Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 9)
Raaz E Mohabbat By Mehak
تم صرف میری ہو فیری اوربہت جلد میں پورے حقوق سے تمیں اپنا بنالونگا بھت جلد میری جان تم دعا عمیر سے دعا ڈیارل بن جائوگی میری جان تم میری زندگی میں سب سے اھم ہو اتنے سال سے میں جس اندھیرے میں تھا اس میں تم پہلی روشنی کی کرن کی طرح ہو جس سے میری پوری زندگی روشن ہو جائگی میں نے بہت زیادہ گناہ کیے ہیں بہت لوگوں کی جان لی ہے اور تم بہت معصوم ہو میں نہیں جانتا جب تمییں میرے بارے میں پتا لگے گا تو تمہارا کیا ریے ایکشن ہوگا بس میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا اس لئے فلوقت تم سے سب چھپا رہے یہیں بیٹر ہے……. ڈیارل دعا کے بیڈ کے قریب بیٹھے اس کے خوبصورت چہرے کو اپنے نظروں کے حصار میں لیے اس سے باتیں کر رہا تھا اس وقت وہ دعا سے اتنی محبت سے بات کر رہا تھا کہ اگر کوئی اور اسے دیکھ لیتا تو یقینن بیہوش ہو جاتا کی یہ ڈیارل ہی ہے نا کیوںکہ وہ بھت کم گفتگو کرتا تھا اور کرتا تھا تو بھی بہت سخت لہجے میں
ڈیارل نے اپنی جیب سے ایک بوکس نکالا اسے اوپن کیا جس میں ایک پیارا سا نیکلیس تھا اس نے وہ نیکلیس دعا کے گلے میں پہنایا جس پر AD لکھا ہوا تھس بھھت ہی پیارے لفظوں میں ڈائمنڈ کی وہ چمکتی ہوئی وائیٹ نیکلیس دعا کے گلے میں بھت پیارا لگ رہا تھا
میری جان یہ نیکلیس مجھے تمہارے پل پل کی خبر دے گا اس میں gps اور cctv فٹ ہے میں تمہارے پل پل کی خبر رکھنا چاہتا ہوں میری جان
اچھا میری جان اب میں چلتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ بھت جلد تم میرے پاس ہوگے میری جان……. اس نے اس کے سر پر بوسہ دیا اور چلا گیا
____________________________
مسلسل بجتے الارام کی وجہہ سے اسے اٹھنا ہی پڑا
فیری یہ جو تمہارے گلے میں چین ہے نا یہ نہیں اتارنی تم نے اگر اسے اتارا تو انجام اچھا نہیں ہوگا…… اس نے موبائل اٹھایا تھا ٹائم چیک کرنے کے گرز سے کی اس پے اس نقاب پوش کا میسج دیکھ کے اس نے جلدی سے اوپن کیا اس جلدی سے آئینے میں دیکھا ایک وائٹ ڈائمنڈ کا نیکلیس جس پے AD لکھا ہوا تھا اس کے گلے کی زینت بنا ہوا تھا اس نے AD ورڈس پر ہاتھ پھیرا
D فار دعا تو پھر مطلب اس نقاب پوش کا نام A سے شروع ہوتا ہے
یاہوووو کہیں اس کا نام عبداللہ تو نہیں ہائےےےے کتنا مزا آئیگا نا میرے سپنوں کا راجکمار رئیل میں ہاےۓۓ ایک دم کہانیوں والا سین ہوگا
اٹھ گئی مہارانی جی…….زویا جو کی روم میں داخل ہوئی اسے اٹھا دیکھ کے کہا
اچھا چلیں جلدی سے تیار ہوجائیں آپ ہمیں شوپنگ پے جانا ہے جلدی کریں
کیوں شاپنگ پے کیوں
کیوںکہ شام کو رخصتی ہے آور میں نے شاپنگ کرنی ہے آپی
اچھا ٹھیک ہے دعا نے کبٹ سے کپڑے نکالتے ہوئے کہا
پندرہ منٹ میں ریڈی ہوجائیں آپ آپی جلدی کریں(اب دکھاؤنگی تمہیں مسٹر ٹھرکی جی بھت شوق ہے نا تمہیں میرا باڈی گارڈ بننے کا آج بھگا بھگا کے تھکا نہ دیا تو کہنا تیار رہو بچو پوری زندگی پچھاؤگے آخر پنگا زویا عمیر سے لیا ہے تم نے)
چلیں زویا…….دعا نے زویا کو پکارا جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی
ہاں ہاں چلیں آپی
اے مسٹر چلو ہمیں شاپنگ پے جانا ہے نیچے لاؤنج میں آکے زویا نے عمر کو کہا
جو حکم سرکار…… اس نے زویا کو مسکان پاس کی ڈرائیور گاڑی نکالو
اڑے نہیں کریم چچا آپ رہنے دیں یہ ہے نا عمر ڈرائیو کرلے گا آپ ریسٹ کریں چچا زویا نے بھی عمر کو طنزیہ مسکان پاس کی گویا کہہ رہی ہو آج خیر نہیں تمہاری
_________________________
کیا کچھوے کی اسپیڈ سے گاڑی چلا رہے ہو سائیکل والا بھی ہم سے فاسٹ چل رہا ہے …… زویا نے لیز کھاتے ہوئے کہا
اچھا…..(اب تمہیں بتاتا ہوں ٹھرکی کی جان کہ فاسٹ ڈرائیونگ کیا ہوتی ہے اس نے مرر میں زویا کو دیکھتے ہوئے دل میں کہا
اڑےے اڑے کیا کر رہی روکو روکو آئے سیڈ اسٹوپ زویا چلائی تھی
کیا ہوا میم آپ ہے نے تو کہا تھا کی اسپیڈ فاسٹ کرو کچھوا بھی ہم سے آگے نکل جائیگا تو اب کیا ہوا …… عمر نے گاڑی اسٹوپ کر کے گردن موڑ کے لمبے سانس لیتی زویا کو دیکھ کے کہا
آپ پلیز اس کی باتوں پے دھیان نا دیں اور چلیں پلیز….دعا نے عمر سے ریکویسٹ کی کیوںکہ اسے ابہی تو بلکل نہیں مرنا تھا اسے ابھی تو اپنے پرنس کے ساتھ لائف گذارنی تھی اور دوسری طرف ڈیارل کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا کی آخر اس نے مذاک مذاک میں بھی اتنی فاسٹ گاڑی کیسے چلائی اگر اس کی فیری کو کچھ ہو جاتا تو یہ سوچ ہی اس کا غصہ بڑھانے کیلئیے کافی تھی او ر وہ دل میں عہد کر چکا تھا عمر کی اچھی خاسی دھلائی کرنے کا
_________________________
وہ لوگ پچھلے دو گھنٹے سے شاپنگ کر رہے پر زویا کو کچھ پسند ہی نہیں آرہا تھا اب تو دعا بھی تھک چکی تھی
زویا یار کیا کر رہی ہو جلدی کرو تھک گئ ہوں میں
اچھا آپی بس تھوڑی اور دیر بس تھوڑی سی شاپنگ کرنی ہے
بھائی مجھے وہ والا لہنگا دکھائیں کیا یہ بلو کلر میں اویلایبل نہیں ہے ….زویا نے ایک ریڈ لہنگے کو دیکھتے ہوئے کہا
نو میم وائٹ ہے ریڈ ہے یلو ہے بٹ بلو نہیں ہے ہو سکتا ہے مال میں کسی اور شاپ پے ہو
اچھا…..عمر سنو مجھے اس پورے مال میں سے ایسا بلو کلر میں لہنگا ڈھونڈ کے لا کے دو …… زویا نے عمر کو کہا
اور یہ شاپنگ بیگز …..عمر نے اپنے دونوں ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا جو کہ شاپنگ بیگس سے بھرے ہوئے تھے
انہیں کار میں رکھ کے پھر ڈھونڈ لاؤ ہم جا کے نیچے ریسٹورنٹ میں کچھ کھاتے ہیں بہت بوکھ لگی ہے اوکے
_______________________________
یہ لیں آپ کا لہنگا آخر ایک گھنٹا خجل ہونے کے بعد اسے لہنگا مل ہی گیا تھا
شکر مل گیا اب چلیں زویا ہم ……دعا نے اٹھتے ہوۓ کہا
اڑے اڑے کہاں ابھی تو میں نے لہنگے کے میچنگ چوڑیاں ایئرنگس جیولری سینڈل لینی ہے
واٹٹٹٹٹ…….عمر تو بیہوش ہونے کے قریب تھا ایک تو صبح بغیر ناشتے کے آیا تھا اور پچھلے چار گھنٹے سے خوار ہو رہا تھا بھوکے پیٹ اور اس بے رحم لڑکی نے پانی تک کا نہ پوچھا تھا ہاۓۓۓ رے عمر کی قسمت دل بھی جا کے کہاں اٹکا تھا
اس سے اچھا تو لوگوں کو مارنا ہے قسم سے اتںنا خجل تو نہیں ہونا پڑتا ہے …..عمر نے دل میں کہا
ہاں چلو ……..
اچھا زویا تم جاؤ ہم یہیں ہیں میں ویسے بھی تھک گئی ہوں اور عمر نے بھی صبح سے کچھ نہیں کھایا وہ بھی لنچ کر لے گا….
دعا نے کہا بھئی ہماری معصوم دعا کسی کی تکلیف کیسے دیکھ سکتی تھی
پر آپی….
نو مور ایکسیکیوزز زویا اور جلدی کرنا پلیز گھر جا کے پارلر بھی جانا ہے …..زویا نے کچھ کہنا چاہا کی دعا نے ٹوک دیا
اوکے …… زویا چیئر پے بیٹھے کولڈرنک پیتے عمر کو دیکھتے پیر پٹختی وہاں سے چلی گئ
زویا کو گئی آدھا گھنٹا ہو گیا تھا
نا جانے کہاں رہ گئی یہ لڑکی….دعا نے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں آ جا….
عمر کی بات ابھی بیچ میں تھی کی اسے دعا کے سینے پر ہلکی ہلکی ریڈ روشنی نظر آئی اور ایک پل سے کم وقت لگا اسے یہ سمجھنے میں کی کوئی دعا پے گن سے نشانہ باندھ رہا ہے وہ جلدے سے اپنی چیئر سے اٹھا اور دعا کو بازو سے کھینچ کے اپنے پیچھے کیا
یہ کیا حرکت……. دعا کی بات ابھی موں میں ہی تھی کی ٹاھ کی آواز کے ساتھ عمر کے بازو پے گولی لگی اور اس کی بازو سے خون بھنے لگا اس سے پہلے کی وہ دعا سے کچھ کہتا دعا بیھوش ہو کے اس کے ھاتھوں میں جھول گئی
___________________________
دعا کو جب ھوش آیا اس نے خود کو ہاسپٹل میں پایا
بھائی……دعا نے سامنے کھڑے عثمان کو پکارا
جی بھائی کی جان شکر ہے تم ٹھیک ہو ….عثماننے اس کے سر پر بوسہ دیا
بھائی عمر کیسا ہے کہاں اسے گولی لگی تھی بھائی میں نے دیکھا اسے میری وجہہ سے گولی لگی بھائی میری وجہہ سے ….. اس نے روتے ہوئے کہا
چپ ہو جاؤ میرا بچا کچھ نہیں ہوا اسے وہ ٹھیک ہے بازو پے گولی لگے ہے ٹھیک ہے وہ…..عثمان نے اسے چپ کراتے ہوئےکہا
بھائی بلائیں اسے مجھے ملنا ہے اس سے بھائی
زویا عمر کو بلا کے لاؤ
عمر….زویا نے عمر کو بلایا
ایک منٹ ایک منٹ کیا کہا تم نے کہیں میرے کان تو خراب نہیں ہوگئے ایک منٹ میں کان صاف کرلوں
ہاں اب کہو کیا کہا تم نے ….عمر نے مسکراتے کہا
عمر …..زویا نے نم آنکھوں سے اسے بلایا
ہاۓۓۓۓ اتنی عزت کہیں عمرشاہ مر نہ جائے ہائےےےے
اچھا اور ایکٹںگ بند کرو آپی بلا رہی ہے آپ کو
جی میم بولیں….عمر نے دعا کے قریب رکتے ہوئے کہا
کیسے ہو عمر ٹہیک ہو نا زیادہ چوٹ تو نہیں لگی نہ اب کیسے ہو بینڈج کروائی ….دعا نے ایک سانس میں اتنے سارے سوال کردئے
ریلیکس میم ریلیکس کچھ نہیں ہوا میں بلکل ٹھیک ہوں میم بینڈج بھی کروالی ہے میں نے بلکل ٹھیک ہوں میں آپ رلیکس ہو جائیں
چلو چلتے ہیں گھر ماما بابا بھی پریشان ہو رہے ہونگے انہیں ابھی تک کچھ نہیں بتایا میں نے چلو
_______________________________
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری فیری کو نقصان پہچانے کی…… اس نے اسی وقت اس شوٹر کو پکڑنے کا آرڈر دیا تھا اوراس کے آدمی نے جب اسے پکڑ کے لائے تو ابھی وہ اسے الٹا لٹکا کے اس پے چلا رہا تھا
ڈیارل قسم سے مجھے نہیں پتا تھا کی اس کا کوئی لنک ہے تمہارے ساتھ اگر پتا ہوتا تو میں اس کے قریب بھی نا بھٹکتا مجھے تو بس اک نمبر سے کال آئی تھی اور اس کی پک اور ایک کروڑ رپیوں کا بیگ ملا تھا می نہیں جانتا اسے اور نا ہی کچھ اور پتا ہے مجھے
تمہاری وجہہ سے میری فیری کو تکلیف ہوئی ہے تمہیں اس کی سزا تو ملے گی پر اس سے پہلے مجھے وہ نمبر دو جس سے کال آئی تھی
نمبر بند آرہا ہے ڈیارل ….اسد نے نمبر ملنے کے بعد اس پے کال کی تھی پر نمبر بند آنے پر ڈیارل کوبتایا
اوکے ایول جاؤ وہ رہا تمہارا شکار….اس نے اسد کو جواب دینے کے بعد اپنے شیر کو اشارہ کیا اور باھر چلا گیا
آخر کون ہے وہ جسے تمہارے اور فیری کے بارے میں پتا ہے…..اسد نے باھر آ کے ڈیارل سے کہا
مجھے نہیں پتا پر میں اسے دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ لاؤنگا جس نے میری فیری کو نقصان پہچانے کی کوشش کی چھاڑونگا نہیں یہ کھتے وہ گن لوڈ کر کے باھر کی طرف چلاگیا
ڈیارل ڈیارل سنو کہاں جا رہے ہو….اسد اس کے پیچھے جب تک باھر آیا وہ جا چکا تھا
_________________________
اسے کب سے اپنے دروازے کے باھر تھوڑا سا لٹکتا وائیٹ دوپٹہ نظر آرہا تھا وہ توکب سے بے صبری سے انتظار کر رہا تھا کی اندر آجائیگی پر نہیں اس نے جیسے قسم کھا رکھی تھی اندر نا آنے کی تو تنگ آکر عمر نے کہہ ہی دیا
جب یہاں آ ہی گئی ہیں تو اپنے پاؤں کو تھوڑی اور تکلیف دے دیں چل کے اندر بھی آجائیں
زویا جو باھر یہسوچ رہی تھی کی کیسے اندر جائے کیا کہی گی وہ اس پے بلکل ظاھر نہیں کرنا چاھتی تھی کی اسے اس کی پرواھ ہے اس کیآواز پے چونک گئی تو کیا وہ اس کی موجودگی سے بے خبر نہ تھا خیر وہ اندر آگئی
ہاۓۓۓۓ میں اس چوٹ کے صدقے جس کی وجہہ سے آپ ہمارا حال پوچھنے ہمارے کمرے میں آئیں ایسی ہزاروں زخم کھا لیں ہم جس کی وجہہ سے ہمارا محبوب ہمارا حال پوچھنے آئے …عمر نے دل پے ہاتھ رکھ کے فل ڈرامائی انداز میں کہا
بس بس زیادہ خوش نا ہو میں تمہارا حال پوچھنے نہیں آئی میں میں میں تو ہاں وہ امی نے پوچھا ہے کی ڈنر یہیں کرینگے یاں پھر باھر سب کے ساتھ
اچھا ابھی تو 7 بج رہے ہیں یہ کونسا ڈنر کا ٹائم ہے مس باندری
وہ وہ وہ دفع دور تم سے تو پو چھنا ہی نہیں ہے ہوں….یہ کھتی زویا پیر پٹختی باھر چلی گئی
ہاہاہاہا ہائے میری جان تیرا ہر روپ جان لیوا ہے میری جان……عمر نے بیڈ پر گرتے ہوئے کہا
_____________________
ڈیڈ کیا میں اندر آسکتا ہوں……دانیال نے مسٹر شاہ کے روم کے باھر کھڑے اجازت مانگی
یس مائے سن….انہوں نے خوشدلی سے کہا
ڈیڈ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے دعا کے بارے میں
