Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19

صبح سے ہی “علی ولا” میں نکاح کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔سادگی سے ہی سہی پر نکاح تو تھا۔اس لئے سب اپنی اپنی ڈینٹینگ پینٹینگ میں لگے ہوئے تھے۔انعم کو تیار کرنے کی زمیداری عائشہ نے “زبردستی” لی تھی۔پورے گھر میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔نماز پڑھ کر آنے کے بعد سب تیاریوں میں لگ گئے تھے۔اور حیدر اور فیضان تو شیشے کے اگے سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
“چلو بھئی کہاں رہ گئے سب جانا نہیں ہے کیا!۔ارسلان صاحب نے تیار ہوکر ہال میں کھڑے ہوکر سب کو آواز دی۔
“بھئی ہم لوگ تو تیار ہیں، بس یہ لڑکوں کی تیاری پوری نہیں ہوئی ہے ابھی تک”۔ہمدان صاحب اور عدنان نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“توبہ ہے، آج تو لڑکیوں کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے ان لڑکوں نے”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“ارے چھوڑو ، کون سا روز روز نکاح ہوتا ہے، کرنے دو دل کے ارمان پورے”۔قیصر صاحب نے بھی ہال میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“نکاح تو صرف حیدر اور فیضان کا ہے ناں! تو یہ باقی سب کیا کررہے ہیں!۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“میں تو آگیا ماموں”۔دانش نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“اور تمہارا بھائی کہاں ہے؟۔عدنان صاحب نے پوچھا۔
“تابش بھی آرہا ہے ، وہ اپنا کیمرے ٹھیک کررہا تھا”۔دانش نے بتایا۔
“ایک تو اسکا یہ فوٹو گرافی کا شوق، اور باقی سب کہاں ہیں!۔ارسلان صاحب نے پوچھا۔
“میں تو یہ رہا تایا”۔جاوید نے بھی ہال میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“اور تمہارا بھائی کہاں ہے؟۔عدنان صاحب نے پوچھا۔
“ابو نادر بھی بس آہی رہا ہے”۔جاوید نے بتایا۔
“ارے باقی سب نہیں آئے ابھی تک!۔رفعت نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
“امی باقی سب کا ہی تو انتظار کررہے ہیں”۔دانش نے بتایا۔
“چلیں ، سب یہاں کیوں کھڑے ہیں”۔فرقان نے بھی ہال میں آتے ہوئے پوچھا۔
“کہاں سے چلیں، ان چاروں کا سولہ سنگھار ہی نہیں ختم ہورہا”۔ارسلان صاحب نے کہا۔اتنے میں باقی گھر والے بھی ہال میں جمع ہوگئے۔مومنہ شہلا کو بھی ہلکا پھلکا سا تیار کرکے وہیل چیئر پر بیٹھا کر ہال میں ہی لے آئی۔
“ارے بھئی میرا بیٹا کہاں ہے!۔شہلا نے پوچھا۔
“سولہ سنگھار ہی ختم نہیں ہورہا آپکے بیٹے کا”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“السلام و علیکم خواتین و حضرت، ذرا دل تھام کر بیٹھیں، کیونکہ اب آپ کے سامنے تشریف لارہے ہیں، دو کارٹون”۔نادر نے کہا۔تابش اور نادر نے ایک جانب ایک دوسرے سے چپک کر کھڑے ہوئے تھے۔حیدر اور فیضان دونوں کے پیچھے تھے۔اور نادر کے “کارٹون” کہنے پر حیدر نے پیچھے سے اسے چپت لگائی۔
“یہ کیا ہورہا ہے! اور وہ دونوں کہاں ہیں”۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“یہ رہے، ٹن ٹیرین”۔نادر اور تابش نے یک زبان کہا اور دونوں ایک جانب ہوگئے۔اور پیچھے سے حیدر اور فیضان مسکراتے ہوئے آگے آئے۔فیضان نے براؤن رنگ کا کُرتا اور پاجامہ پہنا ہوا تھا۔اور اس کے گلے اور آستینوں پر گولڈن کلر کے نگ لگے ہوئے تھے۔اور چہرے پر نظر کا چشمہ۔اور حیدر نے بلیک کلر کا کُرتا اور پاجامہ پہنا ہوا تھا۔اور اس کے گلے اور آستینوں پر سفید نگ لگے ہوئے تھے۔ اور ہلکی ہلکی مگر سلیقے سے بنی ہوئی شیو میں دونوں بلا شبہ بہت ہی پر کشش وجیہہ لگ رہے تھے۔
“ماشاءاللّه ! کتنے اچھے لگ رہے ہیں میرے بچے”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“دادی کا چشمہ کہاں ہے”۔نادر نے شرارت سے کہا۔
“سوری ہم لیٹ ہوگئے”۔حیدر نے کہا۔
“ارے کوئی بات نہیں، سچی کتنا ارمان تھا میرا تمہیں ایسے دیکھنے کا”۔فیروزہ نے حیدر کا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے نم آنکھوں سے کہا۔
“آپ تو پورا ہوگیا نا اپکا ارمان اب کیوں رو رہی ہیں!۔حیدر نے فیروزہ کی آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا۔فیضان بھی شہلا کے گھٹنے پکڑ کر انکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
“کیسا لگ رہا ہوں میں!۔فیضان نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“اللّه پاک نظر سے بچائے میرے بچے کو، بالکل شہزادہ لگ رہا ہے”۔شہلا نے بھی نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ فیضان کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا۔
“ارے ایک تو آپ لیڈیز بھی نا فوراً ایموشنل ہوجاتی ہیں”۔فیضان نے شہلا کی آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا۔
“اچھا اب اگر رونا دھونا ہوگیا ہو تو چلیں دیر ہورہی ہے، وہ لوگ انتظار کررہے ہوں گے ہمارا”۔فرقان نے ماحول بدلنے کیلئے کہا۔اور پھر سب فاریہ کے گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔
******
ساڑھے پانچ بجے وہ لوگ فاریہ کے گھر پہنچ گئے۔وہ لوگ بھی ان لوگوں کا انتظار ہی کررہے تھے۔ پھر ان لوگوں کے وہاں پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی نکاح کی رسم ادا کردی گئی۔فاریہ کی جانب سے بس اسکے مامی ماموں انکی دو بیٹیاں اور فاریہ کی ایک خالہ شامل تھیں۔اور کسی باہر والے کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔نکاح ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی مغرب کا وقت ہوگیا۔سجاد صاحب نماز پڑھنے جانے لگے تو باقی مرد بھی انکے ساتھ چلے گئے۔پھر نماز پڑھ کر آنے کے بعد سب باہر لان میں ہی جمع ہوگئے۔کیونکہ سب کے بیٹھنے کا انتظام لان میں ہی کیا گیا تھا۔لان میں لگے ایک بڑے سے لکڑی کے جھولے کو نقلی پھولوں سے سجایا ہوا تھا۔غالباً وہ دولہا دلہن کے بیٹھنے کیلئے اسٹیج سا بنایا گیا تھا۔نکاح تو سادگی سے ہی کرنے کا پلان تھا۔پر سجاد صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی کے نکاح کو یادگار بنانے کیلئے اتنی تیاری کرلی تھی۔اور “علی ولا” کے لوگوں کی آج رات کے کھانے کی دعوت بھی تھی تھی۔سب لوگ لان میں ٹیبلوں کے ساتھ لگی کرسی پر بیٹھ گئے۔اور حیدر اور فیضان کو جھولے پر بیٹھا دیا۔پھر فاریہ اور انعم کو بھی حیدر اور فیضان کے ساتھ ہی بیٹھانے کیلئے باہر لان میں بلوالیا۔کیونکہ تابش بھی تصویریں کھینچنے کیلئے بے چین ہورہا تھا۔فیضان نے بھی صبح سے انعم کو نہیں دیکھا تھا۔چند خواتین کمرے سے فاریہ اور انعم کو لینے گئیں۔جیسے ہی خواتین انعم کو لے کر لان میں داخل ہوئیں تو سب کی نظریں ہی اسکی جانب اٹھیں۔انعم نے ڈارک پنک کلر کی لمبی سی گھیر دار فراک پہنی ہوئی تھی فراک کے گلے دامن اور آستینوں پر گولڈن رنگ کے نگ لگے ہوئے تھے۔اور اسکے ساتھ چوڑی دار پاجامہ۔سر پر بہت سلیقے سے سوٹ کا ہی ہم رنگ گولڈن نگوں سے بھرا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔یہ سوٹ انعم کیلئے کل مال میں فیضان نے ہی پسند کیا تھا۔سلیقے سے ہوئے میک اپ اور سوٹ کی میچنگ کی جیولری پہنے اور مہندی لگے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے ہوئے وہ کافی پیاری لگ رہی تھی۔
“اوہ ہو! کوئی تو روک لو”۔حیدر نے فیضان کے کان میں سرگوشی کی۔جو کہ انعم کو ہی دیکھ رہا تھا۔انعم کو لاکر فیضان کے برابر میں بیٹھا دیا۔اور اتنے میں باقی خواتین بھی فاریہ کو لے کر لان میں آئیں۔فاریہ نے وہی حیدر کی دی ہوئی میرون ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔اور ساڑھی کے پلو کو ہی سلیقے سے سر پر اوڑھا ہوا تھا۔مہندی لگے ہاتھوں میں بھری بھری چوڑیاں اور ہم رنگ جیولری کے ساتھ ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ بلا شبہ کافی پر کشش لگ رہی تھی۔
“اوہ ہو! کوئی تو روک لو”۔اب فیضان نے حیدر کے کان میں سرگوشی کی۔
“کیوں روک لو! بیوی ہے میری ، دیکھ سکتا ہوں میں”۔حیدر نے بھی سرگوشی کی۔فاریہ کو بھی حیدر کے برابر میں بیٹھا دیا گیا۔
“اچھی لگ رہی ہو”۔حیدر نے فاریہ کے بیٹھنے کے بعد اس کے کان میں سرگوشی کی۔
“پتہ ہے مجھے”۔فاریہ نے مصنوئی بے نیازی سے کہا۔حیدر کو اس سے اس جواب کی امید نہیں تھی۔اس لئے چونک کر اس نے فاریہ کی جانب دیکھا۔اور اچانک سے دونوں پر ایک چمک پڑی۔اور یہ لمحہ کیمرے میں محفوظ ہوگیا۔تابش نے دونوں کی تصویر لی تھی۔
“ارے فاریہ یہ تمہاری آنکھیں اتنی کیوں سوجی ہوئی ہیں؟۔مومنہ نے پوچھا۔
“دراصل آپی کل رات کو بہت رو رہی تھیں ناں اس لئے آنکھیں اتنی سوجھ گئیں ہیں”۔رابعہ (فاریہ کے ماموں کی بیٹی) نے بتایا۔
“کیوں بیٹا ؟۔فیروزہ نے پوچھا۔
“بس ایسے ہی آنٹی”۔فاریہ نے آہستہ سے کہا۔
“دیکھو بیٹا پہلی بات تو یہ کہ مجھے اندازہ ہے کہ یہ وقت ہر لڑکی کیلئے ہی تھوڑا مشکل ہوتا ہے، کہ جس گھر میں جن لوگوں کے بیچ سارا بچپن لڑکپن گزرا ہو انھیں چھوڑ کر جانے کے خیال سے ہی روح کانپ جاتی ہے، سب کے ساتھ ہوتا ہے، میرے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا، پر تم فکر مت کرنا ، جب تم ہمارے گھر آجاؤ گی ناں تو ہم لوگ بالکل بھی تمہیں تمہارے گھر والوں کی یاد نہیں آنے دیں گے”۔فیروزہ نے کہا۔
“اور دوسری بات کیا تھی تائی؟۔نادر نے پوچھا۔
“دوسری بات یہ کہ اب میں تمہاری آنٹی نہیں ہوں، تم بھی اب حیدر کی طرح مجھے ممی بولنا”۔فیروزہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔اور باقی سب بھی مسکرا دیے۔پھر سب کا فوٹو سیشن شروع ہوگیا۔پہلے تو فمیلی فوٹوز بنائی گئیں۔پھر دونوں کپلز کی الگ الگ فوٹوز کھینچی گئیں۔پھر مرد حضرت نے ایک جانب اپنی گیدرنگ بنا لی۔اور خواتین بھی ساری ایک گیدرنگ میں ہوگئیں۔اور باقی سب لڑکے لڑکیاں اپنی اپنی فوٹوز کھینچوانے لگے۔دولہوں اور دلہنوں کی فوٹوز تو کھینچ چکی تھی۔حیدر اور فیضان کو جھولے پر بیٹھے بیٹھے الجھن ہورہی تھی۔اس لئے وہ لوگ بھی جھولے سے اٹھ کر تابش وغیرہ کی جانب ہی آگئے۔وہ لوگ سب اپنی تصویریں کھنچوانے میں مگن تھے۔فیضان اور انعم ایک سائیڈ پر کھڑے ہوگئے۔اور حیدر اور فاریہ ان سے کچھ فاصلے پر دوسری سائیڈ پر کھڑے ہوگئے تھے۔
“اچھی لگ رہی ہو آج بہت”۔فیضان نے آہستہ سے کہا۔
“آج مطلب ! ویسے نہیں لگتی تھی!۔انعم نے بھی آہستہ سے پوچھا۔
“نہیں ! میرا مطلب آج شوہر کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں”۔فیضان نے کہا۔
“اور تم بھی”۔انعم نے کہا۔
“کیا تم بھی؟۔فیضان نے پوچھا۔
“اچھے لگ رہے ہو آج “۔انعم نے کہا۔
” آج مطلب! ویسے نہیں لگتا تھا!۔فیضان نے پوچھا۔
“نہیں ! میرا مطلب آج بیوی کی حیثیت سے کہہ رہی ہوں”۔انعم نے مسکرا کر کہا۔فیضان بھی مسکرا دیا۔حیدر وقفے وقفے سے ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔ان دونوں کے چہروں سے اس وقت ان کی خوشی جھلک رہی تھی۔جیسی کہ عام طور پر نئے شادی شدہ جوڑے کے چہرے سے جھلکتی ہے۔پھر حیدر نے فاریہ کی جانب دیکھا۔پر اس کے چہرے پر اسے ایسی کوئی خوشی نہیں دکھی۔وہ خاموشی سے کھڑی ہوئی باقی سب کو تصویریں کھینچواتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
“فاریہ !۔حیدر نے دھیرے سے پکارا۔
“ہممم! جی!۔فاریہ نے چونک کر پوچھا۔
“کیا ہوا ! کیا سوچ رہی تھی !۔حیدر نے پوچھا۔
“نہیں کچھ نہیں”۔فاریہ نے کہا۔
“سچی بتاؤ ، تم اس شادی سے خوش تو ہو ناں!۔حیدر نے پوچھا۔
“جی ، پر آپ ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں!۔فاریہ نے کہا۔
“ایسے ہی مجھے تم کچھ کھوئی کھوئی سی لگ رہی ہو”۔حیدر نے بتایا۔
“نہیں بس ایسے ہی ، وہ کل رات ٹھیک سے نیند نہیں پوری ہوئی نا اس لئے بس تھوڑا سر میں درد ہے”۔فاریہ نے بتایا۔
“پکا ! اس کے علاوہ کوئی اور بات تو نہیں ہے ناں !۔حیدر نے تائید چاہی۔
“نہیں تم بلاوجہ ہی وہم میں مبتلا ہورہے ہو”۔فاریہ نے مسکرا کر کہا۔حیدر اسے دیکھ کر مسکرانے لگا۔
“کیا ہوا ہنس کیوں رہے ہو!۔فاریہ نے نا سمجھی سے پوچھا۔
“ابھی تمہارا مجھ سے بات کرنے کا انداز اچھا لگا۔”حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“کیا مطلب ، نارمل ہی تو بات کی ہے میں نے”۔فاریہ نے نا سمجھی سے کہا۔
“ابھی تم نے مجھے “تم” بولا”۔حیدر نے بتایا۔اور فاریہ اپنے سابقہ جملوں پر غور کرنے لگی۔
“اوہ ! سوری ، وہ ایسے ہی بے اختیار منہ سے نکل گیا”۔فاریہ نے جملہ یاد آنے پر کہا۔
“نہیں ٹھیک ہے، ایسے ہی بولا کرو، مجھے اچھا لگتا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“کیوں !۔فاریہ نے پوچھا۔
“کیونکہ جب تم مجھے “آپ” کہہ کر پکارتی ہو تو بہت پر تکلف سا لگتا ہے، اور میں چاہتا ہوں ہمارے بیچ میں بالکل بے تکلفی ہو”۔حیدر نے بتایا۔
“تو اس کیلئے “تم” کہنے کی کیا ضرورت ہے!۔فاریہ نے پوچھا۔
“بس ایسے ہی، میں بول رہا ہوں ناں کہ اب سے مجھے “تم” کہنا”۔حیدر نے کہا۔
“پھر لوگ کیا بولیں گے ! کہ بیوی شادی کے بعد شوہروں سے “آپ، جناب” سے بات کرتی ہیں ، اور یہ کیسی بیوی ہے جس نے شادی کے بعد اپنے شوہر کو “تم” کہنا شروع کردیا”۔فاریہ نے کہا۔
“کہنے دو ، لوگوں کا تو کام ہی بولنا ہے ، اور ویسے بھی ایک مشرقی بیوی ہونے کے ناطے تم پر فرض ہے کہ اپنے شوہر کا حکم مانو”۔حیدر نے مصنوئی حکم صادر کرتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے ، جیسی “تمہاری” مرضی”۔فاریہ نے لفظ “تمہاری” پر زور دیتے ہوئے کہا۔اور دونوں مسکرادیے۔
باقی سب بھی فوٹوز وغیرہ کھنچواکر فارغ ہوچکے تھے۔اور آپس میں باتوں میں لگے ہوئے تھے۔
“ایکسکیوزمی! اپکا نام کیا ہے؟۔رابعہ نے پوچھا۔تابش ایک سائیڈ پر بیٹھا آج کھینچی گئی فوٹوز دیکھ رہا تھا۔
“تابش شمسی، کیوں !۔تابش نے نام بتاتے ہوئے پوچھا۔
“ہاۓ تابش ، میرا نام رابعہ ہے”۔رابعہ ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔تابش نے ہاتھ ملایا۔
“کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں!۔رابعہ نے تابش کے برابر والی چیئر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
“جی ضرور یہ اپکا ہی تو گھر ہے”۔تابش نے کہا۔
“جی نہیں یہ میرا نہیں میری پھوپھو کا گھر ہے”۔رابعہ نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
“میرا مطلب کہ میں تو مہمان ہوں، میزبان تو پھر بھی آپ ہی ہے ناں”۔تابش نے وضاحت کی۔
“اچھا آپ فوٹوگرافر ہیں؟۔رابعہ نے پوچھا۔
“ابھی ہوں تو نہیں، پر بننے کا شوق ضرور ہے، اور ان شاءاللّه بنو گا بھی ضرور”۔تابش نے بتایا۔
“اچھا ! ویسے آپ اتنے پروفیشنل طریقے سے سب کی فوٹوز لے رہے تھے ناں ، تو مجھے لگا کہ شاید آپ کوئی پروفیشنل فوٹوگرافر ہیں”۔رابعہ نے بتایا۔
“اللّه پاک آپکی زبان مبارک کرے”۔تابش نے کہا۔
“اچھا ویسے اگر آپ برا نا مانے تو پلیز میرا ایک کام کر دیں گے؟۔رابعہ نے پوچھا۔
“پہلے آپ کام کی نوعیت بتائیں، تب ہی میں بتاؤں گا کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں یا نہیں”۔تابش نے کہا۔
“وہ دراصل مجھے اپنا ایک پورٹ فولیو بنوانا ہے، تو کیا آپ بنا دیں گے!۔رابعہ نے پوچھا۔
“جی ضرور ، کب بنوانا ہے؟۔تابش نے پوچھا۔
“آپ بتائیں کب ٹھیک رہے گا؟۔رابعہ نے پوچھا۔
“ابھی تو فلحال میرے ایکزمس چل رہے ہیں، تو ایکزمس سے فری ہوکر بنا دوں گا”۔تابش نے کہا۔
“تھینک یو، اچھا کیا ابھی آپ میری کچھ پکچر لے سکتے ہیں، دراصل ناں مجھے تصویریں کھنچوانے کا بہت شوق ہے”۔رابعہ نے کہا۔
“جی بالکل ، اور مجھے کھینچنے کا”۔تابش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“چلیں آپکی پکچر لے لوں”۔تابش نے کہا۔
“جی یہاں ان پودوں کے پاس چلیں”۔رابعہ نے کھڑے ہوکر ایک جانب رکھے ہوئے پودوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اور دونوں اس سائیڈ پر آگئے۔رابعہ مختلف پوز دے دے کر تصویریں کھنچوا رہی تھی۔اور کہیں کہیں تابش بھی اسے گائیڈ کررہا تھا کہ ایسے ہاتھ رکھو ، ایسے دیکھو ، ایسے ہنسو۔ اور ان دونوں کو یوں دیکھ کر عائشہ کا خون کھول رہا تھا۔اسکا جی چاہ رہا تھا کہ یہی گملے اٹھا کر دونوں کے سر پر مارے۔پر ضبط کرکے رہ گئی۔ان دونوں پر عائشہ کی نظر تھی۔اور عائشہ پر حیدر کی۔پھر قریب رات کے نوں بجے تک وہ لوگ سب کھانا وغیرہ کھا کر اپنے گھر آگئے۔
*****
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *