Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09

رات کے قریب بارہ بج رہے تھے۔سب لوگ پارٹی سے آنے کے بعد اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے تھے۔
حیدر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا اپنی جیکٹ اتر رہا تھا اور اسی بارے میں سوچ رہا تھا کہ پتہ نہیں کون اسکا پیچھا کررہا؟ کون اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔کہ تب ہی حیدر کی نظر اپنی آستین پر پڑی۔اس پر کولڈ ڈرنک گرنے کی وجہ سے دھبہ پڑگیا تھا۔حیدر اپنی آستین کو بغور دیکھنے لگا۔حیدر کو اچانک فاریہ یاد آگئی۔اسے دیکھ کر جو فاریہ کی حالت ہوگئی تھی۔وہ تصور میں سوچ کر حیدر کو ہنسی آگئی۔حیدر نے کپڑے وغیرہ چینج کئے اور بیڈ پر آکر لیٹ گیا۔حیدر کو فیضان کی بات یاد آگئی۔کہ
“فاریہ تم سے ڈرتی ہے”۔حیدر نے سونے کیلئے آنکھیں بند کی تو پھر فاریہ کا چہرہ نظر آنے لگا۔اس نے آنکھیں کھول دی۔نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار حیدر کا ذہن بھٹک کر فاریہ کی جانب ہی جا رہا تھا۔تھوڑی دیر تک حیدر ایسے ہی بیڈ پر بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہا۔پر نیند نہیں آرہی تھی۔پھر حیدر فیضان کی باتوں پر غور کر کے اپنی ابھی کی اور پہلے کی زندگی کا موازنہ کرنے لگا۔کہ اس ایک سال میں اس میں کیا فرق آیا ہے!۔ سوچتے سوچتے حیدر کو فیروزہ کی وہ بات یاد آئی۔جو وہ ہمدان سے حیدر کے متعلق کہہ رہی تھی۔کہ
“میری کتنی خواہش ہے کہ میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بیٹے کو ہنستا مسکراتا آباد دیکھوں ،پتہ نہیں کب پوری ہوگی میری یہ خواہش؟۔پھر حیدر کو فیضان کی بات یاد آئی کہ
“شادی کے علاوہ بھی، تم مزاج میں بھی بہت بدل گئے ہو، واپس پہلے والے حیدر ہوجاؤ ،بھلے ہی اپنے لئے خود سے کوئی لڑکی پسند نہ کرو ،پر کم از کم جب فیروزہ چچی تمہاری شادی کی بات کرتی ہیں تو اس میں ہی دلچسپی لے لیا کرو ،یقین مانو چچی تمہاری وجہ سے بہت فکر مند ہیں”۔حیدر کو اب محسوس ہورہا تھا کہ اس ایک سال میں حیدر نے بلاوجہ ہی خود کو سب سے الگ کر کے ایک خول میں بند کیا ہوا ہے۔جب کہ وہ تو خرد سے کوئی پیار ویار نہیں کرتا تھا۔تو پھر کیوں وہ بلاوجہ اسکے پیچھے اپنے باقی پیار کرنے والوں کا دل دکھا رہا تھا۔حیدر کو پتہ نہیں کیوں اب اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا۔حیدر اتنا عرصہ صرف اس احساسِ جرم میں رہا کہ اسکی وجہ سے ایک لڑکی نے اپنی جان دے دی۔حیدر نے دل میں طے کرلیا تھا۔کہ اب وہ دوبارہ پہلے والا حیدر بنے گا۔اپنے اپنوں کیلئے۔پھر یہی سب سوچتے سوچتے کچھ دیر بعد حیدر نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
******
السلام و علیکم ! حیدر نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے خوشگوار موڈ میں سلام کیا۔
“وعلیکم السلام! خوش رہو”۔بلقیس بیگم نے کہا۔سب لوگ اس وقت ناشتے کی میز پر جمع تھے۔
“آج کھانے میں کیا بنائیں گے آپ لوگ؟۔حیدر نے ناشتہ کرتے ہوئے پوچھا۔
“ابھی ناشتہ تو کرلو پہلے، ابھی سے ہی کھانے کی فکر لگ گئی ہے”۔فائزہ نے کہا۔
“ارے نہیں بھابھی اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ آج میرا مٹر پلاؤ کھانے کا بہت دل چاہ رہا ہے،وہ بھی قیمے کے ساتھ، اگر آپ لوگوں کو کچھ سمجھ نہ آئے تو آج یہی پکالیں”۔حیدر نے کہا۔فیروزہ تو حیدر کے اس بدلے ہوئے رویے پر خوشی سے حیران ہوگئی تھی۔
“ہاں ہاں ، آج کھانے میں یہی پکے گا، میرے بچے نے اتنے دنوں بعد جو فرمائیش کی ہے”۔بلقیس بیگم نے کہا۔باقی سب کو بھی حیدر کے اس بدلے ہوئے رویے سے خوشگوار حیرت ہوئی۔پھر کافی خوشگوار ماحول میں ناشتہ کرنے کے بعد سب اپنے اپنے کام پر روانہ ہوگئے۔اور فیروزہ خوشی خوشی کھانے کی تیاری کرنے لگی۔
*******
فاریہ جیسے ہی روم میں داخل ہوئی۔اسے اپنی ٹیبل کے اوپر ریڈ کلر کے چمکیلے سے گفٹ پیپر میں پیک ایک باکس نظر آیا۔فاریہ کو کافی تشویش ہوئی۔فاریہ نے اپنا ہینڈ بیگ ایک طرف رکھا اور باکس اٹھا کر بغور جائزہ لینے لگی۔گفٹ پر کہیں کوئی ایسا کارڈ یا نام نہیں تھا کہ جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ یہ کس نے بھیجا ہے!۔فاریہ نے گفٹ پیپر کھولا۔تو اس میں سے ایک بلیک کلر کا موبائل نکالا۔موبائل کے نیچے ایک چھوٹا سا کاغذ بھی تھا۔فاریہ نے وہ کاغذ پڑھا۔اس پر لکھا تھا کہ
“میرے خیال میں ، جو ازالہ میرا سوری نہیں کر پایا تھا وہ اس نے کردیا ہے،اب غصے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،اور آپ کا موبائل توڑنے کیلئے ایک بار دوبارہ “سوری”
“حیدر”
فاریہ کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
“ڈاکٹر جلدی آئیں، ایک ایمرجنسی ہے”۔نرس نے عجلت میں آکر کہا۔
“کیا ہوا؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“ایک ڈلیوری کا کیس ہے ،اور اس عورت کی حالت کافی خراب ہورہی ہے”۔نرس نے بتایا۔
“ٹھیک ہے جلدی چلو”۔فاریہ نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔پر جب فاریہ اپریشن تھیٹر کے قریب پہنچی۔اسے اس باکس اور پیپر کا خیال آیا۔وہ نرس کو ڈلیوری کی تیاری کرنے کا کہہ کر فوراً بھاگتی ہوئی اپنے روم میں آئی۔اور جلدی سے وہ باکس اور پیپر اٹھا کر اپنے ہینڈ بیگ میں ڈالا اور دوبارہ اپریشن تھیٹر کی جانب بھاگی۔
*********
لنچ ٹائم ہورہا تھا۔اور فاریہ بھی لنچ کرنے کینٹین میں آئی تھی۔کاؤنٹر پر سے کافی اور سینڈوچ لے کر جیسے ہی فاریہ پلٹی پیچھے سے آتے حیدر سے ٹکرا گئی۔اور کافی چھلک کر حیدر کے وائٹ کوٹ پر دھبہ چھوڑ گئی۔
“اوہ ! ایم ویری سوری، میں نے آپکو دیکھا نہیں”۔فاریہ نے جلدی سے معذرت کی۔
“اب تو میں نے سوری بولنے کے ساتھ ساتھ اپکو موبائل بھی دے دیا ہے ،اب یہ بدلہ لینے کی کیا ضرورت تھی”۔حیدر نے ہاتھ سے اپنا کوٹ صاف کرتے ہوئےکہا۔
“ارے نہیں نہیں میں نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا،سچی”۔فاریہ نے جلدی سے کہا۔
“یہ ایسے صاف نہیں ہوگا، آپ واش روم میں جاکر پانی سے صاف کرلیں”۔فاریہ نے حیدر کو ہاتھ سے کوٹ صاف کرتے ہوئے دیکھ کر کہا۔حیدر نے سر اٹھا کر فاریہ کی جانب دیکھا اور مسکرا دیا۔
“واہ ! اب ڈائلوگ بھی میرے ہی لوٹا رہی ہیں مجھے”۔حیدر نے کہا۔اور کینٹین سے باہر آگیا۔فاریہ بھی جلدی سے کافی اور سینڈوچ کاؤنٹر پر ہی رکھ کر اس کے پیچھے آئی۔
“دیکھیئے سچ میں، میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ،آپ ایسا کیجئے گا کہ ایک پیالے میں تین چمچ سفید سرکہ ڈالیے گا،اور ایک چمچ پانی،اور اس داغ لگے حصے کو آدھا گھنٹہ اس میں بھیگو دیجئے گا،اور پھر اچھی طرح سرف سے دھو لیجئے گا،یہ داغ صاف ہوجائے گا”۔فاریہ نے حیدر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مشورہ دیا۔حیدر چلتے چلتے رک گیا اور فاریہ کو دیکھنے لگا۔
“آپ کیا ڈاکٹر بننے سے پہلے دھوبن تھیں! جو آپکو داغ دھبوں کے بارے میں اتنی معلومات ہے!۔حیدر نے پوچھا۔
“جی نہیں! اپنی مما کو دیکھا تھا یہ سب کرتے ہوئے ، تو آپکو بھی بتا دیا”۔فاریہ نے تنک کر کہا۔
“اچھا تو آپکی مما جان دھوبن تھیں!۔حیدر نے کہا۔
“دیکھئے مجھے ایسا مذاق پسند نہیں ہے”۔فاریہ نے کہا۔
“اچھا سوری”۔حیدر نے کہا۔اور جانے کیلئے پلٹا۔
“ایکسکیوزمی”۔فاریہ نے پھر پکارا۔
“جی”۔حیدر نے رک کر فاریہ کی جانب مڑ کر پوچھا۔
۔”Thanks For The Mobile”۔فاریہ نے کہا۔
۔”My Pleasure”۔حیدر نے کہا۔اور واپس جانے کیلئے پلٹ گیا۔اور فاریہ اسکو جاتا ہوا دیکھتی رہی۔
*******
فاریہ مومنہ کے روم میں کوئی فائل چیک کروانے آئی ہوئی تھی۔کہ تب ہی باہر سے ایک زور دار چیخ کی آواز آئی۔اور دونوں باہر بھاگیں۔باہر نکال کر دیکھا تو ایک عورت چھت پر جانے والی سیڑھیوں کے پاس خوف زدہ سی کھڑی ہوئی تھی۔چیخ سن کر باقی سب بھی جمع ہوگئے تھے۔وہ دونوں اس کے قریب آئیں۔پھر لوگوں نے اسے ایک کرسی پر بیٹھا کر پانی پلایا۔اور پوچھا کہ کیا ہوگیا تھا۔تو اس نے تھوڑا سمبھال کر بتانا شروع کیا۔
“میں یہاں پر سے گزار رہی تھی، کہ تب ہی میں نے کسی کے رونے کی آواز سنی ، آواز کے تعقب میں قریب آکر دیکھا تو اوپر چھت پر جاتی سیڑھیوں پر کوئی اپنا منہ گھٹنوں میں دیے رورہا تھا، بکھرے ہوئے بالوں اور حلیے سے تو وہ لڑکی ہی معلوم ہورہی تھی، میں نے تشویش کے مارے اوپر آتے ہوئے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اور کیوں رو رہی ہو؟ پر جیسے ہی میں تھوڑا سا آگے بڑھی اس لڑکی نے ایکدم اپنا سر اٹھایا کر مجھے دیکھا، اسکی آنکھیں سرخ انگارہ ہورہی تھیں، چہرہ ایسا لگ رہا تھا کہ جلا ہوا ہے، اور اچانک سے وہ غراتی ہوئی مجھ پر حملہ کرنے کیلئے کودی ، اور پھر میں چیختی ہوئی یہاں آگئی”۔عورت نے ساری تفصیل بتائی۔اور کچھ لوگ چھت کی جانب دیکھنے بھاگے کے وہاں کون ہے ؟ پر وہاں کوئی بھی نہیں ملا۔کیونکہ اگر کوئی ہوتا بھی تو اب تک ان لوگوں کے انتظار میں بیٹھا ہوا نہیں ہوتا کہ یہ لوگ آئیں اور اسے پکڑیں۔پھر تھوڑی دیر میں سب واپس اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔
“یہ سب کیا تھا مومنہ جی؟۔فاریہ نے واپس جاتے ہوئے مومنہ سے پوچھا۔
“پتہ نہیں! بس قریب ایک سال سے ہی ہوسپٹل میں اس طرح کے واقعیات ہورہے ہیں، کبھی کسی پیشنٹ کو کوئی نظر آجاتا ہے،کبھی کسی ڈاکٹر کو،پر ابھی تک سہی طرح سے پتہ نہیں چل پایا ہے کہ یہ سب ہو کیوں رہا ہے!۔مومنہ نے بتایا۔
“آپکا مطلب کے یہ کوئی بھوت پریت کا معملا ہے!۔فاریہ نے پوچھا۔
“ہمم! لوگوں کا کہنا تو یہی ہے”۔مومنہ نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“تو کچھ تو بات ہوگی، جیسے کے ہوسکتا ہے کہ کسی مخصوص واقعے کے بعد شروع ہوا ہو، آپ لوگوں نے دھیان نہ دیا ہو، یا پھر کچھ اور!۔فاریہ نے کہا۔اور مومنہ کے ذہن میں اچانک سے خرد کا چہرہ گھوم گیا۔اس سے پہلے کہ مومنہ کچھ بولتی نرس نے آکر فاریہ کو مخاطب کیا۔
“ایکسکیوزمی! ڈاکٹر فاریہ خان، آپ کیلئے آپ کے گھر سے فون آیا ہے،پلیز آجائیں”۔نرس نے آکر کہا۔
“تمہارے گھر سے ہوسپٹل فون کیوں آیا! تمہارا فون کہاں ہے؟۔مومنہ نے نرس کے بتانے پر پوچھا۔
“وہ کل گر کر ٹوٹ گیا تھا، میں ابھی آئی کال ریسیو کرکے ،ایکسکیوزمی”۔فاریہ نے بتایا اور معذرت کرتی ہوئی ریسپشن کی جانب چلی گئی
*****
“کیا ہوا سب خیریت تو ہے نہ کس کا فون تھا !۔فاریہ کے واپس مومنہ کے روم میں آنے پر مومنہ نے پوچھا۔
“میری مما کا فون تھا، کہہ رہیں تھیں کہ بابا اور وہ بابا کے ایک دوست کے گھر آئے ہوئے ہیں، وہاں سے واپسی پر انھیں کم از کم رات کے گیارہ بارہ بج جائیں گے”۔فاریہ نے بتایا۔
“تو پھر ؟۔مومنہ نے پوچھا۔
“تو مما کہہ رہیں تھیں کہ تب تک میں یہاں ہوسپٹل میں ہی رہوں ،کیونکہ روز مجھے ہوسپٹل ڈراپ بھی بابا کرتے ہیں،اور پک اپ بھی”۔فاریہ نے بتایا۔
“ارے تو ہم تمہیں ڈراپ کر دیں گے تمہارے گھر ! وہ لوگ وہاں ہیں تو تم گھر چلی جاؤ ، چابی تو ہوگی ناں تمہارے پاس! ۔ مومنہ نے پوچھا۔
“ہاں چابی تو ہے میرے پاس ، لیکن ……! ۔فاریہ نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“لیکن کیا ؟۔مومنہ نے پوچھا۔
“لیکن یہ کہ مجھے اکیلے گھر میں ڈر لگتا ہے،اسی لئے مما پہلے کہہ رہیں تھیں کہ میں تب تک اپنی کسی دوست کے گھر چلی جاؤں ،پر میری ایسی کوئی دوست ہی نہیں ہے ،اس لئے پھر مما نے کہا کہ تب تک یہاں رک جاؤں”۔فاریہ نے بتایا۔تھوڑی دیر تک وہ لوگ سوچتے رہے کہ کیا کیا جائے۔پھر مومنہ نے ایک تجویز پیش کی۔
“تم ایسا کرو تب تک ہمارے ساتھ ہمارے گھر چلو”۔مومنہ نے کہا۔
“کیا آپکے گھر!۔فاریہ نے کہا۔
“ہاں، اتنی دیر ہوسپٹل میں ویٹ کرنے سے بہتر ہے کہ ہمارے ساتھ گھر چلو”۔مومنہ نے کہا۔
“پر پھر بھی عجیب نہیں لگے گا”۔فاریہ نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا۔
“ارے نہیں لگے گا ، تم اپنی امی کو فون کر کے بتا دو کہ تم ہمارے ساتھ گھر جا رہی ہو، وہ لوگ تمہیں وہیں سے پک اپ کرلیں”۔مومنہ نے کہا۔
“ٹھیک ہے”۔فاریہ نے کہا۔اور اپنی امی کو بتانے کیلئے فون کرنے چلی گئی۔
*****
وہ لوگ گھر آچکے تھے۔فاریہ نے اپنی امی کو فون پر بتا دیا تھا۔کہ وہ ڈاکٹر مومنہ کے گھر جا رہی ہے۔
“آجاؤ ہمارے گھر والے تمہیں کھانہیں جائیں گے”۔مومنہ نے مسکرا کر فاریہ سے کہا۔جو اندر آتے ہوئے جھجھک رہی تھی۔
“السلام و علیکم! گھر میں داخل ہوتے ہی چاروں نے یک زبان ہال میں موجود بڑوں کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ! بلقیس بیگم نے جواب دیا۔
“ارے یہ لڑکی کون ہے؟۔رفعت نے فاریہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
“پھوپھو یہ ڈاکٹر فاریہ ہیں، اس دن ڈاکٹر خالد کریم کی پارٹی میں ، میں نے تعارف کروایا تھا ناں، دراصل ان کے والدین ابھی گھر پر نہیں ہیں ، اور انہیں اکیلے ڈر لگتا ہے ، تو اس لئے میں نے کہا کہ جب تک ان کے والدین نہیں آجاتا یہ ہمارے ساتھ ہمارے گھر چلیں”۔مومنہ نے بتایا۔
“ہاں ہاں بیٹی اچھا کیا”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“اچھا چلو اب تم لوگ بھی جلدی سے فریش ہوجاؤ، پھر سب مل کر کھانا کھاتے ہیں”۔فیروزہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“ہممم ! آؤ فاریہ میں تمہیں گیسٹ روم دیکھا دوں، تم بھی فریش ہوجاؤ، پھر کھانا کھاتے ہیں”۔مومنہ نے کہا۔
“نہیں مومنہ جی میں کھانا نہیں کھاؤں گی”۔فاریہ نے جھجھکتے ہوئے کہا۔
“ارے بیٹا یہ کھانے کا ہی وقت ہورہا ہے ،کھالو سب کے ساتھ تھوڑا سا”۔ممتاز نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“جی ٹھیک ہے”۔فاریہ نے کہا۔اور مومنہ کے ساتھ گیسٹ روم کی جانب بڑھ گئی۔
********
سب لوگ اس وقت کھانے کی میز پر موجود تھے۔
“اچھا ویسے کون کون ہوتا ہے تمہارے گھر میں؟۔رفعت نے کھانا کھاتے ہوئے فاریہ سے پوچھا۔
“جی بس میں اور میرے مما بابا”۔فاریہ نے بتایا۔
“اچھا تو اور کوئی بھائی بہن نہیں ہے تمہارا؟۔رفعت نے پوچھا۔
“جی نہیں”۔فاریہ نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔
“ایک بات پوچھوں ! اگر آپ برا نا مانیں تو !۔فائزہ نے فاریہ سے کہا۔
“جی پوچھیں”۔فاریہ نے کہا۔
“آپکو کیا مٹر پسند نہیں ہیں؟۔فائزہ نے فاریہ کی پلیٹ میں ایک کونے میں جمع ہوئے مٹروں کو دیکھ کر پوچھا۔فائزہ کے کہنے پر فاریہ سمیت سب کی نظریں غیرارادی طور پر فاریہ کی پلیٹ کی جانب گئیں۔اور فاریہ جھینپ گئی۔
“ارے کوئی بات نہیں، ہوتا ہے ہر کسی کی کھانے میں اپنی اپنی پسند نہ پسند ہوتی ہے، کوئی بات نہیں”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“ہممم ! پر پھر بھی کل کو اگر جس سے تمہاری شادی ہوئی اور اسکو مٹر بہت پسند ہوئے تو؟۔رفعت نے کہا۔
“تو میں اپنے حصے کے سارے مٹر بھی اسے ہی دے دوں گی”۔فاریہ نے ایکدم ہی جوش میں آکر مسکرا کر کہا۔اور فاریہ کے اس جوش و جذبے پر سب اسکی جانب دیکھنے لگے۔
“اوہ! سوری”۔فاریہ نے اپنی حرکت نوٹ کرتے ہوئے شرمندگی سے کہا۔اور فاریہ کی حرکتیں دیکھ کر سب مسکرا دیے۔اور خود فاریہ کو بھی ہنسی آگئی۔پھر کافی خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا۔پھر کھانے کے بعد سب کافی دیر تک فاریہ سے باتوں میں لگے رہے۔پھر قریب ساڑھے گیارہ بجے فاریہ کے والدین اسے لینے آگئے۔قیصر صاحب نے انھیں اندر آکر بیٹھنے کا کہا۔پر رات کافی ہوگئی تھی۔تو وہ لوگ معذرت کرتے ہوئے چلے گئے۔
******
“ڈاکٹر فاریہ کو ہمارے ساتھ چلنے کیلئے تم نے کہا تھا؟۔فرقان سے مومنہ سے پوچھا۔جو اس وقت ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی نائٹ کریم لگا رہی تھی۔اور فرقان بیڈ پر لیٹا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔
“جی! کیوں آپکو برا لگا کیا؟۔مومنہ نے شیشے میں سے فرقان کو دیکھ کر پوچھا۔
“نہیں ! پر ایسے ہی کسی اجنبی کو گھر میں لے آنا ٹھیک نہیں ہے،وہ ڈاکٹر خرد یاد ہے ناں !۔فرقان نے کتاب پڑھتے ہوئے کہا۔
“ہممم ! پر ڈاکٹر فاریہ ایسی نہیں ہے”۔مومنہ نے کہا۔
“تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو ! کسی کے دل میں کیا ہے یہ تمہیں کیا پتہ!۔فرقان نے کہا۔
“ہممم ! ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ ،کسی کے دل میں کیا ہے اور کیا تھا یہ مجھے کیا پتہ!۔مومنہ نے عجیب سے انداز میں فرقان کو دیکھ کر کہا۔فرقان مومنہ کا اشارہ سمجھ گیا تھا۔پر پھر بھی جان بوجھ کر انجان بنا رہا۔
“مجھے نیند آرہی ہے ،پلیز لائٹ بند کردو”۔فرقان نے کتاب رکھتے ہوئے کہا۔مومنہ نے سوئچ بورڈ کے پاس آکر ایک نظر گھڑی پر ڈالی۔جہاں بارہ بج چکے تھے۔اور ایک نظر فرقان پر ڈالی جو دوسری جانب کروٹ لے چکا تھا۔اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر مومنہ نے لائٹ بند کردی۔
********
رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔حیدر نے سونے کیلئے آنکھیں بند کی تو پھر فاریہ کا چہرہ نظر آنے لگا۔اس نے آنکھیں کھول دی۔نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار حیدر کا ذہن بھٹک کر فاریہ کی جانب ہی جا رہا تھا۔تھوڑی دیر تک حیدر ایسے ہی بیڈ پر بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہا۔پھر نیند نہیں آرہی تھی تو اٹھ کر کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔حیدر نے کھڑکی کھول دی۔باہر کوئی ہوا کا جھونکا نہیں تھا۔ماحول حبس و گھٹن زدہ ہورہا تھا۔آسمان بھی بالکل بادلوں سے ڈھکہ ہوا تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔آسمان پر چاند آدھا تھا۔اور وہ بھی بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔بس کبھی کسی بدل کے ادھر اُدھر ہونے سے پتہ چل رہا تھا کہ چاند موجود ہے۔اور نہ ہی کہیں کوئی ستارہ نظر آرہا تھا۔حیدر کھڑکی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔اور آسمان پر چاند کی بدلوں کے ساتھ آنکھ مچولی دیکھنے لگا۔اور فاریہ کے بارے میں سوچنے لگا۔اسکا غصے میں حیدر پر بڑبڑانا۔حیدر کے سامنے آنے پر حیران ہوجانا۔ اپنی غلطی پر شرمندہ ہونا۔ بڑی بڑھیوں کی طرح کافی کا داغ صاف کرنے کا مشورہ دینا۔حیدر کے مذاق کرنے پر تنک جانا۔موبائل کیلئے تھینکس بولنا۔گھر آکر جھجھکنا۔مٹر نا پسند کرنا۔یہ سب کچھ سوچتے ہوئے ایک خوبصورت سی مسکراہٹ حیدر کے ہونٹوں پر ٹھہر گئی۔پتہ نہیں کیوں نہ چاہتے ہوئے بھی حیدر اس کے بارے میں سوچے جا رہا تھا۔اچانک سے ایک ٹھنڈا ہوا کا جھونکا حیدر کو چھو کر گزرا۔اور حیدر کے اندر تک ایک تازگی کی لہر دوڑ گئی۔اور وہ آدھا چاند بھی اب بدلوں سے باہر آگیا۔حیدر نے مسکرا کر آسمان کی جانب دیکھا اور کھڑکی بند کر کے واپس بیڈ پر چلا گیا۔پر حیدر کے کھڑکی بند کرنے کے بعد بادلوں نے پھر سے چاند کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
******
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *