Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16

“ہمم! مجھے بھی نیند آرہی ہے”۔نادر نے مصنوئی جمائی لیتے ہوئے کہا۔اور تابش تو باقاعدہ جانے کیلئے کھڑا بھی ہوگیا تھا۔اور فائزہ نے بھی چائے کے سارے خالی کپ کچن میں لے جانے کیلئے ٹرے میں جمع کر لئے۔
“ارے رُکیں ایسے کیسے آپ لوگ سونے جارہے ہیں!۔حیدر کو مجبورً منہ کھولنا ہی پڑا۔اور سب نے نظروں نظروں میں ایک دوسرے کو معنی خیزی سے دیکھا۔
“کیا مطلب کیسے! پیروں سے چل کر کمرے میں جائیں گے ،
اور آنکھیں بند کرکے سو جائیں گے ، ارے واہ یہ تو شعر بن گیا”۔نادر نے بولتے ہوئے آخر میں حیرانگی سے کہا۔
“تم چپ کرو، ممی آج شام کو کیا ہوا تھا؟۔حیدر نے نادر کو چپ کراتے ہوئے فیروزہ سے پوچھا۔
“کچھ بھی نہیں ہوا تھا، کیوں کچھ ہونا تھا کیا؟۔فیروزہ نے بھی مصنوئی لاعلمی سے کہا۔
“ارے میرا مطلب کہ آج تو آپ لوگ فاریہ کے گھر گئے تھے نا!۔حیدر نے وضاحت کی۔
“ہاں گئے تھے تو!۔فیروزہ نے پوچھا۔
“تو…تو…تو پھر!۔حیدر نے رک رک کر پوچھا۔کیونکہ اسکی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ کیسے واضح طور پر پوچھے۔اور باقی سب حیدر کی اس بوکھلاہٹ سے محفوظ ہورہے تھے۔
“کیا بولنا ہے بھائی جلدی بولو ، نیند آرہی ہے ہمیں”۔نادر نے مصنوئی انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔
“تو جا کر سو ، بڑا آیا سلیپنگ بیوٹی، سونے کی جلدی تو ایسے مچائی ہوئی ہے جیسے صبح مرغے کے ساتھ اذان دینی ہے تجھے”۔حیدر نے اپنی ساری جھنجھلاہٹ نادر پر نکال دی۔اور باقی سب کو حیدر کی حالت دیکھ کر ہنسی آرہی تھی۔پر سب نے ضبط کیا ہوا تھا۔
“حیدر کیا بات ہے سیدھی طرح بولو”۔ہمدان صاحب نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے پوچھا۔
“پاپا…وہ…وہ مجھے یہ پوچھنا تھا کہ..کہ آج فاریہ کے گھر پر کیا بات ہوئی؟۔حیدر نے اٹک اٹک کر پوچھا۔اور رفعت کی ہنسی چھوٹ گئی۔اور باقی سب سے بھی اب اور ضبط نہیں ہورہا تھا۔سب ہنس دیے۔اور حیدر سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھ رہا تھا۔
“حد ہوتی ہے بھائی، اپنے ہی رشتے کی بات کے بارے میں پوچھنے میں بھلا کوئی اتنا جھجھکتا ہے!۔تابش نے واپس صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“تم لوگوں کو تو نیند آرہی ہے نا ! تو جاؤ جاکر سو، میں تو ممی سے بات کررہا ہوں”۔حیدر نے تابش اور نادر کو آرام سے صوفے پر بیٹھا ہوا دیکھ کر کہا۔
“جی نہیں ، ہمیں کوئی نیند ویند نہیں آرہی ہے، ہم تو بس آپکو تنگ کرنے کیلئے ایسا کر رہے تھے”۔تابش نے بتایا۔
“ممی آپ بتائیں کہ کیا بات ہوئی ! کیا کہا ان لوگوں نے!۔حیدر نے نادر اور تابش کی بکواس کو نظر انداز کرتے ہوئے فیروزہ سے پوچھا۔
“بھئی وہ لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی اپنے اس آوارہ بیٹے کا رشتہ لے کر آنے کی!۔ہمدان صاحب نے بتایا۔
“مذاق مت کریں پاپا”۔حیدر نے کہا۔
“ارے مذاق تھوڑی کر رہا ہوں، اور ان لوگوں نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اپنے بیٹے کو سمجھا دیں کہ بلاوجہ ہماری بیٹی کو تنگ مت کیا کرے ،تمہاری وجہ سے اسکا ہوسپٹل آنا مشکل ہوجاتا ہے”۔ہمدان صاحب نے مزید تفصیل بتائی۔
“میں نہیں مانتا کہ انھوں نے ایسا کہا ہوگا”۔حیدر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
“مرضی ہے مت مانو”۔ہمدان صاحب نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“دادی آپ بتائیں ، یہ سب تو کچھ بتا ہی نہیں رہے ٹھیک سے”۔حیدر نے بلقیس بیگم کی جانب رخ کرکے کہا۔
“ارے تمہیں تنگ کر رہے ہیں یہ لوگ، ایسا کچھ نہیں ہوا”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“ہاں پر انھوں جواب کیا دیا! ہاں یا ناں ؟۔حیدر نے بے تابی سے پوچھا۔
“ابھی ان لوگوں نے کہا ہے کہ وہ ایک دو روز میں سوچ کر اور سب سے مشورہ کرکے جواب دیں گے”۔بلقیس بیگم نے بتایا۔
“کیا ! ایک دو دن میں ، کس سے مشورہ کریں گے ! اور اس میں سوچنے والی بات کیا ہے بھلا!۔حیدر نے کئی سوال پوچھ ڈالے۔
“ارے بیٹی کا معملا ہے، ایسا تھوڑی کوئی اپنی بیٹی کا ہاتھ کسی کو دے دیتا ہے ، اچھی طرح سوچ بچار ، صلاح مشورہ کرنا پڑتا ہے”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“پر پھر بھی….!۔حیدر نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑی۔
“کیا پھر بھی !۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“کچھ نہیں”۔حیدر نے کہا۔
“اوہ ہو! بے صبری تو دیکھو اس کی، کہاں تو کل تک شادی کرنے پر راضی ہی نہیں تھا، اور کہاں اب ایک دو دن بھی صبر نہیں ہورہا”۔فیضان نے شرارت سے کہا۔
“بات صبر کرنے کی نہیں ہے، اگر انھوں نے انکار کردیا تو!۔حیدر نے خدشہ ظاہر کیا۔
“کیوں کریں گے!۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“اگر انھیں خرد والی بات کے بارے میں پتہ چل گیا تو!۔حیدر نے کہا۔
“کیسے پتہ چلے گا ! ایک تو اس بات کو بھی اب ایک سال ہوگیا ہے ، اور دوسرا اگر پتہ چل بھی جاتا ہے تو اس میں گھبرانے والی کونسی بات ہے!۔فرقان نے کہا۔
“ہاں نا اور نہیں تو کیا ! خرد کو کونسا تم نے مارا تھا!۔رفعت نے بھی تائید کی۔حیدر نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“ارے بیٹا تم فکر مت کرو ، ایسا کچھ نہیں ہوگا، اور ویسے بھی آج ان لوگوں کے رویے سے ہی لگ رہا تھا کہ انکا جواب ہاں ہی ہوگا”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“ہممم! وہ لوگ کافی اچھے اخلاق سے ملے تھے”۔ممتاز نے کہا۔
“ہممم! اللّه کرے ایسا ہی ہو”۔حیدر نے کہا۔پھر تھوڑی دیر میں سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
********
اگلے دن جب حیدر ہوسپٹل آیا تو اسے پتہ چلا کہ آج بھی فاریہ ہوسپٹل نہیں آئی ہے۔حیدر کو تھوڑی مایوسی ہوئی پر پھر حیدر معمول کے مطابق اپنے کام میں لگ گیا اور پیشنٹ وغیرہ میں الجھ کر اس کا دھیان اس طرف سے ہٹ گیا۔شام کے قریب چھے بج رہے تھے۔حیدر ڈاکٹر احمر کے روم سے واپس اپنے روم کی جانب آرہا تھا۔جیسے ہی حیدر چھت پر جاتی ہوئی سیڑھیوں کے قریب سے گزرنے لگا۔تو اسے سیڑھیوں پر کچھ بہتا ہوا محسوس ہوا۔حیدر نے رک کر غور کیا تو وہ خون کی ایک پتلی سی دھار آہستہ آہستہ بہتی ہوئی آرہی تھی۔حیدر کو بہت حیرانگی ہوئی کہ یہ خون کہاں سے آرہا ہے! حیدر نے تھوڑا آگے آکر دیکھا تو وہ خون اوپر چھت پر بنے ایک کمرے کے دروازے کے نیچے سے نکل رہا تھا۔یہ کمرہ تقریباً ایک ڈیڑھ سال سے بند تھا۔اور یہاں کوئی بھی نہیں آتا جاتا تھا۔کیونکہ آج تک ہوسپٹل میں جتنے بھی عجیب و غریب واقعیات ہوئے تھے۔وہ سب اسی راستے پر ہوئے تھے۔تو لوگ یہاں آنے سے کتراتے تھے۔اور یہ حصہ زیادہ تر سنسان ہی رہتا تھا۔
“حیدر !۔حیدر جیسے ہی سیڑھیوں کے چند سٹیپ چڑھا پیچھے سے احمر نے آکے اسے پکارا۔حیدر رک گیا۔
“یہاں کیا کررہے ہو!۔احمر نے پوچھا۔
“اچھا ہوا تم آگئے احمر، یہ دیکھو”۔حیدر نے کہتے ہوئے خون کی جانب اشارہ کیا۔
“کیا دیکھوں؟۔احمر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“ارے یہ جو پتلی سی خون کی دھار بہتی ہوئی آرہی ہے”۔حیدر نے کہا۔
“کیا ہوگیا ہے ! یہاں پر تو کچھ بھی نہیں ہے”۔احمر نے کہا۔
“نہیں یار ہے ، تم دیکھو”۔حیدر نے واپس نیچے اتر کر کہا۔
“حیدر یہاں کچھ نہیں ہے ، تمہیں کوئی وہم ہوا ہے، اور میری مانو تو جلدی سے یہاں سے چلو، کیونکہ تم جانتے تو ہو کہ یہ جگہ کتنی پرسرار ہے”۔احمر نے کہا۔
“نہیں یار تم سمجھ کیوں نہیں رہے ہو یہاں پر…..!
“یہاں کوئی خون نہیں ہے، اور اب تم بھی یہاں سے چلو”۔احمر نے حیدر کو بازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے کہا۔اور وہاں سے لے آیا۔پر حیدر بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ یہ اسکا وہم نہیں ہے۔
********
چاروں جب ہوسپٹل سے واپس آئے تو انھیں معمول کی نسبت آج سب کافی خاموش خاموش لگے۔پھر کھانے کے بعد سب معمول کے مطابق تھوڑی دیر کیلئے ہال میں اکٹھا ہوئے۔
“حیدر!۔ہمدان صاحب نے پکارا۔
“جی پاپا!۔حیدر نے پوچھا۔
“تمہارے لئے دو خبریں ہیں”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“کون سی؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری ، اب بتاؤ کہ پہلے کونسی سنو گے؟۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔حیدر پہلے تو انھیں سوالیہ نظروں سے دیکھتا رہا۔
“پہلے بری خبر سنا دیں ، تا کہ بعد میں اچھی خبر سن کر دل اتنا خراب نا ہو”۔حیدر نے کہا۔
“ہمم! بری خبر یہ ہے کہ وہ جو خرد والے معاملے پر تم پر کیس ہوا تھا نا”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“جی! تو؟۔حیدر نے تشویش سے پوچھا۔
“تو ہوا یہ ہے کہ اس کیس کی فائل تو بند ہوچکی تھی، پر آج دوپہر میں ہی مجھے فون آیا اور پتہ چلا کہ کسی نے اس کیس کی فائل کو دوبارہ کھلوادیا ہے”۔ہمدان صاحب نے کہا۔اور حیدر دنگ رہ گیا۔
“کیا ! پر کس نے اور کیوں؟۔حیدر نے حیرانگی سے پوچھا۔
“یہ تو پتہ نہیں”۔ہمدان صاحب نے لاعلمی ظاہر کی۔
“پر چاچو ایسے کیسے ! جہاں تک ہمیں پتہ ہے کہ خرد کا تو اسکی ماں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، اور اسکی ماں کو یہ اچانک دوبارہ کیس کھلوانے کا خیال کیوں آگیا؟۔فرقان نے کہا۔
“اور اسکی ماں تو بہت ہی سیدھی سادی گھریلو عورت ہیں ، وہ ان سب معاملوں میں کیوں پڑگئیں؟۔فیضان نے بھی کہا۔
“اب ان سب کے بارے میں ابھی تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، کل ملتے ہیں ہم رضا (وکیل) سے پھر بات کرتے ہیں کہ وہ کون ہے اور ایسا کیوں کررہا ہے؟۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“اچھا یہ تو ہوگئی بری خبر ، اور اچھی خبر کیا تھی؟۔مومنہ نے پوچھا۔
“اچھی خبر یہ ہے کہ آج سجاد صاحب (فاریہ کے والد) کا فون آیا تھا، ان لوگوں نے رشتے کیلئے ہاں کردی ہے”۔فیروزہ نے بتایا۔
“ارے واہ ! سچ میں یہ تو بہت اچھی خبر ہے”۔فیضان نے خوشی سے کہا۔
“ہمم! اب ایک دو روز میں جاکر ہم لوگ نکاح کی تاریخ طے کر آئیں گے”۔ممتاز نے بتایا۔
“پر نکاح کی تاریخ تھوڑی جلدی ہی رکھیے گا، تین چار مہینے بعد کی تاریخ مت رکھ دیجئے گا”۔فیضان نے کہا۔اور سب نے فیضان کی بات پر معنی خیزی سے اسے دیکھا۔اور رمشا ، عائشہ ، عصمت ، تابش اور نادر نے تو باقاعدہ
“اوہ ہو” کرکے ہوٹنگ شروع کردی تھی۔
“کل تک تو تم حیدر کو بول رہے تھے کہ بڑی بے صبری ہورہی ہے، اور اب اپنے بارے میں کیا خیال ہے!۔دانش نے معنی خیزی سے کہا۔اور فیضان جھینپ کر رہ گیا۔
“تمہیں کیا ہوگیا، یہ اچانک صومّم بکمم کیوں بن گئے ہو؟۔فرقان نے حیدر کو خاموش دیکھ کر کہا۔
“کچھ نہیں، بس سمجھ نہیں آرہا کہ خوش ہوں یا افسوس کروں!۔حیدر نے کہا۔
“ارے بیٹا پریشان مت ہو ، کچھ نہیں ہوگا، اللّه پاک سب اچھا کرے گا”۔قیصر صاحب نے تسلی دی۔اور حیدر نے ہلکے سے مسکرا کر گردن ہلادی۔
*****
رات کے قریب ڈیڑھ بج رہے تھے۔اور نیند تھی کہ حیدر کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔اسے رشتہ پکا ہوجانے کی خوشی سے زیادہ اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں یہ بات فاریہ کے گھر والوں کو نا پتہ چل جائے۔اور اگر پتہ چل بھی گئی تو کہیں وہ لوگ یہ رشتہ نا ختم کردیں۔کیونکہ اس سے پہلے بھی جو حیدر کے رشتے ٹوٹے تھے وہ اسی وجہ سے ٹوٹے تھے۔پر تب تو خود بھی حیدر کو اپنی شادی میں دلچسپی نہیں تھی۔لیکن اب وہ فاریہ کو کھونے سے ڈر رہا تھا۔بہت دیر تک حیدر اسی کشمکش میں الجھا رہا۔پھر اچانک سے حیدر کو خیال آیا کہ اس سے پہلے یہ بات کسی اور سے ان لوگوں کو پتہ چلے۔ اسے خود ہی فاریہ کو سب کچھ بتادینا چاہئے۔اس خیال کے آتے ہی حیدر نے سائیڈ ٹیبل پر سے اپنا موبائل اٹھایا۔پر پھر اچانک اسے خیال آیا کہ ابھی تو بہت رات ہوچکی ہے۔فاریہ بھی شاید سو چکی ہوگی۔اس خیال کے آنے پر اس نے فون واپس رکھ دیا۔اور یہ طے کیا کہ کل فاریہ کو سب کچھ بتادے گا۔اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
******
اگلے دن حیدر نے ہوسپٹل آکر سب سے پہلے فاریہ کے بارے میں معلوم کیا۔اور یہ جان کر اسے تسلی ہوئی کہ فاریہ ہوسپٹل آئی ہے۔پھر حیدر مناسب موقع آنے پر بات کرنے کا سوچ کر اپنے کام میں مگن ہوگیا۔پھر دوپہر میں جب حیدر کے پاس کوئی خاص کام اور پیشنٹ نہیں تھا تو اس نے سوچا کہ فاریہ سے بات کرلے۔پر اس سے قبل حیدر کبھی فاریہ کے روم میں گیا نہیں تھا اس لئے اسے تھوڑی جھجھک محسوس ہورہی تھی۔پر پھر ہمت کرکے اس کے روم میں جانے کیلئے کھڑا ہوگیا۔فاریہ کے روم کے باہر آکر بھی حیدر کشمکش میں تھا کہ دستک دے یا ناں دے!۔ پھر حیدر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد دستک دی۔پر اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔حیدر نے دوبارہ دستک دی۔پھر بھی کوئی جواب نہیں آیا۔دو تین بار دستک دینے پر بھی جب کوئی جواب نہیں آیا تو حیدر کو تشویش ہوئی۔اور حیدر روم کا دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر آگیا۔حیدر کی نظر فاریہ پر پڑی۔وہ نماز پڑھ رہی تھی۔حیدر کو اطمینان ہوا۔چند سیکنڈ تو وہ اسے دیکھتا رہا۔ہر قسم کے میک اپ سے عاری چہرہ ، جھکی ہوئی پلکیں ، اور آہستہ آہستہ ہلتے لب جیسے وہ کوئی راز کی بات کررہی ہو۔حیدر کو اس وقت وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔پھر یہ سوچ کر کہ فاریہ کو کہیں اس کی خود کی ہی نظر نا لگ جائے۔حیدر پلٹنے ہی لگا تھا کہ فاریہ نے سلام پھیرلیا۔
“آپ یہاں!۔فاریہ نے سلام پھیر کر کہا۔حیدر پلٹتے پلٹتے رک گیا۔
“ہاں وہ کچھ بات کرنی تھی تم سے”۔حیدر نے بتایا۔
“ٹھیک ہے، بس میں دعا مانگ لوں، آپ تب تک بیٹھیں”۔فاریہ نے کہا۔
“نہیں میں بعد میں بات کر لوں گا، تم آرام سے دعا مانگ لو”۔حیدر نے کہا۔فاریہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھانے لگی۔
“سنو!۔حیدر نے پھر پلٹ کر کہا۔
“جی!۔فاریہ نے رک کر پوچھا۔
“میرے لئے بھی دعا کرنا”۔حیدر نے کہا۔فاریہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔اور حیدر روم سے باہر چلا گیا۔
********
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *