Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 (Watching)Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23
“اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود اپنی بہن کے قاتل کو سزا دلواؤں گی”۔فاریہ نے سب بتایا۔اور سانس لینے کیلئے رکی۔ہر طرف خاموشی چھاگئی۔بس ہواؤں اور لہروں کی آوازیں ہی آرہی تھیں۔حیدر بالکل خاموشی سے فاریہ کی باتیں سن رہا تھا۔
“تمہیں پتہ ہے کہ جب میں نے تم سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا تھا تو میں نے نہیں سوچا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے!۔فاریہ نے پھر اپنا سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔
“بس میرے ذہن پر تو انتقام سوار تھا ، زبردستی مما بابا کو یہاں کراچی آنے پر راضی کیا ، اور بہت مشکل سے اس ہوسپٹل میں جاب حاصل کی ، پھر جب پہلے دن تم سے ہوسپٹل میں ملاقات ہوئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ جس ارادے سے میں یہاں آئی ہوں اسے اپنے انجام تک پہنچانے کیلئے مجھے کافی محنت کرنی پڑے گی ، میں نے ہوسپٹل جوائن کرنے سے پہلے ہی تم پر نظر رکھنا شروع کردی تھی، جہاں جہاں ممکن تھا میں نے تمہارا پیچھا کیا پر مجھے کوئی قابلِ گرفت بات نظر نہیں آئی، اس دن ڈاکٹر خالد کریم کی پارٹی میں بھی میری نظریں تم پر ہی تھیں ، پھر اچانک سے کوئی میرے سامنے آگیا تھا اور تم میری نظروں سے اوجھل ہوگئے تھے ، تمہیں ڈھونڈتے ہوئے ہی میں تم سے ٹکرا گئی تھی، اور اس دن جو مومنہ جی مجھے تم لوگوں کے گھر لے آئیں تھیں ، جب میں نے کہا تھا کہ میرے مما بابا گھر پر نہیں ہیں اور مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے ، وہ بھی میں نے جھوٹ بولا تھا ، تا کہ تمہارے گھر آسکوں ، میں دن رات یہ سوچ سوچ کر ہی پریشان تھی کہ تمہیں سزا کیسے دوں ! پھر قدرت نے خود ہی مجھے راستہ دے دیا اور تم نے مجھے پرپوز کردیا، جب تم نے مجھے پرپوز کیا تھا اس وقت تو مجھے بہت غصہ آیا پر پھر میں نے ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرنے کا سوچا اور تم سے وقت مانگا ، اور پھر آخر میں ، میں اس نتیجے پر پہنچی کہ میں تم سے شادی کروں گی ، تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی تھی ناں تو اب میں اسی محبت کے ذریے تمہیں تڑپاؤں گی ،جیسے تم نے میری بہن کو تڑپایا تھا ، اور پھر تمہیں ہاں کردی ،اور خرد والے کیس کی فائل دوبارہ میں نے ہی کھلوائی تھی،پر اس سے مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا ، وہی ہوا جو پہلے ہوا تھا ،کچھ دن تک تفتیش کا ڈھونگ رچایا گیا ، اور پھر دولت جیت گئی اور انصاف ہار گیا اور یہ فائل پھر بند ہوگئی، پھر جب تم نے مجھے کافی شاپ پر مل کر خود اپنے اور خرد کے بارے میں بتایا تو مجھے تھوڑی حیرت ہوئی ، کیونکہ مجھے امید نہیں تھی کہ تم مجھے خود سے یہ سب کچھ بتاؤ گے، پر اس سے بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑا ، کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، پھر اس دن مال میں بھی میں شاپنگ کرنے نہیں بلکہ تمہارا پیچھا کرنے آئی تھی ،اتفاق سے اس دن میں نے مومنہ جی کو فون کیا تو مجھے پتہ چلا کہ تم لوگ شاپنگ پر جانے والے ہو اور باتوں ہی باتوں میں ، میں نے مومنہ جی سے اس مال کا نام بھی پوچھ لیا جہاں تم لوگ جانے والے تھے اور وہاں آگئی ، پر تم کسی شاپ میں چلے گئے تھے اور میری نظروں سے اوجھل ہوگئے تھے ، میں تمہیں ڈھونڈ ہی رہی تھی کہ تم خود ہی مجھ سے ٹکرا گئے، اور مجھے تم سے جھوٹ بولنا پڑا ، اور نکاح والے دن جو میری آنکھیں سوجی ہوئیں تھیں وہ سوجی تو رونے سے ہی تھیں ، پر میں اپنے گھر والوں سے دور جانے کے غم میں نہیں رو رہی تھی ، میں اس لئے پوری رات روتی رہی تھی کہ میں اپنی بہن کے قاتل سے ہی نکاح کرنے جارہی تھی ، اور تم جو مجھ سے بار بار پوچھتے رہتے تھے ناں کہ میں اس شادی سے خوش تو ہوں ! تو میں خوش نہیں ہوں ، بھلا اپنی بہن کے قاتل سے شادی کرکے بھی کوئی لڑکی خوش ہوسکتی ہے ! میرا مقصد صرف تم سے تمہارا گناہ قبول کروانا ہے ، اور تمہیں تڑپنا ہے بس”۔فاریہ نے بتایا۔اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔ایسا لگ رہا تھا جیسے حیدر کے ساتھ ساتھ باقی سب پر بھی سکتا طاری تھا۔کچھ لمحے یوں ہی خاموشی سے گزر گئے۔
“تمہارے گھر والے کیسے راضی ہوگئے اس شادی کیلئے ! کیا انھیں میرے اور خرد کے بارے میں نہیں پتہ”۔حیدر نے خاموشی کو توڑتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں ! کیونکہ میری طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ لوگ یہاں آنہیں سکے تھے ، اور جب تک وہ لوگ یہاں آئے تب تک یہ معملا ٹھنڈا پڑ چکا تھا”۔فاریہ نے بتایا۔
“ابھی جو کچھ بھی تم نے مجھے بتایا وہ تصویر کا ایک رخ تھا ، جب کے دوسرے رخ کے بارے میں ، میں تمہیں اس دن کافی شاپ پر سب بتا چکا ہوں، تو پھر اب بھی تمہارے دل میں میرے لئے بدگمانی کیوں ہے؟۔حیدر نے کہا۔
“اس دن جو تم نے مجھے بتایا تھا وہ تصویر کا دوسرا رخ نہیں بلکہ جھوٹ تھا ، بھلا آج تک کسی مجرم نے خود اپنے جرم کا اقرار کیا ہے! اور میرے دل میں تمہارے لئے بدگمانی نہیں نفرت ہے سمجھے تم”۔فاریہ نے تلخی سے کہا۔
“ابھی تم نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے ، اب یہی سب کچھ اگر جاکر میں اپنے اور تمہارے گھر والوں کو بتا دوں ، تو کیا ہوگا ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“تمہارے گھر والے یہ رشتہ ختم کردیں گے اور میرے گھر والے مجھے ڈانٹ ڈپٹ کر گھر بیٹھا لیں گے یا زیادہ سے زیادہ مجھے واپس اسلام آباد لے جائیں گے ، پر تمہیں تو میں ایسے نہیں چھوڑوں گی ، کچھ ناں کچھ تب بھی کروں گی پر تمہیں تڑپاؤں گی ضرور ، جیسے تم نے میری بہن کو تڑپایا تھا”۔فاریہ نے کہا۔
“میرا یقین کرو فاریہ میں نے خرد کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی تھی ، وہ خود ہی میرے پیچھے پڑی ہوئی تھی ، اور جب اس نے میرے سامنے اپنے جذباتوں کا اظہار کیا تو ایسا نہیں تھا کہ میں نے اسے جھٹک دیا ہو ، اس کے جذبات کا مذاق اڑایا ہو یا اسکی توہین کی ہو ، بلکہ میں نے تو خود اسے بہت آرام سے سمجھایا تھا کہ وہ اپنے قیمتی جذبات و احساسات مجھ پر ضائع مت کرے ، میں ان سب کا مستحق نہیں ہوں ، اتنے آرام سے اور واضح طور پر انکار کرنے کے باوجود وہ میرے پیچھے پڑی رہی اور ایک دن تو اس نے حد ہی کردی تھی ،ابھی تھوڑی دیر پہلے جب میں تمہارے قریب آنے کی کوشش کررہا تھا تو جبکہ میں تمہارا شوہر ہوں ، تم پر شرعی اور قانونی طور پر حق رکھتا ہوں ، اور یہاں کوئی ہے بھی نہیں ، ان سب کے باوجود تم نے میری اس حرکت پر میرا ساتھ نہیں دیا بلکہ مزاہمت کی ، تو تم خود سوچو جو حرکت وہ کررہی تھی کیا وہ ٹھیک تھی ! اور جہاں کررہی تھی اگر کوئی اور دیکھ لیتا تو کیا عزت رہ جاتی میری بس صرف وہاں میں اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پایا اور اسے تھپڑ مار دیا ، وہ بھی اس نے مجھے اتنا مجبور کیا تھا کہ میرا ہاتھ اٹھ گیا بس اس کے علاوہ تم خود پوری ایمانداری سے بتاؤ کہ میری غلطی کہاں تھی ! نا میں نے اسکو اپنے جھوٹے پیار کے جال میں پھنسایا ، نا میں نے اس سے کوئی جھوٹے محبت کے وعدے کئے ، نا میں نے اسکی عزت پر ہاتھ ڈالا تو پھر میں مجرم کیسے ہوں !۔حیدر نے دکھ سے کہا۔
“اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم اپنی ان چکنی چپڑی باتوں سے مجھے بہلا لو گے ، تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے ، میں آج تک خرد کی وہ آخری سسکیاں نہیں بھول پائی ،جو اس نے تمہارا نام لے کر لی تھیں، اور تم کہہ رہے ہو کہ تم مجرم نہیں ہو”۔فاریہ نے کہا۔
“اچھا چلو مان لیتے ہیں کہ خرد میرے انکار کی وجہ سے دلبرداشتہ تھی ، اور میری وجہ سے اسکا دل دکھا تھا تو اب اس گناہ کی تلافی کیلئے میں کیا کروں ؟۔حیدر نے پوچھا۔چند لمحوں کیلئے فاریہ سوچ میں پڑگئی۔
“جو کچھ بھی تم نے کیا ہے اسکی کوئی تلافی نہیں ہے ، تمہاری سزا یہی ہے کہ تم مرتے دم تک تڑپتے رہو ، جیسے خرد تڑپتی رہی تھی، تمہیں یاد ہے ایک دفعہ تم میرے روم میں آئے تھے اور میں نماز پڑھ رہی تھی ، تو تم نے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے بھی دعا کروں ، تو میں نے کی تھی ، پر دعا نہیں بددعا ، خرد کی موت کے بعد کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس میں ، میں نے تمہیں بددعا نہ دی ہو کہ تم مرتے دم تک تڑپتے رہو”۔فاریہ نے کہا۔
“فاریہ پلیز ایسا مت بولو ، میں سچ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ، اگر تم میرے ساتھ ایسا ہی کرتی رہی تو میں مر جاؤں گا”۔حیدر نے التجائی لہجے میں کہا۔
“تو مر جاؤ ، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم جیو یا مرو”۔فاریہ نے تلخی سے کہا۔
“فاریہ پلیز تم ہر بات کو چھوڑو اور صرف ایک لمحے کیلئے میری آنکھوں میں غور سے دیکھو اور بتاؤ کہ کیا تمہیں میری محبت جھوٹی لگتی ہے ؟۔حیدر نے فاریہ کو بازؤں سے پکڑ کر کہا۔ایک لمحے کیلئے فاریہ نے حیدر کی آنکھوں میں دیکھا۔
“چھوڑو مجھے”۔فاریہ نے حیدر کو جھٹکتے ہوئے کہا۔
“تم خود بتاؤ کہ میں تمہیں اپنی محبت کا اور اپنی بے گناہی کا یقین کیسے دلاؤں، مجھے قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضے میں ہم سب کی جان ہے ، کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا ، میں سچ میں بے قصور ہوں ، اور تم سے بہت محبت کرتا ہوں”۔حیدر نے لجاجت سے کہا۔
“نا ہی مجھے تم پر بھروسہ ہے اور نا ہی تمہاری قسم پر ، میں تمہیں سب کچھ بتانا تو نہیں چاہتی تھی پر اب جبکہ تمہیں سب پتہ چل ہی گیا ہے تو کرلو جو تم کرسکتے ہو ، پر میں اب بھی وہی کروں گی جو میں یہاں کرنے آئی تھی”۔فاریہ نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
“ٹھیک ہے ، تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے ناں تو مت کرو ، مگر میرا اللّه جانتا ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ، کون قصوروار ہے اور کون بے قصور! تمہیں جو کرنا ہے تم کرو ، میں کچھ نہیں کروں گا ، میں نے اپنا فیصلہ اللّه پر چھوڑ دیا ہے ، اب وہی انصاف کرے گا ، بےشک وہی ہے سب سے بہتر انصاف کرنے والا”۔حیدر نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے مظبوط لہجے میں کہا۔فاریہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“چلو ، تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں”۔حیدر نے کہا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے ، میں خود چلی جاؤں گی”۔فاریہ نے تلخی سے کہا۔
“میں نے تمہارے بابا سے کہا تھا کہ میں خود تمہیں واپس چھوڑ دوں گا ، وہی بات پوری کررہا ہوں بس”۔حیدر نے کہا۔اور کار کی جانب بڑھ کر کار میں بیٹھ گیا۔کچھ لمحے ویسے ہی کھڑے رہنے کے بعد فاریہ بھی خاموشی سے آکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔اور حیدر نے کار آگے بڑھا دی۔پھر پورا راستہ ایسے ہی خاموشی سے طے ہوا۔
“وہ سیدھا زہر دیتا تو نظروں میں آجاتا”
“اندازے قتل تو دیکھو”
“دوست بن کر قریب آیا”
“برباد کرنے کے اور بھی تو”
بہت سے راستے تھے”
“پر اسے صرف محبت کا”
“ہی خیال کیوں آیا”
*******
“السلام علیکم !۔فاریہ نے ہال میں بیٹھے سجاد صاحب کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔سجاد صاحب نے جواب دیا۔وہ اس وقت ہال میں بیٹھے ٹی۔وی دیکھ رہے تھے۔
“مما کہاں ہیں؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“کچن میں ہیں”۔سجاد صاحب نے بتایا۔
“فاریہ کھانا لگاؤں ! کیونکہ تمہارے انتظار میں ابھی تک تمہارے بابا نے بھی کھانا نہیں کھایا ہے؟۔فاریہ کی آواز سن کر آئمہ نے بھی ہال میں آکر پوچھا۔
“جی لگالیں”۔فاریہ نے کہا۔فاریہ کو ابھی بھوک تو نہیں تھی پر سجاد صاحب کے خاطر ہاں کردی۔
“جاؤ پھر جلدی سے فریش ہوکر کچن میں آؤ، اور میری مدد کرو”۔آئمہ نے کہا۔اور فاریہ سر ہلاتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔
***********
“تمہیں کیوں بلایا تھا فیروزہ جی نے ؟۔سجاد صاحب نے پوچھا۔وہ تینوں اس وقت کھانا کھا رہے تھے۔
“وہ کچھ سوٹ وغیرہ سلوانے تھے ناں انھیں تو بس اسی کا ناپ لینے کیلئے بلایا تھا”۔فاریہ نے جھوٹ بولا۔
“اچھا !۔سجاد صاحب نے کہا۔اور سب خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔
***********
حیدر بھی گھر آچکا تھا۔اور سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا۔فیروزہ نے آکر اس سے کھانے کا بھی پوچھا۔پر اس نے سر درد کا بہانہ بناکر منع کردیا۔کیونکہ جو کچھ بھی ابھی ہوا تھا اسکے بعد وہ تھوڑی دیر اکیلے رہنا چاہتا تھا۔حیدر اپنے بیڈ پر دونوں ہاتھوں کو سر کے نیچے رکھ کر لیٹا ہوا چھت کو تک رہا تھا۔اور آج کے بارے میں سوچ رہا تھا۔اور انہی سب سوچوں میں غرق آدھی رات گزار چکی تھی۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ فاریہ کا یہ روپ بھی ہوگا۔فاریہ کی نظر میں اسکی محبت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی۔وہ تو فاریہ کے ساتھ کتنا مخلص ہے۔اور بدلے میں اس نے بھی صرف اسکی محبت ہی تو مانگی تھی۔پھر اس نے کیوں اسکی محبت کو اتنی بے دردی سے ٹھکرا دیا!۔اچانک سے حیدر کے ذہین میں ایک جھمکا سا ہوا۔اور اسے ایک لفظ یاد آیا “مکافات عمل”۔
” یہ جو کچھ بھی میرے ساتھ ہورہا ہے ، کہیں یہ سب اُس کا نتیجہ تو نہیں ہے !۔حیدر نے سوچا۔
“نہیں ! میں نے خرد کے ساتھ کچھ برا نہیں کیا تھا ، نا ہی میں نے اسے اپنی جان دینے کا کہا تھا ، اس نے تو اپنی مرضی سے خودکشی کی ہے ، میں نے کوئی محبت کے جھوٹے وعدے کرکے تو اسے بیچ راہ میں نہیں چھوڑا تھا”۔حیدر کے دل نے تردید کی۔
“پر میں اسے اپنا بھی تو سکتا تھا ناں”۔حیدر کے دماغ نے کہا۔
“نہیں ! ایسا کرنے سے ہم دونوں میں سے کوئی بھی خوش نہیں رہ پتہ ، کیونکہ زبردستی کے رشتے زیادہ دیر تک نہیں چلتے، میں اسے کبھی بھی وہ مقام نہیں دے پتہ جس کی ایک بیوی مستحق ہوتی ہے”۔حیدر کے دل نے کہا۔وہ تو بس فاریہ سے محبت کرتا ہے۔اور بدلے میں اس سے بھی یہی چاہتا ہے۔اسے لگا تھا کہ فاریہ کی اسکی زندگی میں آنے کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا پر۔
“وہ بھی اپنے نا ہوئے”
“دل بھی گیا ہاتھوں سے”
“ایسے آنے سے تو بہتر”
“تھا نہ آنا ان کا”
دل و دماغ کے بیچ چلتی اس جنگ سے وہ پاگل ہورہا تھا۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ؟ کیسے اپنی بے گناہی ثابت کرے ؟ پھر اسکے ذہین میں ایک ہی نام آیا۔جو جانتا تھا کہ وہ بے قصور ہے ، جو اس کے سارے بگڑے ہوئے معملات سدھار سکتا تھا۔اور وہ نام تھا “اللّه”۔
*******
فاریہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوئی آسمان پر دیکھتے ہوئے آج کے بارے میں سوچ رہی تھی۔کچھ دیر بعد صبح ہونے والی تھی۔اسے امید نہیں تھی کہ حیدر کو یہ سب کچھ پتہ چل جائے گا۔پر جب اسے سب پتہ چل ہی گیا تھا تو فاریہ نے بھی پھر اور چھپانا ٹھیک نہیں سمجھا۔جب حیدر نے اس سے پوچھا تھا کہ اگر وہ اسکے اور اپنے گھر والوں کو سب بتا دیگا تو وہ کیا کرے گی ! تب ایک لمحے کیلئے وہ خود بھی حیران ہوگئی تھی۔پر اس نے حیدر پر ایسا کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا۔اور دل میں سوچا کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔پھر جب حیدر نے اسے بازؤں سے پکڑ کر اپنی آنکھوں کی جانب دیکھنے کو کہا تو پتہ نہیں کیوں پر ایک لمحے سے زیادہ فاریہ سے حیدر کی آنکھوں میں دیکھا نہیں گیا۔وہ آئی تو یہاں اس سے بدلہ لینے تھی۔پر کبھی کبھی وہ اس کے آگے بہت کمزور پڑ جاتی تھی۔
“کیا میں کچھ غلط کررہی ہوں؟۔فاریہ نے دل ہی دل میں اپنے آپ سے پوچھا۔
“تمہارے پاس کیا ثبوت ہے حیدر کے قصوروار ہونے کا؟۔فاریہ کے دل نے پوچھا۔
“اتنے سارے ثبوت تو ہیں ، خود خرد نے اپنے سو سائیڈ نوٹ پر واضح طور پر حیدر کی جانب اشارہ کیا تھا”۔فاریہ کے دماغ نے کہا۔
“تو ہوسکتا ہے کہ واقعی میں یہ تصویر کا ایک رخ ہو ، دوسرا رخ ابھی تک نظروں سے اوجھل ہو، کیا پتہ حیدر سچ میں بے قصور ہو”۔فاریہ کے دل نے حیدر کی وکالت کی۔
“تم خود بتاؤ کہ میں تمہیں اپنی محبت کا اور اپنی بے گناہی کا یقین کیسے دلاؤں، مجھے قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضے میں ہم سب کی جان ہے ، کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا ، میں سچ میں بے قصور ہوں ، اور تم سے بہت محبت کرتا ہوں”۔فاریہ کے ذہن میں حیدر کی بات گونجی۔
“اللّه ہو اکبر ، اللّه ہو اکبر”۔مسجد میں سے فجر کی اذان کی صدائیں بلند ہوئیں۔
“دیکھو اب تو خدا بھی گواہی دے رہا ہے کہ وہ جو کہہ رہا تھا سچ تھا”۔فاریہ کے دل نے پھر اس کے حق میں گواہی دی۔اور فاریہ نے تھک کر دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔
“میں کیا کروں میرے اللّه ؟ مجھے سیدھا راستہ دیکھا”۔فاریہ نے کہا۔اور پھر نماز کیلئے وضو بنانے چلی گئی۔
“مجھے مقدمہ اس کے خلاف لڑنا ہے”
“پھر کیوں دل اسکا وکیل ہوا جارہا ہے”
*******
حیدر ابھی جائے نماز پر بیٹھا ہوا اللّه سے مدد ہی مانگ رہا تھا کہ فجر کی آزان سنائی دی۔حیدر جائے نماز اٹھا کر آنکھیں صاف کرتا ہوا واشروم میں چلا گیا۔کیونکہ تھوڑی دیر میں ہی سب نماز کیلئے مسجد جانے والے تھے۔واشروم سے آکر منہ ہاتھ صاف کرکے اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی جہاں ساڑھے پانچ بج رہے تھے۔اور ایک نظر اپنے موبائل پر جو روز کے معمول کی طرح اپنے مخصوص وقت میں نہیں بجا تھا۔اور روز کے بر عکس آج خاموش پڑا تھا۔حیدر نے پھیکی سی ہنسی ہنس کر تولیہ بیڈ پر پھینکا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
*****
وضو بنا کر آنے کے بعد غیرارادی طور پر فاریہ نے اپنا موبائل اٹھا کر ایک نمبر ڈائل کرنا شروع کیا۔پر پھر اچانک سے سب کچھ یاد آنے پر رک گئی۔کچھ لمحے وہ ایسے ہی نمبر کو دیکھتی رہی اور پھر فون بیڈ پر پھینکتے ہوئے جائے نماز اٹھا کر اپنی مخصوص جگا پر بچھا کر نماز شروع کردی۔
******
جاری ہے
