Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 31) 3rd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 31) 3rd Last Episode
Raaz E Mohabbat By Mehak
فاروق صاحب اور عبداللہ گھر میں داخل ہوئے تو اندر مسز فاروق کو زمین پے پڑا پایا ان کے آس پاس سارا فرش ان کے خون سے بھرا ہوا تھا ہر طرف لال لال خون تھا فاروق صاحب اور ڈیارل دوڑتے ہوئے ان کے پاس گئے مسٹر فاروق نے ان کی نبض کو چیک کیا وہ رک گئی تھی اب وہ دنیا میں نا تھی۔۔۔۔۔یے صدمہ ان کیلئیے قیامت کے برابر تھا ان کی زندگی بھر کی ساتھی آج ان کا ساتھ چھوڑ کے جا چکی تھی پر وہ کون تھا جس نے ان کا یے حال کیا تھا
عندلیب اٹھ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔عندلیب مجھے پتا ہے آپ کو کچھ نہیں ہوا اب اٹھ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔مسٹرفاروق نے ان کے مردا جسم کو جھنجھوڑا
تایا جی رلیکس آنٹی اب اس دنیا میں نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔یے وقت ڈیارل کیلئیے بھی کم نا تھا پر اسے فاروق صاحب کو سنبھالنا تھا
بچے بچے کہاں ہے عبداللہ۔۔۔۔۔۔۔فاروق صاحب نے آس پاس دیکھا
آپ رکیں میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ڈیارل وہاں سے اٹھا اور آس پاس ڈھونڈنے لگا صوفے کے پیچھے اسد اور عمر بیہوش پڑے تھےان کے جسم پے بہت سارے زخم لگے تھے وہ نیم بیہوش تھے عبداللہ نے انہیں اٹھایا اور صوفے پے لیٹایا اور ڈاکٹر کو کال کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ان دونوں کی بھی یے حالت ہے آخر یے سب کس نے کیا ہے۔۔۔۔۔فاروق صاحب نے انکی یے حالت دیکھ کے کہا
معصومہ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔فاروق صاحب نے معصومہ کو نا پاکر پوچھا
پتا نہیں تایا جی آپ اس کے پاس بیٹھیں میں دیکھتا ہوں انہیں کہہ کے ڈیارل نے پورے گھر میں دیکھا پر معصومہ کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
معصومہ کہیں بھی نہیں ہے تایا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں گئی اور آخر یے ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔۔
تایا جی یے تو تب پتا چلے گا جب یے دونوں ہوش میں آئینگے
_______________________________
کب تک ہوش آئے گا انہیں ۔۔۔۔ڈاکٹر کے چیک اپ کرنے کے بعد انہوں نے ڈاکٹر سے پوچھا
دیکھیں مسٹر فاروق صاحب میں کچھ کہہ نہیں سکتا کی کب تک ہوش آئے گا انہیں۔۔۔۔۔کیوںکی چوٹیں بہت گھری لگی ہے انہیں۔۔۔۔۔۔
_________________________________
پوری رات ان دونوں کو ہوش نا آیا تھا ڈیارل اور فاروق صاحب نے ہر کوشش کی تھی پر انہیں کچھ پتا نا لگا تھا اور آج صبح ہی ان دونوں کو ہوش آیا تھا ڈیارل نے جب ان سے سب پوچھا تھا تو انہوں نے کل جو جو ہوا تھا وہ سب بتایا اس کے بعد وہ مسٹر فاروق کو وہیں چھوڑ کے باہر چلا گیا تھا کنگ کا پتا کرنے کیلئیے اس کی جان سے پیاری بہن اس کے پاس تھی وہ یے تو جانتا تھا کی اس نے اپنی شپ کے بدلے میں تو ہرگز یے نا یا ہوگا کیوںکی کرائم کی دنیا میں انکی اصل پہچان سے کوئی واقف نا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔چھ مہینے گذر چکے تھے ڈیارل کی لگاتار محںت سے بھی اسے کچھ پتا نا چلا تھا آج وہ اور مسٹر فاروق کسی کام سے لنڈن جارہے تھے تو اسد اور عمر کو بھی ساتھ لے آئے اس وقت وہ لوگ لنڈن کے ایک پبلک پارک میں تھے شام کا وقت ہونے کی وجہہ سے ہر طرف لوگوں کی بھیڑ لگی تھی وہ بھی چاروں ایک طرف بیٹھے تھے کی عمر نے ڈیارل کو پکارا ۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے پکارنے پے ڈیارل نے اس کی طرف دیکھا جس پے وہ کسی کی طرف انگلی سے اشارہ کر رہا تھا ڈیارل ے اس اشارے کی طرف دیکھا تو سامنے کالے لباس میں ایک مرد بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔
بھائی یہیں ہے وہ جس نے معصومہ کڈنیپ کیا ہے اور آنٹی کا قتل کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آر یو شیور عمر یے وہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جی جی بھائی ہم اسے کیسے بھول سکتے ہیں ۔۔۔۔۔اس بار اسد نے کہا تھا
اوکے تم دونوں یہاں سے سیدھا ہوٹل جائو ہم آتے ہیں۔۔۔۔۔۔مسٹر فاروق اسے کہہ جے ڈیارل کو کنگ کے پیچھے چلنے کا اشارہ کیا وہ دونوں انہیں کہہ کے جاچکے تھے
چلو عمر بابا نے جانے کا کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
تم جائو میں ان کے پیچھے جارہا ہوں۔۔۔۔۔عمر اسے کہہ کےاٹھا
پر کیوں بابا نے تو منع کیا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں انکو یوں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تم نے جانا ہے تو جائو کہا نا۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں بھی تمہارے ساتھ چلونگا ۔۔۔۔۔۔۔
ڈیارل اور فاروق صاحب اس کے پیچھے آئےتھے وہ ایک کنڈر نما جگہہ میں آیا تھا باہر سے تو وہ جگہ کنڈر نما تھی پر اندر سے ایک محل سے کم نا تھی ان دونوں کے چہرے پے ماسک تھا اندر آکے ان دونوں نے راستے تبدیل کرلیے تھے کنگ کے پیچھے فاروق صاحب گئے تھے جب کی ڈیارل دوسری طرف گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر اور اسد نے بھی ایسےہی کیا اسد فاروق صاحب کے پیچھے اور عمر ڈیارل کے پیچھے کنگ نے شاید فاروق صاحب کو دیکھ لیا تھا اس لیےبہت محتاط ہوکے چل رہا تھا اوردھیان ملتے ہی اس نے فاروق صاحب کے سینے پے گولی چلا دی اسد وہیں ششد رہگیا پہلی اس کی ماما اور اب بابا بھی
کون ہو تم اور یہاں کیوں آئے وہو۔۔۔۔۔۔۔کنگ نے اس کےقریب بیٹھ کے پوچھا پر اس کے ردعمل میں انہوں نے کوئی جواب نا دیا تھا جس پر کنگ نے ایک زبردست لات انہیں رسید کی تھی
بتائو کون ہو تم اور یہاں کیوں آئے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
معصومہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں صرف معصومہ کا نام لیا
اوہ تو معصومہ کےتایا ہیں آپ ویسے سوسوری سسر جی پہلے بتا دیتے تو اس سے بھی مشکل موت دیتا تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے یہاں آکے مجھ سے میری معصومہ کو جدا کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ایک گناھگار ہو اور تمہارا انت بھی بہت جلد ہوگا اور رہی بات معصومہ کی وہ تو ڈیارل لے ہی جائیگا اپنی بہن کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاروق صاحب اپنی بات کہہ کے دم توڑ چکے تھے اور کنگ نعصومہ کے روم کی طرف بھاگا تھا اسد وہیں کھڑا ان کی لاش کو دیکھ رہا تھا جب عمر نے اسے کھینچا چلو باہر بھائی بلا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اسے کہہ کے کھینچ گیا باہر کی طرف اور اسد کو نفرت ہورہی تھی معصومہ سے جس کی وجہہ سے اس سے اس کے ماں باپ دونوں دور چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
کنگ جب روم میں آیا تو معصومہ وہاں نا تھی اس نے پورا محل دیکھا پر وہ کہیں نا تھی ۔۔۔۔۔۔۔تب سے لے کر آج تک وہ معصومہ کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ایک کر کے ڈیارل کے دماغ میں وہ ماضی ایک فلم کی طرح چل رہا تھا اس دردناک ماضی کے بعد اس کی آنکھوں میں وہ سب پل گذرے جو اس نے فیری کے ساتھ گذارے تھے
لاکیٹ۔۔۔۔۔۔۔وہ لاکیٹ جو میں نے فیری کو پہنایا تھا اس پے جی پی ایس فٹ تھا اور وہ میرے موبائل کے ساتھ کنیکٹڈ ہے اف میں بھی کتنا بیوقوف ہوں پہلے کیوں نہیں یاد آیا مجھے۔۔۔۔۔۔اس نے اپنا موبائل پے لوکیشن چیک کی جو کی کسی جنگل کا پتا بتا رہی تھی وہ جلدی سے وہاں سے اٹھا اور گاڑی نکال کے اس جنگل کی طرف روانا ہوا
وہ جب جنگل میں پہنچا تو اسے فیری کی آواز سنائی دے رہی تھی
بچاؤ مجھے بچالو پلیز
تم کہاں ہو آجاؤ پلیز
دیکہو یہ تمہاری فیری کو مار دیگا پلیز آجاؤ
اسے صرف یہ آواز سنائی دے رہی تہی
کہاں ہو تم فیری میری جان کہاں ہو تم ….. وہ دیوانہ وار گھرے جنگل میں بھاگ رہا رات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا اس کے پاؤں کانٹے لگنے کے وجہ سے خون سے سرخ ہوئے پڑے تھے اس کی بازو پے گولی لگی ہہوئی تھی جس کی وجہ سے اس سفید شرٹ ساری خون سے رنگ گئی تھی اس کے سر پر بھی چوٹ لگی تھی خون بہ رہا تھا کوئی عام انسان ہوتا اس کی جگہ تو کب کا مر چکا ہوتا پر اسے کہاں فکر تھی اسے تو بس اپنی فیری کی فکر تھی اسے اسے بچانا تھا اس تک پہنچنا تھا اگر اسے کچھ ہو گیا تو یہ سوچ آتے ہی اس کی روح تک کانپ گئی
نہیں نہیں اسے کچھ نہیں ھوگا میں اسے کچھ نہیں ہونے دونگا میں آرہا ہوں میری فیری تمھیں کچھ نہیں ہونے دونگا تم گھبراؤ مت میری جان
وہ دوڑ رہا تھا جب اس کا پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا ایسا لگا جیسے کسی کا جسم ہو
اینجل……
تبھی اسے لگا جیسے فیری نے اسے پکارا ہو وہ جلدی سے نیچے بیٹھا فور اس وجود کو اپنے غود میں لٹایا فیری اسے چاند کی روشنی میں اس کا دھندلا سا عکس نظر آیا اس کا چہرا پورا خون سے رنگا ہوا تھا کہ پہچاننا بھی مشکل ہو رہا تھا
اینجل آۓ لو یو سو مچ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں فیری نے اپنا روئی جیسا نرم ہاتھ جس پہ اس وقت زخم ہی زخم خون ہی خون تھا اینجل کے مضبوط ہاتھوں میں ڈالتے ہوۓ کہا اور اسی وقت اس کی آنکہیں بند ہوگئی
فیری آئے لو یو ٹو میری جان اس نے اس کے ہاتھ کو چومتے ہوئے کہا فیری فیری اٹھو فیری فیری تم مجھے یو اکیلا چھوڑ کے نہیں جا سکتی اٹھو فیری وہ دیوانوں کی طرح اس کے جسم کو جھنجھوڑ رہا تھا اٹھو فیری اس
فیرییییییی……….۔۔۔۔۔۔۔۔۔
