Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12

Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12

فاریہ نے اپنے پیر سے کانٹا نکالنے کیلئے ہاتھ اپنے پیر کی جانب بڑھایا۔پر کانٹے کو چھوتے ہی اسے درد ہوا۔اور اس نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔اور دوبارہ آنکھیں بند کرکے اللّه سے
مدد مانگنے لگی۔
“فاریہ !۔فاریہ کو کسی نے پیچھے سے پکارا۔فاریہ نے مڑ کر دیکھا تو حیدر فاریہ کی جانب آرہا تھا۔
“یہ کیا ہوا ! یہاں کیوں بیٹھی ہو!۔حیدر نے قریب آکر پوچھا۔
“میرا پیر”۔فاریہ نے بس اتنا بولا اور اپنے پیر کی جانب دیکھنے لگی۔حیدر نے بھی اسی سمت دیکھا۔تو اسے اسکے پیر میں چبھا ہوا کانٹا نظر آیا۔
“اوہ گاڈ!۔حیدر نے بھی گھٹنوں کے بل فاریہ کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔
“یہ کیسے چبھ گیا۔”حیدر نے پوچھا۔
“وہ میں یہاں گھانس پر ٹہل رہی تھی ،تو تب ہی اچانک چبھ گیا”۔فاریہ نے بتایا۔
“تو پاگل لڑکی ،تمہیں سینڈل اترنے کی کیا ضرورت تھی! یہ تمہارے گھر کے لان کی گھانس تھوڑی ہے جو صاف ہو”۔حیدر نے کہا۔
“ایک تو میرے ویسے ہی درد ہورہا ہے، اور اوپر سے آپ بھی مجھے ڈانٹ رہے ہیں”۔فاریہ نے کہا۔
“ڈانٹ نہیں رہا ،بتا رہا ہوں، خیر لاؤ پیر ادھر کرو ،میں نکالتا ہوں کانٹا”۔حیدر نے کہا۔
“نہیں! میں نے کوشش کی تھی، پر بہت درد ہورہا ہے”۔فاریہ نے کہا۔
“اب تھوڑا درد تو برداشت کرنا پڑے گا، ورنہ یہ نکلے گا کیسے؟۔حیدر نے کہا۔اور کانٹا نکالنے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا۔جیسے ہی حیدر نے کانٹے کو چھوا۔فاریہ نے چیخ ماری۔
“شششہہ ! چلا کیوں رہی ہو”۔حیدر نے کہا۔
“اب درد تو ہوگا، تم تھوڑا برداشت کرو”۔حیدر نے کہا۔اور پھر کانٹا نکالنے لگا۔
“نہیں نہیں!۔فاریہ نے پھر کہا۔
“کیا نہیں نہیں؟۔حیدر نے کہا۔
“پلیز مت ہاتھ لگاؤ ،درد ہورہا ہے”۔فاریہ نے کہا۔
“اب ہاتھ نہیں لگاؤں گا تو نکالوں گا کیسے؟ دانتوں سے!۔حیدر نے تپ کر کہا۔فاریہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔حیدر تھوڑی دیر فاریہ کو دیکھتا رہا پھر وہیں ہی ایزی ہوکر بیٹھ گیا۔
“ویسے تم یہاں کرنے کیا آئی تھی؟۔حیدر نے پوچھا۔
“وہ مجھے مارننگ واک کرنا اچھا لگتا ہے اس لئے یہاں واک کرنے آئی تھی”۔فاریہ نے بتایا۔
“ہمم! ویسے مارننگ واک صحت کیلئے بھی کافی اچھی ہوتی ہے “۔حیدر نے کہا۔
“اچھا ویسے مجھے تم سے ایک بات کہنی ہے”۔حیدر نے فاریہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! بولیں”۔فاریہ نے کہا۔
“تم غصہ تو نہیں کرو گی!۔حیدر نے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے فاریہ کے گالوں پر آئے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں آپ بولیں”۔فاریہ نے کہا۔فاریہ کو حیدر کے ٹچ کرنے سے عجیب سا احساس ہوا۔
“مجھے نا تم سے….تم سے…!۔حیدر نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“مجھ سے کیا؟۔فاریہ اپنا درد بھول کر حیدر کی جانب متوجہ ہوگئی۔
“مجھے نا تم سے……پیار ہوگیا ہے”۔حیدر نے رک کر کہا۔اور فاریہ حیران سی حیدر کو دیکھتی رہی۔
“کیا ؟۔فاریہ نے حیرت سے کہا۔اور ساتھ ہی ایک زوردار چیخ ماری۔حیدر نے ایک جھٹکے سے فاریہ کے پیر میں سے کانٹا کھینچ لیا تھا۔
“ایم سوری، میرے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”۔حیدر نے کاندھے اچکتے ہوئے کہا۔فاریہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“ویسے اصولاً تو تمہیں مجھے شکریہ بولنا چاہیے تھا، پر تم نے تو اپنا زخم ٹھیک کرنے کے بدلے میں مجھے ہی زخم دے دیا”۔حیدر نے اپنے بازو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جہاں فاریہ نے پورا جی جان لگا کر اپنے ناخن حیدر کے بازو پر گاڑے ہوئے تھے۔
“اوہ ! سوری”۔فاریہ نے جلدی سے ہاتھ ہٹایا۔پر ناخن چبھنے کی وجہ سے حیدر کے بازو پر کاٹ لگ گیا تھا۔اور ہلکا سا خون نظر آرہا تھا۔فاریہ شرمندہ ہوگئی۔حیدر نے اپنی جیب سے رومال نکالا اور فاریہ کے پیر پر باندھا۔
“چلو کیمپ میں چل کر سہی سے تمہاری پٹی کردوں”۔حیدر نے کہا۔اور کھڑا ہوگیا۔اور فاریہ کو بھی کھڑا ہونے میں مدد کرنے کیلئے اپنا ہاتھ بڑھایا۔فاریہ نے ہاتھ پکڑا اور کھڑی ہوگئی۔پر اس کے پیر میں بہت درد ہورہا تھا۔اسکی آنکھوں سے پھر آنسو نکلنا شروع ہوگئے۔
“دیکھو مجھے پتہ ہے تھوڑا درد تو ہوگا،پر تم میرے سہارے سے چلنے کی کوشش تو کرو”۔حیدر نے کہا۔فاریہ نے حیدر کا بازو پکڑ کر چلنے کی کوشش کی۔حیدر کی اتنے قریب ہونے کی وجہ سے اسکے پرفیوم کی خوشبو سیدھا اسکی سانسوں میں اتر رہی تھی۔حیدر نے دوسرے ہاتھ میں فاریہ کی سینڈل اٹھائی اور دونوں آہستہ آہستہ چلنے لگے۔
“اچھا ویسے تمہارا موبائل سہی چل رہا ہے ! کوئی مسلہ تو نہیں ہے!۔حیدر نے دھیان بٹانے کیلئے کہا۔
“جی ٹھیک ہے”۔فاریہ نے کہا۔
“ہمم! اچھا میں نے سنا کہ تمہیں مجھ سے شکایات ہے کہ مجھے تم پر اعتبار نہیں ہے”۔حیدر نے کہا۔
“نہیں تو، ایسا تو نہیں ہے”۔فاریہ نے جلدی سے کہا۔
“اچھا! پر میں نے تو ایسا سنا کہ میں نے تمہیں مومنہ بھابھی کے سرپرائز میں شامل نہیں کیا تھا تو تمہیں برا لگا”۔حیدر نے کہا۔
“نہیں برا نہیں لگا تھا،بس اگر مجھے بھی پتہ ہوتا تو میں بھی ان کیلئے کوئی گفٹ لے آتی”۔فاریہ نے کہا۔
“اوہ! اچھا ،ویسے اس کے علاوہ تو مجھ سے کوئی شکایات نہیں ناں!۔حیدر نے پوچھا۔
“اگر ہوئی تو؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“تو میں اسے دور کرنے کی کوشش کروں گا”۔حیدر نے کہا۔فاریہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔پھر تھوڑی دیر میں وہ لوگ کیمپ تک آگئے۔حیدر نے فاریہ کی پٹی وغیرہ کی۔پین کلیر دی۔اور پھر حیدر وہاں سے آگیا۔
*******
“ارے یہ تمہارے پیر میں کیا ہوا؟۔مومنہ نے فاریہ کے پیر پر پٹی بندھی ہوئی دیکھ کر پوچھا۔
“وہ صبح گھانس پر واک کر رہی تھی تو تب ہی کانٹا چبھ گیا تھا”۔فاریہ نے بتایا۔وہ لوگ اس وقت کیمپ کے کام میں مصروف تھے۔
“اوہ! پھر تو تمہیں چلنے میں بھی تکلیف ہورہی ہوگی نا!۔مومنہ نے کہا۔
“ہمم!”۔فاریہ نے اثبات میں سر ہلا کر کہا۔پھر فاریہ نے پورا دن بس کیمپ میں بیٹھے بیٹھے ہی سب پیشنٹس کا چیک اپ کیا۔درد کی وجہ سے کہیں راؤنڈ وغیرہ پر نہیں گئی۔اس بیچ حیدر بھی ایک دو بار فاریہ کی طبیعت پوچھنے آیا تھا۔
*********
رات کے قریب گیارہ بج رہے تھےآس پاس سنناٹا ہی ہورہا تھا۔آسمان پر چاند نہیں تھا۔پر سیاہ آسمان اس وقت چمکتے ہوئے ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔حیدر اس وقت ہاف آستینوں کی ٹی شرٹ پہنے ہوئے کیمپ کے باہر بیٹھا ہوا تھا۔اور صبح کے بارے میں سوچنے لگا۔صبح حیدر ایسے ہی کیمپ کے پاس ٹہل رہا تھا۔پھر پتہ نہیں اس کے دل میں کیا آئی! وہ ٹہلتے ٹہلتے اس جانب ہی آگیا۔جہاں فاریہ اپنا پیر پکڑے بیٹھی تھی۔فاریہ کو اس طرح درد میں روتا ہوا دیکھ کر حیدر کو کچھ ہوا۔پھر پتہ نہیں حیدر کو کیا ہوا خود ہی فاریہ کے آنسو صاف کردیے۔حیدر خود بھی بعد میں اپنی اس حرکت پر حیران ہوا تھا کہ اس نے یہ کیا کیا ہے! پر اس نے ظاہر نہیں کیا۔اور فاریہ سے پیار کرنے والی بات بھی حیدر نے سچ مچ میں ہی بولی تھی۔پر اس وقت سیچوشن ایسے نہیں تھی۔اس لئے حیدر نے بات گھوما دی۔اور پھر جب حیدر فاریہ کو سہارا دے کر کیمپ تک لایا۔تب بھی حیدر کو اس کے لمس سے عجیب سا احساس ہوا۔پھر حیدر نے اپنے بازو کی جانب دیکھا۔جہاں فاریہ کے ناخن کے نشان پڑگئے تھے۔حیدر بے اختیار اس نشان پر ہاتھ پھیرنے لگا۔حیدر سب کچھ سوچتے ہوئے مسکرا دیا۔اور اب تو دل میں پکا ارادہ کرلیا تھا کہ فاریہ کو اپنے احساسات کے بارے میں ضرور بتائے گا۔
*********
فاریہ بھی اس وقت اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی جاگ رہی تھی۔اور صبح کے متعلق ہی سوچ رہی تھی۔جب حیدر نے فاریہ کے آنسو صاف کئے تھے۔فاریہ کو حیدر سے اس بات کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔اور جب حیدر نے اس سے کہا کہ وہ اس سے پیار کرتا ہے۔تو فاریہ تو بالکل دنگ ہی رہ گئی تھی۔کہاں وہ اس سے ٹھیک سے کبھی بھی بات نہیں کرتا تھا۔اور کہاں سیدھا پیار۔پر پھر جب حیدر نے اس سے کہا کہ ایسا اس نے کانٹا نکالنے کیلئے کیا تھا۔تو پھر پتہ نہیں کیوں فاریہ کو عجیب سا دکھ ہوا۔ پھر جب اس نے درد کی شدت سے بے قابو ہوکر حیدر کا بازو پکڑ لیا تھا تو اسے بہت شرمندگی ہوئی۔اس کی وجہ سے اس کے بازو پر زخم آگیا تھا۔پھر جب حیدر ایک ہاتھ سے اسکی سینڈل اٹھائے اور دوسرے ہاتھ سے اسے سہارا دے کر کیمپ تک لایا تو اسے پتہ نہیں کیوں اسکے پہلو میں ایک محفوظ سا احساس ہورہا تھا۔فاریہ نے ان سب خیالات سے پیچھا چھڑانے کیلئے سر جھٹکا۔اور خود کو سمجھایا کہ
“فاریہ ! اپنے مقصد پر دھیان دو یہ کن کاموں میں لگ گئی ہو! تم یہاں یہ سب کرنے آئی تھی کیا!۔فاریہ نے خود کلامی کی۔اور سونے کیلئے آنکھیں بند کرلیں۔کیونکہ پھر صبح صبح اٹھ کر اپنا کام بھی تو کرنا تھا۔
******
فاریہ کو چوٹ لگے ہوئے آج چار دن ہوگئے تھے۔اب پیر کافی بہتر تھا۔اسکا چل پھر رہی تھی آرام سے۔فرقان ،فیضان اور حیدر فون کرنے گئے ہوئے تھے۔فرقان نے گھر کا نمبر ڈائل کیا۔
“ہیلو!۔دوسری جانب سے ارسلان صاحب کی آواز آئی۔
“ہیلو ! ابو میں بول رہا ہوں فرقان ،امی کیسی ہیں؟۔فرقان نے پوچھا۔
“بس کیا بتاؤں بیٹا، گھر آنے کی ضد لگائی ہوئی تھی تمہاری امی نے ،گھر لے آئے ہیں انھیں،لیکن…!۔ارسلان صاحب نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“لیکن کیا ابو؟۔فرقان نے پوچھا۔
“لیکن وہ خود سے چلنے پھیرنے یہاں تک کہ خود بیڈ سے اترنے سے بھی قاصر ہیں ،وہ باتھروم بھی نہیں جاسکتی سب کچھ…..!۔ارسلان صاحب نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔فرقان سمجھ گیا۔
“تو آپ رمشا سے بولیں ناں ،کہ وہ امی کے یہ سارے کام کر دیا کرے”۔فرقان نے کہا۔
“بیٹا شروع میں رمشا نے کیا تھا یہ سب ،پر پھر اس سے نہیں ہوا تو اس نے چھوڑ دیا”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“تو آپ امی کے ان سب کاموں کیلئے کوئی فل ٹائم نرس رکھ لیں”۔فرقان نے کہا۔
“بیٹا ایک نرس رکھی تھی ،پر ایکسیڈنٹ کے بعد سے تمہاری امی بہت ہی زیادہ چڑچڑی ہوگئی ہیں ،بات بات پر سب پر چیخنا چلانا شروع کردیتی ہیں ،غصے میں کھانا اٹھا کر پھینک دیتی ہیں، کبھی دھاڑے مار کر رونا شروع کردیتی ہیں ،تمہیں کیا پتہ کہ یہاں کیا کیا ہورہا ہے”۔ارسلان صاحب نے بتایا۔
“آہ !کاش ہم لوگ ابھی وہاں آسکتے”۔فرقان نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔
“اچھا ابھی امی کیا کررہی ہیں بات کروائیں میری ان سے”۔فرقان نے کہا۔
“بیٹا ابھی تو وہ دوائیوں کے زیراثر سو رہی ہیں ،جب اٹھی ہوئی ہوتی ہیں تو چیخ و پکار مچا کر رکھتی ہیں ،اس لئے مجبورً انھیں نیند کا انجکشن دینا پڑتا ہے”۔ارسلان نے دکھ سے کہا۔
“اچھا چلیں خیر ہے ،آپ فکر مت کریں ابو ،ان شاءاللّه سب ٹھیک ہوجائے گا، اور ہم لوگ بھی جلد ہی واپس آجائیں گے”۔فرقان نے کہا۔
“ہمم! اور وہ لوگ کیسے ہیں فیضان ،حیدر، مومنہ؟۔ارسلان صاحب نے پوچھا۔
“ٹھیک ہیں ،بس امی کی وجہ سے فکرمند ہیں”۔فرقان نے بتایا۔
“ہمم! چلو تم لوگ بھی زیادہ پریشان مت ہو، اور اپنا خیال رکھنا تم سب”۔ارسلان صاحب نے کہا۔
“جی ابو،اچھا اللّه حافظ”۔فرقان نے کہا۔
“اچھا ! اللّه حافظ”۔ارسلان صاحب نے بھی کہا۔اور فون رکھ دیا۔فرقان نے فیضان اور حیدر کو سب بتایا۔پھر وہ لوگ واپس آگئے۔
*******
اس ہی دھوپ چھاؤں میں ان لوگوں کو یہاں ایک مہینہ ہوگیا تھا۔اور اب خیر سے بارشوں کا سلسلہ بھی رک گیا تھا۔اور روڈ صاف ہونے لگے تھے۔اور اس بیچ ہمدان صاحب نے فون پر بتایا کہ ان لوگوں کو بہت مشکل سے شہلا کیلئے ایک نرس ملی ہے۔کیونکہ شہلا کے رویے کی وجہ سے کوئی بھی نرس زیادہ دیر رک نہیں پائی تھی۔شہلا بھی اب اس نرس سے تھوڑی مانوس ہوگئی تھی۔اسکی بات مان لیتی تھی۔ادھر جیسے ہی راستے صاف ہوئے فوراً سب نے واپسی کی تیاری پکڑی۔کافی لمبے سفر کے بعد آخر وہ لوگ کراچی واپس پہنچ گئے۔اور سب کی جان میں جان آئی۔
********
سب ڈاکٹرز سیدھا ہوسپٹل پر ہی آئے تھے۔پھر یہاں آکر حیدر نے گھر فون کیا تو عدنان صاحب نے نادر کو گاڑی لے کر بھیجا ان لوگوں کو لینے کیلئے۔تھوڑی دیر میں نادر انہیں لینے آگیا۔پھر پورے راستے وہ ان لوگوں کو ان دوران ہونے والے واقعیات بتاتا رہا۔اور ساتھ ہی اس نرس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلبے ملاتا رہا۔پھر تھوڑی دیر میں وہ لوگ گھر پہنچ گئے۔اور سب سیدھا شہلا کے کمرے میں گئے۔شہلا اپنے بیڈ پر آنکھیں بند کئے لیٹی ہوئی تھی۔اور بیماری کی وجہ سے بہت کمزور ہوگئی تھی۔لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہی رعب و دبدبے والی شہلا ہے۔جو اپنے آگے کسی کی نہیں چلنے دیتی تھی۔ان لوگوں کی آواز سن کر شہلا نے آنکھیں کھول دیں۔
“آگئے میرے بچے”۔شہلا نے خوشی سے کہا۔بیڈ کی ایک جانب فرقان بیٹھ گیا اور دوسری جانب فیضان۔
“یہ سب کیا ہوگیا امی ہم تو آپکو بالکل سہی چھوڑ کرگئے تھے”۔فیضان نے شہلا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
“دیکھ لو تھوڑے دنوں کیلئے تم لوگ مجھ سے دور کیا گئے، کیا حالت ہوگئی میری”۔شہلا نے کہا۔
“اب دوبارہ نہیں جائیں گے ہم آپکو چھوڑ کر ،بس آپ جلدی سے یہ بستر چھوڑیں”۔فرقان نے بھی شہلا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
“بیٹا اس بستر نے تو مجھے جکڑ ہی لیا ہے چھوڑتا ہی نہیں ہے، وہ تو بھلا ہو اس بچی کا جو میری اپنی اولاد سے زیادہ میری خدمات میں لگی رہتی ہے”۔شہلا نے کہا۔
“اب چلو تم لوگ بھی اتنی دور سے تھک ہار کر آئے ہو ،جاکر فریش ہو ،کچھ کھاؤ پیو پھر آرام سے بیٹھ کر باتیں کرتے رہنا”۔ارسلان صاحب نے کہا۔پھر وہ لوگ فریش وغیرہ ہونے چلے گئے۔
**********
“ہائے ! بندہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، پر جو سکون اپنے گھر میں ملتا ہے وہ دنیا کے کسی کونے میں نہیں”۔حیدر نے ہال میں رکھے ہوئے صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ کر کہا۔حیدر ابھی ابھی نہا کر آیا تھا۔
“ہاں بھائی سہی کہہ رہے ہو ،اور پتہ ہے ایسا کیوں ہوتا ہے، کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں گھر جیسا سکون کیوں نہیں ملتا؟۔نادر نے کہا۔جو کے وہیں صوفے پر ہی بیٹھا فون میں گیم کھیل رہا تھا۔
“کیوں نہیں ملتا بتا؟۔حیدر نے پوچھا۔
“کیونکہ دنیا کا کوئی کونا ہی نہیں ہوتا، دنیا گول ہے”۔نادر نے شرارت سے کہا۔
“چل جا میرے لئے ٹھنڈا پانی لے کر آ”۔حیدر نے نادر کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
“خود جا کر پی لو ،اللّه پاک نے پیر دیے ہیں ناں”۔نادر نے گیم کھیلتے ہوئے کہا۔
“پیر تو ہیں ،پر ہمت نہیں ہے”۔حیدر نے سستی سے کہا۔
“بری بات بھائی ، پیروں کی قدر و قیمت کیا ہوتی ہے! یہ اس وقت کوئی شہلا تائی سے پوچھے”۔نادر نے کہا۔
“ہممم! کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو”۔حیدر نے بھی سیدھے ہوتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“ویسے وہ نرس صاحبہ ہیں کہاں جو تائی کی دیکھ بھال کیلئے رکھی ہوئی ہے؟۔حیدر نے پوچھا۔
“کچن میں ہیں”۔نادر نے بتایا۔
“ہیں کچن میں ! کیوں! کیا تائی کی کیئر ٹیکر کے ساتھ ساتھ اسے یہاں خانساما بھی رکھ لیا ہے؟حیدر نے تعجب سے پوچھا۔
“ارے نہیں بھائی ،وہ تو ایک دفعہ تائی کھانا نہیں کھا رہی تھیں ،تو انھوں نے تائی کو کوئی سوپ بنا کر پلا دیا تھا ،بس تب سے تائی کو وہ سوپ اچھا لگ گیا ،ہر دوسرے دن فرمائش کردیتی ہیں سوپ کی ،تو بس وہی بنا رہی ہیں وہ کچن میں”۔نادر نے تفصیلات بتائی۔
“اوہ اچھا!۔حیدر نے کہا۔نادر اتنے میں اٹھ کر کہیں چلا گیا۔
“یہ لو بھائی”۔نادر نے ٹھنڈے پانی کا گلاس حیدر کی جانب بڑھا کر کہا۔
“بڑی جلدی یاد آگیا، تھینک یو”۔حیدر نے گلاس پکڑتے ہوئے کہا۔
“جب کوئی پانی دیتا ہے تو تھینک یو نہیں جزاک اللّه کہتے ہیں”نادر نے واپس صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اچھا ! جزاک اللّه”۔حیدر نے کہا۔پھر پانی پی کر گلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔اتنے میں فیضان بھی نیچے آگیا تھا۔اور شہلا کے کمرے کی جانب جانے لگا۔حیدر بھی اٹھ کر اس کے پیچھے آگیا۔
شہلا بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی۔اور اور سامنے صوفے پر ارسلان صاحب اور بلقیس بیگم بیٹھے ہوئے تھے۔فیضان جاکر بیڈ پر شہلا کے برابر میں ہی بیٹھ گیا۔
“کھانا کھا لیا؟۔شہلا نے فیضان نے پوچھا۔
“نہیں امی ابھی دل نہیں چاہ رہا”۔فیضان نے کہا۔
“بیٹا اتنے لمبے سفر سے تھک ہار کر آئے ہو کچھ کھا پی تو لو”۔شہلا نے کہا۔
“آپ نے کھانا کھایا؟۔فیضان نے پوچھا۔
“نہیں ابھی تک تو نہیں کھایا، پر میرے لئے سوپ آرہا ہے ابھی”۔شہلا نے کہا۔
“آ نہیں رہا آگیا اور آگئی”۔حیدر نے کہا۔حیدر کے کہنے پر فیضان نے دروازے کی جانب دیکھا تو دنگ رہ گیا۔دروازے پر انعم سوپ کا پیالہ ہاتھ میں لئے کھڑی تھی۔فیضان کو دیکھ کر انعم بھی حیران ہوگئی۔
“ارے رک کیوں گئی بیٹی آؤ”۔بلقیس بیگم نے انعم کو کہا۔جو فیضان کو دیکھ کر اپنی جگہ ساکت ہوگئی تھی۔بلقیس بیگم کے کہنے پر انعم آہستہ سے چلتے ہوئے بیڈ کی دوسری جانب آئی۔اور سوپ کا پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
“انعم یہ ہے میرا بیٹا فیضان، اور فیضان یہ ہے وہ فرشتہ جس نے میری وہ خدمات کی ہے کہ میری اپنی بیٹی نے بھی کیا کی ہوگی”۔شہلا نے تعارف کرایا۔دونوں نے کچھ نہیں کہا۔
“بیٹھو ،کھڑی کیوں ہو!۔شہلا نے کہا۔انعم وہیں بیڈ کی ایک سائیڈ پر بیٹھ گئی۔پھر مومنہ اور فرقان بھی کمرے میں آگئے۔اور انعم کو دیکھ کر دونوں کو جھٹکا لگا۔”ارے انع……!۔مومنہ بولنے ہی والی تھی کہ فرقان نے اسے کونی مار کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
“ارے آؤ آؤ تم دونوں بھی، مومنہ بچوں سے ملی تم! بیچارے تمہاری غیر موجودگی میں بہت اداس ہوگئے تھے”۔شہلا نے کہا۔
“جی امی ابھی ان کے پاس سے ہی آرہے ہیں ہم”۔فرقان نے بیڈ پر شہلا کے پیروں کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔اور مومنہ صوفے پر بیٹھ گئی۔
“شہلا سوپ پی لو ٹھنڈا ہورہا ہے”۔بلقیس بیگم نے دھیان دلایا۔
“اوہ! ہاں پلاؤ انعم”۔شہلا نے کہا۔
“اب آپکے بیٹے آگئے ہیں ،ان سے بولیں آج وہ پلا دیں گے”۔انعم نے سوپ کا پیالہ شہلا کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“ہاں یہ بھی ہے، لو فیضان آج تم پلاؤ”۔شہلا نے سوپ کا پیالہ لے کر فیضان کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔فیضان نے پیالہ پکڑ لیا۔اور آہستہ آہستہ شہلا کو سوپ پلانے لگا۔اور تھوڑی دیر میں سب لوگ ہی کمرے میں جمع ہوگئے۔پھر انعم وہاں سے اٹھ کر باہر آگئی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *