Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 (Watching)Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08
فاریہ اس وقت ہوسپٹل کے راؤنڈ پر نکلی ہوئی تھی۔اور جرنل وارد سے باہر آرہی تھی۔کہ تبھی فیضان مل گیا۔
“اوہ ! گڈ ایوننگ ڈاکٹر فیضان”۔فاریہ نے مسکرا کر کہا۔
“گڈ ایوننگ، آپ یہاں ؟۔فیضان نے بھی جواب میں مسکرا کے کہا۔
“جی وہ راؤنڈ پر آئی ہوئی تھی”۔فاریہ نے بتایا۔
“اچھا ! تو پھر کیسا رہا ابھی تک اپکا پہلا دن؟۔فیضان نے پوچھا۔دونوں ساتھ ساتھ ہی چل رہے تھے۔
“جی ابھی تک تو سہی ہی ہے، ہاں بس ابھی تھوڑی دیر پہلے کچھ عجیب سے پیشنٹ آئے تھے”۔فاریہ نے بتایا۔
“ہممم ! ابھی تو یہ شروعات ہے، ابھی دیکھئے گا کہ اگے آپکا واسطہ کیسے کیسے پیشنٹس سے پڑے گا”۔فیضان نے کہا۔
“کیا مطلب ڈرا رہے ہیں آپ مجھے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“ارے نہیں نہیں، میں تو بس بتا رہا ہوں کہ ایک ڈاکٹر کا دن بھر طرح طرح کے پیشنٹس سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، اور ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے آپکو بھی یہ سب فیس کرنا پڑے گا”۔فیضان نے وضاحت کی۔
“ہممم ! یہ تو خیر ہے”۔فاریہ نے کہا۔
“اچھا میرا روم آگیا ہے، اب میں چلتا ہوں”۔فیضان نے کہا۔
“روم تو یہاں تھا ، ہم آگئے ہیں”۔فاریہ نے مسکرا کر کہا۔
“ہاں وہی، اچھا اگر آپکو کسی بھی قسم کی کوئی ہیلپ چاہیے ہو تو آپ بلا جھجھک ہم میں سے کسی سے بھی کہہ سکتی ہیں”۔فیضان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“جی ضرور”۔فاریہ نے بھی مسکرا کر کہا۔اور آگے بڑھ گئی۔اور فیضان اپنے روم میں چلا گیا۔
*******
“کیا ہوگیا بیٹی ! ایسی گم صم سی کیوں بیٹھی ہو؟۔بلقیس بیگم نے پوچھا۔فیروزہ اس وقت ہال میں صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔پر دھیان اسکا کہیں اور تھا۔بلقیس بیگم بھی وہیں صوفے پر بیٹھ گئیں۔
“کچھ نہیں اماں کیا ہونا ہے”۔فیروزہ نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔
“حیدر کی وجہ سے فکرمند ہو ناں!۔بلقیس بیگم نے پوچھا۔فیروزہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“فکر نہ کرو اللّه پاک پر بھروسہ رکھو ،وہ سب اچھا کرے گا،دیکھنا ہمارے حیدر کو کتنی اچھی بیوی ملے گی”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“پتہ ہے اماں مجھے حیدر کے اس بدلے ہوئے رویے کا بہت دکھ ہے”۔فیروزہ نے کہا۔
“کیا مطلب ؟۔بلقیس بیگم نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کہ حیدر اب وہ پہلے والا حیدر نہیں رہا، شوخ ،شرارتی ، زندہ دل ، اب ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ ہم سب سے کٹ کے اپنے خول میں بند ہوکر رہ گیا ہے، خود اپنی ہی شادی کی بات میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے، بس جب بھی بات کرو تو کہتا ہے کہ “جو آپکی مرضی” اب شادی اسکو کرنی ہے زندگی اسکو گزارنی ہے ، میں کیسے خود سے ہی سارے فیصلے لے لوں، میں تو بس اس انتظار میں ہوں کہ بس کسی دن حیدر خوشی خوشی میرے پاس آئے،اور بولے کہ “ممی ! میں نے آپ کیلئے بہو ڈھونڈ لی ہے،بس اب آپ جلدی سے میرے لئے ان کے گھر جائیں”، قسم سے اماں مجھے بہت خوشی ہوگی اس لمحے”۔فیروزہ نے کہا۔
“ہممم! کہتی تو تم ٹھیک ہو، بس بیٹا دعا کرو ، باقی میں بھی حیدر کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں”۔بلقیس بیگم نے کہا۔اور ہال میں داخل ہوا فیضان جو کہ ابھی باہر سے آیا تھا۔کیونکہ بلقیس بیگم اور فیروزہ کی پشست اسکی جانب تھی اس لئے انھوں نے اسے دیکھا نہیں۔یہ سوچ کر پھیکے پن سے مسکرا دیا کہ مائیں بھی کیسی کیسی ہوتی ہیں۔فیضان کو اس وقت حیدر پر بہت رشک آرہا تھا۔
“السلام و علیکم ! فیضان نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ! بیٹا یہ تم آج کل ان تینوں کے بعد گھر کیوں آتے ہو؟ ساتھ کیوں نہیں آتے؟۔بلقیس بیگم نے جواب دیتے ہوئے پوچھا۔
“بس دادی کام سے چلا گیا تھا”۔فیضان نے کہا۔
“بس ذرا کم کردو یہ کام، حالت دیکھی ہے کیا ہوگئی ہے”۔بلقیس بیگم نے کہا۔فیضان نے کچھ نہیں کہا۔بس ہلکا سا مسکرا دیا۔
“کھانا کھاؤ گے بیٹا ! لگاؤں!۔فیروزہ نے پوچھا۔
“نہیں چچی شکریہ، وہ باہر ہی دوست کے ساتھ کھالیا تھا”۔فیضان نے کہا۔اور اوپر اپنے کمرے کی جانب چلا گیا۔فیروزہ اور بلقیس ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔
“اس بیچارے کی بھی زندگی کو کیا کردیا ہے شہلا نے اپنی ضد میں آکے”بلقیس بیگم نے افسوس سے کہا۔
******
فاریہ کو ہوسپٹل جوائن کئے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا۔اس دوران ہوسپٹل کے اسٹاف سے فاریہ کی اچھی خاصی جان پہچان ہوچکی تھی۔سوائے حیدر کے۔کیونکہ ایک تو وہ خود بھی سب سے الگ الگ ہی رہتا تھا۔اور دوسرا فاریہ نے بھی کبھی کوئی ایسی کوشش نہیں کی تھی۔بلکہ فاریہ کو اگر حیدر سے کوئی کام پڑ بھی جاتا تو وہ فیضان یا مومنہ کے زریعے پوچھتی تھی۔
*******
حیدر اس وقت فیروزہ کے بہت زیادہ اصرار پر اپنے لئے کچھ شاپنگ کرنے آیا ہوا تھا۔کیونکہ رات میں ان لوگوں کو ایک پارٹی میں جانا تھا۔حیدر اس وقت ایک شاپ پر کھڑا اپنے لئے کچھ شرٹیں دیکھ رہا تھا۔کہ تب ہی حیدر کو محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔حیدر نے فوراً آس پاس کا جائزہ لیا۔پر کوئی قابلِ گرفت بات نظر نہیں آئی۔حیدر نے اسے اپنا وہم سمجھ کر نظر انداز کردیا۔حیدر نے اپنے لئے ایک پینٹ شرٹ اور جیکٹ لی۔اور شاپ سے باہر آگیا۔پھر حیدر نے سوچا کہ اب جب شاپنگ کرنے آیا ہی ہے تو فیروزہ اور ہمدان صاحب کیلئے بھی کچھ لے لے۔پھر حیدر نے ہمدان صاحب کیلئے ایک گھڑی لی۔اور فیروزہ کیلئے ایک نازک سا موتیوں کا ہار۔اور اس بیچ بھی مسلسل حیدر کو ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی اسکا پیچھا کررہا ہے۔پر سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کون؟
*******
آج ڈاکٹر خالد کریم نے ایک نیا ہوٹل خریدنے کی خوشی میں ایک شاندار پارٹی رکھی تھی۔اور انھوں نے اس پارٹی میں نا صرف ہوسپٹل کے سارے اسٹاف کو بلکہ “علی ولا” کے بھی تمام لوگوں کو مدعو کیا تھا۔
ڈاکٹر خالد کریم اس ہوسپٹل کے کافی پرانے اور سنیئر ڈاکٹر تھے۔اور انہوں نے ابھی ہی یہ نیا ہوٹل خریدا تھا۔اور اسی خوشی میں یہ پارٹی تھی۔
“واہ کیا ہوٹل ہے ، بالکل محل لگ رہا ہے”۔فائزہ نے ہوٹل کا جائزہ لیتے ہوئے ستائیشی لہجے میں کہا۔
“ہممم ! پر ایک بات میری سمجھ نہیں آتی کہ اتنا بڑا ہوٹل انہوں نے کیسے خرید لیا! حالانکہ ڈاکٹر تو مومنہ، فرقان ،فیضان اور حیدر بھی ہیں! ان لوگوں نے تو کبھی کوئی ایسا ہوٹل نہیں خریدا !۔رفعت نے تشویش سے کہا۔
“پھوپھو ڈاکٹر خالد اس ہوسپٹل کے بہت پرانے اور سینئر ڈاکٹر ہیں، اتنے سالوں سے کام کر رہے ہیں تو کچھ نہ کچھ تو جمع کیا ہوگا ناں”۔فرقان نے کہا۔
“ہاں پر پھر بھی”۔رفعت نے کہا۔
“چھوڑیں ناں مام ہمیں کیا ، آپ پارٹی انجوئے کریں”۔عصمت نے کہا۔
“اے تابش تم اپنا کیمرہ لائے ہو ناں!۔عصمت نے پوچھا۔
“جی باجی لایا ہوں”۔تابش نے جان بوجھ کر عصمت کو باجی کہا۔کیونکہ وہ اس بات سے بہت چڑتی تھی۔
“بھئ مام دیکھیں ناں اسے، اسکو بولیں کہ یہ مجھے باجی نہ بولا کرے”۔عصمت نے کہا۔
“ارے تو آپ مجھ سے بڑی ہیں ناں دو سال”۔تابش نے کہا۔
“دو سال بڑی ہوں ، دو سو سال نہیں، خبردار جو اب دوبارہ بولا تو”۔عصمت نے طیش میں کہا۔
“اچھا اب بس کرو دونوں ،اپنے گھر میں نہیں ہیں ہم کہیں آئے ہوئے ہیں ،اسی بات کا ہی لہٰذ کرلو”۔رفعت نے دونوں کو ڈانٹا۔
“چل تابش کچھ تصویریں لیتے ہیں”۔نادر نے کہا۔
“ہاں رکو ہم لوگ بھی آتے ہیں”۔عائشہ نے کہا۔
“ارے بری بات ہے ،ابھی رکو پہلے میزبان سے تو مل لو ،پھر کھنچواتے رہنا تصویریں”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“ارے چھوڑیں بیگم، بچے بھلا کیا ملیں گے ! ہم بڑے تو ہیں ناں ،جاؤ بچوں تم لوگ انجوئے کرو”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“تھینک یو دادا جی”۔سب نے خوش ہوکر یک زبان کہا۔اور پھر عائشہ ،رمشا ،عصمت، نادر اور تابش تصویریں وغیرہ کھچوانے میں لگ گئے۔
السلام و علیکم! ڈاکٹر خالد اور انکی وائف ڈاکٹر ثمینہ نے ان لوگوں کے قریب آکر سلام کیا۔
“وعلیکم و السلام ! بہت مبارک ہو نیا ہوٹل”۔قیصر صاحب نے کہا۔
“بہت شکریہ قیصر صاحب”۔ڈاکٹر خالد نے کہا
“ماشاءاللّه بہت اچھا ہوٹل ہے”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“بہت شکریہ! بس سب کچھ اپنے بچوں کیلئے کر رہے ہیں”۔ثمینہ نے کہا۔
“کتنے بچے ہیں آپکے؟۔رفعت نے پوچھا۔
“دو بیٹے ہیں، بڑا بیٹا شیراز ہے، جس نے ابھی حال ہی میں اپنی میڈیکل کی پڑھائی پوری کی ہے، اور چھوٹا بیٹا فراز ہے ،جو کہ ابھی پڑھ رہا ہے، ابھی یہاں کہیں دوستوں کے ساتھ ہوں گے اپنے وہ دونوں”۔ ڈاکٹر خالد نے بتایا۔
“اچھا ! چلیں اللّه پاک آپکو انکی خوشیاں دیکھنا نصیب کرے”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“امین”۔ثمینہ نے کہا۔
“السلام و علیکم! فاریہ نے قریب آکر سلام کیا۔سب فاریہ کی جانب متوجہ ہوگئے۔
“وعلیکم السلام!۔ثمینہ نے کہا۔
“نیا ہوٹل بہت بہت مبارک ہو میم”۔فاریہ نے ہاتھ میں پکڑا رنگ برنگی پھولوں کا گلدستہ ثمینہ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“بہت بہت شکریہ”۔ثمینہ نے گلدستہ لیتے ہوئے کہا۔
“السلام و علیکم مومنہ جی”۔فاریہ نے مومنہ کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
“وعلیکم السلام، دادا جی دادی جی یہ ہیں وہ نئی ڈاکٹر فاریہ خان”۔مومنہ نے تعارف کرایا۔پھر تھوڑی دیر تک وہ لوگ باتیں کرتے رہے۔پھر ڈاکٹر خالد اور ڈاکٹر ثمینہ باقی مہمانوں کو دیکھنے لگے۔اور بڑے بزرگ سارے ایک طرف جمع ہوگئے۔اور باقی لوگ بھی ادھر اُدھر انجونے کرنے لگے۔حیدر اور فیضان ہاتھ میں کولڈ ڈرنک پکڑے ایک پرسکون کونے میں بنی ایک بڑی سی کھڑکی کے پاس کھڑے ہوگئے۔
“یار ویسے یہ ڈاکٹر خالد کی اچانک ہوٹل خریدنے کی تُک سمجھ نہیں آئی”۔فیضان نے سپ لے کر کہا۔
“ہممم ! پر ہمیں اس سے کیا ! انکی مرضی ، انکے پیسے ، وہ کچھ بھی کریں”۔حیدر نے بھی سپ لے کر کہا۔اور کھڑکی کی جانب گھوم کے اس پار دیکھنے لگا۔
“ہممم! اچھا ویسے ڈاکٹر فاریہ کے بارے میں کیا رائے ہے تمہاری؟۔فیضان نے پوچھا۔
“کیا مطلب ؟۔حیدر نے ناسمجھی سے فیضان کی جانب گردن موڑ کر پوچھا۔
“مطلب کہ میری نظر میں تو اچھی رائے ہے، اچھی ڈاکٹر ہے ،اپنے کام سے کام رکھتی ہے ، اور…….!۔”فیضان نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔
“اور کیا ؟ حیدر نے پوچھا۔
“اور تم سے ڈرتی بھی ہے”۔فیضان نے مسکرا کر کہا۔اور ڈرنک کا سپ لینے لگا۔
“کیا مطلب ڈرتی ہے؟۔حیدر نے پوری طرح فیضان کی جانب متوجہ ہوکر ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کہ اسکا خیال ہے کہ تم بہت غصے والے ہو ، لیڈیز سے ٹھیک سے بات نہیں کرتے ہو، بلکہ اگر اسے کبھی تم سے کوئی کام بھی پڑ جاتا ہے تو وہ مجھ سے یا مومنہ بھابھی سے کہتی ہے”۔فیضان نے بتایا۔
“اچھا تمہیں یہ سب کس نے بتایا ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“مومنہ بھابھی نے بھی ، اور میں نے خود بھی نوٹ کیا ہے”۔فیضان نے بتایا۔
“خوش اخلاقی سے پیش آنے کا نتیجہ دیکھا تھا ناں تم نے ایک سال پہلے!۔حیدر نے پھر کھڑکی کے اس پار دیکھتے ہوئے کہا۔
“یار اب ضروری تو نہیں ہے ناں کہ ہر لڑکی خرد ہی ہو، تمہیں پتہ ہے کہ تمہارے اس رویے کی وجہ سے فیروزہ چچی کتنی پریشان رہتی ہیں”۔فیضان نے کہا۔حیدر نے کوئی جواب نہیں دیا۔اور کولڈ ڈرنک پیتے ہوئے کھڑکی کے اس پار ہی دیکھتا رہا۔
“تمہیں پتہ ہے کبھی کبھی ناں مجھے تم پر بہت رشک آتا ہے”۔فیضان نے حیدر کو دیکھتے ہوئے کہا۔حیدر غور سے فیضان کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
“کیا ہوگیا ! ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟۔فیضان نے پوچھا۔
“مزہ آرہا ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“کیا مطلب کس چیز کا؟۔فیضان نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“میرے نظریں ملانے پر تمہیں مزہ آرہا ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“نہیں ! یہ کیا باتیں کر رہے ہو تم؟۔فیضان نے الجھ کر پوچھا۔
“ابھی تم نے ہی کہا تھا ناں کہ تمہیں مجھ پر رشک آتا ہے! تو پھر میرے نظریں ملانے پر تمہیں مزہ نہیں آرہا ! تم نے سنا نہیں ہے کیا؟۔حیدر نے کہا۔
“کیا نہیں سنا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“وہی گانا
“میرے رشکِ قمر”
“تو نے پہلی نظر”
“جب نظر سے ملائی”
“مزہ آگیا”۔حیدر نے شرارت سے کہا۔
“افو! حد ہوتی ہے یار حیدر، میں تم سے اتنی سیریس بات کر رہا ہوں، اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“اچھا بولو”۔حیدر نے کہا۔
“یار حیدر اب تم اپنی شادی کے بارے میں کچھ سوچو”۔فیضان نے کہا۔
“کیا سوچوں؟۔حیدر نے لاپرواہی سے کہا۔
“اپنے لئے کوئی لڑکی پسند کرو یا پھر فیروزہ چچی کو بولو، کہ وہ تمہارے لئے کوئی لڑکی پسند کریں”۔فیضان نے کہا۔
“تمہیں بڑی فکر ہے میری شادی کی، تم خود کیوں نہیں کر لیتے، تم بھی تو ابھی تک اپنی ادھوری محبت کا سوگ سینے سے لگائے بیٹھے ہو”۔حیدر نے سپ لیتے ہوئے طنز مارا۔
“اچھا چلو میں تو اپنی ادھوری محبت کا سوگ منا رہا ہوں، پر تم کس کے سوگ میں ہو؟۔فیضان نے بھی اسی لہجے میں پوچھا۔
“تمہارے سامنے تو ہے ناں سب کچھ، میں نے کبھی شادی سے انکار تھوڑی کیا ہے، خود ہی رشتے نہیں مل رہے ہیں، اور جو مل بھی جاتے ہیں تو وہ خود ہی ختم ہوجاتے ہیں”۔حیدر نے کہا۔
“تو میرے ساتھ بھی یہی مسلہ ہے ،میں نے بھی امی کو شادی کیلئے انکار نہیں کیا، پر شادی کے علاوہ بھی، تم مزاج میں بھی بہت بدل گئے ہو ،واپس پہلے والے حیدر ہوجاؤ ،بھلے ہی اپنے لئے خود سے کوئی لڑکی پسند نہ کرو ،پر کم از کم جب فیروزہ چچی تمہاری شادی کی بات کرتی ہیں تو اس میں ہی دلچسپی لے لیا کرو ،یقین مانو چچی تمہاری وجہ سے بہت فکر مند ہیں”۔فیضان نے کہا۔
“چاچو آپکو پاپا بلا رہے ہیں”۔ابھی دونوں بات کر ہی رہے تھے کہ اتنے میں عون (فرقان کا بیٹا) فیضان کو بلانے آگیا۔فیضان وہاں چلا گیا۔حیدر کو فیضان سے باتوں کے دوران بھی اور ابھی بھی ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کسی کی نگاہوں کے حصار میں ہے۔حیدر کو الجھن ہونے لگی۔حیدر فیضان کے پاس جانے کیلئے پلٹا ہی تھا کہ پیچھے سے آتی ہوئی فاریہ سے ٹکرا گیا۔اور حیدر کے گلاس میں سے کولڈ ڈرنک چھلک کر فاریہ کے کپڑوں پر گرگئی۔اور فاریہ کے ہاتھ سے اسکا فون چھوٹ کر زمین پر گرگیا۔
“اوہ ! ایم سو سوری،میں نے آپکو دیکھا نہیں”۔حیدر نے جلدی سے معذرت کی۔
“نہیں کوئی بات نہیں، غلطی میری بھی تھی”۔فاریہ نے ہاتھ سے کپڑے صاف کرتے ہوئے کہا۔
“یہ ایسے صاف نہیں ہوگا ، آپ ڈاکٹر ثمینہ سے واش روم کا پوچھ لیں اور وہاں جاکر پانی سے صاف کرلیں”۔حیدر نے فاریہ کو ہاتھ سے کپڑے صاف کرتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
“ہممم ! جاتی ہوں”۔فاریہ نے کہا اور جھک کر فون اٹھانے لگی۔فاریہ نے فون اٹھا کر دیکھا۔فون بالکل ٹوٹ چکا تھا۔فاریہ آگے بڑھ گئی۔حیدر پہلے تھوڑی دیر تک وہیں کھڑا رہا۔پھر وہ بھی وہاں سے چلا گیا۔
*********
“ایکسکیوزمی ڈاکٹر ثمینہ”۔فاریہ نے مہمانوں سے باتیں کرتی ہوئی ثمینہ کو تھوڑے فاصلے سے پکارا۔ڈاکٹر ثمینہ مہمانوں سے ایکسکیوز کرتی ہوئی فاریہ کے پاس آئی۔
“ہممم ! بولویں”۔ثمینہ نے پوچھا۔
“میم واش روم کہاں ہے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“وہ یہاں سے سیدھا جاکر پھر بائیں جانب ہے”۔ڈاکٹر ثمینہ نے ہاتھ کے اشارہ سے بتایا۔
“تھینک یو”۔فاریہ نے کہا۔
“ارے یہ کیا ہوا؟۔ثمینہ نے فاریہ کے کپڑوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
“اسی لئے تو واش روم کا پوچھ رہی ہوں، وہ ڈاکٹر حیدر نے میرے کپڑوں پر کولڈ ڈرنک گرا دی”۔فاریہ نے بتایا۔
“اوہ ! چلو غلطی سے ہوگیا ہوگا، خیر آپ جائیں جاکر یہ صاف کرلیں”۔ثمینہ نے کہا۔اور فاریہ سر ہلا کر واش روم کی جانب چلی گئی۔
*****
“پتہ نہیں آنکھیں ہیں یا بٹن ! دیکھ کر نہیں چل سکتا تھا”۔فاریہ نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔فاریہ اس وقت واش روم میں واش بیسن کے پاس اپنے کپڑے صاف کررہی تھی۔اور اس کو اس وقت حیدر پر بہت غصہ آرہا تھا۔
“میرا سب سے فیوریٹ سوٹ تھا یہ،یہ بھی خراب کردیا اور اوپر سے میرا فون بھی توڑ دیا”۔فاریہ کپڑے صاف کرتے ہوئے خود سے باتیں کرنے لگی۔کپڑے صاف کرنے کے بعد جیسے فاریہ جانے کیلئے پلٹی۔تو اس کے ہوش اُڑ گئے۔سامنے ہی حیدر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا تھا۔اور فاریہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔فاریہ کی تو حالت ایسی ہو رہی تھی کہ کاٹو تو خون نہیں۔
“آ آ آ آپ یہاں”۔فاریہ نے بمشکل اٹک اٹک کر پوچھا۔فاریہ اتنے غصے میں تھی کہ اس نے ایک بار بھی شیشے میں نہیں دیکھا تھا۔ورنہ وہ حیدر کو دیکھ لیتی۔
“یہ سوال تو مجھے آپ سے کرنا چاہئے کہ آپ یہاں؟۔حیدر نے کہا۔
“ک ک کیا مطلب؟۔فاریہ نے اٹکتے ہوئے پوچھا۔
“مطلب یہ ہے کہ یہ جینٹس ٹوئیلیٹ ہے”۔حیدر نے کہا۔اور فاریہ تو حیرانگی کے صدمے سے کچھ بول ہی نہیں پائی۔فاریہ کو غصے میں یہ بھی نہیں پتہ چلا کہ وہ جا کہاں رہی ہے۔
“ویسے کسی نے سہی کہا ہے،کہ غصہ انسان کو اندھا کردیتا ہے، اب دیکھیں ناں جیسے آپکو غصے میں پتہ ہی نہیں چلا کہ آپ کہاں جارہی ہیں”۔حیدر نے ہاتھ پینٹ کی جیب سے نکال کر سینے پر باندھتے ہوئے کہا۔فاریہ نے کوئی جواب نہیں دیا بس نظریں جھکا کر انگلیوں کو دیکھتی رہی۔
“میں نے آپ سے اس وقت جب سوری کہا تھا،تو آپ نے ہی کہا تھا نا کہ کوئی بات نہیں غلطی میری بھی تھی، تو پھر مجھ پر اتنا غصہ کیوں؟۔حیدر نے پوچھا۔فاریہ کی حالت تو ایسی ہورہی تھی کہ لگتا تھا بس ابھی رو دے گی۔
“اب جائیں آپ یہاں سے ، ورنہ کوئی آگیا تو غلط سمجھے گا”۔حیدر نے فاریہ کے تاثر دیکھ کر مزید کچھ بولنے کا ارادہ ملتوی کرکے ایک سائیڈ پر ہوتے ہوئے کہا۔اور فاریہ تو لگ رہا تھا کہ بس اسی انتظار میں تھی۔فوراً تیزی سے وہاں سے نکال گئی۔
پھر پوری پارٹی میں فاریہ کی کوشش رہی کہ وہ حیدر کے سامنے نا آئے۔ اور نہیں آئی۔پھر پارٹی ختم ہونے کے بعد سب اپنے اپنے گھر روانہ ہوگئے۔
******
جاری ہے
