Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 (Watching)Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15
کھانے کے بعد قیصر صاحب نے ممتاز ، عدنان ، فیروزہ ، ہمدان ، رفت اور ارسلان کو شہلا کے کمرے میں آنے کا کہا۔اور اس کا مطلب تھا کہ قیصر صاحب اور بلقیس بیگم کوئی ضروری بات کرنے والے ہیں۔ویسے تو اس طرح کی “میٹنگ” قیصر صاحب کے کمرے میں ہی ہوتی تھی۔پر کیونکہ شہلا کی حالت ابھی ایسی نہیں تھی کہ وہ چل کر وہاں تک آسکیں اس لئے قیصر صاحب نے سب کو یہاں بلا لیا تھا۔کمرے میں “اولڈ جنریشن” کی “میٹنگ” چل رہی تھی۔اور باہر ہال میں “ینگ جنریشن” کی “میٹنگ” چل رہی تھی۔اور ان لوگوں میں کھل بالی مچی ہوئی تھی کہ آخر وہ لوگ اندر کمرے میں کیا بات کررہے ہوں گے!۔ سب اپنی اپنی طرف سے تُکے لگا رہے تھے۔
“جہاں تک میرا خیال ہے کہ اندر اس وقت یہ بات ہورہی ہوگی کہ….کہ…کہ…!۔نادر نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“کیا کہ کہ کہ کر کے شارخ خان بنا ہوا ہے ، سہی سے بتا”۔حیدر نے کہا۔
“اندر یہ بات ہورہی ہوگی کہ …کل کھانے میں کیا پکائیں گے؟۔نادر نے بہت ہی خفیہ انداز میں کہا۔
“شاٹ اپ یار، سوچو کہ اندر کیا بات ہورہی ہوگی!۔عصمت نے کہا۔
“ہاں باجی ٹھیک کہہ رہی ہیں، سوچو سوچو”۔تابش نے کہا۔اور عصمت نے تابش کے “باجی” کہنے پر پاس پڑا کوشن زور سے کھینچ کر تابش کو مارا۔
“ارے یار انعم کو بھی بلا لو ، کتنی بری بات ہے ہم سب یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، اور وہ بیچاری اکیلے کمرے میں بیٹھی ہوئی ہے”۔مومنہ نے کہا۔
“ارے بھابھی وہ “ان” کی وجہ سے یہاں نہیں آرہی ہیں”۔حیدر نے آنکھوں سے فیضان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“کیوں میرا بھائی کیا “انھیں” کھا جائے گا؟۔رمشا نے کہا۔
“اوہ ہو ! ابھی سے اپنی ہونے والی بھابھی کیلئے اتنا غصہ!۔نادر نے کہا۔
“خیر یہ سب چھوڑو ، تم بتاؤ فیضان”۔فائزہ نے کہا۔
“کیا بتاؤں ؟۔فیضان نے پوچھا۔
“یہی کہ آخر یہ سب شروع کیسے ہوا، میرا مطلب کہ یہ تمہارا اور انعم والا معملا؟۔فائزہ نے اشتیاق سے کہا۔
“میں کیا بتاؤں بھابھی!۔فیضان نے جھجھکتے ہوئے کہا۔
“افو ! یہ تو لڑکیوں کی طرح شرما رہے ہیں، آپ بتائیں مومنہ بھابھی ، آپ بھی تو ہوسپٹل میں ہی ہوتی تھیں نا”۔عائشہ نے کہا۔
“بھئی سچی سے مجھے بھی جب ہی پتہ چلا تھا جب تم لوگوں کو پتہ چلا تھا ،ورنہ اس سے پہلے مجھے بھی اس بات کا بالکل علم نہیں تھا”۔مومنہ نے بتایا۔
“اچھا ! مطلب کہ اتنی ہوشیاری سے کام کیا ہے انہوں نے!۔نادر نے کہا۔
“ارے چھوڑو میں بتاتا ہوں”۔حیدر نے کہا۔اور سب حیدر کی جانب متوجہ ہوگئے۔
“ہاں حیدر پہلے تم بتا دو ، پھر میں بتاتا ہوں”۔فیضان نے آخری جملہ معنی خیزی سے حیدر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“کیا بتاؤ گے!۔حیدر نے پوچھا۔
“وہی جو تم نے ابھی تک نہیں بتایا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“اوہ ہو ! یہ ہو کیا رہا ہے آخر ! یہ کیا بتانے نا بتانے کی باتیں ہورہی ہیں بھئ ، کوئی ہمیں بھی بتائے”۔نادر نے کہا۔
“بتا دوں حیدر!۔فیضان نے معنی خیزی سے حیدر سے پوچھا۔
“اوہ ہو ! کہیں ان کا بھی تو کوئی سین نہیں چل رہا؟۔رمشا نے اچانک جوش میں آکر کہا۔
“اوہ ہاں ! اور ویسے بھی میں نے نوٹ کیا ہے کہ بھائی آج کل کچھ زیادہ ہی لشکارے مارتا ہوا ہوسپٹل جاتا ہے”۔نادر نے کہا۔
“اوہ ہو”۔سب نے یک زبان ہوکر ہوٹنگ کی۔اور حیدر کو نا چاہتے ہوئے بھی ہنسی آگئی۔
“یہ کیا تم لوگ کہاں کی بات کہاں جوڑ رہے ہو! ہم لوگ فیضان کی بات کررہے تھے نا”۔حیدر نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
“ان کی بات تو ہم کر چکے ہیں ، اب آپ اپنی بات کیجئے جناب”۔نادر نے کہا۔
“جب کوئی بات ہے ہی نہیں تو کیا کروں”۔حیدر نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
“چھوڑو فیضان تم بتاؤ کہ کیا بتانے کا بول رہے تھے تم؟۔دانش نے کہا۔
“کچھ خاص نہیں، بس ایسے ہی”۔فیضان نے حیدر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“ارے یہ سالا اور بہنوئی دونوں ملے ہوئے ہیں ، کچھ نہیں بتائیں گے”۔تابش نے کہا۔
“کیا مطلب سالا اور بہنوئی؟۔عائشہ نے نا سمجھی سے پوچھا۔
“ارے بھئی ہمدان ماموں نے انعم جی کو اپنی بیٹی کہا ہے نا ، تو اس حساب سے وہ حیدر بھائی کی بہن ہوئیں، اور انکی بہن کا شوہر یعنی فیضان بھائی ان کے بہنوئی ہوئے نا”۔تابش نے بتایا۔
“اوہ ہاں!۔سب نے یک زبان ہوکر کہا۔
“ارے یار ہم لوگ یہاں سوچنے بیٹھے تھے کہ اندر کیا بات ہورہی ہوگی”۔عائشہ نے تشویش سے کہا۔
“چھوڑو نا یار ہم لوگ کیوں اپنا دماغ سوچنے پر خرچ کررہے ہیں، جو بھی بات ہوگی تھوڑی دیر میں پتہ چل جائے گی سب کو”۔تابش نے کہا۔کہ تب ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک ایک کر کے سب بہت ہی سنجیدہ تاثر کے ساتھ باہر آئے۔سب کو باہر آتا ہوا دیکھ کر یہ لوگ بھی اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔
“اللّه رحم کرے”۔تابش نے نادر کے کان میں کہا۔
“یہ لوگ ہمیں کوئی پھانسی کی سزا سنانے تھوڑی آرہے ہیں”۔نادر نے بھی سرگوشی کی۔
“حیدر !۔قیصر صاحب نے کافی سپاٹ لہجے میں پکارا۔
“جی..جی دادا جی”۔حیدر نے کہا۔
“ابھی جو کچھ بھی فیروزہ نے ہمیں بتایا ہے ، کیا وہ سب سچ ہے؟۔قیصر صاحب نے پوچھا۔حیدر نے فیروزہ کی جانب دیکھا۔اور فیروزہ نے اشارہ کیا کہ “بتاؤ نا”۔
“جی دادا جی سچ ہے”۔حیدر نے جھجھکتے ہوئے کہا۔قیصر صاحب آہستہ آہستہ چلتے ہوئے حیدر کے قریب آکر رک گئے۔ حیدر سمیت قیصر صاحب کے تاثر دیکھ کر سب اپنی اپنی جگہ ساکت کھڑے تھے۔کہ پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے!۔کہ تب ہی ممتاز اور رفعت کی ہنسی چھوٹ گئی۔اور سب حیرت سے انھیں دیکھنے لگے۔
“یہ ان کو کیا ہوا؟۔نادر نے تابش کے کان میں سرگوشی کی۔
“لگتا ہے کے نانا نے کوئی ایسا فیصلہ کرلیا ہے کہ جس کا صدمہ دونوں کے دماغ پر لگ گیا ہے”۔تابش نے بھی سرگوشی کی۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے رفعت؟۔قیصر صاحب نے رفعت کی جانب گھوم کر کہا۔
“معاف کیجئے گا ابا ، پر ہم سے اب ان لوگوں کی شکلیں دیکھ کر اور ہنسی کنٹرول نہیں ہورہی تھی”۔رفعت نے ہنستے ہوئے کہا۔اور قیصر صاحب سمیت باقی سب بھی مسکرادیے۔اور باقی سب ایک دوسرے کو نا سمجھی سے دیکھنے لگے۔
“ہم لوگ کل ہی جارہے ہیں اپنی بہو کے گھر”۔قیصر صاحب نے حیدر کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔اور حیدر بھی قیصر صاحب کی بات سمجھتے ہوئے مسکرادیااور باقی سب نا سمجھی سے سب کو دیکھ رہے تھے۔
“یہ ہو کیا رہا ہے کوئی ہمیں بھی تو بتائے!۔فرقان نے کہا۔
“بتاؤ ارسلان فیضان کے بارے میں”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“بات دراصل یہ ہے کہ ہم سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ابھی صرف انعم اور فیضان کا نکاح کر دیں گے اور رخصتی شہلا کے صحت یاب ہونے کے بعد کریں گے”۔ارسلان صاحب نے بتایا۔
“اور حیدر کا کیا کہہ رہے تھے آپ لوگ کل کہاں جارہے ہیں؟۔فرقان نے پوچھا۔
“حیدر کا رشتہ لے کر کل ہم لڑکی والوں کے گھر جارہے ہیں”۔ہمدان صاحب نے بتایا۔
“کیا ! پر لڑکی ہے کون؟۔مومنہ نے حیرانگی سے پوچھا۔باقی سب بھی حیران ہوئے۔
“تم بتا رہے ہو یا ہم بتائیں!۔ہمدان صاحب نے حیدر سے پوچھا۔
“میں بتاؤں چاچو؟۔فیضان نے ہمدان صاحب سے پوچھا۔
“ہاں بتاؤ”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“وہ لڑکی یقیناً ڈاکٹر فاریہ خان ہیں نا!۔فیضان نے تائید چاہی۔اور حیدر نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا۔
“اوہ ہو”۔سب نے یک زبان ہوکر ہوٹنگ کی۔اور حیدر جھینپ کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
“واہ بھئی یہ دونوں سہی جارہے ہیں”۔فرقان نے کہا۔
“دیکھا ! میں نے سہی اندازہ لگایا تھا نا ! کہ حیدر بھائی کا ضرور کو سین چل رہا ہے”۔رمشا نے کہا۔
“ہاں اور میں نے بھی سہی نوٹ کیا تھا کہ تب ہی تو یہ اتنے لشکارے مارتے ہوئے ہوسپٹل جاتے تھے”۔نادر نے کہا۔
“اچھا اب کل ہم لوگ فاریہ کے گھر جارہے ہیں ، ان سے رشتے کی بات کرنے، پھر جو بھی نکاح کی تاریخ طے ہوگی، اسی تاریخ پر حیدر اور فیضان دونوں کے نکاح کر دیں گے ، اور رخصتی دونوں کی شہلا کے صحت یاب ہونے کے بعد ایک ساتھ ہی کریں گے، ٹھیک ہے!۔قیصر صاحب نے سب بتاتے ہوئے آخر میں حیدر اور فیضان سے تائید چاہی۔اور دونوں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا۔
“پر ایک بات تو آپ لوگوں نے سوچی ہی نہیں”۔فرقان نے کہا۔
“کون سی بات؟۔قیصر صاحب نے پوچھا۔
“یہی کہ اگر فاریہ نے یا فاریہ کے گھر والوں نے اس رشتے سے انکار کردیا تو؟۔فرقان نے کہا۔
“ارے ہاں ! یہ تو ہم نے سوچا ہی نہیں”۔قیصر صاحب نے بھی تائید کی۔
“ارے نہیں نہیں ! فاریہ سے میں پوچھ چکا ہوں اسے کوئی اعتراض نہیں ہے”۔حیدر نے جلدی سے کہا۔اور پھر سب کو معنی خیز نظروں سے اپنی جانب دیکھتے ہوئے جھینپ گیا۔
“اوہ ہو! دیکھ رہی ہیں آپ چچی کے بات اتنی آگے بڑھ چکی ہے”۔فرقان نے فیروزہ سے کہا۔اور حیدر کی جھنپی جھنپی سے حالت دیکھ کر سب مسکرادیے۔
*************
“حیدر!۔فیضان نے کمرے میں جاتے ہوئے حیدر کو آواز دی۔حیدر رک گیا۔
“فاریہ نے ہاں کردی؟۔فیضان نے قریب آکر پوچھا۔
“ہاں یار”۔حیدر نے بتایا۔
“کب! وہ تو آج ہوسپٹل بھی نہیں آئی تھی”۔فیضان نے پوچھا۔
“وہ شام میں اس نے مجھے ایک کافی شاپ پر ملنے بلایا تھا، وہیں بتایا اس نے”۔حیدر نے بتایا۔
“دیکھا میں نے کہا تھا نا کہ اگر نیت صاف ہو تو اللّه پاک ضرور مدد کرتا ہے، چلو مبارک ہو تمہیں بہت بہت”۔فیضان نے کہا۔
“تمہیں بھی یار”۔حیدر نے بھی گلے لگتے ہوئے کہا۔
“آئے ہائے! کوئی ہم سے بھی گلے مل لو”۔نادر نے کہا۔نادر اور تابش دونوں سامنے سے آرہے تھے۔کہ ان دونوں کو گلے ملتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
“تو تم دونوں بھی مل لو آپس میں گلے کس نے روکا ہے!۔حیدر نے کہا۔
“کسی میں اتنا دم نہیں ہے کہ ہمیں گلے ملنے سے روک سکے”۔تابش نے بھرم سے کہا۔
“ارے پھوپھو آپ اس وقت یہاں”۔حیدر نے کہا۔اور تابش نے گھبرا کر بجلی کی سی تیزی سے پیچھے پلٹ کر دیکھا۔اور حیدر اور فیضان اس پر ہنسنے لگے۔
“بس نکل گیا پھوپھو کے نام سے ہی سارا دم”۔حیدر نے ہنستے ہوئے کہا۔
“جی نہیں وہ تو بس میں اس لئے دیکھ رہا تھا کہ مجھے حیرت ہوئی کہ امی اور اس وقت یہاں!۔تابش نے بات گھماتے ہوئے کہا۔
“اچھا! ۔حیدر نے طنزیہ کہا۔
“ارے پھوپھو آپ یہاں کیا کررہی ہیں؟۔فیضان نے کہا۔
“بیٹا بول لو جو بولنا ہے ، میں نہیں ڈرتا ورتا امی سے”۔تابش نے اکڑ کر کہا۔اور پیچھے سے بہت زور سے تابش کی گدی پر تھپڑ پڑا۔
“نالائق ! تجھ سے یہی امید تھی مجھے”۔رفعت نے آگے آتے ہوئے کہا۔
“امی آپ یہاں کیا کررہی ہیں؟۔تابش نے گدی سہلاتے ہوئے کہا۔
“تجھے ہی ڈھونڈ رہی تھی، اب چلو چل کر سو ، پھر صبح اٹھنے میں جان جاتی ہے تمہاری”۔رفعت نے کہا۔اور باقی تینوں تابش کی اس شامت پر کھڑے لطف اندوز ہورہے تھے۔
“اور تم لوگ بھی یہاں کیا کررہے ہو! جاؤ جاکر سو اب”۔رفعت نے کہا۔
“جی پھوپھو جارہے ہیں”۔نادر نے کہا۔اور سب مسکراتے ہوئے اپنے اپنے کمروں کی جانب چلے گئے۔
******
آج حیدر بہت پر جوش تھا۔کیونکہ آج گھر کے سب بڑے فاریہ کے گھر سے جو ہوکر آئے تھے۔اور اسی بات پر حیدر اتنا خوش تھا کہ اس سے کوئی کام بھی ٹھیک سے نہیں ہورہا تھا۔ ۔حیدر نے گھر پر فون بھی کیا یہ جاننے کیلئے کہ وہاں کیا بات ہوئی۔پر اسکو آگے سے جواب ملا کہ گھر آؤ پھر فرصت سے بات کریں گے۔ابھی سات بج رہے تھے۔اور حیدر بہت بے صبری سے انتظار کررہا تھا کہ کب نوں بجے اسکی ڈیوٹی آف ہو اور وہ گھر جائے۔اور آج بھی فاریہ ہوسپٹل نہیں آئی تھی۔کیونکہ مومنہ نے اسے پہلے ہی فون کرکے بتا دیا تھا کہ وہ لوگ اس کے گھر آرہے ہیں تو وہ گھر میں ہی رہے۔حیدر اپنے روم میں بیٹھا ہوا کچھ کام کررہا تھا کہ اسے اچانک ایک بہت زور دار چیخ سنائی دی۔حیدر فوراً اٹھ کے روم سے باہر بھاگا۔باہر نکل کر حیدر نے دیکھا کہ جو راستہ اوپر چھت کی جانب جاتا ہے وہاں مومنہ ،فرقان اور فیضان سمیت کچھ لوگ جمع تھے۔حیدر نے آگے آکر دیکھا تو ایک نرس بہت ہی حواس باختہ پسینے میں شرابور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی۔اور بہت بری طرح خوف زدہ لگ رہی تھی۔اور اس کے آس پاس کچھ لیڈی ڈاکٹرز اور نرس بیٹھی ہوئیں اسکے حواس بحال کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔اور ساتھ ہی ساتھ پوچھنے کی کوشش بھی کر رہی تھیں کہ کیا ہوا تھا !۔پر وہ تو اپنے ہوش میں ہی نہیں تھی۔پھر ڈاکٹرز اسے روم میں لے گئے۔اور لوگ آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔اور پھر آہستہ آہستہ رش بھی چھٹ گیا۔
“یہ سب کیا ہوا ہے ! کچھ پتہ ہے تمہیں؟۔حیدر نے فیضان سے پوچھا۔
“نہیں یار ، میں تو خود چیخ کی آواز سن کر آیا تھا”۔فیضان نے بتایا۔
“اور ویسے بھی یہاں تو اس طرح کی باتیں ہوتی ہی رہتی ہیں”۔فیضان نے کہا۔
“ہممم! ٹھیک کہہ رہے ہو”۔حیدر نے کہا۔پھر دونوں اپنے اپنے روم میں چلے گئے۔
******
“بھابھی اس نرس کو کیا ہوگیا تھا ! کیوں چیخی تھی وہ؟ آپ بھی تو باقی لیڈی ڈاکٹرز کے ساتھ اس کے ساتھ تھیں نا”۔حیدر نے پوچھا۔وہ لوگ اس وقت کار میں گھر کی جانب رواں دواں تھے۔حیدر اور فیضان پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔مومنہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔اور فرقان کار ڈرائیو کررہا تھا۔
“وہی جو ہوتا آرہا ہے اب تک”۔مومنہ نے کہا۔
“مطلب اسکو بھی کوئی عجیب سی بھوت پریت جیسی چیز دیکھ گئی تھی!۔فیضان نے کہا۔
“ہاں !۔مومنہ نے کہا۔
“پتہ نہیں یار یہ سب کیوں ہورہا ہے اور کیسے ختم ہوگا!۔حیدر نے کہا۔
“چھوڑو تم ان سب باتوں کو، تم بس یہ سوچو کہ آج فاریہ کے گھر پر کیا بات ہوئی ہوگی”۔فرقان نے بیک ویو مرر میں سے حیدر کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا۔اور اتنے سنجیدہ ماحول میں بھی فاریہ کا نام سن کر حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
“اوہ ہو! فاریہ کا نام سن کر بلش تو دیکھو کتنا کررہا ہے”۔فیضان نے حیدر کے گال کھینچتے ہوئے کہا۔اور سب مسکرادیے۔
***********
وہ لوگ گھر پہنچے تو سب لوگ ان ہی کا انتظار کررہے تھے۔کھانے کھانا کیلئے۔پھر سب نے ساتھ کھانا کھایا۔پر حیدر کو تو بے چینی ہورہی تھی یہ جاننے کی کہ آخر وہاں کیا بات ہوئی!۔لیکن کسی نے اس متعلق کوئی بات ہی نہیں کی۔سب تو ایسے نارمل تھے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہو۔اور حیدر کو خود سے پوچھنا عجیب سا لگ رہا تھا۔حیدر دل ہی دل میں دعا کررہا تھا کہ کاش کوئی تو یہ بات چھیڑ دے۔پر کسی نے کچھ نہیں کہا۔اور معمول کی طرح سب کھانا کھا کر اٹھ گئے۔اور پھر حسب معمول چاۓ کا دور شروع ہوگیا۔شہلا تو اپنے کمرے میں ہی آرام کررہی تھی۔اور انعم بھی اپنے کمرے میں ہی تھی۔کیونکہ ابھی وہ سب کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں تھوڑا جھجھکتی تھی۔اس لئے کسی نے زیادہ زبردستی بھی نہیں کی۔کہ چلو آہستہ آہستہ ایڈجسٹ ہوجائے گی۔حیدر کو امید تھی کہ اب تو یقیناً کوئی نا کوئی یہ بات چھیڑے گا۔اور حیدر بھی اسی انتظار میں سب کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے لگا۔
“مجھے ایک بات پوچھنی ہے”۔نادر نے اچانک کہا۔حیدر کا دل ایک دم زور سے دھڑکا یہ سوچ کر کہ نادر شاید آج شام کی فاریہ کے گھر والوں سے ملاقات کے بارے میں کچھ پوچھے گا۔
“کس سے پوچھنی ہے ! اور کیا بات پوچھنی ہے؟۔عدنان صاحب نے پوچھا۔
“کوئی بھی بتا دے”۔نادر نے کہا۔
“ہممم! پوچھو”۔عدنان صاحب نے کہا۔
“یہ سوال مجھے کافی عرصے سے پریشان کررہا ہے، بلکہ مجھے کیا کافی لوگوں کو ،مجھے دراصل یہ پوچھنا تھا کہ سلمان خان نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟۔نادر نے پوچھا۔اور حیدر دل ہی دل میں اس کو لعنت دے کر رہ گیا۔
“ہمیں کیا پتہ ! اس نے ہمیں تھوڑی وجہ بتائی ہوئی ہے جو ہم سے پوچھ رہے ہو”۔رمشا نے کہا۔
“پر پھر بھی کوئی تو آئیڈیا ہوگا نا آپ لوگوں کو”۔نادر نے کہا۔دراصل سب گھر والوں نے مل کر پلان بنایا تھا کہ وہ لوگ حیدر کو تب تک فاریہ کے گھر والوں سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے جب تک وہ خود نہیں پوچھے گا۔اور یہ بات رمشا نے فون کرکے مومنہ، فرقان، اور فیضان کو بھی بتادی تھی۔اور نادر ابھی اسی پلان پر عمل کرتے ہوئے حیدر کو تنگ کرنے کیلئے الٹی سیدھی باتیں کررہا تھا۔
“ارے چھوڑو یار ان سب باتوں کو ، میں ایک بات پوچھتا ہوں”۔تابش نے کہا۔اور حیدر کو پھر ذرا سی امید ہوئی کہ شاید یہ کچھ پوچھ لے شام کے بارے میں۔
“ہممم! کیا پوچھو”۔عائشہ نے کہا۔
“آپ لوگ یہ باتیں کہ وہ کیا چیز ہے جسے ہم دیکھ تو سکتے ہیں پر توڑ نہیں سکتے؟۔تابش نے پوچھا۔اور حیدر کا دل چاہا کہ ہاتھ میں پکڑا چاۓ کا کپ تابش کے سر پر مار دے۔
“حیدر بھائی آپ بتائیں کہ وہ کیا چیز ہے جو آپ دیکھ تو سکتے ہیں پر توڑ نہیں سکتے؟۔تابش نے پوچھا۔
“تمہارا منہ”۔حیدر نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
“کیا کہا ! زور سے بولیں میں نے سنا نہیں”۔تابش نے حیدر کی بڑبڑاہٹ سن کر کہا۔
“کچھ نہیں !۔حیدر نے کہا۔اور چائے پینے لگا۔
“کیا بات ہے بھائی تم کچھ پریشان سے لگ رہے ہو؟۔نادر نے کہا۔
“نہیں تو مجھے بھلا کیا پریشانی ہوگی!۔حیدر نے کہا۔جب کے حیدر کا دل چاہ رہا تھا کہ بول دے “ہاں مجھے تم لوگوں کی الٹی سیدھی باتوں سے پریشانی ہورہی ہے،کوئی تو بتاؤ آخر کہ شام کو وہاں کیا بات ہوئی”۔پر حیدر ایسا صرف سوچ کر ہی رہ گیا۔
“چلو بچوں اب سو جانا چاہئے”۔ارسلان صاحب نے کہا۔اور حیدر کو جھٹکا لگا کہ “لو یہ تو محفل ہی اختتام پذیر ہورہی ہے ،اور کسی نے بھی شام کے متعلق کوئی بات ہی نہیں کی”۔
“ہمم! مجھے بھی نیند آرہی ہے”۔نادر نے مصنوئی جمائی لیتے ہوئے کہا۔اور تابش تو باقاعدہ جانے کیلئے کھڑا بھی ہوگیا تھا۔اور فائزہ نے بھی چائے کے سارے خالی کپ کچن میں لے جانے کیلئے ٹرے میں جمع کر لئے۔
جاری ہے
