Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05

فرقان تھوڑی دیر تو پہلے فیضان کو دیکھتا رہا۔پھر اسکو گلے لگا لیا۔فرقان کو اس وقت اپنے بھائی پر بہت پیار آرہا تھا۔ “مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میرا چھوٹا سا بھائی کب اتنا بڑا ہوگیا کہ اتنی سمجھداری کی باتیں کرنے لگا ہے”۔فرقان نے فیضان کو گلے لگائے ہوئے کہا۔
“بس کرو یار ایموشنل کردیا تم لوگوں نے”۔حیدر نے مصنوئی آنسوں پونچھتے ہوئے شرارت سے ماحول بدلنے کیلئے کہا۔اور سب مسکرادیے۔
***********
“اب تم سہی طرح سے بتاؤ بیٹی کے تمہیں فیضان کی پسند پر اعتراض کیوں ہے؟۔قیصر صاحب نے پوچھا۔سب بڑے اس وقت قیصر صاحب کے کمرے میں موجود تھے۔
“پتہ نہیں ابّا میں خود نہیں جانتی”۔شہلا نے کہا۔
“پھر بھی بیٹی کوئی تو بات ہوگی نا ! ایک بار مل تو لو اس لڑکی سے ، صرف حیثیت میں ہم سے کم ہونا کوئی اتنی معقول وجہ نہیں ہے انکار کی ، اور حیدر کی بات بھی بالکل ٹھیک ہے کہ شادی کے بعد تو لڑکی کی پہچان اسکے شوہر سے ہی ہوتی ہے ، تو شادی سے پہلے لڑکی کی کیا حیثیت تھی یہ بات اتنی بامعنی نہیں ہے ، خاص طور پر ہماری نظر میں، تو پھر کیا وجہ ہے تمہارے انکار کی؟۔قیصر صاحب نے شہلا کو سمجھاتے ہوئے پوچھا۔
“پتہ نہیں ابّا شاید فرقان ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ مجھے ڈر ہے اپنی حکمرانی چھن جانے کا”۔شہلا نے کہا۔
“پر بیٹی یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی نا، اب دیکھو ہم نے بھی تو اپنے چاروں بچوں کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ اپنی پسند سے شادی کر سکتے ہیں، ارسلان اور عدنان نے تو فیصلہ ہماری مرضی پر چھوڑ دیا تھا ، ہاں ہمدان اور رفعت نے اپنی مرضی کا اظہار کیا تو ہم نے انکی شادی انکی مرضی سے جہاں وہ چاہتے تھے کروا دی، اور تم خود ہی دیکھ سکتی ہو کہ آج دونوں اپنی اپنی زندگیوں میں نا صرف خوش ہیں بلکہ آج تک ہمارے بھی فرمابردار ہیں ، ہاں رفعت کے معاملے میں اللّه کو جو منظور کہ فاروق اس دنیا سے چلا گیا ، پر اس کے علاوہ کبھی ہمیں رفعت کے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہوا ، یہ دونوں ہمارے فرمابردار تھے ، اور ہمیں امید ہے کہ آگے بھی رہیں گے ، کیوں ٹھیک کہا نا میں نے!۔قیصر صاحب نے بولتے ہوئے آخر میں ہمدان اور رفعت سے تائید چاہی۔
“جی ابّا بالکل”۔ہمدان اور رفعت نے یک زبان ہوکر کہا۔
“اب شہلا بیٹی تم اچھی طرح سے سوچ سمجھ لو اور پھر ہمیں بتاؤ کہ تمہارا اب کیا فیصلہ ہے !۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“کچھ نہیں سوچنا سمجھنا اب مجھے ، اب جیسی فیضان کی مرضی ،وہ جس سے بھی چاہے شادی کرے ، میں کچھ نہیں بولوں گی”۔ شہلا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور باہر کی جانب بڑھ گئیں۔اور کمرے میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔
**************
“یہ کیا حرکت تھی شہلا! بڑوں کے سامنے سے ایسے اٹھ کر آتے ہیں!۔ارسلان صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“تو اور میں وہاں رک کر کیا کرتی! کہہ تو دیا ہے کہ جس کی جو مرضی ہے وہ کرے”۔شہلا نے بیڈ پر بیٹھ کر اپنے اوپر کمبل اوڑھتے ہوئے کہا۔
“مطلب کہ ابھی بھی تم دل سے راضی نہیں ہو!۔عدنان صاحب نے بھی بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“بس بہت ہوگیا ارسلان ،مجھے اب اس بارے میں اور کوئی بات نہیں کرنی ہے ،میرے سر میں درد ہورہا ہے ،مجھے سونے دیں ،اور لائٹ بند کر کے آپ بھی سویں”۔شہلا نے دوسری جانب کروٹ لیتے ہوئے کہا۔ارسلان صاحب پہلے تو تھوڑی دیر شہلا کی پشست کو دیکھتے رہے۔پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کے۔لائٹ بند کر کے خود بھی سونے کیلئے لیٹ گئے۔
***********
صبح سب لوگ ناشتے کی میز پر جمع تھے۔سوائے فیضان کے۔
“نوراں ! جاؤ جاکر فیضان کو بلا کر لاؤ”۔بلقیس بیگم نے ملاذمہ سے کہا۔
“وہ جی فیضان صاحب تو بہت پہلے ہی ہسپتال چلے گئے ہیں ،وہ گھر میں نہیں ہیں”۔نوراں نے بتایا۔
“کیا ! اتنی جلدی چلا گیا ! اچھا ناشتہ کر کے گیا ہے ؟۔بلقیس بیگم نے حیران ہوکر پوچھا۔
“نہیں بڑی بیگم صاحبہ ،میں نے ان سے پوچھا تھا کہ ناشتہ بنا دوں، پر انھوں نے منع کردیا”۔نوراں نے بتایا۔
“اچھا چلو ٹھیک ہے،جاسکتی ہو تم”۔بلقیس بیگم نے کہا۔اور نوراں سر ہلاتی ہوئی واپس کچن میں چلی گئی۔اور تھوڑی دیر میں مومنہ،فرقان اور حیدر بھی ہوسپٹل کیلئے نکال گئے۔
************
“یار فیضان آج تم گھر سے اتنی جلدی کیوں آگئے؟۔حیدر نے فیضان کے روم میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔فیضان آنکھیں بند کئے اپنی کرسی پر جھول رہا تھا۔حیدر کے آنے پر آنکھیں کھول کر سیدھا ہوکے بیٹھ گیا۔
“بس ایسے ہی یار”۔فیضان نے کہا۔
“کیا بات ہے ! انعم سے کوئی بات ہوئی ہے کیا؟۔حیدر نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں یار ، میں نے انعم کو سب کچھ صاف صاف بتا کر یہ قصہ ہی ختم کردیا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“کیا مطلب ! کیا بولا ہے تم نے انعم سے ؟ اور اس نے کیا جواب دیا ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“مطلب یہ کہ میں نے انعم کو بول دیا ہے کہ میں اس سے شادی نہیں کرسکتا ،وہ میرے آسرے پر نا رہے، اس کی امی جہاں کہتی ہیں وہیں شادی کر لے ،کیونکہ میری امی اس شادی کیلئے دل سے راضی نہیں ہیں ،اس لئے میں ان کی مرضی کے خلاف جاکر ایسا نہیں کرسکتا”۔فیضان نے بتایا۔
“اور انعم نے کیا کہا پھر؟۔حیدر نے پوچھا۔
“وہ کہہ رہی تھی کہ جب مجھے ایسے یوں بیچ راہ میں چھوڑنا ہی تھا تو پھر اسے جھوٹی آس ہی کیوں دلائی تھی! اس نے کہا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی فیضان کے تم اتنے بزدل نکلو گے”۔فیضان نے بتایا۔
“واہ ! مل گیا سکون تمہیں! دیکھا دے دیا نا اس نے تمہیں بزدلی کا طعنہ”۔حیدر نے کہا۔
“مجھے یہ بزدلی کا طعنہ منظور ہے،پر نافرمانی کا نہیں”۔فیضان نے کہا۔
“یار فیضان اب اس میں ایسی بھی کوئی نافرمانی والی بات نہیں ہے ،یہ تو حق ہے تمہارا، اور…….!
“یار حیدر پلیز ، مجھے اب اس موضوع پر اور کوئی بات نہیں کرنی ہے”۔فیضان نے حیدر کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔حیدر پہلے تو تھوڑی دیر تک فیضان کو دیکھتا رہا۔پھر وہاں سے اٹھ کر آگیا۔اور فیضان نے اس پھر کرسی پر سر ٹیکا کر آنکھیں موندلی۔
************
حیدر فیضان کے روم سے واپس اپنے روم کی جانب آرہا تھا۔کہ تب ہی خرد نے اسے آواز دی۔
“اکیسکیوزمی! حیدر رکو”۔خرد نے قریب آتے ہوئے کہا۔حیدر رک گیا۔
“ہمم! بولیں”۔حیدر نے کہا۔
“کہاں جارہے تھے تم؟۔خرد نے پوچھا۔
“یہ راستہ میرے روم کی طرف جاتا ہے شاید ، تو میں وہیں جارہا ہوں گا”۔حیدر نے بے تاثر لہجے میں کہا۔کیونکہ ویسے ہی ابھی فیضان سے ہونے والی گفتگو کے بعد اسکا موڈ ٹھیک نہیں تھا۔خرد نے کچھ نہیں کہا۔
“اب بتائیں بھی کہ مجھے کیوں روکا تھا؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ناراض ہو مجھ سے؟۔خرد نے پوچھا۔
“نہیں! بھلا ہمارا بیچ روٹھنے منانے والا کوئی رشتہ تھوڑی ہے”۔حیدر نے کہا۔
“اگر تم چاہو تو بن بھی سکتا ہے ایسا رشتہ”۔خرد نے کہا۔
“خرد پلیز میں آپ سے پہلے بھی صاف صاف کہہ چکا ہوں، اور آپ نے پھر وہی باتیں شروع کردی ہیں،اور بھی یہاں، اگر کوئی سن لے گا تو کیا سوچے گا!۔حیدر نے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے نہیں کرتی، چلو کافی پینے چلتے ہیں”۔خرد نے بات بدلتے ہوئے کہا۔
“نہیں میرا موڈ نہیں ہے،آپ جائیں”۔حیدر نے کہا۔اور اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔خرد اسکو جاتے ہوئےدیکھتی رہی۔
**********
رات کے نوں بج رہے تھے۔حیدر ، فرقان اور مومنہ ابھی ابھی گھر آئے تھے۔بلقیس بیگم ، شہلا ، فیروزہ اور ممتاز چاروں اس وقت ہال میں ہی موجود تھیں۔فرقان اور مومنہ سب کو سلام کرتے ہوئے کمرے میں چلے گئے تھے۔اور حیدر ان کے پاس ہی آگیا۔اور صوفے سے ٹیک لگا کر فیروزہ کے پیروں کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
“کھانا کھاؤ گے لگاؤں !۔فیروزہ نے حیدر کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں ممی ، ابھی فیضان آجائے گا ، تو پھر اس کے ساتھ ہی کھاؤں گا”۔حیدر نے کہا۔
“کہاں ہے فیضان ؟ گھر کیوں نہیں آیا تم لوگوں کے ساتھ؟۔بلقیس بیگم نے پوچھا۔
“دادی وہ کہہ رہا تھا کہ اس کو کسی کام سے جانا ہے ، ہم لوگ گھر چلے جائیں، وہ تھوڑی دیر تک آئے گا”۔حیدر نے بتایا۔شہلا نے کچھ نہیں کہا۔
“تو بیٹا پتہ نہیں وہ کب تک آئے ! تم کھانا کھا لو نا “۔ممتاز نے کہا۔
“نہیں چچی، وہ آجائے پھر کھاؤں گا، اس بہانے کم از کم وہ بھی کھالے گا، ورنہ مجھے پتہ ہے کہ وہ بھی نہیں کھائے گا”۔حیدر نے کہا۔
“اللّه کرے کسی کی نظر نا لگے تم بھائیوں کے پیار کو”۔ممتاز نے پیار سے کہا۔
“امین”۔فیروزہ ، حیدر اور بلقیس بیگم نے یک زبان ہوکر کہا۔شہلا نے اب بھی کچھ نہیں کہا۔
“امی میرے جوگرز کہاں رکھے ہیں ؟ مل ہی نہیں رہے ہیں”۔نادر نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے ممتاز سے کہا۔
“کیوں اس وقت کیا کرنا ہے تمہیں جوگرز کا؟۔حیدر نے پوچھا۔
“وہ صبح مارننگ واک پر جانے کیلئے چاہیے”۔نادر نے بتایا۔
“تو کیا مارننگ واک کیلئے تم رات سے ہی نکال جاتے ہو؟۔حیدر نے کہا۔
“ارے بھائی صبح بھی پھر جلدی جلدی میں ڈھونڈنا پڑے گا، اس لئے ابھی ہی تیاری کر کے رکھ رہا ہوں”۔نادر نے بتایا۔
“اوہ ہو ! تیاری تو ایسے کے رہا ہے جیسے واک پر نہیں جنگ پر جارہا ہو، اور ویسے بھی تم کونسا روز جاتے ہو ہفتے میں تین دن جاتے ہو صرف ، باقی چار دن تو تمہارے پیروں میں درد ہوجاتا ہے”۔حیدر نے طنز مارا۔
“تائی سمجھالیں اپنے بیٹے کو”۔نادر نے مصنوئی خفگی سے فیروزہ کو کہا۔
“افو ! چلو میں ڈھونڈوں تمہارے جوگرز، سامنے ہی ہوں گے ، پر آنکھیں کھول کر ڈھونڈو تو کچھ ملے نا، ہزار بار کہا ہے کہ چیزیں اپنی جگہ پر رکھا کرو، مگر کوئی سنتا ہی نہیں ہے”۔ممتاز نادر کو ڈانٹتے ہوئے نادر کے کمرے کی جانب بڑھی۔نادر بھی ممتاز کے پیچھے ہی چلا گیا۔
“اچھا میں ذرا فریش ہوکر آتا ہوں ، ہو سکتا ہے تب تک فیضان بھی آجائے”۔حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
***********
رات کے دس بج رہے تھے۔اور فیضان اس وقت بلاوجہ سڑکوں پر گاڑی گھوما رہا تھا۔کیونکہ فیضان اس وقت نا ہی کسی کا سامنا کرنے کی حالت میں تھا۔اور نا ہی کسی کے سوال کا جواب دینے کے موڈ میں۔اس لئے سب کے ساتھ گھر نہیں گیا تھا۔ان لوگوں سے جھوٹ بول کر کہ اسے کچھ کام ہے۔وہ یہاں سڑکوں پر گھوم رہا تھا۔ڈیڑھ گھنٹہ ہوگیا تھا اسے یوں بے مقصد سڑکوں پر گھومتے ہوئے۔اور اس دوران حیدر اور فرقان کا کئی بار فون آچکا تھا۔فیضان نے بس ایک بار ہی دونوں کی کال ریسیو کی تھی۔فرقان نے تو پھر دوبارہ فون نہیں کیا۔مگر حیدر وقفے وقفے سے اسے فون کررہا تھا۔جسے کبھی فیضان کاٹ دیتا۔تو کبھی بجنے دیتا۔فیضان ابھی تک الجھا ہوا تھا۔کہ جو اس نے کیا ہے کیا وہ ٹھیک ہے بھی یا نہیں؟۔بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے کبھی شہلا کا روتا ہوا چہرہ آتا تو کبھی انعم کا۔کبھی اسے شہلا کی باتیں یاد آتی کہ
“میری اولاد کی نظروں میں میری کوئی حیثیت نہیں ہے”۔تو کبھی انعم کی کہ
“جب مجھے چھوڑنا ہی تھا تو پھر یہ امید ہی کیوں دلائی تھی؟ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ تم اتنے بزدل ہوگے”۔ان ہی سب باتوں کی وجہ سے تو دو بار اسکا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا۔آخر کار جب وہ اپنے اندر چلتی اس جنگ سے تھک گیا تو گاڑی گھر کی جانب موڑ لی۔
************
رات کے گیارہ بج رہے تھے جب فیضان گھر میں داخل ہوا۔ہال میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا۔سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔فیضان اوپر اپنے کمرے کی جانب جانے لگا۔
“فیضان !۔ابھی اس نے سیڑھی پر پہلا قدم رکھا ہی تھا کہ شہلا نے پیچھے سے پکارا۔
“جی امی !۔ فیضان نے رک کر پوچھا۔
“جلدی سے فریش ہوکر آؤ، میں کھانا گرم کر رہی ہوں”۔شہلا نے کہا۔
“جی اچھا امی”۔فیضان کہتا ہوا دوبارہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔فیضان کو اس وقت بالکل بھی بھوک نہیں تھی۔پر شہلا کا اپنے لئے احساسِ فکر اسے بہت اچھا لگا۔اور وہ شہلا کو منع نہیں کر پایا۔بلکہ سچ میں شہلا کے کھانا کھانے کا کہنے سے اسے بھوک لگ گئی تھی۔
“اور بات سنو”۔شہلا نے پھر آواز دی۔
“جی امی !۔فیضان نے پھر رک کر پوچھا۔
“حیدر کو بھی بلاتے ہوئے آنا، اس نے بھی تمہارے انتظار میں کھانا نہیں کھایا ہے”۔شہلا نے کہا۔
“جی اچھا امی”۔فیضان کہتا ہوا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔اور دل میں سوچنے لگا کہ اس کے پاس اب بھی کتنے محبت اور احساس کرنے والے موجود ہیں۔
**********
حیدر اور فیضان اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے۔شہلا نے دونوں کیلئے کھانا لگایا تھا۔
“کھاؤ نا اب ، ایسے بیٹھے ہوئے کیوں ہو دونوں!۔شہلا نے پانی کا جگ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
“آپ نہیں کھا رہی امی؟۔فیضان نے پوچھا۔
“نہیں میں کھا چکی ہوں تم لوگ کھاؤ”۔شہلا نے ایک کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔حیدر کو تو ویسے ہی اتنی شدت سے بھوک لگ رہی تھی۔وہ تو شہلا کے احترم میں نہیں کھا رہا تھا۔کہ پہلے وہ بھی آکر بیٹھ جائے پھر کھائے گا۔اب شہلا کے انکار کے بعد حیدر نے فوراً کھانے کے ساتھ انصاف کرنا شروع کردیا۔فیضان نے بھی پلاؤ کی ٹرے اپنی جانب کھینچی۔اور تھوڑا بہت کھانے لگا۔
“ویسے کہاں تھے تم اتنی دیر سے؟۔شہلا نے فیضان سے پوچھا۔
“وہ امی ایک کام سے چلا گیا تھا”۔فیضان نے کہا۔
“ہممم! تو پھر کیا سوچا ہے تم نے اب؟۔شہلا نے پوچھا۔
“کس بارے میں امی؟۔فیضان نے پوچھا۔
“تمہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں”۔شہلا نے کہا۔
“جو آپکی مرضی امی، آپ جیسا بولیں گی میں ویسے ہی کروں گا”۔فیضان نے کہا۔
“اگر میں بولوں کہ تم اس لڑکی سے شادی مت کرو تو ؟۔شہلا نے پوچھا۔
“تو میں نہیں کروں گا”۔فیضان نے کہا۔
“کیوں ! پسند کی شادی تو تمہارا حق ہے ، تو پھر میری مرضی کی بیچ میں کیا اہمیت!۔شہلا نے کہا۔
“ہاں ہے ، پر میں اپکا دل دکھا کر اپنی خوشیاں حاصل نہیں کرنا چاہتا، اور ویسے بھی آج میں نے انعم کو صاف لفظوں میں انکار کر کے یہ قصہ ہی ختم کردیا ہے”۔فیضان نے بتایا۔شہلا کو تھوڑی حیرانی ہوئی۔
“تو پھر انعم نے کوئی احتجاج نہیں کیا؟۔شہلا نے پوچھا۔
“ہاں ، کہہ رہی تھی کہ اسے فیضان سے ایسی بزدلی کی امید نہیں تھی، اور فیضان کا کہنا ہے کہ اسے بزدل کہلانا منظور ہے ، پر نافرمان نہیں”۔فیضان کے بجائے حیدر نے بتایا۔
“کیا حیدر ٹھیک کہہ رہا ہے فیضان !۔شہلا نے پوچھا۔
“جی امی”۔فیضان نے نیپکین سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا۔
“شاباش میرے بیٹے ، مجھے پتہ تھا کہ تم کبھی میری بات نہیں ٹالو گے”۔شہلا نے خوشی سے کہا۔شہلا کی آنکھوں میں اچانک سے ایک چمک آگئی تھی۔جیسے کے جیت کی چمک۔اپنی بات منوا لینے کی چمک۔
“اب تم دیکھنا میں اپنے بیٹے کیلئے کتنی اچھی لڑکی ڈھونڈوں گی”۔شہلا نے کہا۔فیضان ہلکا سا مسکرا دیا۔پر حیدر کو شہلا کی خوشی کچھ اچھی نہیں لگی۔کیونکہ وہ تکبر کی خوشی تھی۔اپنی جیت کی خوشی تھی۔کسی کی خوشی چھیننے کی خوشی تھی۔
************
چند ہی دنوں میں سب کچھ واپس اپنے معمول پر آگیا تھا۔شہلا بھی بالکل ٹھیک ہوگئی تھی۔اور شہلا نے سب گھر والوں کو بہت فخر سے بتایا تھا کہ فیضان نے اس کی مرضی کے آگے سر جھکا دیا ہے۔اور گھر میں پہلے ہی سب کو پتہ تھا کہ یہی ہوگا۔کیونکہ شہلا نے آج تک اپنے آگے اپنے شوہر اور بچوں کی چلنے نہیں دی تھی۔ہاں وہ بات الگ تھی کہ فیضان کسی کے دباؤ میں آکے نہیں۔بلکہ اپنی ماں کی خوشی کے خاطر اپنی خواہش سے دستبردار ہوا تھا۔ورنہ حیدر کا تو پورا پورا ارادہ تھا بغاوت کا۔سب کچھ پہلے کی طرح اپنے معمول پر تھا۔سب لوگ پہلے کی طرح اپنے معمول پر تھے۔بس سوائے فیضان اور مومنہ کے۔کیونکہ فیضان سے ہونے والی اس آخری ملاقات کے بعد انعم نے بھی ہوسپٹل سے جاب چھوڑ دی تھی۔اس لئے نا چاہتے ہوئے بھی فیضان اندر سے اداس سا تھا۔اور مومنہ کو جب ان ساری باتوں کے بیچ یہ پتہ چلا کہ اس سے پہلے فرقان کی زندگی میں کوئی اور تھی۔وہ فرقان کی زندگی میں اس کی مرضی و خوشی سے شامل نہیں ہوئی ۔تب سے مومنہ اندر سے بہت دکھی تھی۔بظاہر تو اس نے اپنے آپ کو بالکل نارمل ہی رکھا ہوا تھا۔اور کسی سے بھی کچھ نہیں کہا تھا۔پر پھر بھی اس کے اوپر ایک بوجھ سا آ گرا تھا۔
*************
رات کے قریب ساڑھے نوں بج رہے تھے۔آج حیدر کو ہوسپٹل میں کچھ زیادہ ہی وقت لگ گیا تھا۔اب حیدر گھر جا رہا تھا۔پر جیسے ہی حیدر خرد کے روم کے باہر سے گزرا۔اس کو اندر سے بہت زور سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی۔حیدر چونک کر رک گیا۔پہلے تو حیدر سوچتا رہا کہ کیا کرے؟ اندر جائے یا نہیں! پھر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ خرد کے کمرے کی جانب بڑھا۔حیدر نے آہستہ سے خرد کے روم کا دروازہ کھولا۔اور اندر داخل ہوا۔اندر کوئی بھی نہیں تھا۔حیدر نے تھوڑا آگے آکر دیکھا تو خرد کی کرسی کے پاس ایک گلدان ٹوٹ ہوا پڑا تھا۔ابھی حیدر یہ دیکھ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔حیدر نے پلٹ کر دیکھا تو وہ خرد تھی۔اور اس نے روم کا دروازہ اندر سے لاک کردیا تھا۔
“یہ کیا حرکت ہے ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“کون سی والی؟ گلدان توڑنے والی ! یا دروازہ بند کرنے والی !۔ خرد نے حیدر کے قریب آتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔
“خرد یہ کیا بدتمیزی ہے ! دروازہ کھولو”۔حیدر نے کہا۔
“کھول دوں گی ، پر پہلے میری بات تو سن لو”۔خرد نے حیدر کے قریب آتے ہوئے اسکی شرٹ کے بٹن کو چھیڑتے ہوئے کہا۔
“خرد دیکھو کوئی دیکھے گا تو غلط سمجھے گا ، پلیز ایسی حرکتیں مت کرو”۔حیدر نے خرد کا ہاتھ اپنی شرٹ پر سے ہٹاتے ہوئے کہا۔
“لوگوں کی فکر ہے کہ وہ کیا سمجھیں گے ، اور میں جو تمہیں کب سے سمجھانا چاہ رہی ہوں وہ کیوں نہیں سمجھتے تم؟۔خرد نے کہا۔
“اور میں بھی تمہیں پہلے ہی واضح لفظوں میں سمجھا چکا ہوں کہ جو تم چاہتی ہو وہ نہیں ہوسکتا تو پھر تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آرہا ہے! میں تمہیں بس اپنی دوست سمجھتا ہوں اور کچھ نہیں ،ہم اچھے دوستوں کی طرح بھی تو رہ سکتے ہیں نا”۔حیدر نے سمجھایا۔
“نہیں ! مجھے تمہاری دوستی نہیں تمہاری محبت چاہیے ، میں نے بہت کوشش کی خود کو سمجھانے کی ،پر یہ دل نہیں مانتا ہے”۔خرد نے حیدر کی شرٹ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے کہا۔حیدر کو اس طرح کے جواب اور حرکت کی توقع نہیں تھی۔اس لئے وہ حیران ہوگیا۔
“چھوڑو مجھے ، اور یہ تم کیا کہہ رہی ہو! پاگل ہوگئی ہو کیا؟۔حیدر نے خرد کا ہاتھ جھٹک کر غصے سے کہا۔
“ہاں ہاں ہو گئی ہوں میں پاگل ، تمہارے پیار میں، اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ تم بھی مجھ سے پیار کرتے ہو،بس اظہار نہیں کرتے”۔خرد نے کہا۔
“نہیں میں تم سے کوئی پیار ویار نہیں کرتا”۔حیدر نے کہا۔
“ایسا مت بولو حیدر ، میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں”۔خرد نے اب التجائی لہجے میں کہا۔
“تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے، کتنی بار میں تمہیں بول چکا ہوں، تم پھر گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہو،ٹھیک ہے کہ محبت کرنا یا محبت کرنے سے خود کو روکنا ہمارے بس میں نہیں ہوتا ہے،یہ ایک بے اختیار جذبہ ہے، پر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس سے آپ محبت کرتے ہوں اسے بھی زبردستی خود سے محبت کرنے پر مجبور کریں، ٹھیک ہے ہوسکتا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی ہو ، پر میں تو تم سے محبت نہیں کرتا، اور اگر تم چاہتی ہو کہ تمہارے کہنے پر میں ایسا کروں، تو پھر وہ محبت نہیں مجبوری ہوگی”۔حیدر نے پھر سمجھانے کی کوشش کی۔
“حیدر میں کچھ نہیں جانتی ،مجھے بس کسی بھی قیمت پر تم چاہیے ہو”۔خرد نے پھر حیدر کے قریب آتے ہوئے کہا۔
“خرد پاگل مت بنو، اور اگر تم نے دوبارہ ایسی کوئی بات اپنے منہ سے نکالی تو اچھا نہیں ہوگا”۔حیدر نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں تو کیا کرو گے تم ہاں! تمہیں پتہ ہے حیدر بچپن سے میرے اندر یہ عادت ہے ، کہ مجھے اگر ایک بار کوئی چیز پسند آجاۓ تو میں اسے حاصل کرکے ہی رہتی ہوں”۔خرد نے حیدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
“لیکن میں کوئی ‘ چیز ‘ نہیں ہوں سمجھی”۔حیدر نے کہا۔ “حیدر تم کیوں نہیں سمجھ رہے ہو میری بات، میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں، میں تمہارے بنا……..!
“چٹاخ”۔خرد حیدر کی شرٹ پکڑے دیوانہ وار بولے جارہی تھی۔کہ تب ہی حیدر نے ایک زور دار تھپڑ خرد کو مارا۔حیدر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا۔اور خرد کی بات ادھوری رہ گئی۔خرد گال پر ہاتھ رکھ کر پھٹی پھٹی نظروں سے حیدر کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔
“میں کب سے تمہیں زبان سے سمجھا رہا تھا پر تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا تھا، اب یہ آخری دفعہ بول رہا ہوں میں ، سمجھی اب دوبارہ ایسی حرکت مت کرنا”۔حیدر نے پھر انگلی اٹھا کر خرد کو سختی سے تنبیہہ کیا۔
“حیدر ایسا مت کرو میں مر جاؤں گی”۔خرد نے التجائی لہجے میں کہا۔
“ہاں تو مر جاؤ ، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا”۔حیدر نے غصے سے کہا۔اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔ اور خرد روتے ہوئے فرش پر بیٹھ گئی۔اور بار بار بس ایک ہی جملہ دہرانے لگی کہ
“میں مر جاؤں گی”
*******
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *