Raaz (Season 1) by Faryal Khan NovelR50801 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26
Rate this Novel
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode01 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode02 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode03 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode04 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode05 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode06 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode07 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode08 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode09 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode10 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode11 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode12 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode13 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode14 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode15 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode16 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode17 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode18 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode19 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode20 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode21 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode22 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode23 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode24 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode25 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26 (Watching)Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode27 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode28 Raaz (Season 1) by Faryal Khan Last Episode
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26
Raaz (Season 1) by Faryal Khan Episode26
“السلام و علیکم”۔فاریہ نے قریب آتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام، کل کہاں غائب تھی ؟۔مومنہ نے پوچھا۔سب ڈاکٹرز اس وقت اپنی ڈیوٹی پر آرہے تھے۔کہ تب ہی فاریہ کو یہ چاروں بھی کوریڈور میں نظر آگئے۔تو فاریہ سلام دعا کیلئے ان لوگوں کے پاس چلی آئی۔
“دراصل میری مما کی طبیعت خراب تھی کل ، انکو چھوڑ کر ہوسپٹل آنے لگی تو اداس ہوگئیں تھیں وہ، اس لئے نہیں آئی تھی۔فاریہ نے بتایا۔
“چلو اللّه ان پر کرم کرے، ویسے اداس تو کوئی اور بھی ہوگیا تھا یہاں، ہیں ناں حیدر”۔فرقان نے آخری جملہ معنی خیزی سے حیدر کی جانب دیکھ کر کہتے ہوئے تائید چاہی۔اور فیضان نے حیدر کو کونی مار کر اکسایا کہ فرقان بھائی کی بات کی تردید کرے۔
“نہیں تو بھیا ، بلکہ مجھے تو پتہ بھی نہیں چلا تھا کہ کل یہ نہیں آئیں تھیں ! ہوسپٹل میں ہی اتنا کام ہوتا ہے کہ اور کچھ سوچنے کا ٹائم ہی نہیں ملتا”۔حیدر نے لاپرواہی سے فرقان کو کہا۔
“اور ابھی بھی ہم یہاں کھڑے ہوکر اپنا وقت ضائع کررہے ہیں ، ہمیں اپنی ڈیوٹی پر جانا چاہئے اب”۔حیدر نے کہا.حیدر نے اس دوران ایک نظر بھی فاریہ کی جانب نہیں دیکھا تھا۔اور فاریہ حیران سی حیدر کو دیکھنے لگی۔جیسے اسے حیدر سے اس بات کی امید نا ہو۔
“ہاں چلتے ہیں ہم ، پھر لنچ ٹائم پر ملاقات ہوگی”۔مومنہ نے کہا۔اور چاروں اپنے اپنے روم کی جانب بڑھ گئے۔اور فاریہ وہیں کھڑی حیدر کو جاتا ہوا دیکھتی رہی۔
“نظروں سے بھی چوٹ لگتی ہے جناب”
“جب کوئی دیکھ کر بھی اندیکھا کردیتا ہے”
*******
“ہاۓ حیدر! کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں!”۔فاریہ نے پوچھا۔وہ دونوں اس وقت کینٹین میں موجود تھے کہ تب ہی فاریہ نے حیدر کی ٹیبل کے پاس آتے ہوئے کہا۔حیدر اپنا فون چلا رہا تھا۔اس سے پہلے کے حیدر اپنے جذبات پر سے قابو کھوتا اسکی نظر فاریہ کے عقب میں بیٹھے فیضان پر پڑی۔جو کہ “خبردار” کرتی ہوئی نگاہوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔ لنچ ٹائم ہوتے ہی فیضان فوراً کینٹین کی جانب آیا۔کیونکہ اسے پتہ تھا کہ حیدر یقیناً فاریہ سے بات کرنے کیلئے تڑپ رہا ہوگا۔اور کہیں غلطی سے وہ فاریہ سے بات نا کرلے۔ورنہ سارے کئے کراۓ پر پانی پھیر جاتا۔اور وہی ہوا فاریہ اور حیدر دونوں ہی کینٹین میں موجود تھے۔
“جی بیٹھ جائیں ، یہ کینٹین کوئی میری جاگیر تھوڑی ہے جو آپ مجھ سے اجازت مانگ رہی ہیں”۔حیدر نے بے تاثر لہجے میں واپس نظریں فون پر رکھتے ہوئے کہا۔فاریہ کو حیرت ہوئی۔
“نہیں ! تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا”۔فاریہ نے وضاحت کی۔
“نہیں مجھے تو نہیں ہوگا ، پر کرن کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا”۔حیدر نے ہنوز اسی انداز میں کہا۔
“کون کرن؟۔فاریہ نے نا سمجھی سے پوچھا۔
“ڈاکٹر کرن ، دراصل میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ آج لنچ اسکے ساتھ کروں گا”۔حیدر نے بتایا۔فاریہ کو دکھ ہوا۔
“پ…پر وہ آئی تو نہیں ابھی تک”۔فاریہ نے اٹک کر کہا۔
“ہاں ، ملی تھی مجھے کوریڈور میں ، اس نے کہا کہ تم چلو میں بس تھوڑی دیر میں آتی ہوں، تو اسی کا انتظار کررہا ہوں”۔حیدر نے کہا۔
“تم اسکا انتظار کررہے ہو”۔فاریہ نے بے یقینی سے پوچھا۔حیدر نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے ، تو پھر تم دونوں انجوئے کرو، میں چلتی ہوں، بلاوجہ تم لوگ ڈسٹرب ہوگے”۔فاریہ نے بامشکل اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا۔
“ہمم! تھینکس”۔حیدر نے کہا۔اور فاریہ جانے کیلئے پلٹ گئی۔حیدر نے اس دوران ایک دفعہ بھی نظر اٹھا کر فاریہ کو نہیں دیکھا تھا۔
“فاریہ !۔حیدر نے پکارا۔فاریہ رک کر خوشی سے پلٹی۔
“ہاں بولو”۔فاریہ نے خوشی سے پوچھا۔
“اپنا اسکیتھسکوپ تو لے لو”۔حیدر نے ٹیبل پر رکھیے اسکیتھسکوپ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جو کہ فاریہ نے باتوں کے دوران وہاں رکھ دیا تھا۔اور فاریہ کی امیدوں پر اوس گر گئی۔
“تھینکس”۔فاریہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ایک جھٹکے سے اسکیتھسکوپ اٹھایا اور تیز تیز قدم اٹھاتی کینٹین سے باہر نکل گئی۔اور حیدر بے بسی سے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
“واہ یار کیا ایکٹنگ کی ہے، تمہیں تو ڈاکٹر نہیں ایکٹر ہونا چاہئے تھا”۔فاریہ کے جانے کے بعد فیضان نے کرسی کھینچ کر حیدر کی ٹیبل پر ہی بیٹھتے ہوئے کہا۔حیدر نے کوئی جواب نہیں دیا اور فون چلاتا رہا۔
“کیا ہوگیا ! تم سے بات کررہا ہوں میں”۔فیضان نے جواب نا پاکر کہا۔
“بنا لنچ کئے چلی گئی وہ”۔حیدر نے فیضان کی جانب دیکھ کر کہا۔
“ہاں تو میں نے منع کیا تھا اسے کہ لنچ نا کرے!۔فیضان نے کہا۔
“نہیں ! پر مجھے یہ سب کرنے کیلئے تو تم نے ہی بولا تھا ناں”۔حیدر نے تنک کر کہا۔
“تم بھی ناں بہت بڑے ڈیش ہو”۔فیضان نے کہا۔
“کیا مطلب ؟۔حیدر نے پوچھا۔
“مطلب کہ میں نے تمہیں کیا کہا تھا کہ اگر تمہارے نظر انداز کرنے کا فاریہ پر کوئی اثر نہیں ہو تو سمجھ لینا کہ اسکے دل میں تمہارے لئے کوئی محبت نہیں ہے،اور اگر وہ تمہارے نظر انداز کرنے سے بے چین ہوجائے تو سمجھ لینا کہ…..!۔فیضان نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔
“کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے”۔حیدر نے فیضان کی بات سمجھتے ہوئے خوشی سے کہا۔
“ہاں ! اور مبارک ہو ، تمہاری دعا قبول ہوگئی، اسے بھی تم سے محبت ہوگئی”۔فیضان نے کہا۔
“ہاں یار ، مطلب کے وہ اس امتحان میں پاس ہوگئی ہے ، تو اب تو میں اس سے بات کر سکتا ہوں ناں! بلکہ میں ابھی جاتا ہوں”۔حیدر نے جوش سے کہا۔اور جانے کیلئے کھڑا ہونے لگا۔
“ارے ابھی نہیں ، بیٹھے رہو یہاں پر آرام سے”۔فیضان نے حیدر کا بازو پکڑ کر اسے واپس بیٹھاتے ہوئے کہا۔
“کیوں ! اب کیا مسلہ ہے!۔حیدر نے پوچھا۔
“ابھی اتنی جلدی اس پر سب ظاہر مت کرو، کچھ دن تک سب ایسے ہی چلنے دو، اسے بھی تو پتہ چلنا چاہئے ناں کہ جب محبوب نظر انداز کرتا ہے تو کیسا لگتا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“نہیں یار ، میں جانتا ہوں ناں کہ یہ تڑپ کیسی ہوتی ہے ، اور میں ہرگز نہیں چاہتا کہ فاریہ کو میری وجہ سے کوئی تکلیف پہنچے”۔حیدر نے کہا۔
“میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں، پر حیدر تم بھی میری بات سمجھنے کی کوشش کرو ، سونے کو اگر آگ میں ڈالا جائے تو اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا ، بلکہ وہ تو اور کھرا اور قیمتی ہوجاتا ہے”۔فیضان نے کہا۔
“پر یار”۔حیدر نے کہا۔
“پلیز ! صرف کچھ دن اور پھر میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر فاریہ تمہاری بات نہیں مانی تو میں خود اس سے بات کروں گا ، اور بتاؤں گا کہ یہ سب کچھ میں نے تمہیں کرنے کا کہا تھا”۔فیضان نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، پر صرف کچھ دن”۔حیدر نے کہا۔
“ٹھیک ہے”۔فیضان نے کہا۔اور حیدر کھڑا ہوگیا۔
“کہاں جارہے ہو ! لنچ تو کر لو”۔فیضان نے حیدر کو کھڑے ہوتے دیکھ کر کہا۔
“نہیں یار ، دل نہیں چاہ رہا ، تم کر لو، میں چلتا ہوں”۔حیدر نے کہا۔اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔اور فیضان حیدر کو جاتا ہوا دیکھ کر مسکرانے لگا۔اسے پتہ تھا کہ حیدر نے فاریہ کی وجہ سے لنچ نہیں کیا ہے۔کیونکہ وہ بھی بنا لنچ کئے ہی چلی گئی تھی۔
******
فاریہ اس وقت اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی آج کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ پورا دن ایسے ہی گزرا۔حیدر نے فاریہ کو بالکل نظر انداز کیا ہوا تھا۔اور فاریہ کو حیدر کے اس رویے سے بہت دکھ ہورہا تھا۔فاریہ کا موڈ بھی اس لئے خراب تھا۔فاریہ کیلئے پتہ نہیں کیوں حیدر کو نظر انداز کرنا مشکل ہورہا تھا۔جب بھی وہ اسکے سامنے ہوتا وہ اس سے بات کرنے پر مجبور ہوجاتی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ شاید وہ حیدر کی محبت کے آگے ہارنے لگی ہے۔ہاں اس بات کا فاریہ کو تھوڑا دکھ ضرور تھا کہ اسے اپنی بہن کے مجرم سے ہی محبت ہوگئی ہے۔پر محبت تو چیز ہی ایسی ہے۔پر فاریہ کو دکھ ہورہا تھا کہ اب تو اس نے فیصلہ کیا تھا کہ حیدر کو زیادہ تنگ نہیں کرے گی۔پر اب حیدر نے اسے نظر انداز کرنا شروع کردیا تھا۔پھر فاریہ کو خیال آیا کہ اس نے بھی تو حیدر کو کتنا پریشان کیا ہے۔اب اسکا بھی اتنا حق تو بنتا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے وہ مسکرادی۔
*****
“ہاۓ حیدر ! کیسے ہو!۔فاریہ نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔اگلے دن حیدر لنچ ٹائم پر کینٹین میں بیٹھا ہوا تھا۔جب فاریہ بھی اسکے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔
“ٹھیک ہوں”۔حیدر نے بظاہر لاپرواہی سے جواب دیا۔پر اندر ہی اندر اس سے بات کرنے کیلئے بے چین ہورہا تھا۔
“کیا ہوا ! آج اکیلے ہی بیٹھے ہو ، ڈاکٹر کرن نہیں آئیں ابھی تک؟۔فاریہ نے جوس پیتے ہوئے عام سے لہجے میں پوچھا۔
“نہیں آج وہ بیزی ہیں”۔حیدر کو فاریہ سے اس سوال کی توقع نہیں تھی۔اس لئے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئےجھوٹ بولا۔
“ہمم! تو تم ایسے بیٹھے کیوں ہو ! کینٹین میں آئے ہو ، لنچ ٹائم بھی ہے ، کچھ کھالو”۔فاریہ نے حیدر کو ایسے ہی سینے پر ہاتھ باندھ کر بیٹھا ہوا دیکھتے ہوئے سینڈوچ کی بائٹ لے کر کہا۔حیدر فاریہ کے اس رویے پر حیران ہورہا تھا۔کہ کہاں تو فاریہ حیدر کی بات تک سننا بھی گوارا نہیں کررہی تھی۔اور کہاں اب خود اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئی تھی۔
“اچھا کیا کھاؤ گے تم بتاؤ ! میں لے کر آتی ہوں تمہارے لئے”۔فاریہ نے کہا۔حیدر دنگ رہ گیا۔
“کیا ہوا ! کچھ جواب تو دو”۔فاریہ نے حیدر کو ہنوز خاموش دیکھ کر کہا۔
“نہیں شکریہ ، مجھے کچھ نہیں کھانا”۔حیدر نے سینے پر باندھے ہاتھ کھولتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“دیکھو تم مجھ سے ناراض ہو ، کھانے سے کیا ناراضگی ، کھانا تو کھالو، کیوں اپنے دل کی وجہ سے اپنے معدے اور پیٹ کو اذیت دے رہے ہو”۔فاریہ نے اپنا ہاتھ ٹیبل پر رکھے حیدر کے ہاتھ کے اوپر رکھتے ہوئے کہا۔ اور حیدر تو بس کسی بھی وقت بے ہوش ہونے والا تھا۔فاریہ کو حیدر کے تاثر دیکھ کر ہنسی آگئی۔
“کیا ہوا ! ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟۔فاریہ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔اس لمحے حیدر کا دل چاہ رہا تھا کہ فاریہ کو بتا دے کہ وہ اس سے بالکل بھی ناراض نہیں ہے، بلکہ اس کے بات نا کرنے پر بہت بے چین تھا اور ابھی بات کرنے پر بہت خوش ہے۔”نہیں میں بھلا تم سے ناراض کیوں ہوں گا!۔حیدر نے اپنے جذباتوں کو قابو میں رکھتے ہوئے بے تاثر لہجے میں کہا۔اور اپنا ہاتھ فاریہ کے ہاتھ کے نیچے سے نہیں نکالا۔
“میں نے تمہیں اتنا تنگ جو کیا ہے، تو ایسے میں ناراض ہونا تو بنتا ہے تمہارا”۔فاریہ نے کہا۔اور اب حیدر کی قوت برداشت جواب دے رہی تھی۔
“نہیں فاریہ میں تم سے…….!
” ڈاکٹر حیدر جلدی چلیں ایک ایمرجنسی ہے”۔حیدر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔اس سے پہلے کے حیدر اپنے دل کی بات فاریہ سے بولتا نرس نے آکر کہا۔
“کیا ہوا ! سب خریت تو ہے؟۔حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں سر ایک بہت ہی پیچیدہ کیس آیا ہے ، ڈاکٹر فرقان نے آپکو ارجنٹ بلوایا ہے”۔نرس نے بتایا۔
“ٹھیک ہے چلو”۔حیدر نے کہا۔اور نرس کے پیچھے ہی باہر کی جانب بڑھ گیا۔فاریہ بھی واپس اپنے روم میں آگئی۔
******
“فاریہ جلدی آؤ، ڈاکٹر ناہید کو لیبر پین شروع ہوگیاہے”۔مومنہ نے عجلت میں فاریہ کے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔اور دونوں جلدی سے ڈلیوری وارڈ کی جانب بھاگیں۔اندر ناہید درد سے تڑپ رہی تھی۔اور باہر احمر بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔فرقان بھی احمر کے ساتھ ہی تھا۔اور احمر کو تسلی دے رہا تھا۔ناہید کے کیس میں اب نارمل ڈلیوری ممکن نہیں تھی۔اس لئے فوراً اپریشن کی تیاری شروع کردی گئی۔قریب دو ڈھائی گھنٹے کے انتظار کے بعد مومنہ اپریشن تھیٹر سے باہر آئی۔
“کیا ہوا مومنہ جی ! سب ٹھیک تو ہے ناں!۔احمر سے تشویش سے پوچھا۔
“ناہید تو ٹھیک ہے ، پر….!۔مومنہ نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“پر کیا مومنہ جی ؟۔احمر سے پریشان ہوکر پوچھا۔
“بیٹا ہوا ہے”۔مومنہ نے کہا۔
“تو اس میں پریشانی والی کونسی بات ہے!۔احمر نے پوچھا۔
“پر وہ مردہ ہے”۔مومنہ نے بتایا۔اور احمر پر تو جیسے ساتوں آسمان ہی ٹوٹ پڑے۔اس میں کچھ کہنے کی سکت نہیں تھی۔
“ہم کچھ دیر میں ناہید کو پرائیوٹ روم میں شفٹ کردیں گے، پھر آپ ان سے مل لیجئے گا”۔مومنہ نے کہا۔اور واپس اندر چلی گئی۔اور احمر وہیں کرسی پر سر دونوں ہاتھوں میں گرا کر بیٹھ گیا۔فرقان بھی اسکے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا۔اور اسے تسلیاں دیتا رہا۔پھر تھوڑی دیر میں ناہید کو پرائیوٹ روم میں شفٹ کردیا گیا۔ناہید رو رو کر تھک کے چپ ہوگئی تھی۔اور بالکل سپاٹ تاثر کے ساتھ بیڈ پر لیٹی ہوئی چھت کو گھور رہی تھی۔کہ تب ہی احمر روم میں داخل ہوا۔فاریہ اور مومنہ بھی روم میں ہی موجود تھیں۔پر احمر کے آنے کے بعد دونوں باہر کی جانب بڑھنے لگیں۔
“کہاں جارہی ہیں آپ دونوں؟۔دونوں کو باہر کی جانب جاتا دیکھ کر ناہید نے پوچھا۔
“ہم لوگ ذرا باہر جارہے ہیں ، تم لوگ تب تک آرام سے بات کرلو”۔مومنہ نے کہا۔
“نہیں مت جائیں آپ لوگ، مجھے اس شخص سے کوئی بات نہیں کرنی ہے”۔ناہید نے ہنوز چھت کو تکتے ہوئے کہا۔مومنہ اور فاریہ ناہید کے اس رویے پر ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔
“یہ تم کیا کہہ رہی ہو ناہید؟۔احمر نے ناہید کے بیڈ کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک کہہ رہی ہوں میں ، تم نے ہی مارا ہے میرے بچے کو”۔ناہید نے ہنوز اسی انداز میں کہا۔
“کیا ہوگیا ہے ناہید ! بھلا اس میں احمر بھائی کی کیا غلطی ہے؟۔مومنہ نے کہا۔
“نہیں ، ساری غلطی اسی شخص کی ہے”۔ناہید نے کہا۔
“کیا ہوگیا ہے ناہید تمہیں ! تم ایسا ک……..!
“ہاتھ مت لگانا مجھے”۔احمر نے ناہید کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔پر ناہید نے احمر کی بات کاٹتے ہوئے زور سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔اور احمر سمیت مومنہ اور فاریہ بھی ہکابکا سی ناہید کو دیکھ رہی تھیں۔
“ناہید یہ کیسی باتیں کررہی ہو ! یہ شوہر ہیں تمہارے ، یہ بھلا اپنے بچے کو کیوں ماریں گے؟۔مومنہ نے ناہید کے قریب آکر کہا۔
“آپ نہیں جانتی مومنہ ، پر یہ سب کچھ ہمارے ہی گناہوں کی سزا ہے”۔ناہید نے کہا۔
“کیا مطلب کونسے گناہ کی سزا؟۔مومنہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“لاوارث اور بے گناہ لوگوں کی جان لینے کی سزا”۔ناہید نے کہا۔مومنہ کے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
“چپ ہوجاؤ ناہید ، یہ کیا بکواس کررہی ہو”۔احمر نے سختی سے کہا۔
“نہیں ! آج میں چپ نہیں رہوں گی ، تھک گئی ہوں میں ان گناہوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے، آج میں سب کچھ بتاؤں گی”۔ناہید نے چیخ کر کہا۔
“تم کیا بات کررہی ہو ناہید ؟ ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے”۔مومنہ نے کہا۔
“میں سمجھاتی ہوں”۔ناہید نے کہا۔
“یہ جو اتنے عرصے سے ہوسپٹل میں کسی بھوت پریت کے ہونے کی افواہ پھیلی ہوئی ہے ، یہ سب کچھ جھوٹ اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے”۔ناہید نے بتایا۔فاریہ اور مومنہ حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔
“یہ سب کچھ ڈاکٹر خالد کریم کے حکم پر ہوتا ہے، انھوں نے جان بوجھ کر یہ بھوت پریت والی افواہ پھیلوائی تھی تا کہ وہ آرام سے اپنا کام کرسکیں، یہاں پر اب تک جتنے بھی لاوارث مریض غائب ہوئے ہیں ، ان کے پیچھے کسی بھوت پریت کا نہیں ، ڈاکٹر خالد کریم کا ہاتھ تھا، انھوں نے خرد کی موت کو آڑ بنا کر اسکی روح کی افواہ پھیلوادی، تا کہ اس کے بعد ہوسپٹل میں جو بھی کچھ ہو اسکو لے کر لوگوں کا دھیان سیدھا اس روح پر ہی جائے، اور ایسا ہی ہوا سب کو یقین ہوگیا کہ یہ سب خرد کی روح ہی کررہی ہے، اور دوسری جانب ڈاکٹر خالد آرام سے لاوارث مریضوں کی کڈنیاں بیچنے کا کاروبار کرتے رہے،اور اگر اپریشن کے دوران کسی مریض کی جان چلی جاتی تو اسے خاموشی سے دفنا کر الزام اس روح پر لگا دیتے تھے، اور ان سب کاموں میں ہم بھی ان کے ساتھ تھے”۔ناہید نے بتایا۔مومنہ اور فاریہ ساکت کھڑی یہ سب کچھ سن رہی تھیں۔اور احمر نے بھی دوبارہ ناہید کو نہیں ٹوکا۔شاید وہ بھی اب ان سب سے تھک چکا تھا۔
“تو پھر وہ جو عجیب و غریب باتیں ہوتی تھیں ، کبھی کسی کو کچھ نظر آجانا ، یا کبھی کسی کے رونے کی آواز اور وغیرہ وغیرہ یہ سب بھی ڈاکٹر خالد ہی کروا رہے تھے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“ہاں ! یہ سب کچھ وہی کرواتے آئے ہیں”۔ناہید نے بتایا۔
“اور وہ جو اخبار میں حیدر اور خرد کے بارے میں خبر چھپی تھی ، وہ بھی میں نے ہی ڈاکٹر خالد کے کہنے پر چھپوائی تھی”۔احمر نے بتایا۔
“کیا ! پر کیوں؟۔مومنہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“کیونکہ ایسا کرنے سے دور دور تک یہ بات پھیل گئی تھی کہ ایک ڈاکٹر نے اس ہوسپٹل میں خودکشی کی ہے”۔احمر نے بتایا۔
“اور آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ ایسا کرنے سے ہمارے گھر پر کیا گزرے گی!۔مومنہ نے پوچھا۔احمر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔اس لئے وہ خاموشی سے سر جھکائے کھڑا رہا۔
“آپ لوگ ان سب میں ڈاکٹر خالد کا ساتھ کیوں دے رہے تھے؟۔فاریہ نے پوچھا۔
“اپنی ماں کو بچانے کیلئے”۔احمر نے کہا۔
“کیا مطلب! وہ تو اپنے کسی رشتے دار کے گھر اسلام آباد گئی ہوئی ہیں ناں ؟۔مومنہ نے پوچھا۔
“نہیں ، ہم نے جھوٹ بولا تھا ، ڈیڑھ سال پہلے اتفاقاً میں نے ڈاکٹر خالد کو کسی سے فون پر اس متعلق بات کرتے سن لیا تھا، اور ڈاکٹر خالد نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا ، پر میں گھبرا کر وہاں سے بھاگا نہیں، بلکہ میں نے ڈاکٹر خالد کو دھمکی دی کے میں سب کچھ پولیس کو بتا دوں گا، ڈاکٹر خالد نے کوئی جواب نہیں دیا، اور میں وہاں سے واپس جیسے ہی گھر آیا تو ماں جی گھر پر موجود نہیں تھیں، گھر کا سارا سامان بکھرا پڑا تھا ہماری ملازمہ بھی بے ہوش تھی کہ تب ہی ڈاکٹر خالد کریم کا فون آیا میرے پاس ، وہ کہہ رہے تھے کہ کیا اب بھی تم پولیس کو بتانے کی غلطی کروگے ، اگر نہیں کروگے تو آج رات بارہ بجے مجھے میرے کلینک پر ملنا ، اور اگر کروگے تو ساتھ ہی ساتھ اپنی ماں جی کے کفن دفن کا انتظام بھی کرلینا، اور لائن کاٹ دی، ہم دونوں بہت پریشان تھے کہ کیا کریں !
جاری ہے
