Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03

پورے گھر میں پارٹی کی تیاری چل رہی تھی۔رات میں گھر کے لان میں ہی یہ پارٹی رکھی تھی۔لڑکوں کے حصے لان کی میں سجاوٹ کا کام تھا۔اور باقی کام لڑکیوں کو دیا گیا تھا۔
“یار کیوں نا ہم آج کی پارٹی کو تھوڑا اور اچھا کرنے کیلئے کوئی گیم بھی رکھ لیں”۔سب لڑکے اس وقت لان کی سجاوٹ میں لگے ہوئے تھے۔کہ تب ہی حیدر نے کہا۔
“کیا گیم رکھیں گے!۔نادر نے پوچھا۔
“جیسے کہ شاعری کا مقابلہ یا انتاکشری وغیرہ”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں ٹھیک ہے ہم لوگ دو ٹیمیں بنالیں گے ، ایک ٹیم میں ساری لڑکیاں ہوں گی ، اور ایک ٹیم میں سارے لڑکے”۔نادر نے کہا۔
“ہاں پر جیتنے والے کا انعام کیا ہوگا؟۔تابش نے پوچھا۔
“یہی کہ ہارنے والی ٹیم کو جیتنے والی ٹیم کی کوئی بھی بات ماننی ہوگی،اور ویسے بھی ہم تو بس ایسے ہی شوغل مستی کیلئے کھلیں گے”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں ٹھیک ہے”۔نادر نے کہا۔
“یہ بتاؤ کہ تم لوگوں میں سے کیک کا آرڈر دینے کون جا رہا ہے ؟۔شہلا نے لان میں آکر سب لڑکوں سے پوچھا۔
“ایسا کریں تائی کہ فرقان بھائی اور فیضان کو بھیج دیں”۔حیدر نے مشورہ دیا۔
“فرقان تو اپنے ابو کے ساتھ کسی کام سے گیا ہوا ہے”۔شہلا نے بتایا۔
“اچھا تو پھر ایسا کریں کہ دانش بھائی کو بھیج دیں فیضان کے ساتھ”۔حیدر نے کہا۔
“کیوں میں کیوں جاؤں سب کے ساتھ تم چلے جاؤ “۔فیضان نے کہا۔
“کیوں تمہیں جانے میں کیا مسلہ ہے!۔حیدر نے پوچھا۔
“اچھا اب تم لوگ لڑنا بند کرو ، اور نادر تم جاؤ دانش کے ساتھ”۔شہلا نے حیدر اور فیضان کو ٹوکا اور نادر کو کہتی ہوئیں واپس اندر چلی گئیں۔
“ہاں اب بتا کہ کیوں نہیں جا رہا تھا تو !۔حیدر نے شہلا کے واپس جاتے ہی دوبارہ فیضان سے پوچھا۔
“کیوں میں کیوں جاؤں سب کے ساتھ ، کوئی بھی کام ہوتا ہے تو ،تو مجھے ہی آگے کر دیتا ہے کہ فیضان کو لے جاؤ”۔فیضان نے کہا۔
“شہلا تائی دیکھیں فیضان بھائی اور حیدر بھائی نے پھر لڑائی شروع کردی ہے”۔نادر نے آواز لگائی۔اور حیدر نے نادر کو چپ کرانے کیلئے اپنے ہاتھ میں پکڑی نکلی پھولوں کی لڑی نادر کو کھینچ کر ماری۔بدلے میں نادر نے بھی پاس پڑا تھرما پول کا پیس حیدر کو مارا۔
“شہلا تائی یہ دیکھیں ان لوگوں نے کام کرنے کے بجائے ہاتھا پائی شروع کردی ہے”۔اب تابش نے آواز ماری۔اور اب کی بار حیدر اور نادر دونوں نے نکلی پھولوں کی لڑی اور تھرما پول کا پیس تابش کو مارا۔
“امی جلدی آئیں، دیکھیں یہاں……!
“کیا ہوگیا ہے ایک کام کرنے کو کہا تھا تم لوگوں کو اس پر بھی ہر تھوڑی دیر میں لڑائی جھگڑے کی آوازیں آ رہی ہیں”۔شہلا نے لان میں آتے ہوئے کہا۔فیضان کی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔
“تائی ہم لڑ نہیں رہے ہیں، ہم تو کھیل رہے ہیں”۔حیدر نے کہا۔
“یہ کھیلنے کا کونسا وقت اور طریقہ ہے؟۔فیروزہ نے پوچھا جو کہ اب کی بار شہلا کے ساتھ ہی آئیں تھیں۔
“امی ہم تو بس……!
“چپ ! یہ پارٹی رکھنے کا پلان تمہارا ہی تھا نا، تو پھر اب کام بھی کرو انسانوں کی طرح”۔فیروزہ نے حیدر کو ڈانٹا۔
“اچھا نا تو کام کر تو رہے ہیں”۔حیدر نے مسکین سی شکل بنا کر کہا۔
“کہاں کر رہے ہو کام ! سب کچھ ایسے ہی پڑا ہے”۔فیروزہ نے بکھرے ہوئے لان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“اچھا نا آپ لوگ اندر جائیں ، ہم کر رہے ہیں یہ سب”۔حیدر نے کہا۔
“یہ آخری موقع ہے تم لوگوں کے پاس ، اب جب میں دوبارہ آکر دیکھوں گی تو مجھے کام ہوتا ہوا نظر آنا چاہئے”۔فیروزہ نے کہا۔اور سب نے فرمابرداری سے سر ہلادیا۔شہلا اور فیروزہ واپس اندر چلی گئیں۔اور باقی سب بھی اب سیریس ہوکر کام میں لگ گئے۔
****************
شام کے قریب آٹھ بج رہے تھے۔سب لوگ آہستہ آہستہ لان میں جمع ہو رہے تھے۔حیدر بھی اپنے کمرے میں تیار ہورہا تھا۔کہ تب ہی فیضان حیدر کے کمرے میں آیا۔
“یار حیدر تمہیں پتہ ہے کیا ، کہ مومنہ بھابھی نے انعم کو انوائٹ کیا ہے یا نہیں !۔فیضان نے پوچھا۔
“ہاں یار پتہ ہے ، انھوں نے انعم کو انوائٹ کیا ہے ، پر مومنہ بھابھی کہہ رہیں تھیں کہ انعم نے کہا ہے اسکی امی کی طبیعت خراب ہے اس لئے وہ نہیں آئے گی”۔حیدر نے شرٹ کے بٹن لگاتے ہوئے کہا۔
“یار ایسے کیسے نہیں آئے گی! اسی وجہ سے تو ہم نے یہ ساری محنت کی ہے”۔فیضان نے کہا۔
“ہاں پر میں کیا کر سکتا ہوں اب!۔حیدر نے کف بند کرتے ہوئے پوچھا۔
“کیا کر سکتے ہو مطلب ؟ یہ سب تمہارا ہی تو پلان تھا نا کہ پارٹی کے بہانے انعم کو گھر والوں سے ملوا دیں گے؟۔فیضان نے پوچھا۔
“ہاں تھا پر اب وہ نہیں آرہی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟۔حیدر نے کہا۔
“پر یار کوئی اور راستہ تو ہوگا نا!۔فیضان نے کہا۔
“یار نہیں ہے ،تمہیں پتہ تو ہے کہ اسکی امی کی طبیعت خراب ہے،تو پھر ایسے میں وہ انکو اکیلے چھوڑ کر کیسے آسکتی ہے!۔حیدر نے شرٹ اِن کرتے ہوئے کہا۔فیضان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“دیکھو ایسے مایوس مت ہو ، جو ہوتا ہے اچھے کیلئے ہوتا ہے ، میں نے اپنی طرف سے تو پوری کوشش کی تھی ، اب ہم اپنے پلان میں کامیاب نہیں ہو پائے ، تو اب ہم کیا کر سکتے ہیں!۔ حیدر نے بیڈ سے بیلٹ اٹھا کر باندھتے ہوئے کہا۔
“پر پھر بھی یار ،کوئی تو آئیڈیا ہوگا نا تیرے دماغ میں، تو سوچ کر دیکھ”۔فیضان نے ایک آس سے کہا۔
“واہ ! دماغ میرا ہے یا تمہارا ! مجھے زیادہ پتہ ہے میرے دماغ کے بارے میں یا تمہیں ! ۔حیدر نے گھڑی پہنتے ہوئے کہا۔فیضان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“دیکھ پاگل تو ٹینشن نہ لے ، ابھی بھلے سے ہم کامیاب نہیں ہوئے ،پر ہم دوبارہ کچھ اور سوچیں گے، ابھی تم جاؤ اور پارٹی کیلئے تیار ہو”۔حیدر نے شیشے میں دیکھ کر بال بناتے ہوئے کہا۔
“یار میرا دل نہیں چاہ رہا تیار ہونے کو”۔فیضان نے بے دلی سے کہا۔
“تم ایک بار شیشے کے سامنے تو جاؤ ، تمہارا خود دل چاہے گا تیار ہونے کا”۔حیدر نے فیضان کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے شرارت سے کہا۔
“اور اگر تم تیار ہوکر پارٹی میں نہیں آئے تو سب پوچھیں گے نہیں کے تم کس کے سوگ میں دیوداس بنے ہوئے ہو !۔حیدر نے فیضان کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے ، جا رہا ہوں”۔فیضان بے دلی سے بولتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا۔اور حیدر اسکی حالت دیکھ کر مسکرا کر جیکٹ پہننے لگا۔
****************
سب لوگ اس وقت لان میں جمع ہو چکے تھے۔لان کو سب لڑکوں نے مل کر نکلی پھولوں اور لائٹوں سے بہت اچھا سجایا تھا۔اور لان میں سب کے بیٹھنے کیلئے الگ الگ نہیں بلکے لان کے وسط میں ہی ایک بہت بڑی سی ٹیبل رکھی گئی تھی۔اور ٹیبل کے ساتھ سارے ممبرز اور مہمانوں کے حساب سے کرسیاں لگائیں تھیں۔کیوں کہ یہ قیصر صاحب کا ہی حکم تھا کہ ساری فمیلی ایک ساتھ ہی رہے گی۔ کوئی بھی غیروں کی طرح دور دور نہیں بیٹھے گا۔ اور یہ ان کے گھر کی بہت پرانی روایت تھی۔کہ سب کا ناشتہ ، کھانا، ہنسنا، رونا غرض سب کچھ ایک ساتھ ہی ہوتا تھا۔قیصر صاحب اور بلقیس بیگم نے سب کو بہت جوڑ کر اور سمبھال کر رکھا ہوا تھا۔اور گھر کے سب ہی لوگ ان کا اور ان کے ہر فیصلے کا بہت احترم کرتے تھے۔سب لوگ اس وقت ٹیبل پر موجود تھے۔
“اوہ ہو ! کوئی تو روک لو”۔حیدر نے بلقیس بیگم کو دیکھ کر شرارت سے کہا۔جو کہ تیار ہوکر ابھی لان میں آئیں تھیں۔انھوں نے براؤن کلر کی چکن کی ساڑی پہنی ہوئی تھی۔اور اس کے اوپر کاندھے پر ایک شال ڈالی ہوئی تھی۔اور گلے میں ایک موٹا سا موتیوں کا ہار ڈالا ہوا تھا۔
“چل بدتمیز، شرم نہیں آتی بڑھی دادی سے ایسی باتیں کرتے ہوئے”۔بلقیس بیگم نے حیدر کے سر پر چپت لگا کر کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ارے بڑھے کیسے !ابھی تو ہم جوان ہیں”۔اس سے پہلے کے حیدر کوئی جواب دیتا قیصر صاحب نے بھی قریب آتے ہوئے کہا۔
“ماشاءاللّه سے اب ہمارے بچوں کے بھی بچے اور ان کے بھی بچے ہیں، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم جوان ہیں”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“ارے تو اس سے کیا ہوتا ہے، انسان کا دل و دماغ جوان ہونا چاہیے”۔قیصر صاحب نے بھی بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ہاں اور بچوں کے بچوں کے بھی بچے ہیں تو کیا ہوا ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ “دل بھی تو بچہ ہے جی”۔حیدر نے شرارت سے کہا۔اور سب مسکرادیے۔
“السلام علیکم !”۔ڈاکٹر احمر اور انکی وائف نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام! فرقان نے کھڑے ہوکر گلے ملتے ہوئے جواب دیا۔
“دادا ، دادی ان کو تو آپ جانتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر احمر ہیں اور یہ ان کی وائف ہیں ڈاکٹر ناہید احمر”۔فرقان نے تعارف کرایا۔
“السلام علیکم ! شادی کی سالگرہ بہت مبارک ہو آپ دونوں کو”۔احمر نے کہا۔
“وعلیکم السلام بیٹا، بہت شکریہ ، بیٹھو تم لوگ”۔قیصر صاحب نے جواب دیا۔ دونوں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ پیچھے سے ڈاکٹر خرد بھی آگئی۔
“السلام علیکم ! خرد نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام! آؤ آؤ”۔مومنہ نے اٹھ کر گلے ملتے ہوئے کہا۔
“دادا ، دادی یہ بھی ہمارے ہوسپٹل کی ہی ڈاکٹر ہیں ، ڈاکٹر خرد عثمان، ابھی حال ہی میں انہوں نے ہوسپٹل جوائن کیا ہے”۔مومنہ نے تعارف کرایا۔
“السلام علیکم! ۔ خرد نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام، خوش رہو، آؤ بیٹھو”۔بلقیس بیگم نے جواب دیا۔خرد بیٹھ گئی۔
“ویسے دادا جی کتنے سال ہو گئے ہیں آپ کی شادی کو آج؟۔احمر نے پوچھا۔
“بیٹا ہماری شادی کو آج ماشاء للّٰه سے پورے ستر سال ہو گئے ہیں”۔قیصر صاحب نے بتایا۔
“ماشاءاللّه ، اور آپ کو ابھی تک اپنی شادی کی سالگرہ اور سال ٹھیک ٹھیک یاد ہیں”۔احمر نے کہا۔
“جی ورنہ کچھ لوگ تو اپنی شادی کی ساتویں سالگرہ تک بھول جاتے ہیں”۔ناہید نے احمر پر طنز مارا۔
“سچ میں احمر!۔حیدر نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ہاں یار بس وہ اتنے سارے جھمیلوں میں ذہن سے ہی نکل جاتا ہے”۔احمر نے کھسیانا ہوتے ہوئے کہا۔
“حیرت ہے ویسے ، ورنہ شادی جیسا خطرناک حادثہ کوئی بھولنے والی چیز تو نہیں ہے”۔حیدر نے شرارت سے کہا۔
“آپکی نظر میں شادی ایک حادثہ ہے؟۔خرد نے پوچھا۔
“ہاں باقی سب کا حال دیکھ کر تو ہے”۔حیدر نے کہا۔
“ارے اس کی تو عادت ہے بس ایسے ہی مذاق کرنے کی ، اور بیٹا تم اپنے بارے میں کچھ بتاؤ، کہ کتنے بھائی بہن ہو ؟”۔فیروزہ نے کہا۔
“آنٹی میرا کوئی بھائی بہن نہیں ہے میں اکیلی ہی ہوں”۔خرد نے بتایا۔
“اوہ اچھا، اور تمہارے ابو کیا کرتے ہیں؟۔فیروزہ نے پوچھا۔
“آنٹی جب میں سات سال کی تھی تب ہی ان کا ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا، اب گھر میں صرف میں اور میری امی ہوتے ہیں”۔خرد نے بتایا۔
“اوہ بہت افسوس ہوا”۔فیروزہ نے کہا۔
“میرا خیال ہے کہ اب ہمیں کیک کاٹ لینا چاہئے”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں ہم ابھی لے کر آتے ہیں اندر سے، آؤ مریم”۔فائزہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔پھر کیک کاٹنے کے بعد وہیں پر کھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔سب نے کافی خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔پھر سب کو کیک سرو کیا گیا۔
“اچھا تو اب کیوں نا تھوڑا سا شوغل وغیرہ ہوجائے!۔کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد نادر نے کہا۔
“کیا کرنے والے ہو تم لوگ؟۔احمر نے پوچھا۔
“اوہ بھائی کچھ الٹا سیدھا مت سوچنا، انتاکشری کھیلنے کا کہہ رہے ہیں”۔حیدر نے شرارت سے کہا۔پھر سب لڑکوں نے مل کر ٹیبل بیچ میں سے ہٹا دی۔اور ساری کرسیاں آمنے سامنے لائن بنا کر رکھ دی۔ ایک لائن میں سارے لڑکے اور مرد بیٹھ گئے۔اور دوسری لائن میں ساری لڑکیاں اور عورتیں۔
“اچھا تو دوستوں ہم لوگ اب یہاں انتاکشری کھیلیں گے”۔عائشہ نے گیم کے رول سمجھانے کے لئے کھڑے ہوکر کہا۔
“لو اچھا ہوا کہ تم نے بتادیا کہ ہم یہاں انتاکشری کھیلیں گے، ورنہ میں تو سمجھ رہا تھا کہ ابھی یہاں لنگر تقسیم ہوگا”۔تابش نے شرارت سے کہا۔
“بھئی رفعت پھوپھو دیکھیں نا تابش کو”۔عائشہ نے کہا”اچھا اب نہیں بولوں گا،بولو تم”۔تابش نے رفعت کے گھورنے پر کہا۔
“ہاں تو میں آپ لوگوں کو گیم کے رولس سمجھا رہی تھی، تو……!
“ارے بھئی ہمیں پتہ ہیں رولس،یہاں کوئی المپیکس کا مقابلہ نہیں ہو رہا جو تم رولس بتارہی ہو ، تم بیٹھو اور گیم شروع کرو”۔نادر نے کہا۔اور عائشہ “دفعہ ہو” کہہ کر بیٹھ گئی۔
“اوکے تو لیڈیز فرسٹ، پہلے آپ ہمیں لفظ دیں”۔حیدر نے کہا۔
“ٹھیک ہے تم لوگ “ا” سے گاؤ “۔ شہلا نے کہا۔اور ساتھ ہی کاؤنٹ ڈاؤن شروع کردیا۔”4،5،6،7،8،9،10،۔”
“اے میری زہرا جبیں تجھے معلوم نہیں
تو ابھی تک ہے حسین اور میں جوان
تجھ پے قربان میری جان میری جان”
قیصر صاحب نے خاص بلقیس بیگم کیلئے گانا گیا۔اور سب نے “اوہ ہو” کرنا شروع کردیا۔بلقیس بیگم جھینپ گئیں۔
“اچھا تو اب ہم آپ لوگوں کو لفظ دیتے ہیں “م” ۔”حیدر نے کہا۔اور ساتھ ہی کاؤنٹ ڈاؤن شروع کردیا۔”5،6،7،8،9،10″۔
“منہ پے پتھر رکھ کے دل پے میک اپ کرلیا”
“میرے سائیاں جی کو آج میں نے میک اپ کر دیا”
عائشہ نے فل کانفیڈینس کے ساتھ گانے کا ستیاناس مارا۔اور لڑکوں کی تو ہنسی ہی کنٹرول نہیں ہو رہی تھی۔
“ارے پاگل مانا کے تم نے بیوٹیشن کا کورس کیا ہوا ہے، اب لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ “سائیاں جی” کو ہی پکڑ کر میک اپ کر دو”۔نادر نے ہنستے ہوئے کہا۔
“امی دیکھیں بھائی کو”۔عائشہ نے ممتاز سے کہا۔
“نادر بہن کا ایسے مذاق اڑاتے ہیں”۔ممتاز نے نادر کو ٹوکا۔
“اچھا سوری “۔نادر نے ہنستے ہوئے کہا۔
“اچھا چھوڑو اب یہ بتاؤ کے اس “شاندار پرفارمنس” کے بعد ان کو نمبر دیے جائیں یا نہیں؟۔تابش نے پوچھا۔
“یار دیکھو ہم نے ان کو لفظ دیا تھا “م” اور جو گانا عائشہ نے گایا ہے وہ شروع ہوتا ہے “د” سے تو اس لئے یہ گانا کاؤنٹ نہیں کیا جائے گا، آپ لوگوں کو “م” سے ہی کوئی گانا ،گانا ہوگا”۔حیدر نے کہا ۔اور ساتھ کاؤنٹ ڈاؤن شروع کردیا۔”3،4،5،6،7،8،9،10″
“مجھے دل سے ، نا بھلانا”
“چاہے روکے ، یہ زمانہ”
“تیرے بن میرا جیوان کچھ نہیں”
“تیرے بن میرا جیوان کچھ نہیں ، کچھ نہیں”
مومنہ نے گانا گیا۔سب نے اسے اپیشیٹ کیا۔
“اچھا تو اب آپ لوگوں کی باری ہے، آپ لوگوں کا لفظ ہے “ا”۔عصمت نے کہا۔اور ساتھ ہی کاؤنٹ ڈاؤن شروع کردیا۔”3،4،5،6،7،8،9،10”
“انتہا ہوگئی انتظار کی”
“آئی نا کچھ خبر ،میرے یار کی”
“یہ ہمیں ہے یقین، بیوفا وہ نہیں”
“پھر وجہ کیا ہوئی ! انتظار کی”
حیدر نے فیضان کو دیکھتے ہوئے گانا گایا۔پھر حیدر نے لفظ دیا “ب”۔ اور ساتھ ہی کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا۔
“بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم”
“بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم”
“قسم چاہے لے لو،قسم چاہے لے لو”
“خدا کی قسم”
“بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم”
خرد نے باقاعدہ حیدر کو دیکھتے ہوئے کچھ عجیب سے انداز میں گانا گایا۔جو کہ حیدر کے ساتھ ساتھ باقی سب نے بھی نوٹ کیا۔اور حیدر کو کچھ عجیب لگا۔خیر پھر سب نے نظر انداز کردیا۔اور پھر سے کھیلنے لگےدوسرے دن کیونکہ اتوار تھا اس لئے کافی دیر تک یہ محفل جمی رہی۔اس دوران جب بھی خرد کی باری آتی۔وہ حیدر کو دیکھ کر ہی کوئی نا کوئی گانا گاتی۔پھر قریب گیارہ بجے یہ محفل اختتام کو پہنچی۔اور تینوں مہمان اپنے اپنے گھر روانہ ہوگئے۔
**************
السلام علیکم ! حیدر نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے سب کو سلام کیا۔سب لوگ اس وقت ناشتے کی میز پر جمع تھے۔
“وعلیکم السلام! آج دیر ہوگئی اٹھنے میں!۔بلقیس بیگم نے جواب دیتے ہوئے پوچھا۔
“جی دادی بس پتہ نہیں آج آنکھ دیر سے کھلی”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں تو کل جو سب اتنی دیر سے جو سوئے تھے”۔ممتاز نے کہا۔
“ہممم ! ویسے کل مزہ آیا نا !۔ عصمت نے کہا۔
“ہاں ! اور حیدر بھائی آپکو بھی اچھا لگا ہوگا نا !۔ تابش نے معنی خیزی سے پوچھا۔
“کیا ؟۔حیدر نے ناشتہ کرتے ہوئے ناسمجھی سے پوچھا۔
“ارے وہی وہ جو ڈاکٹر صحابہ آپکے لئے گانے گا رہیں تھیں”۔اب نادر نے کہا۔
“یہ کیا بکواس ہے؟۔حیدر نے کہا۔
“بکواس نہیں حقیقت ہے یہ ، کیوں مومنہ بھابھی آپ بتائیں آپ تو ہوسپٹل میں بھی ہوتی ہیں نا؟۔رمشا نے کہا۔
“ہممم ! ویسے مجھے بھی کچھ کچھ ایسا لگتا تو ہے”۔مومنہ نے کہا۔
“کیا لگتا ہے بھابھی ! یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ!۔حیدر نے کہا۔
“ارے بھائی اب جب سب کو پتہ چل ہی گیا ہے تو چھپانے کا کیا فائدہ !۔نادر نے کہا۔
“آپ بتائیں فیروزہ مامی ، آپکو کیسی لگی آپکو ہونے والی بہو ، میرا مطلب ڈاکٹر خرد عثمان؟۔تابش نے پوچھا۔
“ہممم ! لڑکی تو اچھی ہے”۔فیروزہ نے کہا۔
“ارے یہ آپ لوگوں کو ہو کیا گیا ہے ! سب اپنی طرف سے اندازے لگا کر فیصلے کر رہے ہیں”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں تو جو نظر آرہا ہے اسکو دیکھ کر ہی اندازہ لگایا ہے”۔نادر نے کہا۔تابش اور نادر دونوں حیدر کے پیچھے ہی پڑ گئے تھے۔
“تم چپ رہو سمجھے، کوئی ضرورت نہیں ہے کوئی بھی اندازہ لگانے کی”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا تو پھر اسکا مطلب کہ مومنہ بھابھی جھوٹ بول رہیں ہیں!۔تابش نے کہا۔
“بھابھی آپ کو بھی ایسا کیوں لگتا ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ارے بھئی صرف مجھے ہی نہیں ، ہوسپٹل میں کافی لوگوں کو ایسا لگتا ہے ، کہ خرد تمہیں پسند کرتی ہے، کیوں تمہیں نہیں لگتا کیا؟۔مومنہ نے کہتے ہوئے حیدر سے پوچھا۔
“پتہ نہیں آپ لوگ یہ کیا باتیں کر رہے ہیں ! اور کہاں کی باتیں کہا جوڑ رہے ہیں !۔حیدر نے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا۔
“میں ناشتہ کر چکا ہوں اور ایک کام سے جا رہا ہوں، تھوڑی دیر تک آجاؤں گا”۔حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“بس اتنا سا ناشتہ کیا!۔فیروزہ نے کہا۔
“بس ممی اور بھوک نہیں ہے”۔حیدر نے کہا۔
“کون سے کام سے جا رہے ہو بھائی؟۔نادر نے پوچھا۔
“ہے ایک ضروری کام”۔حیدر نے کہا۔
“اوہ ہو ! ضروری کام”۔نادر نے تابش کو کونی مارتے ہوئے معنی خیزی سے کہا۔
“سب پاگل ہوگئے ہیں”۔حیدر کہتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا۔
“اوہ ہو! شرما گیا ہمارا بھائی”۔تابش نے کہا۔
“اچھا ویسے تائی سچی بتائیں کیا خیال ہے اپکا خرد جی کے بارے میں؟۔نادر نے فیروزہ سے پوچھا۔
“ہممم! اگر حیدر بھی سچ میں سنجیدہ ہے تو مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے”۔فیروزہ نے کہا۔
“ارے چھوڑو تم لوگ بھی ابھی کن باتوں میں لگ گئے، اگر ایسا کچھ ہوگا تو حیدر خود بتادے گا، تم لوگ اپنی طرف سے اندازے مت لگاؤ”۔بلقیس بیگم نے کہا۔اور سب اپنا بچا ہوا ناشتہ پورا کرنے لگے۔
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *