Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06

“مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ تم بھی مجھ سے پیار کرتے ہو،بس اظہار نہیں کرتے”۔خرد نے کہا۔
“نہیں میں تم سے کوئی پیار ویار نہیں کرتا”۔حیدر نے کہا۔
“ایسا مت بولو حیدر ، میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں”۔خرد نے اب التجائی لہجے میں کہا۔
“تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے، کتنی بار میں تمہیں بول چکا ہوں، تم پھر گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہو،ٹھیک ہے کہ محبت کرنا یا محبت کرنے سے خود کو روکنا ہمارے بس میں نہیں ہوتا ہے،یہ ایک بے اختیار جذبہ ہے، پر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس سے آپ محبت کرتے ہوں اسے بھی زبردستی خود سے محبت کرنے پر مجبور کریں، ٹھیک ہے ہوسکتا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی ہو ، پر میں تو تم سے محبت نہیں کرتا، اور اگر تم چاہتی ہو کہ تمہارے کہنے پر میں ایسا کروں، تو پھر وہ محبت نہیں مجبوری ہوگی”۔حیدر نے پھر سمجھانے کی کوشش کی۔
“حیدر میں کچھ نہیں جانتی ،مجھے بس کسی بھی قیمت پر تم چاہیے ہو”۔خرد نے پھر حیدر کے قریب آتے ہوئے کہا۔
“خرد پاگل مت بنو، اور اگر تم نے دوبارہ ایسی کوئی بات اپنے منہ سے نکالی تو اچھا نہیں ہوگا”۔حیدر نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں تو کیا کرو گے تم ہاں! تمہیں پتہ ہے حیدر بچپن سے میرے اندر یہ عادت ہے ، کہ مجھے اگر ایک بار کوئی چیز پسند آجاۓ تو میں اسے حاصل کرکے ہی رہتی ہوں”۔خرد نے حیدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
“لیکن میں کوئی ‘ چیز ‘ نہیں ہوں سمجھی”۔حیدر نے کہا۔ “حیدر تم کیوں نہیں سمجھ رہے ہو میری بات، میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں، میں تمہارے بنا……..!
“چٹاخ”۔خرد حیدر کی شرٹ پکڑے دیوانہ وار بولے جارہی تھی۔کہ تب ہی حیدر نے ایک زور دار تھپڑ خرد کو مارا۔حیدر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا۔اور خرد کی بات ادھوری رہ گئی۔خرد گال پر ہاتھ رکھ کر پھٹی پھٹی نظروں سے حیدر کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔
“میں کب سے تمہیں زبان سے سمجھا رہا تھا پر تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا تھا، اب یہ آخری دفعہ بول رہا ہوں میں ، سمجھی اب دوبارہ ایسی حرکت مت کرنا”۔حیدر نے پھر انگلی اٹھا کر خرد کو سختی سے تنبیہہ کیا۔
“حیدر ایسا مت کرو میں مر جاؤں گی”۔خرد نے التجائی لہجے میں کہا۔
“ہاں تو مر جاؤ ، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا”۔حیدر نے غصے سے کہا۔اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔ اور خرد روتے ہوئے فرش پر بیٹھ گئی۔اور بار بار بس ایک ہی جملہ دہرانے لگی کہ
“میں مر جاؤں گی”
*******
اگلے دن سب گھر والے ناشتے کی میز پر جمع تھے۔
“نوراں ! یہ حیدر ، فیضان ، مومنہ اور فرقان کہاں ہیں ؟ اٹھے نہیں کیا ابھی تک؟۔بلقیس بیگم نے چاروں کو غیر حاضر دیکھ ملازمہ سے پوچھا۔
“بڑی بیگم صاحبہ ، وہ لوگ تو صبح صبح ہی بڑی جلدی میں ہسپتال چلے گئے ہیں، میں نے ناشتے کا پوچھا پر ان لوگوں نے منع کردیا ، بہت جلدی میں تھے وہ لوگ”۔نوراں نے بتایا۔
“اچھا ! چلو ٹھیک ہے ، تم جاؤ”۔بلقیس بیگم نے پر سوچ انداز میں کہا۔اور سب ناشتے کی جانب متوجہ ہوگئے۔
**********
جیسے ہی فرقان نے کار ہوسپٹل کی اندر داخل کی انھیں اندر کافی رش نظر آیا۔چاروں کافی تشویش میں کار سے باہر آئے۔اور کار سے باہر آتے ہی جس منظر پر حیدر کی نظر پڑی اس نے حیدر کے ہوش اڑا دیے۔باہر زمین پر کافی خون کے دھبے پڑے ہوئے تھے۔ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی ابھی یہاں سے خون صاف کیا گیا ہے۔اور ہر طرف ہلچل مچی ہوئی تھی۔
“احمر یہ سب کیا ہے؟۔فرقان نے احمر سے پوچھا۔جو ان لوگوں کی جانب ہی آرہا تھا۔
“پتہ نہیں یار ،نائٹ شفٹ والے سٹاف کا کہنا ہے کہ کل رات ہمارے جانے کے بعد اچانک سے ایک نرس چیختی ہوئی آئی،جب سب نے یہاں آکر دیکھا تو ڈاکٹر خرد کی خون میں لت پت لاش پڑی تھی”۔احمر نے بتایا۔حیدر ابھی تک سن کھڑا تھا۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہوگیا تھا۔زمین پر خرد کے خون کے دھبے پڑے ہوئے تھے۔حیدر بے دھیانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“حیدر! ۔فیضان نے حیدر کے کاندھے پر ہاتھ کر پکارا۔فرقان اور مومنہ پہلے ہی اندر جاچکے تھے۔
“اں! ہاں ! حیدر نے چونک کر پوچھا۔
“چلو اندر چل کر دیکھتے ہیں”۔فیضان نے کہا۔
“ہاں چلو”۔حیدر نے کہا۔اور دونوں اندر کی جانب بڑھ گئے۔
************
تھوڑی ہی دیر میں پولیس بھی آگئی تھی۔پولیس والے جب خرد کے روم میں تلاشی لینے کیلئے داخل ہوئے۔تو انھیں اسکی ٹیبل پر پیپر ویٹ کے نیچے ایک کاغذ رکھا ہوا نظر آیا۔انسپکٹر نے وہ کاغذ اٹھایا اور پڑھنے لگا۔پھر وہ کاغذ لے کر روم سے باہر آگیا۔باہر پہلے ہی ہوسپٹل کا سارا اسٹاف تجسس کے مارے جمع تھا۔
“آپ میں سے ڈاکٹر حیدر علی خان کون ہے؟۔انسپکٹر نے سب پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔
“جی میں ہوں، کیوں!۔حیدر نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“آپکو ہمارے ساتھ پولیس اسٹیشن چلنا ہوگا”۔انسپکٹر نے رعب سے کہا۔
“پر کیوں انسپکٹر صاحب؟۔فرقان نے پوچھا۔
“یہ تو آپکو وہاں جاکر ہی پتہ چلے گا،لے کے چلو انہیں”۔انسپکٹر نے کہتے ہوئے آخر میں حوالدار کو حیدر کو لے کر چلنے کا کہا۔
“چھوڑو مجھے، میں کہیں بھاگ نہیں رہا، چل رہا ہوں خود، ہاتھ ہٹاؤ”۔حیدر نے حوالداروں کے پکڑنے پر کہا۔انسپکٹر نے حوالداروں کو اشارہ کیا کہ “رہنے دو”۔پھر وہ لوگ حیدر کو لے کر باہر کی جانب بڑھے۔احمر اور فرقان بھی ان کے پیچھے گئے۔اور فیضان ہمدان صاحب کو فون کرنے لگا۔
*************
فیضان نے جیسے ہی ہمدان صاحب کو فون کیا۔ہمدان صاحب فوراً آفس سے پولیس اسٹیشن کیلئے نکلے۔ہمدان صاحب کے ساتھ ارسلان صاحب اور عدنان صاحب بھی تھے۔
“کیا ہوا ؟ اور حیدر کہاں ہے؟۔ہمدان صاحب نے فیضان سے پوچھا۔جو کہ ان کے ہی انتظار میں پولیس اسٹیشن کے باہر ٹہل رہا تھا۔
“حیدر کو اِن لوگوں نے لاک اپ میں ڈال دیا ہے چاچو”۔فیضان نے سب کے ساتھ پولیس اسٹیشن میں داخل ہوتے ہوئے بتایا۔وہ لوگ ایس۔ایچ۔او کے کمرے میں داخل ہوئے۔وہاں احمر اور فرقان پہلے ہی اس سے ضد بحث میں لگے ہوئے تھے۔
“اچھا ہوا انکل آپ لوگ آگئے”۔احمر نے ان لوگوں کو دیکھ کر کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔فرقان بھی کھڑا ہوگیا تھا۔
“کیا بات ہے ایس۔ایچ۔او صاحب ! آپ نے کیوں بلاوجہ میرے بیٹے کو گرفتار کیا ہوا ہے؟۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“اچھا تو آپ ہیں مجرم کے والد”۔ایس۔ایچ۔او نے ہمدان صاحب کو اوپر سے نیچے تک گھورتے ہوئے کہا۔
“یہ کیا بکواس ہے ! میرا بیٹا کوئی مجرم نہیں ہے، اور آپکے پاس میرے بیٹے کو گرفتار کرنے کیلئے اریسٹ وارنٹ ہے!”۔ہمدان صاحب نے غصے سے کہا۔
“آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں”۔ایس۔ایچ۔او نے کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ارسلان صاحب اور ہمدان صاحب دونوں بیٹھ گئے۔
“ہاں تو کیا کہہ رہے تھے آپ ! کہ اپکا بیٹا مجرم نہیں ہے، دیکھئے جناب ،یہ تو آپکو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ آج ایک لڑکی نے چھت سے خود کر خودکشی کرلی ہے ، اور رہی بات اریسٹ وارنٹ کی تو اسکی جگہ اس سوسائیڈ نوٹ نے پوری کردی ہے۔اس پر مقتولہ نے صاف صاف لکھا ہے کہ وہ آپکے بیٹے کی وجہ سے خودکشی کررہی ہے، یہ دیکھیں، آپ خود پڑھ لیں”۔ایس۔ایچ۔او نے کہتے ہوئے آخر میں ایک کاغذ ہمدان صاحب کی جانب بڑھایا۔ہمدان صاحب نے وہ کاغذ لے کر پڑھا۔
“پڑھ لیا ! اب میں آپ سب کو سناتا ہوں”۔ایس۔ایچ۔او نے ہمدان صاحب کے ہاتھ سے کاغذ واپسی لیتے ہوئے کہا۔اور پھر باآواز بلند سب کو پڑھ کر سنانا شروع کیا
“اس میں لکھا ہے کہ
“حیدر ! تم نے میری محبت کی قدر نہیں کی،تم نے میرے جذباتوں کی توہین کی ہے،میں نے کتنے خلوص و محبت سے تمہارا ساتھ مانگا تھا،پر تم نے میرے خلوص کو ٹھکرا دیا، میرے احساسات کو ٹھیس پہنچائی ہے، میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی، ڈاکٹر حیدر علی خان تم ہی ڈاکٹر خرد عثمان کی موت کے زمیدار ہو، میری موت کی وجہ تم ہو”
“خرد عثمان”
“اب آپ لوگ خود بتائیں کہ ان کا بیٹا سچ میں مجرم ہے یا نہیں!۔ انسپکٹر نے نوٹ پڑھ کر سنانے کے بعد پوچھا۔
“اور مقتولہ نے یہاں واضح طور پر آپکے بیٹے کا نام بھی لکھا ہے، اور ہوسپٹل کے لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد بھی ہمیں یہی پتہ چلا ہے کہ مقتولہ شاید آپکے بیٹے کو پسند کرنے لگیں تھیں ، پر آپکے بیٹے کی جانب سے انکے احساسات کو وہ خاص پذیرائی حاصل نہیں تھی جو کے وہ چاہتی تھیں، اور ان کے اس ہی رویے سے دل برداشتہ ہوکر انھوں نے یہ قدم اٹھایا”۔ایس۔ایچ۔او نے کہا۔
“ٹھیک ہے اگر اس لڑکی نے ایسا کیا بھی ہے تو میرے بیٹے نے تو اسے نہیں مارا ناں ، اور نہ ہی وہ لڑکی میرے بیٹے کے کہنے پر مری ہے ، تو پھر میرے بیٹے کو کیوں بے بنیاد حوالات میں بند کیا ہوا ہے؟۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“دیکھئے ، کیا نام ہے ویسے آپکا؟۔ ایس۔ایچ۔او نے ہمدان صاحب سے پوچھا۔
“ہمدان علی خان”۔ہمدان صاحب نے بتایا۔
“ہاں تو ہمدان صاحب نہ ہی آپکے بیٹے نے اس لڑکی کو مارا ہے ، اور نہ ہی مرنے کا کہا ہے ، لیکن اس لڑکی کی موت کی وجہ تو آپکا بیٹا ہی ہے”۔ایس۔ایچ۔او نے کہا۔پھر کافی دیر ایس۔ایچ۔او کی اور باقی سب کی بحث چلتی رہی۔پھر عدنان صاحب نے ایک وکیل کو فون کیا۔پھر وہ آیا۔کافی دیر تک مذکرات ہوتے رہے۔اس سب معاملے میں شام کے چھے بج گئے۔گھر سے بھی بار بار فون آرہے تھے۔کیونکہ مومنہ نے سب کو بتا دیا تھا۔اس سارے معاملے کے بارے میں۔اس لئے گھر میں سب بہت پریشان تھے۔ اور خاص طور پر فیروزہ۔پھر آخر کار رات کے قریب گیارہ بجے بہت جدو جہد کے بعد حیدر کی ضمانت ہوگئی۔اور گھر آتے آتے ان لوگوں کو بارہ بج گئے تھے۔
*************
رمشا اور عائشہ نے ہال میں آکر سب کو بتایا کہ وہ لوگ آگئے ہیں۔
“یااللّه پاک تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے”۔فیروزہ نے بے ساختہ کہا۔اور جلدی سے اٹھ کر دروازے کی جانب آئیں۔باقی سب بھی انکے پیچھے ہی آئے۔
“کتنی پریشان ہوگئی تھی میں تمہارے لئے”۔جیسے ہی حیدر اندر آیا۔فیروزہ نے حیدر کو سینے سے لگانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
“ارے بھئی ہم لوگوں کو اندر تو آنے دو پہلے”۔ہمدان صاحب نے کہا۔سب لوگ ہال میں آگئے۔
“کیا ہوگیا تھا ! کیوں ان لوگوں نے میرے بچے کو گرفتار کرلیا تھا !۔فیروزہ نے حیدر کے برابر میں ہی صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“بھابھی دراصل جس لڑکی نے آج خودکشی کی ہے ، اس نے اپنے سوسائیڈ نوٹ پر حیدر کی جانب اشارہ کیا تھا”۔عدنان نے بتایا۔پھر عدنان نے ساری تفصیل بتائی۔
“تو پھر اب وہ لوگ حیدر کو دوبارہ گرفتار تو نہیں کریں گے ناں ! ۔بلقیس بیگم نے پوچھا۔
“نہیں گرفتار تو نہیں کریں گے ، پر یہ کیس چلتا رہے گا”۔عدنان نے بتایا۔
“حیدر کیا یہ سچ ہے؟۔فیروزہ نے پوچھا۔
“کیا ممی؟ ۔حیدر نے پوچھا۔
“یہی کہ کیا واقعی میں تمہارے اور اس لڑکی کے بیچ کچھ چل رہا تھا!۔فیروزہ نے پوچھا۔
“نہیں ممی ، وہ خود ہی میرے پیچھے پڑی رہتی تھی ، آپ فرقان بھائی ، مومنہ بھابھی اور فیضان سے پوچھ لیں”۔حیدر نے کہا۔
“جی چچی ،حیدر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے، وہ خرد خود ہی حیدر کی جان کے پیچھے پڑی تھی”۔فرقان نے بتایا۔
“ہاں اور وہ مجھ سے بھی ہر وقت حیدر کے متعلق جاننے کی کوشش کرتی رہتی تھی”۔مومنہ نے کہا۔
“تو حیدر تمہاری خرد سے کوئی بات ہوئی تھی کیا اس متعلق؟ ۔شہلا نے پوچھا۔
“جی کل رات کو ہی میری اُس سے اسی بات پر ضد بحث ہوئی تھی، وہ زبردستی میرے پیچھے پڑی ہوئی تھی ، اور الٹی سیدھی حرکتیں کررہی تھی، تو میں نے غصے میں آکے اسے……!۔حیدر نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔
“غصے میں آکے کیا ؟۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔
“تو میں نے غصے میں آکے اسے تھپڑ مار دیا تھا”۔حیدر نے آہستہ سے کہا۔
“کیا ! تمہارا دماغ خراب ہے ! تھپڑ مارنے کی کیا ضرورت تھی اسے ! ہمدان صاحب نے کہا۔
“ہاں تو پاپا وہ حرکتیں اور باتیں ایسی کررہی تھی، کہ مجھے غصہ آگیا”۔حیدر نے کہا۔
“تو اگر حیدر نے ایسا کیا بھی تھا تو اس میں خودکشی کرنے والی کونسی بات تھی ! حیدر نے تو اسکو نہیں بولا تھا ناں کے مر جاؤ”۔فیروزہ نے کہا۔
“دیکھو حیدر سچ سچ بتاؤ ، کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ تم نے اس لڑکی کے ساتھ کوئی ایسی ویسی حرکت کی ہو ، کہ جس کی وجہ سے اسے خودکشی کرنی پڑی!۔رفعت نے کھوجتی ہوئی نظروں سے پوچھا۔
“خدا کی قسم میں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی ،آپ لوگ میرا یقین کریں یہ جو کچھ بھی ہوا ہے ،یہ سب تو خود میری بھی سمجھ سے باہر ہے ، میں نے تو اسے بس انکار کیا تھا کہ جیسا وہ چاہتی ہے ویسے نہیں ہو سکتا ، وہ مجھ سے پیار کرتی بھی ہے تو میں اس سے پیار نہیں کرسکتا ، بس “۔حیدر نے اس طرح کے الزام پر تڑپ کے وضاحت کی۔حیدر کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں تھیں۔
“بیٹا ہمیں یقین ہے کہ تم نے ایسی کوئی غیراخلاقی حرکت نہیں کی ہوگی، ہمیں اپنے بچے پر پورا بھروسہ ہے”۔قیصر صاحب نے حیدر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
“اچھا چلو اب بس ، ختم کرو اس موضوع کو، جاؤ فیروزہ حیدر کو اور باقی سب کو بھی کھانا وغیرہ دو ، صبح سے سب ایسے ہی گھوم رہے ہیں”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“نہیں دادی مجھے نہیں کھانا”۔حیدر نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا۔
“ایسے کیسے نہیں کھانا ، فیروزہ تم لگاؤ کھائے گا یہ”۔قیصر صاحب نے حیدر کا سر تھپتھپاتے ہوئے کہا۔فیروزہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔شہلا اور ممتاز بھی فیروزہ کے ساتھ کچن میں آگئیں۔باقی سب مرد جو صبح سے ان سب میں لگے ہوئے تھے فریش ہونے چلے گئے۔حیدر بھی اپنے کمرے میں فریش ہونے آگیا۔پھر حیدر نے جیسے تیسے تھوڑا بہت کھانا کھایا اور اپنے کمرے میں آگیا۔
************
صبح کسی نے بھی حیدر کو آکر نہیں جگایا تھا۔جب حیدر کی آنکھ کھلی تو گیارہ بج رہے تھے۔حیدر فریش ہوکر نیچ آگیا۔نیچے تقریباً سب لوگ ہی ہال میں جمع تھے۔
“السلام علیکم !۔ حیدر نے سب کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام! نیند پوری ہوگئی بیٹے کی!۔بلقیس بیگم نے پیار سے پوچھا۔
“جی دادی ، پر آپ لوگوں نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں؟۔حیدر نے صوفے پر بیٹھی فیروزہ کے پیروں کے پاس کارپٹ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“بیٹا ہم نے سوچا کے کل کی وجہ سے شاید تمہیں دیر سے نیند آئی ہو ، تو اٹھانا ٹھیک نہیں سمجھا”۔فیروزہ نے حیدر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
“آپ لوگ بھی آج ہوسپٹل نہیں گئے؟۔حیدر نے مومنہ فرقان اور فیضان کو بھی اس وقت ہال میں موجود دیکھ کر پوچھا۔
“نہیں کل والے واقعے کے بعد ابھی تو بالکل بھی دل نہیں چاہ رہا ہے جانے کو”۔فرقان نے بتایا۔
“ابو ! ابو یہ دیکھیں”۔اچانک نادر بوکھلایا ہوا ہال میں آیا۔
“کیا ہوگیا ہے؟۔عدنان صاحب نے پوچھا۔
“ابو یہ پڑھیں”۔نادر نے عدنان صاحب کی جانب اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا اخبار بڑھایا۔عدنان صاحب نے جب پڑھا تو ان کے چہرے کا بھی رنگ بدل گیا۔
“کیا ہوا عدنان ؟ کیا ہے یہ! ۔قیصر صاحب نے پوچھا۔باقی سب کو بھی تشویش ہورہی تھی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *