Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07

“کیا ہوا عدنان ؟ کیا ہے یہ! ۔قیصر صاحب نے پوچھا۔باقی سب کو بھی تشویش ہورہی تھی۔
“ابّا اس میں لکھا ہے کے ‘کل ایک خاتون ڈاکٹر جن کا نام خرد عثمان تھا ،انھوں نے کل ہسپتال کی چھت سے کود کر خودکشی کرلی ہے، اور پولیس کا کہنا ہے کہ انکی خودکشی کی وجہ اسی ہسپتال کے ڈاکٹر حیدر علی خان کی ان سے بیوفائی ہے، مقتولہ نے اپنے سوسائیڈ نوٹ میں واضح لفظوں میں اپنی موت کا زمیدار ڈاکٹر حیدر علی خان کو ٹہرایا ہے”۔عدنان صاحب نے پڑھ کر سنایا۔اور سب ہی حیرت زدہ ہوگئے۔حیدر تو بالکل سن ہوگیا تھا۔
“ارے ایسے کیسے یہ اخبار والوں نے کچھ بھی چھاپ دیا ہے! ہم ان پر کیس کردیں گے”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“ارے پر میڈیا تک یہ بات پہنچی کیسے؟۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“تایا ایسی باتیں میڈیا تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی ، اور یہ ضرور کل ہوسپٹل میں موجود اتنے سارے لوگوں میں سے ہی کسی نے پہنچایا ہوگا”۔فرقان نے کہا۔حیدر عدنان صاحب کے ہاتھ سے اخبار لے کر دیکھنے لگا۔ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا۔پر حیدر تو بالکل سناٹے میں آیا ہوا تھا۔
“حیدر تم فکر مت کرو ، ہم آج ہی اس اخبار کے آفس جائیں گے ، اور ان سے کہیں گے کہ وہ کل ہی اپنے اخبار میں اس خبر کی تردید کریں”۔عدنان صاحب نے کہا۔
“چاچو بات تصدیق یا تردید کی نہیں ہے، سوچنے والی بات یہ ہے کہ ان میڈیا والوں کو اتنی اندر کی بات کیسے پتہ چلی ،یہاں تک تو سمجھ میں آتا ہے کہ خرد کی خودکشی کی خبر تو کل ہوسپٹل میں موجود اتنے سارے لوگوں میں سے کسی نے دی ہوگی، پر یہ سوسائیڈ نوٹ والی بات ، اور سوسائیڈ نوٹ پر میرا نام ہے یہ بات ان لوگوں کو کیسے پتہ چلی!۔حیدر نے تشویش سے اخبار کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں اور یہ سوسائیڈ نوٹ والی بات تو صرف ہم لوگوں کو پتہ ہے یا پولیس والوں کو”۔فیضان نے کہا۔
“یہ خبر کس نے دی اور کیوں دی اب ان سب باتوں سے کچھ نہیں ہوگا ، اب اس خبر کی تردید کے بارے سوچو”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“ہممم ! ہم آج ہی جاتے ہیں اس اخبار کے آفس”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
********
وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا۔اب خرد کی موت کو ایک سال ہو چکا تھا۔اور اس ایک سال میں اس ہوسپٹل میں خرد کی جگہ تین نئی ڈاکٹرز بھی آئیں تھیں۔پہلے ڈاکٹر صائمہ افضل آئیں۔پر انکے ہوسپٹل جوائن کرنے کے دو ماہ بعد وہ کچھ ڈپریسٹ سی رہنے لگیں۔اور کچھ دنوں بعد ہی ان کے روم میں شارٹ سرکٹ ہونے کی وجہ سے آگ لگ گئی۔اور وہ اس میں جل کر مر گئیں۔کسی کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ آخر کار یہ شارٹ سرکٹ ہوا کیسے تھا۔پھر کچھ عرصے بعد ڈاکٹر فوزیہ عالم آئیں۔پر ہوسپٹل جوائن کرنے کے تین ماہ بعد ہی اچانک انھوں نے ہوسپٹل آنا چھوڑ دیا ۔وہ کہیں غائب ہوگئیں۔کسی کو پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں گئیں۔اور پھر اب یہ ڈاکٹر نادیہ۔جو چھت سے گر کر انتقال کر گئیں۔اور اس ایک سال میں ہوسپٹل میں بھی عجیب و غریب واقعوں کا ہونا معمول بن گیا۔جیسے کبھی کوئی مریض آدھی رات کو چیخ مار کر اٹھ جاتا۔اور پوچھنے پر بتاتا کہ اس نے کسی عجیب سی چیز کو دیکھا ہے۔اکثر رات میں ہوسپٹل سے کسی کی رونے کی آواز آتی۔یا پھر اکثر ڈاکٹر خرد کے روم میں خون پڑا ہوتا۔اور سب کا کہنا اور ماننا یہ تھا کہ یہ سب کچھ خرد کی بھٹکتی ہوئی روح کررہی ہے۔اور تو اور اس ایک سال میں حیدر کے کتنی جگہ رشتے ہو کر ٹوٹ چکے تھے۔اس پر بھی سب کا یہی کہنا تھا کہ خرد نہیں چاہتی کے حیدر کسی اور کا ہو۔حیدر بھی اب پہلے والا زندہ دل، شرارتی اور باتونی سا حیدر نہیں رہا تھا۔وہ بھی بالکل سنجیدہ ہوگیا تھا۔بس اپنے کام سے کام رکھتا۔فیروزہ بھی حیدر کی وجہ سے پریشان رہتی تھیں۔اگر کوئی انھیں کہہ دیتا کہ فلاں بابا جی کے پاس چلے جاؤ یا فلاں پیر صاحب بڑے کرامت والے ہیں۔تو وہ فوراً وہاں پہنچ جاتیں۔اور ویسے بھی اب جہاں دیکھو اس طرح کی جعلی پیر و عامل پریشان حال لوگوں کو بیوقوف بناتے ملتے ہیں۔تو فیروزہ بھی بن رہیں تھیں۔حالانکہ ہمدان صاحب نے کئی بار فیروزہ کو ٹوکا بھی تھا۔پر نتیجہ یہ ہوا کہ پھر فیروزہ نے چھپ چھپ کر جانا شروع کردیا۔ماں جو تھیں۔بس ہر حال میں اپنے بیٹے کی ہنستی کھیلتی زندگی واپس چاہتی تھیں۔اور دوسری جانب فیضان بھی اب بہت سنجیدہ اور سب سے الگ الگ ہوگیا تھا۔فیضان نے اپنی امی کی مرضی کے آگے سر تو جھکا دیا تھا۔پر دل میں کہیں نہ کہیں ایک کسک سی باقی تھی۔شہلا نے بھی اس دوران فیضان کیلئے بہت سی لڑکیاں دیکھیں پر ان میں سے کوئی بھی ان کو پسند نہیں آئی۔ہر کسی میں کوئی نہ کوئی نقص نکال کر رد کردیتی تھیں۔اور مومنہ بھی اب کافی چپ چپ سی رہتی تھی۔اسے ایک تو اس بات نے دکھی کیا ہوا تھا کہ وہ فرقان کی پسند اور مرضی نہیں تھی۔اور دوسری بات یہ بھی تھی کہ اس بیچ فرقان نے بھی مومنہ کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے بھی کوئی پیش قدمی نہیں کی تھی۔
******
حیدر اس وقت کافی شاپ پر ہوسپٹل کے کسی کام سے کسی ملنے آیا ہوا تھا۔اور اسکا ویٹ کررہا تھا۔جس سے وہ ملنے آیا تھا وہ ابھی تک آیا نہیں تھا۔حیدر نے اپنے لئے کافی کا آرڈر دیا۔اور فون چلانے لگا۔حیدر کو اس بیچ بار بار ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے کوئی مسلسل اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔حیدر نے ایک دو بار آس پاس کا جائزہ بھی لیا۔پر ایسا کوئی نظر نہیں آیا۔کہ جس پر اسے شک ہو۔پھر جس بندے کا وہ انتظار کررہا تھا وہ بھی آگیا۔اس سے باتوں کے دوران بھی حیدر کو بار بار ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔پھر تھوڑی دیر بعد وہ دونوں اپنی میٹنگ ختم کرکے وہاں سے اٹھ گئے۔
**************
“ہاں احمر ! کیا ہوا آگئیں وہ نئی ڈاکٹر کیا آج؟۔فرقان نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے فون پر احمر سے پوچھا۔
“اچھا چلو ہم لوگ بھی بس آہی رہے ہیں تھوڑی دیر میں ،پھر ملتے ہیں ان سے بھی، ہاں ٹھیک ہے اللّه حافظ”۔فرقان نے بات کر کے فون رکھ دیا۔اور ناشتے کی جانب متوجہ ہوگیا۔
“کیا ہوا ! کیا پھر کوئی نئی ڈاکٹر آرہی ہے؟۔رفعت نے پوچھا۔
“جی پھوپھو ، ڈاکٹر نادیہ کی جگہ ہی آئی ہیں یہ”۔فرقان نے بتایا۔
“اچھا کیا نام ہے ؟اور کہاں سے تعلق ہے اسکا؟۔رفعت نے مزید پوچھا۔
“پتہ نہیں پھوپھو ابھی وہاں جاکر ملیں گے تو پتہ چلے گا”۔فرقان نے کہا۔
“اللّه پاک رحم کرے اس پر”۔رفعت نے کہا۔پھر تھوڑی دیر میں ناشتہ کرنے کے بعد وہ لوگ ہوسپٹل روانہ ہوگئے۔ڈاکٹر نادیہ کی موت کو بھی اب ایک ماہ ہوچکا تھا۔اور ابھی تک ان کی موت کی وجہ کے بارے میں بھی کچھ پتہ نہیں چل پایا تھا۔
********
جب وہ لوگ ہوسپٹل پہنچے تو ڈاکٹر احمر اور ڈاکٹر ناہید نئی آنے والی ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ تھے کوریڈور میں موجود تھے۔
“ارے آگئے آپ لوگ بھی”۔احمر نے ان کو آتا دیکھ کر کہا۔وہ لوگ اب قریب آچکے تھے۔
“ان سے ملیں ،یہ ہیں ڈاکٹر فرقان علی خان، یہ ہیں انکی وائف ڈاکٹر مومنہ فرقان، اور یہ ان کے بھائی ہیں ڈاکٹر فیضان علی خان”۔احمر نے تعارف کرایا۔
“اور یہ ہیں ہمارے ہوسپٹل کی نئی ڈاکٹر ، فاریہ خان”۔احمر نے کہا۔
“السلام و علیکم”۔فاریہ نے مسکرا کر سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔تینوں نے یک زبان جواب دیا۔
“ارے حیدر کہاں ہے؟۔احمر نے پوچھا۔
“وہ کسی کی کال آگئی تھی حیدر کے پاس، بس ابھی آتا ہی ہوگا”۔فرقان نے بتایا۔
“ارے وہ آگیا”۔احمر نے حیدر کو اپنی جانب آتا دیکھ کر کہا۔ فاریہ کا منہ احمر کی جانب تھا۔اور پشست حیدر کی جانب تھی۔حیدر اب قریب آچکا تھا۔
“ان سے ملیں ،یہ ہیں ڈاکٹر فرقان کے کزن اور اس ہوسپٹل کے ڈاکٹر بھی حیدر علی خان”۔احمر نے کہا۔تو فاریہ حیدر کی جانب پلٹی۔
“السلام و علیکم”۔فاریہ نے مسکرا کر سلام کیا۔حیدر نے سر کی چنبش سے جواب دیا۔اور بغور فاریہ کو دیکھنے لگا۔فاریہ اب مومنہ سے مخاطب تھی۔اس نے ڈارک بلیو کلر کی شیفون کی فراک پہنی ہوئی تھی۔اور ہم رنگ چوڑی دار پاجامہ پہنا ہوا تھا۔گلے میں بھی اس رنگ کا دوپٹہ ڈالا ہوا تھا۔رنگ گندمی تھا۔اور کالے بال کمر تک آرہے تھے۔آدھے بالوں میں اس نے ایک چھوٹا سا کیچر لگایا ہوا تھا۔درمیانہ قد تھا۔اس نے وائٹ کلر کا کوٹ پہنا ہوا تھا۔اور گلے میں اسکیتھسکوپ ڈالا ہوا تھا۔
“اور اگر آپکو کسی بھی قسم کی کوئی ضرورت ہو تو آپ بلا جھجھک ہم سے کہہ سکتی ہیں”۔مومنہ نے کہا۔
“جی بالکل ، میرا خیال ہے کہ اب ہمیں اپنے اپنے روم میں جانا چاہئے”۔فاریہ نے مسکرا کر کہا۔
“ہاں ضرور”۔ڈاکٹر ناہید نے کہا۔اور سب اپنے اپنے روم کی جانب بڑھ گئے۔
**************
ڈاکٹر فاریہ اس وقت اپنے روم میں بیٹھی ہوئی کچھ مریضوں کی فائلیں چیک کر رہی تھی۔کہ دروازے پر کسی نے دستک دی۔
“جی آجائیں”۔فاریہ نے کہا۔اندر آنے والا ایک درمیانی عمر کا آدمی تھا۔اور اس کے ساتھ اسی کے عمر کی ایک عورت تھی۔
“السلام و علیکم ڈاکٹرنی صاحبہ!۔عورت نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ! بیٹھیں”۔فاریہ نے جواب دے کر کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“جی بتائیں کہ کیا مسلہ ہے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“بس مت پوچھیں ڈاکٹرنی صاحبہ کہ کیا کیا مسلے ہیں”۔عورت نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے نہیں پوچھتی”۔فاریہ نے کاندھے اچکتے ہوئے کہا۔
“ارے نہیں نہیں ! میرا مطلب تھا کہ اتنے مسلیں ہیں کہ کیا بتاؤں! ہفتہ ہفتہ بھر لائن میں پانی نہیں آتا، اتنی دور وہ اشرف کباڑیا کے گھر سے پانی بھر کے لانا پڑتا ہے، اور ……!
“ارے ارے یہ سب آپ مجھے کیوں بتا رہی ہیں، آپکو کیا مرض ہے ! آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں ! یہ بتائیں”۔فاریہ نے عورت کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
“ارے وہی تو بتا رہے ہیں ، کہ پانی کی اتنی وزنی بالٹی لے کر بیچارے یہ پپو کے ابا کو دوسری منزل پر چڑھنا پڑتا ہے، بس کل بھی وہی بالٹی لے کر چڑھ رہے تھے، بیچارے لُڑکھ گئے، بس تب سے ان کی کمر میں درد اٹھا ہوا ہے”۔عورت نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے مرد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“ہممم ! اچھا یہاں آنے سے پہلے آپ لوگ کسی اور ڈاکٹر کے پاس گئے تھے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“جی گئے تھے ، اس ڈاکٹر نے تصویریں کھچوانے کا کہا تھا، اور کہا تھا کہ وہ تصویریں آج رات ان کو آکر دکھائیں، پر پپو کے ابا سے درد برداشت ہی نہیں ہورہا تھا،تو ہم لوگ یہاں آگئے”۔عورت نے بتایا۔
“کیا ! ڈاکٹر نے تصویریں کھچوانے کا کیوں کہا تھا؟۔فاریہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“پتہ نہیں جی، یہ ڈاکٹر لوگ بھی بس کیا کیا فرمائیشں کرتے رہتے ہیں، ویسے ہم لوگ وہ تصویریں لے کر آئے ہیں، دکھائیں کیا آپکو؟۔عورت نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“جی دکھائیں”۔فاریہ نے کہا۔عورت نے اپنے تھیلے جیسے پرس میں سے ایک بڑا سا خاکی رنگ کا لفافہ نکالا۔
“یہ لیجئے ،یہ ہے”۔عورت نے لفافہ فاریہ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔فاریہ نے لفافہ لے کر کھول کے دیکھا۔اور پھر ان دونوں کو گھورنے لگی۔
“کیا ہوا ڈاکٹرنی صاحبہ ! کوئی مسلے کی بات ہے کیا؟۔عورت نے تشویش سے پوچھا۔
“یہ ہیں وہ تصویریں؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“جی یہی ہیں، اور دیکھیں کہ کتنا خراب پرنٹ نکالا ہے یہ کمبخت تصویر والے نے،کچھ صاف نظر ہی نہیں آرہا ہے”۔عورت نے کہا۔
“اس کو تصویر نہیں ایکسرے کہتے ہیں”۔فاریہ نے ایکسرے ان دونوں کی جانب موڑتے ہوئے کہا۔
“یہ کیا ہوتا ہے جی؟۔عورت نے لاعلمی سے پوچھا۔
“اس میں انسان کے اندر موجود چیزوں کو دیکھا جاتا ہے، جیسے کے ابھی ان کے جو کمر پر چوٹ لگی ہے ، تو اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کہیں کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی ہے”۔فاریہ نے بتایا۔
“اوہ ہو ! یہ ہے ، اچھا تو پھر ذرا جلدی سے دیکھ کر تو بتائیں کہ کہیں ان کی کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹ گئی”۔عورت نے کہا۔فاریہ نے ایکسرے روشنی کی جانب کر کے بغور دیکھا۔
“کیا ہوا ڈاکٹرنی صاحبہ؟۔عورت نے تشویش سے پوچھا۔
“اس میں تو ہڈی بالکل ٹھیک نظر آرہی ہے، کہیں کوئی فیکچر نہیں ہے”۔فاریہ نے ایکسرے دیکھتے ہوئے کہا۔
“اچھا آپکو چوٹ لگنے کے بعد سے ہی درد بہت زیادہ ہے ! یا پھر وقفے وقفے سے کم زیادہ ہوتا رہتا ہے؟۔فاریہ نے اس آدمی سے پوچھا۔آدمی نے کچھ کہنے کے بجائے عورت کی جانب دیکھا۔
“وہ جی یہ بول نہیں سکتے ہیں”۔عورت نے کہا۔
“اوہ ! ایم سو سوری، تو کیا یہ پیدائیشی گونگے ہیں یا کوئی مسلہ ہوگیا تھا؟۔فاریہ نے افسوس کرتے ہوئے پوچھا۔
“ارے نہیں نہیں ! اللّه نہ کرے ، یہ گونگے تھوڑی ہیں”۔عورت نے جلدی سے کہا۔
“تو پھر یہ بول کیوں نہیں سکتے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“کیونکہ جی ان کے منہ میں گٹکا ہے”۔عورت نے بتایا۔
“افو ! حد کرتے ہیں آپ لوگ بھی”۔فاریہ نے تلملا کے کہا۔اور دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ کیسے عجیب لوگ ہیں یہ۔
“دیکھیں میں ہڈیوں کی ڈاکٹر نہیں ہوں، میں گائناکولوجسٹ ہوں، اس لئے میں آپکو ڈاکٹر فراز کا پتہ دے رہی ہوں ، آپ ان سے مل لیں، ویسے تو ایکسرے دیکھ کر تو مجھے سب ٹھیک ہی لگ رہا، باقی اگر کچھ اور کرنا ہوا تو وہ آپکو ڈاکٹر فراز بتا دیں گے”۔فاریہ نے کہا۔اور ایک پرچی ان لوگوں کی جانب بڑھائی۔
“اچھا جی اللّه حافظ ڈاکٹرنی صاحبہ، بہت اچھا لگا آپ سے مل کے”۔عورت نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“پر مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگا”۔فاریہ نے آہستہ سے کہا۔
“جی کچھ کہا آپ نے؟۔ عورت نے پوچھا۔
“نہیں کچھ نہیں”۔فاریہ نے کہا۔اور وہ لوگ چلے گئے۔فاریہ نے پھر سے فائلیں کھول لیں۔
********
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *