Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 (Watching)Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11
ان چاروں نے یہ بات گھر آکر سب کو بتائی۔کھانا وغیرہ کھا کر سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔حیدر اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا کہ تب ہی فیضان بھی اس کے کمرے میں آگیا۔
“کیا کر رہے ہو؟۔فیضان نے پوچھا۔
“جوتے سی رہا ہوں”۔حیدر نے کہا۔
“کیا سوچا ہے ! پھر کب بتا رہے ہو فاریہ کو؟۔فیضان نے حیدر کی بات نظر انداز کر کے بیڈ کی دوسری جانب بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“یار پہلے یہ کیمپ وغیرہ سے ہوکر آجائیں ، پھر بتاؤں گا”۔حیدر نے بتایا۔
“کیوں! ابھی کیوں نہیں؟۔فیضان نے پوچھا۔
“بس ایسے ،ابھی کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا بھی ذہن الجھ جائے اور میرا بھی ،پھر ہم کام پر توجہ نہیں دے پائیں گے ،اس لئے ،ان سب سے فارغ ہوکر پھر بتاؤں گا”۔حیدر نے بتایا۔
“ہمممم ! اچھا ویسے فاریہ کو تم سے ایک شکایات بھی ہے”۔فیضان نے کہا۔
“کیا شکایات؟۔حیدر نے پوچھا۔
“یہی کہ تم نے مومنہ بھابھی کی جو سرپرائز برتھڈے ٹریٹ پلان کی تھی اس کے بارے میں اسے بتایا نہیں ،تمہیں اس پر اتنی بے اعتباری ہے”۔فیضان نے بتایا۔
“اچھا ! چلو یہ شکوہ بھی بہت جلد دور کر دوں گا”۔حیدر نے مسکرا کر کہا۔
“پر ایک پرابلم ہے”۔فیضان نے کہا۔
“کیا ؟ حیدر نے پوچھا۔
“فاریہ کو تو مٹر پسند ہی نہیں ہیں،تو پھر شادی کے بعد تمہیں مٹر کھانا چھوڑ نا پڑے گا”۔فیضان نے کہا۔
“کوئی بات نہیں ،لوگ اپنی محبوبہ کیلئے سگریٹ پینا چھوڑتے ہیں، میں مٹر کھانا چھوڑ دوں گا”۔حیدر نے مسکرا کر کہا۔
“ہممم! پر شادی اسی سے کروں گا،ہیں ! ۔فیضان نے معنی خیزی سے کہا۔
“ہاں”۔حیدر نے کہا۔پھر تھوڑی دیر دونوں باتیں کرتے رہے۔اور پھر کچھ دیر بعد فیضان اپنے کمرے میں آگیا۔
********
“تو پھر کب تک واپسی ہوگی تم لوگوں کی وہاں سے؟۔شہلا نے پوچھا۔
“سب لوگ اس وقت ناشتے کی میز پر جمع تھے۔
“پتہ نہیں امی ،اب یہ تو وہاں جاکر ہی ٹھیک طرح پتہ چلے گا ،پر اندازً شاید تین چار ہفتے تو لگ ہی جائیں گے”۔فرقان نے ناشتہ کرتے ہوئے بتایا۔
“ہممم ! ٹھیک ہے ،پہلے تم لوگ وہاں سے آجاؤ ،پھر اس سلسلے میں بات کروں گی”۔شہلا نے کہا۔
“کس سلسلے میں؟۔فرقان نے پوچھا۔
“فیضان کی شادی کے سلسلے میں”۔شہلا نے بتایا۔
“کیا بات کرنی ہے اس سلسلے میں ابھی ہی کچھ بتا دو”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“میں نے فیضان کیلئے لڑکی پسند کرلی ہے، یہ لوگ وہاں سے ہوکر آجائیں گے تو پھر اس لڑکی کے گھر جاؤں گی رشتے کی بات کرنے”۔شہلا نے بتایا۔فیضان نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔بس خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا۔
“کون ہے وہ لڑکی شہلا بھابھی؟۔رفعت نے اشتیاق سے پوچھا۔
“ڈاکٹر فاریہ خان”۔شہلا نے بتایا۔سب ہی حیران ہوگئے۔پر حیدر پر تو گویا بم ہی گرگیا۔اور نوالہ اس کے حلق میں جاکر اٹک گیا۔اور اسے بہت زور سے پھندا لگا۔
“ارے رے ،پانی پیو جلدی سے”۔فیروزہ نے جلدی سے گلاس آگے کرتے ہوئے کہا۔حیدر نے پانی پیا۔
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی!۔فیضان نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ابھی سنا نہیں کیا تم نے!۔شہلا نے پوچھا۔
“نہیں میرا مطلب ہے ایسے کیسے! آپ تو اسے ٹھیک طرح سے جانتی بھی نہیں ہیں اور…..!
“اس دن ہمارے گھر آئی تھی جب وہ تب ملی تھی میں ،تو اچھی لگی مجھے وہ لڑکی ہر لحاظ سے تمہارے لئے”۔شہلا نے فیضان کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔فیضان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے!۔
“اچھا ابھی تو ہمیں ہوسپٹل جانے کیلئے دیر ہورہی ہے، جب ہم لوگ کیمپ سے واپس آجائیں گے پھر اس معاملے پر تفصیلی بات کریں گے ،ابھی ہمیں چلنا چاہئے”۔فرقان نے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا۔
“ہممم ! ٹھیک ہے”۔شہلا نے کہا۔اور چاروں جانے کیلئے کھڑے ہوگئے۔
******
فرقان نے جیسے ہی کار پارکنگ ایریا میں داخل کی تو ان لوگوں کو پارکنگ میں ایک بلکل نئی چمکتی ہوئی بلیک کل کی لینڈکروزیر نظر آئی۔جو کہ اتنی گاڑیوں کے بیچ میں بھی نئی نئی الگ ہی نظر آرہی تھی۔
“واو ! یہ کس کی کار ہوگی؟۔فرقان نے کار سے باہر نکال کر کہا۔
“چلیں کیا پتہ اندر چل کر پتہ چل جائے”۔مومنہ نے کہا۔اور چاروں ہوسپٹل کے اندر آگئے۔
“گڈ مارننگ احمر”۔فرقان نے کہا۔احمر اس وقت اپنے روم کی جانب ہی جارہا تھا۔کہ ان لوگوں کو دیکھ کر رک گیا۔
“گڈ مارننگ”۔احمر نے بھی ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
“یار یہ پارکنگ ایریا میں کیا انقلاب آیا ہوا ہے؟۔فرقان نے پوچھا۔
“کیا ؟۔احمر نے پوچھا۔
“ارے وہی بالکل نئی لینڈکروزر کس کی کھڑی ہے وہاں؟۔فرقان نے پوچھا۔
“اچھا وہ ! وہ تو میری کار ہے ،ابھی کل ہی تو لی ہے”۔احمر نے بتایا۔
“ہیں ! کیا! تمہاری کار ہے!۔فرقان نے حیرانگی سے کہا۔
“ہاں کیوں ! اس میں بھلا اتنا حیران ہونے والی کونسی بات ہے! کیا میں کار نہیں لے سکتا !۔احمر نے کہا۔
“ارے نہیں یار وہ بات نہیں ہے ،ابھی کچھ ٹائم پہلے ہی تو تم نے ایک برانڈ نیو کار لی تھی ناں اس لئے پوچھا”۔فرقان نے کہا۔
“ہاں وہ کار میں نے ناہید کو دے دی ہے ،وہ اس کے استمعال میں ہے، اور یہ میری ہے” ۔احمر نے کہا۔پھر سب اپنے اپنے روم کی جانب چلے گئے۔
******
“یار حیدر یہ تو بہت مسلہ ہوگیا”۔فیضان نے حیدر کے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“حیدر نے فائل پر سے سر اٹھا کر فیضان کو دیکھا۔
“اب کیا کریں گے یار ؟ امی تو کیا کیا سوچ کر بیٹھی ہوئی ہیں”۔فیضان نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! سمجھ میں تو میرے بھی کچھ نہیں آرہا ،پر ابھی ہم کچھ نہیں کر سکتے ،ابھی فلحال ہمیں ان سارے معاملات کو ملتوی کرکے سارا دھیان اپنے کام پر رکھنا ہوگا ،اور ویسے بھی تو تائی کہہ رہی تھیں ناں کہ جب ہم لوگ وہاں سے واپس آجائیں گے وہ پھر اس بات کو آگے بڑھائیں گی ،تو ابھی فلحال اس معاملے کو چھوڑ دو”۔حیدر نے کہا۔
“ہممم ! اور ہم ابھی کر بھی کیا سکتے ہیں”۔فیضان نے کاندھے اچکتے ہوئے کہا۔پھر حیدر کے پاس پیشنٹ آگیا تو فیضان بھی واپس اپنے روم میں آگیا۔
*******
پھر دوسرے دن سارے ڈاکٹرز ٹوبہ ٹیک سنگھ کیلئے روانہ ہوگئے۔وہ لوگ کافی لمبے سفر کے بعد وہاں پہنچے۔سیلاب کی وجہ سے راستے بھی بہت خراب ہورہے تھے۔بلکہ سب کچھ ہی اتھل پتھل ہوگیا تھا۔ بیماریوں نے بھی ان پر حملہ کیا ہوا تھا۔وہاں پر دوسرے ہوسپٹل سے بھی ڈاکٹرز آئے ہوئے تھے۔وہاں پہنچ کر کچھ ہی دیر میں سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔یہاں پر موبائل فون کے نیٹ ورک بھی نہیں مل رہے تھے۔اگر کسی کو بہت ارجنٹ کسی کو فون کرنا بھی ہوتا تو اسے وہاں سے کافی فاصلے پر بنے ایک پیٹرول پمپ پر لگے پی۔سی۔او پر جانا پڑتا۔جو کہ بہت دور تھا۔حکمت دعوے تو کر رہی تھی کہ بہت جلد ان سب کو اس پریشانی سے نکال لیں گے۔پر پتہ نہیں وہ “بہت جلد” کب ہوتی ان کی۔
*******
“لاؤ بیٹا ہاتھ آگے کرو”۔فیضان نے انجکشن لگانے کیلئے بچے سے کہا۔جو کہ ملیریا کا مریض تھا۔اس کی عمر لگ بھگ پانچ سے چھے سال ہوگی۔اس کی ماں اسے دوائی دلانے لائی تھی۔بچہ یوں ہی فیضان کو گھورے جارہا تھا۔اسکی ماں نے اسکا بازو پکڑ کر فیضان کے آگے کردیا۔فیضان نے بچے کو انجکشن لگا دیا۔سوئی کی چبھن کی وجہ سے بچے کے چہرے کے تھوڑے سے زاویے بدلے۔پر بچا رویا نہیں۔فیضان کو حیرت ہوئی۔
“ارے واہ بڑا بہادر بچا ہے، درد نہیں ہوا؟۔فیضان نے بچے سے کہا۔
“ارے صاحب ہم غریب لوگ ہیں، دکھ درد سہنے کی عادت ہے ہمیں”۔عورت نے کہا۔
“ہاں پر پھر بھی یہ تو بچا ہے ناں ، سوئی سے کچھ تو درد ہوا ہوگا، خیر چھوڑیں، یہ لیں یہ دوائی اسے روز تین ٹائم دینی ہے ،اور وقفے وقفے سے اس کا معائنہ کروانے بھی آتی رہی گا”۔فیضان نے کچھ دوائیاں عورت کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔عورت نے دوائیاں لیں اور شکریہ ادا کرتی ہوئی چلی گئی۔پھر پورا دن ایسے ہی گزرا۔
********
“مومنہ جی!۔فاریہ نے پکارا۔
“ہممم ! بولو”۔زیادہ بیزی تو نہیں ہیں آپ؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“نہیں! بولو تم”۔مومنہ نے ایک فائل پر کچھ لکھتے ہوئے کہا۔
“بس ایسے ہی ابھی کوئی خاص پیشنٹ نہیں تھا تو سوچا تھوڑی دیر آپ کے ساتھ بیٹھ جاؤں”۔فاریہ نے پاس رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ہاں اچھا کیا”۔مومنہ نے کہا۔وہ لوگ اس وقت کیمپ میں موجود تھے۔
“ویسے ایک بات ہے مومنہ جی”۔فاریہ نے کہا۔
“ہمم! بولو”۔مومنہ نے کہا۔
“ان لوگوں کو دیکھ کر مجھے ان پر بہت ترس آرہا ہے، اور اپنے حال پر اللّه پاک کا شکر ادا کرتی ہوں ،کہ اللّه پاک نے ہمیں کتنے اچھے حال میں رکھا ہوا ہے ،ہم ذرا ذرا سی باتوں پر رونا دھونا شروع کردیتے ہیں ،جیسے کہ اگر کبھی کھانے میں کوئی چیز ہماری پسند کی نا بنی ہو تو ہم ناک منہ بناتے ہیں ،اور ان بیچاروں کو تو دو وقت کا کھانا ہی مشکل سے ملتا ہے، ہم اپنے گھر کہ ڈرائنگ روم کو اتنی مہنگی اشیاوں سے سجاتے ہیں، اور ان بیچاروں کے پاس رہنے کیلئے ڈھنگ کا گھر بھی نہیں ہے، ہم چھوٹی موٹی بیماریوں پر فوراً ڈاکٹر کے پاس بھاگتے ہیں ،اور یہ بیچارے اتنی بڑی بڑی بیماریوں سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی تک ہار جاتے ہیں، مطلب کے ہم جس جس بات کیلئے اللّه پاک کا شکر ادا کریں کم ہے، ہم اللّه پاک کی اتنی نعمتوں کے بدلے اگر ساری زندگی بھی سجدے میں پڑے رہیں تو بھی ہم اللّه پاک کا شکر ادا نہیں کرسکتے ہیں”۔فاریہ نے تشکر آمیز لہجے میں کہا۔
“ہممم! ٹھیک کہہ رہی ہو تم ،سچ میں اللّه پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے ،بس اللّه پاک ان سب کی بھی مشکلیں آسان کرے”۔مومنہ نے کہا۔
“امین”۔فاریہ نے کہا۔پھر تھوڑی دیر میں ایک پیشنٹ آگیا تو مومنہ اس میں مصروف ہوگئی۔فاریہ بھی واپس اپنی جگہ پر آگئی۔
******
ان لوگوں کو یہاں کیمپ میں آئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔اور ان ہی دنوں بارشیں دوبارہ شروع ہوگئیں تھیں۔جس کی وجہ سے واپس جانے کے راستے بند ہوگئے تھے۔بس جب تھوڑی بارش ہلکی ہوتی تو کچھ کچھ ڈاکٹرز گروپ بنا کر پمپ تک جاتے اور اپنے اپنے گھر فون کر کے خیر خیریت دے کر اور لے کر آجاتے۔
****
ابھی بھی بارش تھوڑی ہلکی تھی تو جینٹس ڈاکٹرز کا گروپ پیٹرول پمپ تک فون کرنے گیا تھا۔وہ لوگ آج تین دن بعد اپنے گھر پر رابطہ کررہے تھے۔سب نے اپنے اپنے گھر فون کیا۔پھر فرقان نے اپنے گھر کا نمبر ملایا۔پہلے تو بہت دیر تک بیل جاتی رہی کسی نے فون نہیں اٹھایا۔پھر فرقان نے دوبارہ ٹرائی کیا تو فون ریسوے کرلیا گیا۔
“ہیلو ! میں بول رہا ہوں فرقان ،کب سے فون کر رہا ہوں میں ،کوئی فون کیوں نہیں اٹھا رہا تھا؟۔فرقان نے کہا۔
“بھیا وہ…وہ…ام…امی..!۔دوسری جانب سے رمشا کی روتی ہوئی آواز ابھری۔
“کیا ہوگیا رمشا؟ سب خریت تو ہے کیوں رو رہی ہو؟ کیا ہوا امی کو؟۔فرقان نے پریشانی سے پوچھا۔
“بھیا دو دن پہلے امی کا بہت بری طرح ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، وہ اس وقت آئی۔سی۔یو میں ہیں”۔رمشا نے روتے ہوئے بتایا۔
“کیا ! اور باقی گھر والے کہاں ہیں؟۔فرقان نے حیرت اور صدمے سے پوچھا۔
“گھر کے سب بڑے اس وقت ہوسپٹل میں ہیں، بھیا آپ لوگ جلدی سے یہاں آجائیں”۔رمشا نے کہا۔
“دیکھو رمشا رو نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا ،ہم لوگ ابھی وہاں نہیں آسکتے ،یہاں پر راستے بند ہیں ،پر جیسے ہی راستے کھلیں گے ہم لوگ فوراً وہاں پہنچتے ہیں ،ہاں تم فکر مت کرو ،اچھا ابھی گھر میں تم عورتوں کے علاوہ اور کوئی ہے؟۔فرقان نے رمشا کو دلاسا دیتے ہوئے آخر میں پوچھا۔
“جی ! دانش بھائی اور نادر ہیں”۔رمشا نے بتایا۔
“اچھا دانش کو فون دو”۔فرقان نے کہا۔
“اچھا ایک منٹ بلاتی ہوں”۔رمشا نے کہا۔پھر کچھ دیر بات فون پر دانش تھا۔
“ہاں فرقان بولو!۔دانش نے کہا۔
“دانش امی کی حالت ابھی کیسی ہے؟ ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں ؟۔ فرقان نے پوچھا۔
“یار فرقان شہلا مامی اس وقت آئی۔سی۔یو میں ہیں،اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، بس کہہ رہے ہیں کہ ہم لوگ دعا کریں”۔دانش نے بتایا۔
“تم لوگ کب واپس آؤ گے؟۔دانش نے پوچھا۔
“یار موسم خراب ہونے کی وجہ سے راستے بند ہوگئے ہیں، اور ابھی کسی ایمرجنسی کی وجہ سے بھی ہم لوگ یہاں سے نہیں نکال سکتے”۔فرقان نے بتایا۔
“ہممم ! بتا تو رہے تھے ویسے خبروں میں ،خیر چلو ہم لوگ سب یہاں ہیں مامی ماموں کے ساتھ ،تم لوگ وہاں زیادہ پریشان مت ہونا، بس وقفے وقفے سے فون کرتے رہنا، کیونکہ ہم لوگ تو تم سے رابطہ کر نہیں پاتے”۔دانش نے کہا۔
“ہاں ٹھیک ہے ،میں پھر بہت جلد فون کروں گا”۔فرقان نے کہا۔
“ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا تم لوگ،اللّه حافظ”۔دانش نے کہا۔
“ہمم! اللّه حافظ”۔فرقان نے بھی کہا اور فون رکھ دیا۔اور پی۔سی۔او سے باہر آگیا۔
“کیا ہوا بھیا! سب خیریت تو ہے؟۔فیضان نے فرقان کو پریشان دیکھ کر پوچھا۔
“یار دو دن پہلے امی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ،اور وہ اس وقت آئی۔سی۔یو میں ہیں”۔فرقان نے بتایا۔
“کیا! فیضان اور حیدر نے حیرانگی سے کہا۔پھر فرقان نے دونوں کو ساری تفصیل بتائی۔بارش آہستہ آہستہ تیز ہونا شروع ہوگئی تھی۔اس لئے پھر وہ لوگ وہاں سے واپس آگئے۔
******
بارش کی وجہ سے خراب ہوئے راستے مزید خراب ہوگئے تھے۔اور جب سے مومنہ ،فرقان، فیضان اور حیدر کو شہلا کے بارے میں پتہ چلا تھا۔تب سے وہ لوگ اور پریشان تھے۔فاریہ کو بھی جب اس بات کا پتہ چلا تو اسے بھی افسوس ہوا۔پر یہاں سے ابھی نکلنا ممکن نہیں تھا۔جیسے تیسے صبر کرکے وہ لوگ اپنے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔کیونکہ گھر کی پریشانی اپنا جگہ اور فرض اپنی جگہ۔ان لوگوں کو شہلا کے ایکسیڈنٹ کی خبر ملے ہوئے تین دن ہوگئے تھے۔اور وہ لوگ ابھی تک دوبارہ گھر پر رابطہ نہیں کر پائے تھے۔پھر جب تھوڑا موسم بہتر ہوا تو فرقان اور فیضان فون کرنے آئے۔فرقان نے گھر کا نمبر ڈائل کیا۔بیل جانے لگی۔
“ہیلو ! ہاں میں بول رہا ہوں فرقان”۔دوسری جانب سے فون اٹھانے پر فرقان نے کہا۔
“ہاں فرقان بیٹا ،کہو کیسے ہو تم لوگ؟۔دوسری جانب سے عدنان صاحب نے پوچھا۔
“چاچو ہم لوگ تو ٹھیک ہیں ،یہ بتائیں کہ امی کیسی ہیں؟۔فرقان نے پوچھا۔
“بیٹا بھابھی تو اب ٹھیک ہیں ،ہوش میں ہیں ،پر ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ان کی کمر میں فیکچر آگیا ہے ،جس کی وجہ سے وہ اٹھنے ،بیٹھنے ،چلنے ،پھیرنے سے قاصر ہیں”۔عدنان صاحب نے بتایا۔
“تو پھر ابھی امی کہاں ہیں؟۔فرقان نے پوچھا۔
“بیٹا ابھی تو وہ ہوسپٹل میں ہی ایڈمٹ ہیں، پر ڈاکٹرز کہہ تو رہے تھے کہ انھیں تین چار روز تک ہوسپٹل سے ڈسچارج کردیں گے”۔عدنان نے بتایا۔
“ابھی اتنی جلدی ڈسچارج کرنے کی کیا ضرورت ہے ہوسپٹل سے، وہیں رکھیں انھیں ،ایکسیڈنٹ ہوا ہے انکا ،کوئی معمولی بات نہیں ہے”۔فرقان نے کہا۔
“تمہاری بات ٹھیک ہے بیٹا پر ایک تو خود ڈاکٹرز کا ہی یہ کہنا ہے کہ انھیں اب ہوسپٹل میں رکھنا اتنا زیادہ ضروری نہیں ہے ،ایسی کوئی خطرے والی بات نہیں ہے اب ،اور دوسرا خود شہلا بھابھی نے بھی ضد پکڑی ہوئی ہے کہ انھیں گھر آنا ہے”۔عدنان نے بتایا۔
“اچھا ! اور ابو کیسے ہیں؟۔فرقان نے پوچھا۔
“ہمم! ٹھیک ہیں وہ بھی ،بس تم لوگوں کو یاد کرتے ہیں”۔عدنان نے بتایا۔
“بس چاچو جیسے ہی یہاں پر راستے کھلیں گے ہم لوگ فوراً وہاں آجائیں گے”۔فرقان نے بتایا۔
“ہمم! اور باقی وہ تینوں کیسے ہیں؟۔عدنان صاحب نے پوچھا۔
“جی ٹھیک ہیں ،بس امی کی وجہ سے فکرمند ہیں”۔فرقان نے بتایا۔
“بیٹا تم لوگ زیادہ فکر مت کرو ،ہم لوگ ہیں نا یہاں تمہاری امی کے ساتھ”۔عدنان صاحب نے کہا۔
“جی چاچو بس اسی بات سے تو تسلی ہے”۔فرقان نے کہا۔
“ہمم! بس اپنا خیال رکھنا تم لوگ ہاں ،اللّه حافظ”۔عدنان صاحب نے کہا۔
“ہمم! اللّه حافظ”۔فرقان نے بھی کہا اور ریسیور رکھ کر باہر آگیا۔
“کیا ہوا بھیا؟ اب کیسی ہیں امی؟۔فیضان نے بے چینی سے پوچھا۔فرقان نے فیضان کو ساری تفصیل بتائی۔پھر دونوں واپس آگئے۔
******
بارش ہونے کی وجہ سے یہاں راستے تو خراب ہوگئے تھے۔پر موسم بہت اچھا ہوگیا تھا۔اور اسی موسم کو انجوئے کرنے کیلئے فاریہ اس وقت فجر کی نماز پڑھ کر اب یہاں باہر گھوم رہی تھی۔صبح کے قریب چھے بج رہے تھے۔آس پاس سنناٹا ہورہا تھا۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔جس کی وجہ سے درخت لہرا رہے تھے۔اور ایک خوبصورت سی آواز پیدا کررہے تھے۔فاریہ سینے پر ہاتھ باندھے چہل قدمی کر رہی تھی۔ٹھلتے ہوئے وہ کیمپ سے تھوڑا دور آگئی۔ایک جگہ پر اسے کافی ساری گھانس اگی ہوئی نظر آئی۔جو کہ اس وقت بہت ہی تازہ لگ رہی تھی۔گھانس کو دیکھ کر فاریہ نے اپنی سینڈل اتر دی۔اور ٹھنڈی ٹھنڈی نرم نرم سی گھانس اور چہل قدمی کرنے لگی۔اسے بہت مزہ آرہا تھا۔فاریہ گہری گہری سانسیں لے کر تازی ہوا کو اپنے اندر اترنے لگی۔کہ تب ہی اچانک اس کے پیر میں بہت زور سے کوئی چیز چبھی۔اور درد کی ایک شدید لہر دوڑ گئی۔اور بے اختیار اس کے منہ سے چیخ نکلی۔فاریہ وہیں گھانس پر ہی بیٹھ گئی۔اور اپنا پیر دیکھنے لگی۔اس کے پیر میں ایک بڑا سا کانٹا چبھا ہوا تھا۔اور پیر سے خون بھی نکال رہا تھا۔اس سے اتنی ہمت بھی نہیں ہورہی تھی کہ اٹھ کر واپس کیمپ تک جائے۔یا پھر اپنے پیر سے کانٹا نکال لے۔فاریہ کے آنسو بہنا شروع ہوگئے۔وہ پورے دل سے اس وقت اللّه سے مدد مانگ رہی تھی۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے!۔فاریہ نے اللّه کا نام لیا اور کس کے آنکھیں بند کیں۔اور اپنے پیر سے کانٹا نکالنے کیلئے ہاتھ اپنے پیر کی جانب بڑھایا۔پر کانٹے کو چھوتے ہی اسے درد ہوا۔اور اس نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔اور دوبارہ آنکھیں بند کرکے اللّه سے
مدد مانگنے لگی۔
جاری ہے
