Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 (Watching)Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17
شام کے ساڑھے چار بج رہے تھے۔حیدر اپنے روم میں کچھ فائلوں میں مگن تھا۔
“ٹک ٹک ٹک”۔کہ تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس ! کم ان”۔حیدر نے کام کرتے ہوئے کہا۔
“گڈ ایوننگ!۔فاریہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“اوہ! گڈ ایوننگ، بیٹھیں”۔حیدر نے کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“تھینکس! وہ دوپہر میں آپکے جانے کے بعد کچھ پیشنٹس آگئے تھے،اس لئے موقع نہیں ملا آپ سے بات کرنے کا”۔فاریہ نے بیٹھتے ہوئے بتایا۔
“ایٹس اوکے، دراصل مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ اس وقت نماز پڑھ رہی ہوں گی، ورنہ میں اس وقت نہیں آتا”۔حیدر نے فائل بند کرتے ہوئے کہا۔
“جی ! وہ تو نماز کا ہی وقت تھا، اور آپ اس سے پہلے کبھی میرے روم میں اس وقت آئے بھی نہیں تھے نا اس لئے بھی”۔فاریہ نے کہا۔
“جی!۔حیدر نے کہا۔
“ہمم! تو بتائیں کہ آپکو مجھ سے کیا بات کرنی تھی؟۔فاریہ نے پوچھا۔اور حیدر بات شروع کرنے کیلئے لفظ سوچنے لگا۔
“آپ اتنے دنوں سے ہوسپٹل کیوں نہیں آرہی تھیں؟۔حیدر نے بات شروع کی۔
“جی ! کیا مطلب اتنے دنوں سے! میں تو بس صرف تین دن ہی نہیں آئی تھی ،جس میں سے ایک دن تو خود مومنہ جی نے کہا تھا کہ میں گھر پر ہی رہوں”۔فاریہ نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔اور حیدر دل ہی دل میں اپنی کیلکولیشن پر سر پیٹ کر رہ گیا۔
“جی! وہ مجھے ایسا لگا کہ شاید بہت دن ہوگئے تھے آپ سے ملے ہوئے”۔حیدر نے وضاحت کی۔پھر کچھ لمحے یوں ہی خاموشی کی نذر ہوگئے۔
“دیکھیں آپ کو مجھے سے جو بھی پوچھنا ہے آپ پوچھ لیں ،اس طرح تو آپ بھی الجھے رہیں گے اور میں بھی”۔فاریہ نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔
“مجھے تم سے کچھ پوچھنا نہیں ہے،بلکہ تمہیں کچھ بتانا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“جی بتائیں کیا بتانا ہے”۔فاریہ نے کہا۔
“دیکھو فاریہ ! کچھ عرصے بعد ہمارے بیچ ایک ایسا رشتہ قائم ہونے والا ہے کہ جس کی بنیاد اگر سچ پر نہیں رکھی گئی تو آگے چل کر وہ غلط فہمی کی دراڑوں سے ٹوٹ بھی سکتا ہے،اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارا رشتہ اس قسم کی کسی بھی توڑ پھوڑ کا شکار ہو، اس لئے یہ رشتہ قائم کرنے سے قبل میں تمہیں اپنی زندگی سے جوڑا ایک راز بتانا چاہتا ہوں، کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کل کو یہ بات تمہیں کسی اور سے پتہ چلے ،اور تم یہ سوچو کے میں نے تم سے کچھ چھپایا”۔حیدر نے کافی لمبی تہمید بندھی۔
“ہممم! کیسا راز؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“ٹک ٹک ٹک”۔کہ تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس کم ان”۔حیدر نے کہا۔اندر دو مرد حضرت داخل ہوئے۔جو کے غالبً باپ بیٹے تھے۔
“السلام و علیکم ڈاکٹر صاحب”۔دونوں نے یک زبان سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔حیدر نے جواب دیا۔
“اچھا میں چلتی ہوں،بعد میں بات ہوگی”۔فاریہ نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور روم سے باہر آگئی۔
**********
رات کے ساڑھے نوں بج رہے تھے۔اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہونے کے بعد اب حیدر اس وقت اس کافی شاپ پر بیٹھا ہوا فاریہ کا انتظار کررہا تھا۔جہاں اس دن فاریہ نے اسے ملنے بلایا تھا۔اور ابھی بھی فاریہ نے ہی اسے میسج کیا تھا۔کہ یہاں آکر ملے۔اور حیدر گھر جانے کے بعد چینج کرکے سیدھا یہاں آیا تھا۔تھوڑی ہی دیر میں فاریہ بھی آگئی تھی۔
“ایم سوری، میں آج پھر لیٹ ہوگئی”۔فاریہ نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
“ارے نہیں نہیں ، میں ہی شاید جلدی آجاتا ہوں”۔حیدر نے کہا۔
“وہ دراصل ہوسپٹل میں سہی سے بات نہیں ہو پاتی ناں ، اس لئے میں نے یہاں ملنے کا کہا”۔فاریہ نے بتایا۔
“ہاں بالکل ، بلکہ مجھے پہلے ہی ہوسپٹل سے باہر کا پلان رکھنا چاہیے تھا”۔حیدر نے کہا۔پھر اتنے میں ویٹر انکا آرڈر لینے آگیا۔
“جی تو اب بتائیں کہ کون سے راز کی بات کررہے تھے آپ؟۔ویٹر کے جانے کے بعد فاریہ نے پوچھا۔اور حیدر بات شروع کرنے کیلئے لفظ سوچنے لگا۔
“دیکھیں آپ بنا کسی جھجھک کے آرام سے ایزی ہوکر بتائیں”۔حیدر کو کشمکش کا شکار دیکھ کر فاریہ نے کہا۔اور حیدر نے ایک لمبا سانس لے کر بولنا شروع کیا ۔
“دیکھو یہ بات تو شاید تمہیں معلوم ہوگی کہ پچھلے ایک سال کے اندر اس ہوسپٹل میں تین فیمیل ڈاکٹرز کی ڈیتھ ہوئی ہے”۔حیدر نے کہا۔
“جی معلوم ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکی ہے کہ یہ سب کیسے ہوا!۔فاریہ نے بتایا۔
“ہممم! اور تم نے لوگوں کو یقیناً یہ بھی کہتے سنا ہوگا کہ ان سب کہ بارے میں ان کا خیال کیا ہے!۔حیدر نے تائید چاہی۔
“جی ، لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ کسی کی روح وغیرہ کر رہی ہے”۔فاریہ نے بتایا۔
“اور تم یہ جانتی ہوگی کہ لوگوں کے خیال میں وہ کس کی روح ہے!۔حیدر نے پوچھا۔
“ہاں وہ ایک بار ایک ڈاکٹر کے منہ سے نام سنا تھا ، وہ کوئی ڈاکٹر ہی تھیں پر نام میرے ذہن میں نہیں آرہا”۔فاریہ نے یاداشت پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“ڈاکٹر خرد عثمان”۔حیدر نے بتایا۔
“ہاں ہاں خرد”۔فاریہ نے کہا۔
“جی تو پھر ان کے بارے میں آپکو کیا پتہ ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“مجھے تو کچھ نہیں پتہ بس ایک دو دفعہ کسی ڈاکٹر یا نرس سے ہی سنا تھا کہ قریب ایک سال پہلے انھوں نے کسی ڈاکٹر کے پیار میں اپنی جان دے دی تھی”۔فاریہ نے بتایا۔
“اور آپکو پتہ ہے کہ وہ ڈاکٹر کون تھا؟۔حیدر نے پوچھا۔فاریہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“وہ ڈاکٹر میں تھا”۔حیدر نے بتایا۔اور فاریہ حیران ہوگئی۔
“کیا ! آپ؟۔فاریہ نے حیرانگی سے پوچھا۔کہ اتنے میں ویٹر انکا آرڈر لے کر آگیا۔ویٹر کہ جانے کے بعد حیدر نے پھر سے اپنا سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔
“جی میں، ہوسپٹل جوائن کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد ڈاکٹر خرد مجھ میں کافی دلچسپی لینے لگیں تھیں ،جسے ہوسپٹل کے اسٹاف نے بھی نوٹ کیا تھا ،اور تو اور میرے گھر والوں کو بھی اس حوالے اس غلط فہمی ہوگئی تھی، پر میرا یقین کرو میں نے کبھی بھی اسے کوئی امید یا اشارہ نہیں دیا تھا کہ وہ اس طرح کرنے لگے، بلکہ میں نے تو اسے کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش کی تھی، پر وہ زبردستی بس اسی بات پر اڑی ہوئی تھی کہ میں بھی اس سے پیار کروں ،جو کہ میں زبردستی نہیں کر سکتا تھا، پر وہ میری کوئی بھی بات سمجھنے کو تیار نہیں تھی ،اور ایک دن تو اس نے حد ہی کر دی تھی، اور میں بھی اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پایا اور اسے تھپڑ مار دیا،چاور کافی سختی سے آئندہ کیلئے خبردار کیا ،اور اس کے دوسرے ہی دن اس نے خودکشی کرلی”۔حیدر نے بتایا۔فاریہ بالکل خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔
“اب تم ہی بتاؤ کہ غلطی کس کی تھی ؟ اور اگر میری غلطی تھی تو کہاں تھی؟۔حیدر نے پوچھا۔فاریہ خاموشی سے کافی پر نظریں مرکوز کئے ہوئے مگ کی سطح پر ہاتھ پھرتی رہی۔
“پلیز فاریہ کچھ تو بولو، تمہاری خاموشی سے ڈر لگ رہا ہے مجھے”۔حیدر نے فاریہ کو یوں خاموش دیکھ کر کہا۔
“آپکو کسی کی محبت ایسے نہیں ٹھکرانی چاہیے تھی”۔فاریہ نے اسی انداز میں کہا۔
“کیا مطلب؟۔حیدر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب جب وہ آپ سے اتنا پیار کرتی تھیں، تو آپ نے ان کو کیوں نہیں اپنایا؟۔فاریہ نے کہا۔
“کیا! تم اسے پیار کہتی ہو! فاریہ پیار کوئی کام یا سودا نہیں ہے جو خود اپنی مرضی سے کیا جائے، یہ تو بس ایک بے اختیار جذبہ ہے جسے ناں تو ہم ہونے سے روک سکتے ہیں ، اور ناں ہی زبردستی کسی سے کر سکتے ہیں، اور یہی بات میں نے خرد کو بھی سمجھائی تھی”۔حیدر نے کہا۔کچھ لمحے تو فاریہ خاموش رہی۔
“آپ کا کہنا ہے کہ آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں ناں!۔فاریہ نے پوچھا۔
“صرف کہنا نہیں ہے ، کرتا بھی ہوں”۔حیدر نے وضاحت کی۔
“ہمم! اور اگر میں آپکو انکار کردوں! اور بدلے میں یہی وجہ پیش کروں جو آپ نے مس خرد کو کی تھی کہ میں آپ سے پیار نہیں کرتی، پیار زبردستی نہیں کیا جاسکتا تو ؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“تو میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کروں گا، کیونکہ پیار میں محبوب کی خوشی ہی ہماری خوشی ہوتی ہے، اور اگر میرے دور جانے سے تمہیں خوشی ملتی تو میں خوشی خوشی تم سے تمہاری خوشی کیلئے دور ہوجاتا”۔حیدر نے کہا۔
“تو آپ ان کی خوشی کیلئے ان کے قریب بھی تو ہو سکتے تھے ناں”۔فاریہ نے کہا۔
“یار یہ تم کیسی الٹی سیدھی باتیں کررہی ہو!۔حیدر نے الجھ کر کہا۔
“الٹی سیدھی باتیں نہیں کررہی، بس ایک عورت ہونے کے ناطے کہہ رہی ہوں”۔فاریہ نے کہا۔
“تم بس صاف اور سیدھی طرح یہ بتا دو کہ تمہیں اس سب میں کیا میری غلطی لگتی ہے! اور کیا یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی تمہیں مجھ سے شادی کرنا منظور ہے یا نہیں؟۔حیدر نے پوچھا۔
“غلطی کا تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی کہ کس کی تھی اور کس کی نہیں، اور رہی شادی کی بات تو….!۔فاریہ نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔
“تو کیا ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“تو وہ تو میں آپ سے کروں گی”۔فاریہ نے کہا۔اور حیدر کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔
“سچ کہہ رہی ہو! تمہیں مجھ سے شادی کرنا منظور ہے؟۔حیدر نے اپنی تسلی کیلئے دوبارہ پوچھا۔
“جی! منظور ہے، اور اب آپ بھی گزری باتوں کو جانے دیں، اور اس بات کو لے کر میرے حوالے سے اپنے دل میں کوئی خدشہ نہیں رکھیے گا”۔فاریہ نے مسکرا کر کہا۔
“تمہیں پتہ ہے فاریہ اس بات کو لے کر مجھ پر بہت بڑا بوجھ تھا، میں ڈر رہا تھا کہ کہیں یہ سب جاننے کے بعد تم مجھے چھوڑ نا دو، پر تم نے آج میرے دل سے بہت بڑا بوجھ اتر دیا،تھینک یو”۔حیدر نے خوشی سے کہا۔فاریہ نے کوئی جواب نہیں دیا بس مسکرانے پر اتفاق کیا۔پھر کافی دیر دونوں وہاں بیٹھے رہے اور قریب ساڑھے دس بجے دونوں وہاں سے جانے کیلئے کھڑے ہوگئے۔
************
حیدر جب گھر آیا تو معمول کے مطابق سب لوگ ہال میں جمع تھے۔
“السلام و علیکم!۔حیدر بھی سب کو سلام کرتا ہوا ہال میں ہی آگیا۔
“وعلیکم السلام ! کہاں تھے تم؟۔فیروزہ نے جواب دیتے ہوئے پوچھا۔
“فاریہ سے ملنے گیا تھا”۔حیدر نے صوفے سے ٹیک لگا کر کارپٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اوہ ہو! ذرا دیکھو تو ، کتنے دھڑلے سے بتا رہے ہیں یہ”۔نادر نے کہا۔
“چپ کرو تم، اور حیدر تم اس وقت فاریہ سے کیوں ملنے گئے تھے؟۔ہمدان صاحب نے نادر کو چپ کراتے ہوئے پوچھا۔
“پاپا بہت ضروری بات کرنی تھی اس سے”۔حیدر نے بتایا۔
“اوہ ہو! ضروری بات”۔تابش اور نادر نے معنی خیزی سے کہا۔
“کیا ضروری بات کرنے گئے تھے؟۔عدنان صاحب نے پوچھا۔
“ارے ابو آپکو تھوڑی بتانے والی ہوگی یہ “ضروری بات”۔نادر نے معنی خیزی سے “ضروری بات” پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“اب تم دونوں کا منہ نہیں کھلنا چاہیے، سمجھے”۔رفعت نے دونوں کو ڈپٹا۔اور دونوں منہ بنا کر رہ گئے۔
“اور اب تم صاف صاف بتاؤ کہ اس وقت تم اس سے کیا بات کرنے گئے تھے؟۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“پاپا میں فاریہ کو اپنے اور خرد کے بارے میں سب بتانے گیا تھا، اور بتا دیا ہے”۔حیدر نے بتایا۔
“کیا! تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے حیدر! اسے یہ سب بتانے کی کیا ضرورت تھی؟۔فیضان نے حیرانگی سے کہا۔اور باقی سب بھی حیدر کی اس حرکت پر حیران ہوگئے۔
“ضرورت تھی، کیونکہ اگر میں نہیں بھی بتاتا تو یہ بات ان لوگوں سے چھپنے والی نہیں تھی ،کسی نا کسی سے تو پتہ چل ہی جاتی”۔حیدر نے بتایا۔
“پر تب کی بات اور تھی، تمہیں ابھی یوں خود سے جاکر اسے سب کچھ نہیں بتانا چاہیے تھا”۔فرقان نے کہا۔
“نہیں بھیا، میں فاریہ سے اپنی زندگی کی حوالے سے کچھ بھی نہیں چھپانا چاہتا، اس لئے میں نے اسے سب بتا دیا،اور یقین جانے کہ یہ سب بتانے کے بعد میرا دل بھی بہت ہلکا ہوگیا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“تو پھر فاریہ نے کیا کہا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“کچھ نہیں، اسے میرے گزرے ہوئے کل پر کوئی اعتراض نہیں ہے”۔حیدر نے بتایا۔
“مطلب کے وہ ابھی بھی تم سے شادی کرنے کیلئے تیار ہے!۔ہمدان صاحب نے تائید چاہی۔
“جی پاپا”۔حیدر نے اثبات میں سر ہلاکر کہا۔
“چلو کوئی بات نہیں، اچھی بات ہے کہ تم نے خود ہی اسے سب بتا دیا ،ورنہ کل کو اسے کسی اور سے پتہ چلتا تو زیادہ دکھ ہوتا، اور ویسے بھی تو شادی جیسے رشتے کی شروعات سچ سے ہی کرنی چاہئے ،آخر کو ساری زندگی کا معملا ہے”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“جی دادا جی ،یہی سب سوچ کر میں نے اسے سب بتا دیا”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا کیا بیٹا”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“اچھا آپ لوگ ملے کیا آج رضا انکل (وکیل) سے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ہممم! ملے تھے، اور پولیس اسٹیشن بھی گئے تھے اس کے ساتھ”۔ارسلان صاحب نے بتایا۔
“تو پھر کیا ہوا! پتہ چلا کہ کس نے اور کیوں یہ فائل دوبارہ کھلوادی ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“نہیں ، ایس۔ایچ۔او کا کہنا ہے کہ مخالف نے اپنا نام بتانے سے منع کیا ہے”۔ہمدان صاحب نے بتایا۔
“اور یہ اچانک فائل اوپن کرنے کا خیال کیوں آگیا یہ بھی نہیں بتایا؟۔حیدر نے پوچھا۔
“نہیں”۔عدنان صاحب نے بتایا۔
“تم فکر مت کرو بیٹا، پہلی بات تو یہ کہ فاریہ کو تو تم نے اس بارے میں خود ہی بتادیا ہے ،اس لئے اس جانب سے تو ہم لوگوں کو کوئی فکر نہیں ہونی چاہیے ،اور دوسری بات یہ کہ خرد نے تو خود سے ہی خودکشی کی تھی نا ، تم نے تھوڑی کہا تھا، اور ان سب معاملے پر پہلے ہی تحقیقات ہوچکی ہے، تو جب تم نے کچھ کیا ہی نہیں ہو تو فکر کرنے کی کیا بات ہے!۔قیصر صاحب نے کہا۔
“جی! دادا جی آپ ٹھیک کہہ ہیں”۔حیدر نے تائید کی۔
“اچھا چھوڑو یہ سب اب، تم بتاؤ کھانا کھاؤ گے؟۔فیروزہ نے پوچھا۔
“اگر زحمت نا ہو تو دے دیں”۔حیدر نے کہا۔
“ہممم! ابھی تو کچھ دن اٹھالیتی ہوں ، پھر اپنی بیوی کو دینا یہ زحمت”۔فیروزہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور حیدر بھی مسکرا کر فریش ہونے چلا گیا۔
**********
دو دن بعد “علی ولا” کے سارے بڑے جاکر ان چاروں کے نکاح کی تاریخ طے کر آئے تھے۔نکاح دو ہفتے بعد بہت ہی سادگی سے صرف گھر والوں کی موجودگی میں طے ہوا تھا۔اور رخصتی شہلا کے صحت یاب ہونے کے بعد طے پائی تھی۔نکاح اتنی جلدی انعم کی وجہ سے رکھا تھا۔کیونکہ وہ بھی “علی ولا” میں ہی رہ رہی تھی۔اور اس کے لئے وہاں سب ہی انجان اور نامحرم تھے۔اس لئے بلقیس بیگم چاہتی تھیں کہ جلد از جلد وہ فیضان کے نکاح میں آجائے۔باقی رخصتی پھر آرام سے بعد میں کریں گے۔اور یہ وجہ ان لوگوں نے آئمہ اور سجاد کو بھی بتادی تھی۔اور انھیں بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔اور حیدر ، فیضان ، اور انعم کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔
*******
جاری ہے
