Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 14)

Raaz E Mohabbat By Mehak

مسٹر شاہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے میرے ساتھ سائیڈ پے آئیں ایک منٹ پلیز…مسٹر عمیر اور عثمان نے پورے گھر میں ڈھونڈا تھا پر دعا کہیں نہیں ملی تھی باھر مہمان بھی ویٹ کر رہے تھے اب انہیں سب کو بتانا تو تھا

جی جی کیا ہوا عمیر آپ اتنے پریشان کیوں ہیں خیریت تو ہے نا دعا کہاں ہے ابھی تک نہیں آئی کیوں

دعا گھر پے نہیں ہے ہم نہیں جانتے کہاں گئی وہ گھر پے نہیں ہے میں ہاتھ جوڑ کے معافی مانگتا ہوں آج یے شادی نہیں ہو سکتی

عمیر صاغب نے انکے سامنے ہاتھ جوڑے

انکو ایسے دیکھ کے دانیال بھی انکے قریب آگیا تھا

کیا ہوا انکل آپ نے ایسے ہاتھ کیوں جوڑے ہیں ڈیڈ کے سامنے سب ٹھیک تو ہیں نا

ان کی بیٹی گھر سے بھاگ گئی ہے جب وہ راضی نہیں تھی تو کیوں زبردستی کی آپ نے اپنے ساتھ ساتھ ہماری بھی بےعزتی کروا دی مسٹر شاہ نے ان کی طرف دیکھ کے طنز کیا وہ الفاظ مسٹر عمیر کے دل پے تیر کی طرح لگے پر کیا کر سکتے تھے وہ جانتے تھے اب ایسے سوال تو اٹھیں گے ہی پر انییں ان سب کی پرواہ نہیں تھی انہیں بس اپنی بیٹی کی فکر تھی کی کہاں ہوگی کس حال میں ہوگی اسے اسی کی پریشانی ہورہی تھی نا جانے وہ ٹھیک وی ہوگی یا نہیں کس حال میں ہوگی ان کی بچی کس حال میں ہوگی

دیکھیں انکل ہماری دعا ایسی بلکل نہیں میری بہن بہت معصوم ہے ایسا کبھی نہیں کرے گی وہ اس شادی کیلئیے تیار تھی اور کچھ دن پہلے ںبھی اس پر اٹیک ہوا تھا انکل ہم پہلے ہی بھت پریشان ہیں پلیز ہم معافی مانگتے ہیں جو بھی ہوا اب آپ کوگ جائیں پلیز اس بار عثمان نے جب اپنے باپ کا جھکا سر دیکھا تو انہیں جواب دیا

ڈیڈ پلیز آپ چپ رہے ہیں اور عثمان کیا ہوا تھا مجھے سب بتاؤ پلیز دانیال کسی بھی حال میں دعا کو کھونا نہیں چاھتا تھا

اس کے کہنے پے عثمان نے اسے بتایا کی اسے کال آئی تھی کی کوئی اس کی بھنوں کو مارنا چاہتا ہے اور اس کے بعد اس نے عمر کو ہائیر کیا تھا ایز ا باڈیگارڈ اور پھر اس دن والے سارے واقعے کے بارے میں بتایا کی کیسے دعا پے حملہ ہوا تھا اور کیسے عمر نے اسے بچایا

کہاں ہے وہ باڈی گارڈ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں جس نے دعا کو بچایا تھا دانیال نے کہا

یہ ہے عمر اسے نے بچایا تھا دعا کو دانیال کے کہنے پے عثمان نے اپنے پیچھے کھڑے عمر کی طرف اشارہ کیا

کیا تم نے کسی کو دیکھا تھا شوٹ کرتے کی کون تھا کیسا دکھتا تھا

نہیں میں نے کسی کو نہیں دیکھا بس اس وقت میں اور دعا میم ریسٹورںٹ میں تھے کی مجھے ان پر ریڈ لائٹ شو ہوئی مجھے کچھ ہی وقت لگا یے اندازہ لگانے میں کی کوئی ان پر گن سے نشانہ باندھ رہا ہے میں نے اسی وقت میم کو کھینچ کے پھیچے کیا اور خود آگے آگیا اور جب مجھے گولی لگی تو لوگ آس پاس جمع ہوگئے اور میم بیہوش ہوگئی تو مجھے کچھ بھی سمجھنے کا موقعہ نہیں ملا

عثمان ہمیں سب سے پہلے اس مال چل کے اس دن کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنی چاہیے ہمیں اس شوٹر کو ڈھونڈنا چاہیے کیا پتا دعا کے غائب ہونے کا بھی اسے سے لنک ہو

ہاں سر صحیح کہہ رہے ہیں(تم اب کہاں سے لاؤگے اس شوٹر کو ڈیارل نے تو اسے اتنی خطرناک موت دی ہے کی وہ کیا اس کی روح بھی نہیں ملے گی تمہیں دانیال) دوسری بات عمر نے اپنے دل میں کہی تھی اور وہ تینوں اب گاڑی میں بیٹھ کے مال کی طرف روانہ ہوچکے تھے

________________________________________

ڈیارل اندر 120 لڑکیاں اور 150 بچے موجود ہیں شپ میں اور وہ اگلے آدھے گھنٹے میں دبئی کی طرف روانہ ہونے والی ہے شپ کے اندر سات روم میں ہیں جن کے باہر دو دو گارڈس موجود ہے شپ کے باہر اس وقت 40 گارڈس موجود ہے تو اس کا مطلب ٹوٹل گارڈس ہوئے 54 اور ہمیں پچھلے آدھے گھنٹے کے اندر ان 54 کو مار شپ میں موجود 120 لڑکیوں اور 150 بچوں کو بچانا ہوگا ٹائم بھت کم ہے بندے زیادہ اور ہم صرف تین…..ڈیارل کے شپ میں موجود جاسوس نے اسے اطلاح دی

تم فکر مت کرو سب کچھ ہوجائیگا بس اب میں اور اسد اندر آرہے ہیں تم بھی تیار رہو تم لڑکیوں والے روم میں جاؤ اور اسد بچوں کے باقی باھر کے گارڈس میں سنبھال لونگا فکر مت کرو

وہ دوںوں سرنگ کے ذریعے اندر داخل ہوئے اب دونوں اپنی اپنی جگھ سنبھال لو ڈیارل نے اسد اور عمران کو کہا

اور خود باھر کی طرف آیا اس نے ایک آدمی کو پکڑ کے اس کی شہہ رگ پے چاکو چلا دیا یے اس نے اتنا آرام سے کیا تھا کے اس کے پاس کھڑے دوسرے آدمی جو بھنک بھی نا ہوئی اور پھر ڈیارل نے اس نے ہتھار لے کے خود رکھے اور ایسے کر کے اس نے بارہ لوگوں کو مارہ کی کسی کو خبر ہی نا ہوئی آگے بھی یہیں کرتا کیوںکہ یے پاکستان تھا اس کا اٹلی نہیں اس لئیے وہ بھت آرام سے کام کر رہا تھا پر اسے کسی نے دیکھ لیا

اےے کون ہو تم….اس کے آواز پے باقی 27 نے بھی مڑ کے دیکھا

اف کیا کردیا یار دیکھ لیا نا اب خود کیلئیے ہی مشکل موت چنی ہے اتنے آرام اور پیار سے مار رہا تھا پر نہیں تم لوگوں کو کہاں چین ہے چلو آجاؤ یار اب مرنے کیلئے…ڈیارل نے بد مزا ہوتے ہوئے کہا اور اس نے ایسے ہی اس نے ان میں سے چھبیس کو ماردیا اب بس ایک ہی رہتا تھا اس نے اتنی بے دردی سے مارا تھا کی پوری جگھ خون سے لال تھی کہیں کسی کا ہاتھ پڑاتھا تو کہیں کسی کا سر وہ جو آخری بندا رہتا تھا اس بھی خوف آرہا تھا اپنا انجام سوچ کے وہ اس سے دور جارہا تھا

تمم نے ہی پوچھا تھا نا کی کون ہوں میں ہے نے ڈیارل نے اس کے قریب بیٹھتے کہا

اڑے اتنا کیوں ڈر رہے ہو بس تھوڑا سا ہی درد ہوگا بھت آسان موت دونگا بس تمہارے جسم کا ہر حصہ الگ الگ پڑا ہقگا دفنانے والے کو تھوڑی محنت کرئنی ہوگی اور کچھ نہیں باقی سب ٹھیک ہے ڈیارل نے اپنے تلوار سے اس کا ایک بازو اس کے جسم سے الگ کیااور اس کی چیخ فضا میں بلند ہوئی

ششش شور نہیں مجھے شور بلکل پسند نہیں ہے آرام سے بس تھوڑی سی تکلیف ہوگی ڈیارل نا اس کا دوسرا بازو بھی اپنی تلوار سے کاٹ دیا

اتنا مت چیخو اندر بچے ہیں ڈر جائینگے ڈیارل نے اسے پیار سے پچکارتے اس کی ایک ٹانگ بھی اس کے جسم سے الگ کردی اور پھر اس کی دوسری ٹانگ بھی اس نے ایسڈ اٹھایا اور اس کے زخموں پر پھینکا جس سے اس کی دردناک چیخیں اور ڈیارل کا قہقا فضا میں گونجا

تمہیں پتا ہے جب تم لوگوں ایسےچیختے دیکھتا ہوں تو کتنا سکون ملتا ہے مجھے کیسے تم لوگ ان معصوم لڑکیوں کی عزت کے ساتھ کھیلتے ہو بچوں کو ان کے ماں باپ سےالگ کرتے ہو اس سے بھی خطرناک موت دینا چاہتا ہوں میں تم لوگوں کو خیر اب یو ہیں تڑپتے رہو کچھ دیر تک مرجاؤگے

اسد لڑکیوں اور بچیوں کو پچھلی سائیڈ سے باھر نکالنا میں بھی آرہا ہوں بس اس نے کال کٹ کر کے دانیال کےموبائل پے (کانگریٹس مسٹر دانیال تمہاری شپ کامیاب گئی فرام ڈیارل)کا مسج سینڈ کیا اور وہیں سم توڑ کے باہر کی طرف نکل گیا

___________________________________

ان لوگوں نے مال اس کے آس پاس کے ہر ایریا میں پتا کیا پر کچھ بھی پتا نا لگا تھا ابھی بھی وہ سڑکوں پر شھر میں ہرجگہ دعا کاپتا کر رہے تھے عمر بھی ان کے ساتھ ایسے بےہیو کر رہا تھا جیسے اسے کچھ۔پتا ہی نا ہو دانیال نے اپنا موبائل اٹھایا اپنے جاسوس کو کال کرنے کیلئیے کی وہ بھی دعا کو ڈھونڈے اسی وقت اسے اپنے موبائل پے میسج شو ہوا اسے مسج پڑھ کے اندازہ ہوا کی اسے تو آج شپ روانہ کروانی تھی دبئ اور دعا کے چکر میں وہ یے تو بھول ہی گیا تھا اس نے جلدی سے آہل کو کال کی وہ شپ پر جائے وہ بھی آرہا ہے

سنو عثمان میں اپنے کچھ آدمیوں کو بھی کہتا ہوں اور ایک پرائویٹ جاسوس جو بھی کال کی ہے اس سے بھی ملنا ہے تو میں نکلتا ہوں تم لوگ ڈھونڈو جب تک اوکے وہ اپنی بات کہہ جے آگے روانہ ہوچکا تھا بغیر عثمان کی سنے

اسے کیا ہوا…عثمانکو حیرت ہوئی

کچھ نہیں بس میم کی وجہہ سےپریشان یونگے سر(آج کے دن میں مسٹر دانیال دو بار ہارے ہو تم وہ بھی ڈیارل سےایک شکست تو دیکھ چکے اب دوسری بھی دیکھ آؤ) دوسری بات عمر نے اپنے دل میں کہی

وہ جب شپ پے پہچا تو وہ سب دیکھ کےاسے حیرانی ہویئی اس نے سب سے پہلے سی سی ٹی وی چیک کی شاید اس بار اسے ڈیارل کا پتا چل جائے پر وہ بھی ڈیارل تھا کوئی کچا کھلاڑی نہیں سی سی ٹی وی ہیک تھے

شٹ یے کیا ہو رہا ہےمیرے ساتھ چھوڑونگا نہیں میں تمہیں ڈیارل بس ایک بار میرے ہاتھ آجائو

_____________________________________

گڈ مارننگ فیری اٹھ جاؤ صبح ہوگئی ہےمیرے جان اپنی یے پیاری پیاری آنکھیں کھولو مائے فیرے ……..وہ رات روتے روتے کب سوئے اسے پتا نہیں تھا پر ابھی اس کی آنکھ اپنے کل بنے شوہر کے محبت بھرے لمس اور اس کی آواز پے کھلی وہ اس کے بے حد قریب تھا اتنا کی اس کی گرم سانسیں اسے اپنے چہرے پے محسوس ہو رہی تھی

گڈ مورننگ میری جان اس نے اس کےہونٹوں پے محبت کی مہر ثبت کی اور اس سے دور ہٹا دعا تو ابھی تک اسےپھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی وہ کل نکاح کے بعد ابھی آیا تھا

تمہارا نام کیا ہے….دعا نے اس سے پوچھا

کیوں کل نکاح کے وقت سنا نہیں تھا کیا

نہیں سنا تھا پر اس وقت ہوش کہاںتھا

اینجل اپنی فیری کا اینجل

چلو اٹھو فیری جلدی سے فریش ہوکے ریڈی ہوجاؤ ناشتا کرو 12 بجے کی اٹلی کی فلائٹ ہے ہماری

اٹلی کی پر کیوں اٹلی کیوں

کیوںکی میرا گھر وہیں ہے یہاں تو میں کسی کام سے آیا تھا اور وہ ہوگیا

نہیں میں کہیں نہیں جاؤنگی تمہارے ساتھ

جانا تو تمہیں پڑے گا فیری

نہیں مہں نہیں جائونگی کیا کر لوگے تم بتاؤ

یے تم مجھ سے بیٹر جانتی ہو مائے فیری یے لو فریش ہوجاؤ جب تک میں تمہارے لئیے ناشتہ بنا کے لاتا ہوں …..ڈیارل نے اسے ڈریس تھمایا اور اس کے چہرے پے آتی لٹوں کو پیچھے کر کے اس کی گال پے کس کی اورباھر چلا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *