Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01

رات کے قریب ڈیڑھ بج رہے تھے۔ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔چاند آسمان پر اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ہسپتال میں بھی تقریباً سارے مریض سو چکے تھے۔اور نائٹ شفٹ والے ڈاکٹرز اپنے اپنے روم میں تھے۔ڈاکٹر نادیہ بھی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہی تھیں۔وہ اپنی چیئر پر بیٹھی کسی پیشنٹ کی فائل چیک کر رہی تھیں۔ اور مسلسل کچھ سوچے بھی جارہی تھیں۔کہ تب ہی اچانک سے ان کا فون بجنے لگا۔ڈاکٹر نادیہ نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔
“ہیلو! جی بھیا، ہاں تو پھر آپ آرہے ہیں نا کل! مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے”۔نادیہ نے کہا۔اور دوسری جانب کا جواب سننے لگی۔
“ارے بتایا تو تھا نا کہ فون پر نہیں بتا سکتی،بس آپ آجائیں جلدی سے کل، ہاں ٹھیک ہے پھر کل ملتے ہیں،اللّه حافظ”۔ڈاکٹر نادیہ نے بات کر کے فون رکھ دیا۔اور بے صبری سے کل کا انتظار کرتے ہوئے اپنا کام کرنے لگیں۔کہ تب ہی اچانک سے باہر سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی۔نادیہ چونک گئی۔نادیہ نے اپنے روم سے باہر نکل کر دیکھا تو باہر کوئی نہیں تھا۔بس فرش پر کچھ کانچ بکھرے ہوئے تھے۔ابھی نادیہ یہ سب دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک سے کوریڈور کی لائٹیں اپنے آپ جلنے اور بند ہونے لگیں۔پھر رک گئیں۔نادیہ کو کچھ عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔
“کون ہے؟۔ نادیہ نے پکارا۔
“دیکھو تم جو کوئی بھی ہو……..!.۔ابھی نادیہ کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسے سیڑھیوں پر کوئی سایہ چھت کی طرف جاتا نظر آیا۔ نادیہ بھی فوراً اس کے پیچھے چھت پر بھاگی۔کیونکہ آخری منزل پر ہی تو نادیہ کا روم تھا اس لیئے چھت زیادہ دور نہیں تھی۔نادیہ نے چھت پر پہنچ کر دیکھا۔پر وہاں کوئی نہیں تھا۔نادیہ نے سب جگہ دیکھا پر کوئی نا ملا۔ جیسے ہی نادیہ نے ہسپتال کی چھت سے نیچے دیکھا تو تب ہی کسی نے اچانک سے پیچھے سے نادیہ کو دھکا دے دیا۔اور وہ اپنا توازن برقرار نا رکھ پائی اور پانچویں منزل سے نیچے گرگئی۔
***********
“بھیا ،بھابھی آپ لوگوں کو پتہ چلا ڈاکٹر نادیہ کے بارے میں؟۔فیضان نے ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ فمیلی کے سارے لوگ اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر موجود ناشتہ کررہے تھے۔
“ہاں بس وہیں جا رہے ہیں”۔فرقان نے چاۓ کا کپ رکھتے ہوئے کہا۔
“کیا ہوا ڈاکٹر نادیہ کو؟۔شہلا نے پوچھا۔
“امی کل رات ڈاکٹر نادیہ کا چھت سے گر کر انتقال ہوگیا ہے”۔فیضان نے بتایا۔
“اوہ! اللّه پاک مغفرت فرماۓ”۔شہلا نے افسوس سے کہا۔
“ویسے لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں،یہ سب کچھ ایک سال پہلے ہونے والے اس واقعے کے بعد سے ہی شروع ہوا ہے،یہ سب کچھ یقیناً وہی کررہی ہے”۔فائزہ بھابھی نے کہا۔
“فائزہ تم اب صرف ناشتے کیلئے ہی منہ کھولنا”۔جاوید نے فائزہ کو گھورتے ہوئے کہا۔اور فائزہ منہ بنا کر ناشتہ کرنے لگی۔
“چلو ہم چلتے ہیں، حیدر تم بھی ہمارے ساتھ چل رہے ہو یا بعد میں آؤ گے؟”۔فرقان نے اٹھتے ہوئے حیدر سے پوچھو جو خاموشی سے ناشتہ کر رہا تھا۔
“جی بھیا میں بھی ساتھ ہی چل رہا ہوں”۔حیدر نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور ساتھ ہی فیضان اور مومنہ بھی جانے کیلئے کھڑے ہوگئے۔
************
“کیسے ہوا یہ سب کچھ پتہ چلا؟۔فرقان نے ڈاکٹر احمر سے پوچھا۔
“وہ لوگ اس وقت ہسپتال کے کوریڈور میں کھڑے تھے۔
“ٹھیک طرح سے تو کچھ معلوم نہیں پر یہاں کہ اسٹاف کا کہنا ہے کہ رات کے قریب دو بجے ایک نرس نے ڈاکٹر نادیہ کی ڈیتھ باڈی کو باہر خون میں لت پت پڑا دیکھا اور شور مچا کر سارے اسٹاف کو اکھٹا کیا،اب وہ چھت سے حادثاتی طور پر گریں تھیں یا جان بوجھ کر گرایا گیا ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا، ابھی انکی ڈیتھ باڈی سرد خانے میں رکھی ہوئی ہے، ڈاکٹر نادیہ کے بھائی کو بھی انفارم کردیا ہے، وہ آجائیں گے تو باڈی ان کے حوالے کر دی جائے گی”۔ڈاکٹراحمر نے ساری تفصیل بتائی۔
“ہممم ! تو کسی نے پولیس کو بلایا کیا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“ہاں آئی تھی پولیس بھی، بس وہی سب سے کچھ سوال جواب کرکے چلی گئی، جب ڈاکٹر نادیہ کے بھائی آئیں گے تو وہ لوگ پھر آئیں گے، ان سے بھی کچھ پوچھ گچھ کرنے”۔ڈاکٹر احمر نے بتایا۔
*************
“ہاں تو آپ کو کسی پر کوئی شک ہے؟۔پولیس والے نے ڈاکٹر نادیہ کے بھائی فیروز سے پوچھا۔
“نہیں انسپکٹر صاحب”۔فیروز نے کہا۔وہ لوگ اس وقت ہسپتال میں ڈاکٹر فرقان کے روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔
“اچھا موت سے پہلے کیا مقتولہ سے آپکی کوئی بات ہوئی تھی ؟ یا انھوں نے آپکو کچھ بتایا ہو ! جو اس وقت قابلِ ذکر ہو !۔انسپکٹر نے پوچھا۔
“جی کل پہلے تو دوپہر میں نادیہ کا میرے پاس فون آیا، وہ مجھے یہاں بلا رہی تھی، اسے مجھ سے کچھ بات کرنی تھی، میں نے کہا بھی کہ وہ مجھے فون پر ہی بتادے پر وہ بار بار مجھے یہاں آنے کا کہہ رہی تھی، پھر آخری دفعہ کل ہی رات میں قریب ایک ڈیڑھ بجے میں نے نادیہ کو فون کیا تھا یہ بتانے کیلئے کہ میں آج آرہا ہوں، بس یہی آخری بات ہوئی تھی”۔فیروز نے بتایا۔
“اچھا ! تو مقتولہ کو آپ سے کیا بات کرنی ہوگی ! کچھ اندازہ ہے آپ کو ؟۔انسپکٹر نے پوچھا۔
“نہیں ! کیونکہ اس نے فون پر کچھ نہیں بتایا تھا، اس نے کہا تھا کہ جب میں یہاں آجاؤں گا پھر وہ بتاۓ گی”۔فیروز نے کہا۔
“اچھا اس کے علاوہ کوئی اور بات جو آپکو لگتا ہو کہ ہمیں اس کیس میں مدد کرے گی!۔ انسپکٹر نے پوچھا۔
“نہیں انسپکٹر صاحب اور تو مجھے ایسی کوئی بات نہیں پتہ”۔فیروز نے کہا۔
“اچھا تو ڈاکٹر صاحب آپ کچھ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر نادیہ کو کیا بات کرنی ہوگی اپنے بھائی سے ؟۔ انسپکٹر نے فرقان کی طرف رخ کر کے پوچھا۔
“جی نہیں انسپکٹر صاحب”۔فرقان نے کہا۔
“اچھا یہاں ہسپتال میں کوئی مسلہ ہوا ہو ! یا پھر کوئی ایسا جس پر آپ کو شک ہو ؟۔انسپکٹر نے پوچھا۔
“نہیں انسپکٹر یہاں تو کوئی مسلہ نہیں ہوا تھا، اور نا ہی ہمیں کسی پر شک ہے”۔فرقان نے کہا۔
“ہممم! ویسے اس ایک سال میں اس ہسپتال میں یہ تیسرا کیس ہے، اور عجیب بات یہ ہے کہ اب تک کوئی ثبوت یا گواہ ایسا نہیں ملا جو ان کیسیس میں مدد کرسکے”۔ انسپکٹر نے کہا۔
“اچھا خیر اب میں چلتا ہوں دوبارہ ضرورت پڑی تو آؤنگا”۔ انسپکٹر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“اچھا انسپکٹر صاحب کیا میں اپنی بہن کی باڈی اپنے گھر ملتان لے جاسکتا ہوں؟۔فیروز نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
“جی بالکل، بس اگر ہمیں کبھی آپکی ضرورت پیش آئی تو آپکو یہاں آنا ہوگا”۔ انسپکٹر نے کہا۔
“جی بالکل میں حاضر ہوں”۔فیروز نے کہا
***************
یہ کہانی ہے “علی ولا” میں مقیم لوگوں کی۔سب سے بڑے اور گھر کے سربراہ تھے قیصر علی خان اور انکی بیگم بلقیس قیصر۔انکے چار بچے تھے۔تین بیٹے اور ایک بیٹی۔سب سے بڑا بیٹا تھا ارسلان علی خان اور انکی بیوی شہلا ارسلان۔اور انکے تین بچے تھے۔بڑا بیٹا فرقان جو کے ڈاکٹر تھا اور اسکی بیوی مومنہ وہ بھی گائناکالوجسٹ تھی۔اور انکے دو بیٹے تھے۔پھر فرقان سے چھوٹا تھا فیضان وہ بھی ڈاکٹر تھا اور ان میریڈ تھا۔ اور اس سے چھوٹی تھی رمشا جو کے ابھی پڑھ رہی تھی۔پھر تھا قیصر علی کا دوسرا بیٹا ہمدان علی خان اور انکی بیوی فیروزہ ہمدان اور انکا ایک ہی اکلوتا بیٹا تھا حیدر۔وہ بھی ڈاکٹر ہی تھا۔پھر تھا قیصر علی کا تیسرا بیٹا عدنان علی خان اور انکی بیوی ممتاز عدنان۔ان کے چار بچے تھے۔ دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔سب سے بڑا بیٹا تھا جاوید اور انکی بیوی فائزہ۔ان کے تین بچے تھے ۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔جاوید کے ساتھ ہی اسکی جوڑواں بہن تھی سدرہ جو کہ شادی شدہ تھی۔پھر سدرہ سے چھوٹا تھا نادر جو کہ ان میریڈ۔اور اس سے چھوٹی تھی عائشہ جو کہ رمشا کی ہی ہم عمر تھی اور پڑھ رہی تھی۔پھر تھی قیصر علی کی بیٹی رفعت۔اسکی شادی کے پانچ سال بعد ہی اسکے شوہر کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا۔اور قیصر صاحب نے ہرگز اپنی بیٹی کو تنہا چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس لئے وہ بھی اپنے تینوں بچوں، بہو اور پوتی کے ساتھ یہاں “علی ولا” میں مقیم تھی۔رفعت کا سب سے بڑا بیٹا تھا دانش اور اس کی بیوی مریم۔انکی ایک ہی بیٹی تھی۔پھر دانش سے چھوٹی تھی عصمت جو کہ پڑھ رہی تھی اور نہایت ہی ماڈرن تھی۔اور عصمت سے چھوٹا تھا تابش۔جو ابھی پڑھ رہا تھا پر اس کو فوٹو گرافی کا جنون تھا۔ حیدر، فیضان اور فرقان کے علاوہ باقی سب اپنا آفس ہی سمبھالتے تھے۔یوں یہ بڑی سی فمیلی “علی ولا” میں مقیم تھی۔
***********
حیدر ، مومنہ ،فرقان اور فیضان ہسپتال سے واپس آگئے تھے۔اور اس وقت لاؤنچ میں بیٹھے ہوئے تھے۔باقی سب گھر والوں کا موڈ بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔اور خاص طور پر فیروزہ تو بالکل ہی چپ تھی۔
“کیا ہوا کچھ پتہ چلا کہ کیسے ہوا یہ سب؟۔ارسلان صاحب نے پوچھا۔
“نہیں ابو، بس وہی پولیس آئی تھی اور پوچھ گچھ کر کے چلی گئی”۔فرقان نے کہا۔
“اب کیا فائدہ پوچھ گچھ کرنے کا! جانے والا تو چلا گیا نا”۔بلقیس بیگم نے سروتے سے چھلایا کاٹتے ہوئے کہا۔
“ویسے آپ لوگ ایسے کیوں بیٹھے ہوئے ہیں ! سب خیریت تو ہے نا !۔فیضان نے سب کو یوں خاموش اور بجھا بجھا سا دیکھ کر پوچھا۔
“ہونا کیا ہے، وہی ہوا جو اب تک ہورہا تھا، اریبہ کے گھر سے فون آیا تھا، ان لوگوں نے بنا کسی ٹھوس وجہ کے حیدر اور اریبہ کا رشتہ ختم کردیا ہے”۔شہلا نے بتایا۔
“پر کیوں امی! کوئی تو وجہ ہوگی نا! کچھ تو بتایا ہوگا نا انھوں نے کہ ایسا کیوں کیا؟۔ فرقان نے پوچھا۔
“نہیں کوئی واضح جواب نہیں دیا بس کہہ رہے تھے کہ انھیں حیدر کے بارے میں کچھ اچھی معلومات نہیں ملی”۔شہلا نے بتایا۔
“ایسے کیسے ، ہم لوگ کل جاکر خود بات کریں گے ان لوگوں سے”۔فیضان نے کہا۔
“کسی کو بھی کہیں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کسی کے بھی کہیں جانے سے کچھ بدل نہیں جائے گا، ہوگا وہی جو اب تک ہوتا آیا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“پر یار حیدر……..!
“مجھے نیند آرہی ہے میں اپنے کمرے میں جارہا ہوں”۔حیدر نے فیضان کی بات کاٹتے ہوئے کھڑے ہوکر کہا۔اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔اور باقی سب ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے ۔
**************
“بس بھی کردو فیروزہ، اب کیا تمہارے رونے سے سارے مسلے حل ہوجائیں گے!۔ہمدان نے کہا ۔وہ دونوں اس وقت اپنے کمرے میں تھے۔اور فیروزہ حیدر کی وجہ سے پریشان تھی۔
“رؤں نہیں تو اور کیا کروں میں ! ، مجھ سے میرے بچے کی یہ ویران سی زندگی نہیں دیکھی جاتی، آج بھی دیکھا نا آپ نے کہ لڑکی والوں نے فون کر کے یہ رشتہ بھی ختم کردیا، پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے ہماری خوشیوں کو؟۔فیروزہ نے کہا۔ہمدان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“آپکو یاد ہے ناں کہ ہماری شادی کے چار سال بعد حیدر کتنی منتوں مُرادوں کے بعد پیدا ہوا تھا، اور ایسے میں پھر اب اسکی یہ حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی، میری کتنی خواہش ہے کہ میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بیٹے کو ہنستا مسکراتا آباد دیکھوں، پتہ نہیں کب پوری ہوگی میری یہ خواہش؟۔فیروزہ نے کہا۔
“اللّه پر بھروسہ رکھو ، سب ٹھیک ہوجائے گا”۔ہمدان نے فیروزہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔اور باہر کھڑے حیدر سے بھی اب اور وہاں رکا نہیں گیا تو وہ بھی واپس اپنے کمرے میں آگیا۔حیدر ہمدان اور فیروزہ سے کچھ دیر بات کرنے آیا تھا۔پر دروازے پر ہی دونوں کی باتیں سن کر رک گیا تھا۔اور پھر واپس اپنے کمرے میں آگیا۔اور بیڈ پر اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے نیچے رکھ کر ہاتھوں کا تکیہ بنا کر لیٹ گیا۔اور چھت کو تکنے لگا۔اور ماضی میں کھوگیا۔پورا ماضی اس کے ذہن میں کسی فلم کی طرح چلنے لگا۔
************
“ایک سال پہلے”
ایک سال پہلے سب کچھ بالکل ٹھیک تھا۔سب کچھ اپنے معمول پر تھا۔صبح کا وقت تھا ساری فمیلی ڈائننگ ٹیبل پر جمع تھی۔
“ارے فائزہ اب آج کی تاریخ میں لے بھی آؤ ناشتہ”۔جاوید نے ہانک لگائی۔
“افو آرہی ہوں، ذرا صبر نہیں ہے آپکو”۔فائزہ نے ڈائننگ ٹیبل کی طرف آتے ہوئے کہا۔اور پراٹھوں سے بھرا ہاٹ پاٹ ٹیبل پر رکھا۔
“اور بھابھی میرا انڈا کہاں ہے؟۔نادر نے پوچھا۔
“ارے تم نے انڈا کب دیا؟۔حیدر نے شرارت سے پوچھا۔
“ارے میرا مطلب کہ بھابھی مجھے انڈا تو بنادیں”۔نادر نے وضاحت کی۔
“کیوں تم انسانوں والی زندگی سے مطمئن نہیں ہو جو انڈا بننا چاہتے ہو!۔حیدر نے پھر نادر کا جملہ پکڑتے ہوئے تنگ کیا۔
“یار بھائی تم بھی نا، بھابھی آپ مجھے ایک ہاف فرائی انڈا بنادیں”۔نادر نے کہا۔
“پھر انڈا بنا دیں، کیوں میرے بھائی تو کیوں اپنی زندگی کے پیچھے پڑا ہوا ہے”۔حیدر نے پھر چھڑا۔
“یہ لو تمہارا انڈا”۔اس سے پہلے کے نادر حیدر کو کوئی جواب دیتا مریم نے انڈے کی پلیٹ نادر کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو بھابھی”۔نادر نے کہا۔
“اے ذرا چکھنا تو “اپنا انڈا” میں بھی تو دیکھوں کہ کیسا ٹیسٹ ہے “تمہارے انڈے” کا”۔حیدر نے پھر شرارت سے کہا۔
“حیدر بس”۔ہمدان صاحب نے ٹوکا۔
“رہنے دیں تایا، میں ویسے بھی پاگلوں کی باتوں کا برا نہیں مانتا”۔نادر نے مصنوئی بےنیازی سے کہا۔
“اوہ ہو ! برا نہیں مانتا، شکل ہے تمہاری برا ماننے والی!۔حیدر نے کہا۔
“اچھا بس اب ناشتے پے دھیان دو”۔اب فیروزہ نے ٹوکا۔سب ناشتہ کرنے لگے۔
“ہاں تو پھر حیدر تم ہمارے ساتھ آرہے ہو ہوسپٹل یا بعد میں آؤ گے؟۔فرقان نے پوچھا۔
“نہیں آپکے ساتھ ہی چل رہا ہوں”۔حیدر نے دوسرا پراٹھا اپنی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
“لگ تو نہیں رہا”۔فرقان نے نیپکین سے ہاتھ صاف کرکے حیدر کی پلیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“دیکھ رہی ہیں آپ دادی، آپ کے بچے کے کھانے پینے پر نظر رکھی جا رہی ہے”۔حیدر نے نوالہ منہ میں ڈال کر مصنوئی شکایات کرتے ہوئے کہا۔
“کون نظر لگارہا ہے! تو کھا میرے بچے”۔بلقیس بیگم نے کہا۔فرقان کاندھے اچکاتے ہوئے مسکرا دیا۔
“اچھا میں دو منٹ میں آتی ہوں ہاں”۔مومنہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“اب تو میں آرام سے ناشتہ کرسکتا ہوں،کیونکہ لیڈیز کے دو منٹ کا مطلب تو آپ سمجھتے ہیں نا”۔حیدر نے شرارت سے کہا۔اور مومنہ حیدر کی سر پر چپت لگاتے ہوئے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
************
حیدر اس وقت ہوسپٹل میں اپنے روم میں بیٹھا کچھ فائلیں چیک کررہا تھا۔کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس کم ان”۔حیدر نے فائل کو دیکھتے ہوئے ہی کہا۔
“السلام علیکم ڈاکٹر صاحب”۔آنے والوں نے یک زبان سلام کیا۔
“وعلیکم السلام بیٹھیں”۔حیدر نے فائل رکھتے ہوئے کہا۔
“یہ میرے شوہر ہیں، کل رات سے ان کے سینے میں بہت درد ہورہا ہے، آپ ذرا دیکھیں کہ کہیں کوئی مسلے کی بات تو نہیں ہے!۔عورت نے کہا۔
“اچھا آئیں آپ ذرا یہاں”۔حیدر نے کھڑے ہوکر پاس رکھے سٹیچر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔آدمی سٹیچر پر لیٹ گیا۔حیدر نے اسکیتھسکوپ لگا کر پہلے اس کا سینہ چیک کیا پھر پیٹ ہاتھ سے دبا کر دیکھا۔پھر اشارہ کر کے واپس چیئر پر بیٹھنے کو کہا۔اور خود بھی اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گیا۔
“کیا ہوا ڈاکٹر صاحب کوئی مسلے کی بات تو نہیں ہے نا !۔ عورت نے پوچھا۔
“اچھا ہوا کہ آپ لوگ ابھی آگئے ،اگر تھوڑی دیر اور کرتے تو مسلہ ہوجاتا”۔حیدر نے پرچی پر کچھ لکھتے ہوئے کہا۔
“کیوں کیا ہوجاتا ڈاکٹر صاحب؟۔عورت نے تشویش سے پوچھا۔
“میں راؤنڈ پر چلا جاتا اور آپکو ملتا نہیں”۔حیدر نے شرارت سے کہا۔
“یااللّه ! ڈاکٹر صاحب آپ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا”۔عورت نے کہا۔
“ارے ایسے ہی مریضوں کا دھیان ہٹانے کیلئے ایسا مذاق کرتے رہنا چاہئے،اور ان کو کوئی ایسا مسلہ نہیں ہے بس ایسیڈیٹی کی وجہ سے درد ہورہا ہے،میں نے یہ دوائیاں لکھ دی ہیں،اس سے ان شاءاللّه ٹھیک ہوجائیں گے یہ”۔حیدر نے وہ پرچی عورت کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب ، اور آپکی فیس !۔ عورت نے پوچھا۔
“باہر کاؤنٹر پر دے دیں”۔حیدر نے کہا۔اور وہ دونوں چلے گئے۔حیدر پھر سے کچھ فائلیں دیکھنے لگا۔پھر تھوڑی دیر بعد راؤنڈ پر چلا گیا۔
*************
“یار فیضان حد ہوتی ہے تم کب سے صرف بول ہی رہے ہو کہ اپنے گھر والوں سے بات کرو گے پر کر نہیں رہے ہو”۔انعم نے جھنجھلا کر کہا۔انعم اس ہوسپٹل کی نرس تھی اور اس وقت فیضان کے روم میں بیٹھی تھی۔
“یار انعم میں نے تمھیں اپنی امی کے مزاج کا بتایا تو ہے نا ، اب میں موقع ڈھونڈ تو رہا ہوں ان سے بات کرنے کا، جیسے ہی کوئی اچھا موقع ہاتھ آئے گا میں فوراً ہی ان سے بات کروں گا”۔فیضان نے کہا ۔
“تم یہاں موقع ڈھونڈتے رہو اور میری اپنی وہاں میرے لئے رشتے ڈھونڈ رہی ہیں، اور میں منع کروں گی تو وہ وجہ پوچھیں گی، جو کہ میں ابھی بتا نہیں سکتی جب تک تم اپنے گھر والوں سے بات کر کے مجھے کنفرم جواب نہیں دے دیتے ، اور بات تم پتہ نہیں کون سی صدی میں کرو گے “۔انعم نے کہا۔
“تمہاری امی کو ابھی اتنی جلدی کیا ہے تمہاری شادی کی جو رشتے ڈھونڈنا شروع کردیے ہیں!۔فیضان نے پوچھا۔
“کیونکہ انھیں فکر ہے کہ انکے بعد میرا کیا ہوگا ، تم تو جانتے ہی ہو کہ ہم دونوں ماں بیٹی کا ایک دوسرے کہ سوا اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہے، اور امی بھی آج کل بیمار رہتی ہیں ، اس لیئے وہ جلد از جلد اپنی زندگی میں ہی مجھے اپنے گھر کا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہیں”۔انعم نے بتایا۔
“دیکھو تمہاری بات ٹھیک ہے پر میری بھی تو کچھ مجبوریاں ہیں نا ، پلیز بس تھوڑا وقت اور دے دو”۔فیضان نے کہا۔انعم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“اچھا چھوڑو یہ سب ایک کام کرتے ہیں کے شام کو کہیں باہر چلتے ہیں، تمھیں ونیلا آیسکریم پسند ہے نا وہ کھاتے ہیں شام کو چل کے”۔فیضان نے انعم کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے کہا۔
“مجھے نہیں کھانی کوئی آئسکریم”۔انعم نے کہا۔
“دیکھو اب تم بیکار کی بات بڑھا رہی ہو انعم، تم بھی تو میرے مسلے سمجھنے کی کوشش کرو نا، وہاں گھر میں امی کی وجہ سے میں ٹینشن میں رہتا ہوں اور یہاں تم یہ کام کررہی ہو سمجھ نہیں آتا میری کے میں جاؤں کہاں؟۔فیضان نے جھنجہلاتے ہوئے کہا۔
“اچھا سوری، چلو شام میں چلتے ہیں”۔انعم نے فیضان کا موڈ دیکھ کر نرم پڑتے ہوئے کہا۔فیضان مسکرادیا۔اور ساتھ ہی ساتھ باہر کھڑا حیدر بھی۔
***********
حیدر اپنے روم میں واپس جا رہا تھا۔جیسے ہی حیدر کوریڈور کی جانب موڑا سامنے سے آنے والے سے بری طرح ٹکرا گیا۔
۔”Oh! I’m so sorry”۔حیدر نے جلدی سے معذرت کی۔ٹکرانے والی لڑکی تھی۔قد اسکا حیدر کے ہی جتنا تھا۔اور جسم ہاتھ بھی کافی بھرے بھرے ہوئے تھے۔اس لئے وہ حیدر سے تھوڑی بڑی لگ رہی تھی۔اس نے اپنے اسٹیپ کٹینگ بالوں کی پونی بندھی ہوئی تھی۔اور گرین کلر کی لونگ شرٹ اور اس کے اوپر وائٹ کلر کا کوٹ پہنا ہوا تھا اور اور ساتھ ہی بلیک کلر کا فلیپر پہنے ہوئے تھی۔اور گلے میں اسکیتھسکوپ ڈالا ہوا تھا۔حلیے سے وہ بھی ڈاکٹر ہی لگ رہی تھی۔اور حیدر کو مسلسل گھورے جا رہی تھی۔
۔”I said sorry”۔حیدر نے جواب نا پاکر دوبارہ کہا۔
۔”Oh! No that was my mistake” ۔حیدر کے دوبارہ کہنے پر لڑکی نے ہڑبڑا کر پلکیں جھکاتے ہوئے کہا۔
“ارے ڈاکٹر خرّد آپ یہاں میں آپکو آپکے روم میں ڈھونڈ رہی تھی”۔اس سے پہلے کے حیدرکچھ کہتا مومنہ کہتی ہوئی دونوں کے قریب آگئی۔
“حیدر یہ یہاں کی نئی ڈاکٹر ہیں ڈاکٹر خرّد عثمان ،آج ہی انہوں نے جوائن کیا ہے، اور ڈاکٹر خرد یہ ہیں ڈاکٹر حیدر علی خان اور ساتھ ہی میرے دیوار بھی”۔مومنہ نے تعارف کرایا۔
“چلیں خرد میں آپکو باقی سب سے ملوادوں”۔مومنہ نے کہا۔
“اچھا اب میں بھی چلتا ہوں ، پھر ملاقات ہوگی”۔حیدر نے بھی کہا۔اور اگے بڑھ گیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *