Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz E Mohabbat (Episode - 11)

Raaz E Mohabbat By Mehak

دعا کیا میں اندر آسکتا ہوں

اڑے بابا آپ آجائیں اجازت کیوں لے رہے ہیں آجائیں بابا

میری گڑیا کتنی بڑی ہوگئی ہے نا اب بابا سے دور جانے کا وقت آگیا ہے…..مسٹر عمیر نے دعا کے سر پے ہاتھ پھیرا

کیا مطلب بابا آپ کیا کہہ رہے ہیں میںں کچھ سمجھی نہیں …..دعا نے نا سمجھے سے عمیر صاحب کو دیکھا

بیٹا آج مسٹر شاہ آئے تھے اپنے بیٹے دانیال شاہ کا رشتہ لے کے آپ کیلئے بیٹا آپ پے کوئی زبردستی نہیں ہیں ہوگا وہیں جو آپ چاہیں گی

مسٹر عمیر نے تو گویا دعا کے سر پے بم پھوڑا تھا وہ جو خوش ہورہی تھی کی اسے اپنے ڈریمس کا پرنس ملنے والا ہے اس اے والے لاکیٹ سے اس نے اندازہ لگایا تھا کا شاید وہ عبداللہ نے دیا ہے ہائے وہ کتنا خوش ہوئے تھے جس کو وہ اپنے خوابوں میں پندرہ سالوں سے دیکھ رہی تھی اس کے ملنے کی امید ملی تھی کی کوئی اس سے اسے چھین رہا تھا

دعا بیٹا کیا ہوا کس سوچ میں پڑ گئی ہم مانتے ہیں پوری زندگی کا فیصلہ ہے طئے کرنا بھت مشکل ہے پر بیٹا میں نے اس کی آنکھوں میں آپ کیلئیے محبت دیکھے ہی وہ بھت خوش رکھے گا آپ کو

دعا نے اپنے بابا کو دیکھا جو اس کو بڑے مان سے دیکھ رہے تھے ان کی آنکھوں میں یقین تھا کی ان کی بیٹی انکے مان کو نھیں توڑیگی انکے فیصلے کو نہیں ٹھکرائے گی اور دوسری طرف اس کی محبت اس کیلئے فیصلہ بھت مشکل تھا

بابا مجھے کوئی اعتراض نہیں جیسا آپ کو ٹھیک لگے……..دعا نے الفاظ کیسے کہے تھے وہیں جانتی تھی پر وہ اپنے بابا کے مان کو نہیں توڑ سکتی تھی

آج آپ نے میرا سینہ فخر سے چوڑا کردیا میرا بچہ…..انہوں نے دعا کے سر پر بوسہ دیا اور روم سے ںاھر چلے گئے شاید کال کر کے ہاں کرنے

ان کے جاتے ہی دعا کی آنکھوں سے آنسوں رواں ہوئے یا اللہ کیوں آخر کیوں اگر ایسہ ہی کرنا تھا تو امید دکھائی ہی کیوں سپنوں تک ٹھیک تھا میں سنبھال لیتی پر آج ہی امید دے کے آج ہی مجھ سے چھین رہے کیوں ہمم ٹھیک ہے اب جب فیصلہ کر ہی لیا ہے تو آج سے عبداللہ کی ساری یادیں ختم دعا اپنے بیڈ سے اٹھی اور اپنی دراز سے ڈائیری الماری سے عبداللہ کی بنائی پینٹگس ساری نیچے اکھٹا کی یہ وہ پینٹنگس ہے جو میں نے تمھیں سوچ کے بنائی تھی اس نے ان پینٹنگس پے ہاتھ پھیرا یہ وہ ڈائیری ہے جس میں آج تک تمہارے مطلق دیکھا ہر خواب درج ہے اس ڈائیری میں میرا ہر خیال درج ہے تمہارے بارے میں ایک منٹ کچھ اوربھی ہے وہ اٹھی اور الماری میں سے کچھ ڈھونڈنے لگے ہاں یہ وہ گھڑیاں ہے جو میں نے تمھارے لئیے خریدی آج تک تمہیں جب بھی دیکھا تمھارے ہاتھ میں گھڑی دیکھی ہمیشہ بھت محبت سے لی تھی تمہارے لئیے کی تمہیں اپنے ہاتھوں سے پہناؤنگی پر شاید قسمت یہ نہیں چاہتی اس لئیے اس سب کو آج یہیں جلا دونگی یہ کہتے اس نے سب سامان ایک جگہ اکھٹا کیا اور آگ لگا دی جب تک وہ سب جلتا رہا وہ بھی وہیں کھٹی اس کو دیکھتی آنسوں بھاتی رہی اس کے سارے سپنے اس کی آنکھوں کے سامنے جل رہے تھے کچھ اور دیر رونے کے بعد اس کے کانوں میں ظہر کی اذان گونجی وہ اٹھی اس نے کپڑے نکالے اور فریش ہونے چلی گئی

___________________________

مسٹر شاہ سے کہیں عمیر شاہ ان سے ملنے کیلئیے آئے ہیں …….مسٹر عمیر اس ققت مسٹر شاہ کی آفیس آئے ہوئے تھے وہ اتنی بڑی خبر ان کو فون پے نہیں سنانا چاھتےتھے اس لئیے ان کی آفس آگئے

سر سر کہہ رہے آپ آجائیں ……مسٹر شاہ کی سیکرٹری نے کہا

اسلام علیکم مسٹر عمیر خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر امید اچھی خبر لائے ہونگے ………مسٹر شاہ مسٹر عمیر سے گلے ملے

جی جی بلکل پر پہلے مہمان کی خاطر طواظ کرتے ہیں

ہاں ہاں شیور وائے ناٹ بتائیں کیا لینگے ٹی یا کافی

بھی نا ٹی نا کافی آپ ہمیں مٹھائی کھلا دیں….ان کی بات پے مسٹر شاہ نے پہلے تو نا سمجھے اسے دیکھا پھر سمجھ آنے پے جلدے سے ان کے گلے لگے

مبارک ہوں عمیر صاحب انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا

بھئی ہمارے داماد جی کہاں ہیں انہیں بھی تو بتائیں یہ گڈ نیوز

وہ کسی کام سے گیا ہوا ہے جیسے ہی آتا ہے میں ااے گڈ نیوز دیتا ہوں چلیں اب ہمیں جلد از جلد شادی کرنی ہے

اتنا جلدی پر ابھی تو دعا کی پڑھائی رہتے ہی

اڑے شادی کے بعد بھی پڑھ لیگی دیکھیں اب ہم بھی ہمارے گھر ایک بیٹی لانا چاھتے ہیں بس

اچھا چلیں اب تو دعا آپ کی امانت ہے جب چاہیں لے جائیں آج رات آپ کا ڈنر ہمارے گھر شادی کی ڈیٹ بھی فکس کر لینگے

ہمم اوکے وائے ناٹ

اوکے میں چلتا ہوں گھر بھی سب کو گڈ نیوز دینی ہے

ہاہاہاہا اوکے اللہ حافظ مسٹر عمیر اور ہماری گڑیا کا خیال رکھیے گا

_________________________________

اوہو مجھے چائے کی خوشبو آرہی ہے کچن سے….

عمر نے کچن کی کھڑکی کے قریب رکتے ہوئے کہا

اوہو مجھے تو پہلے ہی شک تھا کی تمہارا تعلق ضرور جانوروں سے ہے اب دیکھو حرکتیں کتے بلوں والی کر رہے ہو…..زویا نے بھے تڑخ کے جواب دیا

ہائےے میری باندری شکر ہے کہ تمہیں بھی سمجھ آیا کی میں بھی تمہاری ہی نسل سے ہوں اب دیکھو نا انسان اور باندری کی جوڑی بنتی نہں اس لئیے دونوں کو سیم بنا دیا

میں کہا سے بندری لگتی ہوں تمہیں….زویا اس کے بلکل سامنے کمر پے ہاتھ رکھ کے لڑاکا عورتوں کی طرح کھڑی تھی

ہاۓۓۓۓۓ تم باندری نا جی نا تمہیں باندری کہوں میں میری اتنی مجال بلکل نہیں جی نا جی نا تمہیں باندری کہہ کی میں باندریوں کی توہین کرنی ہے….زویا جو عمر کی پہلی بات پے مسکرا رہی تھی دوسرے بات پے غصے سے لال پیلی ہو چکی تھی

یو ایڈیٹ……تمہیں میں چھوڑونگی نہہں آج رکو زویا نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تبھی اس کی مظر بیلن پر پڑی اس نے وہ اٹھایا اب بتاؤ بچو کہاں جاؤگے بچ کے

ہاۓ تم تو آج بلکل بیویوں والا کام کر رہی ہو جہسی بیویاں اپنے شوہر کو مارتی ہیں جب بیوی کو پتا لگتا ہے کی پڑوس والی ربینہ کے ساتھ چکر چلا رہا ہے تو وہ بھی شوہر کو ایسی ہی بیلن سے مارتی ہی

أآ نا کر باندری کل ہی گولی کھائی ہے ادھر زویا نے جب اسے مارا تو وہ چیخا

اوہ سوری زویا کو شرمندگی ہوئی تبھی عمر نے زویا کو آنکھ ماری کیوںکہ وہ اسے شرمندہ نہیں دیکھ سکتا تھااسے تو وہ مسکراتی ہوئی اچھی لگتی تھی چلبلی سی شرارتی سی

ٹھرکی کہیں کا زویا نے اسے گھورا

ٹھرکی کی جان عمر نے پھر سے أنکھ ماری

زویا ساجدہ عثمان عمر کہاں ہو سب جلدی سے یہاں آؤ ……اس سے پہلے کی وہ کچھ کہتی عمیر صاحب کی آواز آئی اور دونوں حال کی طرف آگئے

کیا ہوا بابا سب ٹھیک تو ہے نا عثمان نے فکرمندی سے پوچھا

ہاں بیٹا سب کچھ ٹھیک ہی یہ لو سب مٹھائی کھاؤ ہماری دعا کا رشتہ پکا ہو گیا یہ سنتے ہی عمر کا رنگ پیلہ پڑ چکہ تھا اور وہ جلدی سے باھرکی طرف بڑھا

اڑے بیٹا کہاں

بس اںکل کچھ بہت ضروری کام ہے کچھ دیر تک آجاونگا وہ یہ کہتےہی جلدی سے باھر کی طرف بڑھ گیا اسے جلدازجلد یہ خبر ڈیارل کو دینی تھی

بابا کس سے اور کب ہمیں بتایا کیوں نہیں…زوریا نے عمر کے جاتے ہی عمیر صاحب سے پوچھا

بس بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں کب پرائی ہوجائے پتا ہی نہیں لگتا…..مسٹر عمیر نے ٹھندی آہ بھری

اچھا بابا بتائیں نا ہمارے فیوچر جیجا کون ہے

دانیال شاہ….اس بار جواب عثمان نے دیا آج صبح ہی رشتہ لے کے آئے تھے کی ان کے بیٹے کو ہمارے دعا پسند ہے

اوہ چلیں میں آپی کو بھی دیکھ کے آتی ہوں

اور ہاں جلدی تیاری کرو آج رات ان کا ڈنر ہماری طرف ہے شادی کی ڈیٹ فکس کرینگے

پر بابا اتنا جلدی شادی کیوں عثمان نے پوچھا

بیٹا وہ تو نہیں پتا بس وہ شادی چاھتے پیں

اور دعا کی اسٹڈی

بیٹا وہ تو شادی کے بعد بھی کنٹینیو کر سکتی ہے انہیں کوئی مسلئہ نہیں

ہمم اچھا

______________________________

آپی آپی آپہ….زویا چیختے ہوئے روم میں داخل ہوئی پر اس کو مصلے پے نماز پڑھتا دیکھ کے چپ ہوگئی

ہمم بولو 5 منٹ بعد جب وہ نماز سے فارغ ہوئی تو اسنے زویا سے کہا

اوئے آپی یہ آپ کی آنکھوں کو کیا ہوا لال کیوں ہیں اتنی سوجی ہوئی ہیں آپ روئی تھی کیا اوہ اب سمجھ آیا کل والے حادثے کی وجہہ سے ناتو اب بھول جائیے اسے عمر بھی ٹھیک ہے چل کریں اب..زویا نے اپنے سوال کا جواب خود ہی دے دیا

ہمم

اچھا چھوڑیں آپ کو پتا ہے میری بات سچ ہوگئی آپ کے اس باندر پلس کھڑوس نے رشتہ بھیجا اور طئے بھی ہوگیا اب آپ کی شادی ہو گی کتنا مزا آئے گا

ہمممم

اچھا آپی آپ خوش تو ہیں نا اس رشتے سے

ہاں ہاں کیو نہیں اس نے ہکلاتے ہوئے کہا جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو

اچھا آپی چلیں اٹھیں ڈریس چوز کرتے ہیں آج رات انہوں نے ڈنر پے آنا ہے اور آپ کی شادی کی ڈیٹ فکس کرنی ہے وہ آپ کے سسرال والے ہیں اچھا تو دکھنا چاھئیے آپ کو ویسے تو میری آپی بھت پیاری ہے کسی میک اپ کی ضرورت نہیں ایسے ہی کسے کے ہوش اڑا سکتی ہی آپی یہ ریڈ ڈریس کیسا ہے …..زویا تو اپنی ہی دھن میں بولی جارہی تھی پر دعا کی سوئی تو ڈیٹ فکس والی بات پے اٹک گئی تھی اس نے ابھی تک تو خود کو اس رشتے کیلئیے تیار نہیں کیا تھا اور اتنا جلدی شادی

_____________________________________

ڈیارل

ڈیارل

ڈیارل کہاں ہو تم

ڈیارل…..عمر نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے ڈیارل کو پکارا

وہ نہیں ہے گھر اٹلی گیا ہے

واٹ اسد ……ڈیمٹ اس کا موبائل بھی بند مل رہا ہے عمر نے اسے کال لگائی

ہاں وہ کہہ رہا تھا کی کوئی رابطہ نہیں ہوگا اسد نے کہا

اچھا تمہیں کوئی اندازہ ہے کی کیوں گیا ہے اور کب تک آۓ گا…عمر نے اسے پھر سے کال ملائی

نہیں پر ہوا کیا ہے

دعا کا رشتہ طۓ ہوگیا ہے

واٹٹٹٹٹ……اسد کو حیرت کا جھٹکا لگا

اور میں ڈیارل کے آرڈر کے بغیر کچھ کر بھی نہیں سکتا خیر تم کوشش کرو کی ڈیارل سے رابطہ ہو سکے اور میں شادی روکنے کی کوشش کرتا ہوں….یہ کہتے عمر باھر چلا گیا

___________________________________

ماشااللہ آپی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں نظر نا لگ جائے کسی کی…..زویا جب روم میں داخل ہوئی تو سامنے دعا کو تیار پایا

ٹھینکس

اچھا چلیں باھر سب آپ کا ویٹ کر رہے ہیں

اسلام علیکم ….دعا نے سب کو سلام کیا

واعلیکم السلام ماشااللہ ماشااللہ بھی ہماری بھو رانی تو بہت ہی پیاری ہے

اڑے بیٹا وہاں کیوں کھڑی ہو آجاؤ یہاں دانیال کے ساتھ بیٹھو مسسز شاہ نے کہا

اہممم جائیں آپی جیجو کے ساتھ بیٹھیں

یو آر لوکنگ گورجیس بیبی….دانیال جواسے کافی دیر سے دیکھ رہا تھا اس کے پاس بیٹھتے ہی اس کے کانوں میں سرگوشی کی

دعا کا دل چاھا اس کا موں توڑ دے پر کیا کرتی بیچاری اب وہ تو اس کا مجازی خدا بننے والا تھا

تو مسٹر عمیر ہمم چاہتے ہیں کی اسی جمعے کو نکاح رکھ لیں باکی رسمیں نکاح کے بعد کرلیں کیوں آپ کیا کہتےہیں

جی ٹھیک ہے ہمیں بھلا کیا مسلئہ ہو سکتا ہے مسٹر عمیر نے خوشدلی سے کہا

دعا کے کانوں میں تو جیسے کسی نے گرم سیسہ انڈیل دیا ہو ایک آنسو آنکھوں سے نکل کے اس کی گال کو چھونے لگا جسے اس نے جلدی سے صاف کیا تھوڑی دیر اور باتوں کے بعد سب نے ساتھ ڈنر کیا اور اس کے بعد دعا اور دانیال کو اکیلے باتیں کرنے کیلئیے باھر لان میں بھیج دیا

بہت پیاری لگ رہی ہو….دانیال نے دعا سے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑنے کیلئیے ہاتھ آگے کیا کہ دعا نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کر لیا

یہ کیا حرکت تھی دعا دانیال کو اس کی اس حرکت پے بہت غصہ آیا

سوری دعا نے روکھا سوکھا جواب دیا

میں تمہارا ہونے والا ہزبینڈ ہوں دعا تمہیں چھو سکتا ہوں

ہونے والے شوہر ہیں ہو چکے نہیں اس لئیے اغین مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرئیے گا….دعا نے اس دو ٹوک جواب دیا اور وہاں سے چلی گئی

بہت اکڑ ہے تم میں مس دعا عمیر ایک بار شادی ہونے دو ساری اکڑ نکال دونگا تمہاری….دانیالنے ضبط سے مٹھیاں بھینچی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *