Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 (Watching)Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04
دن آہستہ آہستہ گزرتے گئے۔خرد کو اب ہوسپٹل جوائن کیئے ہوئے دو ماہ ہوگئے تھے۔اور ان دو مہینوں میں خرد حیدر کے بہت قریب آنے کی کوشش کر رہی تھی۔جسے حیدر کے ساتھ ساتھ باقی سٹاف نے بھی محسوس کیا تھا۔حیدر تو بس اسکے ساتھ ویسے ہی پیش آتا تھا جیسے اپنے باقی ساتھ ڈاکٹرز سے پیش آتا تھا۔بس خرد ہی کچھ زیادہ اگے بڑھ رہی تھی
***********
“ہائے حیدر!۔ خرد نے حیدر کو مخاطب کیا۔حیدر اس وقت ہوسپٹل کی کینٹین میں بیٹھا فون چلاتے ہوئے کافی پی رہا تھا۔
“اوہ ! ہائے، آپ یہاں!۔حیدر نے سر اٹھا کر خرد کو دیکھ کر کہا۔
“ہاں، میں بھی لنچ کرنے ہی آئی تھی، تمہیں دیکھا تو یہاں آگئی”۔خرد نے ٹیبل کی دوسری طرف ،حیدر کے سامنے رکھی ہوئی کرسی کو کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔جب کہ حیدر نے تو اسے بیٹھنے کا کہا بھی نہیں تھا۔
“آپ کیلئے بھی لاؤں کچھ”۔حیدر نے اخلاقاً پوچھا۔
“ہاں تم جو کافی پی رہے ہو وہی لے آؤ، اور ایک چیز سینڈوچ”۔خرد نے بے تکلفی سے کہا۔حیدر کو اس قدر بے تکلفی کی امید نہیں تھی۔اس لئے وہ تھوڑا سا حیران ہوا۔پر اس نے ظاہر نہیں کیا۔اور اٹھ کر مطلوبہ چیزیں لینے چلا گیا۔
“یہ لیجئے”۔حیدر نے کافی کا مگ اور سینڈوچ خرد کے سامنے ،ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو، اچھا تو جب تمہیں کوئی خاص کام نہیں ہوتا ، تو تم میرے روم میں آجایا کرو ناں”۔خرد نے کافی کا مگ اٹھاتے ہوئے کہا۔
“جی آپکے روم !۔حیدر نے حیرانی سے پوچھا۔
“ہاں تو اس میں حیران ہونے والی کونسی بات ہے !۔خرد نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا۔
“نہیں وہ بس ایسے ہی ، مجھے اچھا نہیں لگتا”۔حیدر نے بھی کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا۔
“پر مجھے بہت اچھا لگتا ہے ، تمہارے ساتھ وقت گزارنا”۔خرد نے حیدر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔حیدر کو اس جواب کی امید نہیں تھی۔اس لئے وہ حیران ہوگیا۔
“کیا مطلب ؟۔حیدر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کہ ، دیکھو حیدر مجھے گھوما پہرا کر بات کرنی نہیں آتی ہے ، سیدھی سی بات ہے کہ ….کہ آئی لو یو”۔خرد نے کہا۔اور حیدر کا تو جیسے آج حیران ہونے کا دن تھا۔ایک کے بعد ایک خرد اسکو حیرانگی کے جھٹکے دے رہی تھی۔
“حیدر کچھ تو جواب دو”۔خرد نے حیدر کو یوں خاموش و حیران دیکھ کر کہا۔
“میں کیا کہہ سکتا ہوں! میں نے تو اس بارے میں کبھی ایسے سوچا بھی نہیں تھا، مجھے تو ……. !۔حیدر کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے۔
“تو اب سوچ لو، مجھے یقین ہے کہ ہم دونوں ایک ساتھ بہت خوش رہیں گے”۔خرد نے اپنا ہاتھ ٹیبل کے اوپر رکھےحیدر کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا۔
“دیکھئے خرد ، ہم لوگ صرف اچھے دوست ہو سکتے ہیں اور کچھ نہیں، ابھی ایک تو میں نے اس بارے میں سرے سے ہی کچھ سوچا نہیں ہے ، اور دوسرا یہ کہ اگر سوچوں گا بھی تو آپ کم از کم میری اس طرح کی سوچ کا حصہ نہیں ہوں گی”۔حیدر نے خرد کے ہاتھ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے کہا۔
“کیوں ! میں کیوں نہیں ہوں گی! کیا کمی ہے مجھ میں!۔خرد نے کچھ عجیب سے انداز میں پوچھا۔
“ارے نہیں نہیں ، آپ میں کوئی کمی تھوڑی ہے، میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا”۔حیدر نے جلدی سے وضاحت کی۔
“تو پھر کیا مطلب تھا؟۔خرد نے پوچھا۔
“میرا مطلب تھا کہ ہر انسان نے اپنے اپنے شریکِ حیات کے حوالے سے کچھ نا کچھ سوچا ہوا ہوتا ہے، تو آپ میری اس سوچ سے بہت مختلف ہیں”۔حیدر نے بتایا۔
“تو کیا سوچا ہے تم نے ! بتاؤ مجھے، میں ویسی ہی بن جاؤں گی جیسے تم چاہتے ہو”۔خرد نے جلدی سے کہا۔
“نہیں ! ایسا نہیں ہو سکتا ، ہونے میں اور بننے میں فرق ہوتا ہے، آپ جیسی ہیں ایسے ہی بہت اچھی ہیں ، آپکو مجھ سے بھی زیادہ اچھا شخص شریکِ حیات کے طور پر مل سکتا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“اگر میں اتنی ہی اچھی ہوں ،تو پھر تم سے اچھا کیوں ! تم ہی مل جاؤ مجھے”۔خرد نے کہا۔
“دیکھئے خرد ، سیدھی اور صاف سی بات ہے کہ میں نے کبھی آپکو اس نظر سے دیکھا ہی نہیں، جیسا آپ چاہتی ہیں ،اور نا ہی آپکو دیکھ کر ،یا آپ سے مل کر مجھے کوئی اس طرح کا احساس ہوتا ہے ، شاید جیسا آپکو ہوتا ہے، اور ان سب باتوں کی آخری بات یہ ہے کہ …..کہ میں آپ سے پیار نہیں کرتا”۔حیدر نے کہا۔
“کیوں نہیں کرتے؟۔خرد نے پوچھا۔
“کیوں کہ پیار کوئی کام نہیں ہے کہ جس کو کیا جائے ، یہ تو بس ایک بے اختیار جذبہ ہے، جسے نا تو کوئی زبردستی کسی سے کر سکتا ہے ،اور نہیں ہی اپنی مرضی سے ہونے سے روک سکتا ہے”۔حیدر نے کہا۔خرد نے کوئی جواب نہیں دیا۔بس نظریں جھکائے اپنی انگلیوں سے کھیلتی رہی۔
“دیکھئے خرد ، ایک دوست ہونے کے ناطے میرا آپکو مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ آپ بلاوجہ اپنے قیمتی جذبات و احساسات مجھ پر ضائع مت کریں، مجھے پورا یقین ہے کہ آپ مجھ سے بھی اچھے شریکِ حیات کی مستحق ہیں،اور وہ آپکو ضرور ملے گا”۔حیدر نے نرمی سے خرد کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
“ہممم! شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو”۔خرد نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔
“ابھی جو کچھ بھی کہا میں نے،اس کیلئے سوری”۔خرد نے شرمندگی سے کہا۔
“خیر ہے ،بس اب آج یہ بات پہلی اور آخری دفعہ تھی،ٹھیک ہے ناں !۔حیدر نے کہتے ہوئے آخر میں تائید چاہی۔خرد نے اثبات میں سر ہلایا۔
“میرا خیال ہے کہ اب ہمیں چلنا چاہئے،کافی تو ویسےبھی ٹھنڈی ہوگئی ہے”۔حیدر نے ماحول بدلنےکیلئے مسکرا کرکہا۔اور دونوں جانے کیلئے کھڑے ہوگئے۔
**************
رات کے قریب دس بج رہے تھے۔حیدر اپنے بیڈ پر لپ ٹاپ گود میں رکھ کر بیٹھا ہوا تھا۔نظریں اور ہاتھ تو اسکا لپ ٹاپ پر ہی تھا۔مگر دھیان اسکا کہیں اور ہی تھا۔وہ آج خرد سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوچ رہا تھا۔تب ہی فیضان حیدر کے کمرے میں آیا۔
“حیدر مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے”۔فیضان نے کہا۔
“ہممم! ہاں آؤ بیٹھو”۔حیدر نے اپنے خیالوں میں سے نکلتے ہوئے کہا۔
“کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رہے ہو!۔فیضان نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ خاص نہیں تم بتاؤ تمہیں کیا بات کرنی ہے”۔حیدر نے لپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے پوچھا۔
“یار آج انعم آئی تھی میرے روم میں، بہت پریشان تھی اور رو رہی تھی”۔فیضان نے بتایا۔
“کیوں خیریت؟۔حیدر نے پوچھا۔
“یار وہ کہہ رہی تھی کہ اسکی امی کی طبیعت دن با دن خراب ہوتی جا رہی ہے،اور انھوں نے ضد پکڑ لی ہے کہ بس کچھ ہی دنوں میں وہ انعم کی شادی کروا دیں گی،اب انعم کہہ رہی ہے کہ میں کیسے بھی امی ابو کو راضی کر کے اس کے گھر بھیجوں،ابو کا تو چلو اتنا مسلہ نہیں ہے،پر امی وہ تو یہ سن کر ہی آگ بگولہ ہو جائیں گی کہ میں ایک نرس سے شادی کرنا چاہتا ہوں،تو گھر جانا تو بہت دور کی بات ہے،اب تم ہی کچھ بتاؤ یار کہ میں کیا کروں!۔فیضان نے سب بتایا۔
“ہممم! یار مسلہ تو بہت سنجیدہ ہے”۔حیدر نے لپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا۔
“تم ایسا کرو تایا تائی سے بات کرو ایسے صرف سوچتے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا،اب تمہیں کوئی عملی قدم اٹھانا پڑے گا”۔حیدر نے کہا۔
“پر یار امی کبھی بھی نہیں مانیں گی”۔فیضان نے کہا۔
“یار اگر تم یہی سوچتے رہو گے تو پھر کچھ بھی نہیں ہو پائے گا، تمہیں اب ہمت کرنی ہوگی، اور تم تو بس صرف اپنی پسند سے شادی ہی کرنا چاہتے ہو، جس کا اختیار اسلام اور قانون دونوں دیتے ہیں”۔حیدر نے کہا۔
“پر پھر بھی یار اگر امی نہیں مانی تو! کیونکہ ابو کی تو وہ اس معاملے میں بالکل بھی نہیں چلنے دیں گی”۔فیضان نے کہا۔
“دیکھو فیضان اب یہ ،اگر ،مگر ،کرنے کا وقت نہیں ہے، اب جب پیار کیا ہے تو پھر اس کیلئے لڑو بھی،اگر اتنی ہی فکر تھی باقی سب کی تو یہ سب پیار کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا تمہیں”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے میں بات کروں گا امی سے،پر پھر تم بھی میرا ساتھ دینا ہاں”۔فیضان نے کہا۔
“بالکل یار تمہیں جب ،جہاں ،جیسے بھی میری ضرورت ہوگی میں تمہارے ساتھ ہی ہوں گا”۔حیدر نے کہا۔
“ٹھیک ہے تو پھر کب بات کروں میں امی سے! کل ٹھیک رہے گا!۔فیضان نے پوچھا۔
“نہیں کل کرے سو آج ، آج کرے سو ابھی”۔حیدر نے کہا۔
“کیا مطلب؟۔فیضان نے پوچھا۔
“مطلب کہ ابھی جاؤ اور تائی سے بات کرو”۔حیدر نے کہا۔
“پاگل ہوگیا ہے،ابھی بات کروں میں!۔فیضان نے حیرانگی سے کہا۔
“تو کل بھی تو کرنی ہے ناں ، تو آج ،ابھی ہی کرلو”۔حیدر نے کہا۔
“لیکن یار”۔فیضان نے کہا۔
“لیکن ویکن چھوڑو، اور کھڑے ہو”۔حیدر نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا۔
“یار ابھی سب موجود ہیں نیچے”۔فیضان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“ہاں تو اچھا ہے ناں ایک دو ووٹرز اور مل جائیں گے تمہیں”۔حیدر نے کہا۔اور فیضان کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی جانب بڑھا۔
“یار مجھے ڈر لگ رہا ہے”۔فیضان نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔
“جب پیار کیا تو ڈرنا کیا”۔حیدر نے کہا۔سب گھر والے اس وقت لاؤنچ میں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔
“تائی! فیضان کو آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے”۔حیدر نے بنا کسی تہمید کے سیدھا شہلا سے کہا۔سب گھر والے حیدر اور فیضان کی طرف متوجہ ہوگئے۔
“بولو کیا بات کرنی ہے”۔شہلا نے فیضان سے پوچھا۔فیضان کی حالت تو ایسی ہو رہی تھی کہ کاٹو تو خون نہیں۔اور زبان تالو سے چپک گئی تھی۔
“کیا ہوا کیا بات کرنی ہے بولو”۔شہلا نے فیضان کی طرف سے کوئی جواب نا پاکر دوبارہ کہا۔
“بولو ناں اب”۔حیدر نے سرگوشی کی۔
“امی وہ مجھے یہ کہنا تھا کہ….کہ….! ۔فیضان سے اور کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔
“تو بول یار”۔فیضان نے حیدر سے کہا۔
“دراصل بات یہ ہے کہ فیضان ایک لڑکی کو پسند کرتا ہے،اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“ارے واہ بھیا ! ہمیں بتایا بھی نہیں اور……!
“تو اس میں اتنی پریشانی کی کیا بات ہے!۔شہلا نے ہاتھ کے اشارے سے رمشا کو چپ کراتے ہوئے کہا۔
“پریشانی کی بات یہ ہے کہ جس لڑکی کو فیضان پسند کرتا ہے،فیضان کو خدشہ ہے کہ وہ آپکو پسند نہیں آئے گی”۔حیدر نے بتایا۔
“کون ہے وہ لڑکی؟۔شہلا نے پوچھا۔
“ہمارے ہوسپٹل کی نرس،مس انعم کیانی”۔حیدر نے بتایا۔اور شہلا پر تو جیسے گویا کوئی بم ہی گر گیا ہو۔
“فیضان ! یہ حیدر کیا کہہ رہا ہے! کیا یہ سب سچ ہے؟۔شہلا نے صوفے سے اٹھ کر غصے سے فیضان سے پوچھا۔
“جی…جی….جی امی”۔فیضان نے اٹکتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔
“تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ! جو تم ایک معمولی سی نرس کو میری بہو بنانے کا سوچ رہے ہو!۔شہلا نے غضب ناک ہوکر کہا۔
“امی وہ بہت اچھی لڑکی ہے،اور….!
“بس کچھ نہیں سننا مجھے اس کی حمایت میں”۔شہلا نے فیضان کی بات کاٹتے ہوئے غصے سے کہا۔
“پر شہلا پہلے اس کی بات تو سن لو تحمل سے”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“اماں بی! مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ میرے بچوں کیلئے کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں”۔شہلا نے کہا۔
“شہلا یہ تم کس طرح سے بات کر رہی ہوں اماں بی سے!۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“اور آپکو یہ نظر نہیں آرہا کہ اپکا بیٹا کیا بات کررہا ہے!۔شہلا نے کہا۔
“بھابھی فیضان نے کوئی ایسی غلط خواہش تو نہیں کی، وہ تو صرف اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا ہے”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“تو اسے پسند کرنے کیلئے بھی پوری دنیا میں اس معمولی سی لڑکی کے علاوہ اور کوئی نہیں ملی!۔شہلا نے کہا۔
“پہلی بات تو یہ تائی کہ پیار ہائیٹ ،ویٹ ،کلر ، سٹیٹس، ذات ،برادری دیکھ کر نہیں کیا جاتا، اور دوسری بات کہ پیار کیا نہیں جاتا، ہوجاتا ہے، اور تیسری بات کہ لڑکی کی پہچان تو ویسے بھی شادی کے بعد اسکے شوہر سے ہوتی ہے، تو پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ لڑکی کسی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک معمولی سی نرس ہو یا کسی امیر گھرانے کی بڑی سی ڈاکٹر”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا ! تو اب تم مجھے سکھاؤ گے، یہ سب کچھ یقیناً تم نے ہی سکھایا ہوگا اسے”۔شہلا نے کہا۔
“معاف کیجئے گا تائی مگر پیار کرنا سکھایا نہیں جاتا ، یہ تو خود ہو جاتا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“حیدر ! یہ کیا بدتمیزی ہے ! بڑوں سے ایسے بات کرتے ہیں!۔ہمدان صاحب نے ٹوکا۔
“پاپا میں کوئی بدتمیزی نہیں کررہا، میں تو بس تائی کو بتا رہا ہوں، کہ فیضان نے کوئی جرم نہیں کردیا ،یہ تو بس صرف اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا ہے ،اور پسند کی شادی کی اجازت تو اسلام اور قانون دونوں میں ہے”۔حیدر نے کہا۔
“تم مجھے اسلام اور قانون مت سکھاؤ، بس میں نے کہہ دیا کہ وہ معمولی سی لڑکی میری بہو نہیں بن سکتی ہے”۔شہلا نے حتمیٰ کہا۔
“ایک بات بتائیں امی کے آپکو اعترض انعم کے معمولی ہونے پر ہے یا فیضان کے خود سے کسی کو پسند کرنے میں ہے؟۔فرقان نے پوچھا۔جو اس بیچ بالکل خاموش تھا۔
“کیا مطلب ہے؟۔شہلا نے پوچھا۔
“مطلب یہ کہ اگر آپکو سچ میں صرف انعم کے سٹیٹس پر اعترض ہے ، تو پھر آپ کو عالیہ پر کیوں اعترض تھا، وہ تو ڈاکٹر بنے جارہی تھی، فمیلی بیک گراؤنڈ بھی ٹھیک تھا اسکا،تو پھر آپ نے تب بھی اعترض کیوں کیا تھا؟۔فرقان نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
“وہ لڑکی تمہارے لئے ٹھیک نہیں تھی، تم نہیں سمجھوگے”۔شہلا نے نظرے چراتے ہوئے کہا۔
“میں سب سمجھتا ہوں امی، بات دراصل یہ ہے کہ آپکو ڈر ہے کہ کہیں ہم اپنی مرضی سے شادی کرنے کے بعد آپ سے دور نا ہوجائیں، کہیں ہماری مرضی سے آنے والی ہمیں اپنی مٹھی میں نا کر لے، بچپن سے جو آپ ہم پر حکومت کرتی آرہی ہیں کہیں آپ سے وہ حکمرانی نا چھن جائے،بات صرف اور صرف یہ ہے ،اور کوئی بات نہیں ہے”۔فرقان نے کب سے اپنے اندر دبا ہوا لاوا اگل دیا۔شہلا سمیت ہر کوئی فرقان کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔کیونکہ آج تک کبھی فرقان نے شہلا سے ایسے بات نہیں کی تھی۔یہاں تک کہ جب خود فرقان نے اپنی پسند کا اظہار کیا تھا، اور شہلا نے انکار کردیا تھا۔تب بھی فرقان نے زیادہ کچھ نہیں کہا تھا۔
“دیکھ رہے ہیں آپ ! کیسے بات کر رہا ہے یہ مجھ سے”۔شہلا نے ارسلان صاحب سے کہا۔
“بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے فرقان، آخر تمہیں مسلہ ہی کیا، جب زندگی انھیں گزارنی ہے تو پسند بھی انکی ہونی چاہئے،اور واقعی فیضان نے کسی غلط خواہش کا اظہار تو نہیں کیا، پسند کی شادی حق ہے سب کا”۔ارسلان صاحب نے بھی حمایت کی۔پھر ایک ایک کر کے سب نے ہی فیضان کی حمایت میں بولنا شروع کردیا۔اور فیضان کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔کہ سب اسکے حق میں بول رہے ہیں۔حتیٰ کے ارسلان صاحب بھی۔جو کے فرقان کی باری میں بالکل چپ تھے۔
“ٹھیک ہے، تم سب سہی ہو ، بس ایک میں ہی بری ہوں ، مجھے ہی احساس نہیں ہے کسی کا، جاؤ جس کا جو دل چاہے کرو ، میں کون ہوتی ہوں کچھ کہنے والی”۔شہلا نے کہا۔
“تم غلط سمجھ رہی ہو بیٹی ، یہاں پر کسی کا بھی مقصد تمہیں غلط ثابت کرنا یا نیچا دکھانا نہیں ہے، یہ سب تو بس تمہیں سمجھ رہے ہیں”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“نہیں ابّا مجھے کسی کی بات کا اتنا برا نہیں لگا، بس آج یہ جان کر کہ میری اولاد کی نظر میں میری کوئی اہمیت نہیں ہے، مجھے دکھ ہوا”۔شہلا نے دوپٹے سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں میری بچی رو نہیں ، آرام و تحمل سے ،مل بیٹھ کر ہم اس مسلے کا حل نکالتے ہیں”۔بلقیس بیگم نے شہلا کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔فرقان اور فیضان بھی اپنی جگہ شرمندہ سے کھڑے تھے۔
“لیں بھابھی پانی پی لیں”۔ممتاز نے شہلا کی جانب گلاس بڑھاتے ہوئے کہا۔
“مجھے نہیں پینا”۔شہلا نے کہا۔
“پی لو بیٹا تھوڑا سا، لو بیٹھ جاؤ”۔بلقیس بیگم نے کہا۔تو شہلا نے صوفے پر بیٹھ کر تھوڑا سا پانی پی کر باقی واپس کردیا۔
“شہلا ، ارسلان ، فیروزہ ، ہمدان ، ممتاز ، عدنان تم لوگ ہمارے کمرے میں آؤ، اور باقی سب اپنے اپنے کمرے میں جائیں ، اب صبح ملاقات ہوگی”۔قیصر صاحب نے کہا۔اور انکے حکم کے مطابق سب نے عمل کیا۔
*********
“کب سے چل رہا ہے یہ سب؟۔فرقان نے پوچھا۔فرقان ، فیضان ، حیدر ، جاوید ، نادر، دانش اور تابش سب اس وقت فیضان کے کمرے میں موجود تھے۔
“جب سے انعم نے ہوسپٹل جوائن کیا ہے ، اس کے کچھ عرصے بعد سے”۔فیضان نے سر جھکائے ہوئے ہی جواب دیا۔فیضان اور فرقان دونوں صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔حیدر سینے پر ہاتھ باندھے ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوا تھا۔اور باقی سب فیضان کے بیڈ پر بیٹھے ہوئے تھے۔کمرے میں خاموشی چھاگئی۔
“تم نے مجھے بتانے کے بجائے حیدر کو بتانا زیادہ ضروری اور ٹھیک سمجھا!۔فرقان نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔
“فیضان نے خود سے مجھے کچھ نہیں بتایا، وہ تو اتفاقاً میں نے دونوں کی باتیں سن لیں تھیں تو مجھے پتہ چلا تھا”۔حیدر نے بتایا۔
“اور تم نے بھی مجھے یا گھر میں کسی دوسرے بڑے کو بتانا ضروری نہیں سمجھا!۔فرقان نے کہا۔
“ہاں تو اگر آپکو یا کسی اور کو بتا بھی دیتے اگر ، تو ہوتا تب بھی وہی جو ابھی ہوا ہے، اور یہ فیضان تو ابھی بھی بتانے کے حق میں نہیں تھا ، وہ تو میں زبردستی لے کر آیا تھا اس کو نیچے”۔حیدر نے بتایا۔فرقان نے فیضان کی جانب دیکھا۔جو مجرموں کی طرح سر جھکائے پیر کے انگوٹھے سے کرپٹ کھرچ رہا تھا۔
“اب تم کیا یہ مجرموں کی طرح سر جھکائے بیٹھے ہو ! کوئی جرم تھوڑی کیا ہے تم نے، اپنا حق ہی تو مانگا ہے صرف”۔حیدر نے فیضان کو کہا۔
“پر جو میں نے کیا ہے وہ کسی جرم سے کم بھی تو نہیں ہے ، میری وجہ سے امی کا دل دکھا ہے، اور ماں باپ کا دل دکھانا کتنا بڑا گناہ ہے”۔فیضان نے کہا۔
“ہاں بالکل تمہاری بات ٹھیک ہے ، پر تم نے کوئی ناجائز خواہش تو نہیں کی ہے نا یہ تو تمہارا حق ہے، تم لوگ بھی تو کچھ بولو نا چپ چاپ بیٹھے ہوئے ہو”۔حیدر نے فیضان کو بولتے ہوئے باقی سب سے کہا۔
“ہاں فیضان ،حیدر ٹھیک کہہ رہا ہے”۔سب نے یک زبان ہوکر کہا۔
“ٹھیک ہے بھائی !۔نادر نے کہہ کر پوچھا۔
“رہنے دو چپ ہی رہو تم لوگ”۔حیدر نے کہا۔
“یار مجھے نہیں چاہئے ایسی خوشی جس سے میری ماں دکھی ہو ، مجھے اب سمجھ میں آیا کہ فرقان بھائی نے اپنی باری میں اتنا احتجاج کیوں نہیں کیا تھا، کیونکہ ان سے بھی امی کو دکھی نہیں دیکھا گیا ہوگا، اور شادی تو شادی ہوتی ہے نا ،کیا فرق پڑتا ہے کہ میں اپنی مرضی سے کروں یا امی کی ! ، اور فرقان بھائی نے بھی تو آخر کار امی کی مرضی سے ہی شادی کی ہے نا ! اور وہ آج اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش ہیں ، مومنہ بھابھی بھی کتنی اچھی ہیں ، تو بس میں بھی یہی کروں گا، اب چاہے باقی سب کچھ بھی سمجھیں”۔فیضان نے کہا۔حیدر نے کچھ نہیں کہا۔فرقان تھوڑی دیر تو پہلے فیضان کو دیکھتا رہا۔پھر اسکو گلے لگا لیا۔فرقان کو اس وقت اپنے بھائی پر بہت پیار آرہا تھا۔
“مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میرا چھوٹا سا بھائی کب اتنا بڑا ہوگیا کہ اتنی سمجھداری کی باتیں کرنے لگا ہے”۔فرقان نے فیضان کو گلے لگائے ہوئے کہا۔
“بس کرو یار ایموشنل کردیا تم لوگوں نے”۔حیدر نے مصنوئی آنسوں پونچھتے ہوئے شرارت سے ماحول بدلنے کیلئے کہا۔اور سب مسکرادیے۔
***********
جاری ہے
