Raaz E Mohabbat By Mehak NovelR50512 Raaz E Mohabbat (Episode - 6)
No Download Link
Rate this Novel
Raaz E Mohabbat (Episode - 6)
Raaz E Mohabbat By Mehak
آپی آپ کس سوچ میں گم ہیں جب سے یونی سے آئی ہیں گم سم سی بیٹہی ہیں کیا یونی میں کسی ٹیچر نے بے عزتی کردی کیا![]()
نہیں ایسا نہیں ہے زویا تمہیں پتا ہے آج دو بار میرا ایکسیڈینٹ ہوتی ہوتی بچا ورنہ تو مجھے لگا تھا کہ آج یہ بندر مجھے مار کہ ہی دم لیگا اتنی بڑی بڑی آنکھیں کر کہ گھور رہا تھا مجھے بندر جیا
ایک منٹ ایک منٹ آپی یہ بندر کون ہے اور کیا سین ہے اس کا اور مجھے کیوں نھیں بتایا ہاں ایک معصوم سی بہن ہے آپ کی اب اسے بہی کچھ نہیں بتاتی آپی آپ مطلب حد ہے اچھا اب بولیں نا بتائیں نا چپ کیوں ہیں بولیں
اڑے اڑے زویا بس بس اتنے سوال ایک ساتھ کچھ بولنے دوگی تو بتاؤنگی نا
اچھا اچھا میںں چپ ہوں اب بولیں آپ اڑے بتائیں نا
زویا……دعا نے زویا کو گھورا
ہاہاہاہاہاہاہا…… اوکے اوکے آپی
بس ہے اک بندر سا ہماری یونی میں شکل تو ڈھنگ کی ہے نہیں اور ایٹیٹیوڈ آسمان کو چھو رہا ہے تمہیں پتا ہےجب میری فرسٹ دن ریگنگ کی تھی نا تو اس کو روز دینے کو کہا تھا میں نے دیا تو مجھے ڈانٹنے لگ گیا کہتا ہے کہ کوئی کام ہوتا نہیں آجاتے ہے تنگ کرنے……
اچھا تو آپی آپ نے کچھ نہیں کہا بس چپ کر کہ سن لیا
اڑے ایسے ہی میں نے بھی کہا نا آج جب اکیلی آرہی تھی تو اپنی گاڑی میرے سامنے روک کے کہتا ہے آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں میں نے بھی کہ دیا کہ دعا میر ایسے کسی ایرے غیرے کے ساتھ نہیں جاتی ہاہاہاہاہاہا قسم سے زویا اس بندر کا چہرہ دیکھنے لائق ہوگیا تھا
ہاؤ رومینٹک آپی میری آپی کی لو اسٹوری اسٹارٹ ہوگئی ہائے اب آپ اسے اغنور کرینگے پھر وہ فلمی اسٹائل میں آپ کو پرپوز کریگا آپ انکار کردوگی دس بارا دن وہ ایسے ہی دیوداس بنا پھرے گا پھر اس کا باپ یا بہائی اس سے پوچھے گا وہ سب کچھ رو کے بتائے گا پھر وہ رشتہ لے کہ آئیں گے امی ابو کہیں گے اچھا رشتہ ہے ہاں کردینگے اور ایسے آپ کا نکاح ہوجائیگا اور پھر دو چنو منو ہونگے آپ کے آپ کو سارا دن تنگ کرینگے آپ دس دن بعد اپنے بالوں کی چوٹی کروگی ہر وقت کام کر کہ آپ کی حالت ماسی سکینہ جیسی ہوجائیگی
بس بس بس بس زویا چپ ہو جا اب اک لفظ نہیں خود کی ایسی کنڈیشن سوچ کے ہی دعا چیخی تھی
ہاہاہاہاہاہا آپی اچھا چھوڑیں یہ بتائیں دوسرا ایکسیڈینٹ کیسے ہوتے ہوتے بچا
ڈیارل کا خیال آتے ہی دعا کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی
بتائیں نا
دعا زویا باھر آؤ تمہارے ماموں کی کال آئی ہے زویا ابھی کچھ کہ رہی تھی کہ باھر سے مسسز عمیر کہ آواز آئی
یہ سنتے ہی دونو باہر کہ طرف بہاگی
پہلے میں بات کروںگی ہٹیں آپی
نہیں میں بڑی ہوں پہلے میں بات کروںگے لائیں امی مجھے دیں
اتنی بڑی ہوگئی ہو اب بھی بچوں کہ طرح لڑتی ہو دونو
اک کام کرواسپیکر پہ رکھ لو دونوں بات کرلو انکے سامنے صوفے پہ بیٹھے مسٹر عمیر نےکہا
گڈ آئیڈیا بابا زویا نے فون اسپیکر پہ رکھا
اسلام علیکم کیسے ہیں ماموں…………دونوں نے ساتھ کہا
واعلیکم اسلام بلکل ٹھیک ہوں میں میری شھزادیاں کیسی ہیں
الحمداللہ ماموں بلکل ٹھیک ہیں ہم بہی
اچھا سنو میں نے کچھ خاص نیوز دینے کیلئے کال کی ہے اسفند کی شادی کی ڈیٹ فکس کردی ہے کل شام کو منگنی ہے
کیا ماموں اور آپ اب ہمیں بتا رہے ہیں جائیں ہم نہیں بولتے آپ سے
اڑے سب سے فرسٹ کال آپ کو ہی تو کی ہے
تو ماموں اتنا جلدی بہی کیا تھی
بیٹا اسفند کو نیکسٹ ویک مانچسٹر جانا ہے اور وہ چاہتا ہے صبا کو بھی لے جاۓ اور نکاح تو پہلے ہے کرلیا تھا بس رخصتی ہی تو ہے
اوکے اوکے ماموں اب ہم جارہے شاپنگ کرنی کل بہائی کہ منگنی ہے باۓ باۓ
آجاؤ ڈنر کر لو
نہیں ماما ڈنر نہیں ہمیں شاپنگ پہ جانا ہے اٹھیں عثمان بھائی ہمیں شاپنگ پہ لے چلیں جلدی کریں بھائی
ابھی نہیں صبح چلیں گے
نہیں نہیں ابھی صبح ہمیں ماموں کہ گھر جانا ہے پلیز اٹھیں زویا نے کسی چھوٹے بچے کی طرح ضد کی
ہاں بھائی دعا نے بھی زویا کی ہاں میں ہاں ملائی
اوکے اوکے جاؤ تم لوگ نقاب کرلو میں گاڑی نکالتا ہوں یہ کہتے وہ باہر کہ طرف گیا
یاہووووو وہ دونوں خوش ہوتی روم میں چلی گئی نقاب کرنے
________________________
ان دونوں نے ڈھیر ساری شاپنگ کی اور ابھی بھی کر رہی تھی
یار اور کتنی شاپنگ کرنی ہے میرے ہاتھ دیکھو شاپنگ بیگ سے فل ہیں …….عثمان نے بے بسی سے کہا
بھائی ابھی تو آدھی شاپنگ بھی نہیں کہ دعا نے ایک فراک کو دیکھتے ہوئے کہا
واٹ….. عثمان کی حالت بیھوش ہونے کہ قریب تھی
یس مائے لولی برو
اچھا رکو میں یہ بیگس گاڑی میں رکھ کے آتا ہوں کہیں جانا مت میں ابھی آیا
اوکے اوکے بھائی جائیں آپ ہم یہیں ہے
سامنے والے شاپ سے نظر آتی ریڈ کلر کی پرنسس میکسی جس پے وائٹ کلر کہ لائٹ سی کڑاہی کی ہوئی تھی دعا کو بھت پیاری لگی
سنو زویا تم یہیں رہو میں بس ابھی آئی
پر آپی……
زویا کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ چلی گئی
وہ اس دکان کی طرف بڑھ رہی تھی کہ کسی نے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کہیںچا وہ چیخنے ہی والی تھے کہ سامنے والے نے اپنے مضبوط ہاتھ اس کے نازک سے ہونٹوں پہ رکھ دیے
آرام سے فیری کیوں لوگوں کو متوجہ کر رہی ہو
دعا اس کالی آنکھوں والے کو پھر سے اپنے سامنے دیکھ کر کانپ گئی اس کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھی اس سے پہلے کہ وہ اپنی دھڑکنوں کو سنبھال کہ معمول پہ لاتی ڈیارل نے اس کہ ہونٹوں سے اپنے ہاتھ ہٹا کہ اپنے ہونٹ رکھ دیے اس کہ لمس میں انتھا کی جنونیت تھی جیسے اپنی پیاس بجھا رہا دعا کو جب سانس لینے میں مسلئہ ہورہا تو اس نے اس کے سینے پہ اپنے نرم ہاتھوں مکے مارنا شروع کیے اور تھوڑی دیر بعد اس نے دعا کہ ہونٹوں کو آزاد کیا
دعا شرم سے فل ریڈ ہوچکی تھی آنکھیں تک اوپر نہیں کر پا رہی تھی
ایسے بلش کرتی بہت کیوٹ لگتی ہو میری جان اور یاد رکھنا تم صرف میری ہو اس نے دعا کے بلش کرتے گال پے محبت کی محر ثبت کی اور جیسے آیا تھا ویسے چلا گیا
دعا کو جب اثساس ہوا کہ وہ جا چکا ہے اس نے نظریں اوپر کی اور زویا کی طرف چلی گئی
آپی ڈریس لیا
کونسا ڈریس دعا نے اپنی سوچوں میں گم کہا
کیا مطلب آپ تو ڈریس دیکھنے گئی تھی نا
ہاں وہ اچھا نہیں لگا بس دعا کو جب سمجھ آیا کہ وہ کیا کہ گئی ہے تو اس نے جلدی سے بھانا بنایا
اوف آپی اتنا وقت لگا دیا اور ڈریس بھی پسند نہیں آیا اچھا چلیں بھائی کی کالس آرہی ہیں کھتے ہیں کافی لیٹ ہوگئی ہے باقی شاپنگ پھر کبھی کر لینگے
ہمم چلو
__________________________
وہ صبح سے اس کا انتظار کر رہا تھا پر وہ آج یعنی نہیں آئی تھی شاید
کیا ہوا دانیال صبح سے کہاں گم ہو کب سے ڈھونڈ رہے ہیں تمہیں وہ جو کالج کہ پچھلے سائڈ دیکھنے آیا تھا کہ شاید دعا یہاں ہو اپنے پیچھے رانیہ کی آواز سن کہ مڑا رانیہ اس کی اکلوتی فرنڈ تھی ورنہ وہ لڑکیوں سے دوستی نہیں کرتا تھا
بس ایسے ہی اور بتاو تم یہاں کیسے آئی
تمہیں ڈھونڈنے کیلئے
ہمم اچھا
دانی……اس کی بات ابہی بیچ میں ہہ تھی کہ دانیال کا فون رنگ ہوا اور وہ ایکسکیوز کرتا سائیڈ پے ہوگیا
ہمم ویرے گڈ تم اسے پکڑے رکھو میں آتا ہوں پر یاد رکھنا اسے کچھ نہیں ہونا چاہئے وہ اک آخری سہارا ہے میں بس ابھی آرہا ہوں
