Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28

“ٹھیک ہے ، بائیٹھو”۔نادر نے کہا۔اور نادر کے پیچھے احمر بیٹھا ، احمر کے پیچھے خالد۔پھر نادر نے بائیک آگے بڑھا دی۔
“احمر اس سے بولو تھوڑا تیز چلائے”۔خالد نے احمر کے کان میں سرگوشی کی۔
“بھائی صاحب تھوڑا تیز چلالیں”۔احمر نے کہا۔
“کاہے ؟ تمری ٹرین مرین چھوٹ راہی ہے کا؟۔نادر نے پوچھا۔
“نہیں وہ دراصل ہمیں جلدی ایک میٹنگ میں پہنچنا ہے اس لئے”۔احمر نے بتایا۔
“تو ای ما ہمری غلطی تھوڑی ہے ، اور ہم تو تیز ناہی چلائیں گے ، ہم بتائی دیتے ہیں ، اپکا کونو مسلہ ہے تو یہاں ہی اترے جاؤ ، ہمرا اماں ہم کا منع کئے ہیں تیز تیز بائیکوا چلانے سے”۔نادر نے کہا۔اور خالد صبر کا گھونٹ پی کر رہ گیا۔
“ویسن آپ لوگ ای ویرانا میں کیا کارری رہے تھے؟۔نادر نے پوچھا۔
“جی ہم وہ موم بتی والے بابا جی کے پاس آئے تھے ، کہ واپسی میں ٹائر پنکچر ہوگیا”۔احمر نے بتایا۔
“اری باپ رے باپ ! موم بتی والا بابا جی کے پاس آئے تھے ! او تو باہوت ہی پہنچی ہوئی چیز ہیں ، جو بولتے ہیں ایکدم سولہ آنے درست ہوات ہے ، ہم خود بھی وہیں سے آرہے تھے”۔نادر نے بتایا۔
“اچھا ! ہاں ویسے سچ میں بابا جی کبھی غلط نہیں بولتے”۔احمر نے بھی تائید کی۔اتنے میں وہ لوگ بس اسٹاپ تک پہنچ گئے۔
“ای لیو ، آگئیو تمرا گھر”۔نادر نے بائیک روک کر کہا۔
“بہت شکریہ ، پر یہ ہمارا گھر نہیں ہے ، یہاں سے کسی ٹیکسی وغیرہ میں گھر جائیں گے”۔احمر نے بائیک پر سے اتر کر کہا۔
“اچھا ! ہم بھی مذاق ہی کرت ہیں ، اور سکریہ مکریہ کا کونو بات ناہی ہے ، ای تو ہمرا فارض تھا، اچھا اب ہم چلتا ہوں ، ہاں موم بتی والا بابا جی کے پاس آتی رہیں گا، خدا حافظ”۔نادر نے کہا۔اور بائیک آگے بڑھا دی۔پھر تھوڑی ہی دیر میں ایک ٹیکسی میں وہ لوگ کلینک پہنچ گئے۔
*******
ان لوگوں کو اس کام کیلئے دوسرے لوگوں کی بھی ضرورت تھی۔اس لئے ان لوگوں نے اپنے پلان میں نادر اور تابش کو بھی بہت رازداری سے شامل کرلیا تھا۔
“یار نادر کیا زبردست ایکٹنگ کی تھی تم نے بائیک پر”۔احمر نے کہا۔
“بس کبھی غرور نہیں کیا اپنے ٹیلینٹ پر”۔نادر نے فخر سے کہا۔سب لوگ اس وقت احمر کے گھر پر موجود تھے۔
“ہاں اور وہ بابا جی والی ایکٹنگ بھی اچھی کی تھی تم”۔فیضان نے کہا۔
“اور ڈاکٹر خالد کی تو شکل دیکھنے والی تھی جب ٹائر بلاسٹ ہوا تھا”۔احمر نے کہا۔
“پر آپ لوگوں کو پکا یقین ہے ناں کہ ڈاکٹر خالد کو بالکل شک نہیں ہوا ہے!۔فاریہ نے پوچھا۔
“نہیں ! نا ہی شک ہوا ہے ، اور نا ہی آگے ہم ہونے دیں گے”۔فرقان نے کہا۔
“گڈ ! اور تابش تمہیں تمہارا کام پتہ ہے ناں ! تم ٹھیک سے کررہے ہو ناں!۔فاریہ نے پوچھا۔
“جی بھابھی ، آپ بالکل بے فکر رہیں”۔تابش نے کہا۔
“اب آگے کیا کرنا ہے؟۔مومنہ نے پوچھا۔پھر فاریہ ان لوگوں کو آگے کا پلان سمجھانے لگی۔اور حیدر خاموشی سے بس فاریہ کو دیکھتا رہا۔
*************
اور پھر اگلے کچھ ہی دنوں میں یہ لوگ ڈاکٹر خالد کا یقین “موم بتی والے بابا” پر بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے۔اور اکثر اور خالد بھی احمر کے ساتھ “موم بتی والے بابا” کے پاس جانے لگا تھا۔اور ان لوگوں نے بڑی چالاکی سے خالد کی کار میں جی۔پی۔ایس فٹ کروادیا تھا۔جس سے انھیں یہ پتہ چل گیا تھا کہ خالد نے احمر کی ماں جی کو کہاں رکھا ہوا ہے۔پر ابھی وہ لوگ کوئی ایکشن نہیں لے سکتے تھے۔کیونکہ ایک تو وہاں بہت سخت پہرا تھا۔اور دوسرا یہ کہ ان لوگوں کے پاس ابھی خالد کے خلاف کوئی پکا ثبوت نہیں تھا۔
*****************
“سر مے آئی کم ان؟۔احمر نے دروازے پر کھڑے ہوکر پوچھا۔
“یس کم ان”۔خالد نے کہا۔
“سر آپکے لئے ایک پیغام ہے”۔احمر نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“کیا پیغام اور کس کا؟۔خالد نے پوچھا۔
“موم بتی والے بابا کا ،آج انھوں نے خاص بلایا ہے آپکو”۔احمر نے بتایا۔
“اچھا ! کیوں خریت؟۔خالد نے پوچھا۔
“اب یہ تو وہ آپکو ہی بتائیں گے”۔احمر نے کاندھے اچکتے ہوئے کہا۔
“اچھا چلو ٹھیک ہے ، آج شام میں چلتے ہیں”۔خالد نے کہا۔
********
آج ان لوگوں نے پورا پلان بنا لیا تھا کہ ڈاکٹر خالد کو ڈرا کر اس کے منہ سے سچ اگلوائیں گے۔فرقان ، فیضان ، حیدر اور تابش اندر والے کمرے میں چھپے ہوئے تھے۔جیسے ہی گاڑی رکنے کی آواز آئی۔سب اپنی اپنی جگہ الرٹ ہوگئے۔
“السلام علیکم بابا جی”۔احمر اور خالد نے اندر داخل ہوتے ہوئے سلام کیا۔
“آؤ آؤ ، بابا تمہارا ہی انتظار کررہا تھا”۔نادر نے کہا۔وہ دونوں نادر کے سامنے بیٹھ گئے۔
“بابا جی احمر بتا رہا تھا کہ آپکو مجھ سے ملنا تھا”۔خالد نے پوچھا۔
“ہاں ، ہم نے تمہیں کچھ بتانے کیلئے بلایا ہے”۔نادر نے کہا۔
“کیا بابا جی ؟۔خالد نے پوچھا۔
“اب تک جو غلط کام تم لوگ کرتے آئے ہو ، اب اسکا حساب دینے کا وقت آگیا ہے”۔نادر نے کہا۔
“کیا مطلب ؟۔خالد نے پوچھا۔
“مطلب کے جس معصوم لڑکی کی خودکشی کو آڑ بنا کر اب تک تو یہ سب کرتا آیا ہے ، اسکی آتما تجھ سے بدلہ لینے آگئی ہے”۔نادر نے کہا۔
“کیا ! وہ لڑکی جس نے خودکشی کی تھی ؟ آپکو اسکا نام پتہ ہے ؟۔خالد نے پوچھا۔
“ہاں ! خرد عثمان”۔نادر نے کہا۔
“اچھا تو آپکو اسکا نام کیسے پتہ چلا ؟ اور یہ کیسے پتہ چلا کہ اس نے خودکشی کی تھی؟۔خالد نے پوچھا۔
“یہ سب کچھ مجھے میرے مؤکل نے بتایا ہے”۔نادر نے بتایا۔
“اچھا تو اس مؤکل نے آپکو یہ نہیں بتایا کہ اس دن ڈاکٹر خرد نے خودکشی نہیں کی تھی ، بلکہ وہ میری وجہ سے مری تھی!۔خالد نے طنزیہ انداز میں کہا۔اور سب اپنی جگہ پر دنگ رہ گئے۔
“اور آپکے اس مؤکل کا نام احمر ہے ناں بابا جی؟۔خالد نے تائید چاہی۔
“کیا ! خرد کو آپ نے مارا تھا ؟۔احمر نے بے یقینی سے پوچھا۔
“ہاں میں نے مارا تھا ،جب حیدر نے خرد کو تھپڑ مارا تھا تو اس رات کو اتفاقاً میں نے دونوں کی باتیں سن لی تھیں، میری ویسے بھی اس پر نظر تھی، حیدر کے جانے کے بعد وہ فون پر کسی سے بات کرنے لگی، میں باہر کھڑا اسکی باتیں ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا، پھر جب اس نے فون رکھا تو میں اسکے روم میں داخل ہوا ، وہ مجھے دیکھ کر گھبرا گئی، پھر میں نے اسے سمجھایا کہ کیوں بیکار میں ایسے شخص کے پیچھے رو رہی ہو جسے تمہاری قدر ہی نہیں، میرے پاس آؤ میں تمہیں سب کچھ دوں گا، اور ایسے ہی باتیں کرتے ہوئے میں اسے اپنے قریب کھینچنے لگا، پر وہ مزاہمت کرنے لگی، اور مجھے زور دار تھپڑ مار دیا، مجھے غصہ آگیا، میں نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے زبردستی اوپر چھت پر بنے کمرے میں لے گیا اور چھت کی گرل پر تالا لگا دیا تا کہ وہ بھاگ نا پاۓ، اور اس سے کہا کہ ابھی تم بھی تو تھوڑی دیر پہلے کسی اور کی بانہوں میں آنے کی کوشش کررہی تھی ، اور یہی کوشش میں نے کی تو مجھے تھپڑ مار دیا، اس نے کہا کہ اسے حیدر پر بھروسہ تھا کہ میں چاہے کچھ بھی کرلوں ، وہ میرے ساتھ کچھ نہیں کریگا ،مجھے اور غصہ آگیا،پھر میں نے اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ، اور وہ خود کو چھڑا کر کمرے سے باہر بھاگی ، پر نیچے جانے والے راستے پر تالا تھا، تو وہ باؤنڈری کی جانب بھاگی ، اور مجھے دھمکی دینے لگی کہ اگر میں اس کے پاس آیا تو وہ کود جائے گی، پر میں ہنوز آگے بڑھتا رہا، گھبراہٹ میں وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور نیچے گر گئی،میں بھی کچھ دیر کیلئے پریشان ہوگیا، پھر میرے ذہن میں یہ آتما والا پلان آیا، جس سے مجھے پر الزام بھی نہیں آیا اور ہوسپٹل میں وحشت بھی پھیل گئی،پھر میں نے ایک سو سائیٹ نوٹ لکھ کر اسکی میز پر رکھ دیا، تا کہ سب کا شک حیدر پر ہی جائے، اور یہی نہیں ، ڈاکٹر صائمہ اور ڈاکٹر نادیہ بھی کوئی حادثاتی طور پر نہیں مریں تھیں ، بلکہ انھیں بھی میں نے ہی مارا تھا ، بہت ٹوہ میں رہتی تھیں دونوں میری ، اور وہ ڈاکٹر فوزیہ عالم اس سے تو میں نے پارٹنر شپ بھی کرلی تھی، پر اس پر بھی اچانک سے سچائی کا دورہ پڑگیا، اور مجھ سے بچنے کیلئے دبئی بھاگنے لگی، پر اسکی قسمت تو دیکھو مجھے کچھ کرنا ہی نہیں پڑا اور جس فلائٹ سے وہ دبئی بھاگ رہی تھی وہ فلائٹ ہی کریش ہوگئی، اور وہ بھی مرگئی، اور اب تمہیں کیا لگا تھا احمر کہ تم اس دو ٹکے کے آدمی کو بابا جی بنا کر مجھے ڈراؤگے اور میں سب بتا دوں گا ! دیکھو تمہارا تھوڑا پلان تو کامیاب ہوگیا کہ میں نے سب کچھ بتادیا ، پر یہ سب کچھ پولیس کو بتانے کیلئے تم لوگ زندہ رہو گے تو باقی کا پلان کامیاب ہوپاۓ گا ناں ، اور تم لوگوں کو بھی خرد اور باقی ڈاکٹرز کے پاس پہنچانے کا انتظام میں کرکے آیا ہوں”۔خالد نے کہتے ہوئے اپنے کوٹ میں ہاتھ ڈال کر گن نکالی اور نادر پر تان دی۔اس سے پہلے کے وہ فائر کرتا احمر نے اس پر حملہ کردیا۔اور گن اس کے ہاتھ سے گر کر زمین پر گر گئی۔اتنے میں باقی سب بھی باہر آگئے۔اور سب کو دیکھ کر خالد کے ہوش ہی اُڑگئے۔کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ یہاں پر صرف احمر اور نادر ہی ہیں۔جنہیں وہ سب کچھ بتاکر مار دیگا۔کیوں خالد کو احمر پر شک ہوگیا تھا۔پر یہاں تو سب کچھ الٹا ہوگیا تھا۔خالد کی ساری باتیں وہ لوگ بھی سن چکے تھے۔فرقان اور فیضان نے جلدی سے خالد کو پکڑا۔تابش نے لائٹ جلائی۔نادر نے بھی ویگ اور داڑھی وغیرہ اتر دی تھی۔
“میں اتنا عرصہ یہ سوچ سوچ کر خود کو قصور وار سمجھتا رہا کہ میری وجہ سے ایک لڑکی نے اپنی جان دے دی اور ان سب کے پیچھے تم تھے، تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ تمہاری اس حرکت کی وجہ سے مجھ پر اتنا کیا عرصہ کیا گزری!۔حیدر نے غصے سے خالد کے کالر پکڑ کر کہا۔کہ تب ہی خالد نے اپنا گھٹنا پوری قوت سے حیدر کے پیٹ پر مارا۔حیدر اس اچانک حملے کیلئے تیار نہیں تھا تب ہی یکدم لڑکھڑا کر گرگیا۔احمر اور نادر دونوں حیدر کی جانب بھاگے۔اس غیرمتوقع حملے کی وجہ سے فیضان اور فرقان کی گرفت بھی خالد پر سے ڈھیلی پڑگئی۔اور اس نے پوری قوت لگا کر دونوں کو بھی دھکا دے دیا۔اور ایک بھی سیکنڈ ضائع کئے بغیر گن اٹھالی۔
“میں نے اب تک اس بات کو “راز” رکھنے کیلئے کتنے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے ، تو تم لوگ کیا چیز ہو ، یہاں سے تم لوگوں میں سے کوئی بھی زندہ بچ کر نہیں جائے گا، ایک ایک کو مار ڈالوں گا”۔خالد نے سب پر گن تان کر کہا۔
“تم کچھ بھی کرلو خالد پر اب تمہارا کھیل ختم ہوچکا ہے”۔فرقان نے کہا۔
“نہیں میں اتنی آسانی سے اس راز کو کھلنے نہیں دوں گا”۔خالد نے جنونی انداز میں کہا۔یہاں فرقان نے خالد کا دھیان بٹایا اور وہاں خاموشی سے احمر نے خالد پر حملہ کردیا۔پر خالد گن نہیں چھوڑ رہا تھا۔سب ہی اس سے گن لینے کی جدو جہد میں لگ گئے۔پر وہ کسی صورت گن نہیں چھوڑ رہا تھا۔اسی ہاتھا پائی میں گن چل گئی۔اور زوردار فائر کی آواز آئی۔سب لوگ اپنی جگہ ساکت ہوگئے۔سب کو تب ہوش آیا جب حیدر اچانک سے زمین بوس ہوا۔فیضان ، تابش اور نادر حیدر کی جانب بھاگے اور احمر اور فرقان نے خالد پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔گولی حیدر کے سینے پر لگی تھی۔اور حیدر کی آسمانی رنگ کی شرٹ خون سے سرخ ہوگئی۔وہ لوگ جلدی سے حیدر کو لے کر ہوسپٹل بھاگے۔تابش نے گھر والوں کو بھی فون کردیا تھا۔اور احمر اور فرقان بھی خالد کو لے کر نکلے۔کیونکہ اتنا پیٹنے کی وجہ سے اب وہ کسی بھی قسم کی مزاہمت کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔
********
خالد پر ان لوگوں نے ایف آئی آر درج کروا کر اسے جیل بھیجوادیا تھا۔اور سارے ثبوت دو دن بعد کورٹ میں پیش ہونے تھے۔حیدر بھی اپریشن تھیٹر میں تھا اور اسکی حالت بہت خراب تھی۔
“کیا ہوا حیدر کو ؟ کہاں ہے وہ ؟۔ہمدان صاحب نے فیضان کے قریب آتے ہوئے پوچھا۔جو کہ ریسپشن کے پاس انہی لوگوں کا انتظار کررہا تھا۔
“چاچو وہ اس وقت اپریشن تھیٹر میں ہے”۔فیضان نے بتایا۔ہمدان کے ساتھ ارسلان ، عدنان اور قیصر صاحب بھی آئے تھے۔اور سب جلدی جلدی اپریشن تھیٹر کی جانب جانے لگے۔اپریشن تھیٹر کے باہر احمر ، نادر اور تابش بھی بیٹھے ہوئے تھے۔اور فرقان اندر اپریشن تھیٹر میں تھا۔جب کہ فیضان کی ہمت نہیں ہورہی تھی حیدر کا اپریشن کرنے کی۔
“کیا ہوا نادر ؟ کچھ کہا ڈاکٹرز نے؟۔ہمدان صاحب نے قریب آتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں تایا ، ابھی تک تو کچھ بھی نہیں کہا”۔نادر نے کھڑے ہوتے ہوئے بتایا۔احمر اور تابش بھی کھڑے ہوگئے۔
“پر یہ سب کچھ ہوا کیسے ؟۔قیصر صاحب نے پوچھا۔اور سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“بتاؤ بھی اب کچھ ، یہ ایک دوسرے کو کیوں دیکھ رہے ہو تم لوگ!۔ارسلان صاحب نے کہا۔اور پھر فیضان نے شروع سے لے کر اب تک سب کچھ بتا دیا۔سوائے فاریہ کی حقیقت کے۔کیونکہ حیدر نے فیضان سے وعدہ لیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے پر یہ راز ان دونوں کے بیچ ہی رہنا چاہئے۔
“واہ ! اب تم لوگ اتنے بڑے ہوگئے ہو کہ گھر کے بڑوں کو بھی کچھ بتانا ضروری نہیں سمجھا”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“دادا جی ہمیں لگا تھا کہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہوگی ، ہم لوگ خود اسے ہنڈل کرلیں گے”۔فیضان نے سر جھکا کر شرمندگی سے کہا۔قیصر صاحب نے کچھ نہیں کہا۔موقع ہی ایسا تھا اب کسی کو کیا بولتے۔اتنے میں ہمدان کا فون بج گیا۔
“ہاں فیروزہ بولو”۔ہمدان صاحب نے فون اٹھا کر پوچھا۔
“ہمدان میرا بچہ کیسے ہے ؟ کیا ہوگیا ہے اسے ؟ کیسے ہوا یہ سب ؟۔دوسری جانب فیروزہ نے روتے ہوئے پوچھا۔
“حیدر ابھی اپریشن تھیٹر میں ہے، ابھی ڈاکٹرز نے کچھ نہیں کہا ہے ، تم تسلی رکھو اور دعا کرو ، سب ٹھیک ہوجائے گا ان شاءاللّه”۔ہمدان صاحب نے کہا۔اور فون کاٹ دیا۔پھر تھوڑی ہی دیر میں سجاد صاحب اور فاریہ بھی آگئے۔انھیں بھی سب جان کر بہت دکھ ہوا۔آئمہ کو یہ لوگ “علی ولا” چھوڑتے ہوئے آئے تھے۔پھر تھوڑی دیر بعد اپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا۔اور فرقان کے ساتھ ایک پچاس پچپن سال کے ڈاکٹر بھی باہر آئے۔
“کیا ہوا فرقان ؟ حیدر کیسا ہے؟۔ہمدان صاحب نے قریب آتے ہوئے پوچھا۔
“چاچو وہ…وہ…!۔فرقان سے بولا نہیں جارہا تھا۔
“کیا وہ فرقان ؟ کیا ہوا حیدر کو ؟ وہ خطرے سے باہر تو ہے ناں؟۔ہمدان صاحب نے تشویش سے پوچھا۔باقی سب کا بھی دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
“دیکھئے پیشنٹ کی حالت ابھی بہت نازک ہے ایک تو گولی انکے دل کے بہت قریب لگی ہے ، اور دوسرا خون بھی بہت زیادہ بہہ چکا ہے ، اس لئے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، آپ لوگ بس دعا کریں کے پیشنٹ کی جان بچ جائے ، اور….!۔ڈاکٹر نے کہتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“اور کیا ڈاکٹر صاحب؟۔ہمدان نے پوچھا۔
“اور کسی بھی وقت کوئی بھی بری خبر سننے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہیں آپ لوگ”۔ڈاکٹر نے بات مکمل کی۔سب ہی سکتے میں آگئے۔اور پھر وہ دونوں دوبارہ اپریشن تھیٹر میں چلے گئے۔ہمدان صاحب گرنے کے سے انداز میں کرسی پر بیٹھ گئے۔باقی سب انھیں دلاسا دینے لگے۔فاریہ بھی الگ ایک کرسی پر سکتے کی سی حالت میں بیٹھی ہوئی تھی۔فیضان اسکے برابر والی کرسی پر جاکر بیٹھ گیا۔فاریہ خاموش بیٹھی ہوئی دیوار کو تک رہی تھی۔
“فاریہ !۔فیضان نے پکارا۔
“ہممم! ۔فاریہ نے ہنوز اسی انداز میں کہا۔
“مجھے تمہیں ایک بات بتانی ہے، جو کہ ہم سب کو بھی آج ہی پتہ چلی ہے”۔فیضان نے کہا۔فاریہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“تمہاری بہن یعنی ڈاکٹر خرد عثمان کا قاتل حیدر نہیں ، بلکہ ڈاکٹر خالد کریم ہے، خرد نے کوئی خودکشی نہیں کی تھی ، بلکہ وہ خالد کی وجہ سے مری تھی، اس نے حیدر اور خرد کی باتیں سن لی تھیں، اور حیدر کے جانے کے بعد جب خرد بھی تم سے بات کرکے جانے کیلئے نکلی تو خالد نے اس سے زبردستی کرنے کی کوشش کی، اور وہ خود کو بچاتے ہوئے چھت سے نیچے گر گئی۔اور خالد نے اسے خودکشی کا رنگ دے دیا، اور ایک جھوٹا سو سائیٹ نوٹ لکھ کر خرد کی میز پر رکھ دیا، تا کہ سب کا شک حیدر پر جائے”۔فیضان نے بتایا۔اور فاریہ پھٹی پھٹی نظروں سے فیضان کو دیکھ رہی تھی۔اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔اسکے پاس لفظوں کا قحط پڑگیا تھا۔
“یہ تم کیا….ڈاکٹر خالد نے…..پر کیوں؟۔فاریہ نے اٹک اٹک کر با مشکل پوچھا۔
“تا کہ وہ ہوسپٹل میں زیادہ سے زیادہ وحشت پھیلا سکے، اور تو اور ڈاکٹر صائمہ اور ڈاکٹر نادیہ کو بھی اس نے ہی مارا تھا، اور ڈاکٹر فوزیہ کو بھی مارنے کی کوشش کی تھی پر وہ اس سے بچ کر دبئی جارہی تھیں، لیکن پلین کریش ہونے کی وجہ سے انکی بھی موت ہوگئی”۔فیضان نے مزید بتایا۔فاریہ پر تو جیسے ساتوں آسمان ہی ٹوٹ پڑے تھے۔
“اور ہاں ایک بات اور ، حیدر جو اتنے دنوں سے تمہیں نظر انداز کررہا تھا ناں ، وہ سب میرے ہی کہنے پر زبردستی کررہا تھا ، کیونکہ میں نے ہی اسے کہا تھا کہ اگر تمہیں بھی اس سے محبت ہوئی تو تم اسکے نظر انداز کرنے پر ضرور بے چین ہوگی، اور ایسا ہی ہوا ، ورنہ تمہارے پیچھے تم سے ملنے اور بات کرنے کیلئے وہ کتنا بے چین رہتا ہے یہ میں ہی جانتا ہوں، اور تمہارے اس رویے کی وجہ سے حیدر بہت پریشان رہتا تھا اس لیے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے مجھے تمہارے بارے میں بتادیا، پر مجھ سے یہ وعدہ بھی لیا تھا کہ یہ راز میں کسی کو ناں بتاؤں”۔فیضان نے بتایا۔کہ تب ہی ارسلان نے فیضان کو بلالیا۔اور وہ انکے پاس چلا گیا۔اور فاریہ ٹرانس کی کیفیت میں اٹھ کر کہیں جانے لگی۔
***************
فاریہ اس وقت جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگتے ہوئے سسکیوں سے رو رہی تھی۔اور دل ہی دل میں اللّه سے مخاطب تھی۔
“یااللّه ! یہ میں کیا کرتی آرہی تھی آج تک ! ایک بے قصور انسان کو بلاوجہ قصور وار کہتی رہی، اسکی سچی محبت کی توہین کرتی رہی ، اور اس نے پھر بھی مجھ سے نفرت نہیں کی”۔فاریہ نے دل میں کہا۔فاریہ کو اچانک حیدر کی بات یاد آئی۔
“اگر تم ایسا ہی کرتی رہی تو میں مر جاؤں گا”۔پھر اسے اپنی بات یاد آئی۔
“تو مر جاؤ ، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
“نہیں ! مجھے فرق پڑتا ہے ، اگر حیدر کو کچھ ہوگیا تو میں بھی مرجاؤں گی”۔فاریہ نے کہا۔پھر اسے حیدر کی دوسری بات یاد آئی۔
“سنو ! میرے لئے بھی دعا کرنا”۔
“ہاں ! میں تمہارے لئے دعا کررہی ہوں”۔فاریہ نے کہا۔پھر کافی دیر تک ایسا ہی روتے رہنے کے بعد وہ واپس اپریشن تھیٹر کے پاس چلی گئی۔
****************
“کیا ہوا بابا؟ کچھ کہا ڈاکٹر نے دوبارہ ؟۔فاریہ نے سجاد صاحب کے پاس آتے ہوئے پوچھا۔فاریہ کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سوجھ گئیں تھیں۔یہ دیکھ کر سجاد صاحب کا دل کاٹ کر رہ گیا۔اور انھوں نے فاریہ کو سینے سے لگالیا۔
“نہیں بیٹا ، ابھی تک تو دوبارہ کچھ نہیں کہا ڈاکٹر نے ، پر تم اللّه پر بھروسہ اور اچھی امید رکھو، ان شاءاللّه سب ٹھیک ہوگا”۔سجاد صاحب نے فاریہ کا سر سہلاتے ہوئے کہا۔
“امین”۔فاریہ نے کہا۔مزید ایک گھنٹہ گزار چکا تھا۔پر ابھی تک دوبارہ ڈاکٹر باہر نہیں آئے تھے۔پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ اپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور اب کی بار صرف وہ ڈاکٹر صاحب ہی باہر آئے۔ اپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلتے ہی سب بے چینی سے ڈاکٹر کے پاس آئے۔
“کیا ہوا ڈاکٹر صاحب ؟ اب میرے بیٹے کی حالت کیسی ہے؟۔ہمدان صاحب نے بے قراری سے پوچھا۔
“یہ آپکے بیٹے ہیں؟۔ڈاکٹر نے پوچھا۔
“جی ڈاکٹر صاحب ، پر اب اسکی حالت کیسی ہے؟۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔ڈاکٹر خاموشی سے سب کو دیکھنے لگا۔اور سب کے دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگے۔اور کسی انہونی کا خدشہ ظاہر ہونے لگا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *