Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 (Watching)Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔حیدر اپنے کمرے کی گیلری میں ریلنگ سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوا تھا۔
“ٹک ٹک ٹک”۔تب ہی کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔
“آجاؤ”۔حیدر نے آواز دی۔
“کیا کررہے ہو!۔فیضان نے بھی گیلری میں داخل ہوتے پوچھا۔
“جوتے سی رہا ہوں”۔حیدر نے کہا۔
“پریشان ہو کیا کسی بات پر!۔فیضان نے بھی ریلنگ سے ٹیک لگا کر پوچھا۔
“نہیں تو”۔حیدر نے کہا۔
“فاریہ کی وجہ سے اپ سیٹ ہو!۔فیضان نے پوچھا۔
“کیا مطلب ! فاریہ کو کیا ہوا؟۔حیدر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب کہ میں کچھ دنوں سے نوٹ کررہا ہوں کہ تم دونوں کچھ الگ الگ سے لگ رہے ہو”۔فیضان نے کہا۔
“نہیں تو ، ایسے ہی تمہارا وہم ہے ، ورنہ سب ٹھیک تو ہے”۔حیدر نے جھوٹ بولا۔
“خیر چھوڑو یہ بتاؤ کے انعم کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے ! ایڈجسٹ ہوگئی وہ کالج کے ماحول میں!۔حیدر نے بات بدلی۔
“ہاں ، ٹھیک چل رہی ہے، اور ماشاءاللّه اب امی کی طبیعت بھی بہتر ہوتی جارہی ہے،بس جلدی سے وہ چلنے پھرنے بھی لگ جائیں”۔فیضان نے کہا۔
“کیوں رخصتی کا انتظار نہیں ہورہا!۔حیدر نے معنی خیزی سے کہا۔
“نہیں یار ، ایسے ہی بس وہ خود سے چلنے پھرنے لگیں گی تو ان کیلئے ہی اچھا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“حیدر ! سچی بتاؤ ، تمہارے اور فاریہ کے بیچ سب ٹھیک چل رہا ہے ناں !۔فیضان نے کھوجتی ہوئی نظروں سے حیدر کو دیکھتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
“ہاں ہاں…سب ٹھیک ہے یار ابھی تو بتایا ہے”۔حیدر نے اپنے آپ کو نارمل رکھتے ہوئے کہا۔
“پکا !۔فیضان نے آئبرو اچکا کر پوچھا۔
“ہاں ناں یار ، کیا یہ تم الٹی سیدھی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو”۔حیدر نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
“یار مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے ، کہ تمہارے اور فاریہ کے بیچ کچھ مسلہ ہوا ہے ، تم لوگ مجھے کافی کھینچے کھینچے سے لگتے ہو”۔فیضان نے کہا۔وہ حیدر کی بات سے مطمئن نہیں ہورہا تھا۔
“فیضان تم پاگل ہوگئے ہو، اب بھلا ہوسپٹل میں ہم اپنا کام کریں گے یا ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہیں گے، کام کے ٹائم پر کام کرتے ہیں اور جب تھوڑی دیر فری ہوتے ہیں تو بات چیت بھی کر لیتے ہیں”۔حیدر نے کہا۔
“دیکھو حیدر میں نہیں جانتا کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ، تم اگر مجھے بتانا نہیں چاہتے ہو تو کوئی بات نہیں ، ہاں جب بھی کبھی تمہیں میری مدد کی ضرورت پڑے تم بلاجھجھک مجھے کہہ سکتے ہو”۔فیضان نے حیدر کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔اور جانے کیلئے پلٹا۔
“فیضان !۔حیدر نے پکارا۔
“ہمم! بولو”۔فیضان نے واپس حیدر کی جانب گھوم کر کہا۔اور حیدر اچانک سے فیضان کے گلے لگ گیا۔
“یار فیضان وہ مجھ سے بہت بدگمان ہے”۔حیدر نے فیضان کے گلے لگ کر کہا۔اور فیضان حیدر کی اس بات پر ہکابکا رہ گیا۔
“کون بدگمان ہے”۔فیضان نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“فاریہ ،اسے نا میری محبت پر یقین ہے نا میری بے گناہی پر”۔حیدر نے بتایا۔
“کیا مطلب ؟ کون سی بے گناہی کیا کہہ رہے ہو تم؟۔فیضان نے الجھ کر پوچھا۔
“یار اسے لگتا ہے کہ خرد کی موت کا زمیدار میں ہوں”۔حیدر نے بتایا۔
“کیا ! یہ خرد کہاں سے آگئی بیچ میں؟۔فیضان نے ناسمجھی سے پوچھا۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ حیدر کیا بات کررہا ہے!۔
“یہاں بیٹھو تم”۔فیضان نے حیدر کو گیلری میں رکھی ہوئی ایزی چیئر پر بٹھایا۔
“اب آرام و تحمل سے اور شروع سے بتاؤ کہ آخر بات کیا ہے”۔فیضان نے بھی دوسری کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“یار فاریہ خرد کی خالہ زاد بہن ہے”۔حیدر نے بتایا۔
“کیا !۔فیضان نے حیرانگی سے کہا۔
“ہاں ! مومنہ بھابھی نے فاریہ اور خرد کی تصویر فاریہ کہ گھر پر دیکھی تھی………………….!۔پھر حیدر نے شروع سے لے کر اب تک فیضان کو ساری بات بتا دی۔
“اوہ مائی گاڈ ! مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا”۔فیضان نے بے یقینی سے کہا۔
“اسے بھی یقین نہیں آرہا ہے کہ میں بے قصور ہوں ، اسے لگتا ہے کہ خرد میری وجہ سے مری ہے ، اور میں اس سے بھی کوئی محبت نہیں کرتا، میں نے اس سے کہا بھی کہ اگر وہ میرے ساتھ اسی طرح پیش آتی رہی تو میں مر جاؤں گا ، پر اس نے کہا کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں جیوں یا مروں”۔حیدر نے مزید بتایا۔
“تو تم بھی تو پاگل ہو ناں ، کیا ضرورت تھی اس پر یہ ظاہر کرنے کی کہ تم اسکے بنا نہیں جی سکتے ، تمہیں اسکے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہئے تھا، تم ایسا ظاہر کرتے کہ جیسے تمہیں اس کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا”۔فیضان نے کہا۔
“پر یار سچ میں ، میں اس سے بہت محبت کرنے لگا ہوں ، اور میں اس کے بنا نہیں رہ سکتا”۔حیدر نے کہا۔
“ہاں میں جانتا ہوں ، پر اگر تم اسے کھونا نہیں چاہتے ہو تو اب تمہیں ان سب کا سامنا بہت مظبوط ہوکر کرنا پڑے گا”۔فیضان نے کہا۔
“کیا مطلب ؟۔حیدر نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب جو ہوگیا سو ہوگیا ، پر اب تم فاریہ کے سامنے کمزور نہیں پڑو گے، بلکہ اس پر یہ ظاہر کرو گے کہ تمہیں بھی اس کے ہونے یا نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا”۔فیضان نے کہا۔
“نہیں یار میں ایسا نہیں کرسکتا ، میں اس کے بنا….!
“پتہ ہے مجھے تم اسکے بنا نہیں رہ سکتے ، اس لئے ہی بول رہا ہوں، اگر اس کے دل میں تمہارے لئے زرہ برابر بھی محبت ہوگی نا ، تو وہ بھی تمہارے نظر انداز کرنے پر ایسے ہی تڑپے گی ، جیسے تم تڑپ رہے ہو”۔فیضان نے کہا۔
“نہیں یار، میں اسے تڑپنا نہیں چاہتا”۔حیدر نے کہا۔اور فیضان سر پیٹ کر رہ گیا۔
“ارے یار ، صرف کچھ دنوں کی تو بات ہے ، اگر وہ بھی تمہارے نظر انداز کرنے سے بے چین ہوگئی تو سمجھ لینا وہ بس اوپر اوپر سے تم سے خفا ہے ، اندر ہی اندر وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے”۔فیضان نے کہا۔
“اور اگر اسے میرے نظر انداز کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑا تو!۔حیدر نے خدشہ ظاہر کیا۔
“تو پھر تم بھی اپنا راستہ بدل لینا ، اس پر اپنے جذبات و احساسات ضائع مت کرنا”۔فیضان نے آرام سے کہا۔
“نہیں یار یہ مجھ سے نہیں ہوگا”۔حیدر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
“یار مجھے پتہ ہے کہ تمہارے لئے یہ تھوڑا مشکل ضرور ہوگا پر یہ ناممکن بھی نہیں ہے، صرف کچھ دنوں کیلئے اپنے دل پر پتھر رکھ لو”۔فیضان نے کہا۔حیدر سوچ میں پڑگیا۔
“میرا یقین کرو ، یہ سب میں تمہارے بھلے کیلئے ہی بول رہا ہوں”۔فیضان نے کہا۔
“اچھا یہ بتاؤ تم نے دیکھا ہے ناں کہ فیروزہ چچی کیسے تمہاری چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر پریشان ہوجاتی ہیں”۔فیضان نے پوچھا۔
“ہاں دیکھا ہے”۔حیدر نے کہا۔
“اور اگر انکے بس میں ہو تو وہ تمہاری ساری پریشانیاں اور مشکلیں دور کردیں”۔فیضان نے کہا۔
“ہاں تو؟۔حیدر نے کہا۔
“تو صرف ایک ماں ہم سے اتنا پیار کرتی ہے اور وہ بھی دنیاوی ، تو اب ذرا سوچو کے اللّه پاک تو ہم سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر بھی ہے، تو پھر وہ کیسے ہمیں کسی مشکل میں چھوڑ سکتا ہے ! ، وہ ہمیں آزمائشوں میں ڈال کر ہمیں مظبوط بناتا ہے ، کیونکہ سونے کو بھی کھرا ہونے کیلئے آگ سہنی پڑتی ہے ، اور اگر کوئی بچہ اپنی نادانی میں آگ کو کوئی چمکتی ہوئی چیز سمجھ کر پکڑنے کی ضد کرے تو کیا ماں اسے پکڑنے دے گی ! نہیں ناں ! تو ایسے ہی ہم اپنی نادانی میں پتہ نہیں کس کس چیز کی خواہش کر بیٹھتے ہیں ، پر اللّه پاک بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لئے کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں ، کیونکہ اللّه پاک ہمیں وہ نہیں دیتا جو ہمیں اچھا لگتا ہے ، اللّه پاک ہمیں وہ دیتا ہے جو ہمارے لئے اچھا ہوتا ہے”۔فیضان نے سمجھایا۔
“ہممم! تم ٹھیک کہہ رہے ہو”۔حیدر نے کہا۔
“میں کبھی غلط بولتا ہی نہیں”۔فیضان نے مصنوئی اکڑ سے کہا۔
“دیکھو جیسا میں بولتا ہوں ویسا کرو،بس کچھ دن اپنے دل پر پتھر رکھ لو، اور ہاں اس بیچ کہیں جوش میں آکر فون نا گھوما دینا فاریہ کو سمجھے!۔فیضان نے کہا۔
“ہممم! سمجھ گیا”۔حیدر نے کہا۔
“تو پھر ڈن ہے ، آج سے تمہارا میشن “i.f” شروع”۔فیضان نے کہا۔
“کیا مطلب “i.f”؟۔حیدر نے پوچھا۔
“ارے “i.f” مطلب “ignore Faariya”۔فیضان نے کہا۔اور حیدر اسے گھور کر رہ گیا۔
*******
اور اگلے دن سے نا چاہتے ہوئے بھی حیدر نے فیضان کی باتوں پر عمل کرنے کا ارادہ کرلیا۔پر اتفاق سے آج فاریہ ہوسپٹل نہیں آئی تھی۔اسکی امی کی طبیعت خراب تھی۔حیدر کو سب کچھ بہت خالی خالی لگ رہا تھا۔ویسے بھی جب وہ آتی تھی تو اس سے بات تو نہیں کرتی تھی۔پر کم از کم اسکی نظروں کے سامنے تو ہوتی تھی۔اس لئے حیدر کا کام میں بھی دل نہیں لگ رہا تھا۔حیدر نے فائلیں بند کیں۔اور فون اٹھا لیا۔حیدر نے فون بک اوپن کی اور ایک نمبر پر آکر رک گیا۔پر پھر اسے فیضان کی بات یاد آگئی کہ
“بس کچھ دن اپنے دل پر پتھر رکھ لو”۔حیدر نے سب کچھ واپس بیک کیا اور فوٹو گیلری کھول لی۔اور اپنی اور فاریہ کی تصویریں دیکھنے لگا۔ تصویریں سلائڈ کرتے ہوئے حیدر کا ہاتھ ایک تصویر پر رکا۔یہ وہی تصویر تھی جو تابش نے اچانک سے ہی دونوں کو بنا بتائے کھینچی تھی۔تصویر میں فاریہ اور حیدر دونوں جھولے پر بیٹھے ہوئے تھے۔فاریہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔اور اسکے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی شریر سی مسکراہٹ تھی۔اور حیدر حیران حیران سا فاریہ کی جانب دیکھ رہا تھا۔حیدر اس تصویر کو بہت غور سے دیکھنے لگا۔اسے فاریہ بہت شدت سے یاد آرہی تھی۔حیدر تصویریں دیکھ ہی رہا تھا کہ تب ہی ایک پیشنٹ آگیا۔اور حیدر اس میں بیزی ہوگیا۔
*******
فاریہ آج امی کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہوسپٹل نہیں جاپائی تھی۔انکا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا۔ابھی انکی حالت سمبھال چکی تھی۔اور وہ سو رہی تھی۔سجاد صاحب بھی آفس سے آچکے تھے۔کھانا وغیرہ کھانے کے بعد فاریہ آئمہ کو دوائی وغیرہ دے کر کمرے میں آگئی۔اور بیڈ پر آنکھیں بند کرکے لیٹ گئی۔آنکھیں بند کرتے ہی اسے حیدر کا چہرہ نظر آیا۔فاریہ نے جھٹ سے آنکھیں کھول دی۔آج صرف ایک دن اس نے حیدر کو نہیں دیکھا تھا۔اور اسے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے پتہ نہیں کتنے دن ہوگئے ہوں۔فاریہ نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا فون اٹھایا اور فون بک اوپن کی اور ایک نمبر پر آکر رک گئی۔تھوڑی دیر تک وہ اس نمبر کو دیکھتی رہی جس پر “Haider” لکھا ہوا تھا۔پھر فاریہ نے سب کچھ واپس بیک کیا اور فوٹو گیلری کھول لی۔اور اپنی اور حیدر کی نکاح کی تصویریں دیکھنے لگی۔ تصویریں سلائڈ کرتے ہوئے فاریہ کا ہاتھ ایک تصویر پر رکا۔یہ وہی تصویر تھی جو تابش نے اچانک سے ہی دونوں کو بنا بتائے کھینچی تھی۔تصویر میں فاریہ اور حیدر دونوں جھولے پر بیٹھے ہوئے تھے۔فاریہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔اور اسکے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی شریر سی مسکراہٹ تھی۔اور حیدر حیران حیران سا فاریہ کی جانب دیکھ رہا تھا۔فاریہ اس تصویر کو بہت غور سے دیکھنے لگی۔اسے حیدر کی بہت شدت سے یاد آرہی تھی۔فاریہ غیرارادی طور پر تصویر پر انگلیاں پھیرنے لگی۔اور فاریہ کا دماغ کہہ رہا تھا کہ پاگل ہوگئی ہو ! یہی تو تمہاری بہن کا قاتل ہے۔اور دل کہہ رہا تھا کہ کچھ بھی ہو یہ اب تمہارا شوہر بھی ہے اور تم سے پیار بھی کرتا ہے۔اگر تم اپنی ضد میں آکر اسے چھوڑتی ہو تو سوچا ہے کہ تمہارے ماں باپ پر کیا گزرے گی۔اور تم بھی تو اس سے محبت کرنے لگی ہو ناں۔فاریہ کے دل نے کہا۔
“ہاں مجھے بھی اس سے محبت ہوگئی ہے”۔فاریہ نے کہا۔فاریہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب وہ حیدر کو اتنا ہرٹ نہیں کرے گی۔دل اور دماغ کے بیچ چلتی جنگ میں آخر کار جیت دل کی ہوئی۔اسکے ہونٹوں پر ایک ہلکی سے مسکراہٹ آگئی۔اور ساتھ ہی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر تکیے میں جذب ہوگیا۔
*******
جاری ہے
