Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18

آج جمعرات تھا۔اور کل جمعے کی نماز کے بعد چاروں کا نکاح تھا۔نکاح تو خیر سادگی سے ہی تھا پر پھر بھی حیدر اور فیضان کا کہنا تھا کہ نکاح کونسا روز روز ہوتا ہے۔اس لئے حیدر اور فیضان نے آج ہوسپٹل سے چھٹی لے لی تھی۔اور نادر، تابش، عائشہ، رمشا، عصمت، اور انعم کے ساتھ کل کیلئے تھوڑی بہت شاپنگ کرنے آئے ہوئے تھے۔انعم تو نہیں آنا چاہ رہی تھی۔پر سب زبردستی لے کر آئے تھے۔بلکہ درحقیقت یہ لوگ یہاں انعم کو ہی شاپنگ کروانے لاۓ تھے۔اور ان لوگوں نے مل کر پلان بنایا تھا کہ شاپنگ کے دوران وہ لوگ فیضان اور انعم کو تھوڑی دیر اکیلے چھوڑ دیں گے۔تا کہ وہ لوگ ایزی ہوکر کچھ باتیں اور شاپنگ کر سکیں۔اور یہ پلان فیضان اور انعم کو نہیں معلوم تھا۔
“ہاں بھئی تو اب کیا کرنا ہے؟۔مال میں آنے کے بعد نادر نے پوچھا۔
“چلو یہاں بیچ میں چادر بچھاؤ اور شروع کرو قوالی”۔حیدر نے کہا۔
“یار بھائی مذاق نہیں کرو”۔نادر نے کہا۔
“شروع کس نے کیا تھا،شاپنگ مال میں لوگ شاپنگ ہی کرنے آتے ہیں ناں!”۔حیدر نے کہا۔
“بھئی مجھے اوپر جانا ہے،تو میں اکیلے ہی جاؤں یا سب چل رہے ہیں؟۔عائشہ نے پوچھا۔
“کیا اوپر ! اتنی جلدی، پر کیوں ابھی تو تم نے دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے،اور زیادہ ہی دل چاہ رہا ہے اوپر جانے کا تو اکیلی ہی جاؤ،ہم میں سے تو کوئی تمہارے ساتھ نہیں جائے گا،ہمیں ابھی بہت سے کام کرنے ہیں دنیا میں”۔تابش نے کہا۔
“ابے اوپر والے فلور پر جانا ہے”۔عائشہ نے کہا۔
“تو ایسا بولنے کا ہے ناں”۔تابش نے کہا۔
“رمشا تمہیں بھی تو کچھ میک اپ لینا تھا نا اپنے لئے”۔نادر نے کہا۔
“نہیں مجھے تو کوئی میک اپ نہیں لینا تھا”۔رمشا نے انکار کیا۔
“ارے پاگل بھول گئی،گھر میں کیا ڈسائیڈ ہوا تھا، تم کہہ رہی تھی نا کے تمہیں میک اپ لینا ہے”۔نادر نے فیضان اور انعم کی جانب آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“اوہ ہاں ہاں ! یاد آیا، ہاں مجھے بھی کچھ سامان لینا ہے”۔رمشا نے نادر کا اشارہ سمجھتے ہوئے کہا۔
“یہاں میک اپ کلیکشن اوپر کی سائیڈ پر ہے؟۔عصمت نے پوچھا۔
“ہاں اوپر کی سائیڈ پر ہے،اور کیا کمال کا میک اپ ہوتا ہے باجی”۔تابش نے کہا۔
“تم چپ کرو باجی کے بچے ، تمہیں بڑا پتہ ہے میک اپ کے بارے میں؟۔عصمت نے تپ کر کہا۔
“دیکھا بھائی میں نا کہتا تھا کہ مجھے تو تابش پر پہلے ہی شک تھا”۔نادر نے معنی خیزی سے حیدر سے کہا۔
“اوہ ہیلو ! میں کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں ہاں”۔تابش نے کہا۔
“ارے یار تم لوگ لڑو تو مت، ہم سب ساتھ ہی چلتے ہیں نا، جس کو جو لینا ہوگا وہ لیتا جائے گا”۔فیضان نے کہا۔
“ارے نہیں ایسے تو پھر ایک کے چکر میں باقی سب کا ٹائم ضائع ہوگا، ایسا کرتے ہیں کہ عائشہ ، رمشا اور عصمت کو میک اپ لینا ہے وہ لوگ اوپر والے فلور پر چلی جاتی ہیں،نادر اور تابش تم دونوں بتاؤ!۔حیدر نے کہتے ہوئے دونوں سے پوچھا۔
“مجھے تو اپنے کیمرے کا کچھ سامان لینا ہے”۔تابش نے کہا۔
“ہاں اور میرے بھی جوگنگ شوز خراب ہوگئے ہیں نئے لینے ہیں”۔نادر نے کہا۔
“یہ کل کیلئے تم لوگ یہ سب کچھ لینے آئے ہو!۔فیضان نے کہا۔
“ارے باقی سب بھی لیں گے،پر اب جب شاپنگ کرنے آہی گئے ہیں تو لگے ہاتھوں یہ سب بھی لے لیتے ہیں”۔نادر نے بتایا۔
“یہ سب تو بیسمنٹ میں ملتا ہے،تم دونوں وہاں چلے جاؤ،اور فیضان تمہیں اور انعم کو کل کیلئے جو شاپنگ کرنی ہے تم لوگ وہ کرلو”۔حیدر نے کہا۔
“اور تم؟۔فیضان نے پوچھا۔
“غلطی ہوگئی ہمیں فاریہ جی کو بھی ساتھ لے آنا چاہئے تھا”۔نادر نے شرارت سے کہا۔
“مجھے اپنے لئے کچھ پرفیوم وغیرہ لینا ہے،میں وہاں جا رہا ہوں”۔حیدر نے نادر کی بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
“چلو اب سب اپنی اپنی شاپنگ کرتے ہیں پھر جو جو شاپنگ سے فارغ ہوتا جائے گا وہ وہاں فوڈ کارنر پر آجاۓ ، ہم سب وہیں ملیں گے”۔حیدر نے کہا۔
“ٹھیک ہے فیضان پھر تم جاؤ”۔حیدر نے فیضان کو انعم سے نظر بجا کر آنکھ مارتے ہوئے کہا۔فیضان کے سمجھ میں آگیا تھا کہ یہ لوگ جان بوجھ کر ان دونوں کو اکیلا چھوڑ رہے ہیں۔اس لئے فیضان بھی مسکرا دیا۔اور سب اپنی اپنی شاپنگ کرنے چلے گئے۔
******
“کیا ضرورت تھی صرف چند گھنٹوں کیلئے شاپنگ کرنے کی؟۔انعم نے کہا۔وہ دونوں اس وقت مختلف شاپس پر گھوم رہے تھے۔
“کل کے وہ صرف چند گھنٹے ہماری زندگی ، ہمارا رشتہ بدلنے والے ہیں ،ساری زندگی یاد رہیں گے وہ صرف چند گھنٹے”۔فیضان نے کہا۔
“اچھا بس آپ جیتے میں ہاری”۔انعم نے کہا۔
“پہلی بات تو یہ کہ میں کبھی بھی تمہیں ہرانا نہیں چاہتا، اور دوسری یہ کہ یہ تم نے مجھے “آپ” کہنا کیوں شروع کردیا ہے؟۔فیضان نے پوچھا۔
“ایسے ہی”۔انعم نے کہا۔
“اب نہیں بولنا ، جیسے پہلے “تم” بولتی تھی ناں ویسے ہی بولنا”۔فیضان نے کہا۔
“فیضان !۔انعم نے پکارا۔
“ہمم! بولو”۔فیضان نے کہا۔
“ایم سوری”۔انعم نے کہا۔
“کس لئے؟۔فیضان نے پوچھا۔
“جب سے میں نے یہاں سب کے ساتھ رہنا شروع کیا تھا،اور جب تم لوگ کیمپ سے واپس آئے تھے،میں نے تم سے کافی سخت رویہ رکھا”۔انعم نے بتایا۔
“تو تمہارے اسی رویے کی وجہ سے تو میں گھر والوں کو سب بتا پایا تھا،اگر تم ایسا رویہ نا اختیار کرتی تو ناں ہی مجھے غصہ آتا اور ناں ہی میں اس دن غصے میں سب کے سامنے یہ بات کر پاتا”۔فیضان نے کہا۔
“اور ویسے ایم سوری”۔فیضان نے کہا۔
“کیوں؟ ۔انعم نے پوچھا۔
“اس دن میں نے بھی تم سے کچھ زیادہ ہی سختی کرگیا تھا”۔فیضان نے کہا۔
“کوئی بات نہیں اگر غصہ نہیں آتا تو ابھی ہم یہاں اتنے آرام سے نہیں گھوم رہے ہوتے”۔انعم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“چلو یہاں پر تمہارے لئے کچھ ڈریسیس دیکھتے ہیں”۔فیضان نے ایک شاپ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اور دونوں شاپ میں چلے گئے۔
******
حیدر بھی ایسے ہی شاپس پر گھوم رہا تھا۔اور اسے ابھی پھر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔حیدر نے آس پاس کا جائزہ لیا۔کوئی ایسا شخص تو نظر نہیں آیا کہ جس پر اسے شک ہو پر ایک شاپ پر اسے ڈمی پر لگی ہوئی ایک ساڑھی نظر آگئی۔حیدر اس شاپ پر چلا گیا۔اور ساڑھی کو قریب سے دیکھنے لگا۔وہ میرون رنگ کی شیفون کی ساڑھی تھی۔اور ساڑھی کے بارڈر پر چھوٹے چھوٹے سفید نگ لگے ہوئے تھے۔حیدر کو وہ ساڑھی دیکھتے ہی فاریہ کا خیال آیا۔حیدر نے شاپ کیپر سے اس ساڑھی کو پیک کرنے کا کہا۔اور پیمنٹ کرکے باہر آگیا۔حیدر کا دل چاہ رہا تھا کہ یہ ساڑھی فاریہ کل نکاح میں پہنے۔پر پہلی بات تو یہ کہ حیدر کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ فاریہ تک یہ ساڑھی پہنچائے کیسے؟۔اور دوسری بات یہ کہ پتہ نہیں فاریہ کو یہ ساڑھی آئے گی بھی یا انہیں سب سوچوں میں گم جیسے ہی حیدر دوسری جانب جانے کیلئے مڑا تو آنے والے سے بہت زور سے ٹکرا گیا۔
“اوہ ! ایم سو سوری”۔حیدر نے جلدی سے سمبھلتے ہوئے کہا۔
“ارے تم؟۔حیدر نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
“ہاں ! وہ کل کیلئے ہی کچھ شاپنگ کرنے آئی ہوئی ہوں”۔فاریہ نے بتایا۔
“اچھا کہیں لگی تو نہیں تمہارے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“نہیں نہیں میں ٹھیک ہوں”۔فاریہ نے کہا۔
“وہ دراصل بے دھیانی میں، میں نے تمہیں دیکھا نہیں”۔حیدر نے کہا۔
“کوئی بات نہیں،میں نے بھی نہیں دیکھا تھا”۔فاریہ نے کہا۔
“اچھا ! انکل آنٹی بھی آئے ہوئے ہیں کیا؟۔حیدر نے پوچھا۔
“نہیں ! بابا تو آفس میں ہیں ، اور مما کے پیروں میں درد رہتا ہے تو اس لئے وہ بھی نہیں آئی،میں اکیلے ہی آئی ہوئی ہوں”۔فاریہ نے بتایا۔اور دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے۔
“اوہ اچھا!۔حیدر نے کہا۔
“اور آپ بھی اکیلے ہی آئے ہوئے ہیں؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“نہیں! فیضان اور باقی سارے کزنز بھی ساتھ آئے ہوئے ہیں،سب یہاں کہیں اپنی اپنی شاپنگ کررہے ہیں”۔حیدر نے بتایا۔
“اوہ اچھا”۔فاریہ نے کہا۔
“اچھا میں تو فوڈ کارنر پر جارہا ہوں، تم بھی چل رہی ہو! میرا مطلب باقی سب سے بھی مل لینا”۔حیدر نے کہا۔
“جی چلیں”۔فاریہ نے کہا۔اور دونوں فوڈ کارنر پر آگئے۔
************
“کیا کھاؤ گی تم؟۔حیدر نے مینو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ بھی”۔فاریہ نے کہا۔
“یہ کون سی چیز ہوتی ہے “کچھ بھی” اس میں تو کہیں ہے ہی نہیں”۔حیدر نے کہا۔
“میرا مطلب کچھ بھی جو آپ اپنے لئے آرڈر کررہے ہیں،میرے لئے بھی کردیں”۔فاریہ نے مسکراتے ہوئے وضاحت کی۔
“اچھا! میں تو اپنے لئے مٹر پلاؤ آرڈر کررہا ہوں،تمہارے لئے بھی کردوں؟ ویسے بھی اس دن جب تم ہمارے گھر آئی ہوئی تھی تو میں نے دیکھا تھا کہ مٹر کافی شوق سے کھا رہی تھی تم”۔حیدر نے شرارت سے کہا۔
“وہ دراصل مجھے مٹر بچپن سے ہی نہیں پسند ایک دو مرتبہ کوشش کی تھی کھانے کی پر نہیں کھائے گئے،مما بھی اسی بات پر بہت ڈانٹتی ہیں”۔فاریہ نے حیدر کا اشارہ سمجھتے ہوئے جھینپ کر وضاحت کی۔
“ارے کوئی بات نہیں،ایسے ہی مذاق کررہا تھا میں،یہاں کون سا سچ میں مٹر پلاؤ ملتا ہے،یہ تو فاسٹ فوڈ ہے، چکن سینڈوچ آرڈر کردوں تمہارے لئے بھی؟۔حیدر نے پوچھا۔اور فاریہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“دو چکن سینڈوچ اور دو مینگو آئسکریم”۔حیدر نے ویٹر کو بلا کر آرڈر دیا۔
“نہیں مینگو آئسکریم نہیں”۔فاریہ نے کہا۔
“کیوں!۔حیدر نے پوچھا۔
“مجھے مینگو آئسکریم پسند نہیں ہے”۔فاریہ نے بتایا۔
“اچھا تو پھر کچھ اور بتا دو”۔حیدر نے کہا۔
“کرنچ آئسکریم منگوالیں”۔فاریہ نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، دو کرنچ آئسکریم لے آئیں”۔حیدر نے ویٹر کو کہا۔اور ویٹر اثبات میں سر ہلاتا ہوا چلا گیا۔
“ویسے کتنی عجیب بات ہے ناں ، کہ جو چیز مجھے پسند ہے وہ تمہیں پسند نہیں ہے”۔حیدر نے کہا۔
“خیر چھوڑو ، یہ بتاؤ کہ کیا شاپنگ کی تم نے کل کیلئے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“کچھ نہیں ، کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ کیا لوں”۔فاریہ نے بتایا۔
“ہممم! ویسے میں نے تمہارے لئے کچھ لیا ہے”۔حیدر نے بتایا۔
“میرے لئے! کیا !۔فاریہ نے پوچھا۔
“یہ ! دیکھو”۔حیدر نے ساڑھی والا شاپنگ بیگ فاریہ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔فاریہ نے بیگ لے کر کھول کر دیکھا۔
“یہ میرے لئے لی ہے آپ نے؟۔فاریہ نے ساڑھی باہر نکالتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں! وہ جو ابھی ویٹر آئے گا ناں آرڈر دینے اس کیلئے لی ہے”۔حیدر نے کہا۔
“کیسی باتیں کررہی ہو تم بھی،ظاہر ہے جب تمہیں دی ہے تو تمہارے لئے ہی لی ہوگی ناں”۔حیدر نے کہا۔
“اچھا ناں سوری غلطی ہوگئی جو پوچھ لیا”۔فاریہ نے کہا۔
“نہیں، میں مذاق کررہا تھا،خیر چھوڑو یہ بتاؤ کہ تمہیں کیسی لگی یہ ساڑھی؟۔حیدر نے پوچھا۔
“بہت اچھی ہے”۔فاریہ نے کہا۔
“اور میں چاہتا ہوں کہ کل تم یہ پہنو”۔حیدر نے کہا۔فاریہ نے ایک نظر پہلے ساڑھی کو دیکھا پھر ایک نظر حیدر کو۔
“ٹھیک ہے”۔فاریہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“پر ایک مسلہ ہے”۔حیدر نے کہا۔
“کیا مسلہ؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“پتہ نہیں تمہیں یہ ساڑھی آئے گی بھی یا نہیں!۔حیدر نے کہا۔
“ارے یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے،اگر نہیں بھی آئی تو میں اسی اپنے حساب سے سیٹ کر لوں گی”۔فاریہ نے ساڑھی کو واپس بیگ میں رکھتے ہوئے کہا۔اور اتنے میں ویٹر انکا آرڈر لے کر آگیا۔
“ارے بھابھی جی آپ، السلام و علیکم”۔نادر اور تابش نے قریب آتے ہوئے کہا۔اور فاریہ اور حیدر نے چونک کر دونوں کی جانب دیکھا۔
“وعلیکم السلام”۔فاریہ نے جواب دیا۔
“بھائی تم نے بتایا نہیں کہ تم نے انہیں بھی یہاں بلایا ہوا ہے!۔نادر نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“نہیں ! انہوں نے مجھے نہیں بلایا،میں بھی یہاں شاپنگ ہی کرنے آئی ہوئی تھی،کہ اچانک ان سے ملاقات ہوگئی”۔فاریہ نے بتایا۔
“اوہ ! اچھا ، دراصل بھائی اتنے سچے دل سے دعا جو مانگ رہے تھے کہ اللّه کرے آپ بھی یہاں مل جائیں”۔تابش نے حیدر کی پلیٹ میں سے سینڈوچ اٹھاتے ہوئے کہا۔اور فاریہ جھینپ گئی۔
“یہ کیا ہورہا ہے! تم اپنا لے کر آؤ”۔حیدر نے تابش کو کہا۔
“یہ کس کا سینڈوچ ہے؟۔تابش نے سینڈوچ ہاتھ میں پکڑ کر حیدر کے آگے کرتے ہوئے پوچھا۔
“چکن کا”۔حیدر نے کہا۔
“تو جب چکن کو کوئی اعتراض نہیں ہے میرے پیٹ میں جانے سے تو آپکو کیا مسلہ ہورہا ہے”۔تابش نے کہا۔اور سینڈوچ کھانے لگا۔
“وہ لوگ نہیں آئے ابھی تک؟۔نادر نے پوچھا۔
“نہیں ، فون کرکے دیکھو”۔حیدر نے کہا۔
“وہ دیکھو فیضان”۔فاریہ نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اور سب نے ہی فاریہ کی نظروں کی تعقب میں دیکھا۔فیضان اور انعم غالبً انہیں ہی ڈھونڈ رہے تھے۔حیدر نے دونوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلئے ہاتھ ہلایا۔پر دونوں نے اس طرف دیکھا نہیں۔
“کیا کررہے ہو بھائی! ایسے تھوڑی دیکھیں گے وہ لوگ یہاں، سیٹی مارو سیٹی”۔نادر نے کہا۔
“مجھے سیٹی بجانا نہیں آتی”۔حیدر نے کہا۔
“آئے ہائے ! کتنا شریف بھائی ہے ہمارا، لگتا ہے کبھی کسی لڑکی کو نہیں چھیڑا”۔تابش نے شرارت سے کہا۔اور حیدر اسے گھورنے لگا۔پھر نادر نے سیٹی بجا کر دونوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔اور ان دونوں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے کچھ اور لوگ بھی ان کی جانب متوجہ ہوگئے۔فیضان اور انعم نے ان لوگوں کو دیکھ لیا۔اور ان کی جانب آنے لگے۔
“ارے آپ بھی یہاں ہیں”۔فیضان نے قریب آکر فاریہ کو دیکھ کر کہا۔
“ہممم! بس اتفاقًا ملاقات ہوگئی”۔فاریہ نے بتایا۔وہ دونوں بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے۔
“بھابھی آپ ان کو جانتی ہیں؟۔نادر نے فاریہ سے انعم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔فاریہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“اور بھابھی آپ ان کو جانتی ہیں؟۔تابش نے انعم سے فاریہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔انعم نے بھی نفی میں سر ہلایا۔
“اچھا ہم آپ لوگوں کا تعارف کرواتے ہیں”۔تابش نے کہا۔
“بھابھی یہ ہیں ہماری ہونے والی بھابھی مس فاریہ خان ، جو کہ کل مسیز فاریہ حیدر خان ہوجائیں گی”۔نادر نے بتایا۔
“اور بھابھی یہ ہیں ہماری ہونے والی بھابھی مس انعم کیانی ،جو کہ کل مسیز انعم فیضان خان ہوجائیں گی”۔تابش نے بتایا۔
“اوہ ! یعنی فیوچر میں ساتھ ہی رہنا ہے”۔انعم نے مسکرا کر کہا۔
“ارے یار تم لوگ یہاں بیٹھے ہو، ہم کب سے اس سائیڈ پر ڈھونڈ رہے تھے تم لوگوں کو”۔رمشا نے قریب آتے ہوئے کہا۔
“ارے آپ ! السلام و علیکم !۔تینوں نے فاریہ کو دیکھ کر یک زبان سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔فاریہ نے جواب دیا۔
“آپ کب آئیں یہاں؟۔عائشہ نے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“ارے اتفاقً ملاقات ہوگئی،شاپنگ کرنے آئی ہوئی تھیں یہ بھی”۔نادر نے بتایا۔
“چلو یار جلدی سے کچھ آرڈر کرو کھانے کیلئے”۔عصمت نے کہا۔
“ہاں کرو آرڈر ویسے بھی بل تو حیدر بھائی ہی دیں گے”۔تابش نے کہا۔
“اوہ ہو! حیدر بھائی دیں گے، کس خوشی میں؟۔حیدر نے تابش کی نقل اتارتے ہوئے پوچھا۔
“اپنی شادی کی خوشی میں بھئی”۔نادر نے کہا۔
“ارے بھئی تم لوگ آرڈر کرو ، بل میں دے دوں گا”۔فیضان نے کہا۔
“ہمم! مطلب فیضان بھائی کو حیدر بھائی سے زیادہ خوشی ہے اپنی شادی کی”۔تابش نے شرارت سے کہا۔
“کرو آرڈر، بل میں دوں گا”۔حیدر نے جوش میں آکر کہا۔
“ارے آپ لوگ لڑ کیوں رہے ہیں! سب ملا کر دے دیجئے گا”۔فاریہ نے کہا۔
“ارے بھابھی آپکو نہیں پتہ، کبھی کبھی ہی ہمارے بھائی کو یہ سخاوت کے دورے پڑتے ہیں، ابھی پڑا ہوا ہے دورہ تو رہنے دیں، ہمارا بھلا ہورہا ہے”۔نادر نے شرارت سے کہا۔
“اب جلدی سے دے بھی دو آرڈر، بھوک لگ رہی ہے”۔رمشا نے کہا۔اور سب مینو دیکھ کر آرڈر ڈیسائیڈ کرنےلگے۔پھر کافی دیر تک سب ساتھ بیٹھے رہے۔لنچ وغیرہ کیا۔اور قریب ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد سب واپس آگئے۔
******
“ہاں تو بھئی ، پھر کل کی تیاری پوری ہے نا سب کی؟۔ہمدان صاحب نے پوچھا۔سب لوگ اس وقت حسب معمول ہال میں جمع تھے۔اور شہلا کو بھی وہیل چیئر پر بیٹھا کر سب یہاں ہی لے آئے تھے۔اور آج انعم بھی سب کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھی۔
“جی پاپا، اور ہم لوگ یہاں سے کتنے بجے تک چلیں گے!۔حیدر نے پوچھا۔
“بس نماز کے بعد تک چلیں گے”۔ہمدان صاحب نے کہا۔
“اچھا مجھے آپ سب کو کچھ بتانا ہے”۔عائشہ نے کہا۔
“کیا بتانا ہے؟۔ممتاز نے پوچھا۔اور باقی سب بھی اس کی جانب متوجہ ہوگئے۔
“کل انعم بھابھی کو میں تیار کروں گی”۔عائشہ نے کہا۔
“چلو بھئی ، پھر تو ہوگئی تیاری”۔نادر نے کہا۔
“امی دیکھیں نا بھائی کو، یہ ہمیشہ میرے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے”۔عائشہ نے ممتاز سے کہا۔
“نادر بری بات بہن ہے نا تمہاری، اور تم بتاؤ تمہیں یہ اچانک سے شوق کیوں اٹھ گیا؟۔ممتاز نے نادر کو کہتے ہوئے عائشہ سے پوچھا۔
“اچانک سے نہیں ، مجھے تو کب سے شوق ہے بس کوئی ملا نہیں تھا ابھی تک”۔عائشہ نے کہا۔
“واہ ! مطلب اپنے شوق کے آگے تم کسی کی بھی بلی چڑھا دو گی!۔تابش نے کہا۔
“یار صرف میک اپ کرنے کا ہی تو کہہ رہی ہوں”۔عائشہ نے کہا۔
“میں نے سنا ہے، کہ ہر انسان کیلئے اس کے نکاح کا دن کافی یادگار ہوتا ہے، اور دیکھئے گا فیضان بھائی، اب عائشہ نے بھابھی کے میک اپ کی زمیداری لے ہے ناں، تو یہ دن اب آپکو پکا پکا یاد رہے گا،آپ چاہ کر بھی نہیں بھلا پائیں گے”۔تابش نے شرارت سے کہا۔
“نہیں بھئی ، سوری، تم کسی اور پر تجربہ کرنا، میں یہ رسک نہیں لے سکتا”۔فیضان نے کہا۔
“دادی دیکھیں نا ان لوگوں کو”۔عائشہ نے کہا۔
“بری بات بچوں ، ایسے نہیں کرو”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“ارے عائشہ تم کر دینا کل میرا میک اپ”۔انعم نے کہا۔
“نہیں بھئی کیوں کردینا! میری پہلی پہلی شادی ہے،اور اس پر بھی میڈیم کو تجرے کرنے ہیں”۔فیضان نے کہا۔
“پہلی پہلی، مطلب کہ فیضان کا دوسری اور تیسری کا بھی ارادہ ہے”۔حیدر نے کہا۔
“ٹھیک ہے،پھر میں بھی نہیں آؤں گی کل آپ لوگوں کے نکاح میں”۔عائشہ نے تنک کر کہا۔
“مت آنا، تم کون سا کوئی قاضی ہو جو تمہارے نہیں آنے سے نکاح نہیں ہوگا،نکاح کیلئے دولہا ،دلہن ، قاضی اور چند گواہ چاہیے ہوتے ہیں جو کہ ہمارے پاس ہیں”۔نادر نے کہا۔
“نادر بری بات، تم بتاؤ انعم بیٹی تمہیں تو کوئی مسلہ نہیں ہے نا عائشہ سے تیار ہونے میں؟۔بلقیس بیگم نے پوچھا۔
“نہیں دادی جی، کوئی مسلہ نہیں ہے”۔انعم نے کہا۔
“بس تو پھر عائشہ تم تیار کردینا کل انعم کو، اور تم لوگوں نے انعم کو مہندی بھی نہیں لگائی”۔بلقیس بیگم نے کہا۔
“جی دادی بس اب ہم لوگ مہندی ہی لگانے جارہے ہیں ایک دوسرے کو”۔عائشہ نے خوش ہوکر بتایا۔اور پھر تھوڑی دیر میں یہ نشست برخاست ہوگئی۔
***********
رات کے بارہ بج رہے تھے۔اور کل کے بارے میں سوچ کر چاروں کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔انعم کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ سچ میں ہورہا ہے۔اس نے تو اس سب کی امید بھی چھوڑ دی تھی۔فیضان کی بھی حالت ایسی ہی تھی۔اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ قدرت دونوں کو پھر ملوا دے گی۔اور حیدر کو بھی خوشی کے مارے نیند نہیں آرہی تھی۔وہ بس بے صبری سے انتظار کررہا تھا کہ جلدی سے کل ہو۔اور حیدر کا نام ہمیشہ ہمیشہ کیلئے فاریہ کے نام سے جڑ جائے۔اور دوسری جانب فاریہ کو بھی کل کا سوچ سوچ کر نیند نہیں آرہی تھی۔
********
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *