Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10

اگلے دن مومنہ ہوسپٹل میں اپنے روم میں کام میں مصروف تھی کہ تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔
“ٹک ٹک ٹک”
“یس کم ان”۔مومنہ نے فائل پر کام کرتے ہوئے کہا۔
“گڈ ایوننگ مومنہ جی”۔فاریہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
“گڈ ایوننگ ،آؤ بیٹھو”۔مومنہ نے بھی مسکرا کر کہا۔
“وہ دراصل میں آپکو کل کیلئے تھینکس بولنے آئی تھی”۔فاریہ نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“تھینکس ! پر کیوں؟۔مومنہ نے پوچھا۔
“کیونکہ کل سچ میں آپکے گھر والوں سے مل کر مجھے بہت اچھا لگا ،میری بھی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ کاش میری بھی ایسی بڑی سی فیملی ہوتی ،جہاں سب دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ،پر ایسا ہے نہیں ،اگر کل آپ مجھے اپنے ساتھ گھر نہ لے کر جاتی تو میں اتنے اچھے لوگوں سے مل نہیں پاتی ،اس لئے تھینکس”۔فاریہ نے بتایا۔
“اچھا تو تم نظر لگا دو ہماری فمیلی کو”۔مومنہ نے شرارت سے کہا۔
“ارے نہیں نہیں،میرا وہ مطلب نہیں تھا”۔فاریہ نے جلدی سے کہا۔
“ارے میں بھی مذاق کر رہی ہوں”۔مومنہ نے مسکرا کر کہا۔
“بھابھی جلدی چلیں ایک مسلہ ہوگیا ہے”۔فیضان نے روم میں داخل ہوتے ہوئے عجلت میں کہا۔
“کیا ہوا سب خیریت تو ہے؟۔مومنہ نے پوچھا۔
“ارے آپ جلدی چلیں تو سہی ،پھر بتاتا ہوں”۔فیضان نے کہا۔مومنہ کھڑی ہوگئی۔
“میں بھی آؤں کیا؟۔فاریہ نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
“آجائیں”۔فیضان نے کہا۔اور تینوں عجلت میں روم سے باہر نکلےاور فیضان ان کو لے کر کینٹین کی جانب جانے لگا۔اس دوران بھی مومنہ نے فیضان سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔پر اس نے کچھ نہیں بتایا۔جیسے ہی مومنہ کینٹین میں داخل ہوئی ایک زوردار پٹاخے کی آواز آئی۔اور ساتھ ہی مومنہ پر بہت ساری ڈیسکو بھی آکر گری۔
“ہیپی برتھڈے ٹو یو،ہیپی برتھڈے ٹو یو”۔سب نے بلند آواز میں یک زبان کہا۔سامنے ہی ایک ٹیبل پر ایک کیک رکھا ہوا تھا۔اور اس کے ارد گرد حیدر، فرقان، احمر، ناہید اور باقی چند ڈاکٹرز کھڑے تھے۔مومنہ کو ایک پل کیلئے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ ہوا کیا ہے۔
“اب یہاں آبھی جائیں بھابھی ،وہیں کھڑی رہیں گی کیا؟۔حیدر نے کہا۔مومنہ ان لوگوں کے پاس آگئی۔فاریہ اور فیضان بھی اس کے پیچھے آگئے۔
“یہ سب کچھ کیسے!۔مومنہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“یہ سب کچھ فرقان بھائی کا پلان تھا،کہ آپکو اس طرح سرپرائز دیا جائے”۔حیدر نے بتایا۔مومنہ نے بے یقینی سے فرقان کی جانب دیکھا۔جو مسکرا کر مومنہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔
“چلیں اب کیک کاٹیں جلدی سے ،تا کہ ہم لوگ واپس اپنی اپنی ڈیوٹی پر جائیں، ورنہ اگر ڈاکٹر خالد کریم یا پھر کسی اور سینیئر ڈاکٹر نے دیکھ لیا، تو سوچیں گے کہ ہم لوگ اپنا کام وغیرہ چھوڑ کر یہاں پارٹی منا رہے ہیں”۔فیضان نے کہا۔پھر مومنہ نے کیک کاٹا۔سب کو باری باری کھلایا۔سب نے مومنہ کو گفٹ دیا۔پھر تھوڑی دیر میں ہی سب ڈاکٹرز واپس اپنی ڈیوٹی پر چلے گئے۔
*******
رات کے نوں بج رہے تھے۔فیضان اب اپنی ڈیوٹی ختم کر کے باہر کی جانب جا رہا تھا۔کہ تب ہی کوریڈور میں فاریہ بھی باہر کی جانب جاتی ہوئی مل گئی۔
“آگئے آپکے بابا آپکو پک اپ کرنے؟۔فیضان نے ساتھ چلتے ہوئے پوچھا۔
“جی فون آیا تھا ،بس پہنچنے ہی والے ہیں ،آپ بھی یقیناً گھر ہی جارہے ہوں گے!۔فاریہ نے بتاتے ہوئے آخر میں پوچھا۔
“جی بالکل”۔فیضان نے کہا۔
“ویسے آج آپ لوگوں نے مومنہ جی کو سرپرائز کافی اچھا دیا،میں بھی حیران ہوگئی تھی”۔فاریہ نے مسکرا کر کہا۔
“ہممم ! مجھے بھی حیدر نے دوپہر میں ہی بتایا تھا کہ اس طرح کرنا ہے،اور اس طرح جاکر مومنہ بھابھی کو لے کر آنا ہو ،اور انھیں کچھ نہ بتاؤں”۔فیضان نے بتایا۔
“اچھا ! اور آپ نے مجھے بھی کچھ نہیں بتایا، میرا مطلب مجھے بھی اپنے پلان کا حصہ بنا لیتے، مجھے بھی اگر پتہ ہوتا تو میں بھی مومنہ جی کیلئے کوئی گفٹ لے لیتی”۔فاریہ نے کہا۔
“آپکو بتانے سے حیدر نے منع کیا تھا، کیونکہ آپکی مومنہ بھابھی سے کچھ زیادہ ہی دوستی ہے ناں ،تو کہیں ایسا نہ ہوتا کہ آپ انھیں ہمارے سرپرائز کے بارے میں بتا دیتیں”۔فیضان نے بتایا۔
“اچھا ! اتنی بے اعتباری؟۔فاریہ نے مصنوئی شکوہ کیا۔
“اب یہ تو آپ خود حیدر سے ہی پوچھ لیجئے گا،یہ آپکا اور اسکا معملا ہے، میرا اس میں کوئی بیچ نہیں ہے ،میں نے تو بس اپنا کام کیا ہے”۔فیضان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ارے کوئی بات نہیں ،ایسے ہی مذاق کر رہی تھی میں ،ویسے مزہ آیا اس سرپرائز میں”۔فاریہ نے مسکرا کر کہا۔
“تھینک یو”۔فیضان نے بھی مسکرا کر کہا۔دونوں پارکنگ ایریا تک آگئے تھے۔فاریہ ایک جانب چلی گئی۔اور فیضان بھی اپنی گاڑی کی جانب آگیا۔
“ارے حیدر نہیں آیا ابھی تک؟۔فیضان نے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر کہا۔اور اندر بیٹھ گیا۔
“آیا تھا،پر پھر وہ تمہیں دیکھنے کیلئے تمہاری جانب گیا تھا”۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی مومنہ نے بتایا۔
“پر مجھے تو وہ نہیں ملا”۔فیضان نے بتایا۔تب ہی پچھلی سیٹ کا دوسرا دروازہ کھلا۔اور حیدر اندر بیٹھ گیا۔
“کہاں تھے تم! مجھے تو نہیں ملے”۔فیضان نے کہا۔
“کہیں نہیں تھا، چلیں بھیا”۔حیدر نے سرد مہری سے فیضان کو کہتے ہوئے آخر میں فرقان سے کہا۔اور فرقان نے گاڑی سٹارٹ کرلی۔اور فیضان ناسمجھی سے حیدر کو دیکھ کر رہ گیا۔
********
رات کے قریب ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔حیدر اپنے بیڈ پر دونوں ہاتھوں کو سر کے نیچے رکھے ہوئے چھت کو تک رہا تھا۔حیدر کی آنکھوں کے سامنے تھوڑی دیر پہلے والا منظر چلنے لگا۔جب فاریہ اور فیضان مسکراتے ہوئے کوریڈور میں باتیں کرتے ہوئے آرہے تھے۔حیدر فیضان کو بلانے اس کے روم کی جانب آرہا تھا۔کہ تب ہی حیدر کی نظر ان دونوں پر پڑی۔پتہ نہیں کیوں ! پر حیدر کو فاریہ کا فیضان سے یوں بات کرنا بہت ناگوار گزرا تھا۔حالانکہ فیضان سے اسے ایسی کوئی پرخاش نہیں تھی۔اور نا ہی فاریہ پر کوئی حق۔پر پھر بھی حیدر کو غصہ آرہا تھا۔اس لئے اس نے پورے راستے فیضان سے بات بھی نہیں کی تھی۔پھر یہ سب سوچتے سوچتے ہی حیدر کو خیال آیا کہ ان سب میں وہ فیضان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیوں کر رہا ہے!۔پھر حیدر کو خود ہی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔اور صبح فیضان سے اپنے اس برتاؤ کی معذرت کرنے کا ارادہ کر کے حیدر نے آنکھیں موند لیں۔
*******
“تھینک یو”۔مومنہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے فرقان سے کہا۔جو کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔
“کس لئے؟ ۔فرقان نے مومنہ کی جانب دیکھ کر پوچھا۔
“آج کے سرپرائز کیلئے ،آپکو میری سالگرہ یاد تھی تو پھر آپ نے کل رات کو کیوں نہیں بتایا! میں انتظار کر رہی تھی کل”۔مومنہ نے کہا۔
“سچی بتاؤں ،تو یہ سارا پلان حیدر کا تھا”۔فرقان نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا۔
“کیا! حیدر کا ! یعنی آپکو یاد نہیں تھا !۔مومنہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“یاد تھا، پر اس طرح سے سیلیبریٹ کرنے کا پلان حیدر کا تھا”۔فرقان نے کتاب رکھتے ہوئے کہا۔
“پر حیدر تو کہہ رہا تھا کہ یہ سب آپکا پلان تھا”۔مومنہ نے پوچھا۔
“ہممم ! یہ بھی اسی نے کہا تھا کہ سب کو یہی بولیں گے کہ یہ میرا پلان تھا، پر مجھے تم سے یہ بات چھپانا ٹھیک نہیں لگا ،ایک دفعہ چھپا کر دیکھ چکا ہوں ناں”۔فرقان نے کہا۔
“کونسی بات چھپائی ہے آپ نے پہلے؟۔مومنہ سمجھ تو گئی تھی۔پر پھر بھی فرقان کے منہ سے سننا چاہ رہی تھی۔
“یہی کے تم سے پہلے میری زندگی میں کوئی اور تھی”۔فرقان نے کمبل کی سلواٹوں سے کھیلتے ہوئے کہا۔مومنہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“مومنہ ! سچ بتاؤ کہ جب سے تمہیں یہ عالیہ والی بات پتہ چلی ہے ،تب سے تم مجھ سے ناراض ہو ناں؟۔فرقان نے پوچھا۔
“ناراض نہیں ہوں، بس تھوڑا سا دکھ ہے کہ آپ نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا، اور میں آپکی مرضی یا پسند نہیں ہوں”۔مومنہ نے انگلیوں سے کھیلتے ہوئے بتایا۔
“دیکھو مومنہ! پہلی بات تو یہ کہ میں نے تمہیں یہ سب پہلے اس لئے نہیں بتایا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ مستقبل کے حوالے سے تم فکرمند ہوجاؤ، بلاوجہ تم میرے یا عالیہ کے بارے میں کچھ سوچو ،کیونکہ وہ قصہ تو تم سے شادی کے بعد ختم ہوچکا تھا، اور دوسری بات یہ کہ ٹھیک ہے جب میری تم سے شادی ہوئی تھی تب تمہیں اپنے لئے میں نے اپنی مرضی سے پسند نہیں کیا تھا ،تمہیں امی نے پسند کیا تھا میرے لئے ،پر شادی کے کچھ عرصے بعد ہی میں نے تمہیں پورے دل سے اپنی بیوی تسلیم کر لیا تھا، شادی کے وقت میں تمہیں پسند نہیں کرتا تھا،پر پھر آہستہ آہستہ مجھے تم سے پیار ہوگیا تھا ،جو کہ میں اب بھی کرتا ہوں ،اور ہمیشہ کروں گا”۔فرقان نے بہت تحمل سے مومنہ کو سب بتایا۔
“اور تم خود بھی پوری ایمانداری سے بتاؤ، کہ شادی والے دن سے لے کر آج تک تم نے کبھی میرے رویے میں اپنے لئے کوئی سردمہری محسوس کی ہے! یا اس دن غصے میں عالیہ کا نام لینے سے پہلے تمہیں کبھی میرے برتاؤ سے ایسا کچھ محسوس ہوا تھا؟۔فرقان نے پوچھا۔مومنہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“تو یہ سب کچھ آپ نے مجھے پہلے ہی جب یہ بات کھلی تھی ،تب کیوں نہیں بتایا؟۔مومنہ نے پوچھا۔
“کیونکہ تم نے پوچھا ہی نہیں تھا”۔فرقان نے کہا۔
“پر پوچھا تو میں نے اب بھی نہیں تھا”۔مومنہ نے کہا۔
“ہاں! پر میں نے سوچا کہ اب تمہیں بتا دینا چاہئے”۔فرقان نے کہا۔
“اور ہاں ایک بات اب ہمیشہ یاد رکھنا”۔فرقان نے کہا۔
“کونسی بات؟۔مومنہ نے پوچھا۔
“کہ عالیہ میری زندگی کا گزرا ہوا کل “تھی”، اور تم میرا آج اور آنے والا کل “ہو”۔فرقان نے مومنہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔مومنہ نے سر فرقان کے سینے پر رکھ کر ایک سیسکاری لی۔
“ارے اب رو کیوں رہی ہو؟۔فرقان نے مومنہ کا سر سہلاتے ہوئے پوچھا۔
“آج ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے مجھ پر سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے”۔مومنہ نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا۔
“ہممم ! مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے”۔فرقان نے کہا۔
“اچھا یہ لو، تمہاری سالگرہ کا تحفہ”۔فرقان نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل کی دراز میں سے ایک سرخ رنگ کا مخملی ڈبہ نکال کر مومنہ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“یہ کیا ہے؟۔مومنہ نے ڈبہ پکڑ کر فرقان سے الگ ہوتے ہوئے پوچھا۔
“دیکھ لو خود کھول کے”۔فرقان نے کہا۔مومنہ نے ڈبہ کھولا تو اس کے اندر ایک نازک سی سونے کی چین تھی۔
“تھینک یو”۔مومنہ نے مسکرا کر کہا۔
“بس تھینک یو نہیں،اب پہنو بھی اسے”۔فرقان نے کہا۔
“آپ پہنا دیں”۔مومنہ نے ڈبہ فرقان کی جانب کرتے ہوئے کہا۔فرقان نے چین اٹھا کر مومنہ کو پہنا دی۔اور مومنہ نے اب مسکرا کر سر فرقان کے سینے پر رکھ دیا۔اور فرقان دل ہی دل میں حیدر کا شکریہ ادا کرنے لگا۔کیونکہ حیدر نے ہی مومنہ اور فرقان کے بیچ اس کھچاؤ کو محسوس کرتے ہوئے فرقان کو سمجھایا تھا کہ مومنہ کو سب کچھ صاف صاف بتا دے۔ورنہ ایسے دونوں کیلئے ہی بہت مسلہ رہے گا۔
*********
اگلے دن فیضان اپنے روم میں بیٹھا ہوا کام کر رہا تھا کہ تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔
“ٹک ٹک ٹک”۔
“یس کم ان”۔فیضان نے فائل پر کام کرتے ہوئے کہا۔حیدر اندر داخل ہوا۔
“تمہیں میرے روم میں آنے کیلئے کب سے غیروں کی طرح اجازت لینے کی ضرورت پڑگئی!۔فیضان نے ایک لمحے کیلئے نظر اٹھا کر کہا۔
“یار فیضان میں کل کیلئے تم سے معذرت کرنے آیا ہوں”۔حیدر نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“کیوں ! کل کیا ہوا تھا !۔فیضان نے ناسمجھی سے فائل پر کام کرتے ہوئے پوچھا۔
“وہ کل رات گھر واپس جاتے ہوئے گاڑی میں ،میں نے تم سے تلخ برتاؤ کیا تھا ناں ،اس کے لئے سوری”۔حیدر نے کہا۔
“ہممم! پر کیوں کیا تھا یہ بھی بتادو”۔فیضان نے حیدر کو تنگ کرنے کیلئے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“یار وہ…..!۔حیدر کی سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا وجہ بتائے۔جوش میں آکر سوری بولنے تو آگیا تھا۔پر وجہ تو سوچی ہی نہیں تھی کہ کیا بتائے گا۔
“کیا ہوا اب بتاؤ بھی”۔فیضان نے نظر اٹھا کر کہا۔
“یار کچھ خاص وجہ نہیں تھی، بس ایسے ہی کل میرا تھوڑا موڈ خراب تھا”۔حیدر نے بات بناتے ہوئے کہا۔
“اچھا ! اور وہ موڈ یقیناً مجھے اور فاریہ کو مسکرا کر باتیں کرتا ہوا دیکھ کر خراب ہوا ہوگا، ہے ناں!۔فیضان نے عام سے لہجے میں کہتے ہوئے آخر میں تائید چاہی۔
“تمہیں کیسے پتہ !۔حیدر نے حیرانگی سے پوچھا۔فیضان نے مسکرا کر معنی خیز نظروں سے حیدر کو دیکھا۔
“وہ سب چھوڑو، بس یار میرا موبائل کل سے کچھ مسلہ کررہا ہے ،تو ذرا مجھے ایک موبائل تو لا کر دے دو، ویسا ہی جیسا تم نے فاریہ کو دیا ہے”۔فیضان نے کہا۔حیدر پر تو گویا بم ہی گر گیا تھا۔
“کیا تمہیں کیسے پتہ چلا ؟۔حیدر نے حیرانگی سے پوچھا۔
“پہلے تم بتاؤ کہ یہ سب چل کیا رہا ہے؟۔فیضان نے فائل بند کرتے ہوئے کہا۔
“کچھ بھی نہیں چل رہا ہے ،تمہارا وہم ہے یہ”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا نہیں بتا رہے تو مت بتاؤ ،میں بھی نہیں بتاؤں گا کہ مجھے کیسے پتہ چلا موبائل کا”۔فیضان نے کاندھے اچکتے ہوئے کہا۔
“ارے یار جب کچھ ہے ہی نہیں تو تمہیں کیا بتاؤں ! بس وہ اس دن پارٹی میں مجھ سے ٹکرانے کی وجہ سے فاریہ کا موبائل گر کر ٹوٹ گیا تھا ،تو بس اس لئے ہی وہ نیا موبائل دیا تھا”۔حیدر نے کہا۔
“بس اور کچھ نہیں ہے؟۔فیضان نے پوچھا۔
“نہیں”۔حیدر نے کہا۔
“تو پھر فاریہ کو مجھ سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر تمہیں برا کیوں لگا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“پتہ نہیں”۔حیدر نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
“کیونکہ کہ تم اسے اپنی….اپنی…!.۔فیضان نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“اپنی کیا؟۔حیدر نے تشویش سے پوچھا۔
“کیونکہ تم اسے اپنی “بہن” کی طرح سمجھتے ہو ناں ،تو اس لئے تمہیں اچھا نہیں لگا ،اور ظاہر ہے کسی بھی بھائی کو یہ بات….!۔ابھی فیضان کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ حیدر نے میز پر پڑی ہوئی فائل اٹھا کر فیضان کو کھینچ کر مارنے لگا۔
“ابے پاگل ہوگیا ہے ! کیا کر رہا ہے ! چھوڑ”۔فیضان نے خود کو بچاتے ہوئے کہا۔کہ تب ہی فاریہ روم میں داخل ہوئی۔
“اوہ ! ایم سو سوری”۔فاریہ حیدر اور فیضان کو یوں لڑتے ہوئے دیکھ کر جھینپ گئی۔
“میں بعد میں آتی ہوں”۔فاریہ نے واپس پلٹتے ہوئے کہا۔
“ارے نہیں نہیں ! آپ آجائیں ،ہم لوگ تو بس ایسے ہی باتیں کررہے تھے”۔فیضان نے جلدی سے کہا۔
“اس طرح ؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“جی وہ ہم لوگ ایسے ہی باتیں کرتے ہیں ،آپ بتائیں آپ یہاں کیسے آئیں؟۔فیضان نے کہا۔
“دروازے سے”۔فاریہ نے کہا۔
“نہیں میرا مطلب کوئی کام تھا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“جی وہ ایک پیشنٹ کی فائل چیک کروانی تھی”۔فاریہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“جی لائیں دیں، میں چیک کرتا ہوں”۔فیضان نے کہا۔
“اچھا میں چلتا ہوں ہاں”۔حیدر نے کہا۔اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔اور فیضان فائل چیک کرنے لگا۔
******
دراصل کل جب فاریہ اور فیضان باتیں کرتے ہوئے باہر کی جانب آرہے تھے۔تو فیضان نے کوریڈور میں لگے ایک شیشے پر حیدر کو ان دونوں کو کافی ناگواری سے دیکھتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔اور وہ فون والی بات بھی فیضان کو یوں پتہ چل گئی تھی کہ ایک تو اس نے پارٹی میں فاریہ کو حیدر سے ٹکراتے ہوئے اور فون گرتے ہوئے بھی دیکھ لیا تھا۔اور دوسرا جب فاریہ نرس کے بلانے پر گفٹ باکس اور وہ پیپر جلدی میں ایسے ہی اپنی میز پر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔تو پیچھے سے فیضان اسے کوئی فائل دینے آیا تھا۔فائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے کاغذ پر لکھی تحریر اس نے پڑھ لی تھی۔اور فائل واپس لے کر مسکراتا ہوا واپس آگیا تھا۔
*****
“ہاں تو اس وقت ہماری کچھ بات ادھوری رہ گئی تھی”۔فیضان نے حیدر کے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔حیدر نے ایک نظر اٹھا کر فیضان کی جانب دیکھا۔اور پھر فائل پر جھک گیا۔
“اوہ ہو ! ہیلو مسٹر آپ سے بات کر رہا ہوں میں”۔فیضان نے کرسی کھینچ کر بیٹھ کے حیدر کے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے کہا۔
“بولو سن رہا ہوں”۔حیدر نے کہا۔
“بولنا تو آپکو ہے، وہ بھی ڈاکٹر فاریہ سے”۔فیضان نے پیپرویٹ کو گھماتے ہوئے کہا۔
“کیا بولنا ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“اچھا اب وہ بھی میں بتاؤں!۔فیضان نے معنی خیزی سے کہا۔
“یار فیضان سچی بتاؤں تو میں بہت الجھ گیا ہوں”۔حیدر نے فائل بند کرتے ہوئے کہا۔
“کس بات کو لے کر؟۔فیضان نے پوچھا۔
“یہی فاریہ والے معاملے کو لے کر ،مطلب کہ اسے ابھی ہوسپٹل جوائن کئے ہوئے ایک ماہ ہی ہونے والا ہے ،اور میری اس سے کوئی اتنی بات چیت یا دوستی بھی نہیں ہے، پر پھر بھی پتہ نہیں کیوں میرا دل و دماغ اس کی جانب کھینچتا رہتا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“آپ مریضِ عشق بن چکے ہیں ڈاکٹر صاحب، آپکو ان سے پیار ہوگیا ہے”۔فیضان نے آہستہ سے کہا۔
“پر یار ایسا کیسے ہو سکتا ہے!۔حیدر نے کہا۔
“ایسا ہو چکا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“پیار ہونے کیلئے کسی گہرے تعلق کی یا لمبی ملاقاتوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ،یہ تو بس ایک پل میں نظر سے شروع ہوتے ہی اگلے پل میں دل میں اتر جاتا ہے، اور ہم کچھ نہیں کر پاتے”۔فیضان نے کہا۔
“پر یار ایسا تو میں محسوس کررہا ہوں ناں ،فاریہ کی فیلینگس تو میں نہیں جانتا، اگر اس نے منع کردیا تو!۔حیدر نے خدشہ ظاہر کیا۔
“تو پھر وہ تمہاری قسمت”۔فیضان نے کاندھے اچکا کر کہا۔
“ٹک ٹک ٹک”۔دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس کم ان”۔حیدر نے کہا۔
“سر! آپ دونوں کو میٹنگ روم میں بلایا گیا ہے”۔وارڈ بوائے نے اندر جھانک کر کہا۔
“ٹھیک ہے ہم آتے ہیں”۔حیدر نے کہا۔اور وارڈ بوائے سر ہلا کر چلا گیا۔
“چلو چل کر دیکھتے ہیں کہ اب کونسا نیا فرمان جاری ہونے والا ہے”۔حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔فیضان بھی کھڑا ہوگیا۔اور دونوں میٹنگ روم کی جانب چلے گئے۔
*********
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آنے والے سیلاب سے جو لوگ متاثر ہوئے تھے۔اور گندی کی وجہ سے جو بیماریاں پھیل گئیں تھیں۔ان سے بچاؤ کیلئے وہاں میڈیکل کیمپ لگ رہے تھے۔اور وہاں ڈاکٹرز کی ضرورت تھی۔اس لئے یہ میٹنگ رکھی گئی تھی۔اور سارے ڈاکٹرز اس وقت میٹنگ روم میں جمع تھے۔تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد یہ میٹنگ اختتام پذیر ہوئی۔
********
“مجھے بہت افسوس ہورہا ہے کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں جا پاؤں گی”۔ڈاکٹر ناہید نے کہا۔
“کوئی بات نہیں ،ابھی آپکی حالت بھی تو ایسی ہے ناں، اور اس میں تو کافی احتیاط کرنی چاہئے ،یہ ماں اور بچے دونوں کیلئے ضروری ہے”۔مومنہ نے کہا۔
“ہممم ! بس دعا کرنا مومنہ کے اللّه اس بار میری گود بھر دے”۔ناہید نے ایک آس سے کہا۔
“آمین۔،اللّه پر بھروسہ رکھو سب ٹھیک ہوگا”۔مومنہ نے تسلی دی۔ڈاکٹر احمر اور ناہید کی شادی کے سات سال بعد بھی ان کے یہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ہر بار یا تو میسکیرج ہوجاتا یا پھر بچا پیدائش کے کچھ وقت بعد ہی انتقال کر جاتا۔احمر اور ناہید دونوں ہی اس وجہ سے پریشان رہتے تھے۔اور ابھی دوبارہ ناہید امید سے تھی۔اس وجہ سے وہ باقی ڈاکٹرز کے ساتھ نہیں جا سکتی تھی۔اور احمر بھی ناہید کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہ رہا تھا۔اس لئے ان دونوں کو چھوڑ کر ہوسپٹل سے کافی ڈاکٹرز وہاں جارہے تھے۔جن میں مومنہ ،فرقان ، فیضان ، فاریہ ، حیدر بھی شامل تھے۔اور ان لوگوں کو جانے کیلئے دو دن بعد روانہ ہونا تھا۔
*******
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *