Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 10)

Raaz E Mohabbat By Mehak

ڈیڈ کیا میں اندر آسکتا ہوں……دانیال نے مسٹر شاہ کے روم کے باھر کھڑے اجازت مانگی

یس مائے سن…..انہوں ںے خوشدلی سے کہا

ڈیڈ مجھے آپ سے بات کرنی ہے دعا کے بارے میں…..دانیال نے مسٹر شاہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا

ہمم بالو….انہوں نے فائل رکھی اور پوری طرح سے دانیال کی طرف متوجہ ہوئے

ڈیڈ مجھے دعا چاہیے……

ہمم کتنے دن کیلئیے اور یہ بات مجھے کیوں بتا رہے ہو خود ہینڈل کر لو…..

نہیں ڈیڈ مجھے وہ آل لائف کیلئے چاھیے شادی کرنا چاھتا ہوں اس سے اس لئیے آپ سے بات کر رہا ہوں صبح ہی آپ اور ماما دعا کے گھر جاؤگے اس کا رشتہ مانگنے….

یہ کیا بے وقوفی ہے دانیال ابھی سے شادی کرنا چاھتے ہو رکھ لو جتنے دن چاھے اپنے پاس بٹ شادی پاگل ہوگئے ہو کیا…….اس کے ڈیڈ کو نے غصے میں کہا

نو ڈیڈ یہ میرا آخری فیصلہ ہے کل آپ اور ماما جا رہے ہیں اس کے گھر رشتہ لینے دیٹس اٹ…….دانیال کہتے ہی وہاں سے اٹھ گیا

________________________________

سنو اسد……..ڈیارل نے اسد کو پکارا

یس ڈیارل

میں 4 دن کیلئیے اٹلی جا رہا ہوں کچھ امپورٹنٹ کام ہے تم یہاں کا خیال رکھو اور عمر کو کہنا فیری کا خیال رکھے اسے خروج تک نہیں آنی چاہیے

بٹ کیوں اچانک سے اٹلی ……اسد نے اس کے اچانک فیصلے پے پوچھا ایک تو کل جب سے وہ گھر سے گیا تھا اب آیا تھا اور اچانک سے سٹلی جا رہا تھا اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا اسد کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

میں کسی سوال کا جواب دینا لازمی نہیں سمجھتا بس تم یہاں کا خیال رکھو میری 2 بجے کی فلائیٹ ہے میں اوکے یہ کہتے ہی وہ جیسے آیا تھا ویسے چلا گیا اور اسد صرف سوچتا رہ گیا

_________________________

کہاں رھ گئے تھے تم ناصر کتنی دیر سے میں تمہارا انتظار کر رہا تھا کہاں تھے کتنا وقت لگا دیا تم نے جانتے بھی ہو میرا ایک ایک منٹ قیمتی ہے……..وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اس کا انتظار کر رہا تھا اس لیئے اس کے آتے ہی اس پے چیخ پڑا

سوری کنگ یے رہی وہ فائل جو آپ کو چاھئیے تھی …..اس نے اپنا گلا تر کر کے کہا کیوںکہ وہ جانتا تھاکنگ کو غصہ دلانا یانے موت کو بلانا

ہمم ویری گڈ فائل تو مل گئی تمہارا کام ہوگیا ہے نا….کنگ نے مسکراتے کہا

یی ی یس سس کنگ

تو پھر اب تمہارا کیا کام …..اس سے پہلے کی وہ کچھ کہتا کنگ نے اس کے سینے کو گولیقں سے چھلنی کر دیا

اب دیکھتے ہیں عبداللہ جس طرح سے تم نے مجھ سے سب چھینا ہے نا ویسے اب میں بھی چھینوں گا جسٹ ویٹ اینڈ واچ……کنگ نے غصے سے اس فائل کو دیکھتے ہوئے کہا جیسے وہ کوئی فائل نہیں عبداللہ ہو

_______________________________

وہ ایک اندھیرے کمرے میں بند تھی اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی رو رو کے اس کی براؤن آنکھیں لال ہو چکی تھی اس پورے کمرے میں صرف اس کی سسکیاں گونج رہی تھی

کہاں ہو اینجل پلیز مجھے بچالو مجھے لے جاؤ یہاں سے اینجل پلیز…..اس نے سسکیوں میں اپنی بات مکمل کی

اور اس کمرے میں دروازا کھلنے سے تھوڑی سے روشنی آئی تھی اس نے اپنے آنکھوں کے آگے ہاتھ کرلیے کیوںکہ اتنے دیر اندھیرے میں رہنے کے بعد وہ روشنی اس کی آنکھوں میں چھب رہی تھی اس روشنی کے ساتھ کسے کے قدموں کی چاپ بھی سنائی دے رہی تھی جو اس کی طرف بڑھ رہے تھے اور وہ خوف سے خود میں سمٹ رہی تھی

یہاں کوئی اینجل تو نہیں آئے گا یہاں صرف ڈیول ہی ڈیول ہیں کوئی اینجل نہیں ہاں ایک فیری ضرور ہے جسے یہاں پے صرف اذیت دینے کےلئیے رکھا گیا ہے……..وہ جو اندر آیا تھا اس نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا

نہیں پلیز چھوڑ دو مجھے میں نہیں جانتی آپ لوگوں کو میں نے کچھ نہیں کیا پلیز چھوڑ دو مجھے……دعا نے اس شخص سے دور جاتے ہوئے کہا

بہت انوسینٹ ہو تم اور جانتی ہو انوسینٹ لوگوں کو تکلیف دینے میں الگ ہی سکون ملتا ہے مجھے خیر اٹھو جلدی کرو مجھے کہیں لے کے جانا ہے تمہیں……

نہیں پلیز نہیں مجھے کہیں نہیں جانا پلیز…..دعا نے اپنی سسکیوں کے بیچ اپنی بات مکمل کی……

پلیز مجھے چھوڑ دو…..وہ شخص اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا ایک اور اندھیرے کمرے میں لے آیا جہاں سامنے ہی چیئر پے ایک معصوم سا 10 سالہ بچہ بندھا ہوا تھا اس کی حالت نیم بیھوش تھی

یہ گن پکڑو……اس شخص نے دعا کے ہاتھوں میں گن پکڑائی اور اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھ دیے اور گن کا نشانہ اس چھوٹے بچے کی طرف کیا اور دعا پھٹی آنکھوں سے کبھی اپنے ہاتھوں میں پکڑی گن کی طرف دیکھ رہی تھی تو کبھی اس بچے کی طرف

نہیں پلیز مجھے مت مارو پلیز نہیں….اس بچے نے روتے ہوئے کہا

اس سے پہلے کی دعا کچھ سمجھتی اس شخص نے دعا کی انگلی کو پریس کر کے ٹرگر دبا دیا اور گولی اس بچے کے سینے کے آرپار ہوگئی…….

اوہ فیری تم نے کسی بے گناھ کی جان لے لے مار دیا تم نے اسے فیری مار دیا……. اس شخص نے دعا کو کہا

دعا جو ابہی تک صدمے کی حالت میں تھی اس کی آواز پے اس بچے کی طرف دوڑی

اٹھو اٹھو اے بچے اٹھو……دعا نے اس بچے کے گال سہلائے

ہاہاہاہاہا نہیں اٹھے گا وہ مر چکا مار دیا ہے تم نے اسے اس شخص نے چیئر پے بیٹھتے ہوئے کہا

نہیں نہیں مارا میں نے میں نے کسی کو نہیں مارا دیکھنا ابھی اٹھ جائیگا اٹھو اٹھو پلیز اٹھو بچے

فیری مار دیا ہے تم نے اسے قاتل ہو تم فیری قاتل ہو تم

نہیں نہیں میں نے نہیں مارا

آپی آپی اٹھیں اٹھیں کیا ہوا کسے نہیں مارا آپ نے آپی……..زویا کی آواز سے وہ اپنی نیند سے اٹھی

پانی پانی زویا پانی……اس نے اپنے سوکھے لبوں پے زبان پھیرتے ہوئے کہا

یہ لیں آپی پانی پی لیں….زویا نے اسے پانی کا گلاس دیا جسے اس نے ایک ہی سانس میں ختم کردیا

آپی آپ ٹھیک تو ہیں نا زویا نے فکرمندی سے پوچھا

ہاں ٹھیک ہوں تم فکر مت کرو

اچھا آپی فریش ہوجائیں پھر ناشتا کرتے ہیں

___________________________

گڈ مورننگ…..ڈائننگ ٹیبل پے بیٹھتے ہوئے دانیال نے کہا

گڈ مارننگ مائے سن…..مسسز شاہ نے مسکراتے اسے جواب دیا

تو کب چل رہے ہیں آپ

دانیال ایک بار اور سوچ لو

ڈیڈ میں نے کہا تھا کہ یہ میرا آخری فیصلہ ہے میں باھر گاڑی میں آپ کا ویٹ کر رہا ہوں آجائیں پھر چلتے ہیں ……یہ کھتے دانیال باھر کی طرف چلا گیا

__________________________

مسٹر عمیر آفس کیلئیے نکل ہی رہی تھے کی انہیں ملازم نے آکے بتایا کی مسٹر شاہ آئے ہے ڈرائنگ روم میں ان کا ویٹ کر رہے ہیں پہلے تو انہوں نے سوچا کی آخر اتنے بڑے بزنسمین ان سے ملنے کیوں آئے ہیں خیر مل کے ہی دیکھ لیتے ہیں اور وہ ڈرائنگ روم کی طرف چل دیے

اڑے آج بڑے بڑے لوگ ہمارے گھر آئے ہیں……مسٹر عمیر نے مسٹر شاھ سے گلے ملتے ہوئے کہا

ہم آپ کے گھر کسی خاص مقصد کےلئے آئے ہیں …….کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد مسٹر شاھ اپنے مدے پے آئے

جی جی بولیں…..عمیر صاحب ان کی طرف متوجہ ہوئے

آج ہم آپ سے کچھ بھت قیمتی مانگنے آئے ہیں

جی جی بولیں جان بھی حاضر ہے

ہمیں آپ کی جان سے بھی قیمتی آپ کی بیٹی چاہئے

کیا مطلب میں سمجھا نہیں

مطلب کی ہمیں آپ کی بیٹی دعا کا رشتہ چاہیئے اپنے بیٹے دانیال کیلئیے

اوہ دیکھیں مجھے تو کچھ مسلئہ نہیں باقی میں دعا سے پوچھے بغیر کچھ نہں کہہ سکتا

اوکے اوکے ہمیں کوئی جلدی نہیں آپ آرام سے سوچ کے بتائیں…..مسٹر شاہ نے کہا اور پھر کچھ رسمی باتوں کے بعد وہ چلے گئے اور ان کے جانے کے بعد عمیر صاحب سیدھا دعا کے روم میں آئے

دعا کیا میں اندر آسکتا ہوں

اڑے بابا آپ آجائیں اجازت کیوں لے رہے آجائیں بابا

میری گڑیا کتنی بڑی ہوگئے ہےنا اب کی بابا سے دور جانے کا وقت بھی آگیا ہے ……مسٹر عمیر نے دعا کے پاس بیٹھ کے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

کیا مطلب بابا میں سمجھی نہیں کیوں دور جانا ہے مجھے آپ سے

بیٹا آج مسٹر شاہ آئے تھے تمہارا رشتہ مانگ رہے تھے اپنے بیٹے دانیال شاہ کیلئیے تم پے کوئی زبردستی نہیں ہے جو چاہو فیصلہ کر سکتی ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *