لگتا ہے بھیا کو کوئی یاد کررہا ہے”۔رمشا نے کہا۔
“ہاں تو میں کسی تقریب یا پارٹی کی بات کررہا تھا، میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگلے ہفتے دادا اور دادی کی شادی کی سالگرہ ہے، تو کیوں نا اس ہی خوشی میں گھر میں ایک چھوٹی سے پارٹی رکھی جائے !۔حیدر نے کہا۔
“ارے پاگل ہو گئے ہو کیا ، کوئی ضرورت نہیں ہے پارٹی رکھنے کی”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“ارے دادی اسی بہانے تھوڑا سا شوغل ہوجائے گا نا، تم لوگ بھی تو کچھ بولو”۔حیدر نے باقی سب کزنز کو اکسایا۔
“ہاں نا دادی حیدر بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں”۔باقی سب نے بھی حیدر کی تائید کی۔
“ارے بیگم جب بچے اتنا کہہ رہے ہیں تو رکھنے دو نا پارٹی، اچھا ہے اس بہانے تھوڑی رونق بھی ہوجائے گی گھر میں”۔قیصر صاحب نے بھی سب کی تائید کی۔
“اچھا ٹھیک ہے ، پر کچھ زیادہ مت کرنا”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“تھینک یو دادی،آپ فکر نا کریں بس ہوسپٹل سے چند لوگوں کو بلائیں گے”۔حیدر نے کہا ۔
“تھینک یو دادی” سب نے خوش ہوکر کہا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *